Mar 26, 2010

جینے کے ڈھنگ

روزانہ ہی ہم زندگی گزارنے اور جینے کے ڈھنگ کے لئے طرح طرح سے خیالات کی کھیتی میں بیج ڈال کر سوچ سے آ بیاری کرتے ہیں ۔زمین کو ہموار کرنے کا عمل مستقبل کی اچھی فصل کی امید میں آنکھوں میں لہلاتے کھیت کا منظر بسا لیتے ہیں ۔اور ماضی بنجر اور سخت زمین کی طرح پہلی فصل کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔کوشش میں اگر کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو ۔تو اسے پورا کرنے کی حتی الوسع سعی کی جاتی ہے ۔مگر قدرتی آفات یا نا گہانی آفت سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا ۔
بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کی جنگ لڑتا ہے ۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ۔ اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے ۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے ۔ وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی و اداسی ۔
اسی طرح انسان بھی دو طرح سے جینے کی جنگ
کرتا ہے ۔ پہلی بار ماں کی کوکھ تو دوسری بار زمین کی گود ۔ پھر حالات اور ماحول اس کی نشو نما میں تبدیلیوں کا باعث ہوتے ہیں ۔خوشیاں لہلاتے کھیتوں کی طرح پروان چڑھتی ہیں ۔دکھ تکلیفیں نا گہانی آفت سے تباہ حال فصل کا منظر پیش کرتی ہیں ۔
کوشش میں اگر کمی ہو تو حالات کی ذمہ داری قسمت پر ڈال دی جاتی ہے ۔جو رو دھو کر شکوہ پر ختم ہوتا ہے ۔محنت کی آبیاری سے صبر و شکر کی فصل تیار ہوتی ہے ۔خیالات کی کھیتی میں شکوہ کی فصل کاٹی جاتی ہے ۔ہر نئی فصل کے بونے اور کاٹنے میں جو نتائج سامنے آتے ہیں ۔ وہ کھیتی کے تیار کرنے کے مراحل میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر منحصر ہوتے ہیں ۔پورا انسانی معاشرہ انہی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ۔ جو اسے فراہم کی جاتی ہیں ۔محنت اور کوشش کے بغیر حاصل ہونے والے نتائج شکوہ و الزام پر منتج ہوتے ہیں ۔
کہنے والے تو یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں ۔قصور ہمارا نہیں ملک کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی تھی ۔بنیاد رکھنے والے تو کوشش اور محنت سے گلشن کو مہکاتے ہیں ۔ اب پرانے پودوں پر انحصار کی بجائے نئی فصل کی آبیاری بھی ضروری ہوتی ہے ۔ مضبوط جڑیں وقت کے ساتھ ساتھ بوڑھی ہو کر کھوکھلی اور زمین سخت ہو جاتی ہے ۔ نئے پودوں کے لئے زمین ہر بار ہموار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاکہ نئی جڑیں اپنے وجود کو سینچ سکیں ۔
جب نئے پودوں میں خود پبپنے کی صلاحیت نہ ہو تو شکوہ انہی پر رہ جاتا ہے ۔زندگی جینے اور گزارنے کے ڈھنگ میں محنت کے پھل سے صبر و شکر رہے تو شکوہ زبان پر نہیں آتا ۔ بلکہ فصل پروان چڑھتی ہے۔ کمزور پودے زندگی تو پالیتے ہیں ۔ مگر طوفانی حالات کے تھپیڑوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا پاتے ۔
بالٹی بھر دودھ پینے سے دیسی گھی اور مکھن کی توانائی حاصل نہیں ہوتی ۔پانی اپنا رنگ دکھاتا ہے ۔اور انہیں بھی ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔محنت توانائی کو پانی کی حجابت سے آزاد کر دیتی ہے ۔جب تک اپنی صلاحیتوں کو انہی اصولوں کا پابند نہ کیا جائے تو شکوے مسلسل کئے جاتے رہیں گے ۔اور ان کا نشانہ محسن بنیں گے ۔ جو انفرادیت میں والدین اور اجتماعیت میں قائدین ہوتے ہیں ۔ جو آزادی دلاتے ہیں ۔ایک کردار و گفتار میں تو ایک روح و افکار میں ۔
دوسروں کی اُٹھی انگلی کو بندوق کی نالی سمجھنےوالے صرف کوے ہو سکتے ہیں ۔کیونکہ راہزنی کرتے کرتے سب انہیں اپنے دشمن نظر آتے ہیں ۔حالانکہ وہ خود اپنے دشمن ہوتے ہیں ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 24, 2010

مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے

کسی بھی اچھی عادت کو اپنانے کے لئے یاد دہانی کا عمل بار بار دہرایا جائے۔ تو مکمل اختیار کرنے میں بھی ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ۔کیونکہ اس میں فائدہ و نقصان کے اسباب کو پہلے مد نظر رکھا جاتا ہے ۔تا وقتکہ اس میں خوف و جزا کا عنصر بھی نہ شامل کر دیا جائے ۔مثال کے طور پر کسی گھر میں بڑے نماز و روزہ کے پابند ہوں ۔ تو بچے صرف سال ہا سال دیکھنے سے راغب نہیں ہوتے ۔ بلکہ انہیں باربار یاد دہانی کروائی جاتی ہے ۔اور بعض اوقات سزا و جزا کا مفہوم تفصیل سے سمجھایا جاتا ہے ۔یہی نہیں کسی بھی اچھی بات کو ذہن نشین کرانا مقصود ہو تو بار بار تلقین کی جاتی ہے ۔چاہے وہ سچ بولنا ہو ۔ایمانداری سے تولنا ہو ۔یا رشتوں کو محبت کی ڈوری سے کھولنا ہو ۔ہر کام کو پہلے بتایا پھر سمجھایا آخر میں ڈرایا جاتا ہے ۔تب جا کر وہ بات ذہن میں جگہ بنا پاتی ہے ۔
انسانی سوچ میں یہی رویہ جوسمجھنے سمجھانے میں ہی زندگی کا ایک حصہ
خرچ کر دیتا ہے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اور اس کے مقابلے میں اگر کسی گھر میں باپ جوا شراب کارسیا ہو تو بیٹے کو کرنے کے لئے یاددہانی کی ضرورت ہی نہیں ۔نہ ہی سال ہا سال کے انتظار کی اذیت ۔ بچوں میں فوری قبولیت کا عنصر ایسے غالب آتا ہے کہ کہنے والے کہہ دیتے ہیں ۔ کہ مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے ۔ کیونکہ تیرنا اس کی فطرت میں ہے ۔
مگر انسانی سوچ کا سمندر ایسے بھاری پانی پر بہاتا ہے ۔ کہ ہر بری صحبت میں اختیار کی جانے والی عادت خود ہی تیراکی سیکھ لیتی ہے ۔مگر اس کے مقابل اچھائی غوطے پہ غوطہ کھاتی سیکھنے سیکھانے میں عمر کا ایک حصہ کھا جاتی ہے ۔اب اسی ایک بات کو لے لیں ۔کہ گھڑی کی سوئیاں ہر سال ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا عمل کئی بار دہرانے کے بعد بھی قبولیت عام حاصل نہیں کر پایا ۔ جو آنکھوں سے دیکھائی نہ دے ایسے فائدے کو تسلیم کرنا بھی ایک کام رکھتا ہے ۔حالانکہ غور طلب بات یہ ہے ۔ کہ جن ملکوں میں یہ سسٹم رائج ہے یعنی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا ۔ وہاں بجلی کبھی نہیں جاتی ۔ مگر پھر بھی وہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کو فوقیت دیتے ہیں ۔اس کے مقابلے میں وہ ملک جہاں بجلی 12 سے 18 گھنٹے بند رہتی ہے ۔ وہ سال میں دو بار اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ گھنٹہ کے آگے پیچھے کرنے سے زندگی کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر دوکانیں اور مارکیٹیں بجلی کی بچت کے لئے جلد بند کرنے کا کہا جائے ۔ تو جلوس نکل آتے ہیں ۔ کاروبار میں نفع و نقصان کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔ اور اگر دیر تک کھولنے کی اجازت فراہم کی جائے تو لٹنے والے اور لوٹنے والے دونوں ہی خوش رہتے ہیں ۔
بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو جو بھی عمل اجتماعیت کو فروغ دینے کے متعلق ہو ۔وہ پزیرائی حاصل نہیں کر پاتا ۔ اور جو انفرادیت میں فروغ پائے وہ سند قبولیت جلد پاتا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی فرق معلوم ہوتا ہےکہ جن قوموں میں اجتماعیت کا فقدان ہو جائے وہ انفرادی زندگی کے قبول اصول پر معاشرتی اقدار قائم کرتی ہیں ۔ پھر وہاں قیادت بھی انہی میں سے ابھرتی ہے ۔ جو انفرادی حیثیت میں بحیثیت قوم کے فرض منصبی سے عہدہ براء نہیں ہو پاتے ۔
در دستک >>

Mar 21, 2010

تحریر ختم نہ ہومفہوم ہضم نہ ہو

آج کچھ نیا لکھنے کا ارادہ کیا ہے دعا کریں کہ تحریر مکمل ہو اور مفہوم سادگی میں ایسے لپیٹ دیا جائے جیسا کہ آج کل ہمارا ملک دہشت گردی کی آگ میں لپٹا ہوا ہے ۔علم در دیوار سے جھانک رہا ہے ۔عالم دروازہ تھام رہا ہے ۔مکین چارپائیوں پر پاؤں لٹکائے ایسے بیٹھے ہیں ۔جیسے زمین پر رینگتے سانپوں سے ڈسنے کا خوف ہو ۔جو سیلاب کے پانی سے بہتے گھروں میں داخل ہو چکے ہوں ۔ مشاق نشانہ باز عقاب کی طرح شکار پر نشانہ باندھے بیٹھے ہیں ۔ زمانہ بدل چکا ہے نشانے چوک چکے ہیں ۔خوف اب آنکھوں میں نہیں رہا بلکہ دل سے بھی اتر چکا ہے ۔ روز ہی نت نئے پٹاخے پھٹنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دینے کی عادت ہو چکی ہے۔ ہر وقت کانوں میں بجتے نئی البم کے گانوں کی جھنکار
سے قوت سماعت اب اتنی طاقتور ہو چکی ہے ۔ کہ دل تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں ۔اب دل صرف مسرور ہونا جانتا ہے ۔ وہ دن بیت گئے جب دل کمزور اور جذبات برانگیختہ رہتے ۔
دیسی گھی کھانے والےمحنت مشقت کے عادی بدن کم حوصلگی کے باعث دوسروں کی تکلیف پر اشکبار ہو جاتے ۔اپنی روٹی روزی چھوڑ کر کندھے دوسروں کے آنسوؤں کا سہارابن جاتے۔ تکلیف کا احساس فصل کی بربادی سے لے کر موت کی منادی تک اپنائیت کے اظہار سے بھرپور ہوتی ۔ سادگی سادہ مفہوم کی چاشنی سے لبریز ہوتی ۔ گہری باتیں عقل سالم کو بزم ادب ہوتیں ۔ محنت و مشقت سے جھریاں پڑے شفاف دل کی مانند شفاف چہرے بناوٹ و تصنع سے پاک ہوتے ۔جھوٹ بولنا لمحے میں پکڑا جاتا ۔ آنکھیں اداس تو ہو جاتیں مگر مکاری نہ جھلکتی ۔
کم خرچ بالا نشین تو بہت سن چکے ہیں ۔ اب کم خرچ بالائے طاق کے فارمولہ پر عمل پیراہونے کا دور ہے ۔اگر یقین نہیں تو ہر بڑے شہر میں میکڈونلڈ ، سب وے، پیزا ہٹ،کے ایف سی اور اسی طرح کی بےشمار فرینچائزڈ جگہ جگہ ملیں گی۔جو محنت و مشقت سے تکلیف نہ اٹھانے والے بدن کو توانائی سے بھرپور مکمل ڈائیٹ پروگرام نہایت( ارزاں) قیمت پر دستیاب ہیں ۔اگر زمانہ ترقی پر ہے تو کیوں نہ اپنے منہ کا ذائقہ بھی بدل لیا جائے ۔دال مسور اور پالک آلو کھلا کھلا ماؤں نے بچے معمولی باتوں پر دوسروں کے درد کا احساس نہ جھیلنے والے بنا دیا تھا ۔جو بات بہ بات آنسو ایسے بہاتے جیسے ان کے گھر قیامت برپا ہو ۔ حالانکہ اہل دانش پہلے ہی کہہ چکے کہ تو اپنی دیکھ تجھے دوسروں کی کیا پڑی۔
مگر بیچ میں پڑنے کا ہمیشہ انتظار رہتا ۔اکثر محلے دار آپس میں لڑائی جھگڑے کاتبھی آغاز کرتے جب بیچ بچاؤ کرانے والے پہنچ جاتے ۔آج بیچ میں نہ آنا تو درکنار کانوں سے سنی ان سنی کر دیتے ہیں ۔گھروں میں ٹی وی کی آواز سے اپنے گھر میں آواز نہیں سنائی دیتی۔تو دوسروں کی آوازیں کہاں سے سنائی دیں گی ۔
پہلےسچ بولا بھی جاتا تھا اور سنا بھی ۔اب نہ تو بولا جاتا ہے اور نہ ہی سنا ۔سچ بولنا اب تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ جی وہ سچ جس کو بولنے سے اپنے مفاد کو زد نہ پہنچتی ہو ۔مفادات محفوظ ہوں ۔ بے دھڑک بول دیا جاتا ہے ۔ جہاں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہومصلحت پسندی آڑے آتی ہے ۔اب تو ہر طرف عَلم ہی عَلم ہیں عِلم کے ۔ آڑے ہاتھوں لینے والے کمر کسے تاک لگائے بیٹھے ہیں کہ جہاں نظریں چار ہوئیں نشانہ لگانے سے نہیں چوکتے ۔تعریف و تحسین سے پزیرائی کم ملنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔مگر تنقید سے توانائی چاہے نہ ملے مگر تشنگی باقی نہیں رہتی ۔دل کی بھڑاس نکل بھی جاتی ہے اور نکالنے میں بھی آسانی رہتی ہے ۔حالانکہ آج پروگرام ایسا ہی تشکیل دیا تھا ۔ خوب تنقید کروں گا جی بھر بھڑاس نکالوں گا ۔ اچھے اور تعمیری کاموں کی ترغیبات میں کیڑے نکالوں گا ۔اپنے مشورہ جات سے چاندی ورق لگاؤں ۔مگر کیا کروں نام لے کر نقادوں کی محفلیں کیوں خراب کروں ۔
لیکن ایک راستہ ایسا ہے کہ ٹیپو سلطان سے لیکر عصر حاضر کے سیاسی شاہسواروں تک ایسی تاریخ خراب کروں کہ گھمسان کے رن سے محفلیں خود ہی پانی پت کے میدان کی طرح شکست خوردہ فوجوں کی مانند دھول چاٹتی رہ جائیں ۔اور سب اپنا بھول کر میرے ہاں گھمسان کا رن ڈالنے پہنچ جائیں ۔دھما چوکڑی کتابوں سے نکل کر بلاگزکی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کردے ۔لکھنا مجھے مہنگا بھی پڑ سکتا ہے ۔ مگر آج طے کر لیا ہے کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا ۔
مطلب آم کھانےسے ہے گھٹلیاں گننے سے نہیں ۔ اور اگر محاورہ کچھ یوں ہو جائے تو مزید رونق افروزی رہے گی کہ مطلب دام گننے سے ہے گٹھڑیاں باندھنےسے نہیں ۔ اب دام پورے نہ بھی ہوں گٹھڑیوں کی تعداد گننے سے اگر چہرے پہ رونق آ جائے تو لٹنے والے ضرور کہیں گے کہ مال سے اب حال اچھا ہے ۔مریض اب مال سے ہی اچھا ہو گا ۔حال اچھا ہونے سے ہال تالیوں سے نہیں گونجا کرتے ۔مال سے تالی بجتی ہے ۔ کیونکہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کہاوت پرانی ہو چکی اب تو ہاتھ کو مال سے راہ ہوتی ہے کی کہاوت زبان زد عام ہے ۔ اگر یقین نہیں تو میری تقریر(تحریر) پڑھ کر تالی بجا کر دیکھیں ۔ ہاتھوں کی دھمک کان کے پردے سے دل کے کونے کدرے میں محسوس کریں گے۔
مگر ایک بات تو بھول ہی گیا جیب خالی ہو تو دو ہاتھوں سے تالی بجے گی ۔اور اگر ایک ہاتھ جیب پہ ہوتو ساتھ والے سے کہیں گے کہ دے تالی ۔اور اگر اس کا بھی ایک خالی ہوا تو بجے گی تالی ۔ کبھی غریب کو دو ہاتھوں سے شادی پہ مرغ مسلم کھاتے دیکھا ہے ۔ ہمیشہ ایک ہاتھ پلیٹ سے چپک جاتا ہے ۔اپنےایک ہاتھ ہی سے منہ بھرتا ہے اور کبھی کبھار تو اپنی مونچھ بھی خراب کر لیتا ہے ۔ جو تاؤ دیتے دیتے تنگ آ جاتی ہے ۔ مگر کھانا ملتے ہی ادب سے مصالحے میں بھیگ کر جھک جاتی ہے ۔بہت سی مونچھیں کھانا ملنے پر ادب سے جھکی ہوئی دیکھ چکے ہیں آپ ۔ اب مجھے نہ کہیں کہ دکھاؤ ۔ دیکھ دیکھ کر اس حالت کو پہنچ چکے ہیں ۔کہ اب تو آئینہ میں خود کو دیکھنے کی ہمت نہیں رہی ۔ خدانخواستہ ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ یار لوگ کہیں کہ یہ منہ اور مسور کی دال ۔
یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی پہلے وقتوں میں مسور کی دال شریف گھرانے منہ چھپا کر خریدتے اور منہ چھپا کر گھر لاتے تھے ۔ پھر اس محاورہ میں یہ منہ کسے کہا گیا ہے ۔ اگر آپ جانتے ہوں تو میرے علم میں اضافہ کر کے ثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ یہ دال کئی دوسری دالوں سمیت ہمارے منہ سے اتر کر جہنم واصل ہو چکی ہیں ۔لیکن ہم نے کبھی منہ نہیں چھپایا ۔مگر فخر بھی کبھی نہیں کیا ۔کیونکہ فخر کرنے کے لئے بچا کچھ نہیں ۔ جو ایک زندگی میں نعمت فخر زندہ تھی بھائی لوگوں نے کوٹ کوٹ کر شر سے نشر کرا کر دفن کر دی ۔
اب تو میں ہوں اور میری تنہائیاں جواکثر مجھ سے ہی سوال کرتی ہیں ۔جو جواب مجھے یاد تھے زندگی کے امتحانوں میں سنا دئیے ۔جو نمبر عطا ہوئے وہ اب ایک ایک کر کےجمع کر رہا ہوں ۔ جب مکمل ہو جائیں گے تو شائدسرٹیفیکیٹ بھی مل جائیں ۔کہ فیل ہو ئے یا پاس ۔
پاس ہونے سے پاس آنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔پاس ہونے والے ہاتھوں میں سرٹیفیکیٹ لئے منہ لٹکائے بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔ مگر پاس آنے والے پہلے دو ہاتھوں سے تالی بجاتے تو پھر دونوں ہاتھ سے جیبیں گرماتے ہیں ۔ خود تصویر کھنچواتے پھرتے اورپھر خود ہی اپنے منہ میاں مٹھو بن جاتے ۔اور پاس ہونے والے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ۔ ایک سرد آہ بھر کر ضرور کہتے ہوں گے کہ کاش ہم نے مسور کی دال منہ بسور کرکھائی ہوتی ۔ ترقی کی سیڑھی میں پہلا پائیدان پاس ہونے کی بجائے پاس آنے کو رکھا ہوتا تو آج ہمارے دونوں ہاتھ ہماری بغلوں میں نہ ہوتے ۔اور دوست نما دشمن ڈگریاں ہاتھ میں لیے دیکھ کر بغلیں نہ بجا رہے ہوتے ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 19, 2010

تیری راہواں وچ اَپڑی میں دل ہار وے

تیری راہواں وچ اَپڑی میں دل ہار وے
تنگی مینوں عشق دی چنگا مرنا اک وار وے

خوشیاں دے پل وچ جیون دا نئیں اعتبار وے
اَ جا بہہ جا ماہی حیاتی دا کر لے دیدار وے

پھلاں دھرتی سجائی سجدہ نہ ہووے بار وے
ٹکراں جے ہون تینوں دِلاں اُتے بھار وے

عاشق کھڑے بوہے تے ہتھ لے کے ہار وے
جانجی لے کے ٹُرے لاشے بے مہار وے

سکھاں دے پل وچ سودےنئیں اُدھار وے
غماں دا سُوا جوڑا پایا حیاتی سدا بہار وے

ڈھولاں تے سہیلیاں گاون اُجڑیا کیوں دیار وے
شہنائیاں جنازے اُٹھدے وچ دھمالاں لاڑے یار وے

بابل دے آنگن کھیڈاں خوشیاں غماں انتظار وے
رُس جاندی سی تے لگدا کھڈونیاں دا بازار وے

عشقاں مینوں چڑھ گئیاں جوانی وچ منجدھار وے
اللہ اللہ پڑھ دی ،بچ دی نہ میں عشق بہار وے

مائیں ہتھ جوڑے دل سانبھی ظالم سنسار وے
عشق محمود رب دا ، لاشہ رکھ لے بیکار وے


پنج آب / محمودالحق
در دستک >>

بھر گیا میرا قلبِ قلب اَب تو

در دستک >>

ہمدردی کی شال

مجھے اپنے حق سے دستبرداری کا اعلان کرنے کی اگر نوبت آ جائے تو میں کیا کروں گا ۔ یہ وہ سوال ہے جو میں اکثر خود سے کرتا ہوں ۔ غصہ سے بھرا مزاج معافی کے لفظ سے نا اشنا ، آگ کی فطرت تپش سے اگر آسودہ ہو تو انسان اشرفالمخلوقات کے درجہ سے نیچے حیوان آدمیت کے مقام زوال پر تصویر نادان ہو گا ۔لیکن چہرہ پر بناوٹ و تصنع کی ملمع سازی سے عقل مندی کا نشہ کافور ہو جاتا ہے ۔مفاد کی ایسی دبیز تہہ بچھائی جاتی ہے کہ اصل روپ ہی چھپ جاتا ہے ۔ غرض کو ہمدردی کی ایسی شال میں لپیٹا جاتا ہے کہ مجبوری اصل حقیقت سے پردہ اُٹھنے ہی نہیں دیتی۔ تاوقتکہ غرض پوری ہو جائے ۔کھلےدشمن سے لڑنا بہت آسان ہوتا ہے مگر
آستین کے سانپ دکھائی نہیں دیتے ۔ جب تک کہ ڈس نہ لیں ۔خوش نصیب ہیں وہ جنہیں محبتیں منافقتوں سے پاک ملیں ۔ رشتے نبھانے سے ہوتے ہیں ۔ بنانے سے نہیں ۔ماں کہنے سے ماں نہیں کہلاتی کوکھ میں پالتی ہے ۔اپنے خون جگر سے سینچتی ہے ۔ باپ اولاد کی خواہش میں دیوانہ ہوا جاتا ہے ۔خوشیوں کو دینے میں دن رات میں فرق نہیں رکھتا ۔ماں گیلے بستر پر خود لیٹ جاتی مگر اولاد کو اس کے اپنے کئے سے محفوظ رکھتی۔ باپ کھلونے لالا کر جھولے پر سجا کر تفریع طبع کا انتظام کرتا ہے ۔نہ جانے جب وہ جھولے کو چھوڑتا ہے تو گردش زمانہ اسے کیا سبز باغ دیکھاتا ہے کہ وہ محبت کے اٹوٹ رشتوں سے بیزار ی و دل گرفتگی کا شکار ہو جاتا ہے ۔آزادی کے لئے قیدی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتا ہے ۔پرندہ آزادی اپنے سے ملنے کے لئے چاہتا ہے مگر انسان آزادی اپنوں سے بچھڑنے کے لئے ۔اس کی تفریح پروازمیں نہیں زندگی کے انداز میں ہے۔ ایک ہی نسل سے تعلق ایک ہی مقصد پر کاربند رکھنے میں بندش رفتار کا باعث ہوتی ہے۔ خود سے ملنے کا کبھی کسی کو شوق پیدا نہیں ہوتا ۔ مگر ان سے نہایت قربت رہتی ہے جن کی تعریف و توصیف سے خود فریبی کو تسکین ملے۔ بچپن کے لوٹنے کا کوئی امکان نہیں ،جوانی ڈھلتی شام ہے کہ بڑھاپا کی تاریک رات کے بعد کسی صبح کی امید نہیں ۔ نہ ہی ہوا میں سانس ہوگا ۔ بادل میں گرج چمک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔برس جانے کی تو امید رکھناہی عبث ہے ۔ صرف ایک ہی بات ایسی ہے کہ جو دیکھنے میں شائد موجود ہو مگر اثرانگیزی میں مختلف ہو ۔ روشنیاں اس جہاں سے بہت دور جگمگاتی ہیں اپنے اپنے دائرے میں۔ جل جائیں یا چمک جائیں یہ بھی اپنے بس میں نہیں ۔ بس میں تو صرف اتنا ہے کہ خوش رہ پائیں ۔کوئی بھی تو ایسا راستہ نہیں کہ جس پر چل کر روشنیوں تک پہنچا جا سکے ۔ نور ہدایت کی جلوہ افروزی تو مکمل ہے مگر مشعل برداری میں ٹولیاں یکے بعد دیگرے مدھم انداز میں مدح سرا ہیں ۔روکنے سے نہ رک پائیں تو رفتاربڑھنے سے پڑاؤ چھوٹ جاتے اور ٹکراؤ سے نہیں بچ پاتے ۔ ایک دوسرے کو بلاتے بلاتے سانس پھول جائے۔ گلا خشک ہو جائے توزندگی بچانے اور پیاس بجھانے میں آگ کے دریا کافی نہیں ہوتے ۔ ایک گھونٹ آب ہی مزید سانسوں تک کی مہلت دلا دیتا ہے ۔ سچائی کا ایک قطرہ ہی زندگی کی سانسوں کو بڑھانے میں مددگار ہے ۔جھوٹ کا گہرا سمندر بھی پیاس بجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ گہرائی میں اترنے والے زندگی بچانے والے ایک قطرہ سے دریا تک بھی آجائیں ۔تو سانسیں آندھیوں سے نہیں چلتیں بلکہ رفتار سے قابض ہیں ۔ بڑھنے پر سمندر اچھال دیتی ہیں تو وجود ناتواں میں اتنی سکت و برداشت نہیں کہ رفتار میں کمی بیشی سے مقبوض ہو جائے ۔ چھوڑنا ہی تو آسان رہ گیا ۔ پانے میں زندگی کا پل کافی نہیں ۔ پانے کے ایک پل میں زندگی فنا ہو جاتی ہے ۔طوفان اُٹھ جائیں تو سنبھلنے میں لمحوں کا ساتھ رہ جاتا ہے ۔اگرگزرجائیں تو خطرہ پھر بھی موجود رہتا ہے ۔موجیں بڑھ نہ سکیں تو ہوائیں اپنے دم سے مدد کو پہنچ جاتی ہیں ۔ کنارے دور جانا بھی چاہیں تو لہریں محبت میں بغلگیر ہونے پہنچ جاتی ہیں ۔ہاتھ کی انگلیاں جسم کھجاتی تو تکلیف سے نجات دلاتی ہیں صرف مددگار نہیں ہیں مسیحا بھی ہیں ۔سرپاؤں تک رسائی نہیں پاتے ہاتھ بازو کی مدد سے رشتہ باندھ دیتے ہیں ورنہ اجنبیت میں ہی فنا ہو جائیں ۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 14, 2010

شرابور مہک ٹپکتا مینہ سینہ خاک پہ

شرابور مہک ٹپکتا مینہ سینہ خاک پہ
کیسی آرزو کیسی تمنا رہتی دل چاک پہ

ذوق نہیں مجھے دلربا سے دلربائی کا
میرے آنگن میں وہ ہے ثمر شجر تابناک پہ

بند آنکھوں سے منزل رہتی دور نہ آتی پاس
دیکھنے میں نظر تو کرتی سفر براک پہ

انتظار میں ہے رہتی سب دنیا امتیاز
کوئی لا میں تو کوئی الااللہ کی تصویر پاک پہ

لوٹنا چاہتا ہوں چاہ جینے نہیں دیتی
جسم یہاں تو قلب جہان اشتراک پہ

انتظار میں ہے جوئے ارقم باد ابصار
بنیاد نہیں رہتی استوار ضمیم غمناک پہ

کوتاہی پرواز طائر نہیں سبب باد مخالف
روح جسم سے ہو جدا تو رہتی چپکی خاک پہ






خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

Mar 13, 2010

کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں ( حصہ دوم)۔

تحریر : محمودالحق

شاعری کا تیسرا دور 1908 تا 1923
علامہ صاحب کے شاعری کے تیسرے دور میں گورا راج نے 1911 میں ہندوؤں کی مخالفت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے تقسیم بنگال کو منسوخ کر دیا ۔ پھر 1913 میں مسجد شہید گنج کانپور کا واقعہ بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ جس نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کی تحریک میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرنے کی طرف پہلا قدم بنا دیا ۔ اور 1914 میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا ۔ جس میں ملت اسلامیہ کے مرکز خلافت عثمانیہ ترکی نے جرمنی اور جاپان کے ساتھ شامل ہوکر دنیا کی اتحادے ممالک کے خلاف صف آرا ہوا ۔برطانوی حکومت کے زیر اثر ہندوستان بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ سلطنت عثمانیہ ترکی کے خلاف جنگ میں شامل ہوا ۔ مسلمان جسے اپنا اسلامی مرکز سمجھتے تھے وہ اس سے پہلے ہی یورپ کے مرد بیمار کا مقام پا چکا تھا ۔اس جنگ کی وجہ سے آخری سانسوں پہ چلا گیا ۔مسلمان ترکی سے دلی وابستگی
رکھتے تھے ۔اور اس جنگ میں ترکی کا کردار اتنا اہم نہیں تھا مگر انجام بہت اہم تھا ۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر جس طرح ترکی کے حصے بخرے کر کے بندر بانٹ کی گئی ۔ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے درد اور اذیت کا باعث تھی ۔اور اس جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ہندوستان کے اندر انتہا پسند تنظیموں کا اثر ورسوخ بڑھتا چلا گیا ۔جو مسلمانوں سے مفاہمت کی بجائے مخاصمت کی روش پر عمل پیرا تھیں ۔سیاسی جماعتیں سیاسی داؤ پیچ سے اس مسئلے کے حل میں کوشاں تھیں ۔
علامہ اقبال اپنی اس فکر کو اشعار کی زبان میں مجلسوں میں بیان کرتے ۔ اور قوم کے اندر نئی و ولولہ کو پیدا کرنے کی تحریک بنے ۔ ۔شعور کی بیداری اور تحریکوں کے آغاز نے قوم میں جو نئی روح پھونکی ۔ تو قومیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرتی چلی گئیں ۔ جوں جوں منزل قریب آتی گئی فاصلے بڑھتے چلے گئے اور راستے جدا ہوتے چلے گئے ۔
علامہ صاحب کی شاعری میں وہ تمام اثرات جو ان کی دلی کیفیت کے غماز تھے نمایاں نظر آتے ہیں ۔
بلاد اسلامیہ علامہ اقبال کی وہ نظم ہے کہ جس میں انہوں نے نہایت خوبصورت پیرائے میں پرچم اسلامی کی سر بلندی کی داستان بیان کر دی اور ان کا مکہ معظمہ و مدینہ منورہ سمیت اسلام سے عقیدت عشق کا اظہار پڑھنے کے لائق ہے۔
سرزميں دلی کی مسجود دل غم ديدہ ہے
ذرے ذرے ميں لہو اسلاف کا خوابيدہ ہے
پاک اس اجڑے گلستاں کی نہ ہو کيونکر زميں
خانقاہ عظمت اسلام ہے يہ سرزميں
ہے زمين قرطبہ بھی ديدہء مسلم کا نور
ظلمت مغرب ميں جو روشن تھی مثل شمع طور

مسلم ثقافت و تہذیب کی بدولت عالم دنیا میں عَلم اسلام کی سر بلندی کا ذکر بار بار کرتے ہیں اور گورستان شاہی میں بادشاہت کے متعلق ان کا انداز کلام کیا خوب ہے۔
خواب گہ شاہوں کی ہے يہ منزل حسرت فزا
ديدہء عبرت! خراج اشک گلگوں کر ادا
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا يہ رہ گزر
چشم کوہ نور نے ديکھے ہيں کتنے تاجور
اس نشاط آباد ميں گو عيش بے اندازہ ہے
ايک غم ، يعنی غم ملت ہميشہ تازہ ہے
دہر کو ديتے ہيں موتی ديدہء گرياں کے ہم
آخری بادل ہيں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم
ہيں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش ميں
برق ابھی باقی ہے اس کے سينہء خاموش ميں

علامہ اقبال نے اپنی ابتدائی شاعری میں ترانہء ہندی لکھا تھا مگر برصغیر کی بدلتی سیاسی صورتحال میں ان کی شاعری میں مسلم قومیت کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا ۔ جب وہ 1908 میں یورپ سے لوٹے تو ہندوستان میں تقسیم بنگال کو لے کر ہندوؤں نے واویلہ مچارکھا تھا کیونکہ مسلم اکثریتی مشرقی بنگال ( موجودہ :بنگلہ دیش) صوبہ بننے سے مسلم ترقی اور اکثریتی صوبہ ہندو سے برداشت نہیں ہو رہاتھا ۔ اور آخر کار گورا حکومت نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور 1911 میں تنسیخ تقسیم بنگال ہو گئی ۔ پھر ان کا رحجان شاعری میں ہندوستان کے ساتھ مسلمان کی طرف بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔ جیسے ان کا یہ ترانہ ملی ملاحظہ فرمائیں ۔

چين و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہيں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحيد کی امانت سينوں ميں ہے ہمارے
آساں نہيں مٹانا نام و نشاں ہمارا

یہ وہ دور ہے جب ان کی شاعری میں انسانیت ناطے اشعار کے کہنے کا مزاج بدل چکا تھا ۔ہندوستان کومسلم اسلاف کا امین قرار دیتے تھے ۔ان کے نزدیک بادشاہت کے خاتمے سے ہندوستان فتح ہوا تھا مسلمان نہیں ۔ اسی فکر کو انہوں نے جگانے کی کوشش کی ۔ جو بار بار اشعار کی صورت میں مسلم قوم میں اس جزبہ کو پیدا کرنے کا سبب ہو ئی۔مثلا ان کے کلام وطنيت (يعنی وطن بحيثيت ايک سياسی تصور کے( میں ان کا اسلوب بیان قومیت کی تعریف یوں کرتا ہے ۔
گفتار سياست ميں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت ميں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام ميں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قوميت اسلام کے جڑ کٹتی ہے اس سے


مسلمان قوم جس مشکل کا شکار تھی ۔طاقت کا توازن بگڑنے سے حاکم محکومی کے اس مقام پر جا پہنچے جہاں انہیں معاشی ومعاشرتی نا ہموار سماج کے ساتھ ساتھ غم روزگار کے بھی لالے تھے ۔ کئی دہاہیوں سے انہیں انگریزی تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا جارہا تھا ۔ انگریز بہادر کے ساتھ ساتھ ہندو صدیاں محکومی کا بدلہ انگریز کے کندھوں پر چڑھ کر مسلمانو ں سے لینا چاہتے تھے ۔ علامہ اقبال کا شکوہ بھی آرزدہ دل مسلمان کی پکار تھی ۔
کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا ميں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قديم
پھول تھا زيب چمن پر نہ پريشاں تھی شميم


جسٹس جاوید اقبال اپنی کتاب میں والد محترم کے متعلق لکھتے ہیں کہ علامہ صاحب جب واپس لوٹے تو انہیں ابتدا میں یورپ میں گزارے گئے اپنے دن یاد آتے رہے ۔جدید تعلیم سے آراستہ شاعری میں کہنہ مشق اقبال اس وقت کی سیاست کے لئے انتہائی موضوع اوصاف کے مالک تھے ۔مگر پرواز کی رغبت نہیں تھی تو خود کو کچھ اس انداز میں نصيحت فرماتے ہیں ۔
ميں نے اقبال سے از راہ نصيحت يہ کہا
عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند نماز
تو بھی ہے شيوہ ارباب ريا ميں کامل
دل ميں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز
جتنے اوصاف ہيں ليڈر کے ، وہ ہيں تجھ ميں سبھی
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شريک تگ و تاز
غم صياد نہيں ، اور پر و بال بھی ہيں
پھر سبب کيا ہے ، نہيں تجھ کو دماغ پرواز

مسلمان نوجوان جس دور سے گزر رہے تھے وہ انہیں جدید دنیا سے روشناس کرانے میں ایک اہم سمت چل رہا تھا ۔مشینی ترقی سے معاشرتی قدریں اکثر کمزور پڑ جاتی ہیں ۔اور یہی اس دور کا خاصہ تھا کہ نوجوانوں میں حقوق آزادی کی اُمنگ کی بجائے عیش ترنگ کی کیفیت طاری تھی ۔ جسے جنجھوڑنے کی ضرورت تھی ۔ علامہ صاحب نے خطاب بہ جوانان اسلام میں اسی پیغام کو باور کروایا ۔
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کيا تو نے
وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں ميں تاج سر دارا
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سےارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائی تھی
ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا


اس کے باوجود کہ حالات مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں تھے وہ مسلمانوں کے استقلال و نیت خلوص پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے کلام مسلم (جون1912ء( میں ایسے اظہار کیا ۔
آشکارا ہيں مری آنکھوں پہ اسرار حيات
کہہ نہيں سکتے مجھے نوميد پيکار حيات
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے
ہے بھروسا اپنی ملت کے مقدر پر مجھے

شکوہ لکھنے پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے جواب شکوہ لکھ کر تمام نقادوں ، معترضین کو لا جواب کر دیا کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہيں' طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
ہم تو مائل بہ کرم ہيں' کوئی سائل ہی نہيں
راہ دکھلائيں کسے' رہر و منزل ہی نہيں
تربيت عام تو ہے' جوہر قابل ہی نہيں
جس سے تعمير ہو آدم کی' يہ وہ گل ہی نہيں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی ديتے ہيں
ڈھونڈنے والوں کو دنيا بھی نئی ديتے ہيں

1911 میں تنسیخ بنگال نے مسلمانوں میں انتہائی مایوسی پیدا کر دی تھی ۔ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا ۔ ایک طاقت کا شاہسوار تو ایک کوڑا تھا ۔ مسلمان بیچارگی کی تصویر بنا اچھے مستقبل کی امید بھی کھوتا جا رہا تھا ۔ایسے میں علامہ صاحب کا یہ کلام نوید صبح (1912ء) حوصلہ و ہمت بندھانے کی نوید تھا ۔

آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحر
منزل ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر
محفل قدرت کا آخر ٹوٹ جاتا ہے سکوت
ديتی ہے ہر چيز اپنی زندگانی کا ثبوت
چہچاتے ہيں پرندے پا کے پيغام حيات
باندھتے ہيں پھول بھی گلشن ميں احرام حيات
مسلم خوابيدہ اٹھ ، ہنگامہ آرا تو بھی ہو
وہ چمک اٹھا افق ، گرم تقاضا تو بھی ہو

صرف قوم کوخوابیدگی سے اُ ٹھانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لئے دعا بھی نکلتی ان کے دل سے ۔
يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادي فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے

مغربی دنیا کے زیر اثرنوجوان مسلمان اپنی ثقافت و تہذیب بھی بھولتے جارہے تھے۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں تھا جنہوں نے قیادت کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھانی تھی اور وہی نئی تہذیب کی رعنائی کے دلدادہ ہوتے جارہے تھے وہ اپنے کلام تہذيب حاضر میں اسی نقطہ کو واضح کرتے ہیں ۔
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبيعت نے
يہ رعنائی، يہ بيداری ، يہ آزادی ، يہ بے باکی
تغير آگيا ايسا تدبر ميں، تخيل ميں
ہنسی سمجھی گئی گلشن ميں غنچوں کی جگر چاکی


علامہ اقبال مسلمانوں کو ان کے مذہب پر کاربند رہنے کو ان کی بحیثیت ملی تشخص قائم رکھنے کی بندش سمجھتے تھے ۔ مسلمانوں کا طرز حیات جدا ہے اور اسے چھوڑنے سے سارے ناطے رشتے مذہب کادھاگہ کھلنے سے ملت کےموتی بکھرنے کی مثل ہو جاتا ہے ۔ اسی پیغام کو انہوں نے اپنے کلام مذہب میں یوں بیان کیا ۔

اپنی ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکيب ميں قوم رسول ہاشمی
دامن ديں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعيت کہاں
اور جمعيت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی


اور پھر انہیں اس امید کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ اگر وہ مذہب سے بیگانہ نہ ہوں تو ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں چھوٹا ۔اس کے باوجود کہ قوم اپنا ماضی کھو چکی ہے۔لیکن انہیں اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہیئے کہ انہوں نے زوال کا تاریک دور دیکھا ۔ بلکہ انہیں ملت میں پرو کر رہنا ہو گا ۔اور نئی زندگی کی صبح کا انتظار کرنا ہو گا ۔

ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہيں ہے اسے برگ و بار سے
ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ!

علامہ صاحب کا یہ شعر!
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھی
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھی
کبھی کبھار ایسے موقع پر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جہاں کسی کو یہ باور کروانا ہو کہ جناب ابھی صبر رکھیں ۔ آپ اس قابل نہیں کہ پرواز کر سکیں ابھی آپ میں مقابلہ کا دم نہیں ۔ لیکن جب میں نے اس شعر کو پورے مفہوم کے ساتھ پڑھا تو علامہ صاحب کا عشق حقیقی ابھر کر آنکھوں کے سامنے آ گیا ۔ایسے ہی نقادوں کے لئے یہ اگلا شعر!
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھی
کہیں پھر کوئی نقاد نہ آ دھمکے کہ چیلنج ہو گیا اور علامہ صاحب کو جو میں خراج تحسین پیش کر رہا ہوں وہ بحث میں بدل جائے تو واپس موضوع کی طرف آتے ہیں اور ان اشعار کو پڑھتے ہیں ۔
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھی
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھی
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھی
بے خطر کود پڑا آتش نمردو ميں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی


اسی طرح علامہ صاحب کا یہ شعر بھی زبان زد عام ہے اور کسی پر طنز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔خاص کر اگر کبھی کوئی اچھا کام کی نیت کرے تو کہا جاتا ہے ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں
لیکن اگر پڑھتے جائیں تو انسان خود پڑھنے پڑ جاتا ہے کہ علامہ صاحب بہت بڑی بات کتنی آسانی سے کیسے کہہ گئے ۔ کہ پڑھتے جائیں تو مفہوم کیا سے کیا ہو جاتا ہے ۔
کبھی اے حقيقت منتظر نظر لباس مجاز ميں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہيں مری جبين نياز ميں
نہ کہيں جہاں ميں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز ميں
نہ وہ عشق ميں رہيں گرمياں،نہ وہ حسن ميں رہيں شوخياں
نہ وہ غزنوی ميں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف اياز ميں
جو ميں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زميں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں


عقل میں تعبیر و تنقید تو دل سے عشق کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے لیکن عشق حقیقی میں اظہار سے زیادہ اعمال کی بنیاد پر روح عمل سے آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے جسے علامہ صاحب کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں ۔
گرچہ تو زندانی اسباب ہے
قلب کو ليکن ذرا آزاد رکھ
عقل کو تنقيد سے فرصت نہيں
عشق پر اعمال کی بنياد رکھ
در دستک >>

Mar 11, 2010

کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں (حصہ اول ) ۔

تحریر : محمودالحق

انسانی زندگی کے ادوار قوس و قزح کے رنگوں کی مانند ترتیب میں ایک کے بعد ایک دوسرا رنگ دکھاتا ہے ۔زندگی کی ترتیب بھی قوس و قزح کے رنگو ں کی طرح بدلتی نہیں ۔ بچپن ، لڑکپن ، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ ہر انسان میں زندگی کے ادوار اسی ترتیب میں ہیں ۔ ہر رنگ کی اپنی جاذبیت اور خوبصورتی رکھتا ۔ بڑھاپا جوانی میں اچھا نہیں لگتا ۔ تو جوانی میں بچپنا بھی اچھا نہیں لگتا ۔ وقت سے پہلے شعور کا ادراک بے باک پن دیتا ہے ۔کھانا دیگوں میں تیار ، پلیٹ میں کھایا تو پانی سے بہایا جاتا ہے ۔دودھ کے دانت ٹوٹ جائیں تو نئے طاقت بھر لاتے ہیں ۔اگر طاقت کے ٹوٹ جائیں تو کمزوری میں چھپاتے ہیں ۔ زندگی میں رنگ رلیاں ہیں مگر رنگ رلیوں میں زندگی کے رنگ نہیں ۔انسان کے ادوار سوچ کی تبدیلی کی صورت میں نمایا ں ہوتے ہیں ۔ جو اس کی زندگی کو الگ زاوئے سے دکھاتے ہیں ۔زندگی میں سوچ میں پیدا ہوتے کیونکر کے سوال رفتہ رفتہ بدلتے جاتے ہیں ۔ جو ں جوں حالات بدلتے ہیں ایک نیا کیونکر پھر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔سالوں ایک سوال کے جواب پانے میں گزر جاتے ہیں ۔
علامہ محمد اقبال کی زندگی کے ادوار ان کی شاعری کے ادوار سے منسلک نظر آتے ہیں

۔سیاسی اور معاشرتی ادوار میں تغیر و تبدل سے ان کے افکار میں بھی یہ رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔

شاعری کا پہلا دور 1905 تک

ان کی شاعری کا پہلا دور 1905 تک بیان کردہ کلام پر مبنی ہے جب کہ ہندوستان میں 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی رنگون نظر بندی کے بعد ہندوستان کی سیاسی فضا قدرے غیر سیاسی رہی ۔محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس مسلمانوں کی تعلیمی تحریک کا شعور بیدار کرنے میں عملی لحاظ سے فعال تھی ۔ یہاں علامہ صاحب کی شاعری کا روائتی انداز بھی کچھ یوں تھا ۔
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں
زيب محفل ہے ، شريک شورش محفل نہيں
يہ فراغت بزم ہستی ميں مجھے حاصل نہيں
عہد طفلی کو بھی اشعار میں قلمبند کر دیا ۔
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے
حرف بے مطلب تھی خود ميری زباں ميرے ليے

علامہ صاحب سے پہلے اردو شاعری کا انداز شاہانہ تھا ۔ شاہی محلوں میں شاعروں کی سرپرستی کی جاتی ۔تعریف و تحسین سے پزیرائی کی جاتی اور واہ واہ سے داد دی جاتی ۔ مگراردو شاعری قوم کی تربیت کے عنصر سے محروم تھی ۔صرف ایک شاعر مرزا اسد اللہ غالب اس زبوں حالی کو اپنے اشعار میں بیان کر گیا ۔ جن کے بارے میں علامہ صاحب نے ایک اچھوتے انداز بیان میں خراج تحسین پیش کیا کہ لطف گویائی میں غالب کی ہمسری ممکن نہیں ۔
فکر انساں پر تری ہستی سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر ترا
زيب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
نطق کو سو ناز ہيں تيرے لب اعجاز پر
محو حيرت ہے ثريا رفعت پرواز پر
لطف گويائی ميں تيری ہمسری ممکن نہيں
ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں

اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکالماتی بیان مثلاً مکڑا اور مکھی ، پہاڑ اور گلہری ، گائے اور بکری کو بھی نہایت خوبصورت پیرائے میں تخیل کا جز بنا دیا ۔کبھی بچے کی دعا کہہ گئے۔جو ہر سکول کے بچے کی زبان پر ہے ۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا ميری
زندگی شمع کی صورت ہو خدايا ميری

کبھی ماں کا خواب بیان کر گئے ۔پرندے کی فریاد تو کبھی شمع اور پروانہ کی کہانی ان کے قلم سے بیان ہوتی رہی ۔انسان اور بزم قدرت کو انہوں نے اپنی تخیل فکر سے شاعری میں ڈھال دیا ۔
صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے
بزم معمورہ ہستی سے يہ پوچھا ميں نے
صبح اک گيت سراپا ہے تری سطوت کا
زير خورشيد نشاں تک بھی نہيں ظلمت کا
ميں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی ميں مگر
جل گيا پھر مری تقدير کا اختر کيونکر؟
نور سے دور ہوں ظلمت ميں گرفتار ہوں ميں
کيوں سيہ روز ، سيہ بخت ، سيہ کار ہوں ميں؟

شاعری کا یہ دور علامہ صاحب کی قدرت سے وابستگی کا نقطہ آغاز تھا ۔رخصت اے بزم جہاں ، چاند ، سرگزشتہ آدم ، نالاں ء فراق اور تصویر درد کا اظہار خوبصورت انداز میں کیا ۔اسی انسانیت کے ناطے ترانہء ہندی لکھا ۔ جو آج بھی ہندوستان کی فضاؤں میں گونجتا ہے ۔
ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا
اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔علامہ صاحب کا یہی دور ہے جب انہوں نے مخصوص روائتی شاعرانہ انداز میں غزلیات لکھیں ۔
مانا کہ تيری ديد کے قابل نہيں ہوں ميں
تو ميرا شوق ديکھ، مرا انتظار ديکھ

اس دور کی یادگار کے طور وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی
لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جستجو تلاش میں سرگرداں تھے ۔اور دل کی اصل کیفیت کی طرف رغبت بار بار جا رہی تھی۔اس لئے تو لکھتے ہیں ۔
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں
وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں
حقيقت اپنی آنکھوں پر نماياں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانہ دل کے مکينوں ميں
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقيروں کی
نہيں ملتا يہ گوہر بادشاہوں کے خزينوں ميں

شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک

ان کی شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک ہے ۔ جو انہوں نے یورپ میں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر گزارا ۔اور مغربی دنیا کو گہری مطالعاتی نظر سے کریدا ۔ اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہےاور دوسری طرف ہندوستان سیاسی و معاشرتی لحاظ سے کن راہوں پر چل رہا تھا کا مطالعہ بھی بہت ضروری ہے ۔ 1905 میں تقسیم بنگال ہوئی ۔ کانگریس اور ہندوؤں کا مخالفانہ رد عمل جس کے نتیجہ میں 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام اور مسلمانوں میں سیاسی تحفظ کے شعور کی بیداری کا دور دیکھنے میں آتا ہے ۔مسلمانوں کی تحریک میں مطالبات حقوق میں شدت اور تقاضا سے اجتناب برتا گیا ۔بلکہ مفاہمتی انداز اپنایا گیا ۔ضد کی بنیا د پر سیاسی تنظیم کی تشکیل نو نہیں کی گئی ۔اور علامہ صاحب کی شاعری کا یہ دور بھی مسلمانوں کے اندر اس تحریک کو پیدا کرنے کے لئے شدت کا اظہار نہیں کرتا ۔ لیکن وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پاتے تھے ۔ ہم کلامی میں علامہ صاحب میں رومانیت کاپہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہی وہ دور ہے جب ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوا اور ان کی شاعری میں پیغامیہ رنگ دیکھنے میں آتا ہے ۔مغربی تہذیب بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔
دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا

مغربی معاشرے پر کچھ ایسے بھی روشنی ڈالی ۔
عروس شب کی زلفيں تھيں ابھی نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکيزگی پائی
حرارت لی نفسہائے مسيح ابن مريم سے

ان کے اظہار خیال کا یہ انداز بھی نرالا ہے ۔
کہيں سامان مسرت، کہيں ساز غم ہے
کہيں گوہر ہے ، کہيں اشک ، کہيں شبنم ہے

لیکن رومانیت کے اظہار میں ان کی عشق بیان کی صفت اسی روش پرتھی جو دل کی کیفیت پر بھاری تھی ۔ پیام عشق میں یوں کلام کرتےہیں ۔
سن اے طلب گار درد پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا
ميں غزنوی سومنات دل کا ، تو سراپا اياز ہو جا
نہيں ہے وابستہ زير گردوں کمال شان سکندری سے
تمام ساماں ہے تيرے سينے ميں ، تو بھی آئينہ ساز ہو جا
غرض ہے پيکار زندگی سے کمال پائے ہلال تيرا
جہاں کا فرض قديم ہے تو ، ادا مثال نماز ہو جا

زمانہ دیکھے گا میں ان کا رنگ جدا نظر آتا ہے ۔دل کی کیفیت میں طوفان ہیں جس کی نشاندہی وہ اپنی خموشی سے کرتے ہیں ۔
زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مری خموشی نہيں ہے ، گويا مزار ہے حرف آرزو کا
کوئی دل ايسا نظر نہ آيا نہ جس ميں خوابيدہ ہو تمنا
الہی تيرا جہان کيا ہے نگار خانہ ہے آرزو کا

مغربی تہذیب کی ناپائیداری کے ادراک کے بعداقبال اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔
اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں
شمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میں
خود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں
در دستک >>

Mar 9, 2010

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

آج کل اشعار ہیں کہ رکتے ہی نہیں سیدھے سادے لکھتے لکھتے کبھی کبھار موسم کی تبدیلی سے ماحول کی نزاکت کا خیال بھاری ہونے پر نیا انداز بیان ظاہر ہو جاتا ہے ۔جو کہ میرا اپنا نہیں ہے ۔ علامہ محمداقبال قائداعظم محمد علی جناح کی طرح ہمارے بھی مرشد ہیں۔ ان کے ایک شعر کو آج کے دور پہ بٹھانے کی جسارت کی ہے۔ جس کے لئے پیشگی معذرت چاہتے ہیں ۔
علم سے زندگی چلتی ہے قناعت بھی رسم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ حضوری ہے نہ درباری ہے
یہ بھی ممکن ہے آپ کہیں کہ بات بنی نہیں ۔ لیکن آج بات اپنی نہیں کہیں گے ۔ صرف بیان تو صرف علامہ صاحب کا ہی کریں گے کہ انہوں نے کیا خوب کہا ۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
علامہ صاحب نے جس دور میں فلسفہ پڑھا اس وقت تعلیمی شعور کی تحریک کا آغاز تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے سے پیغام دیا کہ
در دستک >>

Mar 8, 2010

منزل ایک- الگ الگ قطب ستارہ

زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں ۔ عقل ، فہم اور شعور کا ادراک تقدیر سے جدا نہیں ہوتا ۔آنکھ جس منظر کو دیکھتی ہے۔ اسی کا عکس پردے پر نمودار ہوتا ہے ۔ ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں ۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں ۔مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے ۔بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں ۔شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی۔ مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے ۔کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے ۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے ۔اچھا یا برا ۔نظام کائنات سبب کی وجہ سے ہے ۔ مگر
در دستک >>

Mar 7, 2010

محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی

محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی
طولانی جب مسافت ہوتی تبھی تو پیاس ہوتی

زندگی کا سنا کر قصہء عشق مجھ کو بیمار کر دیا
ایسی بھی کیا مجبوری کیاری میں اب گھاس ہوتی
در دستک >>

Mar 3, 2010

ادب آداب سے

تحریر : محمودالحق

نام معاشرے میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد پہلا کام نام کا چناؤ ہوتا ہے ۔کہانیاں ہوں یا کتابیں ، ڈرامے ہوں یا فلم موضوع کے اعتبار سے نام رکھے جاتے ہیں ۔ ساتھ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔کہ پڑھنے والے یا دیکھنے والےٹائٹل سے کھنچے چلے آئیں ۔کبھی کبھار عنوان زندگی میں پائی جانے والی حقیقتوں سے اخذ کئے جاتے ہیں ۔ جیسے کبھی خوشی کبھی غم ۔
کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ میں نے کسی جانی پہچانی فلم کا نام لکھ دیا ہے ۔ لیکن یہاں تو بات صرف عنوان سے منسوب ہے ۔ اگر فلم کا ہی نام دینا ہوتا تو جیرا بلیڈ ، جیرا سائیں ، وحشی جٹ یا گجر سے کام چلا سکتا تھا ۔لیکن میں اپنے دئیے عنوان کی خود ہی نفی کر دیتا ۔اور ادب بے ادبی میں بدل جاتا ۔ ادب سے جن کا گہرا تعلق ہوتا ہے وہ ادیب کہلاتے ہیں ، مگر مولا جٹ فلم میں بھی ادیبوں نے اہم کردار دا کیا ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسی گنڈاسہ فلموں سے ادیبوں کا دور نزدیک کا واسطہ نہیں
در دستک >>

کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے

اُمیدِ جگنو چمک کر اپنی ہی راہ کے راہی ہوتے
فیل کوکنکریاں وار تو پرندے بھی سپاہی ہوتے

لفظ کاغذ پہ رہتے دیکھنے میں قلمِ سیاہی ہوتے
دشتِ تنہائی میں اکیلے ہم سفر ہم راہی ہوتے

موتیوں کے بیوپار میں کیوں نہ اب ماہی ہوتے
خوشیاں جینےکوکم پڑیں کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے




بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

Mar 1, 2010

پاک نیٹ - پاکیزہ جال

تحریر : محمودالحق

ایک زمانہ تھا شکاری نالوں اور خوڑوں میں کبھی مرغابیوں تو کبھی چھوٹی مچھلیوں کا شکار کرتے ۔ جن کی دسترس میں دریا ہوتے تو پھندہ وہیں لگایا جاتا ۔شکار کی اہمیت بھی کم تھی ۔ شکاری بھی کم تھے مگر شکار زیادہ تھا ۔ایک کے بعد ایک شکار ہوتا چلا گیا ۔شکاریوں میں شوق بڑھتا چلا گیا ۔نت نئے طریقے اپنائے جانے لگے ۔ کم وقت میں زیادہ کامیاب ایکشن کا رحجان تقویت پکڑتا گیا ۔ چرخی اوررسی سے ایک، ایک کی بجائے ایک سو ایک شکار اکٹھا ڈھیر کرنے کے لئے جال کا استعمال اہمیت اختیار کرتا گیا ۔
کھلے پانیوں میں بھاگ بھاگ کر بھاگتے شکار پر دھاوا بول دیا جاتا۔ کھیل کود میں مصروف تو آسانی سے قابو آ جاتے مگر نیت بھانپ جانے والے بچ جاتے ۔ ساتھ میں وہ بھی لقمہ بن جاتے
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک