Jan 31, 2010

واہ میرے شیر جوانوں

آج کل کہیں نہ کہیں سے کوئی نئی خبر ایسی مل جاتی ہے ۔ جس سے غصہ اگر نہ آ ئے تو ہنسی ضرور نکل جاتی ہے۔لطیفوں کا دور ہے ۔خوب مزے مزے سے خوش مزاجی کا اظہار خیال ہے ۔یہاں بتانا ضروری ہے کہ یہ لطیفوں سے آپ کیا سمجھ رہے ہیں یہ تو میں نے لطیف کا استعمال کچھ نئے انداز میں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ طبیعت پر گراں نہ ہو ۔آٹا ، دال چاول کی گرانی تو گراں گزرتی رہی ہے مگر آٹا ، پٹرول گیس سے تو جان کے گزرنے کا اندیشہ ہے ۔لیکن گیس پٹرول بھی جان لیوا ہوں گی کبھی
سوچا نہ تھا ۔آج تک تو انجن اور چولہوں کی محبوب جان تھیں ۔اب ہماری جان پر بن گئیں ہیں ۔پٹرول پمپ مالکان گاہکوں کے انتظار میں خوش آمدیدی کلمات کے بینر لگاتے سستے اور اچھے مرغن کھانوں کے ۔حالات نے کروٹ لے لی گلی محلے میں ہوٹلوں کی طرح سی این جی کھل گئے۔ بینر تو اب بھی ہیں مگر ڈسکاؤنٹ کے۔ کسی نے پرسنٹ میں رعائت کا اعلان طبل بجایا تو کسی نے روپے ہی لکھ دئے ۔جتنی بچت ایک ماہ میں ہوتی ہے ۔ اس کی اب شائد دو کلو چینی نہ مل سکتی ہو ۔مگر بچت کا قطرہ قطرہ سے ملے گا تو خرچہ کا دریا بنے گا۔ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ چادر سے زیادہ پاؤں نہ پھیلاؤ ۔ لیکن اب صورتحال ایسی ہے کہ پاؤں چادر کے قریب ہی نہ لاؤ ۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ بات تو میں نے لطیفوں سے شروع کی تھی مگر جانے انجانے میں سنجیدہ موضوع اختیار کر گئی ۔ حالانکہ میرا آپ کو اداس کرنے کا ارادہ نہیں تھا ۔اتنے مسائل ہیں کہ ہنسی مذاق کرنا بھی اب ایک مذاق لگتا ہے ۔جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا "تجھے اٹھکیلیاں سوجی ہم بیزار بیٹھے ہیں "۔
چلیں ایک گھر کی طرف آپ کو لے کر چلتا ہوں جہاں ایک نئی ملازمہ اپنی نئی مالکن سے گفتگو فرما رہی ہے ۔بی بی جی ! آپ کا گھر بہت خستہ بدبو دار تھا ۔ مگر چند دنوں میں میں نے صفائی ستھرائی سے خوشبودار کر دیا ۔دانائی سے بھری بوڑھی مالکن یوں گویا ہوئی کہ اے کم عقل کمال تیرا نہیں اس بدبو کا ہے جس نے تجھے بھی اپنا اسیر کر لیا ہے ۔
کافی عرصہ پہلے سننے کا اتفاق ہوا تھا لیکن آج ایک واقعے نے اسے پھر سے تازہ کر دیا ۔ٹی وی کے ایک پروگرام میں اینکرکاشف عباسی کے ساتھ شیخ رشید ، احسن اقبال اور قمرالزمان کائرہ دوستانہ ماحول میں طنز و تنقید کے ساتھ ساتھ الزام تراشیوں میں لطیف استعاروں کا استعمال کر رہے تھے ۔اور میں احمق عوام کا نمائندہ شاطرسیاسی جماعتوں کے نمائندگان کی گفتگو سے محفوظ ہو رہا تھا ۔ان کے درمیان ہونے والے چٹکلے وقت گزاری میں ممدو معاون ہو رہے تھے ۔احسن اقبال بہت جوش و خروش کا اظہار کر رہا تھا اور مخالفین پر اصول و قوائد کی تلقین و نصیحت پر خاص زور لگا رہا تھا ۔کائرہ کا شیخ رشید کو مخاطب کرکے احسن کا ہاتھ تھام کر کہنا تھا کہ جب کوئی نیا نیا مسلمان ہوتا ہے تو وہ نماز روزے کا پابند پیدائشی مسلمان سے زیادہ ہوتا ہے ۔احسن ابھی نیا نیا سیاست میں آیا ہے ۔ اس لئے اصول و قائدے کی بات کر رہا ہے کچھ عرصہ گزر جائےٹھیک ہو جائے گا ۔ اس بات پر تینوں قوم کے شیر جوانوں نے ایک قہقہہ بلند کیا ۔ تو مجھے یہ خیال آیا سب ہی ایک تھالی کے چٹے وٹے ہیں ۔جو ٹی وی پر سر عام آ کر قوم کی بے حسی پر قہقہہے بکھیر کر چلے جاتے ہیں ۔اس امید کے ساتھ کہ اگلا دن پھر انہی کے نام سے طلوع ہوگا اور ہوتا بھی وہی ہے ۔ چینل بدلو پھر کہیں اور بیٹھے قوم پر لطیف انداز گفتگو سے طنز کر کے چلے جاتے ہیں ۔اور ہر الزام کا ایک ہی جواب ہے سب کے پاس عوام نے منتخب کیا ہے ۔ ووٹ دیا ہے کوئی ڈھٹائی کا سرٹیفیکیٹ تو نہیں دے دیا عوام نے۔بار بار جتلایا جاتا ہے ۔ بار بار غلطی دھرائی جاتی ہے ۔
آنے کا راستہ تو سب کو نظر آتا ہے مگر جانے کا نہیں جیسے حکومت میں آنے کا جانے کا نہیں ۔ ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف سے قرضہ آتا تو نظر آتا ہے جاتا کہاں ہے، کاغذ ہی گم جاتا ہے ۔بینک زکواۃ کاٹ لیتے ہیں جاتا کہاں ہے ۔ اخباروں میں بھی چھپ چکا ، جہاز بھر کر حکمران عمرہ کی سعادت سے ثواب حاصل کرچکے۔غریب و لاچار کس کسمپرسی سے زندگی کے دن گزارتا ہے ۔ کبھی باسٹھ سالوں میں ارباب اختیار نے ضرورت محسوس نہیں کی ۔
آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے تقسیم ہندوستان کے وقت مہاجرین کی ٹرین سٹیشن پر آ کر رکتی ہے ۔ اور بے یارومددگار لٹے پھٹے کارواں آس وامید سے ٹرین پر سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔مگر ٹرین چھوٹ جاتی ہے اور ان میں سے چند لوگ قافلے کو پیچھے چھوڑ کر خود اس ٹرین میں سوار ہو جاتے ہیں ۔قافلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ ٹرین آتی ہیں ۔ ان میں سے چند طاقتور اور زورآوروں کو ساتھ سوار کر کے لے جاتی ہے ۔پیچھے رہ جاتے ہیں کمزور غریب لاچار ۔ پھر نئی ٹرین کی آس لگا کر کہ شائد اس بار ہم بھی اس میں سوار ہو سکیں ۔پلیٹ فارم پر پڑے پڑے کئی نسلوں سے کئی ٹرینیں چھوٹ گئیں ۔ مسافروں کے قافلے اب رہائشی ہیں وہیں کے ۔زیادہ تر نے ٹرین کے آنے جانے کو اہمیت دینا چھوڑ دیا ۔ کچھ آج بھی امید لگائے ہیں کہ سب مسافر اس نئے سفر پر ضرور روانہ ہوں گے ۔ اور چند ہر بار قافلےکو چھوڑ کر ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعض پہلی کوشش میں تو بعض دوسری یا تیسری کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اب تو مسافر اتنے ہو چکے ہیں کہ ایک ٹرین میں پورے نہ آ سکیں ۔ اگر پہلی ٹرین سے ہی انہیں ساتھ لے کر چلا جاتا تو آج سب ہی منزل تک پہنچ چکے ہوتے ۔پلیٹ فارم پر آس و امید کی تصویر بنے نظر نہ آتے ۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

ووٹر ابن ووٹر

دروازہ پہ دستک نے خیالات کے تسلسل کو ایک بار پھرتوڑ دیا ۔ اندر سے ہی بند کواڑ سے آواز دینے پر معلوم ہوا کہ محلے کےچند افراد ہیں جو کسی سیاستدان کے ساتھ جلوہ افروز ہیں ۔دیکھے بغیر اتنا صحیح اندازہ لگانا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ مگر ان کے طرز تخاطب نے مشکل آسان کر دی کہ وہ ووٹر ابن ووٹر سے ملنے کے خواہشمند ہیں ۔باہر جا کر ان کے ساتھ آنے والے سپوٹر ابن سپوٹر نے مجھ سے ان کا تعارف کروایا کہ سیاستدان ابن سیاستدان آپ سے بالمشافہ ملنے کے خواہشمند تھے ۔چہرے پر ناگواری کو چھپاتے ہوئے ایک چمکتی مسکراہٹ سے خوش آمدید کہا اور آنے کا مقصد تو ہمیں معلوم ہی تھا ۔
الیکشن قریب تھے ، وہ منہ دکھائی کی رسم ادا کرنے آئے تھے ۔تاکہ ہم ووٹ ان کی جھولی میں ڈالنے کے فرض سے عہدہ برآہو جائیں ۔میں بچپن سے ان تمام افراد کو اور وہ مجھے جانتے تھے ۔ اس وقت فرق صرف یہ تھا کہ دستک دینے والاسیاستدان ان کا والد اور دروازہ کھولنے والا ووٹر میرے والد تھے ۔ حتی کہ تعارف کروانے والا اسی سپوٹر کا باپ تھا ۔کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا جیسے کہ ہاکی کھیلنے والے نام بدل جاتے ہیں مگر پوزیشن وہی رہتی ہےاور کمنٹری کرنے والا رائٹ ان سے سنٹر فاورڈ پھر لفٹ ان پوزیشن سے موو بنانے والے کا ذکر کرتا ہے ۔ آج ہمارا بھی حال اسی کھیل کی مانند لگ رہا ہے ۔ گفتگو ایسے ماحول میں ہوئی جیسے برسوں کے بچھڑے عزیز محبت میں جدائی کے غم کی روئداد سنا رہے ہوں ۔مرحوم ووٹر کا کیسا گہرا رشتہ تھا مرحوم سیاستدان سے ۔ سال و سال تک خوب نبھا تے رہے وہ اس تعلق کو ۔ اب ہمیں ووٹر ابن ووٹر کو سیاستدان ابن سیاستدان سے اسی تعلق کی لاج رکھنی ہو گی جب تک کہ ووٹر- ابن ووٹر ابن ووٹر نہ ہو جائے ۔میرے حالات پہلے سے مختلف تھے تعلیم نے نئی جہت کے دروازے کھول دئے تھے ۔ اب ابن کا تعلق تاریخ کی کتابوں سے جڑا تو اچھا لگتا ہے مگر حقیقت حال میں نسل در نسل حکمران ابن حکمران کا مفروضہ ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔جہاں غریب ابن غریب پر قناعت کرے اور امیر ابن امیر کا شاہسوار بنے ۔ غلام ابن غلام کا دور گزر چکا ۔ جب زیادہ غلام رکھنا علامت ِ طاقت تھا وہ تاریخ دہرائی نہیں جائے گی ۔مگر نیا جال لائے پرانے شکاری کے مصداق اب ووٹر زیادہ ہوں تو طاقت کی علامت ہوتے ہیں ۔ہمارا ووٹ تو انہیں اونچی پرواز میں مخالف سمت چلنے والے جھکڑ سے بچنے میں مددگار تھا ۔وگرنہ ہم تو سال و سال سے زمین پر بنتے بگولوں کا شکار ہیں ۔جو صرف آنکھوں میں دھول اڑانے سے زیادہ کارآمد نہیں ہے۔اگرآنکھیں صاف آب و ہوا میں چند دن گزار لیں تو دھول چبھن دینے لگتی ہے ۔آنکھ بند کرنے سے کام نہ چلے تو رخ بدل لیا جاتا ہے ۔لیکن اب منہ موڑنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔کیونکہ بگولے اب آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں ۔آنکھ بند کریں یا رخ بدل لیں مگر رہیں گے بگولے کے اندر ہی۔جب تک آنکھیں موندھے رہیں صاف آب و ہوا کی عادی نظر بچی رہیں گی ۔ایسی حالت میں ٹکرانے سے بچ نہیں پائیں گے ۔ روشنی چاہے کتنی ہی چکمدار کیوں نہ ہو دیکھنے کی سکت پیدا نہیں ہو تی ۔ہماری پوری زندگی ہی فلاں ابن فلاں بن کر رہ گئی ہے ۔ ترکھان ، لوہار ، جولاہے کا بیٹا سبزی کی دوکان نہیں لگاتا ۔ ڈاکٹر ،انجنیئر بزنس کے دھندے میں نہیں پڑتے ۔ ہاتھ صاف رکھتے ہیں ۔ ہر شعبہ زندگی کی افادیت ،گھرانوں کے مکھی پہ مکھی مارنے کی عادت قفل بندی کا شکار ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک باکمال جادو ئی طاقت کے سحر زدہ ہیں ۔ زیادہ بحث اور سوال و جواب کرنے والا بچہ اہلخانہ کی نظر میں وکیل یا پروفیسر کے مقام پانے کا اہل ہو جاتا ہے ۔ جو بہانہ بازی ، گولی دینے میں ماہر ہو شروع سے گلی محلے کی سیاست کا وارث سمجھا جاتا ہے ۔ ملک و قوم کی نمائندگی کی اہلیت کا تصور الگ ہے ۔غرض معاشرہ اپنی ذمہ داری کندھوں سے اتار چکا ۔ فرض منصبی ادا ہو چکا ۔ جنہیں جو کام کرنا ہے وہ کر رہے ہیں ۔ جیسے پنجابی کی ایک مشہور کہاوت کچھ یوں ہے " بیل سے کسی نے کہا ! تجھے چور لے جائیں، بیل بولا! مجھے اس سے کیا سروکار میں نے تو چارہ ہی کھانا ہے یہاں نہیں تو وہاں "



تحریر ؛ محمودالحق
در دستک >>

Jan 30, 2010

قانون فطرت

آج کوئی خاص بات ضرور ہے۔ ہر ایک تیز قدموں کے ساتھ کھلے میدان کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے ۔آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے ہیں ۔ کہ ایسی بھی کیا آفت آ گئی ۔ بادشاہ کا بلاوا تھا کس کی مجال کہ حکم سے روگردانی کرسکے۔کافی عرصہ سے دانا اور بزرگ اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آخر کار بادشاہ اور اسکے رفقاء کار کھلے میدان میں دربار کے انعقاد پرمجبور ہوئے ۔ رعایا کو اب اپنے بڑھتے مسائل پر پریشانی کا سامنا تھا ۔ مجلس عاملہ کے لئے اونچا پنڈال نہیں بنایا گیا تھا ۔ بلکہ ایک نسبتا اونچی چٹان پر تمام طاقت کے سرچشمے براجمان تھے ۔ہر قبیلہ سے ایک بڑی تعداد میں شرکت کی گئی تھی ۔شور اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔آخر کار بادشاہ سلامت کی آمد کے ساتھ ہی میدان میں خاموشی نے بھی ڈیرہ ڈال لیا ۔ بادشاہ نے میدان میں پھیلے ہجوم پر ایک نظر ڈالی اور گویا ہوا کہ اپنا مدعا بیان کیا جائے ۔کچھ دیر تمام آپس میں صلاح مشورہ کرتے رہے کہ کسے اس معاملہ کو بیان کرنے کے لئے چنا جائے ۔ بالآخر ایک بوڑھا بارہ سنگھا آگے بڑھا اور اپنا مدعا بیان کرناشروع کیا ۔ جناب ہم ان جنگلوں میں صدیوں سے آباد ہیں ۔ہم سب قانون فطرت کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں ۔مگر کبھی بھی کسی کو آپس میں یا بادشاہ سلامت آپ سے شکایت نہیں ہوئی ۔ جناب آپ سب طاقتور ، زور آور ہیں ۔ ہم آ پ کے مقابلے میں کمزور و ناتواں ہیں ۔ قانون فطرت میں رہتے ہوئے ہم موت سے بچنے کے لئے آپ کے سامنے بھاگتے ہیں ۔ اور آپ زندگی کو پانے کے لئے ہمارے شکار پر مامور ہیں ۔زندگی میں ایک پل ہی ایسا ہوتا ہے جب ہمیں موت کے چنگل سے بچنا ہوتا ہے۔اور آپ زندگی جینے کے لئے بچوں اور لاغروں کی بجائے صحت مند و توانا پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں ۔سبز و ہریالے میدان ہوں یا پانی کے گھاٹ ، آپ سے زندگی جینے کی بھیک نہیں مانگتے ۔ اپنے زور سے موت سے چنگل سے بچتے ہیں ۔تالابوں میں مگر مچھ ہماری تاک میں رہتے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود قانون فطرت کو قبول کر چکے ہیں ۔کیونکہ ہمارا شکار کرنے سے ہماری تعداد میں کمی نہیں ہوتی اور شکار کرنے سے آپ کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا ۔صدیوں سے ہمارے اور آپ کے درمیان تعداد کا جو تناسب ہے وہ کبھی بھی نہیں بگڑا ۔ یہی قانون فطرت ہے۔یہ معاملہ صرف آپ کا اور ہمارا نہیں ہے بلکہ اس جنگل میں رہنے والے ہر ایک باسی اسی قانون فطرت پر زندہ رہتے ہیں ۔ کمزور شکار روز ہوتے ہیں مگر وہ ختم نہیں ہوتے ۔ شکار کرنے والے ناپید ہو جاتے ہیں ۔جیسے ڈائنوسار جوکبھی دہشت کی علامت تھے مگر آج ہڈیوں کے ڈھانچے باقی بچے ہیں ۔ لیکن آج صورتحال مختلف ہے ۔ہمیں زندہ رہنے کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہے ۔ وہ ختم ہوتی جارہی ہے۔پہلے پہل تو انسانی آبادی کے قریب قریب درختوں کو کاٹ کر ایندھن بنایا جاتا تھا ۔ اب تو انتہا یہ ہے کہ نت نئے ڈیزائن اور خوبصورتی کی تلاش میں ہمارے خوبصورت جنگل تخت مشق بنے ہوئے ہیں ۔اگر بات یہیں تک ہوتی تو ہم صبر کر لیتے کہ ہمارے جینے کے لئے بہت کچھ باقی ہے ۔مگر اب تو انہوں نے اپنے گھروں کو چکاچوند روشن کرنے کے لئے دریاؤں پر بھی بند باندھ دئیے ہیں ۔پانی کی پیاس بجھانے کے لئے دور دور بھٹکنا پڑتا ہے ۔ہم سبھی چوپائے اور پرندے قانون فطرت پر زندہ رہنے والے آج پابند زمانہ کر دئیے گئے ہیں ۔لیکن صرف اتنا نہیں بات تو اور بھی آگے بڑھ چکی ہے ۔ہمارے بہت سے ساتھی قیدی بن چکے ہیں ۔ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا مگر قید ہمیں موت سے بھی بدتر ہے ۔ ہمارے مخبر جاسوس پرندے جو خبریں لاتے ہیں ۔وہ دل لرزا دینے والی ہیں ۔کیسے انہیں تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں قید رکھا جاتا ہے ۔ گرمی پسند کرنے والے سرد علاقوں میں اور سرد ہواؤں کے باسی گرم علاقوں میں قید رکھے جاتے ہیں ۔بلند پرواز رکھنے والے پرندے شکایت کرتے ہیں کہ اونچی پرواز میں اب تو دم گھٹتا ہے ۔ اتنی دھواں بھری گرد آلود ہوائیں ہیں ۔ کہ زیادہ دیر تک وہاں پرواز ممکن نہیں رہی ۔بیماریاں ایسی ایسی ہیں کہ شکار کی موت سے شائد بچ جائیں مگر ان سے بچنا ممکن نہیں رہا ۔بادشاہ سلامت ہم سبھی پیدا تو قانون فطرت پر ہوتے ہیں مگر انسان ہم سے ایک قدم آگے ہے ۔کیونکہ اس قانون فطرت میں رخنہ ڈالنے والا شیطان ان کا ہمعصر ہے ۔جو انہیں ترغیبات و خواہشات کا تابع رکھنے میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کرتا ہے ۔خود تو وہ نت نئے ہتھیاروں سے لیس ہو کر خود کی تباہی کا سبب بنتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے شکار سے تسکین و تسفی پا تا ہے ۔ ایسی ایسی ایجادات کر چکا ہے ۔کہ ہم جیسے شکاری کے جال پھیلانے کو اپنے کانوں اور آنکھوں سے بھانپ لیتے تھے ۔مگر اب اتنے فاصلے سے ہم پر وار کرتے ہیں کہ ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔بادشاہ سلامت ہم جس مشکل کا شکار ہیں ۔جینے کے لالے پڑے ہیں ہر طرف سے گھر چکے ہیں ۔نئی نسل کو کچھ بھی تو بتانے کے قابل نہیں رہے ۔فطرت پر زندگی گزارنے کی بجائے جان بچانے کے لئے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں ۔جہاں جینا تھوڑا بہت آسان ہو جائے۔اور سانسوں کو چند مزید لمحوں کی مہلت مل جائے۔ہم جانتے ہیں بادشاہ سلامت کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان سب باتوں کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ۔کیونکہ آپ ہمارے خون سے سیر ہو جاتے ہیں ۔ تو پھر آپ کو ان کے بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔کیونکہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو آنے والی صدیوں میں ہم کمزور وں کی ہڈیاں تو زمین میں ہی دفن رہیں گی ۔مگر آپ طاقتوروں کی ہڈیاں ڈائنوسار کی طرح جوڑ کر عجائب گھروں میں سجائی جائیں گی ۔ اور کتابوں میں آپ کی دہشت اور شکار کی مہارت کا اندازہ آپ کے دانتوں اور ناخنوں کی طاقت سے لگایا جائے گا ۔ہم گوشہ گمنامی میں رہیں گے مگر آپ سکرین پر زندگی کی علامت بن کر ابھریں گے ۔زندگی میں تو ہم سکون سے شائد جی نہ سکیں مگر موت کے بعد آرام ہی آرام ہو گا ۔ اور آپ موت کے بعد بھی ہڈیوں سے جڑ کر بننے اور ٹوٹنے کے عمل جراحی سے گزرتے رہیں گے ۔زمانہ شائد ہمیں بھول جائے مگر آپ کو بھولنے نہیں دے گا ۔

تیری پرواز سے بہت اگے ہیں تیرے مقام
جس کی تجھے تلاش اس سے اگے تیرے انعام
پلٹتے نہیں وہ اپنی منزل سے پہلے
اورٹھہرتے بھی نہیں وہ بعد از شام
ذوق اشتیاق تو ہے ان کا شب بھر کے لیے
کیا خوب نبھاتے ہیں وہ حکم بنا کسی امام
نہ آرزو ہے نہ خواہش حسد و جلن سے پاک
دیتے ہیں اشراف کو محبت کا پیغام
ایک سے ہوں ہزار نہ مجمع نہ ہجوم
سمجھو تو اصل میں ہیں وہ اقوام
سلب آزادی کے خوف سے ہیں دبکے ہوئے
اشراف کو گمان ہے یہ ان کا احترام
کیسی کیسی خوبیوں کے مالک مختار
پھر بھی نہیں ان میں ناز و اندام
فطرت ثانیہ میں وہ ہیں مکمل آزاد
پھر بھی ہیں ان پر بیوفائی کے الزام


تحریر و اشعار : محمودالحق
در دستک >>

Jan 29, 2010

قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر

روزانہ ہی ایک طرح کی اپنی زندگی جینے کی عادت نے دن میں روشنی اور رات میں تاریکی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔ اب تو آنکھیں بھی وہی منظر دیکھنا پسند کرتی ہیں جو انہیں بار بار دیکھایا جاتا ہے ۔ جوں جوں نظارہ وسیع ہوتا جارہا ہے آنکھیں سکڑتی اور روشنی کم پڑتی جارہی ہے ۔ زندگی کے بیتے دنوں کی یاد نے ستانا شروع کر دیا ہے ۔ جب قہقہے ایسے گونجا کرتے کہ اگر کہیں سے رونے کی آواز آ جاتی تو سب لوگ اپنی توجہ صرف اسی طرف کر لیتے اور قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر ہو جاتے اور پل بھر میں اپنی آغوش میں سمیٹ کر مسکرانے پر مجبور کر دیتے ۔ خوشیاں اتنا اپنا پن چھوڑ جاتیں کہ رونے کے لئے بھی کوئی بڑی وجہ چاہیئے ہوتی ۔ نہ جانے کیوں زندگی ایسا کھیل کھیل جاتی ہے ۔ پتھروں جیسے حوصلہ رکھنے والے فولاد کی بھاری ضربوں سے توڑنے جاتے ہیں ۔ آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالی پر توکل کرتے کرتے انسانوں سے شکوے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔ مگرعقل کی معراج پانے والے دلوں پر کشت و خون بہا دیتے ہیں ۔ وہ انسان جو زندگی میں اس منزل کے مسافر ہیں جس کا انجام اسی فانی دنیا میں بھگت کر جانے والے ہیں ۔ مگر پھر بھی انہیں راستوں پر گامزن ہیں جہاں ان کے قہقہے چیخوں کی مانند ہیں ۔ اپنے جائزحق کو بھی پانے کے لئے نفرت کی ایسی آگ بڑھکاتے ہیں ۔ کہ آنکھیں حسد و نفرت کی جلتی آگ کے آنسوؤں سے قہر آلود ہو جاتی ہیں ۔ اور بجھتی تبھی ہے جب وہ حوس و حرص کے پانی سےسیراب ہو ۔ اپنی ذاتی خواہشوں کی تکمیل میں ہر رشتہ دھوکہ کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ پھر بھی توقع بدلے میں اچھے ہی کی جاتی ہے ۔ عفو و درگزر کر دینا ایسا فعل ہے کہ جسے اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ہے ۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا جائے ۔ جو بھٹکے ہوئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالی سے ہدایت کی دعا کی جانی چاہیئے ۔ معاف کر دینا چاہیئے جن سے دل دکھے ہوں کڑوی کسیلی باتوں سے ، اختلافات سے ، اعتراضات سے ، نظریات سے ، حسد سے ، جلن سے ۔ مگر وہ جو فتنہ و فساد پھیلانے کا موجب ہو جائیں ۔ بھائی کو بھائی سے جھوٹ اور مکاری سے آپس میں لڑوانے کی سازش کریں ۔ ہمدردی کی اوٹ سے ذاتی مفاد کی خواہش تکمیل میں خاندانوں میں ، بھائیوں میں جھوٹ اور بہتان طرازی سے زہر بھر دیں ۔ وہ نہ تو اس دنیا میں سرخرو ہیں اور نہ ہی اُس جہاں میں ۔ اپنی جھولیاں جس انگار سے بھرنے کے لئے اپنی زبان پر انگار رکھتے ہیں اسی سے جلتے ہیں ۔ جو اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان زبان سے نہیں دل سے رکھتے ہوں ان کے تمام معاملات راضی بالرضا ہوتے ہیں ۔ توکل سے تحمل و برد باری کی زمین تیار ہوتی ہے ۔ عفو و درگزر کی فصل بوئی جاتی ہے ۔ اور رحمتوں کے پھلوں سے جھولیاں بھری جاتی ہیں ۔


حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے
صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے
کینہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار
راضی بالرضا سے توکل بیباک ہوتا ہے
باطل تو ہے با سبب بد اعمال
بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے
قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے
آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے
چاہ طلبوں کو تو چاہیے منزل الماس
فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے
کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو
بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے


تحریر و اشعار : محمودالحق
در دستک >>

کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی

کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی
ہررات تو بجھتی ہےشمع زندگی

بڑھتی متاع دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی



روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

Jan 28, 2010

زمانہ پھر بھی رہ جائے گا

تحریر : محمودالحق

کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں۔ اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔تن آسانی کی عادت اتنی آسانی سے چھوڑنے کو من نہیں چاہتا۔ رائی نظرآنے والی شے پہاڑ سے بھی بھاری پن کا احساس دلاتی ہے۔ اندھیرے میں چشمہ ڈھونڈتے ہوئے پاؤں ٹھوکر نہ کھائیں تو سمجھ بوجھ ،عقلمندی سے تعبیر کرتے ہیں ۔زندگی کی معمولی کامیابی کے قصے فاتح عالم کے انداز تکلم میں بیان کرنے میں فخر زماں کا لقب پانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اور اسے سمجھنے میں افلاطون اور سمجھانے میں ارسطو سے بھی اگے نکل جاتے ہیں۔ میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ۔پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں ۔ کنواں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہے۔ مٹکے کےپانی سے پیاس بجھنے میں نہیں ۔کولہو کا بیل واپس لوٹنے پر کوسوں میل کی مسافت کی تھکاوٹ کے احساس سے چور ہوتا ہے ،کوا چھت کی منڈھیر پر بیٹھا گھر والوں کی نظر بچا کر راہزنی کی تاک میں رہتا ہے، کوئل تنہا درختوں کے جھنڈ میں چھپی اپنی ہی دھن میں مگن گنگناتی رہتی ہے، طوطے اپنی آوازوں سے ہنگامہ برپا کرکے پھلوں کے پکنے کا اعلان کرتے ہیں ، قاصد کبوتر پیغام رسانی ہی سے محبوب نظر ہو جاتے ہیں ،شہباز بلندیوں کی اپنی حدود میں داخل ہونے والوں کے لئے اجل کا پیغام بن جاتے ہیں ، بہار میں کھلتے پھول بڑی چونچ کی چڑیا کو دعوت طعام دیتے ہیں اور جو آگ کو چکھتے ہیں آگ ہی سے جلتے ہیں ۔ سر اٹھا کر اونچے پتوں تک جانے والے باندھ کر پتوں ہی پر جھکا دئیے جاتے ہیں ، خود شکار کرنے والے قید میں ہڈیوں سے گوشت کو نوچتے ہوئےغرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، کمزور کی آنکھ اسکی مفلسی و لاچاری کی علامت بن جاتی ہے۔ طاقت کا نشہ خوف بن کر نظروں میں اتر آتا ہے۔وہ ہماری قید میں ہیں ہم زمین کی اور زمین نظام شمسی کی قید میں، سارا جہاں ہی قید کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہے۔ جو ایک پل کے لئے بھی خود کو جدا نہیں کر سکتا۔ ہمارے قیدی ہماری تابعداری میں رہیں اور ہم نا فرمانی میں۔زمین کو حکم نہیں کہ حدوں سے باہر چلی جائے ۔ چاندنیء مہتاب کو رخصتی کی اجازت نہیں اورآفتاب کو روشنی پھیلانے میں کمی کی۔جو وجود چند ہزار قدموں سے زیادہ کی سکت نہیں رکھتا آسمان پہ کمندڈالنے کا خواہش مند ہے۔مٹی کی بندشِ قید تو مٹی تک ہے۔ روح کی آزادی ہی انہیں کائنات کی تحقیق پر آمادہ کرتی ہے ۔جو آزادی ہمیں نصیب ہوئی چند خواہشات کے بدلے میں اسے گروی رکھ دیا۔ہم سے جو کہا کہ جہاں میں پوشیدہ کیا کیا ہے ۔ہم نے فائدے کے لالچ میں انگار ہی بھر لئے۔ پانی کے نیچے سرنگ بنا دی تو بڑی بات ہوئی جس نے سمندر ہی ٹھہرا دیا اسے بھلا دیا ۔بھاگ بھاگ کر شائد تھک جائیں مگر سمیٹنے سے تھکتے نہ ہی رکتے ہیں۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھی جا کر دیکھ لیا ۔ یہاں بھی آہٹ میرے ہی قدموں کی ہے اور وہاں بھی میرے ہی قدموں کی۔ یہ قدم اسی زمین کے وفادار ہیں ۔ جب تک ان پر وزن رہتا ہے اسی سے بغلگیر ہوتے ہیں ۔ جس گھر کے رہنے والے نہ ہوں وہاں اناج بھر بھر کیا کرنا۔عقلمندی کی یہی بات سمجھنے کی ہے کہ دوست کو دوست رہنے دو۔ زمانہ کو نہ ستاؤ ۔ دور گزر جائے گا۔ زمانہ پھر بھی رہ جائے گا ۔
در دستک >>

Jan 27, 2010

خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں

خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں
راہ تیری سے خود جدا ہوتے ہیں

محبت میں رہتے جو در درباں
عشق میں کہاں جنوں انتہا ہوتے ہیں



خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو

تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو

گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو

شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو


بادِ اُمنگ / محمودالحق
در دستک >>

Jan 26, 2010

عفو و درگزر رحمت کا راستہ

عفو و درگزر ایسا فعل جسے میرے مولا اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ! اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تو ایک ایسی مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک ہمارے لئے روشن مثال ہے ۔اور اگر کبھی بھٹکنے کی نوبت آ بھی جائے تو ہم بھٹک نہیں سکتے ۔غصہ کے بےلگام گھوڑا کو قابو میں رکھنے کا ایک ایسا کوڑا جو اسے بدکنے اور سرکشی سے باز رکھنے میں طاقت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔انسان معاشرے میں کہیں نہ کہیں ناانصافی اور ظلم کا شکار ہو سکتا ہے ۔اور اگر بدلہ ہی اسے انصاف دلا سکے تو ہر فرد اپنے خلاف کئے جانے والے تمام عوامل کے مد مقابل خود ہی بدلہ کے ترازو سے انصاف کے پلڑا کو بھاری کرتا جائے مگر یہ مشیت الہی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس طرح معاشرہ بدلہ کی آگ سے انتقام کی حدود سے بھی آگے گزر جانے کا احتمال رہے گا ۔اور بدلہ ظلم کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے پھر ظالم مظلومیت کے کٹہرے میں جا کھڑا ہو گا ۔جو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے ۔ ظالم قانون سے بھی سزا یافتہ ہو تب بھی ظلم سہنے والے ہی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے ۔کیونکہ شیطان کا بہکاوہ انسان کو کسی بھی پل اس احساس سے خالی نہیں جانے دیتا ۔کہ اس کا کوئی بھی عمل ظلم و اذیت دینے میں نا انصافی پر مبنی ہے ۔حتی الوسع کوشش یہی ہونی چاہیے کہ کسی سے نا انصافی نہ ہو اور اپنے عمل سے ہی اور خاص طور پر ظلم سہنے اور نقصان اٹھانے کے بعد معافی کا راستہ اختیار کیا جائے ۔کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اللہ تبارک تعالی اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا ثبوت ثبت ہو سکتا ہے ۔ چیخنے کی زیادہ آوازیں انہیں انسانوں کے گلے سے نکلتی ہیں ۔جو اپنے نفس کے شکار ہوتے ہیں اور اللہ کی ہدایت اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسوہ حسنہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے ۔اور جو راہ ہدایت پر ہوتے ہیں وہ محبوب ہو جاتے ہیں ۔ان سے محبت رکھنے والے کبھی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں دیتے ۔ کہ جس سے دیکھنے والا فعل کی نسبت محبوبیت سے جدا کر سکے ۔ ایک پل کے لئے انا ، ضد ،تکبر اور اعلی مرتبت کے بت کو دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھائے جانے سے ٹھیس پہنچتی ہے اور یہی شیطانی خیالات کا بہکاوہ انسان کو اپنی راہ سے بہکانے کا سبب بنتا ہے ۔ اور اللہ تبارک تعالی کی نظر میں وہ بدلہ جو انتقام کی آگ میں جلا ہو۔ نا پسندیدہ عمل قرار پا جاتا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی خود معاف کرنے والا ہے غفورورحیم ہے ۔ یہی خوبی اپنے بندے میں دیکھنا پسند فرماتا ہے ۔اس سے ڈرنے والے دوسروں کو ڈراتے نہیں بلکہ اپنے حسن اخلاق سے نرم خوئی کے بیج بوتے ہیں ۔جس سے عفو و در گزر کے پھول اگائے جاتے ہیں ۔ اور محبت کی خوشبو مہکائی جاتی ہے ۔بہت آسان ہے کہہ دینا کہ معاف کر دوں گا ۔مگر ظلم و نقصان اٹھانے کے بعد عملی طریقہ سے یوں کہ بدلہ لینے کی طاقت ہو اور پھر معاف کرنا ۔ پسندیدہ عمل ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں مقبول اور محبوب ہو جاتا ہے۔ اور رحمتوں کی بارش سے فیض یاب ہوتا ہے

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی

تحریر و اشعار : محمودالحق

کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔زمانہ قدیم کی مدفن تہذیبوں سے ہم صرف ٹوٹے برتنوں کو ہی جوڑ پائے ہیں۔مگر منوں مٹی کے نیچے دبنے سے لا علم ہیں ۔ ساری بستیاں ہی زمین دوز ہو گئیں ۔صرف سخت مٹی سے بنائی ہی خاک ہونے سے بچی رہیں ۔ خاک چاٹنے والی ہر شے کو خاک نے خاک کر دیا ۔ امارت رکھنے والے اپنے پیچھے کوئی ایسا نشان بھی نہ چھوڑ پائے کہ آج تاریخ کی کتابوں میں ہی زندہ رہ جاتے ۔ ان کے نزدیک زندگی کے کیا معنی تھے ،انسانیت کی کس معراج پر مقام رکھتے تھے ۔ طاقت کا توازن کیسےبرقرار رکھا گیا۔اپنی حدود کا تعین کرنے میں کیا حکمت عملی کارفرما تھی۔قرض دینے میں کیا شرائط طے کرتے ،غلام بنانے کے لئے جبر کا کونسا ہتھیار استعمال کرتے ۔جنگ و جدل میں زندگی برباد کرتے یا تجسس و تحقیق میں توانیاں صرف کرتے رہے وہ۔زمین سے تو لا تعلق تھے مگر آسمانوں پر چمکتے ستاروں سے جڑے رہتے ۔کبھی وہ سورج کو مالک کائنات سمجھ لیتے تو کبھی آگ دیوتا کا روپ دھار لیتے۔عقل و شعور کا جب ادراک حد سے بڑھا ،تو تخیل میں پرستش عمل سے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اورمعاشرتی اقدار کا من مانے طریقے سے اظہار کرتے ۔بیٹوں کی پیدائش پر شادیانے بجاتے تو بیٹیاں عزت کے نام پر زندہ دفن کر دیتے۔انسان قبیلوں میں اور قبیلے طاقت کی بنیاد پر اپنے وجود کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ کمزوروں کو جھکنے کی عادت نے زندہ رہنے کی مہلت دی۔ طاقتور کبھی بلا تو کبھی فنا کے اصول پر دست اندازی کرتے۔قانون قدرت کے بر خلاف نفس شیطان کے پیروکار رہنے میں بلند مرتبہ کی حاجت کے متمنی رہتے۔ انقلابات زندگی نے انسان کو ہمہ گیر جہت مسلسل کی بجائے ہمگیر جہالت کفر کے لبادے میں اوڑھا دیا۔ ترغیب و تحریص نے پامالیء انسانیت کا پرچم نیزے کی نونک پر بلند رکھا۔اپنی گردن اکڑا کر تلوار سے دوسروں کی گردنوں کو کاٹ کر جھکا دیا جاتا۔ بھیڑ وں اور اونٹوں کی طرح منڈیوں میں غلاموں کی تجارت کا بازار گرم رکھا جاتا۔ شہزادگی کی زندگی شکست خوردہ ہوتے ہی غلامی میں بدل جاتی۔ فتح کے نشہ میں معافی و درگزر کا قریب سے بھی گزر نہ ہوتا۔ایسے میں اللہ تعالی نےقبیلہ قریش میں اپنے پیغام انسانیت اور مقصدانسانی حیات کے پہنچانے میں اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو صادق و امین کے رتبہ پر پہلے ہی سے فائز تھے کو غیر انسانی و غیر اخلاقی نظام ہستی کو نظام وحدت میں پرونے کے لئے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا۔اللہ تعالی کے توحید کے پیغام کو معاشرےکے سدھار کے لئے پہلا راستہ اختیار کیا گیا۔جب خد اتعالی کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کر لیا گیا ۔ تو زندگی کے تمام معاملات کو اسی کی ذات کے ساتھ منسوب رکھنے میں ہی نجات کا راستہ دکھا دیا گیا ۔ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرما یا !
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر ، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نےاس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ۔
سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی
حرف علم زماں میں مفہوم ہے خدائی
چر رہ دے دل فگار کو عقل کلیم سے
نہیں مشکل کاٹ دے پہاڑ کو ایک رائی
خزانہ تو ہے مدفن یا درافتن
اتنا تو صرف ہے آدم کی پزیرائی
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےیہ بھی ارشاد فرمایا !
تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگرچھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سےمحفوظ رکھو!
تحریص و ترغیب تو ہے ابلیس ِادا
چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا
قرآن مجید اور سنت نبوی کے بعد کسی بات کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ مگرلفظوں کی حقیقت ، ماہیئت اور ہیئت سے الگ نقطہ نظر معنی پوشاک کر دئیے جاتے ہیں ۔ صرف علمیت کو فوقیت کے درجے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ لفظوں کو گھٹانے بڑھانے کے عمل سے ایک الگ رویہ تلمیح اختیار کی جاتی ہے۔ مفہوم کو سمجھنے کے لئے ذاتی علمی آراء کا اظہار پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ معنی و مفہوم کو بھی پسند کی کسوٹی پر پڑھا جاتا ہے۔ اسی پسند نا پسند کی بنیاد ی وجہ عناد نے مسلم قومیت کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔
کائنات قرون میں پھر پڑھنا سبق قرآن واللہ احد
بختاور بے کراں میں ابجو ورد ِمسلمان اللہ الصمد
خود پرستی میں مبتلا قوم عمار کھوتی رہن متاع ِمحبوب
نہیں بے سبب ارتقا ءآدم عالم ِتنہا میں جہان ِواحد
آرمیدن نستعلیق میں دستگیری تضاد قال و قول
طلوع اسلام کے پہلے پیغام و صف آرائی مسلمان کا نام احد
حسرت ِحالی پہ غالب داغ ِمیر تو درد ِاقبال
ترتیب زیاں میں نہیں بہر و بند بچتی صرف خاک لحد
آنکھ میں دیکھنا سرور تو قراری قلب میں بیقراری ہو
قلب طہور میں آتی سرور جاں پڑھتے جب کفو احد
در دستک >>

Jan 23, 2010

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو



برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

جس کو ملے حکمِ اذاں

جس کو ملے حکمِ اذاں غلام سے سردار ہو جائے
اگر عبادت میں ہو دکھاوا تو انکار ہو جائے
بات گر حد سے بڑھے تو تکرار ہو جائے
تقاضا بار بار ہو تو اصرار ہو جائے
منظر جو دکھا دیا تو علمبردار ہو جائے
نظر سے جو چھپا لیا تو اسرار ہو جائے
عشق کی ہے انتہا ہر پتے میں دیدار ہو جائے
گل جو سونگھ لوں دل بیقرار ہو جائے
نیکی زبان زدِ عام ہو تو بیکار ہو جائے
لفظوں کو جب ملے زبان تو شاہکار ہو جائے
عقل خرد تو شعورِ علم سے بیزار ہو جائے
شاہانہ مزاج ہی اس کا سرکار ہو جائے
مومن کا عملِ صالح تو سالار ہو جائے
ضعیف الایمان تو صرف رضاکار ہو جائے



برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

میوہ و مہک سے گر تو اکتائے

میوہ و مہک سے گر تو اکتائے تو لوٹا دینا
نعمتیں حسرتوں سے بڑھتی پائے تو لوٹا دینا
آنسو غم سے خوشی میں ڈھل جائے تو لوٹا دینا
تکبرِ پا سے خاک سر کو آئے تو لوٹا دینا
آب کو گر آگ گرمائے تو لوٹا دینا
گل مہکنے کے بعد مرجھائے تو لوٹا دینا



برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار

بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار
ظلمتِ شب تو درویش کو ہیں نورِ مینار
خیالِ مراتب ہو جہاں وہ ہے شاہی دربار
شاہ و گدا صرف وہیں کھڑے ہیں ایک قطار
جسے جس کی تمنا وہی ہے اس کا دلدار
جھکنا اس کو اچھا احسان کا نہیں جو روادار
دامن بھر بھر لیتے ہیں وہ زرِ انگار
تہی دَست کو ملتا ہے گلستان و گلزار
تجھ پہ موقوف چاہے تو دربار یا انوار
مہکنے کو تو گل ہی ہو گا خار دار
گر تو قید یہاں وہاں سے نہیں راہِ فرار
سمجھ اس بات کو وہ تو ہے بڑا مددگار
اس بازی میں تو جیت ہے یا ہار
ایک میں بیقراری ایک ہے گلزار
کیا مشکل ہے گر ہو جائے تھوڑا ابرار
ورنہ تو ہر طرف ہی ہے فگار و ضرار
کوئی کہے کہ اب نہیں ہوتا انتظار
میرے لیے تو کافی ہے یہی اشکبار
مانگیں پناہ خُدا سے سب دل آزار
خود سے تو کبھی اوروں سے بیزار
تَکبر سے جب اپنے ہوتے ہیں لاچار
ڈھونڈتے ہیں اپنے لیے پھر راز دار
تیرے عشق جنوں کا ہے مجھے خَشِیت بخار
نہیں ضرورت باقی اب کسی مسیحاء تیماردار



برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

عشق کا رنگ ہو غالب

اک رُت آنے سے اک رَنگ جاتا ہے
عشق کا رنگ ہو غالب تو اُٹھایا سنگ جاتا ہے
دیوار میں چنوائی تو تاریخ کہلاتی ہے
عاشق کا جنازہ تو موت کے سنگ جاتا ہے



برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری

سیاست کے میدانوں کے وہ بڑے شکاری
ملک و قوم ہے انہیں صرف پارک سفاری

آئین و انصاف تو ہے مارچ کبھی دھرنا
ووٹ ہے انہیں جاہ و حشمت کی سواری

قائد کے وطن اسلام کو صیغہ آباد لگا دیا
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جہاں سب درباری

چھن گئی ان سے متاع محبوبِ الہٰی
شکر ہے مفتی اعظم نہیں کوئی سرکاری

نہیں خدا کو چاہ جو خود سے نہیں آگاہ
قرآن سے متصادم جن کی رسم کار و کاری

آبِ قطرہ ہی سے ہے لہر ابر و آبشار
صرف خون کو خون سے نہیں کوئی آبیاری

نفسِ شیطان کے ہیں یہ عروجِ کمالات
چھن گئی جن سے عزتِ نفس و خودداری

قوم کی تقدیر بن گئی قسمت کا کھیل
آج اس کی باری تو کل اس کی باری

نہیں بدلتا وہ ایسی قوموں کی تقدیر
جہاں سفید کو ہو سیاہ کی ریا کاری

اب تو سمجھو ابن خلق جوڑ لو تعلق
عشقِ رسول و خوفِ خدا ہو تم پہ طاری

تمہاری روحیں کیوں جسموں سے جدا جدا
تم سب تو ہو ایک خدا کے پجاری

اے خدا چھین لے میرا علم مجھ سے
جو حائل ہو میری شَبِ عبادت گزاری

تیرا گھر ایک ہر گھر میں تیرا کلام ایک
ایک کو دوسرے سے پھر کیوں ہے بیزاری

ابلیس نے ایک بار جو بہکا دیا
بنی آدم نے اختیار کرلی وہی روش ساری


برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

راستے کا پتھر ہو جاؤں

در دستک >>

جینا اسی کا نام ہے

تحریر: محمودالحق
آج پھر میں ایک عجیب کشمکش کا شکار ہوں۔ پرندےغول در غول مشرق کی طرف محو پرواز ہیں۔ شور مچاتے دھیرے دھیرے اپنی اپنی منزل مراد کی طرف گامزن۔ ہر نئی صبح کی طرح خالی چونچ اور پنجوں کے ساتھ۔ جیسے کل واپس لوٹے تھے خالی چونچ اور پنجوں کے ساتھ ۔ نہ ان کے آنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس منزل کے مسافر ہیں اور نہ ہی ان کے جانے سے ۔زاد سفر کبھی بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ تو پھر یہ کس امید و آس پہ روز اپنے اپنے گھونسلوں میں ننھے بچوں کو اکیلا چھوڑ کر کس روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ کون انہیں روز یہ تسلی دیتا ہے کہ کل پھر آؤ گے تو اپنا کاروبار زندگی پھر وہیں سے شروع کرنا جہاں ایک روز پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ ہر روز ایک نیا پڑاؤ ،نئی جستجو انہی پرانے راستوں پر انہیں لے کر آتی جاتی ہے۔ موسم سرد ہو یا گرم، بہار ہو یا خزاں بارش ہو یا آندھی مایوسی تو ہوتی ہو گی انہیں بھی۔ اگر سارا دن بارش نہ رکی تو صبح کام پر کیسے جائیں گے۔ خود تو شائد بھوک برداشت کر لیں۔ مگر ان ننھے بچوں کا خیال انہیں ضرور تڑپاتا ہو گا کہ کہیں بارش میں نہ بھیگ جائیں۔ ایک کو تو ان پر اپنے پروں کا سائبان رکھنا ہو گا۔بارش میں بھیگ کر بخار نمونیہ نہ ہو جائے۔ دوسرے کو آج اکیلے ہی محنت بڑھ کر کرنی ہو گی۔ پہلے سے زیادہ وقت تلاش رزق میں صرف کرنا ہو گا۔ کیونکہ آج کسان بھی کھیت میں بیج ڈالنے شائد نہ آئے ۔کھلی گلیوں بازاروں میں بھی کھانے پینے کی دوکانیں نہ سجیں ۔ بہت مشکل میں زندگانی کو پاتے ہوں گے۔ مگر اس کے باوجود شام کو واپس لوٹتے ہوئے پھر بھی خوش ہیں چہچہا رہے ہیں۔ گنگنا رہے ہیں۔ کیا آج بھی گزشتہ روز کی طرح پر باش ہیں۔ نہیں آج تو ان کے لئے برا دن ہونا چاہیے۔ اتنے کم ملنے پر بھی ان کی خوشیوں میں فرق کیوں نہیں آیا۔ شائد ان کی خواہشیں دم توڑ چکی ہیں۔ آگے بڑھنا نہیں چاہتے۔ روز اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔انہی شہروں کے گلی کوچوں میں کہیں بسیرا کیوں نہیں کر لیتے۔ آنے جانے میں وقت کا ضیائع بھی نہیں ہو گا ۔بچے بھی قریب رہیں گے اور جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔مگر نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے ان کھلے درختوں پر ان کے ساتھی سنگی ساتھ رہتے ہیں۔ جو دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ اپنوں سے جدائی انہیں قبول نہیں۔ سب چھوٹے بڑے قریب قریب ہی بستے ہیں۔ بھوکے بے دھڑک سو جاتے ہیں۔ مگر ایک دوسرے کو نوچتے نہیں۔ کھانا ملنے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔مگر اپنی بھوک اور ضرورت سے زیادہ کی طمع نہیں رکھتے۔ ایک دن کے لئے جو چاہیے اسی پہ قناعت کر لیتے ہیں۔ نفرت اور دشمنی کے نام سے نا آشنا ہیں۔ ایک دوسرے کے آشیانوں پر قبضہ نہیں جماتے۔ شائد اس لئے کہ سب نہتے ہیں اور کوئی بھی ظلم کرنے والے کا ساتھ نہیں دیتا۔ کمزور اکیلا ہی ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے ۔مگر صرف انسان کو ہی دیکھ کر کیوں دبک جاتا ہے۔ انسانی عظمت کی داستانیں اس تک کیسے پہنچی ۔جنگ و جدل کی کہانیاں کون بیان کر گیا ۔انہیں کہ آج یہ انسان ہی کو اپنا دشمن ماننے لگا ہے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ ہم کل کیا تھے آج کیا ہیں۔ ہمارے جہاز، سڑکیں، پل ،اونچی اونچی عمارتیں اور بڑی بڑی گاڑیاں گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہیں ۔اس زمین کا زرہ زرہ تسخیر ہو چکا۔ اب تو کائنات باقی ہے۔ یہی تو فرق ہے اپنی جڑوں کے ساتھ جڑے رہنے والے کب ترقی کر پاتے ہیں۔ دیکھو آج انسان کس نہج پر کھڑا ہے۔ مال و دولت کے ساتھ ساتھ عزت وقار رتبہ جو انسان کو میسر ہے وہ کسی اورکو نہیں ۔ کیا ہوا اگرتھوڑا بہت خون بہا دیا گیا۔ رشتوں کو پامالی کی زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔ ایک ایسی خوشی کے لئے جس کا دروازہ دکھوں کی جھیل میں کھلتا ہے ۔بغض و نفرت کی کشتیوں میں بیٹھ کرترقی کے کنارہ تک کا سارا سفر طے کرتے ہیں۔

شائد جینا اسی نام ہے ؟
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک