Dec 24, 2009

سمت پرواز کیا ہے

تحریر : محمودالحق

آج ہم جس طرف بھی نظرڈالیں بحث و مباحث کا بازارگرم نظرآتا ہے ۔ملکی سیاست سے لیکر چینی کی عدم دستیابی تک ہر ضروری اور غیر ضروری موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔اپنی کہی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور آواز کو دوسروں سے بہت اونچا رکھنے سے کیا جا رہا ہے ۔ایک کے بعد ایک لطیفہ منظر عام پہ آرہا ہے ۔قوم میں مایوسی کا بڑھنا اضطراب کا موجب بن رہا ہے۔ خاندان میں مردوں اور گھروں میں خواتین کا کردار ہمارے معاشرے میں کیا اہمیت رکھتا ہے ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔مگر آہستہ آہستہ کچھ ان دیکھے انداز میں تبدیلی کا عمل معاشرے میں کسی زہر کی طرح سرایت کرتا جا رہا ہے۔اور جسے ہم غیر اہم قرار دے کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرتے جا رہے ہیں۔ مگر بلی جدید ٹیکنالوجی یعنی انٹر نیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی صورت اختیار کئے دھاک لگائے بیٹھی ہے۔اور اس انتظار میں ہے ،کہ اجتماعیت کی موجودگی میں شائد وہ اپنا کام نہ کر سکے۔ مگر انفرادیت کی وبا میں اسے اپنا کام دکھانے میں خاص مشکل پیش نہیں آئے گی ۔اور ایک کے بعد ایک اس کا لقمہ خواہش بنتا جا رہا ہے۔اور بچنے والے سہمے ہوئے پنجرے کے اندر بھی غیر محفوط محسوس کر رہے ہیں ۔پنجرہ مضبوط کرنے سے شائد جان تو بچ جائے۔ مگر خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے چھٹکارہ پانا تبھی ممکن ہے جب بلی تھیلے میں بند کر کے دور پہنچا دی جائے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے سے مسئلہ کا حل ممکن نظر نہیں آتا ۔کسی کا چہرہ سرخ ہو تو اپنا تھپڑوں سے سرخ نہیں کیا جا تا ۔جیسے آج ہمارے ٹی وی پروگرام کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہے ہیں ۔ کسی ریڑھی فروش کی طرح مکھیاں اڑاتے ہوئے اونچی آواز میں گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ہر نئی ایجاد و اختراح کو اندھا دھند تقلید کی سولی پر چڑھا دیتے ہیں ۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جن لوگوں کو اپنے باسی پروگرام کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ وہ اخلاقی ، سماجی ، تمدنی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے اس بیماری کو جھیلنے کی ہمت رکھتے بھی ہیں یا کہ اس کے سائیڈ افیکٹ سے نئی بیماری کا شکار ہو جائیں۔برداشت ، صبر ، اخوت ، رواداری،محبت اور یگانگت جیسے قوی افکار بھی سبب مرض ،کمزوری اور نقاہت کا شکار ہیں۔ ہر گلی کی نکڑ سیاست کا اکھاڑا معلوم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے پر اچھل اچھل کر الزام لگانے میں شاہی وفاداری کا تمغہ سجانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ جس انگلی کو اُٹھانا مغربی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں بندوق کی نالی کی طرح اکڑا کر رکھا جاتا ہے۔ اور اسی سے شخصیت پر حملہ کے لئے تلوار کا کام لیا جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم کون ہیں ۔کن کی نیابت اسلاف سنبھالے ہوئے ہیں۔ہماری طاقت کس میں ہے ، ہماری کمزوری کیا ہے۔طاقت کے استعمال سے جو قوم نہ جھک سکی ۔ اب وہ اپنے کمزور پہلوؤں سے صیاد کے چنگل میں آتی جارہی ہے۔ پشاور سے لیکر کراچی تک ٹیلیفون کی لائینوں کے ساتھ اب کیبل نیٹ ورک کےذریعے سے وہی کلچر پروان چڑھایا جارہا ۔ جس میں تقسیم ہند سے پہلےہمارے بچوں کو جب ہندوانہ رسومات کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی ۔تو پورا مسلم معاشرہ ہی سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ مگر کیا ہوا کہ آج گھر گھر میں ، ہر گلی کی نکڑ میں وہی تہذیب و ثقافت کا پرچار ہے۔ اور ہم ہیں کہ اپس میں اختلافات کی جنگ جیتنے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کی کوشش میں ہیں۔مذہب ، سیاست ، معاشرت بری طرح سے متاثر نظر آتی ہے۔ہم تقسیم ہو چکے ہیں ۔ برادریوں ذاتوں میں ، سیاسی جماعتوں میں اور رہی سہی کسر فرقہ بندیوں نے پوری کردی۔
آج مجھے ایک کہاوت میں اس بوڑھے کبوتر کا اپنے ساتھ دوسرے قید پرندوں کو دیا گیا مشورہ یاد آتا ہے ۔کہ جب انہوں نے باہمی اتفاق سے ایک ساتھ پروں کو پھیلایا اور جال سمیت اُڑ گئے۔
در دستک >>

قربانی ہو چکی

تحریر : محمودالحق

کسی نے بکرا لیا تو کوئی گائے کا خریدار ہوا۔ چند ایک نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی ۔اونٹ کی قربانی کی نیت کی ،غرض ہر آدمی نے اپنی جیب کے مطابق اپنے اسلامی فرض کی ادائیگی کا فرض ادا کیا۔ بعض ان سے بھی آگے نکل گئے ایسے جانور کے طلب گار ہوئے جو دیکھنے میں اپنا ثانی نہ رکھتا ہو ۔ پھر کیمرے کی فلش روشن ہوئی ،مسکراتے چہروں سے تصویریں بھی بنوائی گئیں ۔ محبت کا ایک لا جواب نمونہ پیش کیا۔ اپنے اپنے جانور کی خوبیوں اور تلاش میں پیش آنے والے مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔ غریبوں کو بھی یاد رکھا گیا گھر کے دروازے پہ ہر سائل کو مایوس نہیں لوٹنا پڑا ۔ جو سارا سال گوشت کے صرف نام سے ہی واقف تھے ۔آج انہیں اسے دیکھنے اور چکھنے کا بھی موقع ملا۔ پورا معاشرہ بھائی چارہ رواداری اور یگانگت کی تصویر بنا ہوا تھا۔ شہروں سے گئے بیٹوں کو ماؤں کی آغوش میں کچھ سستانے کا موقع بھی ملا ۔ چھوٹے بڑے اپس میں گلے مل مل کر مبارکباد دے رہے تھے ۔عید کا ہر گزرتا دن تھکاوٹ کا احساس مٹاتا جا رہا تھا اور آخر کار وہ دن بھی آ گیا ۔ ماؤں سے جدائی کا ، بیوی بچوں کو چھوڑ کو اپنی اسی منزل کی طرف لوٹ جانے کا دن ۔گاڑیاں مسافروں سے بھری انہیں ان کی منزل پر اتار کر پھر لوٹ جاتی ،نئے مسافروں کو اٹھانے ۔تاکہ وہ بھی اپنے سفر کے آغاز کے مقام تک پہنچ جائیں۔ جہاں وہ ایک فرض کی ادائیگی کو ادا کرنے کے لئے زندگی کے پہیے کو روک کر آئے تھے ۔ ایک ایسی منزل کے راہی جہاں سے آگے جانے کے تو بہت راستے ہیں ۔مگر پیچھے مڑنے کے لئے جلی کشتیوں کا نظارہ کرتے ہیں اور اگر لوٹنا بھی چاہیں ، تو امید کے جگنو چمک کر انہیں پھر ایک مبہم سی تصویر کا عکس دکھا دیتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے خوشیوں کی تلاش میں اپنوں کی جدائی کی قیمت میں ،خوش نصیب ہیں وہ جو دل کے رشتوں کے قریب بستے ہیں ۔ فاصلے چاہے جتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہوں مگر محسوس انہیں ہمیشہ قریب ہی کرتے ہیں قلب کی قربتیں جسموں پربہت بھاری ہوتی ہیں ۔ اس رشتے کو ہمیشہ ساتھ رکھیں جو روح کے لئے ایک لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتا ہے اور جو قدموں کوبھاری پن کے احساس سے نہ نکلنے دے۔اسے قربانی کے جزبہ سے کاٹنے کاعمل شروع کر دیں ،جو احساس لیکر گئے تھے ۔اسے پلیٹوں میں سجائے گئے ضرورت سے زائد گوشت کی طرح نہیں ۔بلکہ قربانی کے جانور کی خرید سے لیکر ذبیح کرنے تک کے عمل کے ساتھ شاخ شجر کی طرح پیوست کر لیں ۔ اور اگلے سال کی قربانی کے انتظار میں نہ رہیں ۔بلکہ ہر آنے والا دن اسی جذبہ کا اظہار ایمان ہو ۔ تو روح پھول پنکھڑیوں کی طرح نرم ،محبت کی چاشنی سے لبریز ہو گی اور قدم بھاری پن کے احساس سے آزاد رہیں گے۔
در دستک >>

Dec 20, 2009

سیاسی محبت کے اسیر

تحریر : محمودالحق

سیاسیات کا مضمون جب کالج میں پڑھنے کا ارادہ کیا۔ تو یہ اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے وقت میں ملکی سیاست میں اس کی افادیت سے آگاہی کا نہ ہونا ہی بہتر ہے ۔کیونکہ اس مضمون کی نسبت کا ادراک مجھے تحریک و تاریخ پاکستان کے آئینے میں دیکھنے سے ہوا ۔ قومیت کے جس جزبے کو پرونے کا عمل محمد بن قاسم کے دیبل سے ملتان تک کی فتوحات ،پھر محمود غزنوی کی سومنات پر یلغار اور قطب الدین ایبک کا ہندوستان کا باقائدہ حکمران بننے سے جوشروع ہوا ۔مسلمان حکمرانوں کی عروج و زوال کی داستانوں نے تاریخ کے دھارے میں مسلم معاشرے کی سنگ بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ مذہب کی عملداری میں روح رواں مشائخ و اہل اللہ نے اسلام کے سنہری اور لافانی اصولوں کی احسن انداز میں تبلیغ کی اور معاشرے کی تزکیہ نفس و تصفیہ باطن کی تعلیم وتلقین فرمائی ۔ لیکن مسلم انداز حکمرانی اور مسلم معاشرتی انداز فکر میں ایک واضح خلیج حائل رہی ۔ اکبر اعظم جیسا طاقتور بادشاہ بھی اپنی سلطنت کی وسعت و ہر دلعزیزی کے لئے کبھی مان سنگھ جیسے سپہ سالاروں کو اپنا داہنہ ہاتھ بناتا۔ تو کبھی دین الہی کی شکل میں ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھنے میں تامل نہ کرتا ۔
جہانگیر کی انارکلی دیوار میں چنوا دی جاتی تو کبھی اقتدار نور جہاں کی محبت کا اسیر ہو جاتا ۔شاہ جہان باغات کے شوق جنوں میں محبت کے تاج محل کی لازوال داستان رقم کر جاتا ۔ تو اورنگزیب عالمگیر پچیس سال دکن میں مرہٹوں کی سرکوبی میں گزار گیا ۔
اقتدار کا نشہ جب سر چڑھنا شروع ہوا تو وزیر مشیر بھی مسند اقتدار کی دوڑ میں شامل ہو گئے ۔ رعایا کو سکہ رائج الوقت پر ان کے من پسند بادشاہوں کا ہی گرویدہ رہنے دیا گیا ۔مگر اُکھاڑ پچھاڑ کی سیاست کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ۔ایک کے بعد ایک کو اپنی نالائقی کی سزا کا مزا چکھنا نصیب ہوا ۔بادشاہ رنگ رلیوں میں مست ہوتے گئے ۔ تو نادر شاہ درانی اورا حمد شاہ ابدالی کبھی حملہ آور بن کر، تو کبھی مدد کو آئے۔ مگر نہ تو بادشاہ ہی اپنے پاؤں جما سکے اور نہ ہی معاشرے کو انحطاط کا شکار ہونے سے بچا سکے ۔اور آخر کار بہادر شاہ ظفر " دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں " کہتے ہوئے تاریخ کی کتابوں میں دفن ہو گئے۔
سیاسی شعبدہ بازیوں سے بھری پڑی تاریخ سے سبق سیکھنے کا عمل کا پہیہ جام ہو گیا ۔ تو سر سید احمد خان جیسا متنازعہ ہونے کے باوجود بھی تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیتا رہا ۔ایک نئی سوچ کو مسلم معاشرے کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہا ۔ ایک انسان تبدیلی کے اس عمل میں ہر رخ اور زاویہ سے عمل پیرا ہونے سے قاصر ہوتا ہے ۔ جب تک کہ دوسرے بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری اس انداز میں کریں کہ انحطاط پزیر معاشرہ ہر میدان میں کوشش عمل سے خود اعتمادی سے اپنے پاؤں پر دوبارہ سے کھڑا ہونے کے قابل ہو ۔جب کہ دو بڑی قوتیں انگریز اور ہندو مد مقابل ہوں ۔ جو سیاسی اور مذہبی افکار میں مسلمانوں کی بیخ کنی میں پیش پیش ہوں ۔ایسے میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے سیاسی، مذہبی قائدین نے قابل قدر خدمات انجام دیں ۔
عوام میں انفرادی سوچ صدیاں بھی پنپتی رہے تو تبدیلی کا ہونا بعید از قیاس ہے جب تک کہ اجتماعیت کے دھارے میں قوم نہ ڈھل سکے۔
معاشرتی ، معاشی ، سیاسی ، تمدنی اور مذہبی لحاظ سے مسلمانوں کو پسماندہ کرنے اور پیچھے دھکیلنے پر کمر بستہ ہندو قوم 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھی۔مگر آقا کی تبدیلی سے موقع پرستی اور مفاد پرستی کے بت دوبارہ تیار ہو گئے ۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی سیاسی بساط بچھانے والی گورا حکومت نے ایک ہزار برس تک اقلیتی قوم کی حکومتی اجارہ داری کے خلاف اکثریتی قوم کو موقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہاں تک کہ ایک انگریز اے۔ او۔ ہیوم نے 1885 میں ہندوستانیوں کی بھلائی کی آڑ میں ہندوؤں کو نوازنے کی ایک اور کوشش انڈین نیشنل کانگریس کے قیام سے کی۔
مسلم قائدین تیس سال بعد بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور تھے۔سیاسی سرگرمیوں سے پہلے انہیں صرف تعلیمی تحریک سے سماجی ، معاشرتی اور معاشی میدانِ عمل میں فکری و نظریاتی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت تھی۔ غیر مسلم اندازِ حکمرانی سے واسطہ پہلی بار پڑا تھا ۔صدیوں میں آقاؤں کی تبدیلی نے مسلم معاشرت پر مذہبی انحطاط کے علاوہ معاشی ، معاشرتی اور تمدنی لحاظ سے کوئی قابل ذکر اثرات مرتب نہیں کئےتھے۔ یہی وجہ ہے مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے جید علماء مسلمانوں کو مذہبی انتشار و بیگانگی سے بچانے کی تحریکوں کے روح رواں تھے۔
اور یہ پہلی بار تھا کہ مسلمانوں کو ان تمام محاذوں پر نبرد آزما ہونا پڑ رہا تھا ۔ اور جنگ آزادی میں ناکامی سے انگریزوں کی انتقامی کاروائیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے تھے ۔کہ وہ حکومت کے مخالف نہیں ہیں۔ کانگرسی ہندوؤں کی ریشہ دوانیوں کے بیس سال بعد اور جنگ آزادی کے تقریبا پچاس سال بعد بھی مسلمانوں کے اندر حقوق کی جنگ لڑنے کی بجائے ، مفاہمتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت کو مدِنظر رکھا گیا۔ لیکن 1905 میں تقسیم بنگال سے مشرقی بنگال کےمسلمانوں کو ہونے والے فائدے کی ہندوؤں کی مخالفت نےمسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک الگ سیاسی جماعت کی تشکیل پر آمادہ کیا اور 1906میں ڈھاکہ کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔
اس کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان اپنی اپنی قوموں کی حقوق کے تحفظ کی ترجمانی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دونوں جماعتوں نے 1916 میں لکھنو پیکٹ کے نام سے معاہدہ کیا جو آئندہ حکومتی شراکت داری میں ہندوستانیوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ دلانے کی جدوجہد کا ایک حصہ تھی۔ جس نے ہندو ذہنیت کو فائدہ حاصل کرنے میں مسلمانوں کی مدد حاصل کرنے پر آمادہ کیا ۔ اور وقت نے یہ ثابت کیا کہ ہندو نے صرف اس وقت مسلمانوں کے ساتھ معاہدات کرنے کو ترجیح دی۔ جب اسے انگریزی حکومت سے معاملات طے کرنے میں ایک بڑی مسلم قوم کی مدد کی مجبوری تھی ۔ اور فائدہ حاصل ہوتے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی ان کی فطرتی عادت کارفرما رہی ۔ یہی وجہ تھی کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہندو مسلم مسئلے کے حل کے لیے مارچ 1929ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں پیش کیے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نےحقیقی معنوں میں مسلمانانِ ہند کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے مفادات و حقوق کے حقائق کو مدلل انداز میں پیش کر کے برطانوی حکومت کو یہ بات باور کروانے کی کوشش کی کہ کانگرس محض ہندوؤں کی اکثریت ہی کی فلاح و بہبود کے بارے تحفظات رکھتی ہے جبکہ ہندوستان کی اقلیتیں خصوصاً مسلمانوں کو ان کے حقوق و مفادات کے حوالے سے کسی خاطر میں ہی نہیں لاتی۔
مگر اس سے پہلے 1927 میں مسلم لیگ کو پہلی بار دو حصوں میں تقسیم کا عمل شروع ہوا ۔ جب ایک گروپ سرمحمد شفیع اور دوسرا قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آگیا۔مگر مسلم لیگ کی تقسیم سے ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کو کوئی زد نہیں پہنچی ۔ کیونکہ مسلم قوم اپنے ہمدرد رہنما اور قائد کو پہچان چکی تھی ۔
گول میز کانفرس میں کانگریس کے اس مخالفانہ اور غیر مصالحانہ رویے کے باوجود مسلمانوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ء کے تحت 1937 میں منعقد صوبائی انتخابات میں مسلمانوں کے لئے مختص 486 نشستوں میں مسلم لیگ کو صرف 102 پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ گیارہ میں سے آٹھ صوبوں میں کانگرسی وزارتوں نے اقتدار کے نشہ میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔ اور ظلم و ستم کی انتہا کی ۔ کانگرسی حکومت میں مسلمانوں نے انگریز حکومت سے بھی بد تر حالات کا سامنا کیا۔اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر ڈھائی سالہ کانگرسی وزارتوں کے استعفے سے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا ۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اس دوران ملک بھر کے دورہ کئے ۔ اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر، قرار داد پاکستان کی شکل میں تاریخی قرارداد پاس ہوئی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ ہندوستان کے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرے۔ اس صورتِ حال میں برطانوی حکومت نے عوامی رجحانات کا پتہ چلانے کی خاطر عام انتخابات کا اعلان کیا۔ دسمبر 1945 ء میں مرکزی اسمبلی اور جنوری 1946 ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کا فیصلہ ہوا۔ تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔
مرکزی اسمبلی میں مسلم سیٹوں کی تعداد 30تھی جو کہ مسلم لیگ نے تمام تر مخالف محاذکے باوجود تمام سیٹیں جیت لیں ۔
اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلم سیٹوں کی مختص تعداد 495 تھی ۔مسلم لیگ نے 434 سیٹیں جیتیں۔ یہی وہ موقع تھا جب مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کی گئی اور محمد علی جناح قائد۔
کانگرسی وزارتوں کے مظالم نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھا کردیا تھا۔وہی مسلم لیگ 1937 کے صوبائی انتخابات میں تقریبا 20% نشستیں جیت پائی تھی اور اب سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بن کر ابھر کر سامنے آئی۔اور خاص طور پر مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کا کردار قابل تعریف ہے جنہیں یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم لیگ جس پاکستان کا مطالبہ کر رہی ہے وہ خود اس ملک کا حصہ نہیں ہو ں گے۔مگر انہوں نے اپنا وزن مسلم لیگ کے پلڑے میں ڈالا ۔اور ہندوستان کی نمائندہ جماعت کہلانے والی کانگریس قائد اعظم اور مسلم لیگ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔اور برطانوی حکومت کو انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا۔
بالاخر14 اگست 1947 کا دن دنیا کی تاریخ میں روشن باب بن گیا ۔جب ایک قوم نے نظریہ کی بنیاد پر اپنے لئے ایک الگ وطن کا حصول ممکن بنایا۔
آج پاکستان میں کبھی صوبائی کارڈ استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی چھوٹے بڑے بھائیوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ۔سوچنے والی بات ہے اگر مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمان صوبائی تعصب کی بنا پر مسلم لیگ کی بجائے کانگرسی مسلمانوں کو ووٹ ڈال دیتے تو آج ہم کہاں کھڑے ہوتے ؟
در دستک >>

اللہ کی نگہبانی

اللہ کی نگہبانی میں دیتا جو سرِ نہاں لاالہ الا للہ
رہتی دنیا تک ہے آفاقی نام و نشاں لاالہ الا للہ

مُحَمَّدۖ کی محبت کا عہد و پیماں لاالہ الا للہ
سروشِ سلطانی میں ہے رازِ پنہاں لاالہ الا للہ

با زادِ تکمیل میں اُٹھتی نِگاہ لاالہ الا للہ
وردِ کلمہ جاری قلبِ ایماں لاالہ الا للہ

حکمِ ربی پہ جھکا سر تو گنگِ زباں لاالہ الا للہ
پیدا ہوتے ہوا عظیم مکاں لاالہ الا للہ

کائناتِ حسین میں رکھتا فخرِ جہاں لاالہ الا للہ
سرورق کو چومتا غلافِ قرآں لاالہ الا للہ

سجدہ شکر میں بھرا نورِ احساں لاالہ الا للہ
ردائے فقر میں چھپا شاہِ جہاں لاالہ الا للہ


بادِ اُمنگ / محمودالحق
در دستک >>

جس کا جتنا زور

جس کا جتنا زور دیکھاتے اپنا سوچ عمل
نظام کائنات میں نہیں ہو سکتا ردوبدل

نشان منزل کی نہیں فکر پیمائش راہ
آج تنقید تطہیرِ تفسیر، نہیں فکر کیا ہے کل

سب سے جدا راہِ راہ نہیں حقِ ادائیگی مسلمان
مغلوب و غالب میں اب کیا حق تو کیا باطل

اسرار تو ہے من و عن ظاہر میں ہو پیچ و خم
جمادات کو رکھتے مقدم نہیں تقوی و توکل

میرے ذوقِ علم میں دو نام دو شہر دو جہاں
تخمین و ظن میں رہے تو پیدا ہوتا اپنا ہمشکل

خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

خوشبو کی طرح

خوشبو کی طرح ہواؤں میں بس جاؤں گا
بہار گزر گئی تو کانٹوں میں پھنس جاؤں گا

شجر اغیار میں ثمرِ انتظار کب تک رہے
گھٹائیں گزر گئیں تو قطرہ کو ترس جاؤں گا

گداگری میں ہے سمِ شاہی کا تریاق
درد عشق ہوں آنکھوں سے برس جاؤں گا

عمل مشک فورروح نفس میں مہک پائے گی
خاک نشینوں میں رہا خاک میں دھنس جاؤں‌گا


خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

قید میں ضمیر قفس

قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفس طائر رہائی

موج عمل کو چاہئیے طلاطم ہوش بندگی
غموں کی عادت ہے خوشی میں آنکھ بھر آئی

بہا بہا کر آنسو قطرہ موتی تلاش کروں
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی


روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

شمع قطرہ قطرہ

شمع قطرہ قطرہ پگھل کرنجات کون ومکاں ہوگئی
چشم تر قطرہ قطرہ برس کر حمیت جہاں ہو گئی

پروانہ جل کر عشق میں خاک جہاں سے گیا
عشق منزلت عرش سےتعظیم محبوباں ہو گئی

چمن بھی ہے دلگداز انتظار بہار
ارادے ضعیف ناتواں تومشکلیں محفل جواں ہوگئی


روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

بندہ غرض

بندہ غرض کو پل قناعت سے گزرنا آسان نہیں
غم روزگار و خشوع افکار کوئی بڑا امتحان نہیں
مادیت کا اژدہا جسے نگل لے کامل انسان نہیں
معبود سے عبد کی محبت کا کوئی بیان نہیں


روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

حاسد حسد سے خاک

حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے
صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے

کیَنہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار
راضی بالرضا سے توکل بَیباک ہوتا ہے

باطل تو ہے با سبب بد اعمال
بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے

قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے
آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے

چاہ طلبوں کو تو چاہیۓ منزل الماس
فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے

کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو
بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے


برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

سہل انگاروں کا پیچھا

سَہل اَنْگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں

گر ہوں عاجِز تو خوف کےمارے ڈرتے ہیں

وَحدہُ لاشریک لہ کی اَمان میں جونہیں رہتے
نفس کے کئی خداؤں سے وہ مرتے ہیں

قربتیں کم ہوں یا تَفاوُت بَڑھ جائیں
ساعَت کی قید فرنگ سے نہیں نکل پاتے ہیں

بڑھتے درد کا صبر جب فریاد بن جائے
انصاف کے باب کھلنے سے نہیں رکتے ہیں

بَلَند پَرواز میں نہیں رکھتے جو ماویٰ
بَدَلتِی رتوں سے بھی گزرتے چلے جاتے ہیں

برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

Dec 19, 2009

پنکھڑی پر خار

تحریر : محمودالحق

آج جب میں بیدار ہوا تو انتہائی خاموش فضا معلوم ہوئی سوگوار کا لفظ مجھے مناسب معلوم نہیں ہوتا یہاں ، کیونکہ میرے اندر خاموشی اپنے ترنم سے محو رقص تھی۔ مگر ارد گرد کا ماحول درد تنہائی سے کراہ نہیں رہا تھا۔ ان کا کراہنا ہی مجھے سوگواری کا باعث ہوتا ہے۔ بستر کو چھوڑنا ایک انتہائی جان جوکھوں کا کام لگتا ہے۔ صرف یہی تو وہ پل ہیں جنہیں میں اپنا کہ سکتا ہوں۔ کیونکہ میری روح احساسات بدنِ فانی سے چند لمحوں کے لئے آزاد رہتی ہے۔ پھر تو اگلی آزادی تک جسم جسموں پر چنگھاڑتے ،برستے، آگ اگلتے روز ہی فنا ہوتے ہیں۔ مگر میرا روح احساس ہر نئی صبح پہلے سے بھی زیادہ محبت اخلاص سے قوی ہوتا ہے۔ انسانوں کی بھیڑ میں قدم اپنے اپنے بوجھ کو لئے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ جسے اپنی منزل تک رسائی کی جتنی جلدی ہوتی ہے۔ ان قدموں کا ساتھ دست و بازو بھی پوری تندہی سے دے رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک وفادار غلام کی طرح ہوس و حرس کے آقا کی دلربائی کا اہتمام کرنے میں جتے رہتے ہیں۔ میرا نفس بھی مجھے ان کی تقلید کی پابندی کا مژدہ سناتا ہے۔ مجھے ان کا بھاگنا تو نظر آتا ہے ،مگر منزل ہمیشہ ہی پوشیدہ نظر آئی۔ شائد ان کی آنکھ اس منزل کو دیکھ پا رہی ہو۔ جو مجھے کبھی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ دوسروں کے آئینے میں اپنا عکس دیکھنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں۔ خوشبو سدا نہیں مہکتی، جوانی سدا نہیں رہتی ۔اس مٹی سے پیدا ہر چیز مٹی ہو جاتی ہے ۔میرا آئینہ مجھے یہی دکھاتا ہے ۔میرے چہرے کی وہ رنگت نہیں رہی۔ جوں جوں تفکر ایمان بڑھتا چلا جا تا ہے۔ وجود اس کے مقابل کمزور سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ تکلیفیں پریشانیاں دکھ انسان کو کمزور کرنے نہیں آتیں۔ بلکہ وجود میں صبر، برداشت، ایمان کی پختگی کا پیغام لاتی ہیں۔ بدن روح کی طاقت کا محتاج ہے۔ جو اسے ہم دیتے ہیں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ آسائش سہولت شاندار طرز زندگی اسے اپنے اصل سے بہکاوہ کی ترغیب دلاتے ہیں ۔مجھے ہر اس انسان کو تلاش کرنا ہے ۔جو ہمیں ترغیبات فنا کا سبق چھوڑ کر گیا ہے۔ جو اس نے پایا، آج اس سے کیا پھل اگایا جا رہا ہے۔ ان کی داستان صرف کاغذ کی سیاہی بن کر رہ گئی ہے۔ زندہ وہ ہیں، جو آج اسی سیاہی سے پھر انسانی بھلائی کی تحریک کی شکل میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ اور اس ہجوم میں سے وہ سب کے سب جو سچائی اور حقیقت کا ادراک پا لیتے ہیں۔ ان کے قدم دست و بازو کی مدد کے باوجود ضمیر کی قید میں پابند سلاسل ہو جاتے ہیں۔ اور پورے وجود کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔ پھر نہ ہی ان کی آنکھ اپنی من مانی منظر کشی کرتی ہے۔ کان چیخ و پکار سے تسکین نہیں پاتے۔ اور نہ ہی زبان قلب کی پنکھڑی پر خار ہوتی ہے۔
در دستک >>

Dec 18, 2009

اہل اِیمان کی گریہ

اہل اِیمان کی گریہ میں سکوتِ کائنات
بائیں عملِ غافل میں شور و غوغہء حاجات

لوحِ تقدیر میں لکھے با سبب اسباب
انسان اپنے ہی تئیں میں عملِ مکافات

ارضِ شوی میں ہے عاجزیء شبیری
منزلِ نوید میں ہے خوشہء انجیرِ التفات
در دستک >>

عملِ زندگی میں پنہاں

عملِ زندگی میں پنہاں رازِ گل و نار
عقلِ خرد ہے انتہائے کوتاہ سے برسرِ پیکار

عارضِ نوحہ کربِ یزداں کی ہے پکار
بستی آلام و آلائش با روئے زرفگار

میری راہ میں تیری چاہ کی ہے اشک بار
مسجود ہیں سب جہاں تیرا ہے دربار

قضائے نماز ہے جائز ہر کسِ سفر و بیمار
حاجاتِ انسان میں ہے سو بیمار ایک انار

عملِ جہاں تو ہیں دو دھاری تلوار
یا تو اِس پار ہے یا اْس پار

نہیں منزل جن کی کوئی بے سلیقہ بے شعار
قافلے اور پنچھی پناہ گاہوں کو جاتے قطار در قطار


موسل بار : محمودالحق
در دستک >>

ایمان کی لڑی میں

ایمان کی لڑی میں پرو کر پھیل گئے ہر سو
اپنوں کے مقابل صف آراء ہوئے باوضو

دینا مجھ کو طاقت یا رب قوت گویائی کی
تیرا ذِکر ہی کرے مجھے لحد میں روبرو

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے
میرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نو

سینچا مجھ کو میرے باغباں نے
جھاڑی نہیں ہوں میں کوئی خود رو

فراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہے
ایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو

ایک جل کے فنا ہے ایک کی فنا میں جِلا
حیراں کر گئی مجھے ایک درویش کی گفتگو

موسل بار : محمودالحق
در دستک >>

گل میں خار

گل میں خار کی طرح پیوست ہو جا
فقیری میں من و سلوی سے تنگدست ہو جا

وحدت الوجود سے قصص القرآن ہوا
ظہورِ عقل میں شعورِ ایمان سے دست بدست ہو جا


موسل بار : محمودالحق
در دستک >>

قطار در قطار

تحریر: محمودالحق
گرمی کا احساس بڑھنے پر میں نے گاڑی کاشیشہ تھوڑا نیچا کیا ہی تھا کہ ایک ہاتھ تیزی میں میری طرف بڑھا مشکل سے اپنا منہ بچا پایا مگر کانوں میں ایک بےسری آواز نے ایسا جادو جگایا کہ میری برداشت ہی جواب دے گئی اتنی تکلیف مجھے ایک گھنٹے سے ٹریفک میں پھنسے رہنے سے نہیں ہوئی میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایک ہٹے کٹے بھکاری سے معافی مانگی “اللہ کے واسطے تو مجھے معاف کر دے “اب تو میں نے ان بھکاریوں سے الجھنا چھوڑ دیا تھا روز طرح طرح کی باتیں سننے کی تو انہیں عادت تھی مگر مجھے سنانے کی نہیں تھی ایک بات تو طے ہے عوام کی برداشت بڑھانے میں ان کا اہم کردار ہے.
وہ مجھ پر ایسے چیخ رہا تھا جیسے کوئی قرض خواہ قرض دار سے وعدہ کا وقت گزرنے پر دو دو ہاتھ کرنے آیا ہو اگر جان چھڑوانے کے لئے ایک کا احسان چکا بھی دیں تو نہ جانے کون سی بھاشا میں دوسروں کو اطلاع کر دیتے ہیں کہ یہ بکرا نرم دل ہے تو ایک ایک کر کے دوسرے فقیر آوازوں کی چھری سے حلال کرنے پہنچ جاتے ہیں.
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی واقعہ تو مجھے اور بیان کرنا تھا جسے آج میں پہلی بار دیکھ رہا تھا فقیر تو ہم روزانہ ہی دیکھتے ہیں اور بھگتنا بھی پڑتا ہے.
لاہور کا ایک مصروف چوک موڑ سمن آباد چاروں اطراف سے بھاری ٹریفک کی آمدورفت سے اکثر و بیشتر ایسا منظر پیش کرتا جیسے سینکڑوں بھیڑوں کو ایک تنگ گلی میں دھکیل دیا گیا ہو عوام کی بے چینی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے بعض مجبوری سے آگے پیچھے دیکھتے ہیں موقع ملے تو وہ نکل بھاگیں بچے سکولوں کے باہر ان کی راہ تک رہے ہوتے ہیں اور بعض ایسے بھی جن پر یہ محاورہ پورا اترتا ہے کہ” منٹ دا ویل نیں ٹکے دی آمدن نیں”ایسے مواقع پر میرا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کے چہروں سے اڑتی ہوائیاں دیکھوں یا پھر سڑک کے اطراف ہورڈنگز کیسے “نیا جال لائے ہیں پرانے شکاری” میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب میں نے ہورڈنگ پر بنی تصویر دیکھی ہمیں تو دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے شیونگ کریم کے اشتہار میں ایک خوبصورت ماڈل کی چمکتی مسکراہٹ یا موٹر سائیکل کا اشتہار چلانے والے کی آنکھ کے تصور سے آگے سپیڈو میٹر تو پیچھے بیٹھی ماڈل نظر آتے ہیں خود وہ کیمرے میں ڈھل جاتا ہے
یہ تصویر ایک الگ ہی کمپنی کا اچھوتا آئیڈیا معلوم ہو رہی تھی نیچے چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اور اوپراُڑتے ہوئے ایک قطار میں پرندے ایک لمحے کو یہ خیال گزرا کہ شکار کے متعلق کچھ معلومات ہوں مگر یہ چیونٹیاں کیوں ہیں یہاں، بے ضرر ہیں کیڑے مار ادویات والے اتنا پیسہ کیوں لگائیں گے میں نے اپنی توجہ وہاں سے ہٹائی تو صوبائی حکومت کا نام ایک پیغام کے ساتھ نیچے نظر آیا کہ قطار میں چلنے کا ان سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیئے لیکن میرے تو آگے پیچھے ایک عجب تماشا کا سماں تھا عوام ایک دوسرے کوکوس رہے تھے بعض موٹے تازے تو آنکھوں سے ڈرانے کی بھی کوشش کر رہے تھے تاکہ دوسرے راستہ دیں اور وہ نکل جائیں بعض سمجھدار قسم کے لوگ ایسی بے ہنگم ٹریفک کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے تھے مگر کوئی بھی اس ہورڈنگ کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا مگر وہ پرندے اور چیونٹیاں انہیں ضرور دیکھ رہے تھے کہ ہمیں پاؤں میں روندنے والے اور پروں کو نوچنے والے کیسے دست وگریباں ہونے کو تیار بیٹھے ہیں حکومت نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا عوام اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور یہ چیونٹیاں اور پرندے اپنے پروردگار کے حکم سے اشرف المخلوقات کو انسانیت کا پیغام پہنچانے کا کام سر انجام دے رہے ہیں یہ پریشان تو ضرور ہوتے ہوں گے کہ وہ انسان پانچ وقت بغیر کسی لالچ و ترغیب کے نظم وضبط کا کمال مظاہرہ کرتا ہے اور لاکھوں کا اجتماع بھی اپنے پروردگار کے سامنے کسی خارجی دباؤ کے بغیر رکوع و سجود ایسی قطاروں اور نظم و ضبط سے کرتا ہے کہ یہ پرندوں اور چیونٹیوں نے شائد وہیں سے سیکھا ہو.
مغربی دنیا نے ان سب کو قانون کے دھارے میں ڈھال کر قطار کا پابند کروایا مگر ہمیں ہمارے پروردگار نے سجدہ کا حکم دیا تو ہم نےقطاریں بنا لی کیا ہی اچھا ہو اگر پانچ وقت کی اسی عادت کو 24 گھنٹے اپنائے رکھیں.
در دستک >>

Dec 17, 2009

انسان متوکل

تحریر : محموالحق
زندگی میں ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسا کام کرے جس سے دوسروں کی نظر میں معتبر اور ہر دلعزیز ہو۔ میں نے بھی کئی بار ایسی کوششیں کیں مگر اکثر ناکام رہا ۔ سچی بات کہنے کی عادت نے دوستوں میں ایک واضح فرق پیدا کیا۔ تملق ہمیشہ طبیعت پر گراں گزرتی۔ کیونکہ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ مزاج کے بر خلاف مقصد کے حصول پر نظر ہونی چاہیئے ۔ ہر انسان کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے ۔مگر حالات و واقعات اس کے اندر تغیر و تبدل پیدا کرتے ہیں۔ہماری اسی عادت نے ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا ۔ ڈاکٹر کے پاس گئے تو ریسیپشن پر فیس جمع کروانے کا کہا گیا۔ تو بول پڑے کہ جناب آجو گئے ہیں تو قربان ہو کر ہی جائیں گے۔ خواہ مخواہ شک میں کیوں پڑتے ہیں کہ بھاروں (بکرا ) بھاگ نہ جائے کہیں انتظار کی اذیت سے۔ اور اگر اپوائنٹمنٹ کے مطابق باری پر نہ بلایا ۔تب جواب طلب کر لیتے کہ یہاں تین گھنٹے بٹھانا ہی تھا ۔تو دو ہفتہ قبل وقت لینے کا فائدہ۔ مگر وہ بیچارے بھی مجبور ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اسی معاشرے کے شہری ہیں ۔ ایسے طاقتور شیروں سے ٹکر تو نہیں لے سکتے جو عام شہریوں کے ساتھ انتظار کی قطار میں بیٹھنے کو ہتک جانیں ۔ وہ پہلے آئیے پہلے پائیے کا حق مروجہ کے حامل طبقہ سے تعلق جو رکھتے ہیں ۔ میرے جیسا پڑھا توسکتا ہے استادی نہیں دکھا سکتا پھر ایسے بے ضرر معاشرتی حیوان( بقول ارسطو) کو جہاں چاہو بٹھاتے رہوکیا فرق پڑتا ہے ۔مگر ہم بھی ضدی مزاج واقع ہوئے ہیں اپنی بات کہے بنا تو چھوڑنے والے نہیں ۔ اسی وجہ سے لوگ حیران ہو کر سر تا پاؤں ملاحظہ کرتے۔مگر وہ یہ بھول جاتے کہ شہر کی انہی گلیوںمیں جوان ہوئے ہیں۔ صرف کتابوں کی ورق گردانی نہیں کی ، لوگوں کی بھی گرد جھاڑتے رہے ہیں ۔
ہمیں ہر معاملے میں خودکفالت کا ہمیشہ جنون رہا ۔ اگر کبھی آلارم کی بھی ضرورت پڑی ، توسوچ لیا صبح 4 بجے اُٹھنا ہے ،تو آنکھ ایسے کھل جاتی جیسے کسی نے جنجھوڑ کر جگا دیا ہو ۔ ڈاکٹر کے پاس بھی تبھی جاتے جب اپنے تمام فارمولے کارگر نہ ہوتے ۔ اگر مکینک نے گاڑی ، موٹر سائیکل یا ٹیپ ریکاڑر سامنے کھولنے کی غلطی کی ۔ تو اگلی بار ہمارے انتظار میں آنکھیں سو جاتیں ۔ اس بات پر ہمیں ہمیشہ ہی فخر رہا کہ ہر کام کے لئے احتیاج ٹھیک نہیں ۔ وقت کی قدر کا ہمیشہ ادراک رہا ۔ اس میں خاص طور پر جس شے نے اہم کردار ادا کیا ۔ وہ ہماری 1969 ماڈل کی ٹیوٹا کرونا کار تھی ۔ جس نے بچپن سے خوب تربیت کی ۔ بارہ سال کی عمر میں ہی نیچے اور پیچھے کشن رکھ کر سڑکوں پر ہارن بجاتے دوڑاتے ۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ہم جوانی میں اور وہ بڑھاپے میں ڈھلتی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا استعمال ایسے کاموں کے لئے کیا گیا کہ دوست احباب ہمارے ساتھ اس کی بھی خیریت پوچھتے " سناؤ گڑ (بیل گاڑی) کیسی چل رہی ہے " ۔ ہم صرف مسکرا دیتے اور کوشش کرتے کہ اس کی ٹپ ٹاپ میں فرق نہ آئے۔ تو اکثر منٹگمری روڈ سے بناؤ سنگھار کرواتے ۔ اب تو ڈیش بورڈ بھی دھوپ سے جل کر ایسا معلوم ہوتا کہ سوکھے کی بنجر زمین میں دراڑیں پڑی ہوں ۔آخر فیصلہ کر لیا اس بار سیٹوں کی بجائے جو بجٹ میں رقم بچی ہے ڈیش بورڈ ہی پوشش کیوں نہ کروا لیں ۔ یہ نیت باندھی اور منٹگمری روڈ کا رخ کیا ۔20 ،22 سال کا ایک نوجوان بھاگتا ہوا پاس آیا۔ اور جو جو کام اسے آتے تھے ایک ہی سانس میں بیان کردئے ۔ میرا مدعائے دل جب اس نے سنا تو بولا اس کام کی اجرت کے بارے میں میرے ابو بتائیں گے ۔ ہمارے اس نئے خیال سے اسکی ہنر مندی کے تمام پول کھل گئے ۔تمھارے ابو کہاں ہیں ، میرے اس سوال پر اس نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا جو آپس میں کسی بات کو طے کرنے میں محو گفتگو تھے ۔ ہر بات کی جستجو اور سوال کرنے کی عادت سے مجبور تھا سوال داغ دیا ۔
وہ سفید بالوں والا ہے تمھارا ابو!
اس نے نفی میں سر ہلا کر کہا ساتھ والا ۔
میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تیس پینتیس سال کے لگ بھگ آدمی کو اپنا باپ بتا رہا تھا ۔ میرے استفسار پر اس نے یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ سچ کہ رہا ہے ۔ اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ ماجرا کیا ہے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ میرے پاس تھا ۔ نوجوان نے کام کے بارے بتایا ۔ اس سے پہلے کہ وہ اگلی بات کہتا میں نے پھر سوال داغ دیایہ تمھارا بیٹا ہے ؟

جی باؤ جی !
لیکن تم تو خود نوجوان دکھائی دیتے ہو ۔میری حیرانگی اور بڑھ گئی جب اس نے کہا یہ تیسرے نمبر کا ہے ۔
کیا ؟
میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا کہ باؤ جی میرا بڑا بیٹا 28 سال کا شادی شدہ ہے 26 سالہ بیٹی بھی شادی شدہ ہے چوتھا 17 سال کا ہے ۔دادا ، نانا بن چکا ہوں ،میری عمر 45 سال ہے 16 سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی۔
لیکن دیکھنے میں تم پینتیس سے زیادہ کے دکھائی نہیں دیتے ۔
باؤ جی آپ کیا کوئی بھی نہیں مانتا ۔ اور یہی حال میری بیوی کا ہے وہ ان کی ماں نہیں لگتی ،لوگ مجھے ان کا بڑا بھائی اور میری بیوی کو ان کی بھابھی سمجھتے ہیں ۔
میں اپنے خیالات میں گم سوچے جارہا تھا کہ ہمارے چہرے پہ سارے زمانے کی پریشانیاں دکھائی دیتی ہیں مگر یہ انسان دیکھنے میں ایسا کیوں ہے ۔
آخر تم میاں بیوی کا ایسا نظر آنے میں راز کیا ہے؟ میں وہ فارمولا جاننا چاہتا تھا ۔
باؤ جی اگر دیہاڑی 500 روپے کی لگی تو بہت خوشی نہیں کی اور اگر 25 کی لگی تو غم نہیں کیا ۔ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔مجھے اس کا جواب سن کر ایک کتاب میں پڑھے یہ الفاظ یاد آ گئے۔
"متوکل وہ ہے جس کے وجود اور عدم برابر ہوں مطلب یہ ہے کہ رزق پانے سے دل خوش نہ ہو اور اس کے نہ ہونے سے دل غمگین نہ ہو"
وقت گزرتا گیا ، زندگی میں اس کے بعد کافی تبدیلی بھی آئی ۔لیکن اس کے الفاظ آج بھی میرے ذہن میں نقش ہیں ۔ لاکھوں کروڑوں کمانے والوں سے بھی واسطہ پڑا ۔
لیکن اس سے بڑھ کرانسان متوکل نہیں ملا ۔جس کی زبان سے بڑھ کر اس کا چہرہ سچائی کا آئینہ دار تھا ۔
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک