Mar 8, 2010

منزل ایک- الگ الگ قطب ستارہ

زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں ۔ عقل ، فہم اور شعور کا ادراک تقدیر سے جدا نہیں ہوتا ۔آنکھ جس منظر کو دیکھتی ہے۔ اسی کا عکس پردے پر نمودار ہوتا ہے ۔ ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں ۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں ۔مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے ۔بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں ۔شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی۔ مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے ۔کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے ۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے ۔اچھا یا برا ۔نظام کائنات سبب کی وجہ سے ہے ۔ مگر
پوشیدہ ہے ۔قبول اس لئے کیا جاتا ہے کہ تجسس کے اسباب تو ہیں مگر یقین نہیں ۔ اعتبار تو تبھی ہوتا ہے جب عقل کے ترازو پر نہ چھوڑا جائے۔ عقیدہ و ایمان اعتبار کی وجہ سے ہے ۔اسی لئے جو پوشیدہ ہے ان کے بارے میں قیاس نہیں کیا جاتا بلکہ اعتبار کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کے قائم کردہ نظام کائنات و نظام حیات یقین کی بنیادوں پر قائم و دوائم ہیں ۔ جب نظام کائنات نے اپنا وجود اسی کے حکم کے تابع کردیا تو پھر نظام حیات کے متعلق قیاس و گمان کیوں رہتا ہے ۔اللہ تعالی کے فیصلے انتظار کی اذیت سے دوچار نہیں کرتے ۔بلکہ بروقت راحت و تسکین کا باعث ہوتے ہیں ۔خواہش دنیا کی محبت میں مبتلا کرتی ہے۔ اگر صبر شکر میں انتظار رہے تو مادیت کے کرب سے روح محو پرواز رہتی ہے ۔ خواہش میں انتظار ہو تو کرب ، اسباب ہوں تو فرحت کا باعث ہیں ۔کوئی بھی بات اپنے مفہوم سے جانی جاتی ہے ، نہ کہ منظوم سے ۔ پھول کھلنے کے لئے کانٹے کافی نہیں ، نئے پتوں کا انتظار رہتا ہے ۔ کلی میں پہلے بیج بنتا ہے تب پنکھڑی کھلتی ہے ۔اور وہی بیج پھول میں مہک پیدا کرنے کا سبب ہے ۔بنیاد بیج سے ہے کلی سے نہیں ۔ پریشانیاں سدا کانٹوں کی طرح رہتی ہیں مگر ان سے مہکار نہیں ۔بادل ٹہلنے سے دھواں ہیں مگر دھواں برسنے میں بادل نہیں ۔حالات میں تبدیلی اسباب سے ہے ، امکانات سے نہیں ۔سوچ کا تعین جستجو سے ہے ، عمل سے نہیں ۔ہر راستے پر کھڑا نیا موڑ اگلے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے راستے نہیں ناپے جاتے ۔ بلکہ موڑ ان راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو منزل کی طرف جاتے ہیں ۔پہلے پہنچنے والا قطب ستارہ کی مدد لیتا ہے ۔پیچھے آنے والے سبھی قدموں کے نشانات کی مدد سے جلد منزل تک پہنچ جاتے ہیں ۔جو موسم کا انتظار نہیں کر سکتے ۔ وہ پھلوں کی چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں ۔نظام کائنات میں سب ایکدوسرے کے پیچھے ہیں کوئی آگے نہیں ۔نظام حیات میں سب ایکدوسرے سے آگے ہیں ۔غرض و مفاد میں صرف پیچھے ہیں ۔ اسی لئے تو ان کے انتظار میں کرب ہے ۔ فیصلے کی راحت سے لمحہ بھر کو تسکین پاتے ہیں ۔ جو فیصلوں کےانتظار میں رہتے ہیں کرب نہیں جھیلتے راحت پاتے ہیں ۔اندھیرے جو دیکھاتے ہیں سورج انہیں چھپا دیتا ہے ۔نظروں کے سامنے اپنا منظر پیش کرتاہے ۔آنکھیں اسی کی عادی ہو جاتی ہیں اور اسی کو دیکھنا پسند کرتی ہیں ۔اندھیروں سے خوف کھانے لگتی ہیں ۔ قدم راستوں سے شناسانہیں ہوتے ۔ روشنی کے تابع ہوتے ہیں ۔ ہر شے اپنی جگہ موجود رہتی ہے اور سبب سے تعلق کی بنا پر نظر سے جڑی رہتی ہیں ۔زندگی جینے کی تمنا میں موت کے انتظار کے خوف سے لاپرواہ ہو جاتی ہے ۔ہر زی روح اس منزل کے مسافر ہیں ۔ جن کے تمام کے تمام راستے انہی پر ختم ہوتے ہیں ۔ جس کے انتظار میں نہ تو کرب ہے اور نہ خوف ۔دوسروں کے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے بھول جاتے ہیں ۔کہ اس راستہ میں پگڈنڈیاں نشاندہی نہیں کرتی ۔ بلکہ سب ہی اپنے راستوں کے قطب ستارہ ہیں ۔ یاد رکھنے والی بات تو ایک ہی ہے " کل نفس ذائقہ الموت" ۔


تحریر :محمودالحق

3 تبصرے:

عنیقہ ناز said...

آپ نے شاید صوفیت کے اس نکتے کو بیان کرنا چاہا ہے جو توکل الی اللہ اور تقدیر سے متعلق ہے۔
اگر انتظار میں ہی راحت ہوتی تو رسول اللہ خاموشی سے اپنا پیغام پھیلاتے رہتے اور جسکے نصیب میں ہوتا اسے مل جاتا۔ نہ غزوات لڑے جاتے نہ معا۰دے ہوتے نہ قانون سازی ہوتی اور نہ بتدریج چیزں اس رفتار سے آگے کی طرف بڑھتیں جیسا کہ انہوں نے بڑھائیں۔
توکل کا وصف اگر عمل کیساتھ وابستہ نہ ہو تو بیکار ہے انسان کے اندر غنودگی پیدا کرتا ہے اور حرکت کو روکتا ہے۔ پہلے جس قدر کوشش اور عمل ممکن ہو کرنا چاہءیے پھ ہی توکل کی طرف دیکحنا چاہءیے۔
ورنہ طارق بن زیاد اپنی کشتیاں کیون جلا دیتا۔ اگر جسم میں کچھ کر گذرنے کی آگ نہ بھڑک رہی ہو تو پھر زندہ انسانوں اور درختوں میں کیا فرق۔
تقدیر ایک پیچیدہ چیز ہے۔ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے مگر زندگی برتنے کے بعد۔

Mahmood ul Haq said...

بہت شکریہ انیقہ بہن آپ نے ایک ایسے مضمون کو جو آج کے دور میں پڑھنے کی آنکھ سے محروم ہے آپ نے توجہ دی ۔آپ نے اس مضمون کو ایمان کی اصل روح کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔اور ان کے ساتھ ربط جوڑا جن کے ایمان و عقیدہ پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں رشتے ہوس و حرس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ ہر انسان خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے ۔اورصرف اورصرف متاع دنیا کی جستجو میں مگن و پریشان ہے ان لوگوں اور ان کے رویوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس مضومن کو پڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ بات کہاں تک درست ہے ۔ ہم جب زمین فصل کے لئے تیار کرتے تو بیج ڈال کر اللہ سے اچھے کی امید کی آس لگاتے ۔ کبھی بارش کا نہ ہونا تو کبھی زیادہ ہونا فصل کے لئے کبھی اچھا تو کبھی برا بن جاتا ۔ مگر توکل کا راستہ نہیں چھوڑا جاتا ۔ دوسروں سے مقابلہ کی بجائے اپنی محنت اور حصے کا کام نیک نیتی سے ادا کیا جاتا ہے ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایمان ہو تقوی یا توکل ترازو پر رکھ دیا گیا ہے ۔ میرے ایک مضمون علم سے عالم یا عمل سے مسلمان پر ایک فورم میں ایک صاحب نے پورے مضمون کو چھوڑ کر صرف بیان کی گئی حدیث پر اعتراض کر دیا ۔ بنیادی طور پر یہ مضمون ایسے ہی رویوں کو اپنے ارد گرد دیکھتے ہوئے لکھا ہے ۔

محمد ریاض شاہد said...

غالبا آپ آج کی دنیا میں موجود مقابلے کے کٹ تھروٹ کمپیٹیشن کی بات کر رہے ہیں ۔ یہ تصور مغرب فکر کی دین ہے جس میں ہر صورت میں کامیابی کے حصول کو ترجیح دی جاتی ہے ۔

Post a Comment

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter