<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937</id><updated>2012-02-06T11:56:28.632-08:00</updated><category term='برگِ بار'/><category term='سیاست'/><category term='نثری مضامین،بوڑھے کی لاٹھی،'/><category term='سفینہء محمود،'/><category term='والدین،اولاد'/><category term='ایمان'/><category term='ادب'/><category term='پنجابی کلام'/><category term='طنز و مزاح، ایمان ،اللہ'/><category term='نعت'/><category term='پاکستان'/><category term='روشن عطار'/><category term='شوقین'/><category term='معاشرہ،چینی ،سیاست،سفینہء محمود،،'/><category term='معاشرہ ،سیاست،سفینہء محمود، سیلاب ، آفت، ،'/><category term='طنز و مزاح'/><category term='نثری مضامین،'/><category term='جشن آزادی ، وطن ، پاکستان ، دیا'/><category term='خندہ جبین'/><category term='اردو کلام'/><category term='پتھر،'/><category term='دعا،بیماری ،صحت،'/><category term='نثری مضامین۔بوڑھے کی لاٹھی'/><category term='،'/><category term='ایمان ،اللہ'/><category term='بر عنبرین'/><category term='جنگ آزادی ،ہیرو،'/><category term='اللہ، دعا،در دستک ،اردو کلام'/><category term='،در دستک ،اردو کلام'/><category term='علامہ اقبال'/><category term='سیلاب، تباہی'/><category term='محبت'/><category term='نثری مضامین،بوڑھے کی لاٹھی'/><category term='بادِ اُمنگ'/><category term='،در دستک'/><category term='معاشرہ'/><category term='حمد باری تعالی'/><category term='پاکستان، بربریت'/><category term='نثری مضامین،جھوٹ ،'/><category term='پنج آب'/><category term='موسلِ بار'/><category term='معاشرہ، ،سیاست،سفینہء محمود،انقلاب،پاکستان،،قومیت،،'/><category term='،اللہ'/><category term='سفینہء محمود، پرچھائی ، نفس ،روشنی،'/><category term='بے روزگاری'/><category term='سفینہء محمود'/><category term='نثری مضامین'/><category term='اردو،'/><category term='خیال رست ،اردو کلام'/><category term='نعت،اردو کلام'/><category term='نثری مضامین،شوہر،بیوی'/><category term='آزادی'/><category term='زندگی'/><category term='طنز و مزاح،'/><category term='،اردو کلام'/><category term='صحت'/><title type='text'>در ِ دستک</title><subtitle type='html'>نالہء بلبل سے جہان غلغلہ میں ہے سوز گدا</subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><link rel='next' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default?start-index=101&amp;max-results=100'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>164</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3882853201038542203</id><published>2012-02-04T19:04:00.000-08:00</published><updated>2012-02-05T00:05:27.884-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='والدین،اولاد'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اللہ'/><title type='text'>احساس تشکّر ۔۔۔۔  تم کتنے خوش قسمت ہو</title><content type='html'>ہماری آنکھیں روزانہ سینکڑوں مناظر کو ذہن میں نقش کرتی ہیں ۔ان میں سے اکثر وبیشتر بے اثر رہتے ہیں ۔ گہرے نقوش چھوڑنے والے منظر چند لمحوں سے زیادہ اثر پزیر نہیں ہوتے ۔ کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسروں میں کیا کمی ہے ۔ہمارے پاس کون کون سی نعمتیں ہیں ، ان کا شمار کم ہی کیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور لکھوں ایک ماخوذ کہانی پیش کرنا چاہوں گا ۔&lt;br /&gt;بینائی سے محروم ایک لڑکا بلڈنگ کے باہر سیڑھیوں پر پاوّں میں ہیٹ رکھ کر بیٹھا ایک پلے کارڈ سے آنے جانے والوں سے مدد کا طلبگار تھا ۔جس پر لکھا تھا کہ&lt;br /&gt;میں اندھا ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں ۔&lt;br /&gt;اس کے ہیٹ میں صرف چند سکے موجود تھے ۔ ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ۔ جیب ٹٹول کر چند سکے نکالے اور ہیٹ میں ڈال دئَے۔ پھر اس نے پلے کارڈ کو اُٹھایا اسے پلٹایا اور چند الفاظ لکھ کر اسے واپس وہیں رکھ دیا تاکہ پاس سے گزرنے والے نئے الفاظ کو دیکھ سکیں ۔کچھ ہی دیر میں ہیٹ سکوں سے بھر گیا ۔اندھے لڑکے کی مدد میں کافی لوگوں نے پیسے دئیے ۔&lt;br /&gt;اسی دوپہر وہ شخص جو پلے کارڈ پر نئے الفاظ لکھ کر گیا تھا وہاں یہ دیکھنے کے لئے آیا ۔ کہ اب حالات کیا ہیں ۔&lt;br /&gt;لڑکے نے اس کے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا ۔اور پوچھا : کیا تم نے ہی آج صبح میرے کارڈ میں تبدیلی کی تھی ۔تم نے کیا لکھا تھا ؟&lt;br /&gt;وہ شخص بولا میں نے صرف سچ لکھا تھا ۔میں نے وہ کہا جو تم نے کہا ۔ مگر ایک مختلف انداز میں ۔&lt;br /&gt;میں نے لکھا : آج کا دن بہت خوبصورت ہے ۔ مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا ۔&lt;br /&gt;دونوں تحریروں نے لوگوں کو یہی بتایا کہ لڑکا اندھا ہے ۔&lt;br /&gt;پہلا کارڈ یہ بتا رہا تھا کہ لڑکا اندھا ہے ۔ دوسرے کارڈ نے لوگوں کو&amp;nbsp; بتایا کہ&amp;nbsp; &lt;br /&gt;تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تم اندھے نہیں ہو۔&lt;br /&gt;--------------&lt;br /&gt;یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ ہمارے پاس جو ہے اس کے لئے ہمیشہ شکر گزار ہونا چاہیئے ۔ مثبت&amp;nbsp; اور مختلف سوچ کو پروان چڑھائیں ۔ اگر ہم اپنی نعمتوں کو شمار کریں&amp;nbsp; تو دوسروں کی محرومیوں کا احساس جا گزیں ہو گا ۔ جو قربانی اور مدد کے جزبے کو فروغ دے گا ۔ ہماری نعمتیں جسمانی اعضاء کی تندرستی سے لے کر&amp;nbsp; مال و متاع کی فراخی تک وسیع ہیں ۔ کائنات کی وسعت ہماری عقل و شعور اور اندازے سے بالا تر ہے ۔معاشرہ جب نعمتوں کی شکر گزاری سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ تو بے حسی کے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔میرا کیا اور تیرا کیوں ، کی تکرار سے اجنبیت کا رحجان پرورش پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم حکمرانی میں بھی ہر مذہب کے افراد امن وسکون سے زندہ رہتے ہیں ۔ اور مسلم حکمرانی کے باوجود ایک مذہب کے ماننے والے اپنی حفاظت کا حصار ٹوٹنے نہیں دیتے ۔&lt;br /&gt;دوسروں پر سبقت لے جانے کا جنون خون کی طرح سر پر سوار رہتا ہے ۔کامیابیوں کے جھنڈے میدان میں گاڈ کر لوگوں کے دلوں میں دھاک بٹھانے سے زیادہ نشہ پاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;آئیے دیکھتے ہیں آیات قرآنی میں ہمارے لئے کیا احکام ہیں ۔ اور ان پر ہم کہاں تک عمل پیرا ہیں ۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp; &lt;span style="color: red;"&gt;ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ایک دانہ کی مانند ہے جس سے سات بالیں اُگیں ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے &lt;/span&gt;۔ البقرہ ۲۶۱&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&lt;span style="color: red;"&gt;جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر نہیں رکھتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان ، نہ کوئی تکلیف [ پہنچاتے ہیں] ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے ، نہ کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ &lt;/span&gt;البقرہ ۲۶۲&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&lt;span style="color: red;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد ایذاء دینا ہو اور اللہ بے نیاز برد بار ہے ۔&lt;/span&gt; البقرہ ۲۶۳&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;اے ایمان والوں ، خرچ کرو اس میں سے پاکیزہ چیزیں جو تم کماوّ اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین سے اور اس میں سے گندی چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جبکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں&amp;nbsp; مگر یہ کہ تم چشم پوشی کر جاوّ اب جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے ۔&lt;/span&gt; البقرہ ۲۶۷&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج کل تو والدین بھی محنت سے پال پوس کر جوان&amp;nbsp; اولاد&amp;nbsp; سے شکایات کے انبار رکھتے ہیں ۔ اولاد کے لئے والدین معاشرے میں داخل ہونے کا پہلا دروازہ ہیں ۔ جہاں سے گزر کر پلٹنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ہماری کمائی پر پہلا حق ان کا ہے ۔جنہیں دروازہ کی پرانی چوکھٹ سمجھ کر اپنے نئے گھروں میں فٹ نہیں کیا جاتا ۔رشتہ دار ، یتیم ، مسکین کا حق تو اس کے بعد رکھا گیا ہے ۔کہنے سننے میں یہ بات عام ہے کہ معاشرہ بے حسی کا شکار ہے ۔&lt;br /&gt;معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی غرض ، مفاد اور بے حسی کا شکار ہے ۔خیالات کے خزانے پہلے اپنی خواہشوں سے بھرتا ہے ۔ اوردوسرےکو&amp;nbsp; جزبات کے پیالے میں مکرو فریب بھر بھر دیتا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;اور تمہارے پاس جو کوئی نعمت ہے سو اللہ کی طرف سے ہے ،پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم روتے چلاتے ہو ۔ &lt;/span&gt;النحل ۵۳&lt;br /&gt;&amp;nbsp; &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر : محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3882853201038542203?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3882853201038542203/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/02/blog-post_04.html#comment-form' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3882853201038542203'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3882853201038542203'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/02/blog-post_04.html' title='احساس تشکّر ۔۔۔۔  تم کتنے خوش قسمت ہو'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-6887594944876125252</id><published>2012-02-01T01:28:00.000-08:00</published><updated>2012-02-01T01:28:10.827-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اللہ'/><title type='text'>ٹرپل فلٹر ٹیسٹ</title><content type='html'>قدیم یونان کے عظیم فلاسفر سقراط کے پاس اس کا ایک جاننے والا آیا ۔ اس نے سقراط سے کہا&amp;nbsp; کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے&amp;nbsp; ایک&amp;nbsp; سٹوڈنٹ کے بارے میں میں نے کیا سنا ۔&lt;br /&gt;سقراط نے کہا ایک لمحے کے لئے رکو ۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے کچھ بتاوّ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ایک ٹیسٹ پاس کرو ۔جس کا نام ٹرپل&amp;nbsp; فلٹر ٹیسٹ ہے ۔&lt;br /&gt;سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے تم مجحے میرے سٹوڈنٹ کے متعلق بتاو۔ جو تم کہنا چاہتے ہو اس کو فلٹر کر لیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;پہلا فلٹر سچائی ہے ۔ کیا تمھیں کامل یقین ہے کہ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو&amp;nbsp; وہ سچ ہے ۔&lt;br /&gt;نہیں : وہ شخص بولا حقیقت میں میں نے صرف سنا ہے ۔&amp;nbsp; &lt;br /&gt;ٹھیک : سقراط نے کہا کہ تم حقیقت میں یہ نہیں جانتے کہ وہ بات سچ ہے یا نہیں ۔&lt;br /&gt;سقراط&amp;nbsp; نے کہا کہ اب ہم دوسرا فلٹر استعمال کرتے ہیں ۔ اچھائی کا فلٹر ۔&lt;br /&gt;جو تم مجھے میرے سٹوڈنٹ کے بارے میں بتانا چاہتے ہو ۔ کیا وہ اچھی بات ہے ۔&lt;br /&gt;نہیں: اس شخص نے جواب دیا ۔&lt;br /&gt;سقراط نے کہا ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے کوئی بری خبر سنانا چاہتے ہو ۔ حالانکہ تم اس کی سچائی کے بارے میں بھی یقین نہیں رکھتے ۔&lt;br /&gt;سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم اب بھی ٹیسٹ پاس کر سکتے ہو ۔کیونکہ ابھی&amp;nbsp; تیسرا فلٹر باقی ہے ۔ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو کیا وہ میرے لئے فائدہ مند ہے ۔&lt;br /&gt;نہیں : وہ شخص گویا ہوا ۔&lt;br /&gt;سقراط نے کہا کہ کیا تم مجھے وہ بات بتانا چاہتے ہو جو سچ نہیں ، اچھی&amp;nbsp; بھی نہیں اور میرے لئے فائدہ مند بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ معمولات زندگی میں کتنی ہی باتیں ا دھر سے اُدھر بغیر تحقیق کئے پھیلا دیتے ہیں ۔&amp;nbsp; مگر کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ جنہیں بتایا جا رہا ہے ان کے لئے اس کی افادیت کیا ہے ۔ کہیں گپ شپ اور وقت گزاری کے لئے سنی سنائی باتوں میں قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے ۔جس کا فائدہ نہ تو سننے والے کو ہوتا ہے اور نہ ہی سنانے والے کو ۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp; فتنہ پرور لوگ نفرت کا بیج بونے کے لئے محبت کے رشتوں میں سنی سنائی اور جھوٹی باتوں سے رخنہ ڈالتے ہیں ۔جنہیں سننے والے بغیر کسی حیل و حجت کے قبولیت کی سند عطا کر دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کانوں تک پہنچنے والی بات کو فلٹر ٹیسٹ سے کشیدہ کر لیں۔ تاکہ بات کی حقیقت سے زیادہ بات پہنچانے کی نیت واضح ہو سکے ۔ جو کہ اتنا مشکل اور دشوار ہر گز نہیں ہے ۔ لیکن سچائی جاننے سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کس نے کیا کہا ۔چاہے ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہ ہو ۔&lt;br /&gt;یہ ایک عمومی رویہ ہے جو ہم اپنی دانست میں بہتری کی نیت سے پروان چڑھاتے ہیں ۔سنانے والے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں ، سننے والے کانوں کا۔ مگر تحقیق کے چند بول بولنے سے کمزور پڑ جاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;سقراط&amp;nbsp; جس دور کا فلاسفر تھا وہاں جہالت کی تاریکی زیادہ تھی ۔وہ قرآنی تعلیمات کے روشن باب کا دور نہیں تھا ۔مگر معاشرتی و اخلاقی اقدار پر اس کا تجزیہ عملی فضیلت&amp;nbsp; سے زیادہ حقیقت اشنائی کا سبق دیتا ہے ۔&lt;br /&gt;آج ہمیں کسی سقراط کے حاصل کئے گئے نتائج سے اپنی زندگی کے معاملات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے پاس وہ پاک کتاب ہے کہ جس کے ایک ایک حرف سے انسانیت&amp;nbsp; کی بھلائی ، محبت کی پزیرائی اور حقیقت کی سچائی ٹپکتی ہے ۔جسے پانے کی چاہت ہو اسے ہر آیت میں حکم خداوندی نظر آتا ہے ۔ جن پر عمل پیرا ہونا فرض کی ادائیگی کا فرمان ثبت ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;قرآن پاک کی آیات مخلوق خدا کے لئے ہیں ۔ مگر ان کی تلاش بعض مواقع پر ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ان میں ہر بری&amp;nbsp;&lt;br /&gt;بات سے منع کیا گیا ہے اور اچھائی کی ترغیب دی گئی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;وہ جسے چاہتا ہے حکمت( دانائی )عطا کرتا ہے ۔اور جسے حکمت دی گئی اسے بہت بھلائی ملی&amp;nbsp;&lt;/span&gt; ۔ " سورۃ البقرہ ۲۶۹&amp;nbsp;&lt;br /&gt;آج کل مختلف فورمز&amp;nbsp; پر مذہبی مباحث میں قرآن و سنت پر علمیت کے علم اٹھائے حکمت و دانائی سے محروم تفرقہ بازی&amp;nbsp; میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ نئی نسل کو بحث و مباحث&amp;nbsp; کے ذریعے&amp;nbsp; قرآنی تعلیمات&amp;nbsp; کا اصل مفہوم&amp;nbsp; پہنچانے کے فرض منصبی کے دعوی دار نظر آتے ہیں ۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;اللہ تبارک تعالی فرماتا ہے &lt;br /&gt;&lt;div style="color: red;"&gt;وہی تو ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ۔ اس میں محکم ( پختہ ) آیتیں ہیں ۔ وہ کتاب کی اصل ہیں ۔اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ&amp;nbsp; ہے&amp;nbsp; پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ۔ وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں&amp;nbsp; ۔ فساد ( گمراہی) کی غرض سے اور اس کا ( غلط ) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔&lt;/div&gt;سورۃ آل عمران ۷&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر :محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-6887594944876125252?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/6887594944876125252/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/02/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6887594944876125252'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6887594944876125252'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/02/blog-post.html' title='ٹرپل فلٹر ٹیسٹ'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-308011386229888486</id><published>2012-01-06T00:53:00.000-08:00</published><updated>2012-01-06T00:56:18.978-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><title type='text'>گوگل سرچ میں وہ الفاظ ( کی ورڈ ) جن کی تلاش میں پاکستان نمبر ون ہے</title><content type='html'>&amp;nbsp;ڈیڈھ دو سال پہلے فاکس نیوز پر&amp;nbsp; غیر اخلاقی&amp;nbsp; ویب تلاش میں پاکستان کو اول ترین ملک قرارد دے دیا گیا تھا ۔&amp;nbsp; اس کے بعد سے آج تک مختلف حیلے بہانوں سے مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے بھی بوقت ضرورت پاکستانی قوم پر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے نہیں چوکتے ۔ &lt;br /&gt;ٹی وی ڈرامے ہوں ، فحش فلمیں ، اخلاق سے گرے ہوئے گانے ہوں یا کلچرل شو کے نام پر ڈانس ۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی دونوں ہاتھوں سے لیا جاتا ہے ۔ طعنے دینے کے لئے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بلا وجہ ہی اس کام کو سرانجام دیا جاتا ہے ۔ &lt;br /&gt;آج کل ٹی وی پر سیاسی مباحثہ کے نام پر جو کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ یعنی دوسروں پر الزام تراشی اور خود کو ہر آلودگی سے پاک مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کے اثرات پورے معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;سیکس لفظ لکھ کر تلاش کرنے سے کوئی قوم بحیثیت مجموعی اخلاقی لحاظ سے پستی میں نہیں چلی جاتی ۔ ایسی قوم جس کے پاس کروڑوں سیل فون تو ہیں ۔ مگر کروڑوں کی تعداد میں کمپیوٹر نہیں ۔ جہاں پنکھا چلانے کے لئے بجلی نہیں ، چولہا جلانے کے لئے گیس نہیں ، مہنگائی کے ہاتھوں کھانے کے لئے لوہے کے دانت نہیں ۔ وہاں چند ہزار افراد کے اس بد اخلاقی پر مبنی فعل کو جو وہ دن رات اسے جاری رکھے ہوئے ہیں کو پوری پاکستانی قوم کے سر تھوپ دینا زیادتی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ &lt;br /&gt;یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ کسی نے ایک شخص سے کہا کہ کتا تمہارا کان لے گیا ہے ۔ تو اس شخص نے کان دیکھنے کی بجائے کتے کا پیچھا شروع کر دیا ۔ ہماری صورتحال بھی آج کچھ ایسی ہی ہے ۔ کسی بھی ملک کے کسی اخبار رسالے میں کوئی خبر چھپ جائے تو اس کا پیچھا شروع کر دیا جاتا ہے ۔&amp;nbsp; مضامین لکھ لکھ کر سب کو اطلاع پہنچائی جاتی ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں سے ہمارے خلاف مواد فراہم کیا جاتا ہے وہیں ہمارے لئے جو باتیں باعث فخر ہیں ان کا ذکر خیر بھی کرتے چلیں ۔&lt;br /&gt;جو ہمارے لئے باعث عزت ہیں&amp;nbsp; ٹھیک اسی طرح انہی کی تحقیق سے میں یہاں ان کے لنک فراہم کروں گا ۔ یقینا" ہمارے لئے آسودگی کا سبب ہوں گے ۔&lt;br /&gt;کسی بھی ملک کا میڈیا ملک میں رائج رسم و رواج اور روایات کا مکمل عکس نہیں ہوتا ۔ مصالحے ضرور شامل کئے جاتے ہیں ۔ پھیکے پروگرام پھیکے پکوان سے بھی زیادہ بد مزا ہوتے ہیں ۔ یہ ہی انسانی نفسیات ہے ۔ ہیجانی کیفیت کو بریکنگ نیوز سے افاقہ ہوتا ہے ۔ نئی خبر بنیادی طور پر چسکا ہوتی ہے ۔ اتنی بار اسے دھرایا جاتا ہے کہ چسکا لے لے کر&amp;nbsp; سنانے کا حال کہیں سنا ہو تو یاد آ جاتا ہے ۔ &lt;br /&gt;ایک عام رواج یہ بھی ہے کہ&amp;nbsp; نصیحت اور نیک عمل کی طرف متوجہ کرنے والا مولوی یا مذہبی خانے میں رکھ لئے جاتے ہیں ۔ جیسے میری کتاب در دستک پڑھ کر مجھے اکثر نے دیکھے بنا ہی اسی خانے میں رکھ لیا کہ معرفت اور مذہب پر بے دھڑک لکھتا ہے ۔ اچھائی کی بات کیا صرف ظاہر تبدیل کرنے کے بعد ہی کی جانی چاہئے ۔ ہمیں اپنی سوچ کو مثبت انداز میں ڈھالنا ہو گا ۔&amp;nbsp; جسم کا کوئی حصہ اگر ٹھیک طرح سے کام نہ کرتا ہو تو اسے وجود سے الگ نہیں کیا جاتا ۔ بلکہ دوسرے اعضا ء مل کر اس خامی پر قابو پا لیتے ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں ایک ویڈیو دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔ دونوں بازوؤں&amp;nbsp; سے محروم انسان لکھنے ، وضو کرنے اور کھانے کا کام پاؤں سے کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں بھی وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے ۔ اور مطمعن زندگی گزار رہا ہے ۔ دوسری طرف بے شمار ایسے ہیں جو روزانہ شکوے کی مالا پروتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;بات&amp;nbsp; تو شروع&amp;nbsp; ہوئی تھی پاکستان کو پہلا اعزاز دینے پر تو آئیے دیکھتے ہیں پاکستانی قوم کن کن الفاظ کی سرچ میں گوگل کا وزٹ کرتی ہے ۔ جس میں دشمنوں کو صرف سکس کا لفظ ہی مل سکا ۔&lt;br /&gt;اللہ allah&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں&lt;a href="http://www.google.com/trends?q=allah&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=allah&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم&amp;nbsp; MOHAMMAD&lt;br /&gt;۔۔۔۔اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=mohammad&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=mohammad&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;قرآن QURAN&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=quran&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=quran&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مذہب&amp;nbsp; RELEGION&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=RELEGION&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=RELEGION&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مدینہ MADINA&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=MADINA&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=MADINA&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;]&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مکہ&amp;nbsp; MAKKAH&lt;br /&gt;۔۔اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=MAKKAH&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=MAKKAH&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مسلم MUSLIM&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=MUSLIM&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=MUSLIM&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نیوز&amp;nbsp; NEWS&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں&lt;a href="http://www.google.com/trends?q=NEWS&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=NEWS&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مومن MOMIN&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=MOMIN&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=MOMIN&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp;اسلام ISLAM&lt;br /&gt;۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں &lt;a href="http://www.google.com/trends?q=ISLAM&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0"&gt;http://www.google.com/trends?q=ISLAM&amp;amp;ctab=0&amp;amp;geo=all&amp;amp;date=all&amp;amp;sort=0&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;اب ان نتائج کو دیکھنے کے بعد پاکستان کو کس کیٹیگری میں رکھا جانا چاہیئے ۔ یہ نتائج اسے  اسلامستان کہنے پر بضد ہیں ۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-308011386229888486?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/308011386229888486/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/01/blog-post_06.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/308011386229888486'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/308011386229888486'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/01/blog-post_06.html' title='گوگل سرچ میں وہ الفاظ ( کی ورڈ ) جن کی تلاش میں پاکستان نمبر ون ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8112237915913200610</id><published>2012-01-05T00:59:00.000-08:00</published><updated>2012-01-05T00:59:32.527-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='برگِ بار'/><title type='text'>ذرا سا خمیر اُٹھے</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;متزلزل ایمان ،بچھڑا معبود تو کبھی تحریف کتاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;پالنا گروہی تو اب دکھائی دیتے ہیں استعجاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;کرنوں کی برسات ہے یہ مہتاب و آفتاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;رحمتوں کی سوغات ہے یہ جہانِ آب و تاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;نہیں رکھتا شہباز شوقِ ہما سرخاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;جینے کی جان نکال لیتی ہے اذیتِ خواب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;دیتا ہے وہ چھپر پھاڑ کر بے حساب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;شعور زمان سے اونچا ہے علم الکتاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;یقین محکم ہو تو ریگستان بھی ہو آب الباب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;عقلِ خرد کو تو بہتی برستی دنیا بھی ہے سراب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;عشقِ جنوں میں ہے دل بیقرار و بیتاب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: #660000;"&gt;ذرا سا خمیر اُٹھے تو ہے مے بھی آب&lt;/span&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;br style="color: #660000;" /&gt;&lt;span style="color: black;"&gt;محمودالحق&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8112237915913200610?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8112237915913200610/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/01/blog-post_05.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8112237915913200610'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8112237915913200610'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/01/blog-post_05.html' title='ذرا سا خمیر اُٹھے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1207347835698309514</id><published>2012-01-02T23:04:00.000-08:00</published><updated>2012-01-02T23:04:23.389-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='روشن عطار'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اللہ'/><title type='text'>شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے</title><content type='html'>&lt;span style="color: darkred; font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div align="center"&gt;&lt;span style="color: darkred; font-size: large;"&gt;شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے بنتے جاتے سائے ہیں&lt;br /&gt;محبوب پر حقِ احسان کہ ہم تو اسکے ہمسائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تمازتِ آفتاب بھی رکھتا باری رحمت کا اجمال ہے&lt;br /&gt;ایک شاخِ پتے میں جذب اس کی قوتِ عطائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مدفن خزینوں سے مہرباں حسنِ زن و زمین آراستہ&lt;br /&gt;محبت میں ہیں سب مہمان نہیں کوئی بن بلائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گرتے پانیوں سے پھیلتی روشنیوں تک کے فاصلے&lt;br /&gt;شمعِ جہاں کے سب پروانے کچھ اپنے کچھ پرائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بہت مشکل میں ہے انسان عالمِ جاودانی کے محور میں&lt;br /&gt;بندھے ہوئے یہ سب جہاں روشنیوں کے سدھائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کھینچی کاغذ کی لکیروں پر زائچہ بازیچہ، اطفال ہے&lt;br /&gt;قوس و قزح کے رنگوں میں ذرّے سے ذرّے جمائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خشکی ہوا پانی پر ہماری اختراعِ ایجاد ہیں&lt;br /&gt;چلنے کے واسطے ایندھن بھی تو اسی کے بنائے ہیں&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div align="center"&gt;&lt;span style="color: navy;"&gt;روشن عطار / محمودالحق&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1207347835698309514?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1207347835698309514/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/01/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1207347835698309514'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1207347835698309514'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2012/01/blog-post.html' title='شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-6665744903999029071</id><published>2011-12-28T00:05:00.000-08:00</published><updated>2011-12-28T00:05:03.387-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>پیار سے ڈر لگتا ہے</title><content type='html'>سننے میں اچھا لگتا ہے یا شائد کسی کو برا لگتا ہے ۔ معصومیت بھرا لفظ ہے پھر اس سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ ڈھو نڈنے  پیار کو  یہاں آ گئے ۔ الفاظ کڑوی گولی کی طرح مفہوم مسیحائی میں سما گئے ۔ &lt;br /&gt;بیماری پنپتی جزبات میں گھائل روح تمازت سے ہے ۔ کھلی آنکھوں سے نظر میں سمائے تو بند آنکھوں سے دل میں اتر جائے ۔ پھر ڈرنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر سمجھنا یہ ہے تو ایک جملے کو اتنی پزیرائی کیوں ۔ تپھڑ سے ڈر نہیں لگتا پیار سے لگتا ہے ۔ تپھڑ سے آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے  تو پیار سے عقل پہ پردہ   ۔ &lt;br /&gt;نفرت آگ کی حدت ہے جو جلا نہ پائے تو پھگلا ضرور دیتی ہے ۔ مگر پیار ڈوری کی مانند دوسِروں کو باہم باندھ دیتا ہے ۔ &lt;br /&gt;ایک ایسی روشنی  جو آفتاب کی مہتاب پر پڑیں تو چاہے پہلی کا چاند بنا دیں یا چودھویں رات کی چاندنی ۔ مہتاب کرنوں کی محبت سے محروم ایک پل کے لئے بھی نہیں رہتا ۔ &lt;br /&gt;مگر دل ایسی زمین ہے جو حالات و موسمی اثرات کے زیر اثر سچی روشنی کی نعمت سے بھی کبھی کبھار محروم رہ جاتا ہے ۔ نفرت ، ہوس و حرص کے بادل  تہہ آب سے جزبات کی بلندی کو چھو کر برس جاتے ہیں ۔  آسمان سے برسیں تو گرد و غبار کی کثافت چھٹ جاتی ہیں ۔ آنکھوں سے برس کر دل کے غبار کو نکال باہر کرتی ہیں ۔&lt;br /&gt;ان باتوں سے تو پیار سے ڈر کا تعلق واضح نہیں ہوتا ۔کیا ایسا سوچتے ہیں ہم ۔ &lt;br /&gt;زمین کی محبت میں گرفتاری کا خوف کبھی پاس سے بھی نہیں گزرتا ۔ مگر یہی زمین زلزلہ ، سونامی ، ہریکین سے اپنا وجود سمجھائے تو خوف میں جکڑے جاتے ہیں ۔ ہماری سوچ ، ہماری زندگی حالات کے رحم و کرم پر بند بادبان کی کشتی جیسی ہے جو ہوا کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔ &lt;br /&gt;جو زندگی سے پیار کرتے ہیں وہ فنا ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ مگر فنائی صفت پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ دن رات ہوس و حرص کی روشنی سمیٹتے ہیں ۔ جو پیدا اس پانی سے ہوتی ہے جس کی قدر نخلستان میں بھٹکے مسافر سے زیادہ کس کو ہو گی ۔ &lt;br /&gt;اللہ تبارک تعالی کی نعمتیں ہزارہا ہیں ۔ انسان گنتا وہی ہے جو مادیت پر ہوں ۔ بدن میں حرارت 98.6 سینٹی گریڈ تک کسی شمار میں نہیں ۔ حلق کے نوالے گنتی میں ہیں مگر سانس کی آمدورفت صرف علامت ہے ۔ تیز رفتاری میں قابل توجہ ہوتی ہے ۔ &lt;br /&gt;محبت کی تاریخ کو افکار کے آئنے میں تلاش کریں تو عکس لگن سے ملن ، قربت سے محبت تک بنتا ہے ۔ اگر نظریات سے کھوج کریں تو شکوہ سے شکایت ، حقیقت میں روایت کا عکس بنتا ہے ۔ حال کی جوانی کو ماضی کے بچپن سے کشیدہ نہیں کیا جاتا ۔ محبت کو نفرت سے رنجیدہ نہیں کیا جاتا ۔ خوشی کو غم سے بینا و دیدہ نہیں کیا جاتا ۔ اوصاف کو وصف سے حمیدہ نہیں کیا جاتا ۔ جسے بھول جانے کا خوف ہو  وہ عشق نہیں جسے سنبھال نہ سکو وہ بھی عشق نہیں ۔ جو خود میں سمو لے ۔ جو خود کو کھو دے وہ عشق ہے ۔ &lt;br /&gt;جو&amp;nbsp; فریاد سے نہ ہو اعتماد سے ہو ۔ارمان سے نہ ہو ایمان سے ہو ۔ طلب سے نہ ہو قلب سے ہو ۔ چھپ کر نہ ہو مگر چپ سے ہو ۔ انگاروں جیسا نہ ہو مگر ستاروں جیسا ہو ۔&lt;br /&gt;ڈھونڈو ایسی محبت کو جو روٹھتی نہیں ۔ جس کی چاہ سے چاشنی نہیں  جو عقیدت کے جنون سے لبریز ہے ۔ جو افتراء سے نہیں اقراء سے ہے ۔ جو زنگار سے نہیں ابرار سے ہے ۔ جو اسرار سے نہیں اقرار سے ہے ۔ جو عبد سے نہیں عابد سے ہے ۔ جو ابد سے نہیں احد سے ہے ۔ واحد کی محبت زاہد کا مقام ہے ۔ بیان میں جو نہ آئے وہی انعام ہے ۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp;تحریر !&amp;nbsp; محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-6665744903999029071?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/6665744903999029071/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/12/blog-post_28.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6665744903999029071'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6665744903999029071'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/12/blog-post_28.html' title='پیار سے ڈر لگتا ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-4873916835678179560</id><published>2011-11-19T22:36:00.000-08:00</published><updated>2011-11-19T22:36:31.650-08:00</updated><title type='text'>عشق سے عشق تک</title><content type='html'>اونچی آواز میں دعا مانگوں یا اللہ مجھے محبت عطا کر تو ارد گرد نمازی تجسس بھری نگاہوں سے گھورے گے ضرور ۔ بد بخت مسجد میں بھی نفسانی خواہشیں لپیٹ لایا ہے ۔ گھر میں لبوں پہ یہی دعا گنگنائے تو رات کا کھانا خراب طبیعت کے بہانے میں رہ جائے ۔ &lt;br /&gt;جو رہتا ہے تو رہ جائے جو بگڑے سو بگڑے مگر دل کی بات کہنے سے نہ کوئی روک پائے ۔ ایک محبت  کی کمی نے زندگی بے رنگ کر دی ۔ خواہشیں انگڑائی لینا بھول گئیں ۔ گناہ توبہ کی کسوٹی سے پرکھنے لگے ۔ نیکیاں آرزؤں کی سولی پر لٹک کر جھولنے لگیں ۔ ارمان گھٹ گھٹ مرنے لگیں ۔ لطیف سانس اکھڑ اکھڑ کر حلق میں اٹکنے لگے تو قلب رازِ محبت کے بار سے بیٹھنے لگے ۔ خشک ہونٹ  نامراد ناکام عاشق کی طرح اجڑنے کا منظر پیش کرنے لگیں ۔ قدم آگےبڑھنے سے پہلے دل سے اجازت مانگیں جو دھڑکنوں کی گنتی خود یاد کرنے میں دھک دھک کر نے میں مصروف عمل ہو تو بے چاری عقل جو مغز کی ماری ہو سوچ کے کونے کھدرے سے نکال نکال کر قصیدے قرینے سے پلکوں پر بٹھا کر آداب بجا لاتی رہے ۔ بن پنکھ کے کہیں اُڑنے کے لئے پر تولتی ہو تو خون آشام کے پروردہ ہاتھوں پہ رنگ حنا لئے بہلانے پھسلانے کو  آسمانوں می‫‫ں اُڑا اُڑا چہرے کی رنگت شفق سےفق ہونے لگے ۔ دلاسے ہمت باندھتے کم جکڑمحبت میں مذید گانٹھیں لگانے میں پیش پیش زیادہ ۔ &lt;br /&gt;عشق سے عشق تک پہنچنے کے تمام مراحل خود سے طے ہونے لگیں ۔ جنون محبت کا ، ارادے قربت کے ، چاہت پانے کی ، خوشی لذت کی ، انتظار آنے کا مگر جانے کا غم بچپن کے یاد کئے پہاڑےکےسبق کی طرح دو سے دو چار خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;تنہا ایک خود ہے پہاڑے دو سے سولہ تک یاد رکھتا ہے ۔ اکیلے کا مول الگ ہے دو کا تول الگ سے ۔ &lt;br /&gt;محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں ۔ &lt;br /&gt;جنہیں محبت کا جنوں ہے انہیں خود کی تلاش ہے ۔ پانے کی چاہت کمزور ہے جیتنے کی لگن زورآور ۔&lt;br /&gt;انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے ۔ &lt;br /&gt; محبت کی داستان سچی ہو تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔ جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیا ۔ کھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا ۔ &lt;br /&gt;آغاز محبت میں شدت ایمان کی صورت اور انجام سے بے خبری  کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی ۔&lt;br /&gt;عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچنے کی راہ ۔&lt;br /&gt;مگر کیسے ؟&lt;br /&gt;کسی کو پانے کی شدت ہے یا خود کو منوانے کی ۔ ناکامی و نامرادی کا حزن نہیں تو ملال کا گزر بھی نہیں ۔ &lt;br /&gt;پھر دل تھام تھام ہمدردی کی جھولی پھیلانے سے درد کے افاقہ کی سیل توڑی نہیں جا سکتی ۔&lt;br /&gt;دل ٹوٹے ٹوٹے گانے میں اچھا ہو سکتا ہے مگر جینے میں بار بار ٹوٹنا سامان رسد باندھ لینا خوشیوں کے روٹھ جانے پر ۔&lt;br /&gt;محبت میں جیت کا راستہ دیکھیں تو کیسے ؟ محبت کا مفہوم ہی نہیں سمجھ پائےتو محبوب کے جلوہ کا تصور ہی آنکھوں کو چندھیا دے ۔ &lt;br /&gt;عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ ۔کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;بزم میں شمع جلاؤ تو بند کواڑ سے  عاشق لپکتے ہیں ۔ جو جلنے پر بضد ہوتے ہیں ۔&lt;br /&gt;تنہائیوں کے خوف انہیں موت کے گھاٹ نہیں اتارتے بلکہ جلوہ افروزی پر فریفتہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں ۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے ۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے ۔ غنی ہے ۔ غفور ہے ۔ رحیم ہے ۔ محبتیں اس کی امین ہیں ۔ ہمارے پاس تو امانتیں ہیں ۔ جنہیں لوٹانے میں پس و پیش اور لیت و لعل کی ضرورت باقی نہیں رہتی  ۔ &lt;br /&gt;سچ لکھنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے تو کسی تار بابو سے خط لکھوانے کی ضرورت نہیں ۔ &lt;br /&gt;قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی  کے شکرسے خوب بھر لو ۔&lt;br /&gt;محبت کے سفید کاغذ پر عشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر و اشعار ! محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-4873916835678179560?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/4873916835678179560/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/11/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4873916835678179560'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4873916835678179560'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/11/blog-post.html' title='عشق سے عشق تک'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1612806711763548012</id><published>2011-10-30T22:09:00.000-07:00</published><updated>2011-10-30T22:09:28.470-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>یہ جینا بھی کیا جینا ہے</title><content type='html'>انسان اپنی سوچ کے دھارے میں بہنے اور بہانے کے عمل سے دوچار رہتا ہے ۔ کبھی خوشی سمیٹتا تو کبھی غموں کے جام چھلکاتا ہے ۔ جینے کے نت نئے انداز لبادے کی طرح اوڑھے جاتے ہیں ۔ مگر جینا کفن کی طرح ایک ہی لبادے کا محتاج رہتا ہے ۔ برداشت دکھ جھیلنے اور درد سہنے میں طاقت کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے ۔ &lt;br /&gt;نقصان عدم اعتماد پیدا کرتا اور بھروسہ کو پامال کرتا ہے ۔ فائدہ تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے ۔ مقدر کے سمندر میں سکندر کی ناؤ بہاتا ہے ۔ انسان سوچتا وہی ہے جو پانا چاہتا ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہو ۔&lt;br /&gt;زندگی میں خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ خوشی موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔ اور مواقع حسد ، رقابت ، لالچ اور نفرت سے کھوتے چلے جاتے ہیں ۔ مزاج مسلسل بگڑے رہنے سے رویے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر دوست دوست نہیں رہتے ۔ محبوب بھی محبوب نہیں رہتے ۔ عیوب کی نظر بد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جیسے ساحل سمندر پر لہریں پاؤں کے نیچے سے ریت سرکا نے سے توازن بگاڑتی اور پھر ساتھ بہانے کی ضد میں ایک کے بعد ایک لہر دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتی ہے ۔جو سنبھلنے اور پاؤں جمانے کی مہلت دینے میں بخل سے کام لیتیں ہیں ۔ &lt;br /&gt;محنت سے جوڑی گئی ایک ایک اینٹ جب ایک دوسرے سے کٹ جائے تو صرف ملبہ کے ڈھیر کی صورت میں رہ جاتی ہے ۔ عمارت نقش و نگار سے مزین اور نظر اُٹھا کر دیکھنے میں خوبصورتی کا مجسمہ بنتی ہے ۔نظریں جھکانا احتیاط یا تابعداری میں رہتا ہے ۔ دیکھنے والی آنکھ وجود  کا ہی حصہ ہیں مگر نظر میں جزب کی کیفیت روح سے مزین ہے ۔&lt;br /&gt;زمین میں بیج بو کر آبیاری سے ثمر کے حصول تک پروان چڑھانا ایک عمل کا نتیجہ ہے ۔ مگر جس زمین کی تاثیر سے شاخوں میں پھول کھلتے اور رس گھلتے ہیں ۔ وہ جڑوں سے پہنچنے والی طاقت ،مٹی میں عمل تبخیر آبگیری تک آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے ۔ &lt;br /&gt;جو درخت گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ، دھوپ سے بچاتے تو سردی میں وہی اپنے سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر انھیں کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ موسم میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے تک انتظار میں رہا جاتا ہے ۔ مگر انسان بھلائی نیکی کرنے والے کی ایک غلطی یا خامی کو حالات کی درستگی تک ٹھیک ہونے کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔بلکہ محبت کی ڈوری سے بندھے رشتے ناطے کو نفرت اور غرض کی آری سے کاٹنے کے درپے رہتا ہے ۔  چشمہ سے ابلتا پانی گرمی میں ٹھنڈک کا احساس دلاتا اور موسم سرما میں یخ بستہ سردی کا احساس مٹاتا ہے ۔ مٹی سے بنا انسان مٹی سے اٹ جانے کو گندگی تصور کرتا ہے ۔ لباس اور وضع قطع سے منفرد اور مسحور کر دینے کی بے لگان خواہش سے عزت ومنزلت اور جاہ و مرتبہ کا متمنی رہتا ہے ۔ &lt;br /&gt;آزادی سرکش اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جسے قانون  کی کاٹھی سے موافق بنایا جاتا ہے ۔ مگر نفس پھر بھی سرکشی پر مائل رہتا ہے ۔اگر روح کا بار وجود پر بھاری پن کا احساس بڑھا دے تو خلوت کا احساس بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ترغیب گناہ کی لذت کا احساس ضمیر اور خواہش کے درمیان فاصلے مٹاتا چلا جاتا ہے ۔ &lt;br /&gt;خوشی  لزت سے آشنا ہوتی ہے اور غم خوف سے ۔ &lt;br /&gt;غم کے آنے میں غم ہے تو جانے میں خوشی ۔ خوشی کے آنے میں خوشی ہے تو جانے میں غم ۔&lt;br /&gt;جو اسے رضا جان لے تو رضائے الہی سے قلب اطمینان میں دھڑکتا ہے وگرنہ اچھل اچھل بھڑکتا ہے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1612806711763548012?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1612806711763548012/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/10/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1612806711763548012'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1612806711763548012'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/10/blog-post.html' title='یہ جینا بھی کیا جینا ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-7372394661533208031</id><published>2011-09-18T02:15:00.000-07:00</published><updated>2011-09-18T02:15:38.113-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ ،سیاست،سفینہء محمود، سیلاب ، آفت، ،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں</title><content type='html'>جب بخار کی شدت میں دو تین ڈگری کمی آتی تو تیمار داری کے لئے آنے والوں سے ہنسی مذاق میں موڈ خوش گوار کر لیتا ۔ جیسے ہی دوا کے اثرات زائل ہونا شروع ہوتے تو ٹمپریچر 105 سینٹی گریڈ تک پہنچتے پہنچتے مجھے نڈھال کر دیتا ۔ سر ایک طرف ڈھلک جاتا ۔ کھانا پینا تو پہلے ہی دواؤں کی کڑواہٹ کا شکار تھا ۔ کمزوری و نقاہت سے بدن حاجت کے لئے بھی سہارے کا محتاج ہو چکا تھا ۔ نرس گلوکوز کی بوتل میں ہی وقفے وقفے سےگھونٹ گھونٹ ٹیکے ٹکا رہی تھی ۔ خواتین تیمار داری کے ساتھ ساتھ باتیں کم اور کچھ پڑھتے ہوئے ہاتھ کے انگوٹھے سے انگلیوں کو جگا رہی تھی ۔ اور میں جاگتے ہوئے بھی مدہوشی کی کیفیت میں مبتلا تھا ۔&lt;br /&gt;کسی بھی ٹیسٹ میں بیماری کی تشخیص میں مدد نہیں مل رہی تھی ۔ ڈاکٹر ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے تھے ۔ ویسے بھی مریض کو اتنی جلدی ٹانک پر ڈالا نہیں جاتا ۔ کمزوری دنوں میں بڑھتی ہے اور طاقت مہینوں میں لوٹتی ہے ۔ بیماری جڑ سے نکالنے میں گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کی ٹیک دینا ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ ہزاروں کا بل چکانے کے بعد بھی بیماری نے گردن کو اکڑنے کی اجازت نہیں دی ۔ جھکی کمر افسران بالا کے سامنے ماتحت کی عرض مندی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ تکلیف کا خیال آتے ہی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگتے ۔ شدید سر درد اور مسلسل قے کی وجہ سے توبہ ! توبہ ! سر دیواروں سے ٹکرانے کو جی چاہتا ۔ نہ دن کو چین اور نہ ہی رات میں سکون ۔ بھلا ہو ڈاکٹر وں کا ٹیکے لگا لگا ایسا نشہ طاری کیا کہ بیماری سے لا علم نشے کی لت کا شکار سمجھتے ہوں گے ۔ کام کے لئے گھر سے نہ نکل سکے مگر صحت و تندرستی چل چلا پر گامزن تھی ۔&lt;br /&gt;جو دو دن شادی میں شرکت کی تھکاوٹ سے پھر بے حال ہو گئی ۔ سر ایک بار پھر درد کے ہتھوڑے سے ہاتھ ہولا رکھنے میں ناکام تھا ۔ ایک مہربان نے پھر سے ایک دوسرے بڑے ڈاکٹر کے در پہ جا پھٹکا ۔ سرنجوں سے خون نکال نکال لیبارٹری اسسٹنٹ نے آنکھوں میں ایسا اندھیرا پھیلایا کہ کئی مریضوں کو بوتل بھر بھر خون کا عطیہ دینے میں کبھی چکر نہیں آیا تھا ۔ رزلٹ پھر وہی ڈھاک کے تین پات ۔ ہمت مرداں مدد خدا ۔ کلینک کے باہر قطار میں انتظار سے بھی کوفت نہیں ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر کی صورت دیکھ کر یہ پیغام ملتا کہ پاس کر اور برداشت کر ۔ سو پاس کرنے کا اختیار تو بیماری کے سپرد کر دیا اور برداشت کرنے کا اپنے ذمے لیا ۔ معدہ جن ادویات کو برداشت کر چکا تھا اب ان مہنگی ادویات کی شان باقی نہیں رہی تھی ۔&lt;br /&gt;آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ تمام لیبارٹری ٹیسٹ میز پر رکھے تھے جس پر لکھی اے بی سی 123 کے ساتھ پڑھ کر بھی اپنی کم علمی پر ندامت ہو رہی تھی ۔ ڈاکٹر نے بھاری فیس کے عوض جو دوا لکھی وہ سرے سے ہی پلے نہ پڑی ۔ بھاری قدموں سے ہلکے کاغذ پر لکھے نسخے کے ساتھ میڈیکل سٹور پر حاضری دی ۔ دوا ہاتھ میں تھما کر جس رقم کا مطالبہ ہوا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد یہ کیا چند روپوں کی گولیاں ہاتھ لگیں ۔ جسے بچپن میں ماں جی کئی بار کھلا چکی تھیں ۔ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتیں تو بخار نناوے پر آؤٹ ہو چکا ہوتا ۔ ایک سو پانچ کی یاد گار انگز کبھی نہ کھیل پاتا ۔ بقول ڈاکٹر صاحب یہ ملیریا کی ایسی قسم ہے جو لاکھوں میں سے کسی ایک مچھر میں موجود ہے جو پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں میں ایک مریض اس کا شکار ہوتا ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں یہ پایا جاتا ہے ۔ آج ہمیں کوئی فخر نہیں کہ ایسی ہی کسی مچھر کی ڈینگی قسم اب ہمارے ہاں بھی پائی جاتی ہے ۔ جس نے شہر شہر سراسیمگی پھیلا رکھی ہے ۔&lt;br /&gt;کیا بات تھی ماؤں کی ، کسی ڈاکٹر سے کم نہ ہوتیں ۔ بغیر ٹیسٹوں کے ہی تشخیص کر لیتیں ۔ اور مسیحائی کرتیں ۔ آج ڈاکٹر تو بہت ہیں مسیحا کوئی نہیں ۔ بیماریاں آنے میں صبر نہیں کرتیں اور دوائیں اثر نہیں کرتیں ۔&lt;br /&gt;جیسے محبتیں بہت ہیں قربانی کہیں نہیں ۔ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کی بجائے دو ہاتھ دو اور دو ہاتھ لو کے فارمولہ پر ایک وقت میں ایک کام سرانجام پا سکتا ہے ۔ بیماری غریب کے در پر دستک ہر بار دیتی ہے ۔ بہتے برستے پانی جب گھروں میں جوہڑوں کی طرح ٹھہر جائیں تو دونوں خالی ہاتھ کم کشکول بن جاتے ہیں ۔ بلکتے سسکتے بچے ماؤں کی گود میں پانی کو جب ترستے تو وہ بھوکی شیرنیوں کی طرح خوراک کی تقسیم کرنے والوں پر جھپٹ پڑتیں ۔ لاٹھیاں جن کا مقدر کسی کا گولیاں بھی نصیب بن جاتی ہیں ۔ جہاں زندہ سنبھالے نہیں جاتے وہیں لاشیں بن اپنوں کی جدائی کو بھی زرہ بے نشان بنا دیتی ہیں ۔ غریب کی دہائی دہائیوں کے اقتدار کی ضمانت بن کر رہ جاتی ہے ۔ غربت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے کہیں غریب ہی نہ مٹ جائیں ۔ پھر جمہوریت کے تھیلے سے موٹی بلی کیسے باہر نکالی جا ئے گی ۔ کیونکہ امیروں کو نوٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر حکمرانی کے لئے لمبی غریبی لائن کے بغیر جعلی ووٹوں کی بھی انٹری ممکن نہیں ۔ نمائندگی کے دعوی کا دم بھرنے والے بھیک منگوں کی بجائے خودداری کے علمبراد بن جائیں تو عوام صدیوں پہلے ٹیپو سلطان کے کہے گئے الفاظ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے کو پڑھنے سے کڑھنے کی کوفت سے بچ جائیں ۔ شائد وہ سمجھ سکیں کہ ایک حلال لقمہ حرام اور بے ایمانی کے کروڑوں سے بہتر ہے ۔ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو امانت میں خیانت کر کےکردار کی جس عمارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ کتنی آہوں کو دبا کر ،امنگوں کو سلا کر ،ضمیر کی نظروں سے چرا کر تاریخ کے گرد آلود اوراق کی شان بے نیازی تو ہو سکتے ہیں مگر شان امتیاز نہیں ۔ آخری شہنشاہ ہندوستان بہادر شاہ ظفر ایک پیغام چھوڑ گیا ہے انہی سوالیوں کے لئے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں&lt;br /&gt;کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ&lt;br /&gt;قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں&lt;br /&gt;اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان&lt;br /&gt;کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن&lt;br /&gt;دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی&lt;br /&gt;پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے&lt;br /&gt;دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-7372394661533208031?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/7372394661533208031/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/09/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7372394661533208031'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7372394661533208031'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/09/blog-post.html' title='کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-4275813002667294779</id><published>2011-08-19T22:57:00.000-07:00</published><updated>2011-08-19T22:57:59.112-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><title type='text'>ایک سوال ادھورا جواب</title><content type='html'>پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔&lt;br /&gt;ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔&lt;br /&gt;انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے &lt;a href="http://ww.jasarat.com/unicode/detail.php?category=3&amp;newsid=62349"&gt;آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔ &lt;/a&gt;&lt;br /&gt;اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔&lt;br /&gt;بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔&lt;br /&gt;قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ&lt;br /&gt;وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے&lt;br /&gt;ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں&lt;br /&gt;اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔&lt;br /&gt;قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔&lt;br /&gt;اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر ! محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-4275813002667294779?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/4275813002667294779/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/08/blog-post_19.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4275813002667294779'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4275813002667294779'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/08/blog-post_19.html' title='ایک سوال ادھورا جواب'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3171730979212952638</id><published>2011-08-14T02:32:00.000-07:00</published><updated>2011-08-14T02:44:37.668-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='جشن آزادی ، وطن ، پاکستان ، دیا'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ</title><content type='html'>پاکستان کی آزادی کو آج چونسٹھ سال ہو چکے ۔ ایک قوم نے ایک وطن کی بنیاد رکھی ۔ ایک رہنما نے رہنمائی کی شمع جلائی ۔ قوم کے ہاتھوں میں ایک امید کا دیا تھما دیا ۔ جو دئیے سے دیا جلانے کی کوشش کے انتظار میں خود دیا ٹمٹماتا رہا ۔ بجھانے کی نیت رکھنے والے منہ کی کھاتے رہے ۔ آس ٹوٹی نہ امید ۔ جشن آزادی کی نعمت سے جگمگاتے منور ہو گئے ۔ حقیقی خوشی سے محروم طبقہ عارضی پن سے نعمتوں کا شکر بجا لانے میں کسر نفسی کا شکار رہا ۔ قوم چھتوں پر جھنڈیاں پھیلائے جشن کو آزادی کے ترانوں سے گنگناتی رہی ۔ &lt;br /&gt;بہت کچھ کھونے کے بعد بہت کچھ پایا تھا ۔ جو اسلام کا گہوارہ بننے میں بیتاب تھا ۔ اصول سیاست میں رہنما تو اصول معاش میں مساوات کے ترازو کے ہر پلڑے میں انصاف برابر یقین محکم تھا ۔ &lt;br /&gt;لیکن آج صبح عجب تھی ایس ایم ایس جو ملا  شکایت سے بھرا شکوؤں سے تلا بے بسی سے تلملاتا پیغام آزادی کے رنگ سے ہرا تھا ۔ یہ جھنڈا سفید و سبز رنگ سے لہراتا خون آشوب شام  کا سویرا تھا ۔ جو نئے چاند کو پہلو میں دبائے چمکتے ستارے سے روشنی پھیلانے کو بیتابی کا مظہر ہے ۔ &lt;br /&gt;اٹھاون کا مارشل لاء، پینسٹھ کی جنگ ۔ 71 کی آدھے وجود سے جدائی  کے بعد پے در پے صدمات کا بوجھ کندھوں پر ایسے اٹھاتا چلا گیا جیسے باپ کے کندھوں پر نادان معصوم بچپن سوار ہو کر گہرے پانی سے گزر جاتا ہے ۔ &lt;br /&gt;آج ان کندھوں کو توانا اور طاقتور بازوؤں کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ تو بازو بغلگیر ہونے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں تنگدستی نے تو کہیں تنگیء داماں نے ہاتھ روک رکھا ہے ۔ خون بہانے سے نئی زندگی  کو جلا نہیں ملتی ۔ اور جلانے سے جفا نہیں ملتی ۔ وفا کی سیڑھی محبت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اور محبت آسمان پر پھیلے قوس و قزح کے رنگوں تک ۔محبت تو وسیلہ ہے وفا کو منزل تک پہنچانے کی ۔&lt;br /&gt;وطن ہر وقت دینے کا متمنی رہتا ہے ۔ قوم لینے میں بیتاب ۔ لیکن آج وقت نے آنکھوں سے پٹی کھول رکھی ہے ۔ لینے والے آج دینے میں تاءمل کیوں کریں ۔رگوں میں دوڑتے سرخ گرم لہو میں جو جوش زیادہ دیتے ہیں ۔ ان نوجوانوں  کے عزم و حوصلہ  کو ایک دھاگہ میں پرونے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ جہاں دانہ دانہ سے چپکا دانائی کی لڑی سے جڑا ہے ۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں جوش کی گانٹھوں کو وفا کے دھاگوں کی مزید ضرورت ہے ۔ &lt;br /&gt;جو کامیاب دکھائی دیتے ہیں وہ دراصل ناکام ہیں ۔ ہوس حرص کی محبت وفا کی چاشنی سے لبریز نہیں ۔&lt;br /&gt;گاڑیوں کی رفتار ہارن کی آواز سونے کی جھنکار زندگی کے ساز نہیں ۔ سازندے ہاتھوں کے جادو سے آنکھوں کو چندھیا نے میں شعبدہ باز تو ہوں گے مگر پاکباز نہیں ۔ &lt;br /&gt;کیوں نہ آج یہ عہد کریں محلہ محلہ گلی گلی دھواں پھیلاتی  موٹر سائیکل سے موٹر اتار کر دودھ دہی ، برگر ، پیپسی لانے میں دو پیڈل کا سہارا لیں ۔ جو بچت بھی ہے ۔ صحت بھی رکھے اچھی فارغ وقت کا بہترین مصرف بھی ۔ ٹریفک کے شور سے پاک ، انتظار کی کوفت سے دور فاصلوں کے قریب ہونے میں مددگار بھی ہوتی ہے ۔ دئیے سے دیا جلاؤ ۔ دوسروں کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی مت گراؤ ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے رفتار بڑھانے کی بجائے قدم بڑھاؤ ۔ جو قدم سے قدم ملائے گا ۔ ایک مقصد کو پہلےاپنا نصب العین بناؤ ۔ ایک کے بعد ایک رسم ضیاع کو تختہ مشق بناؤ ۔ رئیسی کی طفلانہ حرکت بچگانہ پر صرف مسکراؤ ۔ &lt;br /&gt;نہ گھیراؤ نہ ہی کچھ جلاؤ ۔ صرف دیا سے دیا جلاؤ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمودالحق          &lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3171730979212952638?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3171730979212952638/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/08/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3171730979212952638'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3171730979212952638'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/08/blog-post.html' title='جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-7293645933448789630</id><published>2011-07-30T03:11:00.000-07:00</published><updated>2011-07-30T03:11:18.988-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='محبت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری</title><content type='html'>لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔&lt;br /&gt;سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔&lt;br /&gt;ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔&lt;br /&gt;تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔&lt;br /&gt;کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔&lt;br /&gt;اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔&lt;br /&gt;لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔&lt;br /&gt;آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں&lt;br /&gt;لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-7293645933448789630?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/7293645933448789630/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_30.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7293645933448789630'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7293645933448789630'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_30.html' title='لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-756212373819868936</id><published>2011-07-26T01:27:00.000-07:00</published><updated>2011-07-26T01:27:48.602-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>رشتے دل کے جو جان پر بن آئے</title><content type='html'>بات نہایت مختصر  بیان کرنے کی جسارت کروں تو سمجھنے سمجھانے میں پل صدیوں میں ڈھل جائیں ۔ سحر آفتاب  غروب کے منظر کو مہتاب کر دے ۔ بات آفتاب کی نہیں جو شمش کہلائے تو شمشیر سے گہرا اثر اپنی حدت سے  چھوڑ  جائے ۔ یہاں ذکر ہے رشتوں کا جو کبھی بندھتے ہیں تو کبھی چھوٹتے ۔ گردش ایام کے پابند رہتے ہیں ۔ گردش کائنات سے سروکار نہیں رکھتے ۔  کیونکہ وہاں سرکار کسی کی نہیں ۔ موج مستی صرف اتنی کہ پاؤں زمین پر تھرک سکیں ۔ جو آنکھ سے اوجھل ہے چاہے پہاڑ کے پار ہو یا پہلے آسمان سے آگے ۔ خواہشوں کی بیڑیاں پہنے  طوق غلامی سے جھکتا چلا جائے ۔ پھر بھی رہتا شکوہ اپنے پن سے جو بیگانگی میں اغیار کی پرستش میں مسیحائی کا طالب ہو ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-756212373819868936?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/756212373819868936/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_26.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/756212373819868936'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/756212373819868936'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_26.html' title='رشتے دل کے جو جان پر بن آئے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8339208807015615336</id><published>2011-07-24T00:01:00.000-07:00</published><updated>2011-07-24T00:01:34.005-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں</title><content type='html'>محبت ، خلوص ،رواداری  سے اپنا بنانے کے لئے جو بھی عمل کیا جائے  وہ انجام خیر سے بے خبر ہوتا ہے ۔ انسان دو آنکھوں سے زمانے بھر کو دیکھتا ہے ۔ کبھی دکھ سکھ میں آنسو تو کبھی غصہ میں آگ کی لالی سے پانی بہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دو بار ہی آنکھیں دو آنکھوں سے چار ہوتیں ہیں ۔ جو سیدھا نشانہ دل پہ لیتی ہیں ۔ پھر عقل سے نظر کی تمام طنابیں چھوٹ کر دل کی دھڑکن سے جڑ جاتیں ہیں ۔ تمام رشتے ایک نظر کے سامنے ہیچ لگتے ہیں ۔ سوچ عقل کی سٹاک مارکیٹ دلاں دے سودے میں مندے کا شکار ہو جاتی ہے ۔ &lt;br /&gt;آسمان پہ چپکے سفید روئی کے گالوں کی طرح برسنا قسمت میں نہیں ، صرف ٹہلنا رہ جاتا ہے ۔ جو نہ تو دھوپ سے بچاتے ہیں اور نہ ہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;آسمان سے باتیں کرتے جنگلی درختوں کی طرح اکڑے ثمرات سے بے فیض ہوتے ہیں ۔ اظہار محبت کے لئے تین لفظوں سے لے کر ایجاب و قبول  کے درمیان اٹک جاتے ہیں ۔ زندگی کا یہ مختصر ترین عرصہ صدیوں سے چلتی معاشرتی قدروں کے سامنے بغاوت کا علم بلند کر دیتا ہے ۔ عزت کا جنازہ نکل جانے کا غم نہیں ۔ پانے کی خواہش اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے ۔ کہ جیت کے نشہ سے بڑھ کر نشہ کی علت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن کی یادیں احسان فراموشی کی شال اوڑھ لیتی ہیں ۔ میں کی عینک میں منزل مراد وحید ہو جاتی ہے ۔ کھلونوں کے بازار میں کھڑے بچے کی مانند  جو صرف اپنی پسند پہ فریفتہ رہ جاتا ہے ۔ اوراگلی بار پھر کسی اور پسند پر ۔ ایک زمانہ کی پسند ایک زمانہ تک رہتی ہے ۔&lt;br /&gt;حسرت کا یہ کوہ پیمائی سلسلہ خواہشوں کے انبار میں قوت خرید کی بنا پر ایک وقت میں ایک خواہش کی تکمیل کی تدپیر نہیں رکھتا ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8339208807015615336?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8339208807015615336/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_24.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8339208807015615336'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8339208807015615336'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_24.html' title='دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8127297460111420457</id><published>2011-07-22T02:51:00.000-07:00</published><updated>2011-07-22T03:00:00.844-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>بھولنے والے بھول جائیں</title><content type='html'>اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس  حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ &lt;br /&gt;بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا  تودیوانہ کا خواب تھا ۔ &lt;br /&gt;جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔&lt;br /&gt;ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔&lt;br /&gt;آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے  محروم رہے ۔&lt;br /&gt;طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔ &lt;br /&gt;اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں  میرا ، تو  تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں  یا جو سن لیں اسی پر یقین  کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔&lt;br /&gt;ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر ! محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8127297460111420457?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8127297460111420457/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_22.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8127297460111420457'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8127297460111420457'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post_22.html' title='بھولنے والے بھول جائیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2329835986635629107</id><published>2011-07-16T00:50:00.000-07:00</published><updated>2011-07-16T00:50:58.855-07:00</updated><title type='text'>دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے</title><content type='html'>جدید دنیا نے انسانوں کو جہاں بے پناہ  سہولتیں پہنچائی ہیں ۔ وہاں بے شمار مسائل سے بھی دوچار کیا ہے ۔ ہر دور کا انسان جدید ترقی کی منازل آہستہ آہستہ طے کرتا رہا ۔اور ماضی کو پائیدان بنا کر اگلی منزل کی طرف گامزن ہوا ۔ مگر ہر انسان اس سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا مگر چند کے سوا ۔ اور اسی طرح چند ممالک ہی اس ترقی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔&lt;br /&gt;ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کا ذکر ہی کیا ۔ مگر ترقی یافتہ ممالک کا ہر فرد بھی خوش وخرم اور مطمئن زندگی نہیں گزار رہا ۔جہاں امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اور غریب اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 8 سے 12 گھنٹے روزانہ مشقت کرتا ہے ۔اکیلا وہ بھی بیوی بچوں کے اخراجات پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔&lt;br /&gt;تاہم عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے میں اپنے حصے کا کام کرتی ہے ۔ جو ایک ہفتہ میں چالیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ ملازمتوں سے فارغ ہونا اور کریڈٹ کارڈ کی واجب الاادا رقوم انہیں سخت محنت کا عادی بنا دیتی ہیں ۔&lt;br /&gt;ہر ملک کا میڈیا سب اچھا کی خبر دیتا ہے آج کے بناوٹی دور میں پسماندہ ملک کا میڈیا بھی وہاں کے عوام کی اصل شکل نہیں دکھاتا ۔یہی وجہ ہے کہ عوام الناس  میں بھی ایسے پروگرام زیادہ پزیرائی حاصل کرتے ہیں ۔ جن میں لوگ بہت سی دولت چند لمحوں میں حاصل کر لیتے ہیں ۔جیسے کون بنے گا کروڑ پتی اور ڈیل یا نو ڈیل پروگرام  ۔ اس کے علاوہ نیوزپیپر اور میگزین کھلاڑیوں کی آمدنی کا تخمینہ لگاتے رہتے ہیں ۔ جو نئی نسل کے ذہنوں میں جلد امیر ہونے کا ایک آسان طریقہ ہوتا ہے ۔ جو لاکھوں میں سے چند ایک کو حاصل ہو تا ہے ۔ کچھ پڑھائی تو پہلے چھوڑ چکے ہوتے ہیں رہی سہی کسر دولت کمانے کے کئی دوسرے طریقے اپنانے میں پوری ہو جاتی ہے  ۔چند محنت اور لگن سے اور کچھ غیر قانونی طریقوں سے ترقی پاتے ہیں ۔لوگ امیر ہونے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کے عمل میں اپنی اپنی حیثیت میں کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے میں ایک ریڑھی بان سے لے کر سیاستدان تک ایک خاص مقصد کے حصول کے جنون میں کوشش کرتے ہیں ۔مگر مقصد ایک ہے دولت مندی اور دوسروں سے برتری ۔ &lt;br /&gt;مفادات کی اس جنگ میں آخر کار فتح خود غرضی کی ہوتی ہے ۔&lt;br /&gt;ایک زمانہ تھا لوگ اپنے بزرگوں کا تعارف ان کے اخلاق ، اخلاص اور کردار ، ایمانداری ، اصول پرستی اور ایثار و قربانی  کی اساس پر کراتے تھے ۔اور خود پر فخر کرتے ۔ مگر آج کی دنیا اور دولت پرستی کو کیا کہیئے کہ اولادیں والدین کے اصولوں پر فخر کرنے کی بجائے ان پر موقع ملنے پر فائدہ اُٹھا کر انہیں مہنگی اور جدید تعلیم سے آراستہ نہ کرنے اور ان کے نالائق مستقبل کو محفوظ کرنے کا خاطر خواہ انتظام نہ کر سکنے کے الزامات دینے میں تامل نہیں کرتی ۔&lt;br /&gt;جو والدین اپنی اولاد سے توقع کریں کہ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ان کا سر فخر سے بلند کریں۔ انہیں معاشرہ ناکام قرار دینے میں تامل نہیں کرتا ۔ &lt;br /&gt;ایسے لوگوں سے مل کر نہایت مایوسی ہوتی ہے جو اپنی رہائشی کالونی کا ذکر فخریہ انداز میں کرتے ہیں ۔ اور اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور اپنی حیثیت کا وزن بڑھانے کے لئے  بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کا ہمسایہ ہونے پر سینہ تان لیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;کیا دور آ گیا ہے  لوگ اپنے آپ کو محترم کرنے کے لئے آباؤاجداد کی بجائے تعلقات کا تزکرہ فخر سے کرتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;اسے کیا کہا جائے تعلیم کی کمی ،حسد و جلن یا احساس محرومی جو دوسروں پر برتری جتلانے سے ٹھنڈک کا احساس پاتا ہے ۔ &lt;br /&gt;خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی کسی سے برتر ہے تو وہ تقوی اور پرہیز کے وجہ سے ہے ۔  &lt;br /&gt;ہمارا معاشرہ جس سمت چل رہا ہے وہ کسی قانون یا کسی ترمیم سے اپنی اصل پر واپس نہیں آئے گا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون بنانے والے اور اس پر تنقید کرنے والے اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کریں ۔عوام کے لئے ایک اچھی اور سچی مثال بنیں ۔مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام اپنے رہنما چنتے وقت دولت کے انبار کی بجائے کردار کو ترجیح دیں گے ۔جھرلو طریقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے بھاری مینڈیٹ کے لئے جھاڑو کا سہارا لیتے ہیں ۔ ہر منتخب ہونے والا سیاستدان خود کو تخت شاہی کا حقدار سمجھتا ہے ۔ &lt;br /&gt;اس کا جواب تو عوام بہتر طور پر سمجھتے ہیں جو آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعروں کا ایندھن بنتے ہیں ۔&lt;br /&gt;ہمارے سیاستدان اور سیاسی علماء کرام کیوں بھول جاتے ہیں کہ لاہور شہر میں  سروں پر حکومت کرنے والے ایک قطب بادشاہ کے مزار پر ہو کا عالم اور دلوں پر راج کرنے والے ایک ولی اللہ کے مزار پر زائرین کا جم غفیر ایک سبق آموز حقیقت پیش کرتا ہے ۔ پھر بھی سیاستدان سروں پر حکومت کر کے معاشرہ کی درستگی کا بیڑہ اُٹھانے کا متمنی نظر آتا ہے ۔ حالانکہ قوم جانتی ہے کہ قانون بنانے والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ۔ قانون کمزوروں کو اور بے کس بنانے میں استعمال ہوتا ہے ۔ طاقتور اور امیر تعلقات اور اثر ورسوخ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ شاید ہی کسی نے طاقتور کو سزا سے فیضیاب ہوتے دیکھا ہو ۔ کروڑوں اربوں کے ٹیکس نا دہندہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھے گئے ۔ چند سو کے نا دہندہ کے لئے کوئی خاص رعایت نہیں ۔ &lt;br /&gt; چند سال پہلے مال روڈ لاہور پر منہ زور ایم پی اے کی کار سے کالے شیشے اتارنے کی جرآت پرٹریفک افسر کی وردی بھی اتری اور جیل کی سلاخوں کے ہار بھی پہنے ۔ &lt;br /&gt;پنڈی کا عوامی سپوت کلاشنکوف لہرانے پر پانچ سال کی سزا پر اسلحہ رکھنے سے باز آیا ۔ اور اسلام آباد کے سپوت کو اسی جرم میں بھاری بوٹوں نے تھانے میں ہی مجسٹریٹ کے ہاتھوں رہائی کے پروانے کے ہار پہنائے ۔&lt;br /&gt;جہاں وزیر اعلی خود تھانے جا کر ملزم چھڑا لائے ۔ وہاں قانون صرف ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;مگر افسوس صد افسوس قانون کے ایسے قتل عام پر نہ جلوس نکلا نہ احتجاجی جلسہ ہوا ۔ نہ ہی لانگ مارچ ہوا اور نہ ہی کسی تحریک کا آغاز ہوا ۔ میری نظر میں یہ سب یک نظر ہیں ۔ کیونکہ قانون کی بالادستی  کی وجہ سے کبھی نہ کبھی وہ بھی اس کے شکنجے میں کسے جا سکتے ہیں ۔ کیونکہ دامن اتنا صاف شاید ہی کسی کا ہو کہ دوسروں کو دھبہ نظر نہ آئے ۔ &lt;br /&gt;قربانی کا بکرا صرف عوام ہی کیوں ۔ عوام کو شاید یہ ان کے عملوں کی سزا ہے جو وہ ہر بار انہی دولت مندوں اور با اختیار لوگوں کو منتخب کرتے ہیں ۔ جن کا سسٹم بھی تابع ہے ۔&lt;br /&gt;عام آدمی تو گھر میں چوری کی رپورٹ درج کروانے کے لئے علاقے کی بااثر شخصیت کی سر پرستی کا محتاج ہے ۔ &lt;br /&gt;کیونکہ پہلا شک گھر کے بھیدی پر جاتا ہے ۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2329835986635629107?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2329835986635629107/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2329835986635629107'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2329835986635629107'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/07/blog-post.html' title='دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8016229518347907726</id><published>2011-05-26T01:28:00.000-07:00</published><updated>2011-05-26T01:28:41.430-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>معمار قوم</title><content type='html'>آج کل  ایسا ویسا لکھنے کا رواج عام ہے  تو سوچا کہ  ایک کالم کاغذ کی کشتی بنا کر  بارش کے بہتے پانی  میں بہا دوں ۔ ارادہ پکا تھا کہ  خود فریبی  میں مبتلا قوم عمار کو ضرور ایک معمار کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تو  اپنی خدمات پیش کر کے دیکھوں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ امتحانات کے نتائج  توتینتیس اور پچاس کے درمیان  ہی رہے ۔ اگر معماری کا کنٹریکٹ ہاتھ لگ جائے تو  چھیاسٹھ تک گنتی پہنچ سکتی ہے ۔  پھر چاہے قانون بدل دوں یا آئین ۔ پوچھے گا کون ۔&lt;br /&gt; معمارقوم  بیمار  ہوا تو بنیاد پر ہی کام رک گیا ۔  اس کے بعد ایک کے بعد ایک نیا خودساختہ معمار  بنیاد میں ڈالے گئے مضبوط کنکریٹ  کو بھول بھلیاں سمجھنے کا شکار رہا   ۔ باورچی خانہ کی جگہ باتھ روم تو ڈرائینگ روم کی جگہ کچن بناتا چلا گیا ۔  نیا نئے سرے  سے معمار کے آئیڈیا کو جانچتا یہ کہہ کر یہ نقشہ اصل معمار  کی بنیاد سے میل نہیں رکھتا ۔ پھر سے بنیاد تک بلڈنگ ڈھا دیتا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ &lt;br /&gt;مسجد ڈھا دے مندر ڈھادے&lt;br /&gt;ڈھیندا جو کجھ ڈھا دے&lt;br /&gt;اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں&lt;br /&gt;رب!دلاں اندر رھیندا&lt;br /&gt;اور یہ سب انہوں نے خوف خدا سے کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ  اٹھانے گرانے سے رب کی ناراضگی کا انہیں اندیشہ نہیں ۔ دلوں میں اس کی یاد خوشبو کی طرح بس چکی ہے ۔ ایک ہلکا سا ترانہ بجانے اور جھنڈا لہرانے سے  وہ مہک اُٹھے گا ۔ زنجیر سے باندھے مست ہاتھی  کے جوش  سے بڑھ کر جوشیلا پن  نعروں کی گونج  میں مترنم ہو گا ۔&lt;br /&gt; عمارت کا کیا ہے ۔معماری کا ایک شاہکار ہی تو ہے ۔  بنیاد تو پھر بھی رہ جائے گی ہڑپہ اور مونجو ڈھارو کی طرح جہاں صرف عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں ۔ تاریخ  بنیاد سےخود پتہ چلا لے گی کیا کہاں تھا ۔ جب عمارت کا وجود ہی تاریخ  کے لئے ضروری نہیں تو پھر اسے مضبوط کرنے  کے لئے خون جگر دینے کی ضرورت آج کے معمار نہیں سمجھتے ۔&lt;br /&gt;جیسے خون وہ مچھروں کو دیتے ہیں ۔  بات کاٹنے کی کرتے ہیں ۔ یہی حال معماروں کا ہے لوٹتے مال ہیں  الزام ان پر کال  کے ہیں ۔&lt;br /&gt;فرق صرف اتنا ہے مچھروں میں ڈینگی وائرس پھیلانے والا کوئی کوئی ہے ۔ معماروں کے ہاتھ سے بچتا کوئی کوئی ہے ۔ جو بچ جائے وہ ڈریکولا نہیں بنتا دوسری طرف معماروں کے کاٹے خود خون چوسنے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔  مریض اپنے اپنے مسیحا ء کی لمبی عمر  کی دعا سے  دم بھرتے ہیں ۔ جب کہ  دوسروں کی تعریف سے  سانس ان کے رکتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;اگر سب ہی خون چوسنے والے بن جائیں تو خون دینے والے  کہاں سے لائے جائیں گے ۔ شائد اسی لئے خاندانی منصوبہ بندی  پر عملداری سے روکا جاتا رہا ۔ کیونکہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔  گنتی میں بھاری ہلکے سب چل جائیں گے ۔ حالات تولنے کے ہوئے تو  راشن کے بٹوارے کا خطرہ ہے ۔ ایک غلطی کا خمیازہ 71 میں بٹوارہ کی صورت میں بھگت چکے ہیں ۔ اب پھر راشن کی تقسیم کا رولا پڑ چکا ہے ۔ پانی راشن نہ سہی اجناس راشن کا سبب تو ہے  ۔ زمین کے مقدر میں اس کا جزب ہونا نہ لکھا ہو  ۔ سمندر میں غرق ہونے سے  جو پھر بادل بن اُٹھ جائے تو ہونٹوں پہ مسکراہٹ کیوں نہ چپک جائے ۔اگر نہ برسے تو  یہ کہنا کہاں جائز قرار پائے گا کہ &lt;br /&gt;میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے&lt;br /&gt;تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے&lt;br /&gt;میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے&lt;br /&gt;تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; شکوے تو معماروں سے ہیں ۔ نہ گل سے نہ گلزاروں سے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8016229518347907726?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8016229518347907726/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/05/blog-post_26.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8016229518347907726'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8016229518347907726'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/05/blog-post_26.html' title='معمار قوم'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1018326806479623773</id><published>2011-05-15T02:42:00.000-07:00</published><updated>2011-05-15T02:42:51.758-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>اختلاف رائے اور ہمارے رویے</title><content type='html'>اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔&lt;br /&gt;جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔&lt;br /&gt;ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔&lt;br /&gt;اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔&lt;br /&gt;اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔&lt;br /&gt;ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔&lt;br /&gt;دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر : محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1018326806479623773?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='related' href='http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%B1%D9%88%DB%8C%DB%92-51707/' title='اختلاف رائے اور ہمارے رویے'/><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1018326806479623773/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/05/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1018326806479623773'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1018326806479623773'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/05/blog-post.html' title='اختلاف رائے اور ہمارے رویے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-6672861477491305387</id><published>2011-03-26T01:43:00.000-07:00</published><updated>2011-03-26T01:43:24.323-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>پروانے شمع سے جلتے ہیں</title><content type='html'>تحریر  ! محمودالحق&lt;br /&gt;میری تحاریر پر  بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ  مشکل مفہوم  کے ساتھ پیچیدہ  طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے " ۔ اگراس کے ساتھ نصیحت بھی ہو تو  مشورہ مفت  دل بے رحم سے  کم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے  اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے  پر کمر بستہ ہوں ۔ اب اگر شکوہ نہ جائے تو  ہمیں ضرور توبہ کرنی چاہئے  قاری کو پڑھنے سے اور مجھے ایسی سوچ رکھنے پر ۔&lt;br /&gt;کیونکہ میرے سیاسی عزائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔  نا عاقبت اندیشی سیاست میں کسی کام کی نہیں ۔ سیاستدان ہمارے کسی کام کے نہیں ۔ اب اگر ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت سیاستدان یا وزیراعظم مجھے پسند ہے تو اس کی خاص وجہ  یہ کہ زندگی میں ایک بار بغیر امتحان دئیے ساتویں سےآٹھویں جماعت میں پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ نو ستارے مل کر الیکشن میں  اپنے انتخابی نشان ہل جو کہ کسان کی محنت اور قوت کی غمازی ہے کے بل پر بھی  ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل  کو نہ بچا سکے ۔ اور بھٹو اپنی جان کو ۔  &lt;br /&gt;حکمرانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی  اور اپوزیشن نئی حکومت کے پیچھے کے دروازے پر ۔ دونوں کو آخر کیا ملا ۔ ایک کو موت تو دوسری اپنی موت آپ مر گئی ۔ کیونکہ وہ آج بھی صرف ایک اپوزیشن کا ہی کردار نبھانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔جسے عوامی اعتبار حاصل کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن امید بھی ختم نہیں ہوئی ۔علامہ اقبال کے اس شعر پر ابھی تک کامل یقین رکھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔&lt;br /&gt;مٹی زرخیز ہو بھی تو کیا ۔ہل چلانے والے ہی انجان اور نا تجربہ کار ہوں ۔  بنا محنت کے ہی فصل کاٹنے کے لئے  بیتابی مہماناں کو جاناں تصور بنا کر  رکھتے ہوں تو ایک کیا صدیاں تو تین بھی نا کافی ہوں گی ۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو ۔ تو پھر ہاتھی میرا ساتھی نہیں ہوتا ۔&lt;br /&gt;ان میں سے  ہی بعض تو ایسے  قد کاٹھ رکھنے والے قائد تھے ۔ کہ دل جلے پھبتی کستے کہ پوری پارٹی  ایک ہی تانگہ پر پوری بیٹھ سکتی ہے ۔ اب بھلا تانگہ پر بیٹھ کر ایوان تجارت تک جانے کا راستہ نہیں رہا تو ایوان صدارت تک تو کجا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اسلام آباد میں کئی بار اس راستے سے گزر کر قیاس کیا کہ کیسے یہاں تک پہنچنا  آسان ہو سکتا ہے ۔ لیکن جہاں سے گزرنا میرا تھا وہاں سے تو  روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزرنا رہتا ہے ۔پھر ایک خیال دل میں آیا کہ جسے ہم اندر جانے کا راستہ سمجھتے ہیں دراصل وہ باہر آنے کا راستہ ہے ۔ اندر جانے کے لئے کسی دروازے کی نہیں ایک گہری سرنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نکلتی کہاں سے ہے کسی کو معلوم نہیں ۔ جاتی کہاں ہے سب ہی جانتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;حیدرآباد میں  کوئلہ کی کانوں میں جو سرنگیں مجھے دکھائی گئی تھیں ۔  وہ تو ایک ہی کنویں سے چاروں اطراف پھیل جاتی تھیں اور کوئلہ نکال نکال کر اس کنویں سے باہر لایا جاتا اور ضرورت مندوں تک پہنچا بھی دیا جاتا ۔  لیکن یہ فارمولہ ہر جگہ  اپلائی نہیں ہوتا  ۔ضرورت مند تو وہ بھی بہت تھے جن کے گھروں پر سویت یونین نے یلغار کی تھی ۔ اور وہ خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بارڈر کے اس طرف  خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ اور ان کے لئے بھیجا گیا ہالینڈ کا اعلی گھی  ان کے ہاتھوں سے صرف پانچ سو میل دور شہروں میں دوکانوں کے باہر ڈھیر کی صورت  سستے  داموں بیچنے کے لئے موجود تھا ۔   ایسا ولائتی گھی دیہات میں گھروں میں نکالے جانے والے دیسی گھی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔  کالج یونیورسٹیز میں مجاہد عام دیکھے جا سکتے تھے ۔ نوجوانوں میں کمانڈو جیکٹ کا  شوق دیدنی تھا ۔ بعض نے تحقیق پر پتہ چلایا کہ لنڈے بازار  سے دو سو پاکستانی روپے میں امریکن کمانڈو جیکٹ  دستیاب ہے ۔  مقصد کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو جب نیت میں کھوٹ ہو وہ مراد بر نہیں آتی ۔ &lt;br /&gt;صرف جیکٹ یا یونیفارم پہن لینے سے ہر ڈیوٹی پوری نہیں ہوتی  اور نہ کوئی ڈگری ہاتھ لگتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نکاح کا کاغذ بیوی کے ساتھ رکھنا ضروری تھا ۔ ڈیوٹی ادا کرنے والے نانی تک یاد کروا دیتے تھے ۔  کیونکہ شوہر و بیوی کو اپنا نکاح سچ ثابت کرنے کے لئے الگ الگ عزیز رشتہ داروں کے نام بتانے پر جان چھوٹنے کا سرٹیفیکیٹ  جاری ہوتا ۔&lt;br /&gt;وقت ا ور  حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔  منہ سونگھنے سے بھی کئی دفعات نافذالعمل ہوجاتی تھیں ۔بعد کا ایک وقت وہ بھی گزرا جب  سونگھنا ایک اچھا فعل نہیں مانا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ آزادی حق کلام سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ صرف بات کرنے سے ذہنی فتور کےپکڑے جانے کا اندیشہ تھا  ۔&lt;br /&gt; لیکن جن کے بات کہنے سے پوری قوم کی نمائندہ اسمبلی گھر وں کو روانہ ہو گئی ۔ انہیں صرف اتنی تنقید کا سامنا رہا کہ جو منہ سے بادام نہیں توڑ سکتے انہوں نے اسی منہ سے اسمبلی توڑ دی ۔ لیکن ذہنی فتور پکڑنے کا کسی کو خیال کبھی نہیں آیا ۔خیال تو ان سیاسی بازیگروں کو بھی نہیں  آیا  جب  مینار پاکستان پر جلسہ غیر منتخب  حکمرانوں کا ہو بسیں بھر بھر سرکاری ملازم لائیں جائیں  ۔  اور جھنڈے اُٹھائے ان کے پارٹی ورکر اپنے اپنے قائدین کے وزیراعظم ہونے کا خود ہی  ڈھنڈورا پیٹتے رہیں ۔  وہ یہ جانتے  ہیں کہ جو پٹتے ہیں وہ قائدین  کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ قائد وہ ہوتا ہے جو پٹوا سکے نہ کہ خود پٹتا پھرے ۔ تاریخ شاہد ہے صرف ہماری کہ جن کے سر پھٹے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے"روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھتے رہے ۔ &lt;br /&gt;مصر تیونس میں سر تو ضرور پھٹے جانیں بھی گنوائی گئیں مگر آنکھیں پوری کھل چکی ہیں ۔ اب لیبیا اور اس کے بعد شام میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے حکمران   "روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھ رہے ہیں  ۔ امیدیں تو کچھ مہربانوں کو یہاں بھی ہیں ۔  عوام نے کئی بار نئی امید سے  کبھی ایک کبھی دوسرے کو کندھوں پر بھٹا کر  سر کا تاج بنایا ۔ مگر وہ تاج ور نہ بن سکے ۔  محتاج ہی رہے  امداد کے ، سہارے کے ۔&lt;br /&gt; جو حکمران خود محتاج ہوں ۔عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے اہل ہوئے ہوں ۔ ایسے اخلاقی طور پر  مرے ہوئے دوبارہ مرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ &lt;br /&gt;جن کے پاس  انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس  عوام نہیں ۔ جن کے پاس عوام ہیں انہیں سوچنے کی فرصت نہیں ۔سالہا سال وہ جلا وطنی کے دور میں تنہا  سوچ سوچ کر اب کسی نئی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔&lt;br /&gt;گھر کی مرغی دال برابر کی مثال تو سن رکھی ہے ۔ مگر ملک میں  لیڈر بھی  مرغ برابر ہی رہتا ہے ۔ جو وقت بے وقت  ہڑتال ، ریلی کی بانگ دیتا رہتا ہے ۔&lt;br /&gt;قوم کی ہمدردی کی عرق  ریزی   وہ کامیابی سے کرتے ہیں جو جلا وطن ہوں چاہے خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس بات پر یقین کرنے کے علاوہ کیا چارہ ہے ۔ اگر نہیں تو خود ہی  دیکھ لیں تین بڑی حکمران  پارٹیاں تینوں کے رہنما جلا وطن ہیں یا رہ چکے ہیں  ۔&lt;br /&gt; لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں  توحکمران بنتے ہیں  ۔&lt;br /&gt;عوام وطن کو جلا بخشتے   ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں  ۔جیسے پروانے شمع سے جلتے ہیں ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-6672861477491305387?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/6672861477491305387/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/blog-post_26.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6672861477491305387'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6672861477491305387'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/blog-post_26.html' title='پروانے شمع سے جلتے ہیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3581598386720285009</id><published>2011-03-19T21:49:00.000-07:00</published><updated>2011-03-23T17:01:50.901-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>تیرا دل تو ہےصنم آشنا</title><content type='html'>کافی دنوں کے بعد آج مزاج کچھ ہشاش بشاش ہے ۔ اب امید پیدا ہو ئی کہ عنقریب خوش باش بھی ہو گا ۔ پر باش تو روز ہی رہتا ہے ۔ا مارت کا ابھی دور شروع نہیں ہوا مگر بیماری ء امراء کا آغاز ہو چکا ہے ۔کیونکہ بہت سی ڈشیں مجھے پسند نہیں اور جو پسند ہیں وہ ڈاکٹر کو پسند نہیں ۔ بچی کھچی اب معدہ پسند نہیں کرتا ۔&lt;br /&gt;ایک زمانہ تھا تندور سے روٹی منگواتے تو پانی بھری دال چنے منہ کا ذائقہ بدلنے کو منہ چڑانے کو آتی ۔ یہ اتنی خوشی بھرپور کھانا تناول فرمانے کی خوشی میں نہیں ہے ۔ بلکہ سکون جان سے آئی ہے ۔ خوش آمدی کلمات کہتے کہتے چہرے پر تو خوشی امڈ آتی ہے مگر دل کی ویرانی ہے کہ بڑھتی جا تی ہے ۔روکنا چاہتے ہیں مگر خود میں جھانکنے سے ایک آواز دستک پہ دستک دیتی ہے کہ&lt;br /&gt;تیرا دل تو ہے صنم آشنا &lt;br /&gt;صنم کا تصور اتنا بڑ اہے کہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہوں ۔جو مجھ سے دور تھے میں آج ان کے قریب نہیں ۔&lt;br /&gt;عجب کھیل ہے اس زندگی کے کھیل کا ۔کھیلتے ہیں اور کھلاڑی بھی نہیں ۔جہاں ہار جیت کا ٹاس ہے کھیل کے آغاز کا نہیں ۔بہت سی باتیں ایک ساتھ کرنے سے بوجھل نہ ہو جائیں ۔ جو کہنا چاہتا ہوں درحقیقت انہیں سمجھنا چاہتا ہوں ۔  کہ محبوب کے ہاتھ میں دل دیا تو عاشق کہلائے ۔ دل میں ہی محبوب بسائے تو دیوانہ کیوں کہلائے ۔&lt;br /&gt;عجب زندگی کی رت ہے بے چین دن تو پرسکون رات ہے ۔ جاگنے میں اذیت تو سونے میں عافیت ہے ۔زخم بھی اپنے کانٹے بھی اپنے ۔مرہم بھی اپنا مسیحائی بھی اپنی ۔ غیر صرف وہ جو ہرجائی ہے ۔ کس توسط سے بلاؤں کہ آؤ تمہیں محبوب اپنے سے ملاؤں ۔ چاہت اس کی گمنام ہے ۔زندگی ہی جس کا انعام ہے ۔&lt;br /&gt;ڈھونڈتا انہیں جو اپنی تلاش جستجو میں ۔&lt;br /&gt;عشق کہنے کا ،محبت جوانی کی ، سوز نگر میں تصویر بشر کا حسن جمال ۔&lt;br /&gt;خیال حسن کی پزیرائی ، دلکشی بھی اور رعنائی ، ڈھونڈنا اپنے لئے ،پانا تسکین وفا ، کھونا ملال و آہ ۔&lt;br /&gt;وہ وقت بھی آئے گا جو یہ سمجھائے گا ۔ راستے خود سے ہیں جدا ۔ تلاش اختیار میں نہیں ۔اختیار کی تلاش ہے ۔&lt;br /&gt;زندگی کو نہ یوں پڑھا ہوتا ۔ خواہشوں سے نہ جھگڑا ہوتا ۔آرزو میں لپٹا کفن لمس احساس میں نہ ڈوبا ہوتا ۔ تو ہزاروں خواہشوں پہ نہ اتنا دم نکلا ہوتا ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3581598386720285009?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3581598386720285009/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/blog-post_19.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3581598386720285009'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3581598386720285009'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/blog-post_19.html' title='تیرا دل تو ہےصنم آشنا'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2072144537587157476</id><published>2011-03-12T23:17:00.000-08:00</published><updated>2011-03-12T23:18:08.889-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>کالج سے شادی کی " تیاری " تک</title><content type='html'>آج پھر وہ آئینے میں اپنے آپ کو بار بار دیکھ کر خود پہ فریفتہ جا رہا تھا ۔ تو ماں جی کی بلند آواز میں دی جانے والی تنبیہ کہ آج بھی کالج دیر سے پہنچنے کا ارادہ ہے ۔ تو قربان واری جانے کا پروگرام ادھورا رہ گیا ۔ ایک ہاتھ میں کاپی اور ایک کاپی نما کتاب ، دوسرا ہاتھ جیب میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔ پھٹی جیب کا کیا بھروسہ ویگن کے کرایہ کی رقم ہی راہ چلتے کسی بے فکرے کو تھما دیں ۔ تھمانی تو رقم ہمارے ہاتھ ویگن والوں کو چاہئے کہ بکروں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے مگر اُف تک نہیں کہتے ۔بس سٹاپ تک تمام دوست اکھٹے رہتے ۔ پھر بکرے الگ الگ بن کر کلاس روم تک پہنچتے ۔ اب تو ٹیچر بھی یہ کہنا چھوڑ گئے کہ کس سے لڑ جھگڑ کر آئے ہو ۔ کیونکہ آدھی قمیض کا پتلون سے باہر رہنا معمول کا پہناوہ بن چکا ہے۔ سلوٹیں تو اب ڈیزائن بن چکی ہیں ۔ کئی گارمنٹس کمپنیوں نے کپڑے ہی ایسے بنا دئے ہیں کہ سو کر ہاتھ منہ دھوئے بغیر بھی باہر جھانک لیں ۔ تو پوچھ لیا جاتا ہے کہ کہاں جانے کےپروگرام میں اتنی تیاری ہے ۔&lt;br /&gt;اتنی تیاری صرف امتحانی ہال تک پہنچے میں کی جاتی ہے ۔ پرچہ ہمیں ہمارے حال تک پہنچاتا ہے ۔ پھر گھر میں سبھی پہلے دن کالج جانے کی تیاری میں کی جانے والی تیاری تک پہنچاتے ہیں ۔کہ اب دیکھ لو دیر تک آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے کا نتیجہ ۔ نتیجہ والے دن لمبی قطار میں کھڑے خوشیوں کے قہقہوں میں دبی دبی گلے سے نکلتی آواز بیماری کی علامات کی تیاری میں ہوتی ہے ۔ کئی بار ایسی علامات ظاہر ہوئیں مگر بیماری بننے سے پہلے ہی رفو چکر ہو گئیں ۔ اب اگر ہاتھ میں لئے ڈگری کو انتہائی کم نمبروں سے رفو کیا ہو ۔ ملازمت کے لئے جگہ جگہ چکر لگانے سے آخر بھوک میں چکر آ جاتے ہیں ۔ تھک ہار کر گلی کی نکڑ پر شاہیں کا بسیرا رہتا ۔&lt;br /&gt;گلیاں آنے جانے والوں کے لئے راستہ ہوتی ۔ مگر کچھ کے نزدیک وہ صرف چکر لگانے کے کام آتی ہیں ۔ کھلی کھڑکیوں سے کھلی ہوا کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ دیکھنے بار بار ان گلیوں میں چکر لگاتے ہیں ۔ اپنے گھر میں والدین کھانس کھانس کر بے حال ہو جائیں ۔ حالات خراب ہیں کہ کر کھڑکیاں دروازے بند رکھوائے جاتے ہیں ۔ انہی حالات کی کارستانی کی وجہ سے اکثر کالجز کے باہر لڑکوں کا رش رہتا ہے ۔ اپنے کالج سے بھاگنے کو جی چاہتا اور دوسرے کالج میں جھانکنے کو ۔ آنکھیں عقاب کی طرح چوکس رہتی ۔ مست حال شکار پر جھپٹنے کے لئے ۔&lt;br /&gt;نظر کی کمزوری کے شکار بزرگوں کو نیچی نظروں میں گزرتے نوجوان سعادت مندی کی معراج پر نظر آتے ۔ رضا مندی کے لئے سیل فون پرٹیکسٹ میسجنگ کے لئے نظروں کا نیچا رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ نظریں اُ ٹھا کر چلنا اب صرف محاورہ کی طرح رہ گیا ہے ۔ محاورہ اگر نہیں بھی ہو گا تو بن جائے گا ۔&lt;br /&gt;سیل فون پر نظریں ایسی جمتی ہیں جیسی کسی زمانے میں پرس میں رکھی تصویر پر یار لوگوں کی رہتی تھیں ۔سیل فون میں خامیاں کئی مگر ویسے سہولت تو ہے ۔ کہاں ہو ؟ کیا کر رہےہو ؟ گھر سےنکلے کہ نہیں ؟ کب تک پہنچو گے ؟&lt;br /&gt;شادی بیاہ میں تو اپنے گھر والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے ۔ عزیز رشتہ داروں سے پوچھتے کہ خالہ امی تو نہیں دیکھی آپ نے ۔ تتلی ! پری کو دیکھا کیا ۔باجی کو بتاؤ گڑیا کی مہندی لگانے والی آ چکی ہیں ۔ ابا کو ڈھونڈتے پھرتے دیگ پکانے والا سامان مانگ رہا ہے ۔&lt;br /&gt;اب تو اور بھی سہولت ہے ۔گھر والے ڈھونڈنے نہیں پڑتے بلکہ شادی ہال پہنچ کر مہمان فون پر پوچھتے ہیں ۔ کہاں ہو تم دولہے میاں ۔&lt;br /&gt;بیوٹی پارلر سے آدھے گھنٹے میں بس فارغ سمجھو ۔ابھی پہنچے کہ پہنچے چاہے آنے میں گھنٹہ لگے ۔&lt;br /&gt;بھئی اگر تمہارے پہنچے میں دیر ہے تو انتظار کرنے والوں کو تو ایک ایک کھجور ہی تھما دو ۔لیکن رواج کے مطابق نکاح کے بعد ہی ٹوفیاں گولیاں میٹھی سونف اور پرانے خشک چھوہارے حلق سے نیچے اتار پاؤ گے ۔ کھانا کھلنے پر پہلے آئیے پہلے پائیے کا اصول کارفرما ہوتا ہے ۔ چمچ کانٹے سے لیس پلیٹ کھانے کی سستی میں سستانے کی قائل نہیں ہوتی اس لئے ایک بار ہی گولہ بارود" گول بارعب بوٹیوں " سے بھر لیا جائے تو اچھا ہے ۔&lt;br /&gt;کسی نے گھر جہیز سے بھر لیا، جیب نوٹوں سے بھر لی ۔ گھر کے کام کاج میں ایک سپاہی اور بھرتی کر لی ۔&lt;br /&gt;اور تجھے اعتراض صرف مہمانوں کی پلیٹ بھرنے پر واہ تیرے لکھنے پر قربان جائیں !!!!!&lt;br /&gt;میرے لکھنے پر واہ واہ نہ بھی کریں تو کیا ۔ارادہ کر لیں کہ کالج کے لئے آئینہ کے سامنے تیار ہو کر نکلنےسے لے کر بیوٹی پارلر میں تیار ہونے تک کسی ایک اپنی قربانی پر خود ہی قربان ہو جائیں تو واہ واہ ہو جائے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2072144537587157476?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2072144537587157476/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2072144537587157476'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2072144537587157476'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/blog-post.html' title='کالج سے شادی کی &quot; تیاری &quot; تک'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2587953077024521947</id><published>2011-03-05T16:37:00.000-08:00</published><updated>2011-05-09T00:50:04.501-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین۔بوڑھے کی لاٹھی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>بوڑھے کی لاٹھی - 4</title><content type='html'>ایک باپ بیٹے کی کہانی !&lt;br /&gt;باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آخری حصہ&lt;br /&gt;نہ جانے اس قلب میں ایسی کیا خوبی ہے۔ کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اپنی ہی ریاست کا خود بادشاہ ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دماغ کے خلئے کام کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس کے حکم کا محتاج نہیں ہے۔صبح شام اپنی ایک ہی رفتار سے اپنے آقا روح کی موجودگی کا بگل بجاتا رہتا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ہی کی طرح کے دوسروں کے سینوں میں بگل بجانے والے کس حال میں ہیں۔ اسے صرف اپنے حال ہی کا فکر ہے۔ جو دوسروں کے متعلق جاننے والا تھا ۔وہ خود اپنے آپ سے چھوٹ رہا تھا ۔کمانڈ اور اتھارٹی کا نرالا  امتزاج ہے ۔ایک جسم تو دوسرا روح کی کمانڈ کرتا ہے ۔دونوں میں سے جس کی کمانڈ ختم ہو جائے۔  تو مکمل سکوت طاری ہو جاتا ۔لیکن یہاں ایک بات تو طے ہے۔قلب کو دماغ پر فوقیت ہے۔ کیونکہ اباجی کا ایک نظام تو بالکل مفلوج ہو چکا تھا ۔مگر قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی مکمل موجود تھی ۔اگر قلب کا کنٹرول ختم ہو جائے تو دماغ اپنی کسی طاقت کے بل بوتے پر بھی نہیں بچ سکتا ۔&lt;br /&gt;اسے اب اندازہ ہو چکا تھا کہ ذہن کے بل بوتے پر زندگی جینے والے دراصل کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ زندہ وہی رہتے ہیں جو اپنے قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی کو سمجھ لیتے ہیں اوراب اس کے اندر یقین کامل  پیدا ہو چکا تھا  کہ یہ جسم و  دماغ اسی مٹی سے جو بنے ہیں مٹی کی ہی ترغیب رکھتے ہیں ۔  &lt;br /&gt;قلب کی طاقت ہی دراصل روح کی طاقت ہے۔ جس کے سامنے دماغ اپنی پوری  طاقت کے ساتھ بھی کمزور ہے ۔&lt;br /&gt;اس لئے وہ اباجی کی بیماری کو دماغ سے نہیں قلب  سے قبول کرچکا تھا اور اسی قوت کو بروئے کار لا کر اس منزل کا مسافر بننا چاہتا تھا ۔جہاں سفر کرنے والے بدنی مسافر  ایک دو ہی پڑاؤ کے بعد  لوٹ جاتے ہیں۔  اپنے ماں باپ کی بیماریوں سے اس کے علم میں صرف میڈیسن کے متعلق ہی اضافہ نہیں ہوا ۔بلکہ جسم اور روح کے باہمی تعلق کی گتھیاں بھی کافی سلجھنے لگیں۔ ہر بار وہ کیوں کے سوال پر اٹک جاتا۔ جب تک اسے وہ جواب ملتا ایک نیا کیوں، پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا اور پھر کیوں کیوں کی تکرار نے اسے بہت سے سوالوں کے جوابات سے آگاہ کر دیا ۔جو شائد کتابوں سے حاصل کبھی بھی نہ ہو پاتے۔ اس کے ذہن میں یہ تاثر ابھر جاتا  کہ کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر زندگی  میں قرآن پاک کو سمجھ  کراللہ تعالی کو پڑھنے سے ہی پالیا جائے  ۔کیونکہ خود اس کی اپنی  جوانی کے ایام صرف  اللہ تعالی کے  ایک حکم پر مبنی آیات  پر عمل کرنے سے ہی گزر گئی اور مکمل قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے میں شائد اسے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ کاعرصہ درکار ہو گا ۔لیکن پھر بھی وہ مطمعن نہیں تھا ۔تنہائی میں اباجی کے پاؤں پکڑتا  اور معافی مانگتا ۔کہ جو کوتاہی اس سے رہ گئی ہو۔ وہ معاف ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی نے جس طرح والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے۔ شائد وہ اسے پورا نہیں کر پا رہا ہے۔&lt;br /&gt;اپنے ارد گرد دیکھنے پر اس جیسی زندگی کا حامل کوئی بھی انسان نظر نہیں آ رہا تھا  ۔بہکنے کے امکانات زیادہ تھے  ۔یہی وجہ تھی کہ اس کی جوانی  جدید  دنیا سے الگ نہیں ہو پا رہی تھی۔ تین بیٹوں کا  وہ باپ بن چکا تھا بڑا بیٹا اب سات برس کا ہو چکا تھا  ۔اسے ایک بار ایسا کیلنڈر نظر آیا۔ جس پر سورۃ بنی اسرائیل کی وہی آیات  تھیں جو والدین کی خدمت کے متعلق تھیں ۔اسے لا کر اس نے انہیں اباجی کے پلنگ کے اوپر لگا دیا  ۔تاکہ وہ کہیں بہک نہ جائے۔ کیونکہ  اب وہ   اس بیماری کے متعلق جان چکا تھا  ۔کہ شائد اسے ان حالات کا سامنا اگلے دس پندرہ سال تک بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اللہ تعالی کی مدد کے بغیر یہ سب ناممکن تھا  ۔&lt;br /&gt;ابا جی جیسا انسان زندگی کی جنگ  ایسے لڑے گا۔ کبھی اس نے سوچا نہ تھا  ایک رخ ایسا بھی اس کے سامنے تھا۔ جو ابا جی  کے بارے میں احترام کی ایسی بلند عمارت کھڑی کر گیا ۔کہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیا جو لوگ زندگی میں نیکی کم کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت میں مرتے ہیں۔ وہ شکوہ کیوں زیادہ کرتے ہیں  ۔&lt;br /&gt;ایک بار گھر کی بیل بجی تو ایک بوڑھا شخص پوچھنے لگا وکیل صاحب کا گھر یہی ہے۔ &lt;br /&gt;جی ہاں  ! یہی ہے فرمائیے آنے والے سے اس نے پوچھا ۔&lt;br /&gt;کیا وہ اب ہیں ؟&lt;br /&gt;وہ چونک گیا کہ کیسا سوال ہے ! اس کے استفسار پر آنے والے نے کہا کہ میرا بیس سال پرانا کیس کی تاریخ نکلی ہے اور یہ میرے وکیل تھے  اس وقت ان کی عمر ساٹھ سے اوپر تھی  اس لئے مجھے خیال ہوا کہ شائد وہ اس دنیا میں نہ ہوں دیہاتی آدمی بہت سادہ ہوتے ہیں جو بات دل میں ہو کہہ دیتے ہیں۔ شائد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر  زندہ رہنے کا مصنوعی ڈھنگ نہیں اپنا پاتے۔&lt;br /&gt;آپ مجھے ایک دو روز دیں۔ آپ کی فائل ڈھونڈ دیتا ہوں ۔نیا وکیل کر لیں اور ان کے بارے صورتحال سے آگاہ کر دیا۔  اس نے ہمدردی اظہار کیا  اور چلا گیا ۔&lt;br /&gt;اس نے اباجی کی تمام پرانی فائلوں میں تلاش کاکام شروع کیا۔ تو فائل مل گئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسے  ایسے لیٹر ملے جو ایوب خاں کے مارشل لاء کے ابتدائی   دور کے تھے ۔ عوامی لیگ پارٹی کے سربراہ  کے دستخطوں سے جاری پارٹی کے لیٹر پیڈ پر بعض لوگوں کوپارٹی فنڈ سے رقم کے اجرا کا کہا گیا تھا  ۔جو اس زمانے کے مطابق ایک بڑی رقم تھی۔&lt;br /&gt;جوں جوں وہ ابا جی کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں ان کے بارے میں عزت و احترام کا مجسمہ اور بڑا ہو جاتا ۔&lt;br /&gt;اس کی  نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم جاتا  ۔جس کا ذکر ماں جی اکثر کیا کرتی  یہ وہی سال ہے  ۔جس کے متعلق ماں جی کہتی کہ سیاست کی وجہ سے  وکالت متاثر ہوئی تمھارے اباجی کے معاشی حالات بہت برے ہو گئے۔ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دیا گیا ۔تاکہ کچن چلایا جا سکے  ۔مگر یہ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری لیٹر کوئی اور کہانی بیان کر رہے تھے۔  کہ ایک ایسا انسان جو پارٹی کا فنانس سیکرٹری ہو  سینکڑوں اور ہزاروں روپے اس کے دستخط سے جاری ہوتے ہوں اس کےگھر کا کچن  چلانے کے لئے گھر کا ایک حصہ60 روپے ماہانہ کرایہ پر دیا گیا ہو۔ آج  امانت میں خیانت نہ کرنے والے لوگ اب کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ لوٹ مار، اقربا پروری، رشوت ،سفارش نے پورا معاشرہ ہی کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اور غلط کو غلط کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔  کیونکہ جب   دنوں میں امیر ہونے والے معاشرے میں تقویت پاتے ہیں۔ تو پھر بھیڑیں ہی بھیڑیوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔&lt;br /&gt;اس کےابا جی نے کبھی بھی  سفارش کی سیڑھی کا سہارا نہیں لیا ۔یہی وجہ تھی کہ بعض بیٹے باپ سے نالاں تھے کہ 1973 کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے صدر( جو  ان کا بہت گہرا دوست تھا ۔سیاست کےابتدائی دور  میں دونوں ایک ساتھ  پارٹی میں تھے۔جب وہ  ملک کا صدر بنا ۔اس کے ابا جی  سیاست چھوڑ چکے تھے ۔مگر دوستی کا تعلق ابھی تک جاری تھا)سے  کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھا  سکے   ۔  مگر انہوں نے مفاد پرستی کے لئے  اصول کی زندگی  قربان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔وہ ہمیشہ یہی سمجھاتے کہ لوگ ترقی کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں  ۔مگر عزت و   احترام کھو دیتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لئے کسی جائز کا حق مت غصب کرو۔ &lt;br /&gt;اپنی ساری زندگی کی کمائی سے صرف ایک پونجی بنائی ۹۹ سالہ لیز کا مکان !فیصلہ تو یہ کرنا ہے ۔کہ کیا وہ انسان  ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہا ہے۔ اگر وہ سچ پہ تھا تو کیا اسے اپنی نیکیوں کا صلہ مل گیا۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد ۔جس نے انہیں ہاتھوں پہ لیا ۔کیا وہ  اس کی صاف ستھری زندگی گزارنے کا انعام تھا  ۔&lt;br /&gt;اس بیٹے میں باپ کی محبت بڑھ کر عشق بن چکی تھی۔  چھ سال تک وہ ایک ایسے باپ کے ساتھ رہا۔ جو صرف دیکھنے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ اورگوشت پوست کا لوتھڑا تھا ۔جو صرف سانس لینے تک محدود تھی   اور چند نوالے کھانے اور چند گھونٹ پانی کے لینے تک۔&lt;br /&gt;اس کے ابا جی ۱۴ سال کی بیماری سے بھرپور زندگی بھی جی گئے اور آخر کار ۹۴ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اور وہ  بالوں میں  مکمل پھیلی چمکتی سفیدی کے ساتھ چالیس سال کی حد عبور کر گیا ۔ اور تیرہ سالہ اس کا بڑا بیٹا پہلی بار اپنے سخت مزاج باپ کو ایک بچے کی طرح روتا دیکھ رہا تھا ۔ &lt;br /&gt;جس رات وہ ابا جی کو دفنا کر واپس آیا  ۔اگلی صبح کئی سالوں کے بعد اجنبی تھی ۔آج سورج کے طلوع کا منظر  وہ نہ دیکھ پایا  ۔کیونکہ دیر تک وہ سویا رہا ۔اس کے ابا جی نے آخری سانس اس کے سامنے پورے کئے اور  جب روح جسم کو چھوڑ کر گئی۔ تو جسم  کسی بھی تکلیف کے  اس احساس سے  خالی تھا ۔کیونکہ جسم تو بہت پہلے مر چکا تھا   ۔صرف روح کو اپنا کام کرنا تھا اور اتنی خاموشی سے جدا ہوئی جیسے ہوا کا ایک لطیف جھونکا آکر گزر جاتا ہے۔&lt;br /&gt;وہ اپنے ابا جی کا اتنا عادی ہو چکا تھا ۔کہ جدائی سے آنسو بار بار آنکھوں سے ٹپک جاتے ۔&lt;br /&gt;اس کےجیسے ہی ابا جی دنیا سے گزرے۔  چند روز میں غرض و مفاد کی ایک نئی دنیا جو اس سے پہلےغفلت  فرائض میں  آنکھیں موندھے سو رہی تھی۔ اب   اس کے سامنے اپنے پر کھول کر کھڑی ہو گئی۔ اور اپنے مقابلے میں اڑان کی نوید سنائی۔ مگر وہ تو ایک ایسے پرندے کی زندگی گزارنے کا عادی تھا ۔جس کے پر کٹے ہوں۔ وہ انہیں اڑتا دیکھتا مگر خود پرواز کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔مگر اس نئے چیلنج نےاس کے آنسو خشک کر دئیے ۔اور وہ اپنے آپ کو یہ سوچ کر آمادہ کرنے لگا  ۔کہ اسے دنیا کا یہ روپ بھی برداشت کرنا ہو گا ۔&lt;br /&gt;ایک سوال ابھر کر اس کے سامنے آ گیا  ۔کہ میں جو  شروع کرنے اب جا رہا ہوں اگر زندگی یہ ہے۔ تو جو گزاری ہے وہ کیا تھی۔ ایک خیال  کےآتے ہی وہ زیر لب مسکرایا !&lt;br /&gt;ایک نئی ہمت کو اپنے اندر پا کروہ  اٹھ کھڑا ہوا اور  خود کلامی کے انداز میں بولا !&lt;br /&gt;وہ تو  ایک بوڑھے کی لاٹھی تھی ۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر !  محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2587953077024521947?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2587953077024521947/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/4.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2587953077024521947'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2587953077024521947'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/4.html' title='بوڑھے کی لاٹھی - 4'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2467235750911203652</id><published>2011-03-05T16:26:00.000-08:00</published><updated>2011-05-09T00:50:50.952-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،بوڑھے کی لاٹھی،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>بوڑھے کی لاٹھی -  3</title><content type='html'>ایک باپ بیٹے کی کہانی !&lt;br /&gt;باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حصہ سوم&lt;br /&gt;اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی  جب جمعہ کی نماز میں اس نے یہ حدیث سنی۔&lt;br /&gt;عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏&lt;br /&gt;( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 )&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو : آپ سے سوال کیا گیا  یا رسول اللہﷺ  وہ کون شخص ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان  میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پا لیا پھر بھی "ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے" جنت میں داخل نہیں ہوا۔&lt;br /&gt;شائد اس حدیث کے الفاظ سے وہ اپنے آپ کو کبھی بھی الگ نہیں  کرپایا  ۔اسے یہی خوف رہا  کہیں اس کا ناک خاک آلود نہ ہو جائے۔  &lt;br /&gt;قران پاک کے اندر سورۃ بنی اسرائیل میں ان آیات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم جب اس نے پڑھا  کہ&lt;br /&gt;"اور تمھارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ اس کےسوا کسی کو نہ پوجو  اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں  بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنااور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کرکہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کرجیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا"&lt;br /&gt;تو اب اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کا سوال پیدا ہونے کا امکان نہیں تھا   ۔مقصد اس کے سامنےتھا۔ بوڑھے والدین کو چھوڑنا نہیں۔&lt;br /&gt;کئی سال اپنے ابا جی کو اٹھانے  سے وہ خود بھی کمر کی شدید تکلیف کا شکار ہو گیا۔ اور  درد  دن بدن بڑھتا ہی رہتا۔  خود بھی اسی ڈاکٹر کا مریض بن گیا جو کبھی اس کے ابا جی کا ڈاکٹر تھا  ۔عزیز رشتہ دار  تو اب  آپس میں باتیں کرتے  کہ اتنی پر آسائش زندگی اور بے بہا                  دولت  ہونے کے باوجود ملازم کیوں نہیں رکھ لیتا،   ان کے لئے۔ خود   اٹھاتا، بیٹھاتا، نہلاتا، دھلاتااور نجاست کی صفائی خود ہی کرتا ہے ۔بیمار ہو گیا ہے یہ دولت کس کام کی ہے۔&lt;br /&gt;مگر وہ کیا بتاتا  کسی کوکہ انہیں سنبھالنے کا حکم صرف اس کے لئے ہے۔ کیسے سمجھ پائیں گے اللہ تعالی سےاپنی معافی کا راستہ ماں باپ کی خدمت میں نظر آیا  اسے۔&lt;br /&gt;اور جس دولت کی وہ بات کرتے ہیں وہ تو آزمائش ہے۔  اللہ تعالی نے اسے اسی خدمت کے صلے میں اسے انعام کیاہے۔ ورنہ وہ اس وقت کو آج تک نہیں بھول پایا ۔جب اس کے ابا جی ولیمے کے دن ایک سوال  پر ٹھہر گئے تھے "بیٹا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا"اور  یہی سوال ہر دس پندرہ منٹ بعد دہراتے۔&lt;br /&gt;بات ماہ  دو  ماہ کی ہوتی۔ تو الگ بھی تھی ۔اب تو اس کا پورا وجود اپنے ابا جی کی روح میں ڈھل چکا تھا۔  اسے وہ دن بھی ابھی یاد تھے جب اس بیماری کی اگلی سٹیج میں گھر سے سیر کرنے کے لئے اچانک خاموشی سے نکلتے اور بھول جاتے کہ وہ کون ہیں ،کیا نام ہے ان کا، کہاں رہتے ہیں۔ سڑکوں پر اپنے ہی گھر کے سامنے سے بار بار گزر جاتے اور اپنے گھر  کی پہچان بھول جاتے۔ کئی بار تو ایسا ہو چکا تھا !&lt;br /&gt;دنیا میں نیک انسانوں کی کمی نہیں۔ ایک بار تو ایک رکشہ والے کو انہوں نے روکا اور کہا میں اپنا گھر بھول گیا ہوں ۔اس نے ساتھ بٹھایا ۔تو ایک گھنٹہ ان کو لئے  پھرتا رہا  اور وہ  خود ابا جی کو موٹر سائیکل پر گلیوں محلوں میں تلاش کر رہا تھا۔ ابا جی کی اپنے  گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے پہچان واپس آ گئی  تو رکشے والا اتار کر چلا گیا ماں جی  نےکچھ پیسے دینے چاہے۔ تو اس نے لینے سے انکار کر دیا  تھا ۔ چار بار ہو چکا تھا   دو بار تو وہ خود دوتین گھنٹے  گلیوں  بازاروں میں گھوم گھوم کر ڈھونڈ لایا تھا  اور دو بار جنہوں نے ابا جی کی مدد کی وہ انتہائی غریب لوگ تھے۔ وہ ہمیشہ ابا جی کو لانے والوں کو دعائیں دیتا ۔&lt;br /&gt;دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں بدلتے جا رہے تھے ۔ اس کی شادی کوچار سال گزر چکے تھے۔  اسی دوران اس کے ہاں  دوسرا بیٹا پیدا ہوا  ۔گھر میں سبھی خوش تھے ۔&lt;br /&gt;اب تو  اس کے  ابا جی کا  پیشاب پاخانے پر کنٹرول مکمل ختم ہو چکا تھا۔  باتھ روم لے کر جاتے تو کچھ نہ کرتے واپسی پر چلتے جاتے اور جہاں جہاں سے گزرتے  کپڑوں سے لے کر فرش تک   نجاست  بہہ جاتی ۔&lt;br /&gt;بیٹا میں جان بوجھ  کرنہیں کرتا ۔مجھے پتہ ہی نہیں چلتا۔اپنی صفائی وہ خود ہی دینے کی کوشش کرتے ۔&lt;br /&gt;مجھے علم ہے ابا جی !&lt;br /&gt;آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ میں صفائی کردیتا ہوں۔  وہ فوری ابا جی کو تسلی دیتا ۔&lt;br /&gt;یہ تو اب معمول بن چکا تھا ۔کبھی بستر  تو کبھی قالین  صحن میں دھو کر رکھا جاتا تھا   ۔ماں جی کے ساتھ ان کا وقت گزر جاتا تھا  ۔&lt;br /&gt;اس کی ماں کی پتے کی پتھری اپریشن نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف  بہت بڑھ چکی تھی ۔کئی بار ہاسپٹل میں داخل رہ چکے تھے۔ ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ اپریشن سے جان کا رسک ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا  کہ اسے نکلوا دیا جائے۔ ڈیفنس میں ایک ڈاکٹر کا اسے علم ہوا کہ وہ جدیدٹیکنالوجی لیپراسکوپی سرجری کے ذریعے اپریشن کرتا ہے۔  ڈاکٹر سے اس نےبات چیت کی۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ خطرے والی بات نہیں ہے۔  ہائی بلڈ پریشر، ہیموگلوبن کی کمی اور ہارٹ ان لارج کے باجود اس میں رسک بہت کم ہے۔ کیونکہ اس وقت شہر میں وہ اکیلا ہی  اس شعبہ میں تھا ۔سو ایک بڑی رقم کا اس نے تخمینہ بتایا۔ مگر یہاں اسے رقم سے زیادہ اپنی ماں جی کی صحت کی فکر تھی۔ کیونکہ جب سے اس نے اباجی کی زرعی زمین پر خودکاشت کا کام شروع کیا۔ دولت کی ریل پیل تھی ۔&lt;br /&gt;تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی۔ کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں تھا۔  ڈاکٹر نے تیاری کے بعد انہیں بلایا۔ اپریشن کیا اور باہر آکر خوش خبری سنائی کہ اپریشن کامیاب رہا   اور ساتھ ہی ایک ایسی خبر جو وہ سننے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا  ۔کہ پتھری اتنی بڑی ہو چکی تھی، جگر اس سے متاثر ہوا ہے اور اس نے جگر کے متاثرہ حصے کی بھی سرجری کر دی ہے اور اسے بائیوپسی کے لئے بھجوا دیا  گیا  ۔ دو دن بعد وہ ماں جی کو لے کر گھرچلے گئے  چند روز بعد وہ بائیوپسی کی رپورٹ لے کر ڈاکٹرکے پاس گیا ۔تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری ۔جگر کا کینسر تشخیص ہوا تھا  ۔تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹرنے کہا ایسے مریض چھ ماہ یا  آٹھ ماہ سے زیادہ زندگی نہیں پاتے۔&lt;br /&gt;ڈاکٹر کے یہاں سے نکل کر وہ جناح باغ چلا گیا درختوں کی پناہ میں کھلی فضا میں۔&lt;br /&gt;سگریٹ پہ سگریٹ سلگائے جارہا تھا اور صرف ایک خیال  اس کے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گیا کیا میری ماں  اب مہینوں کی مہمان ہے ۔یہ دن دیکھنا باقی تھا ۔کہ اپنی نظروں کے سامنے ہر پل موت کی طرف جاتا دیکھوں اور دوسری طرف ابا جی کی بگڑتی ذہنی اور جسمانی حالت  اور اب یہ روح فرسا خبر  ۔&lt;br /&gt;دیر تک اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا  اور خدا سے اپنے لئے ہمت اور حوصلہ کی دعا مانگتا رہا۔ اس نے پھر ایک نئی طاقت کو اپنے اندر محسوس کیا کہ جس میرے مالک نے مجھے ان مشکلات سے لڑنے کی طاقت پہلے دی۔ اب بھی وہی دے گا  اور گھر کی طرف روانہ ہوا ۔&lt;br /&gt;کیا رپورٹ آئی ہے ماں کے سامنےبڑی بہن نے سوال کیا !&lt;br /&gt;بالکل ٹھیک ہے۔   وہ جھوٹ بول گیا  اور اسی  طرح مسکراتے ہوئے ماں جی سے ہنسی مذاق کرنے  لگا ۔&lt;br /&gt;زندگی میں پہلی بار وہ اداکاری کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا  ۔مگر بدلا رویہ اس کی چغلی کر رہا تھا۔  نہ جانے اس کی بڑی بہن نے اس ہنسی کے پیچھےدرد کو کیسے دیکھ لیا اور چند روز کے بعد ہی ایک الگ کمرے میں اسی لے گئی اور  پوچھنے لگی سچ بتا   رپورٹ میں کیا ہے۔ تیرا چہرہ مجھے کچھ اور کہتا ہے۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔دونوں بہن بھائی کافی دیر تک روتے رہے ۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ماں جی  کو پتہ نہیں چلنا چاہیئے۔ کہیں ان کی ہمت نہ ٹوٹ جائے ۔&lt;br /&gt;ابا جی تو بیماری کے ہاتھوں پہلے ہی ان باتوں سے  لاتعلق ہو چکے تھے ۔&lt;br /&gt;اس کی ماں کی دن بدن حالت بگڑتی جارہی تھی۔ اپریشن سے پہلے انہوں نے بیٹے سے کہا   تھاکہ اس بار جب فصل آئے گی ۔گھر کے تمام اینٹوں کے بنے ہوئے فرش اکھاڑ کر  سیمنٹ کا فرش لگوانا ہےاور سٹور بنانے ہیں۔  صفائی میں بہت مشکل ہوتی ہے اور ایک مجھے اپنے لئے نیا پلنگ بنوانا ہے ۔جس کے پیچھے دراز زیادہ ہوں ۔&lt;br /&gt;جی ماں جی ضرور ! کہہ کر ماں سے وعدہ کیا   تھا۔&lt;br /&gt;ڈاکٹر نے زندگی جینے کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔  مگراسے ماں سے کئے گئے وعدہ کا پاس تھا  ۔فصل کی رقم ملتے ہی اس نے پلنگ کا آرڈر دے دیا ۔جیسا  ماں چاہتی تھیں اور گھر کے تمام فرش اکھیڑ دئیے اور مستری سے ایک ماہ میں اسے مکمل کرنے کا کہا  ۔ خاندان کے بعض افراد اس بات سے ناراض دکھائی دیئے کہ ایسی بیماری اور گھر میں مرمت کا کام ۔&lt;br /&gt;مگر اسے صرف ایک بات کی خواہش تھی۔  ماں جی  نے جو خواہش کی ہے وہ ان کی زندگی میں پوری ہو۔ جسم ان کا سوکھ کر کانٹا بنتا جا رہا تھا۔  کینسر اندر ہی اندر پوری طرح پھیل چکا تھا  ۔جب فرش تیار ہو گئے ۔تو اپنی ماں کو اٹھوا کر صحن میں لایا اور اس نے کہا !  ماں جی ! جیسا آپ نے کہا ویسا ہو چکا ہے۔  انہوں نےغور سے صحن کو دیکھا اور بہت دھیمی آواز میں کہنے لگیں میں ٹھیک ہوتی تو اس سے بہتر کام کرواتی لیکن پھر بھی ٹھیک ہے ۔&lt;br /&gt;کینسر نے چھ ماہ میں پورے وجود کو پہلےمکمل زیر کیا۔ پھر اذیت پر اتر آیا۔  درد کی شدت اب بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر خوش مزاج نہیں تھا بس چیک کرتا اور نسخہ ہاتھ میں دے کر چلتا کر دیتا۔ ماں جی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔تو نئے ڈاکٹر کا انتخاب کیا  گیا۔جو اپنے شعبہ کا ماہر اور نہایت خوش اخلاق خوش گفتار بھی تھا۔  پل پل موت اپنا گھیرا تنگ کر رہی تھی اور ڈاکٹروں کی دی گئی معیاد پوری ہوئی اور آٹھویں  ماہ وہ  زندگی کی جنگ ہار گئیں۔&lt;br /&gt;انہیں دفنانے کے بعد جب وہ واپس لوٹا۔ تو ابا جی کسی بھی طرح کے رد عمل سے بے نیاز اپنے کمرے میں سستا   رہے تھے۔ اور وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے زندگی کی یہ جنگ اکیلے لڑنی ہے۔ ماں کا سہارا ختم ہو چکا تھا۔ ایک دعا دینے والے ہاتھ اب اس کے پیچھے نہیں تھے۔&lt;br /&gt;انسانی دماغ کے خلیات کیسے کام کرتے ہیں۔ میڈیکل میں اسے مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ مگر اباجی کے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ اسے کیا نام دیتا ۔ کینسر ،دل کی بیماری اور فالج کی معلومات تو اسے کافی تھی مگر اس بیماری کا انجام کیا ہو گا۔ اس بات سے لا علم تھا  ۔&lt;br /&gt;روز بروز بڑھتی بیماری اس کے لئے نئی سوچ کے دروازے کھول دیتی۔ ہاتھوں کی انگلیاں مٹھی کی مستقل شکل اختیار کر چکی تھیں۔ جیسے انگلیاں انگوٹھوں کو آزادی نہ دینے کی ضد پر اوپر ایسے جم چکی تھیں ۔کہ ان کا ہلنا بھی ممکن نہ تھا۔ ٹانگیں بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہی تھیں۔&lt;br /&gt;وہ سوچتا کہ کیسے ممکن ہے ۔انسان اچانک ہی کسی بات کو بھول جائے اور پھر یہ بھی بھول جائے کہ ہاتھوں سے گلاس یا چمچ کو کیسے پکڑا جاتا ہے ۔اور انتہا تو یہ کہ دست لگنے کی وجہ سے دو دن پلنگ پر رہنے سے یہ بھول جائے کہ اسے چلنا کیسے ہے۔ اس کے اباجی کے ساتھ یہ سب یکےبعد دیگرے ہو رہا تھا  ماں جی کو فوت ہوئے تین سال ہوئے تھے ۔کہ دستوں نے ایسا کمزور کیا پھر انہیں اٹھنے کے لئے کہا تو  پوچھنے لگے کیسے چلوں۔ ٹانگیں ان کے دماغ سے آزاد ہو چکی تھی۔ اب وہ کسی حکم کی محتاج نہیں تھیں ۔بلکہ اپنی مرضی کی مالک خود مختار اس جسم کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کر رہی تھیں اور پھر اس کی تقلید میں بازو، ہاتھ بھی ساتھ شامل ہو گئے اور خود مختا ری کا باری باری اعلان کرنے لگے۔--------- جاری ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر ! محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2467235750911203652?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2467235750911203652/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/3.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2467235750911203652'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2467235750911203652'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/3.html' title='بوڑھے کی لاٹھی -  3'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-58912456233134828</id><published>2011-03-04T22:28:00.000-08:00</published><updated>2011-05-09T00:51:20.383-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،بوڑھے کی لاٹھی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>بوڑھے کی لاٹھی - 2</title><content type='html'>ایک باپ بیٹے کی کہانی !&lt;br /&gt;باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔&lt;br /&gt;حصہ دوم&lt;br /&gt;اسے تو اپنے اباجی کے الفاظ یاد تھے کہ بیٹا میں ہائیکورٹ کا وکیل ہوں۔ چاہے آمدن کم ہے مگر  عزت والا پیشہ ہے۔ وہ ہر پیشے کو پیسے سے نہیں عزت کی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔&lt;br /&gt;باپ بیٹے میں ایک ایسا رشتہ مضبوطی کے بندھن میں بندھ رہا تھا  جو   بڑھ کر  عقیدت و محبت میں بدل گیا  ۔&lt;br /&gt;اس روز تو ابا جی کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ جب  اس نےکہاکہ   میرا ایم اے کا آخری سال ہے۔ ایک نیا  پرائیویٹ لاء کالج کھلا ہے مجھے اس میں داخلہ لینا ہے۔ خوشی خوشی انہوں نے روپوں کا بندوبست کیا  اور  اس کا لا ء کالج میں  داخلہ ہو گیا ۔&lt;br /&gt;اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ گھر میں ماں باپ اس کی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے کرنے جارہے ہیں۔ ایم اے کی ڈگری اسکے ہاتھ میں تھی۔  ایف ای ایل کا امتحان دے چکا تھا۔ اس کے کانوں میں خبر پہنچی اب اس کی شادی کر دی جائے۔&lt;br /&gt;لیکن ماں جی !  میرے پاس ہے کیا۔&lt;br /&gt;وہ پریشانی کے عالم میں بولا  ! بےروز گار ہوں ۔ ابا جی کی زرعی زمین کے ٹھیکے سے تو گھر کا خرچہ بمشکل چلتا ہے۔کیسے چلے گا ۔&lt;br /&gt;بس!   ماں حکم دینے کے انداز میں بولی۔  میں تھک چکی ہوں بیمار رہتی ہوں ۔  اب اس گھر کو ضرورت ہےایک بہو کی جو اسے سنبھالے۔&lt;br /&gt;مگر ماں جی !&lt;br /&gt;بات  ادھوری کی ادھوری  رہ گئی اس کی ایک بھی نہ چلی ۔  &lt;br /&gt;دور نزدیک کے رشتہ داروں میں اسکا رشتہ طے کر دیا گیا۔  اکتوبر میں  منگنی کی رسم ادا ہوئی اور    اگلے سال دسمبر میں شادی کا فیصلہ ہوا ۔&lt;br /&gt;اسے تسلی تھی اس وقت تو لاء مکمل ہو چکا ہو گا۔  مگر حالات نے پھر ایک نیا رخ لیا  اور شادی کو چار ماہ بعد ہی جنوری میں  کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کیونکہ اسی گھر میں بیٹے کی بھی شادی طے تھی جب اس کی تاریخ مقرر کی جانے لگی تو  اصرار ہوا کہ بیٹی کی شادی بھی ساتھ ہی  ہو اور وہ طے کر دی گئی۔ جلدی میں سارے انتظامات مکمل کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔&lt;br /&gt;اس  نے لیکچرار شپ کی آسامی کے لئے اپلائی کر دیا  اور انٹرویو کی تیاری میں مشغول ہو گیا۔&lt;br /&gt;دوسری طرف ان کی زرعی زمین جن کے پاس تھی ۔ ٹھیکہ کی بقایا رقم کی ادائیگی کئے بغیر چھوڑ گئے اور صرف یہی نہیں واپڈا کے  بقایا جات بھی ان کے سر ڈال گئے۔ &lt;br /&gt;ٹیوب ویل کا پانی کم ہو نے کی وجہ سے اب کوئی نیا ٹھیکیدار بھی رسک لینے کے لئے تیار نہیں تھا  مجبوری میں نئے ٹیوب ویل کے لئے نئے ٹھیکیدار ہی سے رقم ادھار اٹھائی گئی۔&lt;br /&gt;اب شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے اور اس کے ابا جی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی تھی ۔&lt;br /&gt;ان کے علاوہ اس صورتحال کا کسی کوعلم نہیں تھا۔  تمام لوگ انہیں خوشحال تصور کرتے۔ کئی مربع زمین، دو کنال کا گھر، بڑے بیٹے باہر کے ملکوں میں برسر روزگار  ۔مگر اندر کبھی کسی نے جھانکا ہی نہیں۔ اسی پریشانی میں ہائیکورٹ سے واپس آ تے ہوئے کے پائیدان سے چوٹ  لگی  تو سر سے خون بہنے لگا۔ پوچھنے پر کہنے لگے مجھے نہیں علم کیا ہوا۔ بس چگرا گیا تھا تانگہ سے ٹکرا کر گر گئے۔ بعد میں اس بات کا انکشاف ہو ا ۔انہیں فالج کا معمولی حملہ ہوا تھا ۔&lt;br /&gt;انہوں نے ہمیشہ خودداری سے جینے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ۔ بیٹوں سے بھی کبھی تقاضا نہیں کیا   تھا ۔  &lt;br /&gt;خودداری کا تو یہ عالم تھا ۔حسین شہید سہروردی جب پاکستان کا وزیراعظم تھا اسی پارٹی عوامی لیگ کے وہ فنانس سیکرٹیری کے عہدے پر فائز تھے ۔&lt;br /&gt;ان کے چھوٹے بھائی نے ایم اے اکنامکس کیا۔ تو بھائی سے کہا کہ وزیراعظم سے کہہ کر کوئی نوکری دلوا دیں  ۔وزیراعظم کی قیادت میں پارٹی اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں  ہوتے  شرکت کرنے جاتے   تو چھوٹے بھائی کی درخواست کوٹ میں رکھ لیتے۔  واپسی پر بھائی کے استفسار پر کہہ دیتے مناسب وقت نہیں ملا بات کرنے کا  اور بات ٹل جاتی۔&lt;br /&gt;اس کی حکومت ختم ہو گئی ۔مگر انہوں نے درخواست اپنے کوٹ کی جیب     ہی میں رکھی۔&lt;br /&gt;انہوں نے  ہمیشہ اپنے بیٹے  کو یہی تلقین کی ۔کہ اپنے بل بوتے پہ زندگی جیو ۔ سفارش کی سیڑھی سے زندگی کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کرنے والے  ہمیشہ سیڑھی کے محتاج رہتے ہیں  اور وہ خود اس کی زندہ مثال تھے   ۔ایک سپاہی سے صوبیدار میجر تک ترقی پانے والے کا بڑا  بیٹا  اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کی حکومتی پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہا  اوریہ قیام پاکستان کے بعد کا  وہ  ابتدائی دور تھا  جب صرف جاگیر دار اور  وڈیرے  ہی سیاست کے ستون تھے اور انہوں نے ان میں رہتے ہوئے  اپنا مقام بنایا  ۔&lt;br /&gt;اپنی اولاد میں بھی ایسا ہی دیکھنے کی ان کی ایک خواہش تھی ۔جو ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو ئی۔&lt;br /&gt;شادی کی تیاری اپنے عروج پر تھی۔ سبھی  بہت خوش تھے ایک  نئی خوشی کا اضافہ یہ ہوا کہ اسے لیکچرار شپ مل گئی اور اپنی مہندی کے دن  اس نےدوسرے شہر کے کالج میں  جوائننگ رپورٹ کی۔&lt;br /&gt;اب تو وہ بہت خوش تھا۔  زندگی کے اہم دو موڑ خوشیوں کے ساتھ ایک ساتھ اس کی زندگی میں وارد ہوئے۔ &lt;br /&gt;دوست احباب اس کی شادی کو خوش نصیبی سے تعبیر کر رہے تھے۔&lt;br /&gt;مگر!&lt;br /&gt;زندگی انسان کے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے۔ وہ کوئی نہیں جانتا ۔ظاہری خوشی اور کامیابی دیکھ کر ہی مستقبل کے سنہرے خواب آنکھوں میں بسا لئے جاتے ہیں۔  ایک ایسا  ان دیکھا  خواب جو فیصلہ اپنے ساتھ لئے انسان کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی ،غم، کامیابی، ناکامی کی شکل میں کبھی سامنے آتا۔  تو کبھی چھپ جاتا   اور یہی وہ  وقت ہوتا ہے جب آدمی کو اپنے لئے راستہ کا تعین کرنا ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔ اچھائی کو اچھائی ہی سے رغبت ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;اسکے ابا جی کا کردار بےمثال تھا۔ گھر میں  جتنی بھی شادیاں ہوئی ۔لڑکی والوں نے ان کی شخصیت ہی کو سامنے رکھا ۔برادری میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔&lt;br /&gt;وہ دن بھی آن پہنچا جب بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور پھوار  سے لاپرواہ بارات ایک سو میل کا سفر طے کر کے لڑکی والوں کے گھر پہنچی۔ بڑی دھوم دھام سے بارات کا استقبال کیا  گیا۔&lt;br /&gt;اس شہر کے لوگوں نے ایک نرالا ڈھنگ دیکھا۔  اس کے دوستوں کا حلقہ بہت بڑا تھا  اور ان میں  اسی پہلے دوست نےسہرا  باندھنے کا اعزاز  حاصل کیا۔خوشی میں بھنگڑا  ڈالاگیا   سارا شہر دیکھ رہا تھا   اور سوچ رہا  تھا کہ تو   یہ ہیں زندہ  دلان لاہور ۔ &lt;br /&gt;ساری رسومات   احسن طریقے سے انجام پائی خوشی میں ہر فرد مسکرا رہا تھا  ۔&lt;br /&gt;مگر !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وہ انسان جو نہ جانے کب سے ذہنی کشمکش کی جنگ لڑ رہا تھا۔   کوئی بھی اس کی کیفیت کو محسوس نہیں کر پایا  ۔ اسے بھی حوصلہ چاہیے ہو گا۔ شائدمدد کا طلب گار ہو۔&lt;br /&gt;خوشیوں میں دکھ، پریشانی ایک ہارے ہوئے فوج کی مانندہوتی ہیں ۔جو موقع ملتے ہی دوبارہ حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف سارا گھرانہ اس بات سے لاعلم اپنی بڑھتی خوشیوں کا جشن منا رہا تھا اور دوسری طرف ایک انسان اپنی ہمت اور حوصلہ کی جنگ ہار رہا  تھا ۔&lt;br /&gt;اگلے دن ولیمہ میں سب مہمان آ رہے تھے وہ  ان کے استقبال میں  سب کو خوش دلی سے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اس کے ابا جی بار بار اس کے پاس آتے اور پوچھتے بیٹا کیا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا ۔&lt;br /&gt;ابا جی !آپ فکر نہ کریں انتظام مکمل ہے۔ انشااللہ احسن طریقے سے ہر کام ہو گا۔&lt;br /&gt;مگر وہ پھر وہی سوال دہراتے ۔بیٹا کہیں کمی نہ رہ جائےاور وہ پریشانی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔&lt;br /&gt;سب مہمان واپس جا چکے تھے۔ شامیانے  اتر گئے،برتن سمیٹ   لئے گئے، گھر کے سبھی افراد خوش گبیوں میں مصروف تھے۔  کہ اس کے ابا جی اپنے کمرے میں جاتے ہی بستر پر گر گئے اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے لاتعلق بے ہوش ہو گئے۔ شادی میں شرکت کے لئے ڈاکٹر بیٹا جو  خاص طور سے بیرون ملک سے آیا تھا  ۔اس نے چیک اپ کیا تو انکشاف ہوا۔کہ  انہیں فالج کا حملہ ہوا ہے۔&lt;br /&gt;یہ الفاظ سنتے ہی جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔ &lt;br /&gt;یہ کیسے ہوگیا !&lt;br /&gt;اباجی! اباجی !کی آوازیں دیتا بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔  چند گھنٹے پہلے تک جہاں خوشیوں کے شادیانے تھے۔ وہیں غم کے بھاری بادل چھا گئے۔ نئی نویلی دلہن جائے نماز پہ ان کی زندگی کے لئے  دعائیں مانگ رہی تھی  ۔کہ کہیں میرے اس  گھر میں داخل ہوئے قدموں کو نحوست سے  نہ تعبیر کر لیا جائے۔ مگر اٹیک معمولی تھا  چند دنوں میں صحت یاب ہو گئے۔&lt;br /&gt;مگر یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہ سکی اور تین ماہ بعد پھر دائیں طرف ایک شدید فالج کا حملہ ہوا۔ بیماری سے ابھی   پوری طرح سے    چھٹکارہ نہیں ملا تھا  ۔کہ چار ماہ  بعد  اس کے چچا کا جوان بیٹا ایک  ٹریفک حادثے کا شکار ہوا اور  ایک ہفتہ کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا۔  اس کےابا جی کو اپنے  چھوٹے بھائی اور اس کی اولاد سے بہت محبت تھی   ۔یہ اچانک  صدمہ وہ برداشت نہ کر پائے۔ اور اپنے حواس کھو بیٹھے اور زندگی کے وہ واقعات جو پچاس سال پیشتر  پیش آئے تھے۔ ابھر کر دماغ کی سکرین پر نمودار ہو گئے۔ &lt;br /&gt;حال ختم ہو گیا     اور ماضی زندہ ہو گیا ۔&lt;br /&gt;ایک طرف جوان موت  جنازہ کی صورت میں چارپائی پر پڑی تھی اور دوسری طرف ایک بوڑھا اپنی جوانی کے واقعات کو اپنے بیٹے کو ایسے سنا رہا تھا۔ جیسے کل ہی کا واقعہ ہو۔ چار گھنٹے کی روئداد سنانے کے بعد ۔پھر وہیں سے شروع کر دیتے جیسے ابھی  سنائی نہ ہو ۔&lt;br /&gt;نیند سے بوجھل اس کی آنکھوں میں اب جاگنے کی تاب نہیں تھی۔ پچھلے چالیس گھنٹوں سے جاگ جاگ کر  اب اس کی ہمت نہیں تھی جاگنے کی۔&lt;br /&gt;ابا جی مجھے نیند آئی ہے میں سو جاؤں  ؟&lt;br /&gt;ابھی میری بات کہاں ختم ہوئی ہے  !&lt;br /&gt;ایک ہی کہانی پچھلے کئی گھنٹوں میں وہ کئی بار سن چکا تھا۔  ذہنی امراض  کے ڈاکٹر کا کہنا تھا۔ دوائی آہستہ اثر کرے گی   ۔دماغ کی رفتار  تیز ہو چکی ہے۔ ماضی واپس لوٹ آیا اور حال چند پل سے زیادہ کا نہیں رہ گیا۔&lt;br /&gt;وہ سوچ رہا تھا ۔کہ انسان کا دماغ اپنے اندر ہر واقعہ کو جزئیات سمیت کسی کیسٹ کی طرح ایسے ریکارڈ کر لیتا   ہے۔کہ جب  حال  رک جائے تو ماضی کی فلم نکل کر چل جاتی ہے۔&lt;br /&gt;چند مہینوں میں اس کے ابا جی کافی حد تک سنبھل چکے تھے ۔خاموش زیادہ رہتے اور یہ سب دوائی کے اثرات تھے۔ان کی خاموشی ایک خاموش طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ جس سے وہ لا علم تھا کہ اب اس کی زندگی میں کیا کیا ہونے والا ہے۔یہ کونسی بیماری ہے۔ جسے ڈاکٹر کوئی بھی نام نہیں دے رہے۔ ماسوائے اس کے کہ دماغ کی شریانیں سکڑ گئی ہیں۔ خون کی گردش صحیح طرح سےنہیں ہو پا رہی۔&lt;br /&gt;اسی دوران اسے اللہ تعالی نے پہلی اولاد نرینہ سے نوازا ۔جس پر گھر کا ہر فرد پھر بہت خوش تھا ۔دادی پوتے کی محبت میں سرشار تھی ۔ باپ کے بعد اب اس کا بیٹا  اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا ۔جسے پا کر وہ بہت مسرور تھی ۔  بہو لانے کے بعد انہوں نے  گھر کے کاموں خاص طور پر کچن سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی ۔  زیادہ وقت اپنی عبادت یا پوتے کو سنبھالنے میں صرف کرتیں ۔ &lt;br /&gt;اسی دوران   انہیں شدید درد نے آ گھیرا تو انکشاف ہوا ۔کہ ان کے پتے میں پتھری ہے ڈاکٹروں نے تین دن ہاسپٹل رکھنے کے بعد یہ کہہ کر  اپریشن سے انکار کر دیا  کہ دل بڑھا ہوا ہے۔ ایسے مریض کا رسک نہیں لیا جا سکتا ۔&lt;br /&gt;ایک طرف بوڑھا باپ جو اپنی زندگی بھولتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف بوڑھی ماں جو پتھری کے درد سے نڈھال ہو جاتی مگر اپریشن ممکن نہیں تھا۔  ایک بیٹا اپنے والدین کے لئے ہر ڈاکٹر سے منت کرتا کہ وہ اپنے والدین کی تکلیف نہیں چاہتا ہر ممکن مدد کا طلب گار رہتا  ۔&lt;br /&gt;اس کی سگریٹ کی عادت بہت بڑھ چکی تھی  جب بھی وہ تنہائی میں ہوتا ۔سگریٹ کے دھواں میں اپنے سوالوں کے خود ہی جواب تلاش کرتا۔جو وہ کئی سال پہلے اپنی ماں کی گردن اور کندھوں پرآئیوڈیکس تو کبھی وکس ملتے ہوئے اکثر مذاق میں کیا کرتا تھا     ۔&lt;br /&gt;ماں جی آپ کی اتنی اولاد تھی پھر میری  دنیا  میں کیا ضرورت تھی؟&lt;br /&gt;ماں  اسےڈانٹتے ہوئے کہتی !&lt;br /&gt;تمہیں شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے۔&lt;br /&gt;آتی ہے۔ جب دو سال بڑا  بھتیجا مجھے چچا کہتا ہے۔  اس کے جواب پر ماں خاموش ہو جاتی۔&lt;br /&gt;اس کے سب سے بڑے بھائی اور اس میں تیس سال کا فرق تھا۔  دو شادیوں میں  بچوں کی عمروں میں اتنا فرق ۔کبھی کبھار  ایسا بھی ہو جا تا  ہے۔&lt;br /&gt;آج اسے اپنے وہ سوال جو ماں سے مذاق مذاق میں کئے تھے۔ جواب مل گیا تھا  کہ&lt;br /&gt;دنیا کا بنانے والا انصاف کرنے والا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ صرف رزق اور موت نہیں مقصد بھی لےکر آتا ہے۔ جو کبھی کبھار سوال بن کر اس کے ذہن میں ابھرتے رہتے تھے۔ ان کا جواب اسے مل چکا تھا اور اپنا مقصد بھی    !&lt;br /&gt;کیوں  اس کے ذہن میں کبھی بھی ملک سے باہر اچھے مستقبل کی خواہش  پیدا نہیں ہوئی۔ دوستوں پر حیران ہوتا  تھا کہ انہیں کیا بے چینی ہے۔ جو ہر ملک کی ایمبیسی سے نامراد لوٹتے ہیں۔  ایک بار تو ایک دوست نے امریکہ کی خاتون اول کو بھی خط لکھ دیا۔   ویزہ  آفیسر کے خلاف  ویزہ نہ دینے کی پاداش میں !&lt;br /&gt;آج ان میں  سے کافی ملک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے۔ اور وہ وہیں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہا تھا ۔جو اسے خوش نصیب قرار دیتے کہ تمھارے راستے کھلے ہیں۔&lt;br /&gt;اس کے راستے کھلے بھی منزل کی نشاندہی نہیں کر رہے تھے۔ اور جن کے بند تھے وہ اپنی منزل کی تلاش میں ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگ رہے تھے۔  نہ جانے انسان  اپنوں سے جدا ہو کر۔ غیروں کےکن احسانوں کو چکانے کے لئے رشتوں کو پاؤں کی بیڑی سمجھ کر توڑ دیتا ہے  ۔اور باپ  کی حیثیت سے  اولاد کے ساتھ جس رشتے کو وہ نبھانے جارہاہوتا ہے۔  وہ خود ہی  اس رشتے کی پامالی  کاباعث ہو چکا ہوتا  ہے۔ اور رشتوں کی مجبوری کو خودغرضی کا جواز بنا  دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;جو بویا ہے وہی کاٹنا ہے ۔پھر شکوہ  کا تو کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔  مگر ایسے انسان  ملنے والی ہر کامیابی اپنے دم اور بل بوتے کے نام کر دیتے ہیں۔ اور ناکامی کا سہرا کبھی دوسرے تو کبھی قسمت پر ڈال  دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی  جب -------------- جاری ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر ! محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-58912456233134828?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/58912456233134828/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/2.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/58912456233134828'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/58912456233134828'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/03/2.html' title='بوڑھے کی لاٹھی - 2'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2698769771879862404</id><published>2011-02-28T20:42:00.000-08:00</published><updated>2011-03-04T22:29:08.705-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>بوڑھے کی لاٹھی</title><content type='html'>ایک باپ بیٹے کی کہانی !&lt;br /&gt;باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حصہ اول!&lt;br /&gt;ہرروز کی طرح آج بھی وہ اپنے باپ کے ساتھ ایسے بات کر رہا تھا جیسے خود ہی سے مخاطب ہو ۔&lt;br /&gt;ابا جی ماں اپنے بچے کو دو چار سال تک سنبھالتی ہے۔ پھر اللہ کی ذات ماں کو وہ مقام دے دیتا ہے کہ جنت قدموں کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;ابا جی میں تو دس سال سے آپ کی دیکھ بھال کر رہا ہوں ۔ &lt;br /&gt;کھلاتا ہوں، نہلاتا ہوں ،صفائی کرتا ہوں، زخموں پر مرہم رکھتا ہوں پھر تو میرا درجہ بھی ماں کا ہوا۔&lt;br /&gt;"تیری مہربانی ہے "کے الفاظ جو اس کے کانوں میں پڑے تو بھونچکا رہ گیا۔ جلد ی میں اس نے صفائی کا کام مکمل کیا۔ ابا جی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور پلنگ پر لٹا کر ڈریسنگ کی کٹ نکال کر پہلے کمر پھر پاؤں میں گہرے زخموں کو صاف کیا اور مرہم لگانے کے بعد بند کر دیا ۔ &lt;br /&gt;سامان سمیٹنے میں ایسے جلدی کر رہا تھا جیسے بہت ارجنٹ میٹنگ کا بلاوہ آیا ہو۔ &lt;br /&gt;وہ جلد سے جلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا اباجی کے کمرے سے نکل کر سگریٹ ہاتھ میں لئے باہر صحن میں چلا گیا ۔&lt;br /&gt;بیوی آوازیں دیتی رہ گئی۔&lt;br /&gt;جی سنئے ! &lt;br /&gt;کھانا لگا دوں کیا ۔&lt;br /&gt;مگر آج اسے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ صرف ایک آواز کے سوا " تیری مہربانی ہے "&lt;br /&gt;وہ سگریٹ کو سلگا کے گہرے گہرے کش ایسے لے رہا تھا جیسے کوئی دو دن کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ &lt;br /&gt;وہ بار بار اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ تجھے روز ایسے ہی ابا جی سے باتیں کرنے کی عادت ہے۔ یہ سوچ کر کہ وہ کب سمجھتے ہیں ان باتوں کو۔ الزائیمر کی بیماری نے ان کا سارا اعصابی نظام ہی مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ &lt;br /&gt;آنکھوں میں روشنی باقی تھی یا صرف کھانے پینے کا نظام انہضام کام کر رہا تھا ۔اس کے علاوہ تو پورا وجود ایک گوشت پوست کے لوتھڑے سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔&lt;br /&gt;وہ سوچ رہا تھا کہ مجھ سے گناہ ہوا ۔ اباجی تو ایک سال سے ایک لفظ نہیں بولے۔ اتنی بڑی بات" تیری مہربانی ہے" کے الفاظ اس پر اتنے بھاری ہو چکے تھے کہ وہ اپنے قدموں کواٹھانا چاہتا مگر وہ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔&lt;br /&gt;باپ کا بیٹے کو کہہ دینا کہ" تیری مہربانی ہے " بیٹے کی خدا کے حکم سے سراسر روگردانی کے مترادف ہے۔ &lt;br /&gt;وہ سوچتا ابھی تک تو میں اپنے اباجی کا حق ہی نہیں ادا کر پایا ۔ پھر میری مہربانی کیسی !&lt;br /&gt;گہرے خیالوں میں کتاب ماضی سے ورق الٹ الٹ کر اس کی نظروں کے سامنے آرہے تھے۔&lt;br /&gt;کہ اباجی نے اسے کیسےمحبت سے پال پوس کر بڑا کیا ۔&lt;br /&gt;جب کبھی دوستوں کی محفل رات گئے جاری رہتی۔ تو باون سال عمر میں بڑا اس کا باپ رات بھر ٹہلتا رہتا۔ ماں سے کہتا تیری ہی دی گئی ڈھیل ہے جو وہ دیر تک گھر سے بھی باہر رہنے لگا ہے۔ &lt;br /&gt;جب وہ گھر کے دروازے پر دبے پاؤں پہنچتا ۔ تو ابا جی کی آواز آتی بیٹا خیریت تھی اتنی دیر لگا دی۔&lt;br /&gt;پہلے سے تیار ایک نیا بہانہ سنا کر جلد کچن تک جاتا۔ ماں بھی پیچھے پیچھے وہیں آجاتی۔ سالن گرم کرتی اور ساتھ ہی کلاس شروع ہو جاتی۔ تیرے اباجی بہت غصے میں تھے ۔&lt;br /&gt;مگر ماں مجھے تو کچھ نہیں کہا! &lt;br /&gt;یہی تو ان کا مسئلہ ہے۔ مجھ ہی کو سناتے رہتے ہیں کہ میرے لاڈ پیار نے بگاڑ رکھا ہےخود بھی تو کبھی کچھ نہیں کہا ۔&lt;br /&gt;لیکن ماں گھر میں اکیلا کیا کروں  !&lt;br /&gt;قصور اس کا بھی نہیں تھا۔اس کا بڑا بھائی جو اس کا دوست بھی تھا ۔ اب اس دنیا میں نہیں رہا  تھا ۔ &lt;br /&gt;تب سے  اس کے بوڑھے ماں باپ تنہائی  میں یاس کے چراغ  جلاکر زندگی گزار رہے تھے ۔ &lt;br /&gt;محلے میں بھی اس کا ہم عمر دوست کوئی  نہیں تھا۔  8،6 سال عمر میں بڑے بھائیوں کے دوستوں سے گپ شپ کرتا ۔  اب تو ان میں سے  بھی زیادہ تراپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہو چکے تھے اور چند ایک محلے سے ہی جا چکے تھے ۔&lt;br /&gt;جب ہمارا دم نکل جائے گا لوگ ہی اطلاع کریں گے تمہیں !&lt;br /&gt;تنہائی کی ماری  ماں کھانا اگے رکھتے ہوئے  غصے سے بولی!&lt;br /&gt;وہ بھی بیچاری سچی تھی۔ ایک بار تو  باتھ روم گئی اور کمزوری سے چکر کھا کر وہی گر  کر بیہوش ہو چکی  تھی۔ کافی دیر کے بعد اسے ہوش آیا  تو اپنی بیٹی کو فون کیا  اور رو پڑی   ۔&lt;br /&gt;وہ گھرانہ اتنی اولاد  اور شہر کی گہما گہمی کے باوجود بھی ایک ایسی منزل کے مسافر تھے ۔جہاں دو بوڑھے اپنی آنکھوں کی کم ہوتی روشنی کو ایک نو عمر  چراغ سے وابستہ کئے ہوئے تھے۔&lt;br /&gt;کھانے سے فارغ ہو کر اس نے اپنے کمرے کی راہ لی۔ گولڈلیف کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کرسلگایا اور گہرے کش لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ  کل سے دیر سے گھر آنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا۔ &lt;br /&gt;اس نے اس کا حل بھی تلاش کر لیا دوستوں کو اپنے گھر ہی بلایا جائے۔ کیونکہ اس کا کمرہ گھر سے الگ تھلگ باہر کی طرف تھا۔ وہاں سے قہقہوں اور شور کی آوازیں بھی باہر نہیں جا سکتی تھی۔&lt;br /&gt;دس کمرے،تین باتھ روم، ڈرائنگ روم، دو اطراف میں برامدے  اور سو سو  فٹ  لمبائی کے دونوں اطراف صحن پر مشتمل گھر  دو کنال پر پھیلا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;جتنا بڑا گھر تھا تنہائیاں اس گھر میں اس سے بھی زیادہ پھیلی ہو ئی تھی۔ &lt;br /&gt;دن ہفتوں میں مہینے سالوں میں بیتے جارہے تھے ۔&lt;br /&gt;اس گھر کی یہی معمولات زندگی رہی!&lt;br /&gt;کبھی کبھار وہ  سوچتا! میرے ابا جی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;مگر یہ خیال ذہن سے جھٹک دیتا  کہ وہ کبھی اباجی کے قریب نہیں رہا ہمیشہ کسی انجانے خوف کی وجہ سے  دور دور رہتا۔ &lt;br /&gt;عمر میں باون سال کا فرق بھی  دوری کا سبب تھا کیونکہ دوسری شادی سے آخری نمبر تھا اس کا ۔&lt;br /&gt;سب سے زیادہ پیار تو  انہیں اس سے بڑے سے تھا ۔ سولہ سال کی عمر میں وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا ۔ پینسٹھ سال کے باپ کے کندھوں پر سولہ سال  کے جوان بیٹے کا جنازہ ہو تو اسے جینا کب یاد رہ جاتا ہے  ۔&lt;br /&gt;خوف  اور جدائی کا آسیب  ہر دم اسے تنہائی میں ڈراتا ہو گا ۔&lt;br /&gt;سب سے عزیز بیٹا دنیا سے چلا گیا۔  ان سے بڑے   بیٹےاچھے مستقبل کی تلاش میں گھر سے دور اور چند ملک سے ہی دور جا چکے تھے  ۔&lt;br /&gt;اب صرف یہی ایک رہ گیا تھا ۔ شائد یہی ایک خوف ہمیشہ اس کے باپ کو رہتا ہوگا  کہ کہیں یہ بھی اچھے مستقبل کا خواب آنکھوں میں نہ  بسا لے۔ نہ ڈانٹنے کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی تھی۔&lt;br /&gt;جیسے ہی ماضی کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا توکچھ دیر ٹہلنے کےبعد وہ واپس لوٹ آیا ۔اب وہ کافی حد تک  مطمئن تھا  اور تہیہ کر چکا تھا  آئندہ کوئی بھی ایسی بات زبان پر نہیں لائے گا۔ &lt;br /&gt;مگر اس کی زندگی کا سفر یونہی گزر تا تھا ۔ صبح 6 بجے، دوپہر 2  اور رات 10 بجے وہ جہاں بھی ہوتا  اپنے گھر واپس لوٹ جاتا۔&lt;br /&gt;پہلے تو مشکل زیادہ تھی جب سے  اس نے اپنے ابا جی کوپیمپر لگانا شروع کیا  بستر بھیگنے سے بچ جاتے تھے۔  &lt;br /&gt;جاب،  بزنس، بیوی بچے  اور مہمان داری سبھی کام اکٹھے چل رہے تھے  ۔ایسی زندگی گزارنے کی اسے عادت ہو گئی تھی ۔ مہمان آتے مہمان بن کر رہتے اور چلے جاتے  ۔چار دن ہنسی مذاق کے بعد پھر وہی روز کے معمولات  واپس آجاتے۔&lt;br /&gt;جب بھی اس  کےموبائل کی گھنٹی بجتی وہ چونک جاتا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موبائل فون آسائش تھی، سہولت نہیں ۔ اس کے کسی بھی دوست کے پاس موبائل فون  نہیں تھا   ۔ اباجی کی وجہ سے اس نے کنکشن لیا تھا  تاکہ ہر وقت گھر رابطہ رہ سکے۔ &lt;br /&gt;ایک روز دوستوں کی محفل میں خوش گبیوں میں مشغول تھا کہ فون کی گھنٹی بجی  ۔فون کان سے لگاتے ہی وہ گھر کی طرف دوڑ پڑا ۔ &lt;br /&gt;اس کے ابا جی کو اکثر دماغ کی شریانوں میں خون صحیح نہ پہنچنے پر ایسا دورہ پڑتا کہ منہ سے جھاگ بہتی ،جسم جھٹکے لیتا۔ پھر تو دو دن تک اس کے ابا جی بالکل ڈھیلے ہو جاتے۔ کھانا پینا بہت کم ہو جاتا۔  پھر آہستہ آہستہ جسم صرف خوراک لینے کی حد تک نارمل ہو جاتا۔  لیکن آج  کا  دورہ بہت شدید تھا مسلسل سر اور گردن کے پٹھوں کی مالش سے فرق نہیں پڑ رہا تھا جھاگ منہ سے بہے جا رہی تھی۔&lt;br /&gt;ڈاکٹر بھی ایسے مریض پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو زندگی کی نو دہائیوں سے اوپر جی چکا ہو  اور بستر پر لیٹے لیٹے اس مریض کو چھ برس گزر چکے ہوں ۔&lt;br /&gt;تیمارداری کے لئے گھر آنے والے سبھی سنیاسی نسخہ چھوڑ کر جاتے  ۔مفت مشورہ   دینے کے چکر میں  ایک بار اس کے  ابا جی نے فزیکل تھراپسٹ کے ہاتھوں  بہت تکلیف اٹھائی تھی۔  بازو   فزیکل تھیراپی سے ایسے پھولے  کہ پھر وہ     فزیکل تھراپسٹ گھر کا راستہ بھول گیا ۔&lt;br /&gt;ا ب تو مشورہ دینے والے بھی  خاموشی اختیار کر چکے تھے ۔عزیز رشتہ دار ہمدردی کا اظہار کرتے اور حوصلہ بندھاتے اور گھروں کو لوٹ جاتے۔&lt;br /&gt;اکثروہ صحن میں تنہا سگریٹ سے دھواں چھوڑتے ہوئے ماضی میں کھو جاتا۔&lt;br /&gt;بیس سال پہلے کی  دوستوں کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجتی۔&lt;br /&gt;یار! تو تو خوش نصیب ہے۔ جب چاہے ملک سے باہر بھائیوں کے پاس جا سکتا ہے۔ ہمیں تو ویزہ  دلانے والا کوئی نہیں۔ ہر بار سٹوڈنٹ ویزہ  سے ان کو انکار ہو جاتا ۔ وہ تمام دوست اس کی قسمت پر رشک  کرتے مگر وہ  سوچتا  کہ مجھے ایسی خواہش کیوں نہیں --------------------------- جاری ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تحریر ! محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2698769771879862404?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2698769771879862404/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_28.html#comment-form' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2698769771879862404'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2698769771879862404'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_28.html' title='بوڑھے کی لاٹھی'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8417635735219029675</id><published>2011-02-20T22:32:00.000-08:00</published><updated>2011-02-20T22:32:50.317-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں</title><content type='html'>بتیس فلموں کے گانے لکھنے والے مشہور نعت خواں اور نعت گو شاعر مظفر وارثی اب ہم میں نہیں رہے ۔میں انہیں ایک نعت گو شاعر کی حیثیت سے  ہی جانتا تھا ۔  مگر ٹی وی پر ان کی فلمی شاعری کے نمونہ کلام سننے پر احساس ہوا کہ اچھا ہے کہ انہوں نے آج کے دور میں فلمی گانے نہیں لکھے ۔&lt;br /&gt;ورنہ آج  ڈنڈا ، پنڈا ، آم ، منجی اور  گڈی  جیسے الفاظ  استعمال میں زو معنی ہو جاتے    یا پھر سارا شہر ہی بلو  کی طرح کسی نیلی کے گھر کی طرف لائن میں کھڑے ہونے والوں کو کوستا ۔ جیسے  ہندوستانی فلمیں سننے میں تو اعتراضات کی زد میں کم ہیں مگر دیکھنے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ دوسری طرف ہماری فلمیں اور سٹیج ڈرامے  دیکھنے میں اعتراضات کی زد  میں کم ہیں ۔ مگر سننے میں  اپنے بس سے باہر ہیں ۔ایسی ایسی شاعری کا نمونہ کلام  اور مکالمہ بازی پیش کی جاتی ہے  کہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ علموں بس کریں او یار !&lt;br /&gt;گڈی وگوں  آج مینوں سجنا اُڑائی جا کی بجائے  فٹ بال وگوں مینوں سجنا  میدان وچ پھجائی جا ہوتا  مزا دوبالا ہونے کا چانس تھا ۔کیونکہ گڑی سے ہمارا پرانہ رشتہ ہے ۔ گڈی یعنی پتنگ اُڑانے کا شوق بچپن سے تھا ۔ سب سے پہلے خوبصورت رنگوں کا انتخاب ہوتا ۔پھر اس کی بناوٹ اور آخر میں کاریگر کے ہاتھ کی صفائی کے بعد صرف ہماری کاریگری کی محتاج  رہ جاتی وہ گڈی ۔جس کے کندھوں اور کمر پر ڈور باندھنا یعنی تلاویں ڈالنا کسی فن سے کم نہیں ہوتا ۔&lt;br /&gt; اچھا پتنگ باز ہوا کی رفتار  کے مطابق گڑی کے اگے پیچھے گانٹھیں انتہائی مہارت سے لگاتا ۔ تیز ہوا میں اگلی گانٹھیں زیادہ باندھی جاتیں  تاکہ ہوا کے زیادہ زور سے گڈی ٹوٹ یا پھٹ نہ جائے ۔اگلی اور پچھلی گانٹھوں میں کمی بیشی کا دارومدار ہوا کی رفتار سے بہت گہرا ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;زندگی بھر یہ سنتے آئے ہیں کہ شوہر بیوی گاڑی کے دو پہیوں جیسے ہوتے ہیں ۔جن کا برابر میں رہنا ضروری ہوتا ہے ۔مگر مجھے یہ دونوں گڈی میں لگائی گئی گانٹھیں محسوس ہوتی ہیں ۔جہاں حالات کے مطابق  کبھی گانٹھیں آگے زیادہ تو کبھی پیچھے زیادہ لگائی جاتی ہیں ۔ تاکہ زمانے کی رفتار اور حالات کی تیزی میں تبدیلی کے عمل سے اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔&lt;br /&gt;ہماری معاشرتی زندگیاں کچھ ایسے ہی ہوا کی مانند کبھی اونچی اڑان میں تو کبھی زمین پر چپکی رہتی ہیں ۔جہاں بوقت ضروت شوہر بیوی ایک دوسرے سے رویوں میں گانٹھیں لگانے سے ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔ تاکہ  مشکل حالات میں اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔اونچی اُڑان میں پھٹ جانے اور زمین پر گرنے سے تو بہتر ہے کہ رویوں کی گانٹھیں لگنے سے  کچھ دیر ہوا کے سنبھلنے کے انتظار میں نیچی اڑان ہی برقرار رکھ سکیں ۔کیونکہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ضد خوشیوں سے دور لے جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;رہتے ہم اکیسویں صدی میں ہیں ۔ اصول معاشرت کی علمبرداری انیسویں صدی کے طبقاتی نظام پر کھڑی ہے ۔جہاں عمر کی قید ، گھر کی آرائش ، حسن کی زیبائش اور دولت کی نمائش خواہشوں کی فرمائش پر رہتی ہے ۔&lt;br /&gt;پھولوں کے کھلنے اور مہکنے کا ایک مخصوص موسم اور وقت ہوتا ہے ۔ پھلوں کے لگنے اور پکنے کے بھی موسم طے شدہ ہیں ۔وہ بھی  آب و ہوا سے جدا  نہیں ہیں ۔مٹی سے مانوسیت درجہ اول پر ہے ۔ صرف ایک بارش کا نہ برسنا ہی ان کے ساتھ ساتھ پرند چرند کو بھی سوچوں میں متغرق کر دیتا ہے ۔جو آج بھی صدیوں پہلے گزرے انسانوں کی طرح صرف پانی اور موسم کی تبدیلی سے ہجرت کرتے ہیں ۔&lt;br /&gt;بات کہاں سے شروع کی اور کہاں جا پہنچی ۔ پڑھنے والے کہیں یہ نہ سمجھیں کہ باتوں کا کھٹا کھاتا ہوں ۔یہاں کھٹے سے مراد ترش نہیں بلکہ منافع ہے ۔اور منافع خوری ہمیں آتی نہیں ۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں لفظوں کی تجارت اپنے عروج پر ہے ۔اگر تجارت لکھنا اچھا نہ ہو ۔ تو پھر خود ہی انصاف کریں کہ ڈھیروں کے حساب سے اخبارات  اور ٹی وی چینل کیا ہیں ۔&lt;br /&gt;چارلی چپلن کی گونگی فلموں کا دور تو رہا نہیں ۔جب کم کم سننا بہرہ پن کی شکائت نہیں رکھتا تھا ۔اب تو اونچی آواز میں ڈیک پر گانے اور ٹی وی پر شادیانے نماز کی خشوع و خضوع میں بھی رکاوٹ نہیں رہے ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر خاوند حاجی ہو تو بیوی ضرور نمازی ہوتی ہے ۔لیکن اگر بیوی یہ دعوی جگہ جگہ کرتی پھرے  کہ دیکھو شوہر نامدار کیسا نمازی بنایا  تو خشوع و خضوع کی گارنٹی خود اس کے پاس نہیں ۔&lt;br /&gt;ایسے شوہر رات دیر سے تھیٹر یا فلم دیکھ کو گھر لوٹنے  پرنا گہانی آفت سے بچنے کے لئے کسی صوفی بزرگ کے مزار کی حاضری اور خصوصی دعا کا بہانہ تراش لیتے ہیں ۔  ان کی روحیں تو شائد پہلے ہی بعض وراثتی گدی نشینوں  کے اعمال صالح کی بدولت ہدف تنقید رہنے پر پریشان رہتی ہیں ۔ &lt;br /&gt;ایسے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ۔تعلیم کی نئی روشنی نہ ہونے سے علم پہلے ہی ضعیف الاعتقادی کی بیساکھی پر کھڑا ہے ۔اور کوئی ہٹ دھرمی کے ستون پر ۔&lt;br /&gt;مصر اور تیونس کی طرح  سنا ہے کہ اب ہمارا ملک بھی انقلاب کے دھانے پر کھڑا ہے ۔ لیکن تاریخ تو بتاتی ہے کہ ملک کئی بار معاشی اور سیاسی انقلابات  سے بحسن رضا گزر چکا ہے ۔اگر یقین نہیں تو معاشی انقلاب کی بدولت معرض وجود میں آئی سٹیل مل  اب وبال جان ہے ۔ جان تو پی آئی اے کی  بھی خطرے میں ہے ۔ &lt;br /&gt;جان کنی کا عالم ہو یا نہ ہو مگر گورکن تیار ہیں ۔&lt;br /&gt;ان کی حالت زار تو  "میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا  "جیسی ہے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8417635735219029675?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8417635735219029675/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_20.html#comment-form' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8417635735219029675'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8417635735219029675'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_20.html' title='کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1088155476168677565</id><published>2011-02-15T20:34:00.000-08:00</published><updated>2011-02-15T20:34:56.936-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نعت،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='برگِ بار'/><title type='text'>آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو</title><content type='html'>آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو&lt;br /&gt;زرِ ناب ہو خندہ آفتاب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ ﷺرشاد محبوبِ رب العباد ہو&lt;br /&gt;پرِ سرخاب ہو تَسخیرِ ماہتاب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ ﷺ اِتساہ باصفا اذعان ہو&lt;br /&gt;باغِ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ ﷺ روشن سواد دل نہاد ہو&lt;br /&gt;رشادی روشن جہان ِ تاب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ ﷺ چمن دلبہار اشہر نجم اطہر ہو&lt;br /&gt;ہم صادق الاعتقاد کو امید ِ حسن الماب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے دلِ چاک کو آپ ﷺ فرحت ناک ہو&lt;br /&gt;میں گوہر بے آب ہوں آپ ﷺگوہر خوش آب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں مشت خاک ہوں آپ ﷺمصحف پاک ہو&lt;br /&gt;میں نقش بر آب ہوں آپ ﷺنگہت مآب ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا رسول اللہ&lt;br /&gt;اللہ اللہ یا محبوب اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;برگِ بار / در دستک&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1088155476168677565?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='related' href='http://pak.net/%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%82/%D8%A2%D9%BE-%EF%B7%BA-%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%88-%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%90-%D8%B5%D9%88%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%88-51615/' title='آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو'/><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1088155476168677565/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_15.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1088155476168677565'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1088155476168677565'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_15.html' title='آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3659206247246950111</id><published>2011-02-01T23:12:00.000-08:00</published><updated>2011-02-01T23:12:33.946-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='خیال رست ،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک'/><title type='text'>کھلتا جو گلاب ہے</title><content type='html'>کھلتا جو گلاب ہے جلتاپھر یہ زمان کیوں &lt;br /&gt;گزرا ہر نشیدہ پل بہکاتا  نیا شیطان کیوں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تجھے آنا مشکل نہیں جانا ہی پھر امتحان کیوں &lt;br /&gt;جگر کا گرم لہو قلب ہی پھر ارمان کیوں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چبھتا نہیں خار بھی ، پھول پھر پشیمان کیوں &lt;br /&gt;ڈرتا تاریکی سے چاندنی مجھ پہ مہربان کیوں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کٹتا رہا قلب   تنہا ، میرا تن نادان کیوں &lt;br /&gt;بیتابیء جاناں میں پٹخنا سر  ہی آسان کیوں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چاہتے شب وروز مسیحائی کم پھر انسان کیوں &lt;br /&gt;لکھتا لوح قلم پہ ، پڑھتے  نہیں پھر قرآن کیوں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;        محمودالحق &lt;br /&gt;خیال رست  /  در دستک&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3659206247246950111?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3659206247246950111/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_01.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3659206247246950111'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3659206247246950111'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post_01.html' title='کھلتا جو گلاب ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-7273335058329798630</id><published>2011-02-01T22:42:00.000-08:00</published><updated>2011-02-01T23:14:26.103-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='خیال رست ،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک'/><title type='text'>اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو  کیوں ہے</title><content type='html'>اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو  کیوں ہے &lt;br /&gt;جوسمجھ  ہی نہیں پاتا  ایسی جستجو کیوں ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دشت  ہو یا صحرا ، گلزار ہو یا ہو گلستان&lt;br /&gt;بہلانے میں نہیں رنگ  پھر  ماہ نو کیوں ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دست میں رکھا دم ، پا سرِ خم کر دیا &lt;br /&gt;قلب عشقِ امتحان ،عقل جامِ سبو کیوں ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بیان جو میرا نہیں مفہوم بھی تو تیرا نہیں &lt;br /&gt;ڈستے مجھے اندھیرے پھیلایا آفتاب صبو کیوں ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اصلاحِ احوال نہیں رہتے جو دامان اِستاد ہو&lt;br /&gt;پلک جھپکتی روشِ روشن قلب کسو کیوں ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;زلفِ نار سے جھولتے ، مے خراب سے مستی نہیں &lt;br /&gt;محبتوں کے رنگ ہیں تیرا فراق ہجو کیوں ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آسان نہیں سمجھنا لعاب ریشم کی دھار ِ کنار کو&lt;br /&gt;قیام جہان میں تنہا  ،سجدہ میں روبرو کیوں  ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;br /&gt;خیال رستاں   /   در دستک&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-7273335058329798630?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/7273335058329798630/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7273335058329798630'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7273335058329798630'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/02/blog-post.html' title='اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو  کیوں ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3250144102509223169</id><published>2011-01-29T18:49:00.000-08:00</published><updated>2011-03-05T16:43:09.725-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیاست'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>حقائق کی حقیقت کیا ہے</title><content type='html'>بہت سال پہلے جب میڈیا  الیکٹرانک کی بجائے صرف پرنٹ  پر انحصار رکھتا تھا ۔خبریں  زیادہ تو جگہ کی کمی رہتی تھی ۔صفحہ اول پر صرف اہم خبریں جگہ بنا پاتیں ۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری یعنی فلم ٹی وی کی جگہ اندرونی صفحات تک محدود تھی ۔&lt;br /&gt;جس رہنما کو عوامی پزیرائی کا طوق پہنانا مقصود ہوتا  تو ایک آدھ بیان کسی غیر اہم موضوع پر چھاپ دیا جاتا ۔&lt;br /&gt;دنیا گلوبل ویلج بننے سے خبریں اخبارات کی زینت بننے سے زیادہ  میڈیا پر  اشتہاری  حیثیت میں پہنچ رکھتی ہیں ۔میڈیا کی بدولت بعض  انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی غیر معروف ثخصیات اتنی قد آور بنا دی جاتی ہیں اور ٹی وی و اخبارات میں دکھا دکھا کر عوامی سروں پر بٹھا دیا جاتا ہے ۔انہیں یہ پزیرائی کسی فلاحی کام  میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی خوشی میں نہیں ہوتی ۔بلکہ فیشن  ، حسن اور سکینڈل سے ناموری پانے کے اعزاز کی بدولت ہوتی ہے ۔&lt;br /&gt;کئی سال پہلے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ایک  صوبائی وزیر کی بیگم نے کامیاب چھاپہ کے بعد اچھی درگت بنائی تھی ۔اسی طرح  دوسری بڑی پارٹی کے اعلی و ارفع رہنما  عدالت میں نکاح نامہ پیش کر کے جان بخشی کروا چکے ہیں ۔&lt;br /&gt;ثقافتی سفیر کے خطابات  سے نوازنے  میں میڈیا  ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔اور جب ان کا  وہی بےباک پن   اپنی حدو ں کے ساتھ ملکی سرحدوں سے باہر بھی نکل جائے تو وہی کردار میڈیا پر عزت کا جنازہ جا رہا ہے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان پر لگائے جانے والے عوامی اعتراضات  کو ایک بار پھر الیکٹرانک میڈیا  سے بھرپور نمائندگی کے حق کی طرح پیش کیا جاتا ہے ۔اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے  کہ انہیں وطن اسلام پاکستان کی نمائندگی  کے حق سے دستبرادری پرمجبور نہیں کیا جاسکتا ۔&lt;br /&gt;طوائف الملوکی کے شکار ملک میں سیاست وظائف   سے ایسے ہی خوش ہوتی ہے جیسے طوائف تحائف سے  راضی رہتی ہے ۔لاکھوں کی گاڑیاں ، کروڑوں کے بنگلے اور یورپ کے دورے کنگلوں کی حق   حلال کی روزی سے بہت اوپر ہوتے ہیں ۔ان کے لئے الٹا سوال یہ رہ جاتا ہے کہ  بچت  نہ کر کے حج و عمرہ کی سعادت سے کیوں محروم ہیں ۔&lt;br /&gt;حیرت ہوتی ہے کہ کیسی سوچ پنپ رہی ہے ۔دولت کا ہونا ہی عزت رہ گیا ہے ۔ زرائع چاہے کوئی بھی استعمال میں لائے گئے ہوں ۔اور نہ ہونا کسی گناہ سے کم درجہ نہیں رکھتا ۔ &lt;br /&gt;آبدوزوں کے کمیشن ہوں ، سٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ یا بنکوں کی نجکاری میں بندر بانٹ ۔ ٹیکس نا دہندگان کے شمار کا کوئی تصور ہی نہیں ۔اربوں کھربوں کے مالک سالانہ ٹیکس دینے میں یورپ امریکہ کے ایک پرچون فروش سے بھی  غریب دکھائی دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;انتہا تو یہ ہے بیرون ملک اعلی تعلیم کے سکالرشپ کی بندر بانٹ میں معمولی ایم پی اے یا ایس پی اور ڈپٹی سیکرٹری  کے درجہ تک درجہ چہارم میں آتے ہیں ۔ بڑے مگر مچھ شکار  ہڑپ کرنے میں  کوئی سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ ثبوت کے طور پر  نام لے بھی دوں تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔کیونکہ ہر کوشش کے بعد ہماری رائے یہ ہوتی ہے کہ  انگور کھٹے ہیں ۔اگر ایک لسٹ اخبارات کے زینت بن بھی جائے تو ہم قہقہہ لگا کر دو گالیوں سے مطمعن ہو جاتے ہیں کہ سب چور ہیں ۔حالت تو ایسی ہے کہ &lt;br /&gt;زہر مجھ کو ملتا نہیں وگرنہ کیا قسم ہےتیرے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں &lt;br /&gt;زمانہ کی چال بدلی ہے چلن نہیں  ۔پہلے سیاسی مذہبی رہنما انسانی دماغ کی رفتار بڑھانے والے مشروب کی نسبت خطاب سے نوازے گئے اب گاڑیوں کی رفتار بڑھانے والی گیس سے عزت افزائی پاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;حکمرانی حج و عمرہ کی ادائیگی بھی اب ایسے ہی مال مفت دل بے رحم کے مصداق دعوت طعام کی طرح اڑائی جاتی ہے ۔اس کے گھر میں اپنی  ترقی و منزلت کی مزید دعا پڑھواتے ہیں ۔&lt;br /&gt;اقتدار کا حصول  ایسے ہے جیسے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو ۔ کوئی ایسا لیڈر ہے جو کسی فتوی کی زد میں آئے بنا اس قوم کی کشتی کو کنارے لگا سکے ۔قومیں دہائیوں میں  ظلمت کی جس گہرا ئی میں اترتی ہیں ۔ صدیوں میں اس بھنور سے نکلتی ہیں ۔مذہبی اور سیاسی تحریکیں طاقت ور پروں کی پرواز  رکھتی ہیں ۔این جی اوز بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ۔ مگر معاشرتی اصلاح کے لئے صرف انقلاب کا دروازہ کھلنے کا انتظار رہتا ہے ۔&lt;br /&gt;سن تو یہ رکھا کہ جیسا دیس ویسا بھیس ۔ اب یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جیسی  ریاست  ویسی سیاست ۔ اردو زبان کی خدمت کے دعوی دار تمام فورمز پر یہ ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے ۔ کہ آگے بڑھیں اور نوجوان نسل کو محبت کے اشعار ، گپ شپ موضوعات  اور مذہبی اختلافات کو بھلا کر اس طرف بھی  توجہ دلائیں کہ ہم ایک ہیں ۔کسی بھی فورم میں جھانکیں سب سے غیر اہم  موضوع پاکستان  نکلتا ہے ۔ جہاں لکھنا اندھے سے تختی لکھوانے کے مترادف ہے  ۔ہمارے دعوے بڑے اور برداشت میں کمی ہے ۔ موقع ملنے پر اگر سننا اچھا نہ ملے تو تنقید چاہے مثبت کیوں نہ ہو برداشت کرنا زرا مشکل ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دلوں کا حال  اللہ سبحان تعالی بہتر جانتا ہے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3250144102509223169?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3250144102509223169/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_29.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3250144102509223169'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3250144102509223169'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_29.html' title='حقائق کی حقیقت کیا ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1383872134169282697</id><published>2011-01-28T23:30:00.000-08:00</published><updated>2011-03-05T16:43:54.583-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>جینے کا ڈھنگ ہمیں بھی سکھا دو</title><content type='html'>بچپن سے لیکر آج تک اس بات کو سمجھنے میں دقت محسوس کرتے آ رہے ہیں ۔ کہ مجھے کیا ہونا چاہئے تھا ۔ ڈاکٹر ، وکیل ، پروفیسر  ، سیاستدان یا پھر بزنس مین ۔ کسی کے قریب سے ہو کر گزر گئے ۔ کسی نے ہمیں قریب نہ پھٹکنے دیا ۔ بہت کچھ بن کر بھی کچھ نہ بن سکے ۔ جو رنگ اپنایا  ۔ آنکھوں کو چندھیا دیتا ہے ۔ مگر جو دیکھ لیں پھر گہرے اور پکے رنگوں کی طرح اپنا اثر نہیں چھوڑتا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تعلق ضرور  چھوٹتے رہے ہیں اور رہیں گے ۔ اتنا آسان ہے یہ کہہ دینا کہ آئی ڈونٹ کئیر ۔ایک نسل سے  تعلق رکھنے والے چوپائے ایک دوسرے کے لئے خطرہ نہیں ہوتے ۔ مدمقابل مخالف جنس رہتی ہے ۔ مگر ہمارے مقابل ہمیشہ میرے اپنے رہتے ہیں ۔جو ہماری طرح ہی سنتے بولتے چلتے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شائد ہم وقت سے پہلے بوڑھے ہو  جاتے ہیں۔ستر اسی سال کی زندگی چند گھڑیوں سے زیادہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں  پیچھے مڑ کر دیکھیں  تو  چند لمحوں میں زندگی فلم کے ٹریلر کی طرح چل جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آنے والا دور وقت اور حالات کی بہتری کے انتظار میں خواہشوں کے بل پر  صدیوں پر چلا جاتا ہے ۔  جب خواہشیں خوشی کی آرزو پر ہوں تو  حسرتوں کے پنپنے میں ماحول کو سازگاری کے لمحات میسر آتے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہر  طرف من موجی متوالوں کا رش بے مہار ہے ۔  ایک بار جینے کی ایسی لغت کا استعمال کرتے ہیں کہ جینا ایک وقت کے بعد لعنت  بن کر رہ جاتاہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گاڑی نئی ہو یا پرانی ، گیس تیل کے بنا دھکے سے دھکیلنے کے قابل رہتی ہے ۔ بے احتیاطی ، تیز رفتاری  اس کے پرزوں کی مدت معیاد  کو کم کر دیتا ہے ۔ اور اس کی قدر و قیمت بھی نام سے نہیں کام سے رہ جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بچوں میں گڑا  ،گڑیوں کے شادی کے دور کا خاتمہ ہو گیا ۔ جب وہ اپنے بچپن کے بچپنے میں جوانی  میں نبھانے کے رشتے معصوم خیالات سے کھیل کود میں سیکھ جاتے تھے ۔ لڑکیاں سگھڑ پن کی انتہا تک پہنچ جاتی تھیں ۔ لڑکے تابعداری میں زنان خانہ میں گھنگھارتے ہوتے گزرتے ۔ اب  اتنے گھر میں کمرے نہیں جتنے دروازے ہوتے ہیں ۔ ہر دروازہ ایک گھر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ جس سے آگے جانا دستک کے بغیر ممکن نہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کتابوں نے انسان کو اتنا عالِم بنا دیا کہ سارا عالَم اس کے سامنے عام ہو گیا ۔سوچ علم کے تابع ہو گئی ۔ شاگرد ختم ہو گئے ۔ استاد زمانہ جنم لے چکے ۔جن کی   کتابوں نے پڑھنا سکھایا وہ اب پھر کتابیں کھولے بیٹھے ہیں ۔ کہ کہاں وہ  ایسالکھ بیٹھے ۔ کہ وہ  دوبارہ پڑھنے پڑ گئے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1383872134169282697?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1383872134169282697/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_28.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1383872134169282697'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1383872134169282697'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_28.html' title='جینے کا ڈھنگ ہمیں بھی سکھا دو'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1039006550559801023</id><published>2011-01-10T22:34:00.000-08:00</published><updated>2011-03-05T16:44:17.346-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ایمان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اللہ'/><title type='text'>رضوان سے ایک تعارف</title><content type='html'>چند روز ہوئے ایک سیاہ فام نوجوان میرے پاس ایک کاروباری کمپنی کی طرف سے آیا ۔ اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ۔ کچھ کمپنی کےفضائل پیش کرنے کے بعد اپنا فون نمبر نام کے ساتھ چھوڑ کر اجازت چاہی ۔ میں نام دیکھ کر چونک گیا ۔ &lt;br /&gt;رضوان !&lt;br /&gt;یہی نام تھا اس کا ۔ میرے استفسار پر بتایا کہ چار سال پہلے اس نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ ایک بیٹے کا نام ابراہیم اور دوسرے کا عمر رکھا اس نے ۔ میرا نام جاننے کے بعد اپنے ٹرک میں سے قرآن پاک ،  انگلش ترجمہ اور کئی ایک اسلامی کتب نکال لایا ۔ میں حیرانگی سے اسے دیکھتا رہا کہ کام کے دوران میں اتنی کتب کا کیا کام ۔ میرے سوال پر اس نے بتایا کہ جب بھی اسے دوران ملازمت وقت میسر ہوتا ہے اللہ سبحان تعالی کے ذکر سے مستفید ہوتا ہے ۔ اور اپنی زندگی کو صحیح اطوار پر  رکھنے کے لئے   اسلام کے لافانی اور لاثانی ضابطہ حیات  کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے مطالعہ کرتا ہے ۔ &lt;br /&gt;وہ تو چلا گیا مگر اپنے پیچھے میرے لئے کئی سوال چھوڑ گیا ۔ اللہ اور اس کے محبوب کے ذکر سے کتنا خوش تھا ۔جو اس کے چہرے سے عیاں تھا ۔ اور مجھے بھی ان کتابوں کا حوالہ دئیے جارہا تھا ۔ اور میں بھی اس کے اشتیاق میں برابر دلچپسی لیتا رہا ۔ &lt;br /&gt;ایک لمحے کے لئے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اسے اپنا تعارف پیش کروں کہ کس ملک کی مٹی سے میرا تعلق ہے ۔ کن اسلاف کی نیابت میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد وطن پاکستان حاصل کیا ہے ۔ نوجوانوں اور بوڑھوں کو تیغ زن کیا گیا ۔ بچوں کو نیزوں میں پرو دیا گیا ۔ لڑکیوں کو ہوس کے پجاریوں نے ایک لاش بنا کر اپنی دھرتی پر زندہ درگور کر دیا ۔ &lt;br /&gt;لیکن ہم اپنے مقصد سے نہیں ہٹے ۔ پہلے بھی ہم میں غازی علم دین شہید پیدا ہوتے رہے ۔ ہندو کو اتنی جرآت نہیں دی کہ وہ ہمارے اسلام یا ہمارے ایمان پر نشتر چبھو سکے ۔ اٹوٹ انگ کا اس کا خواب چکنا چور کر دیا ۔ اس کے مغرب اور مشرق دو بازوؤں پر مشتمل پاکستان گھیرا ڈالے تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ہماری گرفت سے نکالنا چاہ رہا تھا ۔ اور ہم ایک دوسرے کی گرفت سے ۔ &lt;br /&gt;دلوں کی کھیتی جو ہری بھری تھی ۔ جو ذکر سے کھلی کھلی تھی ۔اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ساری توانائیاں خرچ کر دی گئی ۔ پہلے بازو کی گرفت ڈھیلی پڑی پھر ایک دوسرے سے ہی آزاد ہو گئے ۔ اب مشرق اور مغرب صرف سورج کے لئے ہیں ۔ اب ہم صرف مغرب ہیں ۔ مشرق ہمارا سنہ 71 میں غروب ہو چکا ۔ آج ہم مغرب سے طلوع ہونے کو دنیا کے لئے پیغام بننے جا رہے ہیں ۔ &lt;br /&gt;میں حیران تھا کہ رضوان شائد ہماری نئی تاریخ سے بھی آگاہ نہیں ۔ ہم اپنی ہی مساجد کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں ۔ پٹاخوں کی گونجدار آواز میں خون کے فوارے بہانے میں سکون پاتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;ہم سب ----  ہیں ۔ نعوذبااللہ ۔ کیونکہ ہم ایک دوسرے کو اس نام سے پکارتے ہیں ۔ ہمارے عقائد ہی  ہمارا دین ہے ہمارا اسلام ہے۔  جو ہمارا امام ہے ۔ ایک دوسرے کو  ایسے طعنے دیتے ہیں ۔ کہ پاکستان پاک نہیں رہ جاتا شرکستان معلوم ہوتا ہے ۔ جو دوسرے کریں وہ غلط جو ہم کریں وہ ٹھیک عین اسلامی جو قرآن و سنت سے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے ۔ &lt;br /&gt;رضوان تم کتنے بھولے ہو مجھے قرآن پاک اور احادیث کی کتب کا بتا رہے ہو ۔ ہم مہینوں سالوں اس پر بحث کر سکتے ہیں کہ کون علمی بد دیانتی کر رہا ہے ۔ کس کے عقائد فاسق ہیں ۔ ہم اتنی جلد متفق نہیں ہوتے ۔ عمل اگر نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں وہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ سمجھا جاتا ہے ۔ ہمیں تو حکم ہے صفیں درست کرنے کا ۔ اعمال کی درستگی اتنی ضروری نہیں سمجھتے ۔&lt;br /&gt;کیا کہا تم نے چار سال پہلے شہادۃ پڑھی کہ&lt;br /&gt;میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔&lt;br /&gt;مگر یہ جاننا تمہارے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا مقام کس حد تک ہے کیونکہ اب تم جس مذہب میں داخل ہوئے ہو وہاں تمہیں ان سوالات کا بھی جواب دینا پڑ سکتا ہے ۔ &lt;br /&gt;جتنا تم جان جاؤ دوسروں تک پہنچاؤ بلکہ انہیں منوانے تک جاؤ ۔ علم کا اتنا پانا ضروری نہیں ۔ دس بیس کیسٹس میں تیار لیکچر تمہیں اسلام کے دائرہ میں داخل صحیح افراد کی نشاندہی کر دیں گے ۔ ہاتھ آیا موقع گنوایا نہیں جاتا یہاں ۔ ایک دنیا پرست ، مفاد پرست کی بنیاد پر ساری امت کے ایمان کو دھویا جا سکتا ہے ۔&lt;br /&gt;زیادہ گہرائی میں مت جانا کہ ہم نے صدام حسین کو عالم اسلام کا ہیرو کیوں بنا دیا تھا جب کہ اس نے ایک ہمسایہ اسلامی ملک کویت پر قبضہ کر لیا تھا ۔ کیوں  ہر کار ، ویگن اور  دوکان پر صرف اسی کا پوسٹر چسپاں تھا ۔ملک کی  تاریخ میں شائد ہی اس سے زیادہ پوسٹر کسی کا فروخت ہوا ہو ۔&lt;br /&gt;یہ سوال  بھی ہم سے نہ پوچھنا کہ اکثر اسلامی ممالک میں موروثی بادشاہت ہمیں قبول کیوں ہے ۔لیکن ہمارے ہاں تمہیں بادشاہت نہیں ملے گی ۔ کیونکہ ہم صرف موروثی سیاسی و مذہبی قیادت پر یقین رکھتے ہیں ۔ &lt;br /&gt;جو ملک ووٹ ، عوامی سپورٹ  سے بنا تھا اب لوٹ کھسوٹ سے چلتا ہے ۔ &lt;br /&gt;ایک بات کا خیال رکھنا قدم بوسی کی اجازت چاہنے کا استعمال کبھی غلطی سے بھی نہ کرنا ۔ بے علم بھی نسبت رتبہ سے سجدہ تک پہنچا دے گا ۔  ہندوستان کے ہر دلعزیز بادشاہ اکبر اعظم کے دین الہی کا مطالعہ شائد تمہیں مدد دے سکے  ۔ یہ بادشاہ تو نہیں مگر شاہ گری کے کمالات سے بخوبی واقف ہیں ۔ دنیا کے خزینے سمیٹتے اور اللہ کی رحمتیں بانٹنے کے دعوےدار ہیں ۔&lt;br /&gt;مگر رضوان ! &lt;br /&gt;یہ سو فیصد حقیقت نہیں ۔&lt;br /&gt;اکثریت کا  ایمان تو اللہ سبحان تعالی اور اس کے پیارے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھتا نہیں ۔ جتنا سمجھنے کے لئے سوچ لیتےہیں ۔ ڈر ختم نہیں ہوتا کہ کہیں اللہ تعالی کی حدود سے نہ آگے بڑھ جائیں ۔&lt;br /&gt;ہم کسی کو بھی برا نہیں کہ سکتے کیونکہ سب ہی  اللہ سبحان تعالی  کےنام لیوا ایمان کے خزینوں سے بھرے قلب رکھتے ہیں ۔ ہم گناہگاروں سے بہت اچھے ہیں ۔&lt;br /&gt;یہ دعا ہے کہ ہمیں ایمان کی سلامتی اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;object width="320" height="266" class="BLOGGER-youtube-video" classid="clsid:D27CDB6E-AE6D-11cf-96B8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0" data-thumbnail-src="http://0.gvt0.com/vi/YsLqiBnva-w/0.jpg"&gt;&lt;param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/YsLqiBnva-w&amp;fs=1&amp;source=uds" /&gt;&lt;param name="bgcolor" value="#FFFFFF" /&gt;&lt;embed width="320" height="266" src="http://www.youtube.com/v/YsLqiBnva-w&amp;fs=1&amp;source=uds" type="application/x-shockwave-flash"&gt;&lt;/embed&gt;&lt;/object&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1039006550559801023?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1039006550559801023/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_10.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1039006550559801023'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1039006550559801023'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_10.html' title='رضوان سے ایک تعارف'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-4705398751542611383</id><published>2011-01-08T19:52:00.000-08:00</published><updated>2011-01-08T19:52:25.642-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='بر عنبرین'/><title type='text'>غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا</title><content type='html'>غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا&lt;br /&gt;تمہیں شائد اچھا ہوا مگر برا تو میرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کہاں رہ گئیں ساون رُت کیا ابرِ برسات ہوئی&lt;br /&gt;زندگی کو عزیز جانا مگر اس کو میں برا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دامن کو میں نے پھیلایا سینہ بہ سینہ چھپایا&lt;br /&gt;رازِ زباں رہتا کاغذ پہ قلمِ بیاں ٹھہرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بلبل نغمہ سرا ہوا تو کوئل نے چپ سادھ لی&lt;br /&gt;خوفِ صیاد سے شاہیں کا گنبدِ سلطانی پہ بسیرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ٹھوکر پہ تھا جن کے زمانہ خود سے ستائے ہوئے&lt;br /&gt;آغوشِ محبت میں بھی تحفظ ارمان ڈرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آرامِ جہاں میں بے چین زماںِ گنجان میں انجان&lt;br /&gt;ماہی بے آب کا ہے رقص تماشائیوں نے گھیرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مدحت سرائی میں جھولاتے جھولا زہر بھرے ہیں خنجر آستین&lt;br /&gt;جگاتے کیا غفلت شب سے ضمیر تو ہے مرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمود راہ تو اچھی تھی سفر تیرا کچھ مشکل ہوا&lt;br /&gt;منزل شب تو اچھی تھی دن کا اب سویرا ہوا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بر عنبرین  /  محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-4705398751542611383?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/4705398751542611383/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_4859.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4705398751542611383'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4705398751542611383'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_4859.html' title='غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2033498343631470765</id><published>2011-01-08T19:35:00.000-08:00</published><updated>2011-01-08T19:35:34.723-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='بر عنبرین'/><title type='text'>بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر</title><content type='html'>بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر&lt;br /&gt;بے نام و نشان میں سوتی قسمت تو کھوتی تقدیر &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;روحِ روشن سے ہے جلتے چراغ میں روشنیٔ قلب&lt;br /&gt;وہمِ طوفاں سے بْجھتی ایمان کفِ دستگیر&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چاہتا ہوں ہر چراغ سے ایک ہی امیدِ کرنِ صبح&lt;br /&gt;الفاظِ اوراق میں الگ رنگِ تفسیر بشیر و نذیر&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2033498343631470765?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2033498343631470765/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_08.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2033498343631470765'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2033498343631470765'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post_08.html' title='بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-342394071915839184</id><published>2011-01-02T18:48:00.000-08:00</published><updated>2011-01-02T22:04:25.176-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک'/><title type='text'>درِ دستک   سے چند اقتباس</title><content type='html'>یو ٹیوب پر دیکھیں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;object class="BLOGGER-youtube-video" classid="clsid:D27CDB6E-AE6D-11cf-96B8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0" data-thumbnail-src="http://i.ytimg.com/vi/rjrkHO9zvmA/0.jpg" height="266" width="320"&gt;&lt;param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/rjrkHO9zvmA?f=user_uploads&amp;c=google-webdrive-0&amp;app=youtube_gdata" /&gt;&lt;param name="bgcolor" value="#FFFFFF" /&gt;&lt;embed width="320" height="266" src="http://www.youtube.com/v/rjrkHO9zvmA?f=user_uploads&amp;c=google-webdrive-0&amp;app=youtube_gdata" type="application/x-shockwave-flash"&gt;&lt;/embed&gt;&lt;/object&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-342394071915839184?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/342394071915839184/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/342394071915839184'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/342394071915839184'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2011/01/blog-post.html' title='درِ دستک   سے چند اقتباس'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-9095568290182494511</id><published>2010-12-30T18:08:00.000-08:00</published><updated>2010-12-30T18:08:53.013-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک ،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='بر عنبرین'/><title type='text'>تمہاری یاد کے آنسو</title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TR05JNExMMI/AAAAAAAAAJc/ykfU4L4wtxs/s1600/Nature_-_Wallpaper_for_Windows_7_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left:1em; margin-right:1em"&gt;&lt;img border="0" height="300" width="400" src="http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TR05JNExMMI/AAAAAAAAAJc/ykfU4L4wtxs/s400/Nature_-_Wallpaper_for_Windows_7_1.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TR05JaUoxwI/AAAAAAAAAJk/2A-JF0IEKV4/s1600/%25D8%25AE%25D9%258A%25D8%25A7%25D9%2584%2B%25D8%25A8%25D8%25B2%25D9%2585%2B%25D9%2585%25D9%258A%25DA%25BA%2B%25D9%2585%25D9%258A%25D8%25B1%25D9%258A%2B%25D9%2585%25DB%2581%25D9%2585%25D8%25A7%25D9%2586_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left:1em; margin-right:1em"&gt;&lt;img border="0" height="292" width="400" src="http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TR05JaUoxwI/AAAAAAAAAJk/2A-JF0IEKV4/s400/%25D8%25AE%25D9%258A%25D8%25A7%25D9%2584%2B%25D8%25A8%25D8%25B2%25D9%2585%2B%25D9%2585%25D9%258A%25DA%25BA%2B%25D9%2585%25D9%258A%25D8%25B1%25D9%258A%2B%25D9%2585%25DB%2581%25D9%2585%25D8%25A7%25D9%2586_1.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-9095568290182494511?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/9095568290182494511/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/12/blog-post_30.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/9095568290182494511'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/9095568290182494511'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/12/blog-post_30.html' title='تمہاری یاد کے آنسو'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TR05JNExMMI/AAAAAAAAAJc/ykfU4L4wtxs/s72-c/Nature_-_Wallpaper_for_Windows_7_1.gif' height='72' width='72'/><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8742176714973507164</id><published>2010-12-21T18:12:00.000-08:00</published><updated>2010-12-21T18:12:24.256-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='محبت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>ایک بے وفا کے نام</title><content type='html'>تجھے اپنا بنانے کی قسم تو نہیں کھائی تھی ۔ مگر تجھے چھوڑنے کے ارادے کا گناہگار بھی نہیں ۔ تیری یادیں نسیم صبح کے جھونکے تھے ۔ ہواؤں پہ رقص کرتی تیرے قہقہوں کی کھنک کانوں میں سرگوشی میں مستی کرتی ۔میں بھولا کہ زمین سے دور اُٹھتے تمازت آفتاب میں کیسے سہم جائے گی نسیم سحر ۔&lt;br /&gt;جنہیں یاد تھا اپنا درد، قصہ سنا کر اپنی راہ پر چل دئے ۔ دھول میں اُڑتے جیسے بادل۔یادیں آنکھوں سے بہہ بہہ کر گر پڑے ۔کفن پہنی رہ گئی حسرتیں ۔ آرزوؤں نے غسل دیا ۔خواہشوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی ۔&lt;br /&gt;جنازہ صرف پڑھایا گیا ۔ دفنایا خود سے گیا ۔&lt;br /&gt;لوٹ پھر سے گئی حسرتیں ، آرزؤئیں ،خواہشیں ۔&lt;br /&gt;پھر کندھوں پہ سجائے کسی اور کو دفنانے ۔&lt;br /&gt;صدیوں سے لحد میں اتار اتار کر پھر لوٹ جاتیں کسی بے وفا کی طرح ۔نئے محبوب کی تلاش میں جو ہاتھ بڑھائے خود مرنے کی آرزو میں مچل مچل جاتے ۔&lt;br /&gt;ایک کے بعد ایک اپنا کھو تے چلے گئے مگر بے وفائی سے دامن اپنا نہ بچا سکے ۔ بچایا بھی تو صرف دو گز زمین ۔ اپنے ہاتھوں سے جس کی آرائش نہیں ۔ فرمائش کی تو گنجائش نہیں ۔ کھلے آسمان سے جو ڈرتے بند زمین میں رکھتے پناہگاہیں ۔&lt;br /&gt;فیصلہ ہوتا جو ایمانی ۔ رکھتا نہیں وہ پریشانی ۔&lt;br /&gt;شمع بزم میں ہے جلتی ۔ بزم شمع سے نہیں چلتی ۔&lt;br /&gt;حجاب میں رہتا محبوب ۔ بے پردہ ہوتی محبت ۔&lt;br /&gt;حال دل تو ہے پاک ۔آنکھ میں نفس مقید حیات ۔&lt;br /&gt;چھونا جان سے چھوٹ جانے میں ۔ لفظ محبت پانے میں ۔مایوسی چھوٹ جانے میں ۔&lt;br /&gt;لفظوں کی دستک دھڑکنوں تک جا پہنچیں ۔ قربتوں میں جو دوریاں کم پڑیں ۔ فاصلے سمٹتے سایہ بن کر وجود میں سما گئے ۔&lt;br /&gt;کس سے کہوں حال دل ، جزبات میں جو بہہ نکلے ۔وہ خواہشیں ، وہ آرزؤئیں ، وہ چاہتیں ، وصل کی بندشیں ، ٹوٹ جانے کی صدائیں ،&lt;br /&gt;تیریاں مجبوریاں، تیرے رشتے ،تیری بندشیں ،تیرا سر خم تسلیم شہنائیوں کے بجنے پر جھکتا گیا ۔&lt;br /&gt;میرے ٹوٹے دل کے تار بجتےبجتے ٹوٹتے رہے ۔&lt;br /&gt;تیری سچائیاں ، تیری قسمیں ، تیرے وعدے تیری طرح بے وفا نکلے ۔&lt;br /&gt;میرا بھولپن، میرا بچپن، میری سادگی، میری سچائیاں ، میری پہلی محبت کی داستانیں ،میری وفا نکلے ۔&lt;br /&gt;ٹوٹا ایک رشتہ، تو نے دلاسے سے جوڑنا چاہا ، ٹوٹا جس کا میں وجود تھا ۔تو نے محبت سے جوڑنا چاہا ۔&lt;br /&gt;ٹوٹا جس کا میں فخر تھا ۔تو نے وفاؤں کے گھیرے میں سلا دیا ۔&lt;br /&gt;یہ کیسی عجب شام ہے ۔نیلگوں آسمان بھی آج کالی چادر اوڑھنے کے لئے بیتاب نہیں ۔&lt;br /&gt;ستارے اوٹ سے چھپ چھپ کر چمکتے بجھتے مجھ پر ہنستے یا منہ چھپاتے ،سامنے نہیں آتے ۔&lt;br /&gt;دلوں پہ دستک دینے والوں کندھوں پر جانے کا وقت تم پر بھی آئے گا ۔آرزؤئیں ، خواہشیں تمہیں بھی بے وفائی کے کفن میں دفنائیں گی ۔&lt;br /&gt;کھلونوں سے کھیلتی ، محبتوں میں پلی ، رشتوں میں جڑی جوانی خود پرائی آگ میں جو کود پڑی ۔&lt;br /&gt;محبت جلتی پر تیل کا کام کر گئی ۔پہلے تپش سے گرمائی، اب آگ سے جل گئی ۔&lt;br /&gt;جو تریاق تھے وہ زہر بن ڈستے رہے ۔جو کنارے تھے وہ بے رحم لہریں بن ڈبوتی رہیں ۔&lt;br /&gt;جن کے آنے سے زندگی کی امید ہوئی وہ لوٹے تو موت کا سکوت چھوڑ گئے ۔ بے وفائی کے ظالم ہاتھ نے سچائی کا گلا گھونٹ دیا ۔ سانس لینے سے جو دل کی دھڑکن تھے ۔ سانس لینے کے دشمن ہو گئے ۔&lt;br /&gt;پلٹ کر مت دیکھ میں تاریک جنگل کا مسافر نہیں ۔راستے میرے ہمسفر ہیں ۔ درخت میرے ہمراز ہیں ۔کلیاں میرے مسکرانے کے انتظار میں ، ہوائیں آہ کی چاہتوں کی بے قراری میں ۔&lt;br /&gt;یہ ایک کہانی ہے جو میری زبانی ہے ۔&lt;br /&gt;آنکھوں میں جن کے پیاس ہے ۔ قلب ایسے پر رکھتا قلب آس ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نوٹ !&lt;br /&gt;آن لائن کسی کی محبت کے انجام کو پڑھ کر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے ۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8742176714973507164?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='related' href='http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DA%88%D8%A7%D8%A6%D8%B1%DB%8C/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%DB%92-%D9%88%D9%81%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-47054/' title='ایک بے وفا کے نام'/><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8742176714973507164/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/12/blog-post_21.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8742176714973507164'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8742176714973507164'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/12/blog-post_21.html' title='ایک بے وفا کے نام'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3813660456907577834</id><published>2010-12-12T13:39:00.000-08:00</published><updated>2011-03-05T16:46:44.081-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں</title><content type='html'>ہمارے ادارے کو ایک&amp;nbsp; کے میل (خیالی ای میل ) میں یہ خط موصول ہوا ہے جسےادارہ اپنی نیک نیتی سے مشتہر کر رہا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خط کا متن !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی ہے ۔ لہذا ضرورت مند پارٹیاں اپنے مکمل کوائف اور منشور کے ساتھ رابطہ کریں ۔ خاص طور پر سابقہ کارگزاری کا چارٹ منسلک کرنا نہ بھولیں ۔ جس میں منافقت ، ریا کاری ،مالی بے ضابطگی ، اقربا پروری اور رشتہ داروں کو نوازنے کی تفصیلات الگ الگ کالموں میں تفصیلا بیان ہوں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شرائط :&lt;br /&gt;اس بات کی یقین دہانی ضروری ہے کہ جو عہدہ یا رتبہ مجھے عنائت ہو میری زندگی کے بعد میری اولاد کا اس پر حق تسلیم کیا جائے گا ۔&lt;br /&gt;مال کی بندر بانٹ میں مجھے حق سے محروم کرنے کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ اور اس کی تلافی کے لئے علاقے کی نالیوں اور نالوں کی صفائی میں %25 کمیشن رکھا جائے گا ۔&lt;br /&gt;پارٹی صدارت کے لئے انتخابات کے مطالبے کے خلاف دھرنہ دینے کی صورت میں ایل پی جی کا پرمٹ اور ٹیکس کی عدم ادائیگی پر قانونی چارہ جوئی سے تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔&lt;br /&gt;آبدوزوں کے کمیشن ،چینی کی گراں فروشی اور ڈیزل، تیل کی قیمتوں میں ہیر پھیر سے حاصل قیادتی آمدن کا کم از کم %0.00001 لندن میں میرے لئے فلیٹ خریدنے کے لئے مختص کیا جائے گا ۔&lt;br /&gt;اسمبلی کے پلیٹ فارم ( اگر پارٹی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے کے بعد ممبر بن پایا تو ) اور ٹی وی مناظروں ( اگر اینکر بغیر رقم لیے دعوت دیں تو ) میں جیوے جیوے کہنے اور گلا پھاڑ کر مخالف دھڑے پر لعن طعن کرنے کے عوض میرے حلقہ کی کم از کم تین زکواۃ کمیٹیوں کے فنڈز غریبوں ناداروں یتیموں بیواؤں میں تقسیم میرے بینک اکاؤنٹ سے کی جائے گی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اہلیت :&lt;br /&gt;میری اہلیت کا سب سے بڑا ثبوت اور گارنٹی یہ ہے کہ میرے دور و نزدیک خاندان کے اباؤاجداد میں سے کسی کا بھی تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہیں رہا ۔&lt;br /&gt;قائدین تحریک سے تو تعلق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اگر تعلق ثابت ہو جائے تو جو چور کی سزا وہ میری ۔&lt;br /&gt;قوم کی تکلیف اور دکھڑے سننے پر نیند زیادہ اور بھوک بڑھ جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;ایک کان سے سننے اور دوسرے کان سے نکالنے کا سیاسی مزاج رکھتا ہوں ۔&lt;br /&gt;عوامی مسائل پر مگر مچھ کے آنسو بہانے میں اپنا کوئی ثانی رکھتا ۔&lt;br /&gt;لوگوں کو بیوقوف بنانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ جو بچپن سے بڑوں کی سرپرستی میں کھیلتا آرہا ہوں ۔&lt;br /&gt;منافع خوروں ، ٹیکس چوروں ، زخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ خوروں میں رہ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے ۔&lt;br /&gt;ہمارا یہ بھی ماننا ہے کی ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں ۔&lt;br /&gt;آقاؤں کی شخصیت پرستی میں ہمارے خاندان کا دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں ۔&lt;br /&gt;اس کے علاوہ سیاست میں گندگی پھیلانے کی ہماری مثالیں دی جاتی ہیں ۔&lt;br /&gt;انسانوں کے علاوہ بیشتر جانوروں اور پرندوں کی عادات و اطوار کا بنظر طائر مشاہدہ کر چکے ہیں ۔&lt;br /&gt;صرف امن کی فاختہ کو سمجھنے کا وقت نہیں ملا ۔&lt;br /&gt;مکاری میں لومڑی ، بھوک میں شیر اور وفاداری میں کتے سے بہت متاثر ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;موقع پرست&lt;br /&gt;ایک آدنی درخواست گزار&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نوٹ : ادارہ خط کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3813660456907577834?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3813660456907577834/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/12/blog-post.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3813660456907577834'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3813660456907577834'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/12/blog-post.html' title='ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-7441162534075836027</id><published>2010-09-09T21:27:00.000-07:00</published><updated>2011-03-05T16:44:53.449-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='والدین،اولاد'/><title type='text'>حق کیسے ادا ہو</title><content type='html'>بحیثیت انسان ہمیں  یہ حق حاصل ہے کہ  اپنی زندگی عقل و شعور و دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے  اچھائی میں یا برائی سے مبراء گزاریں ۔کسی  کو پابند نہیں کیا جا سکتا  کہ زمانہ کی مرضی و منشاء  اور حدودو قیود کے اندر اپنا  ما فی الضمیر  بیان کرے ۔ جینے کی چاہت ہر زی روح میں ہوتی ہے ۔ حشرات سے لے کر جانور  اور پرندوں تک  اپنی جان کی حفاظت  کرتے ہیں  ۔ اور رزق کی تلاش  میں سرگرداں  رہتے ہیں ۔اس احساس سے خالی کہ ان  کا آنے والا کل  کیسا ہو گا ۔&lt;br /&gt;تکلیف کے احساس سے بچنے  اور آرام کے پل  پانے کے لئے جستجو و تلاش کے راستے کھلے  رہتے ہیں ۔ جب انہیں بند کرنے کا خیال پیدا ہو  یا کوشش کی جائے ۔ تو پھر کسی اور منزل  کی امید  پیدا ہو جاتی ہے ۔جستجو  و تلاش کا سلسلہ  کبھی ختم نہیں ہوتا ۔کتنے ہی لوگ ہیں  جو ایسی زندگی گزارتے ہیں ۔ان  میں   زیادہ تر کا  انحصار  تلاش پر ہوتا ہے ۔جو خواہشوں سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اور خواہشیں ارد گرد کے ماحول  سے کھڑے پانی  سے بخارات بن کر خواہشوں کے بادل  بننے  کے عمل  کا شکار  رہتی ہیں ۔ مقصد کے حصول  تک زندگی  میں ہلچل  پیدا کرنے کے اسباب خود بخود پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ انگلی پکڑنے  والے تو سبھی ہوتے ہیں ۔ مگر ہاتھ دینے والا کوئی کوئی ۔باتوں سے تسلی و تسفی تو  دی جا سکتی ہے ۔مگر غم و تکلیف کامداوا   نہیں ہو سکتا ۔ سبھی اپنے مفادات کو  اولین  ترجیح دیتے ہیں ۔اجتماعی مفاد کی بات اس لئے نہیں کی جا تی ۔ دوسرے کی خوشی میں خوش ہونا اعلی ظرفی کا متقاضی ہوتا ہے ۔ زیادہ تر آگے بڑھنے والے  ایک آنکھ نہیں بھاتے ۔ دوسرے کی کامیابی و کامرانی  کو عدم برداشت  کی بنا  پر اپنی ناکامیوں  اور خواہشوں  کے ادھورے پن  کی عینک سے دیکھتے ہیں ۔بہت مشکل ہے اس بات کو سمجھنا  کہ کسی اور کو بھی پریشانی پریشان کر سکتی ہے ۔ صرف اپنے مسائل پہاڑ کی چوٹیوں  کی طرح  دوسری طرف  کھائیوں  پر نظر جانے ہی نہیں دیتے ۔&lt;br /&gt;ماں باپ کو چھوڑ کر جانے والے کسی بھی امتحان اور آزمائش  سے بری الزمہ  ہو جاتے ہیں ۔ اور ساتھ رہ جانے والی اولاد  بھوکی مر رہی ہو  تو ہر جگہ تعریف و تحسین  کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔زبان پر تحسین و داد آفرینی کے کلمات  بناوٹ گوٹہ کناری سے مزین شال  سے  سایہ کرتے ہیں ۔ اور اگر خوشحالی میں وہی اولاد چلی جائے  تو حسد   ونفرت کی آگ میں جلتے  بھی اور جلاتے بھی ہیں ۔ مفاد پرستی اور کینہ پروری جو بن پر رہنے کے باوجود موقع پرستی  اور  مٹھاس  بھرے رویے کڑواہٹ  کو دل میں ایسے چھپا کر رکھتے ہیں کہ چہرے کی منافقت  مماثلت  کے فارمولے  سے بھی  حل نہیں ہو پاتی ۔&lt;br /&gt;اچھائی سے کیا مراد لی جا سکتی ہے ۔پاگل پن  یا اپنا پن ۔  دنیا میں اس سے بڑا کیا امتحان ہو گا  ۔ انسان اپنی اولاد  کے لئے  تو ہر مشکل وقت اور کھٹن حالات کا سامنا خوش دلی  سے کرے ۔ مگر والدین  کا احسان  پانی کی سطح پر بنتے بلبلے سے زیادہ نہ ہو ۔ &lt;br /&gt;شکوے توپ کے دھانہ سے اگلتی  آگ کی مانند  سامنے کھڑے دوست  و دشمن کی پہچان بھی نہیں رہنے دیتے ۔ تاریخ میں ظلم  و نا انصافی کے خلاف بغاوتیں  اُٹھا کرتی  تھیں ۔ آج حالات کا تقاضا  ہے کہ بغاوت  صرف اپنے خلاف ہی کی جا سکتی ہے  معاشرے سے کٹ کر رہنے کی ۔ شیر گھاس  کھانے پر مجبور ہو تو  وہ جنگل کا بادشاہ  نہیں کہلا سکتا ۔ مداری کی ڈگڈگی  پر سلام کرنے والی تماشا  تو ہو سکتی ہے  ۔ جنگل کی تماشبین نہیں ۔&lt;br /&gt;ہمیں حالات سے سمجھوتہ کرنے کی مجبوری  کیوں ہو ۔ برائی کو ختم کرنے کا  تہیہ  نہ بھی کریں تو  کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا ۔مگر ایک محاذ ایسا  ہے  جس پر مصلحت پسندی آڑے  نہیں آ سکتی ۔اس پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر اسے ڈھیلا  چھوڑ تے چلے جائیں ۔وہ پھیلتا پھیلتا  اتنا بڑھ جاتا ہے  ۔ کہ وہ فتنہ بن جاتا ہے ۔جس کا آغاز  غرض کی شال  میں لپیٹ کر رکھا  جاتا ہے ۔ انجام کار  نا فرمانی کے لحاف بستر گرماتے ہیں ۔&lt;br /&gt;اللہ کے نافرمانوں  میں صف اول میں  والدین کے نافرمان ضرور ہو ں گے ۔ زمین  میں پیدا کرنے والوں کا جو حق ادا نہ کر سکیں ۔ دنیا میں پیدا کرنے والے کا حق کیا ادا کر پائیں گے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-7441162534075836027?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/7441162534075836027/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_09.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7441162534075836027'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7441162534075836027'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_09.html' title='حق کیسے ادا ہو'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8259426483854564060</id><published>2010-09-06T14:23:00.000-07:00</published><updated>2010-09-06T14:27:30.610-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='روشن عطار'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک'/><title type='text'>اشعار تصویری</title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVOHuCnGOI/AAAAAAAAAI4/pqI2ldVXhLE/s1600/Banda+dunya+chahay_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="300" src="http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVOHuCnGOI/AAAAAAAAAI4/pqI2ldVXhLE/s400/Banda+dunya+chahay_1.gif" width="400" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVT3_ccIHI/AAAAAAAAAJA/67UJ4Xe4_Sg/s1600/kia+main+na+janu_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;span id="goog_1319051326"&gt;&lt;/span&gt;&lt;span id="goog_1319051327"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://4.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVUhxyxMzI/AAAAAAAAAJI/UB6c8lG1fxY/s1600/kia+main+na+janu_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="307" src="http://4.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVUhxyxMzI/AAAAAAAAAJI/UB6c8lG1fxY/s400/kia+main+na+janu_1.gif" width="400" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;a href="http://4.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVZqdQXgqI/AAAAAAAAAJQ/v9G20Yh4fwY/s1600/Teri+Rehmatoo+ka+azfer_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="300" src="http://4.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVZqdQXgqI/AAAAAAAAAJQ/v9G20Yh4fwY/s400/Teri+Rehmatoo+ka+azfer_1.gif" width="400" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8259426483854564060?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8259426483854564060/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_2651.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8259426483854564060'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8259426483854564060'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_2651.html' title='اشعار تصویری'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://1.bp.blogspot.com/_Hj6TpZ6fdaU/TIVOHuCnGOI/AAAAAAAAAI4/pqI2ldVXhLE/s72-c/Banda+dunya+chahay_1.gif' height='72' width='72'/><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-9190196219702515428</id><published>2010-09-06T03:21:00.000-07:00</published><updated>2010-09-06T03:21:30.698-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود، پرچھائی ، نفس ،روشنی،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>میں اور میری پرچھائی</title><content type='html'>اپنی پرچھائی سے ایک بار موقع ملا مجھے کرنے کا کلام&lt;br /&gt;پوچھا روشنی سے ہے تو بچتی رکھتی گرد ہی میرے تو حصار &lt;br /&gt;بولی ہمت نہیں میری  خود کو دور  رکھوں ۔نہیں ہوں میں  وقت  بے مہار  &lt;br /&gt;روشنیوں کا یہ جلوہ کبھی اندھیرے میں بھی دیکھایا ہوتا  &lt;br /&gt;ایک بے مقصد تو چیز ہے روشنیوں کی تشہیر ہے &lt;br /&gt; لاکھوں کے مجمع میں بھی ہے تو بے سروساماں  &lt;br /&gt; ایک دوسرے میں ہے  یوں پیوست اپنا وجود ہی نہیں رکھتی تو ابد &lt;br /&gt;صرف روشنی سے ہے تجھ کو یہ غرض رکھتی ہے انساں کے پیچھے اپنا عکس &lt;br /&gt;اکتا کر وہ گویا ہوئی یوں کہ&lt;br /&gt; بہت سنا لیں ، بہت سمجھا لیں ، کبھی خود کا بھی رکھا تو نے یوں خیال&lt;br /&gt; میں عکس نہیں ہوں تیرا  ۔  میں نفس ہوں تیرا &lt;br /&gt; اندھیروں میں ہوں میں چھپ جاتی ۔روشنیوں میں تم کو سب دیکھاتی &lt;br /&gt;اندھیرے جو تم کو دیکھاتے ہیں ۔پہلے وہ مجھے ہی چھپاتے ہیں &lt;br /&gt; روشنی جب تیرے اگے آتی ہے ۔ میں تیرے پیچھے ہوتی ہوں &lt;br /&gt; میں امیدوں سے جڑی ہوں رسموں میں گھری ہوں&lt;br /&gt; نفس تو ہے عکس آئینہ ۔روشنی سے ہے  رکھتا وہ سامنا &lt;br /&gt;روشنیوں میں  جسم سے نکل کر پھیلتی ہوں &lt;br /&gt;اور اندھیروں میں پھر یونہی جسموں میں سمٹتی ہوں &lt;br /&gt;جوں جوں روشنیوں سے پھیلتی ہوں توں توں نفس سے جکڑتی ہوں &lt;br /&gt;مجھ پہ  جو اتنا غور کیا کچھ اندر  اپنے کا بھی  خیال کیا    &lt;br /&gt; جو تجھے بڑھکاتا ،  بہکاتا روشنیوںمیں ہے  پھیلتا &lt;br /&gt;  پھر اندھیروں میں ہی  وہ سکڑ کر  تیری ذات کانشان بن جاتا  &lt;br /&gt;اب اتنا بھی کیا ضروری ہے  کہ زندگی سے بھی اب دوری ہے  &lt;br /&gt; اے نا سمجھ ناداں انساں اندھیرے تو تیری آنکھوں میں ہیں &lt;br /&gt;   میں تو تیری ذات ہی کا عکس چپکی زمیں پر رہتی ہوں&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-9190196219702515428?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/9190196219702515428/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_06.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/9190196219702515428'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/9190196219702515428'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_06.html' title='میں اور میری پرچھائی'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-6003775860655079428</id><published>2010-09-05T06:48:00.000-07:00</published><updated>2011-03-05T16:45:32.269-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ، ،سیاست،سفینہء محمود،انقلاب،پاکستان،،قومیت،،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>آہستہ چلیں آگے اُچھلو ہے</title><content type='html'>جب سڑک پر کسی قسم کا سائن بورڈ نہ ہو کہ   آگے آپ کے کیا کیا آنے والا ہے ۔ تو پھر آپ کو مطلع کرنے کا کیا طریقہ رہ جاتا ہے ۔ ماسوائے یہ کہ  ہوا میں اُچھال کر ایک ہلکا جھٹکا  باور کرانے کے لئے کافی ہوگا  کہ سنبھل تیرا دھیان کدھر ۔ ون ویلنگ ہو یا تیز رفتار موٹر سائیکل گلی محلے سے گزرنے پر موت کے کنواں کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ایسی لاپرواہی کو روکنے کا ہاتھ سے زمانہ نہیں ۔ کیونکہ ہاتھا پائی سے شرفاء گھبراتے ہیں ۔ بچوں کو اپنے خود ہی سمجھاتے ہیں  کہ بد تمیزوں کو منہ نہیں لگاتے ہیں ۔ زبان درازوں سے بے زبان پتھروں  کو آزماتے ہیں ۔&lt;br /&gt;ترقی یافتہ ممالک میں سڑک پر پیدل چلنا ہو  یا گاڑی چلانا ۔ اصول طے شدہ ہیں ۔ کس کے کیا حقوق ہیں کیا فرائض ہیں ۔ پہلے آئیے پہلے پائیے ۔ بس کے انتظار میں کھڑے ہونے والے  دھکم پیل نہیں کرتے ۔ باری کے انتظار میں چاہے پہلی بس چھوٹ جائے ۔ جلد بازی میں دوسروں کے حق سے  دست بدست نہیں ہوتے ۔پیدل کم ہی چلتے ہیں جو سڑک پر آ جائیں اپنا حق پا لیتے ہیں ۔ کہنے کو تعلیم یافتہ قومیں ہیں ۔ مگر پابندی قانون سے ہےتعلیم سے نہیں ۔تعلیم  شعور دیتی ہے اور قانون سزا دیتا ہے ۔ ڈر سزا کا ہوتا ہے ۔ جسے پڑھا لکھا جلد سمجھ لیتا ہے ۔ غیر تعلیم یافتہ جب تک آنکھوں سے نہ دیکھ لے سزا پر عملدرامد ہوتا ۔ یقین کے دائرہ میں نہیں آتا ۔&lt;br /&gt;بار بار کا رونا نا خواندہ قوموں میں اصول پرستی کا رواج جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ بڑے شہر خونداگی کی شرح میں کسی طرح ترقی یافتہ ممالک سے کم نہیں ۔ مگر حال دیکھ کر یقین سے کہنا مشکل ہے کون کتنا تعلیم یافتہ ہے ۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔میٹرک ،ایم اے ،انجئینر ،پروفیسر ہوں یا کلرک کسی بھی سڑک پر  ایک ہی ڈگری کا پرسان حال ہیں ۔ پوچھنے پر کہ ایسا کیوں  تو جوابا طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہ قانون پر عمل کرنے بیٹھیں سارا دن سڑکوں پر ہی رہیں ۔ جتنا جلد ٹینشن سے نکل جائیں بہتر ہے ۔نکلنے کا کیا کوئی اور راستہ نہیں بچا ۔اب بچانے کو کیا کیا بچا ہے ۔ تفصیل طلب ہے ۔ جب تک کیچڑ نہ اچھالیں تسلی نہیں ہو تی ۔ جہاں کبھی فصلیں تھیں اب وہاں کیچڑ ہے ۔ پھل پھول کی بجائے گھاس پھونس اگے گی ۔ جیسے 1947 میں لگائے گئے باغ میں پھل پھول بار بار کے سفارش، بے ایمانی، خود غرضی  کے  سیلابی ریلوں سے سیاسی کیچڑ سے گھاس پھونس  ہی رہ گئی ہے ۔ &lt;br /&gt;زندگی گزارنے کے لئے کسی سائن بورڈ کی ضرورت نہیں  ۔ اخبارات کو غریبوں کی غیر منقولہ جائدادوں سے محروم کرنے والے لاہور کے  دو سو افراد کی بلیک لسٹ فراہم کرنے سے فرض ادا ہو گیا ۔ جنہیں  بچہ بچہ پہلے ہی جانتا ہے ۔ اب ایسے اخباری اچھلو سے انہیں سزا سے نہیں جرائم کی سپیڈ بڑھانے سے روکنے کی ایک کوشش ہے ۔ قومی ،لسانی ، سیاسی ، مذہبی  اور تعصبی رحجانات  کی بڑھتی فضا میں قائدہ قانون کی کھلی خلاف ورزی  میں صرف چند اچھلو  سے گزارا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ میرا لیڈر سب سے اچھا ، میری سیاسی جماعت سب   سے اچھی ،  میرا رہنما سب سے اعلی ، میری قوم سب سے اچھی ، پھر برا کیا ہے ۔اچھا انسان ہونا ۔ جس معاشرے میں بوڑھے والدین کی خدمت کرنے والی اولاد کو  فتنہ و فساد سے برائی کا شاہکار بنانے کی کوشش ہو وہاں تنگ نظر ، متعصب ، مفاد پرست  اپنی چاہت ایمان گرانی  سے معتبر ی کا ہار پہن لیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;جس فورم میں جھانکیں  نفرت کی ایک آگ ہے جو بڑھکتی نہیں بڑھکائی جاتی ہے ۔ کہیں علم حدیث سے تو کہیں قرآن تفسیر سے بحث و تکرار ہے ۔ ایک طرف نہ تو محفوظ عزادار ہیں اور نہ ہی مزار ہیں ۔بازاروں میں مہنگائی کی ماری خواتین و بچے  بھی زخموں سے چورچور ہیں ۔  کوئی پنجابی کہہ کر غصہ نکالے تو  اردو سپیکنگ غصہ میں  خود پہ قابو نہ رکھ پائے ۔ پختون اپنی آزادی  کا بگل نام سے بجائے۔ بلوچی ناروا سلوک کا شکوہ سنائے ۔ &lt;br /&gt;اسرائیل کشمیر کی فتح کا نعرہ لگاتے لگاتے فلسطین کو آزادی دلاتے دلاتے اختلافات  کے ایسے دلدل میں خود ہی جا پھنسے کہ  برداشت کا مادہ ہی ختم ہو گیا ۔آپ جناب کی بجائے تو تکار سے   سرکار بناتے ہیں ۔ پھر  خوار پھرتے ہیں ۔ محسن قوم کی ڈگری  کا چرچا سنتے ہیں ۔ کردار گفتار کا ذکر خیر ہی نہیں ۔ اصول پسندی کی تقلید نہیں ۔&lt;br /&gt;جسے دیکھو خاموش انقلاب  کی نوید سناتا ہے ۔انقلابات دنیا فرد واحد سے نہیں آیا کرتے ۔ قوم واحد سے آتے ہیں ۔جہاں تنکوں میں بٹا ہو سارا معاشرہ وہاں خواب خرگوش ہی آتے ہیں ۔کاش&amp;nbsp; عمر کئی سو سال ہوتی اور دیکھ پاتے اس عوامی انقلاب کو جو معاشرتی نا ہمواریوں اور نا انصافیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا عکس ہوتا ۔ علامہ اقبال اگر آج  زندہ ہوتے تو دیکھ لیتے کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ &lt;br /&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;بہت خاموشی سے یہاں آئیں بغیر اچھلے گزر جائیں کیونکہ یہ سائن بورڈ ہے جسے پڑھا نہیں جاتا ۔&lt;/span&gt; &lt;span style="color: blue;"&gt;اگر معاشرے کا وہی خربوزہ یعنی فرد ہوتا تو ایک آدھ اچھلو اپنی تحاریر میں لگا دیتا تاکہ اگر اچھا نہ لگے تو برا بھلا میرے حصے میں ضرور آتا ۔ &lt;/span&gt;&lt;span style="color: purple;"&gt;بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا ۔ &lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-6003775860655079428?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/6003775860655079428/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_05.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6003775860655079428'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6003775860655079428'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_05.html' title='آہستہ چلیں آگے اُچھلو ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-6475491076980843255</id><published>2010-09-02T07:59:00.000-07:00</published><updated>2010-09-02T07:59:24.952-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='روشن عطار'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،در دستک ،اردو کلام'/><title type='text'>ردائے رضا میں رہتی عطائے رُبا القرآن</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ردائے رضا میں رہتی عطائے رُبا القرآن&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اتباع محمد ؑ سے پھیلتی  نورِ کشف الفیضان &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جھکتی شاخِ شجر میں ہو پیوست ثمر&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سجدہ نہیں سجدہ جب عمل نہ ہو عکسِ مسلمان&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ٹھہری موجوں سے ہی نسبت رکھتے ہیں ابَر&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ساحلوں کے دل دھل جائیں جب اُٹھتے ہیں طوفان&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;روشن عطار  /  محمودالحق&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-6475491076980843255?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/6475491076980843255/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_02.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6475491076980843255'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6475491076980843255'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post_02.html' title='ردائے رضا میں رہتی عطائے رُبا القرآن'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1504326097690405062</id><published>2010-09-02T07:32:00.000-07:00</published><updated>2010-09-02T07:32:22.168-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='موسلِ بار'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اللہ، دعا،در دستک ،اردو کلام'/><title type='text'>دے اس قوم کو ایسی جِلا</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دے اس قوم کو ایسی جِلا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;یہ پکار اٹھیں یا خدا یا خدا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سمجھ کر یہ تیرا فرمانِ ضیا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اپنی روح کو جسم سے کریں جدا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تائب ہوں جو اپنی خطا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ملیں انہیں فرمانِ اجلِ جزا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تحریص و ترغیب تو ہے ابلیسِ ادا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جو خود ہے وہاں سے نکالا گیا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیرے لیے بھی چاہے گا ویسی سزا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;گر نہ ہو لغزشِ تحریز پا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;آئے ایک ہی صدا یا خدا کرم فرما&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;نہیں ہے وہ تم سے جدا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;قلب تو ہے اسکی نورِ ربا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;خارِ وفا تو ہے ہمیشہ کی فنا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;رضاء خدا ہی کو ہمیشہ بقا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;پہلا پڑاؤ ہے تجھے پھر ہے جانا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اتنی بھی کیا جلدی سانس لے ذرا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;بن گیا ایندھن جو کٹ گیا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;بچ گیا جو جَڑ سے جُڑ گیا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;موسل بار  /  محمودالحق&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1504326097690405062?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1504326097690405062/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1504326097690405062'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1504326097690405062'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post.html' title='دے اس قوم کو ایسی جِلا'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1275371005174664207</id><published>2010-08-30T20:25:00.000-07:00</published><updated>2010-08-30T20:25:10.383-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ادب'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><title type='text'>علم باز گشت</title><content type='html'>حسب معمول بارش کے قطروں کا درختوں پر گرنے کا نظارہ کرنے کے لئے بالکونی میں براجمان ہوں ۔بارش سے بچنے کے لئے چھوٹی چڑیا اپنی ہمجولیوں کے ساتھ میرے پاس ہی کسی محفوظ پناہ گاہ میں چیں چیں جیسی کسی اجنبی زبان میں مصروف گفتگو ہیں ۔جو غور کرنے کے بعد بھی  سمجھ سے بالا تر ہے ۔اور نہ ہی ان کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے  کہ وہ کس موضوع پر سیر حاصل گفتگو  کر رہی ہیں ۔بارش کے رکتے ہی وہ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں  روٹی روزی کی تلاش میں سرگرداں ہو ں گی ۔اگر روزی روٹی کے لالے نہ ہوں تو ہر طرف خاموشی خوف کا سبب بن جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;ہمیں  کئی طرح  سے انسانی تہذیبی معاشرے سے بولنے کے لئے خیالات کی پیوند کاری ملتی ہے ۔  بغور مطالعہ کے بعد چند مفید مشاہدات سے استفادہ پانے کی خواہش جنم لیتی ہے ۔مشاہدات تو اتنے زیادہ ہیں کہ خواہشات پوری کرنے کی دھن  میں لگ جائیں تو کم از کم ایک صدی بھی کافی نہیں ہو گی ۔یہاں میں نے عمر کی بجائے صدی  سے کام لیا ہے ۔طویل زندگی پانے کی امید  اتنی گھمبیرتا  میں ممکن نظر نہیں آتی۔البتہ صدی کے نہ گزرنے میں کسی شک و شبہ کی فی الحال گنجائش نظر نہیں آتی ۔&lt;br /&gt;ابتدائی زندگی کے ایام میں ہم نے وہی بولا ہوگا جو پیدائش کے بعد سکھانا شروع کیا گیا ۔یعنی جب سننا ہی علم کی تحصیل کا مقام تھا ۔پھر تو پڑھائی کا پہاڑ ہے یا پہاڑے ۔شائد اسی وجہ سے بچے سکول میں پڑھائی  کرنے جانے سے پہلے وقت کو بہتر جانتے ہیں ۔جب وقت نہیں ٹھہرتا  تو حصول علم کا تسلسل کیسے تھم سکتا ہے ۔قید میں بوڑھے طوطے سیکھنے کے عمل سے دور ہو جاتے ہیں ۔حافظہ کی کمزوری حافظ حلوہ سے  پوری کرنے کی کوشش بھی  رائیگاں جاتی ہے۔البتہ بادام  کے بارے میں مختلف آراء ہیں ۔ &lt;br /&gt;لکھنا حروف تہجی کا محتاج تو ہو سکتا ہے ۔مگر بولنا کسی کلیہ کے قید و بند میں نہیں ۔ تعلیم و تدریس سے پہلے یقینا انسانی معاشرہ  ہاتھوں ، آنکھوں اور منہ کی بناوٹ سے ہی بولنے اور سمجھنے کے قاعدہ و قانون کی پابندی میں رہا ہو گا ۔اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ پہلے انسان نے بولنا سیکھا پھر لکھنا پڑھنا ۔ اور مشاہدات سے علم ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ۔ اگر انسانی  معاشرے میں حصول علم  کا شوق پروان چڑھتا چلا گیا ۔تو حدودو قیود کی قد غن بھی لگائی جانے لگیں ۔ ایک لکھنا وہ ہے  جس کی بنیاد پر آج انسانی معاشرہ سائنسی ترقی کی معراج پر ہے ۔آغاز جس کا کئی صدیاں پہلے ہوا ۔ اور زیادہ تر علم کی پیاس بجھانے کے لئے تھا ۔&lt;br /&gt;جیسے رائٹ برادرز نے اپنے پیش روؤں کی طرح جو شوق پالا ۔ پیسہ خرچ کر کے پورا کیا ۔ آج جہاز سازی کی صنعت میں اس خاندان کی آجارہ داری نہیں ہے ۔انسان نے جتنی بھی ایجادات کیں ان میں شائد ہی کوئی ایک فی سبیل اللہ ہو ۔گاؤں کے سیدھے سادھے بے روزگار  نوجوان بھی چوبرجی لاہور میں کھڑے بے کار  پی آئی اے کے جہاز پر دبئی چلو کا خرچہ ادا کر کے سوار کرا دئے گئے تھے ۔&lt;br /&gt;اب دوسری طرز کے لکھنے کو لے لیں ۔ لائبریری سے علم بجھے تو بجھا  لیں ۔ خریدنے نکل کھڑے ہوں تو گھر کا چولہا بجھا لیں ۔تمام کتابوں تک رسائی ممکن نہیں رہی ۔ایک پبلشر سے سے پوچھا اتنی قیمت کیوں ۔ جواب میں مہنگائی کا وہی رونا تھا ۔  کاغذ مہنگا  تو پرنٹنگ کی سیاہی بھی نہیں سستی ۔ پھر سستا کیاہے ۔ دو روپے کی روٹی ۔ یہ جملہ روزمرہ زندگی میں چست کیا جاتا ہے۔ کم از کم مہنگائی کے اس دور میں گرانی کا سبب بے علمی کا کوئی عمل تو نہیں ہو سکتا ۔&lt;br /&gt;یہی ایک وہ نقطہ ہے جس کی تلاش  ہو سکتی ہے   کہ لکھنا ہی سب سے مشکل ہے ۔جو میں لکھتا ہوں  وہ کسی کھاتے میں نہیں ہے ۔بات لکھاریوں کی کر رہا ہوں ۔جنہوں نے اتنا لکھا  کہ اب ان پر لکھنے کی باری ہے ۔اب اگر سوچیں کہ واقعی کاغذ اور سیاہی کی بڑھتی قیمتوں نے ایسا  کیا ہے ۔ تو میرا یہ مطلب نہیں ہے ۔ کیونکہ چھپوانے کے لئے بھاری رقم کا تقاضا تو الگ ہے ۔مگر لکھنے کے لئے سوچ کی جن اتھاہ گہرائیوں میں اترنا  پڑتا ہے ۔ حقیقت میں ایک مشکل کام ہے ۔ اپنی ذات کو زرہ بے نشان بنا دیتا ہے ۔ سلام ہے ان ادیبوں شاعروں اور نثر نگاروں کو جنہوں نے جہاز اُڑانے والے رائٹ برادرز کی طرح تخلیق ادب کی تراکیب نکالیں ۔اور آنے والی نئی نسلیں ان سے مستفید ہوئیں ۔ان کی اکثر   نایاب کتابیں کتب فروشوں کے ٹھیلوں پر سستے  داموں آج بھی علم کی تشنگی رکھنے والوں کی پیاس بجھاتی ہیں ۔اور خوبصورت سرورق میں لپٹی امپورٹڈ کاغذ  سے بنی صرف ہاتھ میں پکڑنے سے اپنے مالی وزن کا اظہار کر دیتی ہیں ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1275371005174664207?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1275371005174664207/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_30.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1275371005174664207'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1275371005174664207'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_30.html' title='علم باز گشت'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-4646600861023591136</id><published>2010-08-21T00:56:00.000-07:00</published><updated>2010-08-21T10:40:46.796-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان، بربریت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا</title><content type='html'>الیکشن میں دھاندلی  ہو  یا حکومتی غلط بیانی ،بدکلامی ہو یا  بد انتظامی ہمیشہ ہی  افسوس کا اظہار کیا ۔ عوامی ترجمانی کا کبھی بھی  دعویدار نہیں رہے ۔ کیونکہ سیاست ہو یا سیاسی چالبازی   کے جراثیم  کبھی پنپ نہیں پائے ۔مگر ایک بری عادت نے کبھی ساتھ نہ چھوڑا ۔سوچنے کی عادت جوشروع سے تھی لیکن  آج سوچ  کے تمام  دروازے بند محسوس ہو رہے ہیں ۔حالات سے کبھی گھبرائے نہیں ۔ مسائل سے نپٹنا اور حالات سے مقابلہ کرنے کی  اپنی سی سعی کرتےہیں ۔&lt;br /&gt;علامہ اقبال  کے اس شعر کو ہمیشہ پلو سے باندھ کے رکھا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ ایک نہ ایک دن ہمیں ضرور احساس ہو گا ۔ بحیثیت قوم  ہمارے اندر جو خامیاں رہ گئی ہیں ۔ ضرور جلد یا بدیر ان پر قابو پا لیا جائے گا ۔ لیکن سیالکوٹ میں دو  مقتول نوجوانوں پر تشدد کے دن دیہاڈے سینکڑوں کے ہجوم کے سامنے پیش آنے والے  واقعہ نے انسانی تاریخ  میں رونما ہونے والی وحشت و بربریت کی داستانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ ہسٹری چینل پر صدیاں پرانے مخالفین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے لئے جو طریقے اختیار کئے جاتے تھے ۔ میرے اوسان خطا  کرنے کے لئے کافی تھے ۔ ظلم و بربریت کی جو داستان  قومی اور انتظامی سطح پر    تماشا دیکھنے سے رقم کی گئی ہے ۔ شائد اگلی صدی میں انہیں بھلانا ممکن نہیں ہو گا ۔ آخر ایسی بھی کیا جرم کی انتہا ہو گئی  کہ دیکھنے والے صرف تماشائی  ہونے تک اپنا حق ادا کرتے رہے ۔سانس لیتی زندگی سے لیکر موت سے ہمکنار مردہ جسم  مسلسل بربریت کی انتہا تک جا پہنچے ۔&lt;br /&gt;کئی دہائیوں سے مردہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے والی قوم  آج خود  کو مردہ قوم  کی شرمساری کی آغوش میں پناہ لینے لگی ۔ ظلم کرنے والے ہمیشہ سے بچوں و خواتین کو تنہائی میں اپنی درندگی کا شکار کرتے رہے ہیں ۔ایسے ظالموں کو کیفر کردار  تک پہنچانے میں اجتماعی سطح پر قومی ذمہ داری کو ادا کیا جاتا رہاہے ۔ مگر یہ واقعہ کسی بند کمرے  یا اندھیری رات  کی سرگوشی  نہیں ہے ۔دن دیہاڈے اجتماعی منظر کشی کا نمونہ خاص ہے ۔ جو ہمارے لئے سوالوں کے انبار چھوڑ گیا ہے ۔ کیوں ہمارا معاشرہ بےحسی کی تصویر بنتا جا رہا ہے ۔ اور ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب  ہو رہے ہیں ۔ آج لکھنے کی طاقت نہیں ۔ لفظ  شرمندہ ہیں ۔ ہاتھوں میں ڈنڈے لئے مارنے والوں کو دیکھتے خون کھول رہا ہے ۔ زمین پر بے بسی  سے لیٹے خون میں لت پت  ایک لمحے کو بھی زخم سہلانے کی مہلت نہیں پا رہے تھے ۔&lt;br /&gt;دنیا کے کسی  بھی مہذب ملک  میں بھرے مجمع میں ایسی خوفناک بربریت  کا شائد یہ پہلا واقعہ ہو  ۔جہاں قانون کے محافظ خود قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو تحفظ دے رہے ہیں ۔اور بین الاقوامی  سطح پرانصاف کی دہائی دینے والی قوم کے سینکڑوں افراد  خود ہی انسانیت کی تذلیل کے عینی شاہد ہوں ۔&lt;br /&gt;برسوں پہلے کے ایک واقعہ نے میرے اندر  طلاطم پیدا کر دیا  ۔ جسے میں اپنے ایک طنز ومزاح کے مضمون  &lt;a href="http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/02/blog-post_21.html"&gt;تھوڑی سی لفت کرا دے&lt;/a&gt; میں بیان کر چکا ہوں ۔ تئیس سال پہلے گورنمنٹ کالج  لاہورمیں ایم اے میں داخلہ لینے کے چند روز بعد  ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے  آٹھ دس لڑکے دو مخالف پارٹی کے لڑکوں کوگھونسوں اور لاتوں سے پیٹ رہے تھے ۔ اور بیسیوں لڑکے خاموش تماشائی بنے خون آلود چہروں پر نظریں جمائے وہیں کھڑے تھے ۔ مجھ سےیہ منظر دیکھ کر رہا نہ گیا اور بیچ میں کود پڑا ۔ دونوں لڑکوں کو بحفاظت  نکال کر لے گیا ۔ کہنے والے کہتے رہے کہ پرائی آگ میں کیوں کودے ۔خطرناک گروپ ہے  اب اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا ۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ &lt;br /&gt;سیالکوٹ کے واقعہ نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ  آج ہم  اس مقام پر کھڑے ہیں کہ  دل سے برا جاننے سے ہی اپنی فرض منصبی کو ادا کر رہے ہیں ۔ روکنے والےسینکڑوں  ہاتھ ظلم کرنے والے چند ہاتھوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔اور حکومت صرف نمائشی واقعات میں پانچ پانچ لاکھ کے چیک دینے سے غریبوں کی عزت بحال کرنے کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کو ترجیح دیتی ہے ۔&lt;br /&gt;آج  مجھے اپنے یہ اشعار شدت سے یاد آ رہے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دغاء انسان سے اُٹھ میرا وفاءایماں گیا&lt;br /&gt;ظاہر سیرت فرشتہ اندر دیکھا ہو حیراں گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نام خدا سے ہے جنکو ملتا مقامِ عزت جہاں&lt;br /&gt;قلبِ سیاہ سے جلتا دیا خود اپنے پہ قرباں گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نام سے شہرت نہیں تو در سے گھر نہیں&lt;br /&gt;جو خود کو نہیں بھولا دور اس سے لا مکاں گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک جسم و جاں میں رکھتے دو الگ فریب روپ ہیں&lt;br /&gt;سوکھے پھول ہیں سب نام رکھا گلستاں گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خوش قسمت ہیں گل و گلزار عداوت خار رکھتے ہیں&lt;br /&gt;ہر بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا فرش ملک ادنیٰ تیرا عرش فلک عظیم&lt;br /&gt;حاکمیتِ فرعون نہ رہی مگر چھوڑ نفرت نشاں گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسلاف اسلام تو ہے مجھے سفینہ محبت مقام مصطفےؑ&lt;br /&gt;زمام رفعت مقام میں کھوتا بھٹکا انساں گیا&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-4646600861023591136?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/4646600861023591136/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_21.html#comment-form' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4646600861023591136'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4646600861023591136'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_21.html' title='بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-33738916479867731</id><published>2010-08-15T06:00:00.000-07:00</published><updated>2010-08-15T06:11:52.404-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیاست'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='آزادی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیلاب، تباہی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے</title><content type='html'>بات جتنی مختصر اور جامع ہو  گی ۔ اختلاف کی اتنی ہی کم گنجائش رہے گی ۔زیادہ بولنے سے کبھی زبان پھسل جاتی ہے  تو  مضمون کی طوالت سے بھی  ایسا ہونا ممکن ہے کہ جزبات کی رو میں بہتے بہتے  اعتراض کی زد میں جا پہنچیں ۔خود کو اجڑ و گنوار  کہوں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ انداز بیان سے تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائے گا ۔ کہ تعلیم کا میدان کہاں تک سر چکے ۔جو اس سر درد کے مرض میں مبتلا رہے ہوں تو چوٹی سر کرنا  محاورے میں استعمال اچھا لگتا ہے ۔&lt;br /&gt;پہاڑوں سے بہتے بہتے میدانوں تک پھیلتے پانی جب آنکھوں سے آنسو بن برس جائیں ۔ تو  خوشیاں دیکھنا تو درکنار سوچنا بھی بیکار ہو جاتا ہے ۔ قافلے  بے سروسامانی کے نشان،  سر پہ گھٹڑیاں بندھی زندگی بھر کی پونجی کے ساتھ  ،سوال کرتی آنکھیں خاموش زبان سے شاعری کے مجموعہ کلام پر بھاری پتھر سے کاری ضرب   لگاتی ہیں  ۔&lt;br /&gt;دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی امن کی فاختائیں ۔ رحم کی صدائیں ۔درگزر کی ادائیں ۔محبت کے گیت ۔ کھیت کھلیان  باغ دلکشا۔نہ دیکھوں پھر کبھی اجڑے دیار ۔ بچھڑے یار ۔ مدد کے طلبگار۔ نہیں ہوش کون ہے کس کا دلدار ۔ بس امید کی ایک آس ہے ۔ چہرے تصویر یاس ہے ۔لٹے پٹے قافلے ہیں ۔ آٹا دال چاول کے مہنگے لوٹتے گھاؤ ہیں ۔پچیس ہزار میں پچاس میل کی مسافت کا  بار ہے ۔&lt;br /&gt;ہزار ہزار دیگوں میں بٹتی مرغ بریانی ہے ۔ پھر بھی بھوکے اکثر بےیارومددگار ہیں ۔بے چارے تعلیم میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ علم سے نابلد اجڑ و گنوار ہیں ۔کلاس روم کےنام سے بھی  تھےجو نہ آشنا  آج سکولوں میں حاضری رجسٹر پر  پسماندہ حال ہیں  ۔ خواندگی کی شرح شرمندگی کی سطح پر۔ پہلے ہی سکولوں میں پناہ لی ہوتی ۔  توان پڑھ گنوار نہ رہتے۔ ہر الیکشن میں انگوٹھا لگانے سے انگوٹھا چھاپ نہ کہلائے ہوتے ۔&lt;br /&gt;گھروں سے بے گھر مہاجر ہیں توسکولوں میں رہتے پناہی ۔ صفحہ ہستی سے مٹنے والے اپنے گھروں کو جو نہ واپس لوٹ سکیں   ۔اسی زمین پر رہیں گے بے گھر ہاری کسان بن کے مہاجر یا پناہی ۔&lt;br /&gt;ہر طرف لاشیں ہیں ۔ نہیں رہتی اب نئی خواہشیں  ۔زندگی امن سے جی لیں یہی اب ہیں فرمائشیں ۔کون جینے دے گا ۔ پانی اترنے کی دیر ہے ۔ زندگی صرف انہی کی اندھیر ہے ۔ جنہیں پہلے جینا بیزار تھا اب وہی زندگی کے طلبگار ہیں ۔&lt;br /&gt;ایک معافی پہ پھر وہی بنائیں گے نئی سرکار ۔ جو آج نظر آتے ہیں لاچار ۔ مدد کے لئے آقاؤں کا ہے انہیں انتظار ۔آج سیاست پر بات نہیں کرنا تھی پھر بھی ایک آدھ فقرے کے لئے معذرت ۔ کیونکہ وہی مسیحا ہیں ۔ بااختیار ہیں زور آور ہیں ۔ ان کی مدد کے بغیر تسلی و تسفی نہیں ۔ شکوہ انہی سے سب کرتے ہیں ۔ قوم کو ایک کرنے کا تہیہ اب وہ آپس میں مل بیٹھ کر کرتے ہیں  ۔ ووٹوں پر جو تقسیم کرتے تھے ۔ &lt;br /&gt;ہر لیڈر کی اپنی قوم ہے پنجابی پختون سندھی بلوچی۔ جو ان میں نہیں وہ متحد ہے ۔14 اگست  ان سب کی آزادی کا دن ۔ جب سب اکٹھے جشن مناتے ہیں ۔ صرف عید کے چاند   پر اتفاق نہیں کرتے  ۔ تین دن تک  اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں ۔&lt;br /&gt;جب الگ الگ ہو چکے تو اب یکجہتی کی ضرورت آن پڑی ۔ اب قطرہ قطرہ دریا بننے میں دیر کر رہا ہے ۔دوسروں پر انحصار کی بجائے خود کے بازو کو ہی طاقت بنایا ہوتا ۔ استعمال کے بعد نہ انہیں بھلایا ہوتا ۔ تو متاثرین   کوخالی پلاٹوں سے بھی بے سروسامانی کے کیمپ اٹھائے  جانے کو نہ کہا جاتا ۔5 ہزار روپے من تک آٹا نہ بکتا ۔ &lt;br /&gt;اگر انہیں &lt;a href="http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/01/blog-post_680.html"&gt;سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری&lt;/a&gt; نہ لکھوں تو پھر  کیا لکھوں ۔  جانتا ہوں کہ سیاسی حالات پر لکھنا  بوریت پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ اختلافی موضوعات کو جو پزیرائی حاصل ہے وہ کسی دوسرے موضوع کو نہیں ۔ خاص کر لسانی اور مذہبی ۔ یہ کسی مفروضہ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ۔بہت سی باتیں کچھ کھلی تو کچھ ڈھکی چھپی  بیان کر چکا ۔ اب اگر بات یہیں ختم نہ کروں تو پھر اعتراضات  کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ تجربات اتنے  سنجیدہ ہیں کہ  غیر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-33738916479867731?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/33738916479867731/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_15.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/33738916479867731'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/33738916479867731'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_15.html' title='سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-7359225442965835830</id><published>2010-08-13T07:51:00.000-07:00</published><updated>2010-08-13T08:04:35.641-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیاست'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='صحت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='آزادی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیلاب، تباہی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر</title><content type='html'>بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بحرحال بہتر ہوتی ہے ۔ روزانہ ہی ٹی وی پر ہمارے  سیاستدان یہ راگ آلاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جمہوریت کی نہ تو صحیح ترجمانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اصل شکل دکھائی جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;جمہوریت سے مراد گلی محلوں اور گاؤں سے الیکشن  جیت کر پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی پا کر سیاہ و سفید کے مالک  ہو جانا مراد نہیں ۔سیاسی  باپ کے بوڑھے ہونے سے پہلے  نوجوان بیٹے کو سیاسی گدی نشینی کے لئے تیار کیا جانا بھی نہیں ۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر اسے کہا گیا ہے کہ جس میں معاشرے کے عام افراد بلا  خوف وخطر  اپنی آزادی اظہار رائے کا  حق رکھتے ہوں اور نمائندگی کے لئے   وراثت کی بجائے  قابلیت کا معیار اپنایا گیا ہو ۔&lt;br /&gt;جمہوریت سے مراد ہے عوام کو اپنے میں سے نمائندگی کا حق ، آزادی رائے کا حق،کاروبار و جائیداد کے تحفظ کا حق،مذہبی آزادی کا حق،تحریر و تقریر کا حق،معاشی تحفظات کا حق،بنیادی تعلیم اور حفظان صحت کا حق،امارت و غربت سے قطع نظر مساوی بنیادوں پر قانون و انصاف کے حصول کا حق،معاشرتی نا انصافی اور سماجی غنڈہ گردی سے استحصال  سے محفوظ رکھنے کا حق، ایک عام آدمی کے وہ تمام حقوق جو حکمرانوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے لیکر  آزادی صحافت میں لپٹی بعض کالی بھیڑوں سے عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا حق بھی شامل ہیں ۔&lt;br /&gt;جس جمہوریت کی آساس آئین پر ہو ۔وہی آئین معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور افراد کو حقوق فراہم کرتا ہے ۔مگر بد قسمتی تو دیکھئے آئین کی پاسداری سے صرف پارلیمان ہی اپنے لئے حقوق کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔&lt;br /&gt;جن حکمرانوں پر عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہو  اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی ۔وزیراعظم سیلاب فنڈ میں شرمناک حد تک عطیات کا اکٹھا ہونا  اس بات کی دلالت ہے کہ عوام جمہوری بھائی بندوں  کی ایمانداری پر شکوک کا شکار ہے ۔آخر کار جمہوری وزیراعظم کا میڈیا پر عوام سے مخاطب ہو کر یہ یقین دلانا کہ ایک ایک پائی ایمانداری سے سیلاب زدگان تک پہنچائی جائے گی ۔ اور اس کا حساب بھی دیا جائے گا ۔ ویب سائیٹ پہ جا کر چیک کیا جا سکے گا ۔&lt;br /&gt;پاکستانی عوام نے مصیبت کی ہر گھڑی میں جمہوری حکومت ہو یا آمریت دل کھول کر امداد کی ہے ۔مگر آج وہ مایوس ہیں ان کے کردار و گفتار سے ۔جمہوریت کے یہ چمپئن پارٹی ٹکٹوں پر  کروڑوں روپے خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔ اور جو اسمبلیوں میں نہیں پہنچے وہ بھی اتنے ہی داؤ پر لگا چکے ہیں ۔ اگر وہی لوگ اپنے الیکشن پر پولنگ کے روز دیگوں پر خرچ آنے والی رقم  کا آدھا بھی سیلاب فنڈ میں دے دیتے تو  حکمرانوں کو سبکی نہ ہوتی ۔&lt;br /&gt;ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر امداد کی بجائے  عید قربان پر کھالیں اکٹھا  کرنے والوں کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ شامیانے  ہر شہر میں عوام سے کھلے دل سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مگر ان تمام سیاسی جماعتوں  کے اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والوں سے قوم کو کیا توقع رکھنی چاہئے ۔ جو صرف قوم سے لوٹا پیسہ قوم پر لگانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔اگر صدر صاحب ہی  مانچسٹر میں پچاس لاکھ کا اعلان کرنے کی بجائے  اس دورہ پر سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے دورہ منسوخ کر دیتے اور یہی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دے دیتے تو آج وزیراعظم صاحب کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے گا ۔&lt;br /&gt;عوام سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے ۔سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے ۔ بچ جانے والوں کے پاس اب صرف کھالوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا ۔جو ان کے کسی کام کی نہیں ۔ہماری حکومتوں  کو جانوروں کی شکل میں صرف کھالیں چاہئے اور انسانوں کی شکل میں بکرے ۔جو صرف چھری دیکھانے سے میں میں کرنے لگیں ۔&lt;br /&gt;جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔وہاں چند پڑھے لکھے اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق  کامیابی کے زینہ پر جلد چڑھ جاتے ہیں ۔مجمع اکٹھا کرنے کے لئے تماشا سے  بڑا مداری ہوتا ہے ۔کیونکہ تماشا دیکھا نہیں جاتا دیکھایا جاتا ہے ۔تماشا چاہے ماچس کی ڈبیا کا ہو ۔ مگر زبان سے منظر باندھنے والا اسے بڑھکا دیتا ہے ۔&lt;br /&gt;برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان کا آغاز  ہو چکا ہے ۔مکمل سادگی اختیار کریں ۔عید کے اہتما م میں ہزاروں روپیہ  خرچ کرکے امیروں کی تجوریاں بھرنے  کی بجائے مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں ۔سیاسی اور سیاست کرنے والی مذہبی جماعتوں کو جانچنے کا سب کا اپنا پیمانہ ہے ۔ جن اداروں کا ماضی بے داغ  ہے اور خدمت خلق میں جن کا نام کی بجائے کام بڑا ہے ۔ انہی  کے سپرد اپنی امدادی امانت کریں ۔ جو  پچھلی کارکردگی کے فوٹو سیشن سے  بیوقوف بنانے  کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔  &lt;br /&gt;وزیراعظم کا سیلاب میں پھنسے لوگوں کے درمیان جانا اچھا فعل ہے مگر ایک ایک فرد کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے تھیلا تھمانا شرمناک  فعل ہے ۔  آخر میں تو صرف یہی بات رہ جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجڑے باغاں دے گالڑ پٹواری&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-7359225442965835830?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/7359225442965835830/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_13.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7359225442965835830'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7359225442965835830'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_13.html' title='بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-7768071799296113390</id><published>2010-08-10T20:18:00.000-07:00</published><updated>2010-08-10T20:18:07.683-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ ،سیاست،سفینہء محمود، سیلاب ، آفت، ،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='طنز و مزاح'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><title type='text'>ہوا میں  تجھے کیسے اچھالوں</title><content type='html'>مری کے پہاڑوں پر گنگناتی فلمی ہیروئین پانچ سات سہیلیوں کے درمیان موج مستی کا گیت آلاپ رہی ہوتی ۔ تو درختوں کی اوٹ  سے چند اوباش نکل کر رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ جاتے ۔آپس کی بات تو تکار سے بڑھتے بڑھتے ہاتھ پکڑنے  تک جا پہنچتی  تو لڑکیوں کا ہاتھ جوتے کو ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتا ۔ اور چھترول شروع ہونے سے کبھی پہلے  کبھی بعد میں اوباش گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے ۔&lt;br /&gt;ایسے فلمی مناظر اکیسویں  صدی میں ریلیز ہونے والی فلموں  میں عکس بند نہیں کئے جاتے ۔کیونکہ اب عشقیہ داستانوں  پر مبنی کہانیاں پزیرائی نہیں پاتیں ۔اس تابوت میں آخری کیل اسی کی دہائی میں  مولا جٹ فلم میں دارو نے ٹھونک دیا تھا ۔جب ماکھا جٹ ناک پہ جوتے کا نشان  لے کر آیا تھا ۔اور نوری نت نے دارو کو  ذلت کے نشان کو مٹانے پر شاباشی دی تھی ۔ستر اسی  کی دہائی میں ایسے حقیقی  واقعات کے  بھی چشم دید گواہ ہوں گے ۔جو سرراہ جوتا بازی کی کرشمہ سازی دیکھ چکے ہوں ۔گواہ تو شائد حکمران پارٹی کے قائد کو مخالف اتحاد  کی طرف سے جوتے دیکھانے  کے بھی ہوں ۔ جنہیں چمڑا مہنگا  ہونے سے مراد لے لیا گیا ۔&lt;br /&gt;غرض جوتا سازی کی صنعت ہو یا جوتا  بازی ۔اس کے مختلف ادوار ہیں ۔اب اگر پولیس کے زیر استعمال چھتر کی بات کی جائے تو وہ ایسا ہے کہ جسے کبھی پہنا نہیں جا سکتا ۔پھر بھی اسے چھتر کہا جاتا ہے ۔شائد اس کے پڑنے کی آواز جوتے پڑنے  سے ملتی جلتی ہے ۔&lt;br /&gt;بیسویں صدی سے اکیسویں  صدی میں جو  روایات من و عن منتقل ہوئیں ۔ ان میں سر فہرست  پولیس کا چھتر ہے ۔ دوسری طرف سیاسی طور پر جوتا بازی  کبھی بھی اچھا شغل نہیں رہا ۔مگر گزشتہ چند سالوں میں اس صنعت کو خاصی شہرت و پزیرائی حاصل ہو چکی ہے ۔&lt;br /&gt;اکثر دو مد مقابل ٹیموں کے درمیان ٹاس کے ذریعے  سکہ اچھال کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پہلی باری کا حقدار ہے ۔لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر جوتا ایسا تاثر نہیں رکھتا ۔ کیونکہ وہ اچھل کر ہی  فیصلہ دے دیتا ہے ۔&lt;br /&gt;ایک بات تو طے ہے کہ روزمرہ استعمال میں رہنے والا مقبولیت کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ جوتے کی نوک پہ رکھنے کے محاورے سے جس نے تذلیل کی گہرائیوں کو چھوا۔ اب وہ ہواؤں  میں اچھل اچھل کر خوشیوں میں پھولے نہیں سماتا ۔ بحرحال جوتا پڑنے سے اچھلنے کا درد جھیلنا زرا مشکل دیکھائی دیتا ہے ۔&lt;br /&gt;اچھے نتائج کا نکلنا بعید از قیاس نہیں ۔ جوتا بازی سے دیکھنے والے ضرور سبق حاصل کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے میٹرک سائنس میں فسٹ ڈویژن میں  پاس کیا ۔اتنی تفصیل تو دینا ضروری ہو گیا  کہ کہیں ہمیں جوتا بازی کا شکار نہ سمجھ لیا جائے ۔ ایسا تجربہ زندگی میں دیکھنے سے زیادہ نہیں ۔گلے سے نکلنے والی ہائے ہائے سننے سے تو آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا تھا ۔&lt;br /&gt;جب نویں جماعت کے آغاز میں نئے کمانڈر ان چیف انگلش کے ٹیچر  نے چارج سنبھالا ۔ تو بچپن سے ہی کمزور یادداشت رکھنے والے اس رنگیلے کھیل کے زیر عتاب آئے ۔دونوں ٹانگوں کے نیچے سے دونوں کان پکڑنا بھاری بھر کم موٹوں کے لئے پہلے ہی کسی سزا سے کم نہیں تھا ۔اوپر سے دفعہ 12 لگنے سے  سزا با مشقت  بھی ہو جاتی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیچر باٹا کا 12 نمبر پہنتے تھے ۔&lt;br /&gt;اب جب کہ جوتا سازی ایک منعفت بخش کاروبار کے بعد جوتا بازی قبولیت عام  کی   سند  حاصل کرتی تلوار بنتی جارہی ہے ۔ جو تلوار جیسی دھار تو نہیں رکھتی مگر زخم اس سے بھی کہیں گہرا دیتی ہے ۔اور اس پر مرہم رکھنا ابھی وقت نے سیکھا نہیں ہے ۔&lt;br /&gt;اگر ملکی سربراہان اور سیاسی قائدین پر یہ دفعہ عوامی مینڈیٹ سے نافذالعمل ہو گئی ۔ تو امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی یادداشت رکھنے والے  ضرور امتحانات میں فسٹ کلاس حاصل کریں گے ۔ اور کمزور خلیفے اچھے اداروں کی رکنیت کے اہل نہیں ہوں گے  بلکہ قابل ہی نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ قابلیت کے لئے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ضروری ہیں ۔&lt;br /&gt;یونیورسٹی میں پڑھنے والے نہر کنارے چلتے چلتے محبوبہ کو منا بنا کر  ہوا میں اچھالنے کی خواہش کریں اور محبوبہ منا بننے پر اعتراض کی بجائے اچھالے جانے پر خوش ہو ۔ تو منے کو اپنا حق یوں اچھال کر استعمال کرنے والوں پر اعتراض ضرور ہو گا ۔ &lt;br /&gt;اب اعتراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔خوشیوں کے لمحات بچے ہی کتنے ہیں ۔ جو اعتراضات کی بھینٹ چڑھا دیں ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کہاں سب بچے ہیں ۔انھیں بھی تو خوراک اچھال اچھال کر ہی دی جارہی ہے ۔اور وہ منے کی طرح اپنی آغوش میں سما لیتے ہیں ۔ جن کے اپنے  جگر گوشے منے خوفناک سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔اور وہ کچھ نہ کر سکے ۔&lt;br /&gt;ان کے چاروں اطراف اس قدر پانی ہے  کہ ان کے بہتے آنسو کسی کو دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-7768071799296113390?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/7768071799296113390/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_10.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7768071799296113390'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/7768071799296113390'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_10.html' title='ہوا میں  تجھے کیسے اچھالوں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8884506559340744952</id><published>2010-08-06T21:54:00.000-07:00</published><updated>2010-08-06T21:57:04.093-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ ،سیاست،سفینہء محمود، سیلاب ، آفت، ،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،'/><title type='text'>عوامی پریشانی بے حسی حکمرانی</title><content type='html'>چند ماہ پہلے جب میں اپنے مضمون "  &lt;a href="http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/01/blog-post_26.html"&gt;سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی&lt;/a&gt; "  میں یہ سطور  لکھ رہا تھا ۔۔ &lt;br /&gt;"&lt;span style="color: blue;"&gt;کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;/span&gt; "&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ ہمارے ملک میں ایسا سب ہو گا ۔ پانی ایسے سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔&amp;nbsp; &lt;br /&gt;آج  بارہ ملین عوام  تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاری سے   جس کسمپرسی  کا شکار ہیں ۔ مستقبل کی پیش بندی تو کیا ۔ جانوں کے لالے  پڑے ہیں انہیں ۔ کب اور کہاں سے اپنی زندگی کا آغاز کریں گے ۔ کوئی نہیں جانتا ۔گاؤں کے گاؤں دریا برد ہو چکے ۔ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ گھر اپنے مکینوں کو بسانے سے معزوری کا اظہار کر رہے ہیں ۔&lt;br /&gt;آنکھوں میں جو آج کل  سیاسی موتیا اترنا شروع ہوا ۔ تو اب نظر صرف دھندلائی نہیں  بلکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا  شروع ہو چکا ہے ۔ بینائی کی بحالی کے لئے قطرے گن گن کر آنکھوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔پانی جتنا بھی وافر کیوں نہ ہو تولا کبھی نہیں جاتا ۔ آنسوؤں کی برسات کی جھڑی بھی لگ جائے  تو خشک ہونے تک انہیں پونچھا جاتا ہے ۔ آنسو گنے نہیں جاتے ۔&lt;br /&gt;کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ ایک طرف تین نیشنل اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں  دو بڑی پارٹیوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ۔اور ایک پہ نون کی حمایت سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ووٹوں کی گنتی کے باوجود پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما  جو غصے میں بھری بیٹھی پریس کانفرنس کر رہی تھیں  نے ہارنے والی نشست پر  بد ترین  دھاندلی کا الزام عائد کیا ۔اور وہاں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر دیا ۔ ایک نشست کا کھونا کسی آفت سے کیا کم نقصان  ہے کیا ؟ &lt;br /&gt;دوسری طرف نواز شریف کولندن یاترا سے فوری واپسی کے لئے زرداری کو دیا گیا  اپنا مشورہ اپنے پاس رکھنے کو کہا گیا ہے ۔اگر شریف برادران انسانوں کو گننے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ تو زرداری صاحب بھی  اسی گنتی کے نتیجے میں یہاں تک پہنچے ہیں ۔اب جب دونوں بڑی پارٹیاں انسانوں کو گننے سے اقتدار  کے مزے لوٹ رہی ہیں تو انہیں تولنے کے لئے  انصاف کا ترازو ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے ۔اگرچہ اقتدار میں آنے کے کے لئے انسانوں کو تولنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ مگر بولنے سے پہلے تولنا بہت ضروری ہے اور لکھنے سے پہلے اشد ضروری ۔&lt;br /&gt;بقول ان کے قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ؟  ان کے مستقبل کے لیڈرو حاکم کے تعارف کی نقاب کشائی ہو رہی ہے ۔لب کشائی کی اجازت نہیں ۔ اگر کسی نے قائدین کا وزن گھٹانے کی کوشش کی تو کشتوں کے پشتے لگائے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے قائدین گنے اور  آزمائے ہوئے ہیں ۔ کوئی تلے ہوئے نہیں ہیں ۔ پڑھنے میں غلطی نہ کی جائے تولنے سے تلنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ پکوڑے تلنے سے نہیں ۔&lt;br /&gt;آپ کو ہر حالت میں پیش کا استعمال کرنا ہو گا ۔ سیلاب کی وجہ سے  کھڑے پانی سے جو  دست و پیچش کی وبائی امراض پھوٹیں گی ۔اس میں ان قائدین کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ پرچیوں کی گنتی سے عوام  جو انہیں دیتے ہیں ۔وہ انہی ہاتھوں سے لوٹا بنا کر انہیں لوٹا دیتے ہیں ۔ لاکھوں عوام دست و پیچش کا شکار ہوں گے ۔تو لوٹوں کی تعداد کم پڑنے کا اندیشہ ہے ۔&lt;br /&gt;نورجہاں تو اب اس دنیا میں نہیں رہی ۔ ایسے میں اگر نصیبو لعل مان جائے ۔ تو اس سے پانچ سات ترانے ہی  گوالئے جائیں جو خون کو گرما دیں ۔ترانوں میں یہی تو ایک خوبی ہے ۔ کہ وہ خون گرماتے ہیں ۔ شرم نہیں دلاتے ۔ اسی لئے قائدین جوق در جوق اپنے انتخابی جلسوں میں بھرپور بجاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;سیلاب میں گھرے اور متاثرہ عوام کو قطعا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چند روز تک ہوا میں چکر لگاتے جہاز ان پر پرچیاں نچھاور کریں گے ۔ پرچیاں لندن سے تو ضرور آئی ہوں گی مگر وہ  خوراک کے کوپن نہیں بلکہ ہمارے  موجودہ اور مستقبل کے  حکمرانوں کے فوٹو سیشن کی پرچیاں ہوں گی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ سابقہ صوبہ سرحد کے عوام کو جس طرح پختونخواہ کے نام سے ریلیف دیا گیا ہے ۔جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی اگلے سیلاب تک  پورا ہو جائے گا ۔ عوام خوش حکمران خوش ۔&lt;br /&gt;یہ سمجھ لینا کافی نہیں ہو گا کہ یہ آفت صرف پاکستان پر آئی ہے ۔پوری امت اسلام اس سے متاثر ہو گی ۔ بیڈ روم کی طرح پر آسائش ہوائی سفر کرنے والے عرب شہزادے  جنہوں  نے ان  ریگستانوں کو شکار کے شوق میں جس طرح اندھا دھند استعمال کیا ۔ انہیں اس کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ محلات  کی صورت میں جو وہاں کے غریب عوام کی مدد کی گئی ہے ۔ ضائع ہونے کا خطرہ  ہے ۔&lt;br /&gt;قوم تو ویسے ہی جلد بازی کا شکار رہتی ہے ۔اورمسائل کا حل جادو کی چھڑی  جیسا چاہتی ہے ۔حالانکہ ایک لیڈر کو  پیدا ہونے میں ایک مارشل لاء درکار ہوتا ہے ۔ قوم سکتے میں نہ جائے ۔ اپنی جیب ڈھیلی کرے ۔ زلزلہ کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لئے ملنے والی امداد کب کی ہضم ہو چکی ۔ اب نیا دور ہے  نئے اخراجات کا تخمینہ  اکیلے لیڈر کی بجائے پورے خاندان  اس قوم کے رحم و کرم پر ہیں ۔ دل کھول کر عطیات دیں اور ماضی کی طرح کہاں خرچ کیا ۔ کے سوال سے اجتناب برتیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ  ایک ٹی وی کی سلائیڈ پر غیر سرکاری  این جی اوز  کو بھرپورعطیات دینے کی اپیل کی جارہی ہے ۔&lt;br /&gt;پختونخواہ کے عوام پریشان نہ ہوں ۔ سرحد کے نام کے ان کے سروں پر منڈالتے برے   اثرات ٹل چکے ہیں ۔&lt;br /&gt;آج کل ایک آدھ ہفتہ میں نا انصافی  کی دہائی میں از خود نوٹس کی گونج سنائی دے جاتی ہے ۔ جس معاشرے میں معصوم بچوں اور خواتین کے جسموں کے چھیتڑے ہواؤں میں بکھرنے لگیں ۔اور احتجاج کرتی عوام کے بازوؤں پر  اور حکمرانوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں بندھی ہوں ۔اور اس معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل لاشوں کے گرنے کی سیاست پر رکھا جائے۔ تو پھر از خود نوٹس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8884506559340744952?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8884506559340744952/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_06.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8884506559340744952'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8884506559340744952'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post_06.html' title='عوامی پریشانی بے حسی حکمرانی'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-752115414846040007</id><published>2010-08-06T12:22:00.000-07:00</published><updated>2010-08-06T12:22:57.276-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='روشن عطار'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ایمان ،اللہ'/><title type='text'>اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;شرمندہ    ہیں  اس  لیے  کہ ہم  خطاکار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تجھے    بھول  جانے   کے  ہم  جرم  وار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دنیا     کی   محبت   کے    ہم   سزا وار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;خطاؤں  کے  لیے  چاہتے  تجھے  مددگار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تجھے  بھولنے  کے  بعد  ہم  تو  غم خوار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دنیا    کی   چاہتیں    اب  ہمیں  بیزار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;شاہِ   زمانہ  کو   ترستے   ہم  غمِ  روزگار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیرا   در   چھوٹنے  سے   ہم  آہ  و  فگار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری  نعمتوں  کی  ہو  بارش  ہم  اشکبار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;نہیں   بھولیں   گے   ہم  شجرِ  آب دار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;واسطہ  تجھے   محمدۖ  کا   ہم  امت جہاندار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سورج  یہ  چاند  ستارے  تیرے  راز دار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;رہیں   خش   و  خاک  میں   تو  ہم  بیکار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تیری    چاہتوں    سے  نہیں   ہم   انکار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اپنی  خزاںء  زندگی  کو  امیدِ جشن بہار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اتنا   دکھ   جب   ہوتے  ہم   بیروزگار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;خوشی   میں نہیں  سوچتے کہ  ہم  پر انوار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;عقلیں    اَٹی     ہماری     گرد    و  غبار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;قلب    کھلے    تو    بھرے    نورِ  مینار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;نہیں   کٹتا    نفس   صرف   روزہ   دار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;گر  ہو  مومن   تو    صوم    کی  تلوار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سُستیء ایمان ڈھونڈتے ایک رات کا دربار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ارادوں    پہ     اپنے    ہم   بے  اختیار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;شکوے    تجھ    سے    ہمیں    بار   بار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جڑے  جانے  کو  کھڑے  قطار  در  قطار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;عنایات   کو  بانٹنے  کے   نہیں   روا دار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دکھوں   میں  ڈھونڈتے   ہم   غم  گسار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ہم   خطا کاروں   کے  آپ   پروردگار  ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دعاؤں   میں   تیری   رحمتیں   درکار ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;.٭.&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;روشن عطار  /  محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-752115414846040007?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/752115414846040007/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/752115414846040007'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/752115414846040007'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/08/blog-post.html' title='اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-3843367710793069045</id><published>2010-07-31T23:10:00.000-07:00</published><updated>2010-07-31T23:10:50.523-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیلاب، تباہی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا</title><content type='html'>آج خبریں سنتے ہوئے سیلاب کی تباہ کاریوں سے تباہ حال لوگوں کی حالت زار پہ افسوس  سے دل بیٹھا جا رہا تھا ۔ غیر سرکاری اطلاع کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بچ جانے والے لٹے پٹے قافلوں کی صورت  سیلاب کے ریلوں سے گزر گزر کر محفوظ مقامات کی طرف رواں دواں ہیں ۔ گھروں کو تالے لگا کر خدا کے سپرد کر کے گھروں سے  ایک روز بھی باہر رہنے والے   اب نہ جانے کب گھروں کو واپس لوٹتے ہیں ۔  ہزاروں خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے اس آفت کے ٹلنے کے انتظار میں شب و روز کیسے  گزاریں گے ۔ بھوک سے نڈھال بچے ، دودھ کے لئے بلکتے ننھے معصوم اور اپنے عزیز و اقارب اور گھروں کی سائبانی سے محروم جوان اور بوڑھے یاس اور مایوسی کی تصویر بنے آنکھوں میں مستقبل کے حسین خوابوں کی بجائے مدد کے لئے ایک امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں ۔جس میں قوم اپنے اجڑے بہنوں اور بھائیوں  کے لئے پہلے کی طرح بھرپور مددو تعاون کی مثال قائم کرنے کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے ۔ ایک کے بعد ایک  ناگہانی آفت کی وجہ سے قوم پے در پے صدمات سے دوچار ہے۔ پختونخواہ صوبہ بری طرح سیلاب کی تباہ کاری کا شکار ہے ۔ سب سے زیادہ  جانی و مالی نقصان انہیں کے حصے میں آیا ہے ۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی درجنوں افراد اپنی جان سے گزر گئے ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی کے ریلوں سے پناہ کی تلاش میں گھر سے بے گھر ہیں ۔سندھ کی طرف بڑھنے والا پانی سیلاب کی تباہی کا  منظر  پہلے سے دکھا رہا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی اس قوم پر رحم فرمائے ۔ آمین۔ &lt;br /&gt;آزمائش کے ایک ایسے دور کا نقطہ آغاز ہے جس کے انجام بخیر کا کسی کو علم نہیں ۔ ائیر بلیو کے جہاز کا مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا نے کی گتھیاں بھی سلجھ نہیں پائی تھی ۔ جہاز کے پائلٹ نے  نو فلائی زون میں کیوں اڑان بھری ۔ طرح طرح کی قیاس ارائیاں جنم لے رہی ہیں ۔ تبصروں اور تجزیوں نے ایک نئے موضوع  پر اظہار رائے کا دروازہ کھولا  ہوا تھا ۔ سیلاب کی تباہ کاری سے اس پر پانی پھر گیا ۔ابھی تو وہ چہرے جو اس حادثے میں جاں بحق ہوئے نہیں بھول پائے تھے کہ اس نئی آفت کی وجہ سےجاں بحق اور مصائب کے شکار عوام کے حالات کا   سن سن کر تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے ۔&lt;br /&gt;ابھی یہ منظر میری آنکھوں سے نہیں ہٹے تھے کہ صدر صاحب کے دورہ برطانیہ کی خبر نے بجلی گرنے کا کام کیا ۔جس میں لندن سے برمنگھم پارٹی اجلاس میں جانے کے لئے پانچ ہزار پاؤنڈ  کے فضائی اخراجات کا تخمینہ کے علاوہ سینکڑوں کارکنوں کو اجلاس میں لانے کے لئے پندرہ سو پاؤنڈ روزانہ کے کرایہ پر  بسیں ہائیر کی گئی ہیں ۔ ہزاروں پاؤنڈ روزانہ ہوٹل کے کرائے اور ایک لمبی اور بڑی گاڑیوں کا کارواں اس کے علاوہ اخراجات کے متقاضی ہیں ۔پارٹی اجلاسوں کا اہتمام اور انتظام سرکاری خرچ پہ ہونا ۔ بے حسی کی اس سے  بڑی مثال قائم کرنے میں شائد صرف ہمارے حکمرانوں کا ہی شیوہ ہے ۔ یقینا کوئی دوسری قوم  ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ہماری بد قسمتی ہے کہ نظام شاہی دور کی یاد تازہ کرنے کی تاریخ کے اہم عوامی کردار ہوں گے ۔ &lt;br /&gt;بھاری بھر کم  ایمان افروز حکمران  غاصبانہ قبضہ کی  ظلم و ستم کی روایت کو  بے حسی  سے کمتر ثابت کرنے میں کامیاب ضرور ہوں گے ۔ ابھی تک تو زلزلہ زدگان  ملنے والی پوری امداد کے انتظار کی کوفت سے ناامید ہو چکے ہیں ۔اربوں کھربوں بھی چند  ہزار خاندنوں کی کفالت  کی امید بر نہیں لاتا ۔&lt;br /&gt;لکھنے کو تو  بہت کچھ ہے مگر اثر پزیری کے اثرات سے بالکل خالی رہے گی ۔جو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح روزانہ اپناہی منہ چڑاتا ہے ۔ ان حالات میں تفریح طبع کا سامان روز کیسے پیدا کروں ۔ &lt;br /&gt;دردستک سے اقتباس:۔ &lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue; text-align: center;"&gt;کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا &lt;/div&gt;&lt;div style="color: blue; text-align: center;"&gt;کہ تیرا سبب تجھی کو ہے میں لوٹاتا &lt;/div&gt;&lt;div style="color: blue; text-align: center;"&gt;غصہ تیرا طوفان تو نفرت تیری آندھی&lt;/div&gt;&lt;div style="color: blue; text-align: center;"&gt;میرا ہے جو اپنا مجھ ہی پر اس کو آزماتا&lt;/div&gt;&lt;div style="color: blue; text-align: center;"&gt;تجھ پر کروں رحم تو اپنے پہ ظلم&lt;/div&gt;&lt;div style="color: blue; text-align: center;"&gt;غبار آنسوؤں کو تو ہمیشہ میرے ترستا &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-3843367710793069045?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/3843367710793069045/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_31.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3843367710793069045'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/3843367710793069045'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_31.html' title='کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2087908097351386191</id><published>2010-07-30T22:38:00.000-07:00</published><updated>2010-07-30T22:38:05.969-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='آزادی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>کیا ہم شرمندہ ہیں</title><content type='html'>ہم شرمندہ بالکل نہیں ہیں کہ قائد نے ہمیں آزاد وطن دیا ۔جہاں ہم آئندہ  نئی نسلوں کو بھی ایسی سرزمین کا تحفہ  دیں جو انہیں عزت ، احترام اور وقار دے سکیں۔دنیا کے نقشے پہ ابھرنے والا یہ ملک پاکستان کی بنیاد نظریاتی اساس پہ رکھی گئی تھی ۔صرف اتنا نہیں کافی کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی، معاشی ، تمدنی  آزادی بھی  درکار تھی ۔جو صرف اسی صورت ممکن تھی ۔کہ ہم بحیثیت مسلمان قوم کے ایک الگ خطے میں اپنی زندگی کا آغاز کریں ۔ اس قوم کوزندہ رہنے کے لئے صرف اناج پیداکرنے کا نہیں کہا گیا ۔ بلکہ تمام خوبیوں کو پیدا کرنے کی ضرورت  پر زور دیا گیا ۔ جو کہ عوام کی بنیادی ضروریات سے ہم آہنگی رکھتی ہوں ۔&lt;br /&gt; وطن کی آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔غاصبانہ قبضے سےچھٹکارا حاصل کرنا ۔ ہندؤانہ ذہنیت کی حکمرانی سے چھٹکارا پانا یا پھر انگریز راج کے جھنڈے کے نیچے سےنکل کر الگ وطن حاصل کرنا  ۔  نہ کہ چند اسلامی شعائر اپنا نےکے سوا ہر بری عادت کو اپنانا ضروری سمجھا جائے ۔آزادی سے مراد کیا زمین کے ایک ٹکڑے پہ اس لائن آف کنٹرول کو آزادی کی نعمت  سے منسوب کیا جائے ۔ یقینا آزادی سے مراد سرحدوں کے تحفظ تک نہیں لئے جاتے ۔ بنیادی طور پر فکری اساس اور نظریاتی اقدار  کے لئے آزادی درکار ہوتی ہے ۔ فوج سرحدوں پر متعین کر دینے سے آزادی کا ایک ہی جز پورا ہوتا ہے ۔ لیکن  مکمل مفہوم اس سے مراد نہیں لیا جا سکتا ۔&lt;br /&gt;دشمن کی  توجرآت نہیں کہ وہ ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔مگر پورا معاشرہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے اپنے ہی گھروں میں مقفل ہے ۔ سرحدوں پر توآمدورفت کی نقل و حرکت کو روکنے  کے لئے باڑیں لگا دی جاتی ہیں ۔لیکن آج ہمارے اپنے گھر اونچی  اونچی دیواروں اور لوہے کے جنگلے میں گھرے نظر آتے ہیں ۔جو ہماری آزادی کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ان تریسٹھ سالوں میں پردے کی ایک باریک تہہ سے ترقی کرتے کرتے ہم بڑے بڑے قلعہ نما لوہا  کے دروازوں کے اندر نظر بند ہیں ۔ چند ہزار فوجی سرحدوں کے دروازوں پر  اٹھارہ کروڑ عوام کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لئے چاک و چوبند کھڑے ہیں ۔اور دوسری طرف آٹھارہ کروڑ عوام  اپنے ہی منتخب چند ہزار نمائندوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں  ۔جو انہیں معاشی معاشرتی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر  رہے ۔ جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی احسن طریقہ سے نہ نبھا سکے ۔جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کی بجائے سرپرستی نے قوم کو تنہائیوں کا شکار کر دیا ۔&lt;br /&gt;اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے ارد گرد کا بخوبی جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ جیسا کسی کے گھر میں نقب لگانے کی تیاری ہو ۔قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کی ٹرم اتنی مقبول ہو  چکی ہیں ۔ کہ اس کو اختیار کرنے والے نمائندگی کا استحقاق رکھ لیتے ہیں ۔چوری ڈکیتی میں اضافہ ، عورتوں پہ مظالم اور نا انصافی نے پورے معاشرے کو ایسے گھیرا ہوا ہے کہ وہ جونک کی طرح فکر و روح کو کمزور کر رہی ہے ۔&lt;br /&gt; اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا گیا تھا ۔ صرف اتنا باور کرانا کافی نہیں ہو گا ۔ خلفاءراشدین کے بعد   دورحکمرانی میں اسلامی ریاستیں مکمل اسلام کا نمونہ پیش نہیں کرتی رہیں ۔ جس معاشرے میں مذہبی فرقہ بندی کے نام پر خون بہایا جاتا رہا ہو ۔وہاں پہلے ضرورت تو ہے اس بات کی کہ اس معاشرے کے افراد میں ہم آہنگی ہو ، یگانگت ہو، بھائی چارہ ہو ، برداشت ہو ۔&lt;br /&gt; اللہ ، محمدﷺ اور قرآن پر کوئی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ جو جسے پسند نہیں اس کا اچھا عمل بھی پسند نہیں رہ جاتا ۔ زوال پزیر ممالک یا زوال پزیر معاشرہ کبھی نہیں سنا ۔ صرف قوموں کو زوال آتا ہے ۔ اقوام اس کا شکار ہوتی ہیں ۔ سلطنت عثمانیہ کو زوال آیا تو کئی نئے  آزادممالک بن گئے۔وہ ممالک آج بھی دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں مگر وہ نظریہ و فکر ختم ہو گیا ۔ نظریہ اور فکر سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ مگر سرحدیں بندشوں کی پابند ہوتی ہیں ۔ نظریہ اور فکر کو پنپنے کے لئے کسی اختیار و اقتدار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔&lt;br /&gt;دنیا  میں آنے والے بیشتر انقلابات  کسی کو ویلکم اور کسی کو گڈ بائی کہنے  کی بنیاد پہ تھے ۔ منجمد سرحدیں ویلکم اور گڈ بائی کے اثرات سے محفوظ ہوتی ہیں ۔  جس معاشرے میں نظریہ، ضرورت کی بنیاد پرعدل وانصاف کے ایوانوں میں گونجنے لگے۔ تو  وہاں اس معاشرے کے نہ تو گھر بار محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی مزار و بازار ۔تیس پاروں پر مشتمل محمد ﷺ پرنازل اللہ کی کتاب قرآن پاک  ہمیں روحانی و فکری  اساس فراہم کرتا ہے ۔ &lt;br /&gt;فکری اساس کے ساتھ ساتھ یتیموں اور بیواؤں کی دست گیری کا بھی حکم واضح ہے ۔جو ہمارے ہی معاشرے میں ناگہانی اور اتفاقی اموات کی بجائے حادثاتی اموات  یتیموں اور بیواؤں کی تعداد میں  اضافہ کا سبب بنتی جا رہی ہیں  ۔ جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ امانت صداقت دیانت  شرافت پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ جس پہ ہم کبھی بھی عمل پیرا نہیں ہوئے ۔ آپﷺکا اسوہ ءحسنہ ہمیں ایک ایسا راستہ دیکھاتا ہے ۔ وہ راستہ جو قرآن کی منزل بتاتا ہے ۔&lt;br /&gt; جہاں  ہم رہتے ہیں صرف نا پسندیدہ اشیاء ہی کو حرام جانا جاتا ہے  ۔  رنجشیں ، عناد ، بغض ، کینہ ، غیبت اور ایسی بے شمار خرافات ہمارے معاشرے میں اکاس بیل کی طرح پھیل چکی ہیں ۔ کہ ختم ہونے میں زندگی کا ایک حصہ درکار ہے ۔ آزادی کی خوشی ٹی وی پر ترانے چلانے  ، موٹر سائیکل بھگانے  اور جھنڈیاں لگانے سے نہیں حاصل ہو پاتی ۔آزادی کی خوشی تو تب ہو گی جب گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں ۔ اور بے فکر ہو کر سو سکیں ۔ دروازوں پر دستک دینے سے صرف کسی مہمان کا ہی خیال ذہن میں ابھرے ۔ کسی چور ڈاکو کا نہیں ۔&lt;br /&gt;رمضان کی آمد آمد ہے اور چودہ اگست بھی ۔ پھل کھجوریں دودھ اور ہر وہ شے جو سحر و افطار میں خوشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اتنی سستی ہوں ۔کہ غریب آدمی ماہ صیام  میں عبادت میں صرف رحمتیں سمیٹنے کی فکر میں مبتلا ہو ۔نہ کہ مہنگائی کی پریشانی میں ۔&lt;br /&gt; دوسری طرف رمضان کے مزے گراں فروش لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ اور چودہ اگست کا دن  ضمیر فروش سرکاری سطح پرمنانے کے بگل بجائیں گے  ۔ سبزی پھلوں سے لیکر کپڑے جوتوں تک پورے سال کی کسر ایک ماہ میں منافع سے نکالے جانے کی بھرپور تیاریاں زوروں پر ہوں گی ۔عوام عبادت اور رحمتوں کا ماہ سمیٹنے میں گزاریں گے ۔ اور گراں فروش و ذخیرہ اندوز منافع سمیٹنے میں ۔جشن دوبالا کرنے کے لئے چودہ اگست کو گھروں پر بڑے جھنڈے بھی لگائیں گے اور پورا گھر جھنڈیوں سے سجائیں گے اور ڈیک پر اونچی آواز میں یہ گانا بجائیں گے ۔&lt;br /&gt;یہ وطن ہمارا ہے ۔اسے ہم نے سنوارا ہے &lt;br /&gt; اس کا ہر اک زرہ ہمیں جان سے پیارا ہے&lt;br /&gt;بینک عوام کی جمع شدہ رقوم سے غریبوں ناداروں کی مدد کے واسطے زکواۃ کی کٹوتی کریں گے ۔جسے پہلے کی طرح حکمران اپنی عیاشیوں پر لٹائیں گے ۔ جیسا اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔جہاز بھر بھر عمرہ کی ادائیگی سرکاری سطح پر کی جاتی رہی ۔ اور اب پھر وہی وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔پہلا لوٹا مال ہضم کر چکے ۔ پہلے گناہ بخشوا چکے ۔ حکومت اور حکمران تو ایک طرف زکواۃ کمیٹیاں جو رقم کا حال کرتی ہیں ۔ وہ بھی ایک الگ داستان ہے ۔کمیٹیاں بننے میں عوام خاص کر دیہی علاقوں میں جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے ۔ سیاسی کشیدگی وہاں بھی نظر آتی ہے ۔ کمیٹیاں بنانے کے مراحل سے میں خود گزر چکا ہوں ۔کیسی کیسی سفارشیں اور اثرو رسوخ استعمال کیا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;ایک طرف لاہور کے مضافاتی علاقہ میں زکواۃ کمیٹیوں  میں من پسند افراد کے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا عمل ہو رہا ہو ۔ اور دوسری طرف لاہور شہر میں دن  دیہاڑے گھر کے باہر امریکہ پلٹ باپ بیٹی پر  پستول تانے  دو نوجوان زبردستی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے ۔ دلیر لڑکی نےپاسپورٹ سمیت سفری دستاویزات  کے ساتھ منی چینجر سے تبدیل کرائی گئی رقم کا بیگ اپنے کندھے سے نہیں اترنے دیا ۔ لوگ گھروں سے باہر نکل کر لڑکی کی بہادری پر عش عش کر رہے تھے ۔ جو سڑک پر گھسٹی رہی مگر بیگ نہ دیا لٹیروں کو ۔ جو آخر کار نامراد بھاگ کھڑے ہوئے ۔مگر جاتے جاتے  ہمارے لئے ایک سوال کھڑا کر گئے کہ  ایک غیر مسلم ملک میں  نوجون لڑکی آدھی رات کو بھی گھر کے راستے میں اندھیری گلیوںمیں غیر محفوظ نہیں ۔ تو اپنے ہی وطن اسلام  میں دن دیہاڈے بے شمار لوگوں کے سامنے جس بے دردی سے پستول کی نوک پہ اسے گھسیٹا گیا ہو ۔ اور اس کا مداوا صرف اس بات سے کر نے کی کوشش ہو کہ شکر کریں جان بچ گئی ۔&lt;br /&gt;تو کیا آزادی کا مطلب صرف جان بچنا  لیا جائے گا ۔ اگر آج مائیں بچوں کو اللہ کے سپرد کر کے گھروں سے باہر بھیجتی ہیں ۔ تو پھر اس کے کیا مراد لیا جائے گا ۔ &lt;br /&gt;عیسائی ریاستیں اپنے ممالک میں مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پہ سال کی سب سے بڑی سیل لگاتی ہیں ۔ تاکہ زیادہ سیل ہو ۔ ہوتا بھی یوں ہے کہ عوام ایک دوسرے کے لئے  تحائف کی خریداری کرتے ہیں ۔ اچھی اشیاء انہیں سستے داموں میسر آتی ہیں ۔ اور ایک ہم ہیں مذہبی تہواروں پر ہر شے مہنگی کر دی جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;گائے، اونٹ ، بکرے کی خرید ہو ۔ قصائی کا ریٹ ہو ۔ یا بچوں کے نئے کپڑوں کی فرمائش ہو ۔&lt;br /&gt;ان ممالک نے صدیاں  پہلے جو آزادی حاصل کی تھی ۔وہ آج بھی اسی مزے میں ہیں ۔صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے گھر  قلعوں کی مانند اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے چھپے  ہوئے نظر نہیں آتے ۔ بڑے بڑے جنگلے اور لوہے کے دروازےکسی قید خانے کا منظر پیش نہیں کرتے ۔ گھر کی چار دیواری نام کو نہیں ۔ کمزور اور کانچ کی بنی کھڑکیاں انہیں وہ تحفظ احساس دلاتی ہیں ۔ جو ہمیں کنالوں میں پھیلی محل نما  گھروں کے چاروں اطراف  اونچی اونچی دیواریں ایک عدد چوکیدار کے باوجود عدم تحفظ کا احساس دلاتی ہیں ۔ &lt;br /&gt;سرحدوں کی حفاظت ملک کو غلامی سے بچانے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ سرحدیں قوم کو غلامی سے بچانے کے لئے مضبوط کی جاتی ہیں ۔ملک کبھی غلام نہیں ہوتا ، قومیں غلامی  میں جاتی ہیں ۔وطن کی سالمیت کا نام لے لے کر جس آزادی کھونے کے خطرے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے ۔ وہ سرحدوں کی وجہ سے نہیں جائے گی ۔ بلکہ وہ قوم کے باہمی اختلاف ، عناد  اور تقسیم پر منتج ہوتی ہے ۔&lt;br /&gt; مجھے تلاش ہے اس کی جس کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے ۔ کیا وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھا یا  علامہ اقبال ، مولانا مودودی تھا یا ڈاکٹر اسرار احمد ،مولانا احتشام الحق تھانوی تھا یا ڈاکٹر طاہرالقادری۔ آخر کو کوئی تو ذمہ دار ہے ۔&lt;br /&gt;ہمارا یہی ماننا ہے ۔کیونکہ ہم سبھی ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;آئیں  سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔جس نے آزادی ملنے کے باوجود آزادی ملنے کی خوشی کو زیادہ عرصہ تک خوشی میں نہیں  رہنے دیا ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2087908097351386191?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2087908097351386191/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_30.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2087908097351386191'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2087908097351386191'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_30.html' title='کیا ہم شرمندہ ہیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-5733140353678225717</id><published>2010-07-29T10:18:00.000-07:00</published><updated>2010-07-29T10:18:26.753-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='محبت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='طنز و مزاح'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،شوہر،بیوی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>مست مستی مستان</title><content type='html'>راز  پانے سے  تو زندگی ضیا ہو گئی&lt;br /&gt;آنکھیں رہیں کھلی تو موت فناہوگئی&lt;br /&gt;سوچتاہوں کہ آج وہ لکھ ہی دوں جو کبھی کہہ نہیں پایا ۔میں اندھیروں سے محبت کرتا رہا اور روشنیاں مجھےجلاتی رہیں ۔صبر سے تھی جن کی گزر بسر محال۔میرے ہاتھوں ہی کو چوم کر زہر لگا دیا ۔ نوالہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ &lt;br /&gt;کراہنا مجھے درد سے تھا ۔ مسکرانا مجھے ان کو آہ ہو گیا ۔دل سے جو پڑھ لے زندگی کی کتاب کو۔ٹپکتا آنسو ایک بھی موتیوں کا خزانہ ہو گیا ۔جگر گر نہ تھاما ہوتا قلب آب پہ بھی دھڑکتا ہوتا۔ کسی ایک انسان کی یہ نہیں کہانی ۔ ہابیل قابیل سے ہے چلی یہ نفرت زمانی ۔پرندے سے ہے تعبیر داستان اُڑانِ پری ۔خواہشوں کے پنکھ پہ ہے یہ معلق  ہواؤں میں ۔ داستان مجاہد میں ہے ٹوٹتی تلواریں روز۔ نظر کے سامنے ہوتا کنارہ۔ ڈوبتی کشتی سے پاؤں پھر بھی اترتا نہیں ۔جھاڑیوں سے پانی کے ریلے گزرنے سے رکتے نہیں ۔سخت زمین سے ہے جو سینچتے ۔ پانی کے کٹاؤ سے وہی ہیں بچتے ۔&lt;br /&gt;&lt;div style="color: red;"&gt;اگر مشکل ہو تو اگے لطیفہ میں ہی کچھ بیان کروں ۔&lt;/div&gt;خواب میں جو دیکھیں خوبرو حسینہ شانوں پہ اپنے زلفیں پھیلائےگنگنائے ۔ پیار کی باتیں ہوں عشق کی پینگیں بڑھائے ۔صبح اُٹھنا ہو محال۔ بیگم ہو وہی مگر ہاتھ میں نہ آج اس کے وہ مزا آئے ۔بات بات پہ جو بگڑے ۔&lt;br /&gt;بار بار آئینہ سے وہ پوچھے ۔ پھر زیر لب مسکرائی ۔ سمجھ تو گئی وہ کہ اصل ماجرا ہے کیا ۔ سالوں کی خدمت کا صلہ ایک رات کی مستی میں چکا دیا ۔&lt;br /&gt;خوبرو حسینہ ایک رات آئی اس کے خواب میں بھی ۔نہ زلف دراز،       نہ چہرہ کھلتا گلاب ۔بولی تیرا آئینہ دیکھاتا تجھے تیرا عکس ۔ شوہر ہو تجھے کسی دیوتا کی پرستش ۔ یہ دیوتا تو رکھتا ہے ہر پجارن پہ نظر ۔مالا پہنانے سے تو ہے اسے یہ فتور چڑھا ۔چاہتا ہے یہ  ہر دم  پوجا کرتی داسی تو ناچتی ہوئی پجارن ۔&lt;br /&gt;آنکھ کھلی تو  بیگم نے پالیا وہ راز۔ آئے روز رکھتا ہے یہ کیوں چہرے پہ ملال ۔ ایک سال سے جو رکھا سنبھال۔ دن ایک میں کر دیا اس نے رخسار لال۔&lt;br /&gt;پھر نہ آئی خواب میں اس کے وہی خوبرو دوشیزہ ۔جب جب بڑھتی گئی لالی تب تب جیب ہوتی  گئی خالی ۔ بیگم کا تو ہے اب خوش حال ۔لیکن خواب میں ہی ہوتا ہے شوہر اب خوش بہت ۔ جب کہتے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے ہی کمیٹی اپنی کی تو پرچی نکال ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-5733140353678225717?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/5733140353678225717/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_29.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/5733140353678225717'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/5733140353678225717'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_29.html' title='مست مستی مستان'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-2097303449416846891</id><published>2010-07-28T21:59:00.000-07:00</published><updated>2010-07-28T21:59:54.930-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='طنز و مزاح'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>حد ہو گئی</title><content type='html'>بلا سوچے سمجھے لکھنا فنکاری تو ہے مگر فن تحریر نہیں کہلا سکتا ۔ آج وہی کرنے جا رہا ہوں یعنی فنکاری ۔ ہر حد کو پھلانگنے کی آرزو ہے ۔آم اور امرودتوڑنے کے لئے تو دیواریں پھلانگتے رہے بچپن میں ۔ آج وہ کرنے جا رہے ہیں جسے دیکھ کر اہل علم کہیں گے کہ" حد ہو گئی یار "اگر بلاگ بنا ہی لیا ہے تو پیچھے بچا کیا ہے ۔&lt;br /&gt;کیا اب  شاعروں اور ادیبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جو بے چارے حد سے گزرے ہوئے تھے ۔ اہل دانش اگر یہ کہیں وہ حد سے گرے ہوئے تھے ۔ تو پھرکھری کھری سننے سے کیسے بچیں گے ۔سنائیں کیوں نہ ساغر صدیقی مرحوم کو بھرے ہوئے سگریٹ پلا کر شاعری پر ہاتھ صاف کرنے والے مشاعروں میں واہ واہ کے ترانوں سے دم مست قلندر کرتے رہے ۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔ شعر کو تول کر وزن بتا دیتے تھے ۔کہ کس کے ترازو سے نکلا ہے ۔&lt;br /&gt; کہیں یہ تو نہیں سمجھا جا رہا ۔ کسی مشاعرے میں نہ بلانے  کے  غصے میں غبار نکال رہے ہیں ۔ایسا سوچئے گا بھی نہیں کیوں کہ میں ہفتہ میں ساتوں دن شیو بناتا ہوں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں بہت خوش رہتا ہوں۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ غمگین رہنے والے ہمیشہ برا  لکھتے ہیں اور خوش رہنے والے اچھا ۔&lt;br /&gt;اچھا اور برا تو مقدر سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اگر گالی دینے سے تھپڑ کھائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر منہ میں بڑبڑاناہی دوسرے کو ناگوار گزرے۔ تو حد سے گزرنے میں کیا حرج ہے ۔ کوئی  شاعر تو اس حد تک جا سکتا ہے کہ " کتنے شیریں ہیں تیرے لب – گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہوئے"۔&lt;br /&gt;مگرہمیں کہاں تک جانا ہو گا ۔ایسا کام ہی نہ کرو کہ چھیڑنے میں مزہ رہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کسی مہربان نے ایسا چھیڑا کہ اپنی صفائی دیتے دیتے منہ خشک اور کڑوا ایسا ہوا ۔ کہ کھانے میں سالن کی بجائے کھیر بھر بھر کر چپاتی کے نوالے بناتا رہا۔ مگر کیا کہنے چھیڑنے والے کے جو دوسروں کو دیکھ دیکھ کر ایک آنکھ بار بار بند کرتے ہوئے مشکڑیاں مار رہے تھے ۔اور اپنا لہو تھا کہ ابل ابل جا رہا تھا ۔چار گلاس پانی پینے سے لہو ٹھنڈا کیا ۔&lt;br /&gt; بات انہوں نے اس جملے سے ختم کی کہ سناؤ آج کل کیا لکھا جارہا ہے ۔جھنجھلا کر جواب دیا کہ اب ایس لکھوں گا  ۔قاری پڑھ پڑھ کر بھر بھر دل کا بوجھ ہلکا کرے ۔اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈتا رہے پوری اکیسویں صدی ۔&lt;br /&gt;جی ہاں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے بدلہ لینے کی ۔حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھا ہے ۔خود ہی انصاف کرے گا ۔ کیونکہ اب انصاف عدالتوں میں بھی نہیں  تو پنچائت بلا کر بھی نا انصافی کا رونا رہے گا ۔&lt;br /&gt;لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ میں نے چھوڑ دیا ۔ تو بلاگ کی دنیا چھوٹ سکتی ہے مگر " ہت تیری کی " کی نہیں ۔یہ تو اکثر پوچھتے ہیں کہ لکھنے کا خیال کیسے آیا ۔بلاگستان کا ممبر ہونے کا یہ اعزاز تو  ملا کہ جناب بچپن  سے شوق رکھتے ہیں اور جو بچپن سے جانتے ہیں ۔ ان کے لئے اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ بچپن سے پک رہا تھا ۔ اب جا کر کہیں دم دینے کے قابل ہوا ہے ۔بھلا یہ بھی کوئی بریانی کی دیگ ہے جو اب دم پخت ہوئی ہے ۔ &lt;br /&gt;دیرآید درست آید کو سچ ثابت کرنے کے لئے حد پھلانگنے کی کوششٰں میں  ہیں ۔اپنا ڈومین پانے کی دوڑ میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ۔ورڈ پریس پہ بلاگ سپاٹ کا سارا مواد منتقل ہو چکا ، تھیم سلیکٹ ہو گیا ۔ &lt;br /&gt; بلا عنوان سے ہی سائیٹ بنانے کا عنوان مل گیا ۔لیکن ابھی خوشی کی خبر سے کافی دور ہیں ۔نام تو پہلےہی سوچ رکھا ہے ۔بدنام بعد میں ہو گا ۔ &lt;br /&gt; کھانے کی ہوش نہیں رہی ۔ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے  پرانے درد نکل نکل کر چئیر سے چپک جاتے ہیں ۔ایک کے بعد ایک مسئلہ مشکڑیاں مار رہا ہے ۔ بلاگ تین چار بار حادثے کا شکار ہونے سے بچا ہے ۔ اب لہو کے ابال کو آٹھ دس گلاس پانی سے ٹھنڈک پہنچائیں گے ۔ &lt;br /&gt;کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے واسطے کچھ کھونا بھی ہوتا ہے ۔اپنا ڈومین پانے کے لئے بلاگ کے اثاثہ جات سے ہاتھ دھونا گھاٹے کا سودا رہے گا ۔ کیونکہ قاری کو پرانی تحریریں ایک ایک کر کے پھر سے پڑھنی پڑیں گی ۔ &lt;br /&gt;بلاگستان میں ایک ٹرم بہت مقبول ہے کہ ٹریفک بڑھانے کے نسخہ جات کا استعمال کیسے کیا جائے ۔&lt;br /&gt;حالانکہ حکومت عرصہ دراز سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے کبھی کم بچے خوشحال گھرانہ اور کبھی بچے دو ہی اچھے کو زندگی کی بیمہ پالیسی  کے اشتہار سے ترغیب دلانے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہے ۔ &lt;br /&gt;مگر دعا ہے کہ پاکستان کی آبادی  بڑھنے سے رک جائے مگر بلاگستان کی ٹریفک بڑھتی جائے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-2097303449416846891?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/2097303449416846891/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_28.html#comment-form' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2097303449416846891'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/2097303449416846891'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_28.html' title='حد ہو گئی'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-5815089708102891931</id><published>2010-07-23T21:07:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T21:58:57.213-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سیاست'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='جنگ آزادی ،ہیرو،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>ہم سب آزاد ہیں</title><content type='html'>آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔کسی بیرونی طاقت کے تسلط سے چھٹکارا پانا۔ یا  اپنے فیصلے خود سے کرنا ۔آزادی کی تحریکوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ جب بھی کبھی کسی بیرونی آقا نے عوام پر  ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تو اس کے رد عمل میں تحریک قائدین نے اپنا کردار ادا کیا ۔&lt;br /&gt;سرسید احمد خان کوئی حریت پسند نہیں تھے ۔مگر حمیت پسندی نےانہیں سوچنے پر مجبور کیا ۔جس نے زوال پزیر مسلمان قوم کو دوبارہ علم کی روشنی  سے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے میں مدد دی ۔ حالانکہ کم تعلیم یافتہ دور میں بھی ان قائدین نے اپنے مضامین کے زریعے اخبارات میں چھپنے سے لے کر ایوان اقتدار کے ایوانوں  تک اپنی آواز پہنچائی۔رسالہ جات اور اخبارات قوم کی نمائندگی کرتے ۔گو کہ پڑھنے والوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی مگر مواد پھر بھی میعاری ہوتا تھا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انگریز بہادر کی چھتری تلے کام کرنے والے بھی بہت ہوں گے مگر تاریخ انہیں آج فراموش کر چکی ہے ۔اور ان کا ذکر کرنا بھی مناسب خیال نہیں کیا جاتا ۔تحریک آزادی کی روح رواں ایسی قیادت آزادی حاصل کرنے کے بعد گمنامی میں کیوں چلی جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;پاکستان میں آزادی کی تحریک کے روح رواں  جو لوگ تھے ۔  پاکستان کی تاریخ  مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے نام نہ لئے جائیں ۔جنہوں نے اپنے اپنے تئیں قوم کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ سر سید احمد خان سے لے کر قائد اعظم محمد علی جناح تک بے شمار قائدین اس تحریک سے وابستہ ہوئے۔اور اپنے اپنے انداز میں قوم کی رہنمائی کی اور انہیں ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔جس میں پرنٹ میڈیا سے بھی قائدین شامل تھے ۔&lt;br /&gt;آزادی پانے کے بعد فرینڈز ناٹ ماسٹرجیسی سوانح عمری لکھنے والے،قائدین بن کر   ملک و قوم کی باگ ڈور ا  پنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔مرض کی تشخیص کرتے کرتے جب طبیب خود مسیحائی پر اتر آتے ہیں ۔ پھر وہیں سے کوئی نیا خواب جگا دیتا ہے ۔اور آزادی کی امنگ تقریروں سے بڑھکا دیتا ہے ۔آقا بننے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کر لیتا ہے جو اس کے پیش روؤں کا شیوہ رہا ۔&lt;br /&gt;قوم کو نئی راہ دیکھائی جاتی ہے ۔ قرآن و حدیث کا علم بلند کر کے پھر ایک نئی تحریک میں ڈھالا جاتا ہے ۔اور چند سال تک اسلام کا نام لے کر اپنا الو سیدھا تو قوم کو الٹا لٹکا دیا جاتا ہے ۔اپنے کئے کا اپنے ہی ہاتھوں انجام پانے کے بعدقوم کو پھر ایک نیا آزادی کا متوالا ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہے ۔چاہے وہ شریف ہو یا بدمعاش اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس کے بعد آزادی پانے کا ڈھنگ بالکل ہی نرالا ہے ۔ کیونکہ نہ ہی چند ماہ سے زیادہ تحریک چلتی ہے اور نہ ہی حکومت ۔&lt;br /&gt;ہوا کے گھوڑے پر بیٹھ کو  امیرالمومنین جب مشرف بہ اسلام نہیں ہو پاتے ۔ تو پھر ایک نیا ڈرامہ شروع ہوتا ہے ۔جو چند سال ادل بدل سے پرانی فائلوں کو ہی کنگھالتا رہتا ہے ۔&lt;br /&gt;ریشمی رومال کی تحریک کا چاہے جتنا بھی نام ہو ۔ کالے کوٹ سے بڑھی تحریک نہیں کہلا پائے گی۔ کالے کوٹ کی تحریک میں آزادی کا نعرہ بہت اہمیت حاصل کر گیا تھا ۔پھر وہی   کالا کوٹ آزادی  پانے کے  بعد  پہلے زینہ پر ہی دست وگریبان ہو کر پھٹتا ہوا نظر آتا ہے ۔تنازعات سے بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ بعض تو خود ہی متنازعہ ہو گئے ۔ &lt;br /&gt;پھر رنگین ٹی وی اور کالے صفحات بھی آزادی کی جنگ میں شرکت کرتے کرتے بے حال ہو گئے ۔ آزادی کے تحفظ کا دعویدار میڈیا بھی سراسیمگی پھیلانے میں آگے بڑھتا چلا گیا ۔ تاکہ پہلی خبر یا افواہ کا سہرا انہی کے سر رہے ۔ ہر گلی محلے کی نکڑ پر ویڈیو شاپ کی طرح قصبوں اور شہروں میں جگہ جگہ ایک عدد کیمرے کے ساتھ نمائندہ  ہر اچھی بری خبر کی کوریج میں سرگرم عمل نظر آتا ہے  ۔آج عدلیہ آزاد ہے ، میڈیا آزاد ہے ، حاکم  بھی آزاد ہے ، حکومت بھی آزاد ہے ۔تو پھر یہ قوم ہی بیچاری قیدی کیوں ہے ۔&lt;br /&gt;چودہ اگست1947 کو  ملک و  قوم نے جو آزادی حاصل کی تھی۔اس کے بعد سے 2010 تک ایک کے بعد ایک ادارہ اور شعبہ آزادی مانگتا چلا گیا اور اس کے لئے تحریکیں بھی چلائی گئیں ۔جس قوم کی آزادی اس کی بنیادی ضرورتوں میں پنہاں ہے۔ اب انہیں  دلانے والا کوئی سرسید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر ، علامہ اقبال یا محمد علی جناح جیسا بے لوث رہنما موجود نہیں ہے ۔جو انہیں شعوری فکری روحانی آزادی کے بعد معاشی معاشرتی اور تمدنی آزادی دلا سکے ۔ &lt;br /&gt;جس معاشرہ میں کرایہ داری نظام اتنا مضبوط ہو کہ مالک مکان کو سامان سمیت کرایہ دار سڑک پر پھینکنا پڑے ۔تو پھر کرایہ دار کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ مالک مکان آخر کب تک اپنی ملکیت  سے ہاتھ دھونے کی فکر میں مبتلا رہے گا ۔ کہیں  مالک مکان اپنی ملکیتی جائداد کو بچانے کے لئے   اُٹھ کھڑے نہ  ہوں۔اور سامان سمیت کرایہ دار  کو نکال کر گھر سے باہر پھینک دیں ۔&lt;br /&gt;زبان کی آزادی تو کب کی  مل گئی ۔مگر پیٹ کی آزادی میں مبتلا  یہ قوم پھر کسی مسیحا ءکے انتظار میں ہے ۔روح کی آزادی  قائداعظم نے دلا دی۔ اب انہیں  فکر معاش سے آزادی کے لئے  کسی طبیب کی مسیحائی کی ضرورت ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;.٭. &lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;دین کی دنیا میں فقط مسلمانی رہ گئی&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;نفرت کو بسائے صرف رشتہ داری رہ گئی&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;غلامی طوقِ گردن سے زنجیرِ پا ہو گئی&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;ملک آزاد ہو گیا قوم قیدی رہ گئی&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;جن سے تھا چھٹکارا پانا مقصود&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;اندازِ حکمرانی گورا تو چمڑی کالی رہ گئی&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;امانت دیانت صداقت کا پڑھا سبق&lt;/div&gt;&lt;div style="color: #660000; text-align: center;"&gt;روحِ قائد نہ رہی باقی بے قاعدگی رہ گئی&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="color: blue;"&gt;تحریر و اشعار : محمودالحق&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-5815089708102891931?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/5815089708102891931/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_23.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/5815089708102891931'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/5815089708102891931'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_23.html' title='ہم سب آزاد ہیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1007480892078341775</id><published>2010-07-22T21:02:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T21:59:52.954-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='شوقین'/><title type='text'>شوکن میلے دی</title><content type='html'>نام سے چونکیں نہیں  کہ یہ کس موضوع  پر اظہار خیال کا انداز فکر ہے ۔ ویسے ہی سنجیدہ موضوعات سے ہٹ کر کچھ نیا لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ۔ سوچتے ہوں گے کہ چاہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے ۔مگر یہ کیسی چاہ ہے ۔ جو گزرے وقتوں کی اکلوتی تفریح کے شوق کی تشہیری تحریر کا  مقام پانے کی آرزو رکھتی ہے ۔&lt;br /&gt;اکثر دیہات کے قریب ایک ایسا مقام ضرور پایا جاتا ہے ۔جسے ٹبہ یعنی اونچی جگہ سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ جہاں خاص طور پر گندم کی کٹائی کے موسم میں میلوں کے انعقاد ہوتے  ۔میلے میں شرکت کرنے والے شوقین افراد کی تعداد کا تعلق بزرگ کے عقیدت مندوں کی مالی حیثیت سے ہوتا   ۔جہاں لنگر خانوں سے لیکر جھولوں اور سٹالوں پر ایک خطیر رقم خرچ کی جاتی تھی۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مر و خواتین کے پاس وقت کی قلت ہمیشہ رہتی ۔ بیلوں کی جوڑی سے زمین پر ہل اور سہاگہ چلایا جاتا ۔ ایک ایکڑ کا مالک کاشکار بھی سارا سال فیکٹری کی طرح زمین پر کھیتی باڑی میں مصروف رہتا ۔ &lt;br /&gt;خواتین بھینسوں کو چارہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ دودھ سے دہی مکھن کو محنت سے بناتیں ۔ روزانہ چنگیر پر  روٹی سجانے کے لئے ضرورت کے مطابق گیہوں کو چکی میں پیسا جاتا ۔اور بجھتی آگ کو پھونکنی کی ہوا سے بڑھکایا جاتا ۔دودھ ہلکی آنچ پر اگلی صبح تک طاقت و توانائی کے لوازمات برقرار رکھتا ۔ نیند سے جاگنے کے لئے سورج کی پہلی کرن کا انتظار نہیں ہوتا تھا ۔&lt;br /&gt;زندگی اتنی سادہ تھی ۔کہ شادی بیاہ  کی رسومات ہی خوشی کا محور تھے ۔آٹھ دن پہلے ہی شادی والے گھر ڈیرے ڈال دئے جاتے ۔نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے یہی مستی کرنے کے دن ہوتے ۔ہر گھرانہ کے لئے دس بارہ بچے ہونے کے باوجود خوشی کے یہ لمحات پوری زندگی کے لئے کافی نہ تھے ۔مختلف تواریخ میں  میلوں کے انعقاد سے اس کمی کو پورا کیا جاتا تھا ۔جس میں ہر عمر کے افراد شرکت کرتے ۔تفریح طبع کے ہاتھ آئے موقع سے خوب  لطف اُٹھاتے تھے ۔اور خواتین اپنی  ضرورت کے تحت میک اپ کے سامان میں  پاؤڈر کریم کے سٹالوں پر زیادہ پائی جاتیں ۔&lt;br /&gt;ایک اتنی سستی تفریح اتنی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے ۔کہ آج بھی کسی مردو زن میں تمیز کئے بغیر پھبتی کسنے کے لئے یہی فقرہ چست کیا جاتا ہے ۔"شوکن میلے دی"(میلہ کی شوقین ) یا  "پھر پلے نیں دھیلا کردی میلہ میلہ" ( جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں میلہ میں جانے کی ضد)۔&lt;br /&gt;میلوں میں اکثر بچوں کے کھو جانے کی کہانیاں فلموں کا موضوع بنی ۔ جو اختتام پر بازو پر کندہ  نام سے بچھڑے ہوئے ملائے جاتے ۔ شائد اسی خوف سےاس زمانے کے  اکثر لوگوں کے نام ان کے بازو پر کندہ ہوتے ۔ اور نام کندہ کرنے والے زیادہ تر میلوں ہی میں پائے جاتے ۔ لیکن آج کل جو ٹیٹوبنائے جاتے ہیں ۔ وہ اس کی جدید شکل تو ہیں مگر مقصد بچھڑے ہوئے ملانا نہیں ۔ بلکہ فیشن ہے ۔&lt;br /&gt;مضمون کے عنوان کے حوالے سے ڈھونڈنے والے شوکن (شوقین) کی تلاش پڑھتے ہوئے یہاں آ پہنچے ہوں گے ۔ کب ذکر خیر ہو ۔مگر یہاں ذکر صنف کے حوالے سے نہیں ہے ۔ بلکہ اصناف کا ہے ۔ &lt;br /&gt;کہ انسانی معاشرہ بتدریج ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے تفریح طبع کے لئے جدید علوم سے آراستہ ہو چکا ہے ۔میلوں میں سٹال لگا کر صدائیں دینے والا دور گزر چکا ۔ جب کوڈو سٹیج پر کھڑا ایک روپہ ایک روپہ کی صدا لگاتا تھا ۔ نقلیوں اور بھانڈوں کا دور جا چکا ۔ اب مسخرہ پن کا دور عروج ہے ۔ جہاں ڈی وی ڈی ،ویڈیو سے خوشی کے لمحات قید کر لئے جاتے ہیں ۔پندرہ پندرہ دن کی شادی کی رسومات ڈھول کی تھاپ  ، تو کبھی گانوں کی جھنکار کے ساتھ کورس کی شکل میں سجائی جاتی ہیں ۔پھر پورا سال ویڈیو دیکھنے میں گزارا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;شہروں قصبوں میں فوڈ بازار میلوں سے بڑھ کر سارا سال ہی انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبوؤں سے ماحول کو مہکائے رکھتے ہیں ۔بڑی سڑکیں کسی فوڈ مارکیٹ کا منظر پیش کرتی ہیں  ۔ ہر چوک پر بیوٹی پارلر کھلنے سے دلہن  اور اس کی سہیلیوں کے ساتھ ساتھ دلہا اور اس کے دوست بھی میک اپ سے مستفید ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔گھروں کو گرا گرا کر برگر پوائنٹ  اور ولائیتی کھانوں کا مرکز بنایا جارہاہے ۔جہاں عوام کا جم غفیر  مال مفت دل بے رحم  جیسا منظر پیش کرتا ہے ۔دولت کا نشہ منرل واٹر سے گلاسوں میں انڈیلا جاتا ہے ۔موبائل فون کی بجتی گھنٹیاں اور پھر ان پر کھلے قہقہے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔&lt;br /&gt;اگر وہ دور" شوکن(شوقین) میلے دی" کا تھا ۔ تو کیا اب یہ دور" سوکن ویلے(وقت) دی" کا کہلائے گا ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1007480892078341775?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1007480892078341775/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_22.html#comment-form' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1007480892078341775'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1007480892078341775'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_22.html' title='شوکن میلے دی'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1727501518112434059</id><published>2010-07-21T07:45:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T22:00:24.743-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='زندگی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پتھر،'/><title type='text'>پتھر بھی بول اُٹھے</title><content type='html'>معمولات  زندگی کے شب و روز ایسے گزرتے ہیں ۔کہ اگر خاموش رہیں تو سینہ پتھر ہو جائے ۔بول اُٹھیں تو  جیسےپتھر لاوہ  بن کر بہہ نکلے۔پھولوں کی طرح کھلتے ہوئے مسکرانا ، بھینی بھینی خوشبو کی طرح پھیل جانا محض محاورہ کی دنیا کی دل نشینی تک محدود  ہے ۔جو آنکھوں میں خواب جاگنے کے بعد شروع  ہوتے ہیں ۔ جنہیں پلکیں اُٹھا اُٹھا کر تھک کر بند  ہو جاتی ہیں ۔&lt;br /&gt;پتھر کے زمانے کا انسان ترقی کے میدان کا سورما تو نہیں تھا مگر طاقت ، توانائی اور تندرستی تناور درخت کی مانند رکھتا تھا ۔پتھر سے ہی تیار ہتھیار اور اوزار سے لیس رہتا ۔مگر خود پھول اور پتوں کی مانند محبت میں نرمی رکھتا ۔جیسے جیسے پتھر زندگی میں غیر اہم ہوتے چلے گئے ۔چٹانیں بھی اپنی قدر کھوتی چلی گئیں ۔&lt;br /&gt;لکڑی لوہا اپنے آپ کو ہر رنگ میں ڈھالنے کی صلاحیت کے بل پر انسانی معاشرے میں جستجوء حاصل کی معراج پہ جا پہنچا ۔جس میں گلنے گھسنے کا عمل زیاکاری اپنی آخری حد تک ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;صحیح ہی تو کہا جاتا ہے کہ سینوں میں دل  نہیں پتھر ہیں ۔جو ہر احساس سے خالی رہتے ہیں ۔پھر دوسرے ہی لمحے یہ کہنا کہ چٹانوں کی طرح  جمے رہنا بہادری اور فتح کی نشانیاں ہیں ۔پھر یہ تاثر بھی کہاں تک درست ہے کہ کسی پر اتنا دباؤ بڑھایا جائے ۔ کہ وہ برداشت ہی نہ کر پائے ۔ اور ایسا ہو جائے کہ کہنے والے کہنے سے نہ چوکیں کہ اب تو پتھر بھی بول اُٹھے ۔&lt;br /&gt;پتھر پر ضرب لگانے کا انداز لکڑی کی طرح نرم ، لوہا کی طرح گرم نہیں ہوتا ۔کہ کٹنا اور  ڈھلنا  آسان ہو ۔بلکہ پتھر اپنے پر استعمال کی گئی  ہر ضرب کی طاقت کو واپس بھی لوٹا تاہے ۔ &lt;br /&gt;اہرام مصر کا معمہ آج بھی حل طلب ہے کیسے اور کیونکر وہ پتھر وہاں تک پہنچائے گئے ۔ آج  موضوع صرف پتھروں کی تاریخ بیان کرنے کے لئے  کافی نہیں ہے ۔اصل مقصد تو انسانی مزاج کو تشبہہ  و استعارات سے منسوبیت ہے ۔انسان زندہ تو مٹی ، ہوا کی بدولت ہے ۔مگر مزاج کی تاثیر لکڑی لوہا یا پتھر سے تابکاری اثرات کی طرح حاصل کرتا ہے ۔لکڑی لوہا سے حاصل کردہ کٹی اور ڈھلی ہوئی اشیاء انسانی قدروں کے قد کاٹھ میں پستی اور اونچائی کا معیار بنا دی گئی ہیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزائن اور تخلیق نے مخلوق کو تقسیم کی تفریق میں مبتلا کر رکھا ہے ۔مگر احساس تحفظ تو وہی پتھر جیسا ہے ۔جو چار دیواری کے اندر غار کی طرح محفوظ ہونے کا احساس جاگزیں رکھتا ہے ۔&lt;br /&gt;کسی بھی بات کو کہنا   پھر اس کی تہہ تک جانا اور توقع یہ کرنا کہ جیسا اسے کہا گیا وہ حقیقت و سچائی ہے ۔ علا وہ اس کے دنیا پرائی ہے ۔عقل غیر سودائی ہے ۔رہنا اکیلے مزاج میں ڈھٹائی ہے ۔اپنا رنگ ہی اکثیر ۔ دوسرا حقیر و رسوائی ہے ۔قائدہ و قانون پابندی اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر سوچ زیادہ تر پابندی کے خلاف بغاوت پر اکساتی ہے ۔&lt;br /&gt;پھول اور پتھر کی طرح انسانی رویے میں محبت کو پروان چڑھاؤ جو درختوں اور چٹانوں کی طرح آسمانوں کو چھوئے ۔ نہ کہ زمین کے اندر دھنسی ہوئی دھاتوں سے بنائی ہوئی اشیاء سے طوق کی طرح گردن ، کڑوں کی طرح ہاتھ پاؤں قید تو ہوں مگر بڑائی کے نشہ کا سرور نہ جائے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1727501518112434059?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1727501518112434059/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_21.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1727501518112434059'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1727501518112434059'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_21.html' title='پتھر بھی بول اُٹھے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-767931614255624235</id><published>2010-07-19T00:04:00.000-07:00</published><updated>2010-07-19T11:51:19.681-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='دعا،بیماری ،صحت،'/><title type='text'>صحت کی دعا</title><content type='html'>ہم سب کی دعا ہے کہ  &lt;a href="http://pak.net/%D8%A2%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85-%D8%AF%DA%A9%DA%BE-%D8%B3%DA%A9%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A2%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D9%86-%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%A7-40626/#post294832"&gt; معظم شاہ صاحب&lt;/a&gt; کی زوجہ محترمہ کو اللہ تبارک تعالی صحت و تندرستی  کی نعمت عطا کرے ۔ جلد از جلد اپنی بیماریوں کو شکست فاش دے کر گھر کے گلستان میں پھول سے بچوں میں خوشبو کی طرح بسی رہیں۔اور بیماریاں کانٹوں کی طرح سوکھ کر فنا ہو جائیں ۔گھر کا دروازہ کھولیں تو باد نسیم کے جھونکے آندھیوں کی طرح آنگن میں کھیلتے بچوں سے لپٹ لپٹ کر خوشیوں کی مہک سے لبریز ہو جائیں ۔زرہ زرہ زمین قدموں سے لپٹ لپٹ کر خوشی کے ہر پل میں سمونے کی آرزو میں مچل مچل جائے۔زندگی بانہیں کھولے امتحانوں سے گزرنے کے پل سراط کو عبور کرنے پر خوش آمدیدی کلمات دہراتی قربان ہوتی جائے ۔ دکھ و پریشانی کا ایک ایک پل سکون نعمت کے برس ہا برس میں پھیلتاچلا جائے ۔آنکھوں میں امید کے چراغ روشن رکھنے والی بینائی ستاروں کی عنبریں جھرمٹ میں کہکشاؤں سے قہقہے بانٹنے میں بازی جیت جانے کی خوشی میں شہر شہر دعا ء منادی کرے ۔زندگی سے اپناپن چھیننے کی کوشش کرنے والے موذی امراض اپنی موت کا آخری دیدار تیز آندھیوں میں سوکھے پتوں کے بنتے زرات تحلیل ہوتے ہوتے خاک ہوتے ہوئے دیکھیں۔&lt;br /&gt;اللہ تبارک تعالی بھابھی صاحبہ کو ہر بیماری اور اس کے اثرات سے محفوظ اور اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔اور شاہ صاحب کو بلند حوصلگی و ہمت کا صلہ رحمی عطا ہو ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آمین ثمہ آمین&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-767931614255624235?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/767931614255624235/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_19.html#comment-form' title='11 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/767931614255624235'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/767931614255624235'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_19.html' title='صحت کی دعا'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>11</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-6383596439362810130</id><published>2010-07-18T20:34:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T22:02:30.492-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ،چینی ،سیاست،سفینہء محمود،،'/><title type='text'>چینی کم</title><content type='html'>چائے میں کتنے چمچ چینی چاہیں  گے آپ ۔چینی کیااپنی انگلی محبت سے ڈال دیں چاشنی پوری ہو جائے گی ۔ بہت گھسا پٹا جملہ  ہےآج  سنانے کی کیا ضرورت  آ گئی۔ سنانا توکھری کھری چاہتا ہوں مگر  کئی بار پڑھ چکا ہوں اور کئی بار شائد کسی ڈرامے یا فلم میں سن چکا ہوں ۔ اس لئے اب سنجیدہ بات کرنے کا کوئی موڈ نہیں ۔ غیر سنجیدگی میں جو مزا ہے سنجیدگی کی چپ میں نہیں ۔ &lt;br /&gt;باتوں کی جھڑی جب لگ جائے تو  قہقہوں کی برسات روکنے سے نہیں تھمے گی۔&lt;br /&gt;اب اگر منانے والے یہ کیوں نہ کہتے پھریں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ ہاں یہی بات تومیں کہنا چاہتاہوں ۔ آخر کب تک باتوں ہی سے پیٹ کا جہنم بھرتے پھریں ۔ ایندھن ویسے بھی اب ملنا مشکل ہے ۔ بس چنگاری بڑھکانے والے آتش تیلی انگلیوں میں دبائے رکھتے ہیں ۔چاہے اس سے سگریٹ سلگا لیں یا کسی کا گھر حسد کی آگ سے بھسم کر دیں ۔کوئی ملال نہیں ۔&lt;br /&gt;انتہا تو یہ ہے کہ حلال وہی سمجھتے ہیں جو حرام کی کمائی سے چاہے خریدی گئی ہو مگر حرام نہ ہو ۔&lt;br /&gt;بات صرف کھانے کی حد تو ہوتی تو خیر تھی مگر یہاں بات اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے ۔ اگر لکھنے کی غلطی کر بیٹھا ۔ٹخنے کیسے بچاپاؤں گا ۔ جیسے بچپن میں سبق یاد نہ کر کے آنے کی پاداش میں  ماسٹر کی چھڑی سے کبھی بچا نہیں  پاتے تھے ۔بات تو صرف ہو رہی تھی حرام حلال کی جو صرف کھانے  کی حد تک اپنے اوپر حد کی صورت میں لاگو رہتاہے ۔ مال تو ہمیشہ حلال ہی ہوتا ہے ۔چاہے وہ چینی مہنگی ہونے سے ہو یا ڈیزل کے کمیشن سے ہو ۔ &lt;br /&gt;جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ یہ تو صرف طرز ہے ۔ ورنہ کہاں یہ منہ اور یہ مسور کی دال ۔اتنے برے  غلطی معاف کریں بڑےناموں کو ہدف تنقید بنانے کی اب جرآت کہاں رہ گئی ۔ رہنمائی سیدھے راستہ سے حاصل ہوتی ہے ۔جب رہنما سیدھے راستے سے نہ آتے ہوں  تو رہنمائی تو در کنار دھلائی بھی ٹھیک طرح سے ہونا مشکل ہے ۔جب نعرہ یہ ہو کہ غریب نہیں رہے گا تو پھر غریب کو بھی تو یہ چاہئے کہ وہ کہے غربت بھی نہ رہے ۔&lt;br /&gt;لیکن اب وقت کا یہ تقاضا ہے کی وہ مغرب کے بعد گھروں میں رہیں ۔غربت تو پہلے ہی ہے اب کہیں رات اپنے ہی نالہ سے باندھ کر کوئی سڑک پر پھینک جائے اور کپڑے  لوٹ لے جائے ۔ یہ زمانہ دیکھنے کو کیا باقی ہے کہ عزت بچی رہے کپڑے لوٹ لئے جائیں۔پہلے ہی بڑی مارکیٹوں کے سرمایہ دار اچھی گانٹھیں کھول کھول کر ولائتی بابو ہینگر میں لٹکا کر  دعوت خرید کے جرموار ہیں ۔ &lt;br /&gt;جرم تو ان کے بھی سنگین ہیں کہ سامنے جن کے کپڑے خون میں رنگے جاتے ہیں ۔مگر ان کی دعوت    جو شاہی محل کے شیش محل کے لان جیسی خاص ہو ۔عام الناس کو فقط  اپنے جوتے بغل میں دبائے کسی عقیدت گاہ کے منظر سے کم نہیں رہ گئی ۔قصور ان کی نظر کا نہیں ہے ۔ معاملہ عقیدت کا ہے ۔سبز باغ دکھا کر پانی لگانے والے باغبان اقوام میں شامل ہونے کی افواہ اڑانے سے خوش فہمی کی ایسی گھاس پر ننگے پاؤں چلاتے  کہ گلدستے بنا بنا انہی کے گلدانوں میں اپنے ہاتھ سے سجاتے۔ خوشی خوشی چھوٹے مالک کو کندھوں پر اٹھا اٹھا گلکاریاں کرتے اظہار تشکر ختم نہیں ہوتا ۔حاکم ،محکوم کو مالک ،مالی بھی کہاجا سکتا ہے ۔ &lt;br /&gt;مشورہ مفت ہو عمل کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ایک انگلی ایک کان میں اور ایک انگلی دوسرے کان میں دیں ۔ آذان کے لئے تیاری کا نہیں کہ رہا ۔انگلیاں کانوں میں ٹھونسنے کا  مشورہ ہے ۔اب صرف اتنا کریں کہیں آنکھوں میں پٹی خود سے نہ باندھ لیں۔ ایسا اس لئے کہا جلوس نکالنے کا کہا جائے یا ریلی نکالنے کا تو کسی شرپسند یا مالک کا سند یافتہ پتھر ایک پھینکے تو مجمع کتبے بینر چھوڑ باقی کا کام خود سے ہی پورا کر دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;پھیکی چائے پی کر لب شیریں نہیں رہ گئے ۔ فرہاد کو ڈھونڈ کر لانا ہی ہو گا جو میٹھے دودھ کی نہر کھود ڈالے ۔اب کیا کریں دودھ پینے والے مجنووں کی بھرمار ہے ۔ سلطان راہی مجھے ہمیشہ سے ہی پسند تھا ۔ غربت تو ختم نہ کر سکا۔ مگر غریب کے دل میں امید کی کرن جگا تارہا ۔ خون کی ندیاں خود ہی بہاتا رہا۔ اور خون کبھی بھی سکرین سے باہر نہیں ٹپکا ۔اب تو خون ہر طرف ٹپکتا ہے ۔اور وہ بھی غریب کا ۔ غربت ختم کرنے کا  انوکھا طریقہ ایجاد ہو ا ہے ۔ جو صرف غریب ختم کرکے شائد ختم ہو ۔سکرین پر ختم ہونے والےہر کشت و خون کے بعد یہ ضرور آتا تھا ۔ ختم شد۔ &lt;br /&gt;مگر اب بات ختم پر ہی شائد ختم ہو۔ جس پر بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے ۔ اتنی ڈشیں بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔ مہنگائی کے دور میں ایسی فضول خرچی کہ انسان کا مرنا آسان اور جینامشکل ہو ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو خودکشی کو حرام کہنے سے جینا حلال بھی تو ممکن نہیں۔ ممکن تو یہ بھی نہیں کہ ہم آج ایک عہد کر لیں کہ نفرت کی آگ بڑھکنے سے پہلے رواداری کے پانی سے بجھا دیں گے ۔رواداری باری باری سے ہی ممکن ہے ہاری کی آزادی سے نہیں ۔عوامی باری تو کبھی آئے گی نہیں ۔ زر کا دور ہے ۔ شر کا زور ہے ۔ پھر سب سے کم لکھنا ہی کمزور ہے ۔&lt;br /&gt;میرا سلام ہے ۔ اردو  کو  انٹر نیٹ پر متعارف  کروانے والوں کو ۔ جن کی بدولت کاغذ قلم کے اخراجات سے مفت میں ہی محفوظ رہنے کا فارمولہ پا گئے۔اور بے تکی تحریروں کا سلسلہ بلاگ کی کھونٹی سے باندھنے میں کامیاب ہوئے۔ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کو سچ کر دکھایا ۔دودھ کے اثرات زائل ہو بھی جائیں مگر کھونٹی سے آزادی کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے ۔بلاگستان میں دھما چوکڑی ہوتی رہے ۔ناموں میں کیا رکھا ہے ۔کانٹے زیادہ بڑے ہوں تو پھول اتنے ہی خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔ شکر ہے خبر پھیلانے والوں میں ہمارا شمار ہو گا ۔ شر پھیلانے والوں سے وابستگی ثابت نہیں کر پائیں گے۔گالی کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ شائد غصے میں کبھی پھسل گئی ہو ۔مگر ڈگری کی گارنٹی ہے ۔ دن رات کی محنت اور کئی عدد سگریٹ کے پیکٹ پھونکنے کی قیمت میں حاصل کی تھی ۔ لیکن ڈگری کا علم سے بھلا کیا تعلق ۔میٹرک پاس عالم فاضل صحافی لاکھوں گریجوایٹس سے علمی برتری کےدعویدار ہیں ۔کبھی ہم یہ دعوی کرتے ہوئے پائے جائیں کہ لاکھوں میٹرک فیل سے جہالت میں بدتر نہیں تو  یقین  کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا ۔کیونکہ قدر مشترک ایک ہی ہے کہ چائے صرف چینی کے لئے پیتے ہیں۔حقہ اگرچہ کڑوہ ہوتا ہے مگر چسکا گڑ کا رہتا ہے ۔اب اگر گڑ چینی سے مہنگاملے تو  باتوں میں کیوں نہ مٹھاس ہی پیدا کر لیں ۔ اب اس مفت کے مشورہ کی حیثیت کسی زخم پر جونک لگوانے سے زیادہ کیا ہو گی ۔جونکیں پہلے ہی  خون چوس چوس کر موٹاپے کا شکار ہیں ۔نا امیدنہ ہوں اقبال رحمہ فرما گئے ہیں۔&lt;br /&gt;نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے &lt;br /&gt;زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-6383596439362810130?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/6383596439362810130/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_18.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6383596439362810130'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/6383596439362810130'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_18.html' title='چینی کم'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1544707903684752209</id><published>2010-07-17T22:50:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T22:02:51.652-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین،جھوٹ ،'/><title type='text'>جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے</title><content type='html'>سچ کہنا اور لکھنا اتنا ہی  مشکل ہے جتنا کہ سننا ۔ بچپن ہی سے تحسین و پزیرائی کی ایسی عادت پروان چڑھتی ہے  کہ زندگی بھر انسان اچھا سننے کو ہی اچھا سمجھتا ہے ۔نہ جانے آئینے میں کیا خوبی ہے کہ وہ سچ دکھاتا ہی نہیں  یا اس میں نظر کا قصور ہے ۔ جو بچپن ہی سے اچھے خواب پلکوں پہ سجانے کی عادی ہو جاتی ہیں ۔آئینہ خود سے انھیں کچھ نہیں دکھاتا ۔انہی آنکھوں کے خواب انھیں واپس لوٹا دیتا ہے ۔&lt;br /&gt;انسان فطرت میں رہتے ہوئے بھی  ایک دوسرے سے فطرت میں  دور ہے ۔ انسانی سوچ یک طرفہ ٹریفک کی مانند  ایک رخ پہ زیادہ چلتی ہے ۔ساتھ چلنے والے چاہے تیز رفتار کیوں نہ ہوں ۔قربت کا احساس دیر تک ساتھ رکھتے ہیں ۔ مگر اس کے مقابلے میں مخالف سمت  آنے والے خاموش ، بے آواز ،بے ضرر کیوں نہ ہوں۔ خوف میں مبتلا رکھتے ہیں ۔پانی کے بہاؤ میں آگے بڑھتی ناؤ پانی کے فرش پہ پھیلتی چلی جاتی ہے ۔مخالف سمت بہاؤ میں  تو بادبان بھی نہیں کھلتے ۔اور نہ ہی ملاح کے دست و بازو ساتھ نبھاتے ہیں ۔&lt;br /&gt;جیسے زبان سے سچ پھسلتا اور جھوٹ اٹکتا ہے ۔&lt;br /&gt;زبان اچھا چکھنے اور کان اچھا سننے کی فطرت پہ ہوتے ہیں ۔اچھا سننا سچ اور جھوٹ  کے ترازو سے نہیں تولا جاتا ۔بلکہ سوچ کے انداز ِ اصول پہ ہوتا ہے ۔بیٹا ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خوشنودی کی خاطر بیوی کی نا معقولیت کا شکوہ کرے تو سننا  اچھا ہے ۔ لیکن بحیثت بیوی مرد کا یہی فعل برا سمجھا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;ایسا آلہ بھی کیوں نہ ایجاد ہوتا ۔ جو ایک اپریشن سے انسان کے اندر سے بغض ، حسد ، لالچ ، جھوٹ  کا  زہریلا مادہ نکال باہر کر سکے ۔اگر یہ فاسد مواد گردش خون سے پیدا ہوتا تو  شائد ممکن  بھی ہوتا ۔مگر یہ تو آنکھ اور کان سے روح میں اترتا ہے ۔ اور لعاب دہن میں لپٹ کر جسم سے نکلتا ہے ۔آج تک کسی بھی طبیب نے آلات جراحی سے روح کی جراحی نہیں کی ۔ اس سے بچنے اور محفوظ رہنے کا وہی راستہ ہے  جو مذہب نے بتایا ہے ۔ وہ راستہ ایجاد کا نہیں انسانیت کا ہے ۔جو جھوٹ و فریب کی پزیرائی نہیں کرتا اور دل آزاری بھی نہیں چاہتا ۔&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;صورت ہی کی دستیابی ان کو ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دیکھو جلوے پھیلے انوار روشن کے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;منظر جو نظر ہو بیتابی ان کو ہے&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1544707903684752209?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1544707903684752209/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_17.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1544707903684752209'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1544707903684752209'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_17.html' title='جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-1412350252079503162</id><published>2010-07-14T20:04:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T22:04:00.424-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='جنگ آزادی ،ہیرو،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>پنکھ ہوتے تو اُڑ جاتے</title><content type='html'>ہواؤں کا چلنا ، بادل کا اُڑنا ،بارش کا برسنا ، پہاڑوں پر برف کا جمنا ، پھولوں کے کھلنے کا  اپنا وقت ، پھلوں کے پکنے کا  اپنا، ایک موسم میں ایک فصل کا ہونا ،پرندوں کا چہچہاتے ہوئے صبح کا آغاز اور چہچہاتے ہوئے ہی دن کا اختتام، کسی بھی بے چینی کے اظہار سے بے نیاز ہوتا ہے ۔جو میرے بچپن میں جیسا تھا  آج بھی ویسا ہے ۔لیکن میں  ویسا نہیں رہا ۔گزرنے والا ہر لمحہ پہلے سے زیادہ تفکر و پریشانی کا سبب بن جاتا ہے ۔نہ جانے کیوں پروان چڑھتی غلط انداز سوچ میں سامنے والا  بیوقوفی یا جھلا پن کی حدوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمدردی جتانے والے چہرہ کے سامنے سے ہٹتے ہی منافقت کی  چادر کیوں اوڑھ لی جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;تعلق ہو یا کوئی رشتہ غرض و مفاد &lt;br /&gt;کی اوڑھ میں چھپا کر  رکھا جاتا ہے ۔کیا یہ ضروری ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس بھی اختیار کیا جائے ۔گھر آنے والے ہر مہمان کو  بلا لحاظ کردار مسکراتی آنکھوں سے خوش آمدید  کہا جائے ۔جس کے وہ اہل نہ بھی ہوں ۔ سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔جب بار بار کی نیکی  کرنے سے بھی نفاق کی گرہیں نہیں کھلتیں ۔ڈرامے اکثر چند قسطوں کے بعد اچھائی کے زیر اثر نظر آتے ہیں ۔مگر زندگی میں اچھا بننا کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتا ۔بلکہ اچھا دکھانا زیادہ اہمیت  رکھتا ہے ۔جیسے اکثر ٹی وی پر آمنے سامنے بیٹھے سیاست کے ستون اس ملک کی حقیقی نمائندگی کے علمبردار نظر آتے ہیں ۔الزامات ، دفاع ، جارحیت اور جھوٹ کا پلندہ اٹھانے کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہیں ۔سچ کی  ہمیشہ جیت نہیں ہوتی کبھی سبکی بھی ہوتی ہے ۔&lt;br /&gt;کیا سچائی جاننے کے لئے انسانوں کو پھر سے جنگلوں کا رخ کرنا ہوگا ۔جہاں پل بھر میں بدلتے چہروں جیسے موسم نہیں ہوتے ۔مصنوعی ضابطہ حیات کی قد غن نہیں ہوتیں ۔پرندے اور چوپائے ہزاروں سال سے فطرتی کردار نگاری سے مزین نظر آتے ہیں ۔بادشاہت کا تاج ہمیشہ شیر ہی کے سر رہا ۔لومڑی فطری چالبازیوں  سے ویسے ہی دم افروز ہے ۔لیکن جس تہذیب یافتہ معاشرے کے ہم باسی ہیں ۔وہاں کردار نگاری میں حقیقی رنگ مصنوعی طریقہ سے بھرا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;جنگ آزادی کے ہیرو کے پڑ پوتے معاشی ضرورتوں کے لئے  آج ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں ۔تو دوسری طرف آزادی کے متوالوں کی مخبری کرنے والوں کے پڑپوتے ملک و قوم کی آزادی اور سالمیت  پر آنسو بہاتے ہوئے نہیں تھکتے ۔اتنے بڑے تضاد کے ساتھ  حکمران ٹیپو سلطان ہو یا ایسٹ انڈیا کمپنی ، بہادر شاہ ظفر ہو یا ملکہ ۔ بیچاری عوام کبھی میر صادق، میر جعفر  تو کبھی ہندو کی سازشوں کے طفیل اصطبل میں بندھے گھوڑوں  کی مانند رہ جاتی ہے ۔ جنہیں خالی چنوں پر رکھا جاتا ہے ۔بھگانے کی ضرورت پڑنے پر سیبوں کے مربع سے بھی تواضع کی جا سکتی ہے ۔ لنگڑا ہونے کی صورت میں صرف گولی جن کا مقدر بنتی ہے ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-1412350252079503162?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/1412350252079503162/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_7510.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1412350252079503162'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/1412350252079503162'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_7510.html' title='پنکھ ہوتے تو اُڑ جاتے'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-770515067079910913</id><published>2010-07-14T09:05:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T22:03:30.402-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='طنز و مزاح،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>زن آٹے دارتھپڑ کی  گونج</title><content type='html'>ڈاکٹر ڈین کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج کئی بار سنائی دی ۔ تھپڑ تو ایک بار ہی پڑا تھا ۔ مگر فلم کرما کئی بار دیکھی گئی ۔جیلر کو پلٹ کو ڈاکٹر ڈین کا دھمکانا کہ وہ اس تھپڑ کی گونج بھولے گا نہیں ۔ جیلر چاہتا بھی یہی تھا کہ وہ کبھی نہ بھول پائے ۔ &lt;br /&gt;لیکن ہمیں گونج سے کبھی بھی سروکار نہیں رہا ۔مگر اس بات کا تجسس کبھی ختم نہیں ہوا ۔کہ یہ خاص قسم کی گونج کب اور کیونکر پیدا ہوتی ہے ۔کیونکہ گھونسوں سے کبھی ایسی آواز نکلتے دیکھی نہیں ۔سنا ہے کہ آٹا گوندھنے والی خاتون کا ہاتھ بہت بھاری ہو جاتا ہے ۔ شائد اسی بنا پر گونج دار تھپڑ کو ایسی عورت کے ہاتھ سے تعبیر کردیا گیا ہے ۔ زن (عورت) آٹے  دار ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس نام کے سنتے ہی ایک واقعہ دماغ میں گرم روٹی کی طرح تازہ ہو جاتا ہے ۔جسے ہمارے ایک دوست نے کچھ یوں بیان کیا تھا ۔&lt;br /&gt;ان کا ایک کلاس فیلو کیمسٹری کی لیب میں ایک روز دوستوں سے ایسے کیمیکل کے بارے میں جانکاری مانگ رہا تھا ۔جو اس کی داہنی آنکھ  کو بھی سرخ کر دے ۔بائیں آنکھ بس میں دوران سفر  ایک زن آٹے دار تھپڑ  کی وجہ سے پہلے ہی سرخ تھی ۔ گھر والوں کی تفتیشی نگاہوں سے بچنے کا صرف یہی ایک حل انہیں نظر آیا ۔ دوستوں نے افسوس کا اظہار تو کم ہی  کیا ۔ البتہ مذاق زیادہ اڑایا گیا ۔&lt;br /&gt;موصوف ہمیشہ اپنی قمیض کی جیب میں ایک ایسی ڈائری رکھتے  کہ جس میں روزانہ ادا کی گئی پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کے اوقات درج ہوتے ۔ چہرہ ان کا تراشی ہوئی داڑھی سے منور تھا ۔ایسے میں موصوف کے چہرے پہ زن آٹے دار تھپڑ کی لالی سمجھ سے بالا تر تھی ۔جو موصوف نے کچھ یوں بیان کی ۔&lt;br /&gt;ان ہی کے کالج کا ایک آوارہ لڑکا اکثر بسوں میں لڑکیوں سے  مہذب  انداز میں چھیڑ خانی کرتا ۔ بد قسمتی سے اس بار وہ مہذب انداز چھیڑ خانی موصوف کی بغل کے  نیچےسے ہاتھ نکال کر آگے کھڑی لڑکی سے کرنے لگے ۔تو زن آٹے دار تھپڑ کے سامنے جو پہلا چہرہ  آیا   وہ موصوف کا تھا ۔سو وہ انہی پر جما دیا گیا ۔اور وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ماجرا کیا ہوا ۔ اپنے پیچھے کھڑے مہربان کو پایا تو معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔پھر اس کے بعد وہ زندگی بھر بس کے پچھلے حصے میں ہی اپنا مقام بناتے رہے ۔ پچھلے دروازہ پر لٹک کر جانے کو  بہتر جانتے  اگلے دروازہ کے قریب جانے سے ۔&lt;br /&gt;ابھی حال ہی میں دو خواتین ارکان اسمبلی میں  دست بدست  تھپڑوں کا تبادلہ ہوا ۔ مگر گونج زور دار نہیں تھی ۔البتہ گالیاں کافی جاندار تھیں ۔اگر زنانیاں( خواتین) آٹے دار ہوتیں تو زن آٹے دار گونج مرد ارکان کے کانوں میں بھی پہنچتی اور شائد ڈر کے مارے مرد و خواتین کی نشستیں اور دروازے بس کی طرح آگے پیچھے ہو جاتے ۔شائد اسی لئے تو آٹا گوندھنے والی خواتین کو اسمبلی کی اہلیت کے قابل نہیں سمجھا جاتا ۔ کہیں ان کی گونج قوم کو سنائی نہ دے جائے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;نوٹ &lt;/span&gt;:&lt;span style="color: red;"&gt; اس مضمون کو طنز و مزاح کے تناظر میں پڑھاجائے ۔&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-770515067079910913?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/770515067079910913/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_14.html#comment-form' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/770515067079910913'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/770515067079910913'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_14.html' title='زن آٹے دارتھپڑ کی  گونج'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-8193326109518563785</id><published>2010-07-10T21:54:00.000-07:00</published><updated>2010-07-24T22:04:34.553-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='علامہ اقبال'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='سفینہء محمود،'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نثری مضامین'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='پاکستان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='معاشرہ'/><title type='text'>ستاروں  سے آگے  جہاں اور بھی ہیں</title><content type='html'>انسان پیدا اپنی خاکی فطرت پہ ہوتا ہے ۔ خاک سے پیدا کی گئی خوراک لقمہ ہضم رکھتی ہے ۔خون میں ڈھلتی ہے تو پھر پانی سے جمتی ہے ۔مٹی کی جذبیت نہیں رکھتی مگر اس کی تاثیر سے ضرور پنپتی ہے ۔ پھل پھول کی طرح زندگی کے مدارج کا آغاز بیج ہونے سے نہیں ہوتا ۔ بلکہ بیج بنانے کے عمل کے آغاز سے ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;دنیا میں آنکھ کھولنا شاید کچھ لمحوں کے توقف کا محتاج ہو مگر نہ جانے پہلا سانس لینا اسے کائنات میں گردش کرتے ستاروں سے کیسے جوڑ دیتا ہے ۔کہ بارہ مہینوں میں گردش ایام  بارہ ستاروں  سے منسوب کئے جاتے ہیں ۔آج شاید کم لوگ اس بات سے لا علم ہوں کہ ان کا سٹار کیا ہے ۔ سو سال پہلےضرورت پڑنے پر ہی تاریخ پیدائش ڈھونڈھی جاتی تھی۔ &lt;br /&gt;آج انٹر نیٹ کی دنیا میں سنڈے میگزین کا انتظار نہیں کہ " آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا " بلکہ روز کا معمول بھی جانا جا سکتا ہے ۔ مجھے کبھی بھی ہفتہ کیسا گزرے گا جاننے کا شوق نہیں رہا ۔ اور شاید اسی لئے پڑھنے کی بھی خاص ضرورت  پیش نہیں آئی ۔ضرورت تو اب بھی نہیں ہے ۔&lt;br /&gt;جب حالات میں تبدیلی کے آثار معدوم ہونے شروع ہوتے ہیں ۔تو طبیعت میں تغیر پسندی کچھ نیا  کرنے کے لئے پرانے انداز میں  ردوبدل کی گنجائش پیدا کر لیتی ہے ۔جس سے کبھی فائدہ تو کبھی نقصان کا بھی احتمال رہتا ہے ۔مگر پچھتاوا کا سبب نہیں ہوتا ۔ پچھتاوا مجبوری سے جڑا ہے ۔ شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوتا ۔&lt;br /&gt;اب ایسی تغیر پسندی پر حال دل جاننے کی کوئی کوشش کرے تو پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی چننے پڑیں گے ۔مگر بات سوچنے والی ہے کہ خاکی بدن میں جو رویہ و مزاج اسے گھر سے بے گھر ، تعریف سے لعن طعن ، محبت سے نفرت ، دوستی سے دشمنی ، اچھائی سے برائی  تک کا فاصلہ  طے کرواتا ہے ۔ وہ ستاروں کے ایک دوسرے سے کی قربت و دوری سے کیا واسطہ رکھتا ہے ۔&lt;br /&gt;دو اور دو چار کرنے والے کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔سمجھتے بھی وہی ہیں جو پڑھتے ہیں ۔بس کبھی کبھار ایک اور ایک کو دو کی بجائے گیارہ سمجھ لیتے ہیں ۔نو دو گیارہ ہونے میں اگر دقت ہو تو دس نمبری ہونے سے مشکل سے بچتے ہیں ۔یہ ہندسوں میں کیا خوب خاصیت ہے چاہے گنتی کر لیں یا باتیں ۔  خوش نصیبی  اگر سات کے عدد سے ملنے  کی آس رکھتے ہیں  ۔ تو تیرہ کے قریب سے  بھی گزرنے سے ڈرتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود آج بھی  بہت سے اعداد ایسے ہیں جو بے اثر ہیں ۔&lt;br /&gt;عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی شے کی اہمیت  اس کی عددی اکثریت سے ہوتی ہے ۔مگر اعداد اگر عدد میں رہیں تو بڑے ہیں ۔اعداد کا یہ کھیل دلچسپ بھی اور اسراریت بھی رکھتا ہے ۔ستاروں کے جن گھروں سے ایک دوسرے کو جوڑا جاتا ہے ۔وہ ستارے خود میں ہی پر اسرار ہیں ۔اور تو اور بعض کھیل بھی اعداد  اور گھروں  سے چالیں چلنے میں استعمال ہوتے ہیں ۔جیسا کہ شطرنج کا وزیر چالیں چلنے میں ہر گھر میں داخلہ کا پروانہ ہاتھ میں لئے رکھتا ہے ۔گھوڑے کو ہمیشہ تیز رفتاری کی خوبی سے اچھا جانتے ۔ مگر ڈھائی گھر آڑھا ترچھا  چلنے کا انداز  تو یہیں پایا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;آج بیٹھے بٹھائے کیا سوجی کہ اعداد کے چکر میں پڑ گئے ۔اب کوئی چکر دینا چاہے تو چکرا تو جائیں گے ہی ۔اور  اگر کوئی  تاریخ و وقت پیدائش کے ذریعے  دو تین صفحات پر مشتمل شخصیت  خوبیوں اور خامیوں کے تیہ پانچہ کے ساتھ  &lt;a href="http://horoscopes.aol.com/astrology/astro-forecast"&gt;ستارے کے گھر&lt;/a&gt;سے  نکال لائے تو بات اچنبھے والی تو ہو گی ۔ کیونکہ اپنی خوبیوں کا کریڈٹ ستاروں کو دینا زرا مشکل کام ہے ۔ آج تک تو یہی سمجھتے رہیں ہیں کہ سونا بھٹی میں ڈھل  کرکندن بنتا ہے ۔ایسے موقع پر تو یہی بات یاد رہ جاتی ہے کہ " سو سنار کی تو ایک لوہار کی "۔سچائی پر پردہ ڈال دینے سے "ایک لوہار کی" سے جان  چھوٹ جائے مگر " سو سنار کی " میں زندگی کا ایک حصہ گزر جاتا ہے ۔اگر بات صرف ایک رات کی ہوتی تو کہہ دیتے کہ رات گئی بات گئی مگر یہاں معاملہ ایک دور کا  ہے ۔ ادوار اس لئے نہیں کہا کہ وہ صرف سیاستدانوں کو میسر ہوتے ہیں ۔عوام تو ایک فرد ایک ووٹ ہوتے ہیں ۔جن کی قسمت کا حال کارڈ پر لکھا طوطا نکالتا ہے ۔بولنے والے طوطے تو بہت دیکھے تھے اب قسمت کا حال منہ زبانی سنانے  والے طوطے بھی ایجاد ہو گئے ہیں ۔ جو کارڈ کی بجائے خوش بختی کی خبر فرفر بول کر سناتے ہیں۔ اور مایوس چہرے پہ تھکن کی سلوٹیں ایک امید کی کرن سے  ہی خوشی کی چمک میں ڈھانپ دیتے ہیں ۔&lt;br /&gt;بازاروں چوراہوں میں زمین پہ چادر پھیلائے قسمت کا حال بتانے والے طوطے صرف اپنی قسمت میں لکھی گئی چوری کا انتظام  رکھتے ہیں ۔ مگر میڈیا پر فرفر بولنے والے طوطے  اب کہانی والے نہیں رہ گئے ۔قسمت کا حال بتانے والے جادوئی طاقت کے حامل جادو گر  بن گئے ہیں ۔جو جادو کی چھڑی سے کچھ بھی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ جب چاہیں بجلی ، گیس بند اور پٹرول ، آٹا ، چینی غائب کر سکتے ہیں ۔طوطا گری کا یہ فارمولہ اتنا کامیاب ہو چکا ہے ۔ کہ اب انصاف کے لئے بھی کسی دروازے کو کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ۔چار پانچ منٹ کی ایک جھوٹی کہانی  کی خبر بھی چھٹی کا دودہ یاد دلانے کے لئے کافی ہے ۔&lt;br /&gt;علامہ اقبال رحمہ  کے یہ اشعار شائد آج ہمارے بارے میں ہی لکھے گئے ہیں ۔&lt;br /&gt;ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں&lt;br /&gt;ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں &lt;br /&gt;اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا&lt;br /&gt;کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں&lt;br /&gt;گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں&lt;br /&gt;یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-8193326109518563785?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/8193326109518563785/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_10.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8193326109518563785'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/8193326109518563785'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_10.html' title='ستاروں  سے آگے  جہاں اور بھی ہیں'/><author><name>محمودالحق</name><uri>http://www.blogger.com/profile/15663500585866206295</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='24' src='http://1.bp.blogspot.com/--fv0y49RI1s/TyOspxFEk4I/AAAAAAAAAMo/JbRP7oO9Cuo/s1600/Fantail_Yome_by_moa810.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-9093583512083034937.post-4790741912175554306</id><published>2010-07-09T14:44:00.000-07:00</published><updated>2010-07-09T14:44:35.715-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اردو کلام'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نعت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='موسلِ بار'/><title type='text'>وہ   ثناء  جمال   عشق     بیاں</title><content type='html'>وہ   ثناء  جمال   عشق     بیاں &lt;br /&gt; عجب رنگ مُحَمَّدﷺ  کا سفر آسماں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;                                    لب  سوز   و  جان   با   ادب     بیاں &lt;br /&gt;                                      اَللہ  مُحَمَّدﷺ  و قرآن  کا  عہد  و  پیماں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;معارض مدارج میں ھے  دَہَن محبوب بیاں&lt;br /&gt;     کچھ    تو   ھے   جش   رباع   عیاں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;                                          آرا تیہی قوس میں نو جرس  متاں  &lt;br /&gt;                                             عازم     شکن    ماذ     فر آں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;موسل بار   /  محمودالحق&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/9093583512083034937-4790741912175554306?l=mahmoodulhaq.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/feeds/4790741912175554306/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://mahmoodulhaq.blogspot.com/2010/07/blog-post_7793.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034937/posts/default/4790741912175554306'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/9093583512083034
