Jul 31, 2010

کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا

آج خبریں سنتے ہوئے سیلاب کی تباہ کاریوں سے تباہ حال لوگوں کی حالت زار پہ افسوس سے دل بیٹھا جا رہا تھا ۔ غیر سرکاری اطلاع کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بچ جانے والے لٹے پٹے قافلوں کی صورت سیلاب کے ریلوں سے گزر گزر کر محفوظ مقامات کی طرف رواں دواں ہیں ۔ گھروں کو تالے لگا کر خدا کے سپرد کر کے گھروں سے ایک روز بھی باہر رہنے والے اب نہ جانے کب گھروں کو واپس لوٹتے ہیں ۔ ہزاروں خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے اس آفت کے ٹلنے کے انتظار میں شب و روز کیسے گزاریں گے ۔ بھوک سے نڈھال بچے ، دودھ کے لئے بلکتے ننھے معصوم اور اپنے عزیز و اقارب اور گھروں کی سائبانی سے محروم جوان اور بوڑھے یاس اور مایوسی کی تصویر بنے آنکھوں میں مستقبل کے حسین خوابوں کی بجائے مدد کے لئے ایک امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں ۔جس میں قوم اپنے اجڑے بہنوں اور بھائیوں کے لئے پہلے کی طرح بھرپور مددو تعاون کی مثال قائم کرنے کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے ۔ ایک کے بعد ایک ناگہانی آفت کی وجہ سے قوم پے در پے صدمات سے دوچار ہے۔ پختونخواہ صوبہ بری طرح سیلاب کی تباہ کاری کا شکار ہے ۔ سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان انہیں کے حصے میں آیا ہے ۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی درجنوں افراد اپنی جان سے گزر گئے ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی کے ریلوں سے پناہ کی تلاش میں گھر سے بے گھر ہیں ۔سندھ کی طرف بڑھنے والا پانی سیلاب کی تباہی کا منظر پہلے سے دکھا رہا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی اس قوم پر رحم فرمائے ۔ آمین۔
آزمائش کے ایک ایسے دور کا نقطہ آغاز ہے جس کے انجام بخیر کا کسی کو علم نہیں ۔ ائیر بلیو کے جہاز کا مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا نے کی گتھیاں بھی سلجھ نہیں پائی تھی ۔ جہاز کے پائلٹ نے نو فلائی زون میں کیوں اڑان بھری ۔ طرح طرح کی قیاس ارائیاں جنم لے رہی ہیں ۔ تبصروں اور تجزیوں نے ایک نئے موضوع پر اظہار رائے کا دروازہ کھولا ہوا تھا ۔ سیلاب کی تباہ کاری سے اس پر پانی پھر گیا ۔ابھی تو وہ چہرے جو اس حادثے میں جاں بحق ہوئے نہیں بھول پائے تھے کہ اس نئی آفت کی وجہ سےجاں بحق اور مصائب کے شکار عوام کے حالات کا سن سن کر تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
ابھی یہ منظر میری آنکھوں سے نہیں ہٹے تھے کہ صدر صاحب کے دورہ برطانیہ کی خبر نے بجلی گرنے کا کام کیا ۔جس میں لندن سے برمنگھم پارٹی اجلاس میں جانے کے لئے پانچ ہزار پاؤنڈ کے فضائی اخراجات کا تخمینہ کے علاوہ سینکڑوں کارکنوں کو اجلاس میں لانے کے لئے پندرہ سو پاؤنڈ روزانہ کے کرایہ پر بسیں ہائیر کی گئی ہیں ۔ ہزاروں پاؤنڈ روزانہ ہوٹل کے کرائے اور ایک لمبی اور بڑی گاڑیوں کا کارواں اس کے علاوہ اخراجات کے متقاضی ہیں ۔پارٹی اجلاسوں کا اہتمام اور انتظام سرکاری خرچ پہ ہونا ۔ بے حسی کی اس سے بڑی مثال قائم کرنے میں شائد صرف ہمارے حکمرانوں کا ہی شیوہ ہے ۔ یقینا کوئی دوسری قوم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ہماری بد قسمتی ہے کہ نظام شاہی دور کی یاد تازہ کرنے کی تاریخ کے اہم عوامی کردار ہوں گے ۔
بھاری بھر کم ایمان افروز حکمران غاصبانہ قبضہ کی ظلم و ستم کی روایت کو بے حسی سے کمتر ثابت کرنے میں کامیاب ضرور ہوں گے ۔ ابھی تک تو زلزلہ زدگان ملنے والی پوری امداد کے انتظار کی کوفت سے ناامید ہو چکے ہیں ۔اربوں کھربوں بھی چند ہزار خاندنوں کی کفالت کی امید بر نہیں لاتا ۔
لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر اثر پزیری کے اثرات سے بالکل خالی رہے گی ۔جو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح روزانہ اپناہی منہ چڑاتا ہے ۔ ان حالات میں تفریح طبع کا سامان روز کیسے پیدا کروں ۔
دردستک سے اقتباس:۔
کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا
کہ تیرا سبب تجھی کو ہے میں لوٹاتا
غصہ تیرا طوفان تو نفرت تیری آندھی
میرا ہے جو اپنا مجھ ہی پر اس کو آزماتا
تجھ پر کروں رحم تو اپنے پہ ظلم
غبار آنسوؤں کو تو ہمیشہ میرے ترستا

در دستک >>

Jul 30, 2010

کیا ہم شرمندہ ہیں

ہم شرمندہ بالکل نہیں ہیں کہ قائد نے ہمیں آزاد وطن دیا ۔جہاں ہم آئندہ نئی نسلوں کو بھی ایسی سرزمین کا تحفہ دیں جو انہیں عزت ، احترام اور وقار دے سکیں۔دنیا کے نقشے پہ ابھرنے والا یہ ملک پاکستان کی بنیاد نظریاتی اساس پہ رکھی گئی تھی ۔صرف اتنا نہیں کافی کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی، معاشی ، تمدنی آزادی بھی درکار تھی ۔جو صرف اسی صورت ممکن تھی ۔کہ ہم بحیثیت مسلمان قوم کے ایک الگ خطے میں اپنی زندگی کا آغاز کریں ۔ اس قوم کوزندہ رہنے کے لئے صرف اناج پیداکرنے کا نہیں کہا گیا ۔ بلکہ تمام خوبیوں کو پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ جو کہ عوام کی بنیادی ضروریات سے ہم آہنگی رکھتی ہوں ۔
وطن کی آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔غاصبانہ قبضے سےچھٹکارا حاصل کرنا ۔ ہندؤانہ ذہنیت کی حکمرانی سے چھٹکارا پانا یا پھر انگریز راج کے جھنڈے کے نیچے سےنکل کر الگ وطن حاصل کرنا ۔ نہ کہ چند اسلامی شعائر اپنا نےکے سوا ہر بری عادت کو اپنانا ضروری سمجھا جائے ۔آزادی سے مراد کیا زمین کے ایک ٹکڑے پہ اس لائن آف کنٹرول کو آزادی کی نعمت سے منسوب کیا جائے ۔ یقینا آزادی سے مراد سرحدوں کے تحفظ تک نہیں لئے جاتے ۔ بنیادی طور پر فکری اساس اور نظریاتی اقدار کے لئے آزادی درکار ہوتی ہے ۔ فوج سرحدوں پر متعین کر دینے سے آزادی کا ایک ہی جز پورا ہوتا ہے ۔ لیکن مکمل مفہوم اس سے مراد نہیں لیا جا سکتا ۔
دشمن کی توجرآت نہیں کہ وہ ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔مگر پورا معاشرہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے اپنے ہی گھروں میں مقفل ہے ۔ سرحدوں پر توآمدورفت کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے باڑیں لگا دی جاتی ہیں ۔لیکن آج ہمارے اپنے گھر اونچی اونچی دیواروں اور لوہے کے جنگلے میں گھرے نظر آتے ہیں ۔جو ہماری آزادی کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ان تریسٹھ سالوں میں پردے کی ایک باریک تہہ سے ترقی کرتے کرتے ہم بڑے بڑے قلعہ نما لوہا کے دروازوں کے اندر نظر بند ہیں ۔ چند ہزار فوجی سرحدوں کے دروازوں پر اٹھارہ کروڑ عوام کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لئے چاک و چوبند کھڑے ہیں ۔اور دوسری طرف آٹھارہ کروڑ عوام اپنے ہی منتخب چند ہزار نمائندوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔جو انہیں معاشی معاشرتی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہے ۔ جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی احسن طریقہ سے نہ نبھا سکے ۔جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کی بجائے سرپرستی نے قوم کو تنہائیوں کا شکار کر دیا ۔
اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے ارد گرد کا بخوبی جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ جیسا کسی کے گھر میں نقب لگانے کی تیاری ہو ۔قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کی ٹرم اتنی مقبول ہو چکی ہیں ۔ کہ اس کو اختیار کرنے والے نمائندگی کا استحقاق رکھ لیتے ہیں ۔چوری ڈکیتی میں اضافہ ، عورتوں پہ مظالم اور نا انصافی نے پورے معاشرے کو ایسے گھیرا ہوا ہے کہ وہ جونک کی طرح فکر و روح کو کمزور کر رہی ہے ۔
اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا گیا تھا ۔ صرف اتنا باور کرانا کافی نہیں ہو گا ۔ خلفاءراشدین کے بعد دورحکمرانی میں اسلامی ریاستیں مکمل اسلام کا نمونہ پیش نہیں کرتی رہیں ۔ جس معاشرے میں مذہبی فرقہ بندی کے نام پر خون بہایا جاتا رہا ہو ۔وہاں پہلے ضرورت تو ہے اس بات کی کہ اس معاشرے کے افراد میں ہم آہنگی ہو ، یگانگت ہو، بھائی چارہ ہو ، برداشت ہو ۔
اللہ ، محمدﷺ اور قرآن پر کوئی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ جو جسے پسند نہیں اس کا اچھا عمل بھی پسند نہیں رہ جاتا ۔ زوال پزیر ممالک یا زوال پزیر معاشرہ کبھی نہیں سنا ۔ صرف قوموں کو زوال آتا ہے ۔ اقوام اس کا شکار ہوتی ہیں ۔ سلطنت عثمانیہ کو زوال آیا تو کئی نئے آزادممالک بن گئے۔وہ ممالک آج بھی دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں مگر وہ نظریہ و فکر ختم ہو گیا ۔ نظریہ اور فکر سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ مگر سرحدیں بندشوں کی پابند ہوتی ہیں ۔ نظریہ اور فکر کو پنپنے کے لئے کسی اختیار و اقتدار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
دنیا میں آنے والے بیشتر انقلابات کسی کو ویلکم اور کسی کو گڈ بائی کہنے کی بنیاد پہ تھے ۔ منجمد سرحدیں ویلکم اور گڈ بائی کے اثرات سے محفوظ ہوتی ہیں ۔ جس معاشرے میں نظریہ، ضرورت کی بنیاد پرعدل وانصاف کے ایوانوں میں گونجنے لگے۔ تو وہاں اس معاشرے کے نہ تو گھر بار محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی مزار و بازار ۔تیس پاروں پر مشتمل محمد ﷺ پرنازل اللہ کی کتاب قرآن پاک ہمیں روحانی و فکری اساس فراہم کرتا ہے ۔
فکری اساس کے ساتھ ساتھ یتیموں اور بیواؤں کی دست گیری کا بھی حکم واضح ہے ۔جو ہمارے ہی معاشرے میں ناگہانی اور اتفاقی اموات کی بجائے حادثاتی اموات یتیموں اور بیواؤں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنتی جا رہی ہیں ۔ جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ امانت صداقت دیانت شرافت پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ جس پہ ہم کبھی بھی عمل پیرا نہیں ہوئے ۔ آپﷺکا اسوہ ءحسنہ ہمیں ایک ایسا راستہ دیکھاتا ہے ۔ وہ راستہ جو قرآن کی منزل بتاتا ہے ۔
جہاں ہم رہتے ہیں صرف نا پسندیدہ اشیاء ہی کو حرام جانا جاتا ہے ۔ رنجشیں ، عناد ، بغض ، کینہ ، غیبت اور ایسی بے شمار خرافات ہمارے معاشرے میں اکاس بیل کی طرح پھیل چکی ہیں ۔ کہ ختم ہونے میں زندگی کا ایک حصہ درکار ہے ۔ آزادی کی خوشی ٹی وی پر ترانے چلانے ، موٹر سائیکل بھگانے اور جھنڈیاں لگانے سے نہیں حاصل ہو پاتی ۔آزادی کی خوشی تو تب ہو گی جب گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں ۔ اور بے فکر ہو کر سو سکیں ۔ دروازوں پر دستک دینے سے صرف کسی مہمان کا ہی خیال ذہن میں ابھرے ۔ کسی چور ڈاکو کا نہیں ۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور چودہ اگست بھی ۔ پھل کھجوریں دودھ اور ہر وہ شے جو سحر و افطار میں خوشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اتنی سستی ہوں ۔کہ غریب آدمی ماہ صیام میں عبادت میں صرف رحمتیں سمیٹنے کی فکر میں مبتلا ہو ۔نہ کہ مہنگائی کی پریشانی میں ۔
دوسری طرف رمضان کے مزے گراں فروش لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ اور چودہ اگست کا دن ضمیر فروش سرکاری سطح پرمنانے کے بگل بجائیں گے ۔ سبزی پھلوں سے لیکر کپڑے جوتوں تک پورے سال کی کسر ایک ماہ میں منافع سے نکالے جانے کی بھرپور تیاریاں زوروں پر ہوں گی ۔عوام عبادت اور رحمتوں کا ماہ سمیٹنے میں گزاریں گے ۔ اور گراں فروش و ذخیرہ اندوز منافع سمیٹنے میں ۔جشن دوبالا کرنے کے لئے چودہ اگست کو گھروں پر بڑے جھنڈے بھی لگائیں گے اور پورا گھر جھنڈیوں سے سجائیں گے اور ڈیک پر اونچی آواز میں یہ گانا بجائیں گے ۔
یہ وطن ہمارا ہے ۔اسے ہم نے سنوارا ہے
اس کا ہر اک زرہ ہمیں جان سے پیارا ہے
بینک عوام کی جمع شدہ رقوم سے غریبوں ناداروں کی مدد کے واسطے زکواۃ کی کٹوتی کریں گے ۔جسے پہلے کی طرح حکمران اپنی عیاشیوں پر لٹائیں گے ۔ جیسا اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔جہاز بھر بھر عمرہ کی ادائیگی سرکاری سطح پر کی جاتی رہی ۔ اور اب پھر وہی وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔پہلا لوٹا مال ہضم کر چکے ۔ پہلے گناہ بخشوا چکے ۔ حکومت اور حکمران تو ایک طرف زکواۃ کمیٹیاں جو رقم کا حال کرتی ہیں ۔ وہ بھی ایک الگ داستان ہے ۔کمیٹیاں بننے میں عوام خاص کر دیہی علاقوں میں جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے ۔ سیاسی کشیدگی وہاں بھی نظر آتی ہے ۔ کمیٹیاں بنانے کے مراحل سے میں خود گزر چکا ہوں ۔کیسی کیسی سفارشیں اور اثرو رسوخ استعمال کیا جاتا ہے ۔
ایک طرف لاہور کے مضافاتی علاقہ میں زکواۃ کمیٹیوں میں من پسند افراد کے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا عمل ہو رہا ہو ۔ اور دوسری طرف لاہور شہر میں دن دیہاڑے گھر کے باہر امریکہ پلٹ باپ بیٹی پر پستول تانے دو نوجوان زبردستی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے ۔ دلیر لڑکی نےپاسپورٹ سمیت سفری دستاویزات کے ساتھ منی چینجر سے تبدیل کرائی گئی رقم کا بیگ اپنے کندھے سے نہیں اترنے دیا ۔ لوگ گھروں سے باہر نکل کر لڑکی کی بہادری پر عش عش کر رہے تھے ۔ جو سڑک پر گھسٹی رہی مگر بیگ نہ دیا لٹیروں کو ۔ جو آخر کار نامراد بھاگ کھڑے ہوئے ۔مگر جاتے جاتے ہمارے لئے ایک سوال کھڑا کر گئے کہ ایک غیر مسلم ملک میں نوجون لڑکی آدھی رات کو بھی گھر کے راستے میں اندھیری گلیوںمیں غیر محفوظ نہیں ۔ تو اپنے ہی وطن اسلام میں دن دیہاڈے بے شمار لوگوں کے سامنے جس بے دردی سے پستول کی نوک پہ اسے گھسیٹا گیا ہو ۔ اور اس کا مداوا صرف اس بات سے کر نے کی کوشش ہو کہ شکر کریں جان بچ گئی ۔
تو کیا آزادی کا مطلب صرف جان بچنا لیا جائے گا ۔ اگر آج مائیں بچوں کو اللہ کے سپرد کر کے گھروں سے باہر بھیجتی ہیں ۔ تو پھر اس کے کیا مراد لیا جائے گا ۔
عیسائی ریاستیں اپنے ممالک میں مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پہ سال کی سب سے بڑی سیل لگاتی ہیں ۔ تاکہ زیادہ سیل ہو ۔ ہوتا بھی یوں ہے کہ عوام ایک دوسرے کے لئے تحائف کی خریداری کرتے ہیں ۔ اچھی اشیاء انہیں سستے داموں میسر آتی ہیں ۔ اور ایک ہم ہیں مذہبی تہواروں پر ہر شے مہنگی کر دی جاتی ہے ۔
گائے، اونٹ ، بکرے کی خرید ہو ۔ قصائی کا ریٹ ہو ۔ یا بچوں کے نئے کپڑوں کی فرمائش ہو ۔
ان ممالک نے صدیاں پہلے جو آزادی حاصل کی تھی ۔وہ آج بھی اسی مزے میں ہیں ۔صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے گھر قلعوں کی مانند اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے چھپے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ بڑے بڑے جنگلے اور لوہے کے دروازےکسی قید خانے کا منظر پیش نہیں کرتے ۔ گھر کی چار دیواری نام کو نہیں ۔ کمزور اور کانچ کی بنی کھڑکیاں انہیں وہ تحفظ احساس دلاتی ہیں ۔ جو ہمیں کنالوں میں پھیلی محل نما گھروں کے چاروں اطراف اونچی اونچی دیواریں ایک عدد چوکیدار کے باوجود عدم تحفظ کا احساس دلاتی ہیں ۔
سرحدوں کی حفاظت ملک کو غلامی سے بچانے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ سرحدیں قوم کو غلامی سے بچانے کے لئے مضبوط کی جاتی ہیں ۔ملک کبھی غلام نہیں ہوتا ، قومیں غلامی میں جاتی ہیں ۔وطن کی سالمیت کا نام لے لے کر جس آزادی کھونے کے خطرے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے ۔ وہ سرحدوں کی وجہ سے نہیں جائے گی ۔ بلکہ وہ قوم کے باہمی اختلاف ، عناد اور تقسیم پر منتج ہوتی ہے ۔
مجھے تلاش ہے اس کی جس کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے ۔ کیا وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھا یا علامہ اقبال ، مولانا مودودی تھا یا ڈاکٹر اسرار احمد ،مولانا احتشام الحق تھانوی تھا یا ڈاکٹر طاہرالقادری۔ آخر کو کوئی تو ذمہ دار ہے ۔
ہمارا یہی ماننا ہے ۔کیونکہ ہم سبھی ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں ۔
آئیں سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔جس نے آزادی ملنے کے باوجود آزادی ملنے کی خوشی کو زیادہ عرصہ تک خوشی میں نہیں رہنے دیا ۔
در دستک >>

Jul 29, 2010

مست مستی مستان

راز پانے سے تو زندگی ضیا ہو گئی
آنکھیں رہیں کھلی تو موت فناہوگئی
سوچتاہوں کہ آج وہ لکھ ہی دوں جو کبھی کہہ نہیں پایا ۔میں اندھیروں سے محبت کرتا رہا اور روشنیاں مجھےجلاتی رہیں ۔صبر سے تھی جن کی گزر بسر محال۔میرے ہاتھوں ہی کو چوم کر زہر لگا دیا ۔ نوالہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
کراہنا مجھے درد سے تھا ۔ مسکرانا مجھے ان کو آہ ہو گیا ۔دل سے جو پڑھ لے زندگی کی کتاب کو۔ٹپکتا آنسو ایک بھی موتیوں کا خزانہ ہو گیا ۔جگر گر نہ تھاما ہوتا قلب آب پہ بھی دھڑکتا ہوتا۔ کسی ایک انسان کی یہ نہیں کہانی ۔ ہابیل قابیل سے ہے چلی یہ نفرت زمانی ۔پرندے سے ہے تعبیر داستان اُڑانِ پری ۔خواہشوں کے پنکھ پہ ہے یہ معلق ہواؤں میں ۔ داستان مجاہد میں ہے ٹوٹتی تلواریں روز۔ نظر کے سامنے ہوتا کنارہ۔ ڈوبتی کشتی سے پاؤں پھر بھی اترتا نہیں ۔جھاڑیوں سے پانی کے ریلے گزرنے سے رکتے نہیں ۔سخت زمین سے ہے جو سینچتے ۔ پانی کے کٹاؤ سے وہی ہیں بچتے ۔
اگر مشکل ہو تو اگے لطیفہ میں ہی کچھ بیان کروں ۔
خواب میں جو دیکھیں خوبرو حسینہ شانوں پہ اپنے زلفیں پھیلائےگنگنائے ۔ پیار کی باتیں ہوں عشق کی پینگیں بڑھائے ۔صبح اُٹھنا ہو محال۔ بیگم ہو وہی مگر ہاتھ میں نہ آج اس کے وہ مزا آئے ۔بات بات پہ جو بگڑے ۔
بار بار آئینہ سے وہ پوچھے ۔ پھر زیر لب مسکرائی ۔ سمجھ تو گئی وہ کہ اصل ماجرا ہے کیا ۔ سالوں کی خدمت کا صلہ ایک رات کی مستی میں چکا دیا ۔
خوبرو حسینہ ایک رات آئی اس کے خواب میں بھی ۔نہ زلف دراز، نہ چہرہ کھلتا گلاب ۔بولی تیرا آئینہ دیکھاتا تجھے تیرا عکس ۔ شوہر ہو تجھے کسی دیوتا کی پرستش ۔ یہ دیوتا تو رکھتا ہے ہر پجارن پہ نظر ۔مالا پہنانے سے تو ہے اسے یہ فتور چڑھا ۔چاہتا ہے یہ ہر دم پوجا کرتی داسی تو ناچتی ہوئی پجارن ۔
آنکھ کھلی تو بیگم نے پالیا وہ راز۔ آئے روز رکھتا ہے یہ کیوں چہرے پہ ملال ۔ ایک سال سے جو رکھا سنبھال۔ دن ایک میں کر دیا اس نے رخسار لال۔
پھر نہ آئی خواب میں اس کے وہی خوبرو دوشیزہ ۔جب جب بڑھتی گئی لالی تب تب جیب ہوتی گئی خالی ۔ بیگم کا تو ہے اب خوش حال ۔لیکن خواب میں ہی ہوتا ہے شوہر اب خوش بہت ۔ جب کہتے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے ہی کمیٹی اپنی کی تو پرچی نکال ۔
در دستک >>

Jul 28, 2010

حد ہو گئی

بلا سوچے سمجھے لکھنا فنکاری تو ہے مگر فن تحریر نہیں کہلا سکتا ۔ آج وہی کرنے جا رہا ہوں یعنی فنکاری ۔ ہر حد کو پھلانگنے کی آرزو ہے ۔آم اور امرودتوڑنے کے لئے تو دیواریں پھلانگتے رہے بچپن میں ۔ آج وہ کرنے جا رہے ہیں جسے دیکھ کر اہل علم کہیں گے کہ" حد ہو گئی یار "اگر بلاگ بنا ہی لیا ہے تو پیچھے بچا کیا ہے ۔
کیا اب شاعروں اور ادیبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جو بے چارے حد سے گزرے ہوئے تھے ۔ اہل دانش اگر یہ کہیں وہ حد سے گرے ہوئے تھے ۔ تو پھرکھری کھری سننے سے کیسے بچیں گے ۔سنائیں کیوں نہ ساغر صدیقی مرحوم کو بھرے ہوئے سگریٹ پلا کر شاعری پر ہاتھ صاف کرنے والے مشاعروں میں واہ واہ کے ترانوں سے دم مست قلندر کرتے رہے ۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔ شعر کو تول کر وزن بتا دیتے تھے ۔کہ کس کے ترازو سے نکلا ہے ۔
کہیں یہ تو نہیں سمجھا جا رہا ۔ کسی مشاعرے میں نہ بلانے کے غصے میں غبار نکال رہے ہیں ۔ایسا سوچئے گا بھی نہیں کیوں کہ میں ہفتہ میں ساتوں دن شیو بناتا ہوں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں بہت خوش رہتا ہوں۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ غمگین رہنے والے ہمیشہ برا لکھتے ہیں اور خوش رہنے والے اچھا ۔
اچھا اور برا تو مقدر سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اگر گالی دینے سے تھپڑ کھائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر منہ میں بڑبڑاناہی دوسرے کو ناگوار گزرے۔ تو حد سے گزرنے میں کیا حرج ہے ۔ کوئی شاعر تو اس حد تک جا سکتا ہے کہ " کتنے شیریں ہیں تیرے لب – گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہوئے"۔
مگرہمیں کہاں تک جانا ہو گا ۔ایسا کام ہی نہ کرو کہ چھیڑنے میں مزہ رہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کسی مہربان نے ایسا چھیڑا کہ اپنی صفائی دیتے دیتے منہ خشک اور کڑوا ایسا ہوا ۔ کہ کھانے میں سالن کی بجائے کھیر بھر بھر کر چپاتی کے نوالے بناتا رہا۔ مگر کیا کہنے چھیڑنے والے کے جو دوسروں کو دیکھ دیکھ کر ایک آنکھ بار بار بند کرتے ہوئے مشکڑیاں مار رہے تھے ۔اور اپنا لہو تھا کہ ابل ابل جا رہا تھا ۔چار گلاس پانی پینے سے لہو ٹھنڈا کیا ۔
بات انہوں نے اس جملے سے ختم کی کہ سناؤ آج کل کیا لکھا جارہا ہے ۔جھنجھلا کر جواب دیا کہ اب ایس لکھوں گا ۔قاری پڑھ پڑھ کر بھر بھر دل کا بوجھ ہلکا کرے ۔اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈتا رہے پوری اکیسویں صدی ۔
جی ہاں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے بدلہ لینے کی ۔حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھا ہے ۔خود ہی انصاف کرے گا ۔ کیونکہ اب انصاف عدالتوں میں بھی نہیں تو پنچائت بلا کر بھی نا انصافی کا رونا رہے گا ۔
لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ میں نے چھوڑ دیا ۔ تو بلاگ کی دنیا چھوٹ سکتی ہے مگر " ہت تیری کی " کی نہیں ۔یہ تو اکثر پوچھتے ہیں کہ لکھنے کا خیال کیسے آیا ۔بلاگستان کا ممبر ہونے کا یہ اعزاز تو ملا کہ جناب بچپن سے شوق رکھتے ہیں اور جو بچپن سے جانتے ہیں ۔ ان کے لئے اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ بچپن سے پک رہا تھا ۔ اب جا کر کہیں دم دینے کے قابل ہوا ہے ۔بھلا یہ بھی کوئی بریانی کی دیگ ہے جو اب دم پخت ہوئی ہے ۔
دیرآید درست آید کو سچ ثابت کرنے کے لئے حد پھلانگنے کی کوششٰں میں ہیں ۔اپنا ڈومین پانے کی دوڑ میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ۔ورڈ پریس پہ بلاگ سپاٹ کا سارا مواد منتقل ہو چکا ، تھیم سلیکٹ ہو گیا ۔
بلا عنوان سے ہی سائیٹ بنانے کا عنوان مل گیا ۔لیکن ابھی خوشی کی خبر سے کافی دور ہیں ۔نام تو پہلےہی سوچ رکھا ہے ۔بدنام بعد میں ہو گا ۔
کھانے کی ہوش نہیں رہی ۔ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے پرانے درد نکل نکل کر چئیر سے چپک جاتے ہیں ۔ایک کے بعد ایک مسئلہ مشکڑیاں مار رہا ہے ۔ بلاگ تین چار بار حادثے کا شکار ہونے سے بچا ہے ۔ اب لہو کے ابال کو آٹھ دس گلاس پانی سے ٹھنڈک پہنچائیں گے ۔
کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے واسطے کچھ کھونا بھی ہوتا ہے ۔اپنا ڈومین پانے کے لئے بلاگ کے اثاثہ جات سے ہاتھ دھونا گھاٹے کا سودا رہے گا ۔ کیونکہ قاری کو پرانی تحریریں ایک ایک کر کے پھر سے پڑھنی پڑیں گی ۔
بلاگستان میں ایک ٹرم بہت مقبول ہے کہ ٹریفک بڑھانے کے نسخہ جات کا استعمال کیسے کیا جائے ۔
حالانکہ حکومت عرصہ دراز سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے کبھی کم بچے خوشحال گھرانہ اور کبھی بچے دو ہی اچھے کو زندگی کی بیمہ پالیسی کے اشتہار سے ترغیب دلانے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہے ۔
مگر دعا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھنے سے رک جائے مگر بلاگستان کی ٹریفک بڑھتی جائے ۔
در دستک >>

Jul 23, 2010

ہم سب آزاد ہیں

آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔کسی بیرونی طاقت کے تسلط سے چھٹکارا پانا۔ یا اپنے فیصلے خود سے کرنا ۔آزادی کی تحریکوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ جب بھی کبھی کسی بیرونی آقا نے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تو اس کے رد عمل میں تحریک قائدین نے اپنا کردار ادا کیا ۔
سرسید احمد خان کوئی حریت پسند نہیں تھے ۔مگر حمیت پسندی نےانہیں سوچنے پر مجبور کیا ۔جس نے زوال پزیر مسلمان قوم کو دوبارہ علم کی روشنی سے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے میں مدد دی ۔ حالانکہ کم تعلیم یافتہ دور میں بھی ان قائدین نے اپنے مضامین کے زریعے اخبارات میں چھپنے سے لے کر ایوان اقتدار کے ایوانوں تک اپنی آواز پہنچائی۔رسالہ جات اور اخبارات قوم کی نمائندگی کرتے ۔گو کہ پڑھنے والوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی مگر مواد پھر بھی میعاری ہوتا تھا ۔

انگریز بہادر کی چھتری تلے کام کرنے والے بھی بہت ہوں گے مگر تاریخ انہیں آج فراموش کر چکی ہے ۔اور ان کا ذکر کرنا بھی مناسب خیال نہیں کیا جاتا ۔تحریک آزادی کی روح رواں ایسی قیادت آزادی حاصل کرنے کے بعد گمنامی میں کیوں چلی جاتی ہے ۔
پاکستان میں آزادی کی تحریک کے روح رواں جو لوگ تھے ۔ پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے نام نہ لئے جائیں ۔جنہوں نے اپنے اپنے تئیں قوم کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ سر سید احمد خان سے لے کر قائد اعظم محمد علی جناح تک بے شمار قائدین اس تحریک سے وابستہ ہوئے۔اور اپنے اپنے انداز میں قوم کی رہنمائی کی اور انہیں ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔جس میں پرنٹ میڈیا سے بھی قائدین شامل تھے ۔
آزادی پانے کے بعد فرینڈز ناٹ ماسٹرجیسی سوانح عمری لکھنے والے،قائدین بن کر ملک و قوم کی باگ ڈور ا پنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔مرض کی تشخیص کرتے کرتے جب طبیب خود مسیحائی پر اتر آتے ہیں ۔ پھر وہیں سے کوئی نیا خواب جگا دیتا ہے ۔اور آزادی کی امنگ تقریروں سے بڑھکا دیتا ہے ۔آقا بننے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کر لیتا ہے جو اس کے پیش روؤں کا شیوہ رہا ۔
قوم کو نئی راہ دیکھائی جاتی ہے ۔ قرآن و حدیث کا علم بلند کر کے پھر ایک نئی تحریک میں ڈھالا جاتا ہے ۔اور چند سال تک اسلام کا نام لے کر اپنا الو سیدھا تو قوم کو الٹا لٹکا دیا جاتا ہے ۔اپنے کئے کا اپنے ہی ہاتھوں انجام پانے کے بعدقوم کو پھر ایک نیا آزادی کا متوالا ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہے ۔چاہے وہ شریف ہو یا بدمعاش اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس کے بعد آزادی پانے کا ڈھنگ بالکل ہی نرالا ہے ۔ کیونکہ نہ ہی چند ماہ سے زیادہ تحریک چلتی ہے اور نہ ہی حکومت ۔
ہوا کے گھوڑے پر بیٹھ کو امیرالمومنین جب مشرف بہ اسلام نہیں ہو پاتے ۔ تو پھر ایک نیا ڈرامہ شروع ہوتا ہے ۔جو چند سال ادل بدل سے پرانی فائلوں کو ہی کنگھالتا رہتا ہے ۔
ریشمی رومال کی تحریک کا چاہے جتنا بھی نام ہو ۔ کالے کوٹ سے بڑھی تحریک نہیں کہلا پائے گی۔ کالے کوٹ کی تحریک میں آزادی کا نعرہ بہت اہمیت حاصل کر گیا تھا ۔پھر وہی کالا کوٹ آزادی پانے کے بعد پہلے زینہ پر ہی دست وگریبان ہو کر پھٹتا ہوا نظر آتا ہے ۔تنازعات سے بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ بعض تو خود ہی متنازعہ ہو گئے ۔
پھر رنگین ٹی وی اور کالے صفحات بھی آزادی کی جنگ میں شرکت کرتے کرتے بے حال ہو گئے ۔ آزادی کے تحفظ کا دعویدار میڈیا بھی سراسیمگی پھیلانے میں آگے بڑھتا چلا گیا ۔ تاکہ پہلی خبر یا افواہ کا سہرا انہی کے سر رہے ۔ ہر گلی محلے کی نکڑ پر ویڈیو شاپ کی طرح قصبوں اور شہروں میں جگہ جگہ ایک عدد کیمرے کے ساتھ نمائندہ ہر اچھی بری خبر کی کوریج میں سرگرم عمل نظر آتا ہے ۔آج عدلیہ آزاد ہے ، میڈیا آزاد ہے ، حاکم بھی آزاد ہے ، حکومت بھی آزاد ہے ۔تو پھر یہ قوم ہی بیچاری قیدی کیوں ہے ۔
چودہ اگست1947 کو ملک و قوم نے جو آزادی حاصل کی تھی۔اس کے بعد سے 2010 تک ایک کے بعد ایک ادارہ اور شعبہ آزادی مانگتا چلا گیا اور اس کے لئے تحریکیں بھی چلائی گئیں ۔جس قوم کی آزادی اس کی بنیادی ضرورتوں میں پنہاں ہے۔ اب انہیں دلانے والا کوئی سرسید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر ، علامہ اقبال یا محمد علی جناح جیسا بے لوث رہنما موجود نہیں ہے ۔جو انہیں شعوری فکری روحانی آزادی کے بعد معاشی معاشرتی اور تمدنی آزادی دلا سکے ۔
جس معاشرہ میں کرایہ داری نظام اتنا مضبوط ہو کہ مالک مکان کو سامان سمیت کرایہ دار سڑک پر پھینکنا پڑے ۔تو پھر کرایہ دار کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ مالک مکان آخر کب تک اپنی ملکیت سے ہاتھ دھونے کی فکر میں مبتلا رہے گا ۔ کہیں مالک مکان اپنی ملکیتی جائداد کو بچانے کے لئے اُٹھ کھڑے نہ ہوں۔اور سامان سمیت کرایہ دار کو نکال کر گھر سے باہر پھینک دیں ۔
زبان کی آزادی تو کب کی مل گئی ۔مگر پیٹ کی آزادی میں مبتلا یہ قوم پھر کسی مسیحا ءکے انتظار میں ہے ۔روح کی آزادی قائداعظم نے دلا دی۔ اب انہیں فکر معاش سے آزادی کے لئے کسی طبیب کی مسیحائی کی ضرورت ہے ۔

.٭.
دین کی دنیا میں فقط مسلمانی رہ گئی
نفرت کو بسائے صرف رشتہ داری رہ گئی

غلامی طوقِ گردن سے زنجیرِ پا ہو گئی
ملک آزاد ہو گیا قوم قیدی رہ گئی

جن سے تھا چھٹکارا پانا مقصود
اندازِ حکمرانی گورا تو چمڑی کالی رہ گئی

امانت دیانت صداقت کا پڑھا سبق
روحِ قائد نہ رہی باقی بے قاعدگی رہ گئی

تحریر و اشعار : محمودالحق
در دستک >>

Jul 22, 2010

شوکن میلے دی

نام سے چونکیں نہیں کہ یہ کس موضوع پر اظہار خیال کا انداز فکر ہے ۔ ویسے ہی سنجیدہ موضوعات سے ہٹ کر کچھ نیا لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ۔ سوچتے ہوں گے کہ چاہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے ۔مگر یہ کیسی چاہ ہے ۔ جو گزرے وقتوں کی اکلوتی تفریح کے شوق کی تشہیری تحریر کا مقام پانے کی آرزو رکھتی ہے ۔
اکثر دیہات کے قریب ایک ایسا مقام ضرور پایا جاتا ہے ۔جسے ٹبہ یعنی اونچی جگہ سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ جہاں خاص طور پر گندم کی کٹائی کے موسم میں میلوں کے انعقاد ہوتے ۔میلے میں شرکت کرنے والے شوقین افراد کی تعداد کا تعلق بزرگ کے عقیدت مندوں کی مالی حیثیت سے ہوتا ۔جہاں لنگر خانوں سے لیکر جھولوں اور سٹالوں پر ایک خطیر رقم خرچ کی جاتی تھی۔

مر و خواتین کے پاس وقت کی قلت ہمیشہ رہتی ۔ بیلوں کی جوڑی سے زمین پر ہل اور سہاگہ چلایا جاتا ۔ ایک ایکڑ کا مالک کاشکار بھی سارا سال فیکٹری کی طرح زمین پر کھیتی باڑی میں مصروف رہتا ۔
خواتین بھینسوں کو چارہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ دودھ سے دہی مکھن کو محنت سے بناتیں ۔ روزانہ چنگیر پر روٹی سجانے کے لئے ضرورت کے مطابق گیہوں کو چکی میں پیسا جاتا ۔اور بجھتی آگ کو پھونکنی کی ہوا سے بڑھکایا جاتا ۔دودھ ہلکی آنچ پر اگلی صبح تک طاقت و توانائی کے لوازمات برقرار رکھتا ۔ نیند سے جاگنے کے لئے سورج کی پہلی کرن کا انتظار نہیں ہوتا تھا ۔
زندگی اتنی سادہ تھی ۔کہ شادی بیاہ کی رسومات ہی خوشی کا محور تھے ۔آٹھ دن پہلے ہی شادی والے گھر ڈیرے ڈال دئے جاتے ۔نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے یہی مستی کرنے کے دن ہوتے ۔ہر گھرانہ کے لئے دس بارہ بچے ہونے کے باوجود خوشی کے یہ لمحات پوری زندگی کے لئے کافی نہ تھے ۔مختلف تواریخ میں میلوں کے انعقاد سے اس کمی کو پورا کیا جاتا تھا ۔جس میں ہر عمر کے افراد شرکت کرتے ۔تفریح طبع کے ہاتھ آئے موقع سے خوب لطف اُٹھاتے تھے ۔اور خواتین اپنی ضرورت کے تحت میک اپ کے سامان میں پاؤڈر کریم کے سٹالوں پر زیادہ پائی جاتیں ۔
ایک اتنی سستی تفریح اتنی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے ۔کہ آج بھی کسی مردو زن میں تمیز کئے بغیر پھبتی کسنے کے لئے یہی فقرہ چست کیا جاتا ہے ۔"شوکن میلے دی"(میلہ کی شوقین ) یا "پھر پلے نیں دھیلا کردی میلہ میلہ" ( جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں میلہ میں جانے کی ضد)۔
میلوں میں اکثر بچوں کے کھو جانے کی کہانیاں فلموں کا موضوع بنی ۔ جو اختتام پر بازو پر کندہ نام سے بچھڑے ہوئے ملائے جاتے ۔ شائد اسی خوف سےاس زمانے کے اکثر لوگوں کے نام ان کے بازو پر کندہ ہوتے ۔ اور نام کندہ کرنے والے زیادہ تر میلوں ہی میں پائے جاتے ۔ لیکن آج کل جو ٹیٹوبنائے جاتے ہیں ۔ وہ اس کی جدید شکل تو ہیں مگر مقصد بچھڑے ہوئے ملانا نہیں ۔ بلکہ فیشن ہے ۔
مضمون کے عنوان کے حوالے سے ڈھونڈنے والے شوکن (شوقین) کی تلاش پڑھتے ہوئے یہاں آ پہنچے ہوں گے ۔ کب ذکر خیر ہو ۔مگر یہاں ذکر صنف کے حوالے سے نہیں ہے ۔ بلکہ اصناف کا ہے ۔
کہ انسانی معاشرہ بتدریج ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے تفریح طبع کے لئے جدید علوم سے آراستہ ہو چکا ہے ۔میلوں میں سٹال لگا کر صدائیں دینے والا دور گزر چکا ۔ جب کوڈو سٹیج پر کھڑا ایک روپہ ایک روپہ کی صدا لگاتا تھا ۔ نقلیوں اور بھانڈوں کا دور جا چکا ۔ اب مسخرہ پن کا دور عروج ہے ۔ جہاں ڈی وی ڈی ،ویڈیو سے خوشی کے لمحات قید کر لئے جاتے ہیں ۔پندرہ پندرہ دن کی شادی کی رسومات ڈھول کی تھاپ ، تو کبھی گانوں کی جھنکار کے ساتھ کورس کی شکل میں سجائی جاتی ہیں ۔پھر پورا سال ویڈیو دیکھنے میں گزارا جاتا ہے ۔
شہروں قصبوں میں فوڈ بازار میلوں سے بڑھ کر سارا سال ہی انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبوؤں سے ماحول کو مہکائے رکھتے ہیں ۔بڑی سڑکیں کسی فوڈ مارکیٹ کا منظر پیش کرتی ہیں ۔ ہر چوک پر بیوٹی پارلر کھلنے سے دلہن اور اس کی سہیلیوں کے ساتھ ساتھ دلہا اور اس کے دوست بھی میک اپ سے مستفید ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔گھروں کو گرا گرا کر برگر پوائنٹ اور ولائیتی کھانوں کا مرکز بنایا جارہاہے ۔جہاں عوام کا جم غفیر مال مفت دل بے رحم جیسا منظر پیش کرتا ہے ۔دولت کا نشہ منرل واٹر سے گلاسوں میں انڈیلا جاتا ہے ۔موبائل فون کی بجتی گھنٹیاں اور پھر ان پر کھلے قہقہے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔
اگر وہ دور" شوکن(شوقین) میلے دی" کا تھا ۔ تو کیا اب یہ دور" سوکن ویلے(وقت) دی" کا کہلائے گا ۔
در دستک >>

Jul 21, 2010

پتھر بھی بول اُٹھے

معمولات زندگی کے شب و روز ایسے گزرتے ہیں ۔کہ اگر خاموش رہیں تو سینہ پتھر ہو جائے ۔بول اُٹھیں تو جیسےپتھر لاوہ بن کر بہہ نکلے۔پھولوں کی طرح کھلتے ہوئے مسکرانا ، بھینی بھینی خوشبو کی طرح پھیل جانا محض محاورہ کی دنیا کی دل نشینی تک محدود ہے ۔جو آنکھوں میں خواب جاگنے کے بعد شروع ہوتے ہیں ۔ جنہیں پلکیں اُٹھا اُٹھا کر تھک کر بند ہو جاتی ہیں ۔
پتھر کے زمانے کا انسان ترقی کے میدان کا سورما تو نہیں تھا مگر طاقت ، توانائی اور تندرستی تناور درخت کی مانند رکھتا تھا ۔پتھر سے ہی تیار ہتھیار اور اوزار سے لیس رہتا ۔مگر خود پھول اور پتوں کی مانند محبت میں نرمی رکھتا ۔جیسے جیسے پتھر زندگی میں غیر اہم ہوتے چلے گئے ۔چٹانیں بھی اپنی قدر کھوتی چلی گئیں ۔
لکڑی لوہا اپنے آپ کو ہر رنگ میں ڈھالنے کی صلاحیت کے بل پر انسانی معاشرے میں جستجوء حاصل کی معراج پہ جا پہنچا ۔جس میں گلنے گھسنے کا عمل زیاکاری اپنی آخری حد تک ہوتا ہے ۔
صحیح ہی تو کہا جاتا ہے کہ سینوں میں دل نہیں پتھر ہیں ۔جو ہر احساس سے خالی رہتے ہیں ۔پھر دوسرے ہی لمحے یہ کہنا کہ چٹانوں کی طرح جمے رہنا بہادری اور فتح کی نشانیاں ہیں ۔پھر یہ تاثر بھی کہاں تک درست ہے کہ کسی پر اتنا دباؤ بڑھایا جائے ۔ کہ وہ برداشت ہی نہ کر پائے ۔ اور ایسا ہو جائے کہ کہنے والے کہنے سے نہ چوکیں کہ اب تو پتھر بھی بول اُٹھے ۔
پتھر پر ضرب لگانے کا انداز لکڑی کی طرح نرم ، لوہا کی طرح گرم نہیں ہوتا ۔کہ کٹنا اور ڈھلنا آسان ہو ۔بلکہ پتھر اپنے پر استعمال کی گئی ہر ضرب کی طاقت کو واپس بھی لوٹا تاہے ۔
اہرام مصر کا معمہ آج بھی حل طلب ہے کیسے اور کیونکر وہ پتھر وہاں تک پہنچائے گئے ۔ آج موضوع صرف پتھروں کی تاریخ بیان کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ۔اصل مقصد تو انسانی مزاج کو تشبہہ و استعارات سے منسوبیت ہے ۔انسان زندہ تو مٹی ، ہوا کی بدولت ہے ۔مگر مزاج کی تاثیر لکڑی لوہا یا پتھر سے تابکاری اثرات کی طرح حاصل کرتا ہے ۔لکڑی لوہا سے حاصل کردہ کٹی اور ڈھلی ہوئی اشیاء انسانی قدروں کے قد کاٹھ میں پستی اور اونچائی کا معیار بنا دی گئی ہیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزائن اور تخلیق نے مخلوق کو تقسیم کی تفریق میں مبتلا کر رکھا ہے ۔مگر احساس تحفظ تو وہی پتھر جیسا ہے ۔جو چار دیواری کے اندر غار کی طرح محفوظ ہونے کا احساس جاگزیں رکھتا ہے ۔
کسی بھی بات کو کہنا پھر اس کی تہہ تک جانا اور توقع یہ کرنا کہ جیسا اسے کہا گیا وہ حقیقت و سچائی ہے ۔ علا وہ اس کے دنیا پرائی ہے ۔عقل غیر سودائی ہے ۔رہنا اکیلے مزاج میں ڈھٹائی ہے ۔اپنا رنگ ہی اکثیر ۔ دوسرا حقیر و رسوائی ہے ۔قائدہ و قانون پابندی اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر سوچ زیادہ تر پابندی کے خلاف بغاوت پر اکساتی ہے ۔
پھول اور پتھر کی طرح انسانی رویے میں محبت کو پروان چڑھاؤ جو درختوں اور چٹانوں کی طرح آسمانوں کو چھوئے ۔ نہ کہ زمین کے اندر دھنسی ہوئی دھاتوں سے بنائی ہوئی اشیاء سے طوق کی طرح گردن ، کڑوں کی طرح ہاتھ پاؤں قید تو ہوں مگر بڑائی کے نشہ کا سرور نہ جائے ۔
در دستک >>

Jul 19, 2010

صحت کی دعا

ہم سب کی دعا ہے کہ معظم شاہ صاحب کی زوجہ محترمہ کو اللہ تبارک تعالی صحت و تندرستی کی نعمت عطا کرے ۔ جلد از جلد اپنی بیماریوں کو شکست فاش دے کر گھر کے گلستان میں پھول سے بچوں میں خوشبو کی طرح بسی رہیں۔اور بیماریاں کانٹوں کی طرح سوکھ کر فنا ہو جائیں ۔گھر کا دروازہ کھولیں تو باد نسیم کے جھونکے آندھیوں کی طرح آنگن میں کھیلتے بچوں سے لپٹ لپٹ کر خوشیوں کی مہک سے لبریز ہو جائیں ۔زرہ زرہ زمین قدموں سے لپٹ لپٹ کر خوشی کے ہر پل میں سمونے کی آرزو میں مچل مچل جائے۔زندگی بانہیں کھولے امتحانوں سے گزرنے کے پل سراط کو عبور کرنے پر خوش آمدیدی کلمات دہراتی قربان ہوتی جائے ۔ دکھ و پریشانی کا ایک ایک پل سکون نعمت کے برس ہا برس میں پھیلتاچلا جائے ۔آنکھوں میں امید کے چراغ روشن رکھنے والی بینائی ستاروں کی عنبریں جھرمٹ میں کہکشاؤں سے قہقہے بانٹنے میں بازی جیت جانے کی خوشی میں شہر شہر دعا ء منادی کرے ۔زندگی سے اپناپن چھیننے کی کوشش کرنے والے موذی امراض اپنی موت کا آخری دیدار تیز آندھیوں میں سوکھے پتوں کے بنتے زرات تحلیل ہوتے ہوتے خاک ہوتے ہوئے دیکھیں۔
اللہ تبارک تعالی بھابھی صاحبہ کو ہر بیماری اور اس کے اثرات سے محفوظ اور اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔اور شاہ صاحب کو بلند حوصلگی و ہمت کا صلہ رحمی عطا ہو ۔

آمین ثمہ آمین
در دستک >>

Jul 18, 2010

چینی کم

چائے میں کتنے چمچ چینی چاہیں گے آپ ۔چینی کیااپنی انگلی محبت سے ڈال دیں چاشنی پوری ہو جائے گی ۔ بہت گھسا پٹا جملہ ہےآج سنانے کی کیا ضرورت آ گئی۔ سنانا توکھری کھری چاہتا ہوں مگر کئی بار پڑھ چکا ہوں اور کئی بار شائد کسی ڈرامے یا فلم میں سن چکا ہوں ۔ اس لئے اب سنجیدہ بات کرنے کا کوئی موڈ نہیں ۔ غیر سنجیدگی میں جو مزا ہے سنجیدگی کی چپ میں نہیں ۔
باتوں کی جھڑی جب لگ جائے تو قہقہوں کی برسات روکنے سے نہیں تھمے گی۔
اب اگر منانے والے یہ کیوں نہ کہتے پھریں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ ہاں یہی بات تومیں کہنا چاہتاہوں ۔ آخر کب تک باتوں ہی سے پیٹ کا جہنم بھرتے پھریں ۔ ایندھن ویسے بھی اب ملنا مشکل ہے ۔ بس چنگاری بڑھکانے والے آتش تیلی انگلیوں میں دبائے رکھتے ہیں ۔چاہے اس سے سگریٹ سلگا لیں یا کسی کا گھر حسد کی آگ سے بھسم کر دیں ۔کوئی ملال نہیں ۔
انتہا تو یہ ہے کہ حلال وہی سمجھتے ہیں جو حرام کی کمائی سے چاہے خریدی گئی ہو مگر حرام نہ ہو ۔
بات صرف کھانے کی حد تو ہوتی تو خیر تھی مگر یہاں بات اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے ۔ اگر لکھنے کی غلطی کر بیٹھا ۔ٹخنے کیسے بچاپاؤں گا ۔ جیسے بچپن میں سبق یاد نہ کر کے آنے کی پاداش میں ماسٹر کی چھڑی سے کبھی بچا نہیں پاتے تھے ۔بات تو صرف ہو رہی تھی حرام حلال کی جو صرف کھانے کی حد تک اپنے اوپر حد کی صورت میں لاگو رہتاہے ۔ مال تو ہمیشہ حلال ہی ہوتا ہے ۔چاہے وہ چینی مہنگی ہونے سے ہو یا ڈیزل کے کمیشن سے ہو ۔
جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ یہ تو صرف طرز ہے ۔ ورنہ کہاں یہ منہ اور یہ مسور کی دال ۔اتنے برے غلطی معاف کریں بڑےناموں کو ہدف تنقید بنانے کی اب جرآت کہاں رہ گئی ۔ رہنمائی سیدھے راستہ سے حاصل ہوتی ہے ۔جب رہنما سیدھے راستے سے نہ آتے ہوں تو رہنمائی تو در کنار دھلائی بھی ٹھیک طرح سے ہونا مشکل ہے ۔جب نعرہ یہ ہو کہ غریب نہیں رہے گا تو پھر غریب کو بھی تو یہ چاہئے کہ وہ کہے غربت بھی نہ رہے ۔
لیکن اب وقت کا یہ تقاضا ہے کی وہ مغرب کے بعد گھروں میں رہیں ۔غربت تو پہلے ہی ہے اب کہیں رات اپنے ہی نالہ سے باندھ کر کوئی سڑک پر پھینک جائے اور کپڑے لوٹ لے جائے ۔ یہ زمانہ دیکھنے کو کیا باقی ہے کہ عزت بچی رہے کپڑے لوٹ لئے جائیں۔پہلے ہی بڑی مارکیٹوں کے سرمایہ دار اچھی گانٹھیں کھول کھول کر ولائتی بابو ہینگر میں لٹکا کر دعوت خرید کے جرموار ہیں ۔
جرم تو ان کے بھی سنگین ہیں کہ سامنے جن کے کپڑے خون میں رنگے جاتے ہیں ۔مگر ان کی دعوت جو شاہی محل کے شیش محل کے لان جیسی خاص ہو ۔عام الناس کو فقط اپنے جوتے بغل میں دبائے کسی عقیدت گاہ کے منظر سے کم نہیں رہ گئی ۔قصور ان کی نظر کا نہیں ہے ۔ معاملہ عقیدت کا ہے ۔سبز باغ دکھا کر پانی لگانے والے باغبان اقوام میں شامل ہونے کی افواہ اڑانے سے خوش فہمی کی ایسی گھاس پر ننگے پاؤں چلاتے کہ گلدستے بنا بنا انہی کے گلدانوں میں اپنے ہاتھ سے سجاتے۔ خوشی خوشی چھوٹے مالک کو کندھوں پر اٹھا اٹھا گلکاریاں کرتے اظہار تشکر ختم نہیں ہوتا ۔حاکم ،محکوم کو مالک ،مالی بھی کہاجا سکتا ہے ۔
مشورہ مفت ہو عمل کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ایک انگلی ایک کان میں اور ایک انگلی دوسرے کان میں دیں ۔ آذان کے لئے تیاری کا نہیں کہ رہا ۔انگلیاں کانوں میں ٹھونسنے کا مشورہ ہے ۔اب صرف اتنا کریں کہیں آنکھوں میں پٹی خود سے نہ باندھ لیں۔ ایسا اس لئے کہا جلوس نکالنے کا کہا جائے یا ریلی نکالنے کا تو کسی شرپسند یا مالک کا سند یافتہ پتھر ایک پھینکے تو مجمع کتبے بینر چھوڑ باقی کا کام خود سے ہی پورا کر دیتے ہیں ۔
پھیکی چائے پی کر لب شیریں نہیں رہ گئے ۔ فرہاد کو ڈھونڈ کر لانا ہی ہو گا جو میٹھے دودھ کی نہر کھود ڈالے ۔اب کیا کریں دودھ پینے والے مجنووں کی بھرمار ہے ۔ سلطان راہی مجھے ہمیشہ سے ہی پسند تھا ۔ غربت تو ختم نہ کر سکا۔ مگر غریب کے دل میں امید کی کرن جگا تارہا ۔ خون کی ندیاں خود ہی بہاتا رہا۔ اور خون کبھی بھی سکرین سے باہر نہیں ٹپکا ۔اب تو خون ہر طرف ٹپکتا ہے ۔اور وہ بھی غریب کا ۔ غربت ختم کرنے کا انوکھا طریقہ ایجاد ہو ا ہے ۔ جو صرف غریب ختم کرکے شائد ختم ہو ۔سکرین پر ختم ہونے والےہر کشت و خون کے بعد یہ ضرور آتا تھا ۔ ختم شد۔
مگر اب بات ختم پر ہی شائد ختم ہو۔ جس پر بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے ۔ اتنی ڈشیں بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔ مہنگائی کے دور میں ایسی فضول خرچی کہ انسان کا مرنا آسان اور جینامشکل ہو ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو خودکشی کو حرام کہنے سے جینا حلال بھی تو ممکن نہیں۔ ممکن تو یہ بھی نہیں کہ ہم آج ایک عہد کر لیں کہ نفرت کی آگ بڑھکنے سے پہلے رواداری کے پانی سے بجھا دیں گے ۔رواداری باری باری سے ہی ممکن ہے ہاری کی آزادی سے نہیں ۔عوامی باری تو کبھی آئے گی نہیں ۔ زر کا دور ہے ۔ شر کا زور ہے ۔ پھر سب سے کم لکھنا ہی کمزور ہے ۔
میرا سلام ہے ۔ اردو کو انٹر نیٹ پر متعارف کروانے والوں کو ۔ جن کی بدولت کاغذ قلم کے اخراجات سے مفت میں ہی محفوظ رہنے کا فارمولہ پا گئے۔اور بے تکی تحریروں کا سلسلہ بلاگ کی کھونٹی سے باندھنے میں کامیاب ہوئے۔ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کو سچ کر دکھایا ۔دودھ کے اثرات زائل ہو بھی جائیں مگر کھونٹی سے آزادی کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے ۔بلاگستان میں دھما چوکڑی ہوتی رہے ۔ناموں میں کیا رکھا ہے ۔کانٹے زیادہ بڑے ہوں تو پھول اتنے ہی خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔ شکر ہے خبر پھیلانے والوں میں ہمارا شمار ہو گا ۔ شر پھیلانے والوں سے وابستگی ثابت نہیں کر پائیں گے۔گالی کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ شائد غصے میں کبھی پھسل گئی ہو ۔مگر ڈگری کی گارنٹی ہے ۔ دن رات کی محنت اور کئی عدد سگریٹ کے پیکٹ پھونکنے کی قیمت میں حاصل کی تھی ۔ لیکن ڈگری کا علم سے بھلا کیا تعلق ۔میٹرک پاس عالم فاضل صحافی لاکھوں گریجوایٹس سے علمی برتری کےدعویدار ہیں ۔کبھی ہم یہ دعوی کرتے ہوئے پائے جائیں کہ لاکھوں میٹرک فیل سے جہالت میں بدتر نہیں تو یقین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا ۔کیونکہ قدر مشترک ایک ہی ہے کہ چائے صرف چینی کے لئے پیتے ہیں۔حقہ اگرچہ کڑوہ ہوتا ہے مگر چسکا گڑ کا رہتا ہے ۔اب اگر گڑ چینی سے مہنگاملے تو باتوں میں کیوں نہ مٹھاس ہی پیدا کر لیں ۔ اب اس مفت کے مشورہ کی حیثیت کسی زخم پر جونک لگوانے سے زیادہ کیا ہو گی ۔جونکیں پہلے ہی خون چوس چوس کر موٹاپے کا شکار ہیں ۔نا امیدنہ ہوں اقبال رحمہ فرما گئے ہیں۔
نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
در دستک >>

Jul 17, 2010

جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے

سچ کہنا اور لکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ سننا ۔ بچپن ہی سے تحسین و پزیرائی کی ایسی عادت پروان چڑھتی ہے کہ زندگی بھر انسان اچھا سننے کو ہی اچھا سمجھتا ہے ۔نہ جانے آئینے میں کیا خوبی ہے کہ وہ سچ دکھاتا ہی نہیں یا اس میں نظر کا قصور ہے ۔ جو بچپن ہی سے اچھے خواب پلکوں پہ سجانے کی عادی ہو جاتی ہیں ۔آئینہ خود سے انھیں کچھ نہیں دکھاتا ۔انہی آنکھوں کے خواب انھیں واپس لوٹا دیتا ہے ۔
انسان فطرت میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے فطرت میں دور ہے ۔ انسانی سوچ یک طرفہ ٹریفک کی مانند ایک رخ پہ زیادہ چلتی ہے ۔ساتھ چلنے والے چاہے تیز رفتار کیوں نہ ہوں ۔قربت کا احساس دیر تک ساتھ رکھتے ہیں ۔ مگر اس کے مقابلے میں مخالف سمت آنے والے خاموش ، بے آواز ،بے ضرر کیوں نہ ہوں۔ خوف میں مبتلا رکھتے ہیں ۔پانی کے بہاؤ میں آگے بڑھتی ناؤ پانی کے فرش پہ پھیلتی چلی جاتی ہے ۔مخالف سمت بہاؤ میں تو بادبان بھی نہیں کھلتے ۔اور نہ ہی ملاح کے دست و بازو ساتھ نبھاتے ہیں ۔
جیسے زبان سے سچ پھسلتا اور جھوٹ اٹکتا ہے ۔
زبان اچھا چکھنے اور کان اچھا سننے کی فطرت پہ ہوتے ہیں ۔اچھا سننا سچ اور جھوٹ کے ترازو سے نہیں تولا جاتا ۔بلکہ سوچ کے انداز ِ اصول پہ ہوتا ہے ۔بیٹا ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خوشنودی کی خاطر بیوی کی نا معقولیت کا شکوہ کرے تو سننا اچھا ہے ۔ لیکن بحیثت بیوی مرد کا یہی فعل برا سمجھا جاتا ہے ۔
ایسا آلہ بھی کیوں نہ ایجاد ہوتا ۔ جو ایک اپریشن سے انسان کے اندر سے بغض ، حسد ، لالچ ، جھوٹ کا زہریلا مادہ نکال باہر کر سکے ۔اگر یہ فاسد مواد گردش خون سے پیدا ہوتا تو شائد ممکن بھی ہوتا ۔مگر یہ تو آنکھ اور کان سے روح میں اترتا ہے ۔ اور لعاب دہن میں لپٹ کر جسم سے نکلتا ہے ۔آج تک کسی بھی طبیب نے آلات جراحی سے روح کی جراحی نہیں کی ۔ اس سے بچنے اور محفوظ رہنے کا وہی راستہ ہے جو مذہب نے بتایا ہے ۔ وہ راستہ ایجاد کا نہیں انسانیت کا ہے ۔جو جھوٹ و فریب کی پزیرائی نہیں کرتا اور دل آزاری بھی نہیں چاہتا ۔
جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے
صورت ہی کی دستیابی ان کو ہے
دیکھو جلوے پھیلے انوار روشن کے
منظر جو نظر ہو بیتابی ان کو ہے
در دستک >>

Jul 14, 2010

پنکھ ہوتے تو اُڑ جاتے

ہواؤں کا چلنا ، بادل کا اُڑنا ،بارش کا برسنا ، پہاڑوں پر برف کا جمنا ، پھولوں کے کھلنے کا اپنا وقت ، پھلوں کے پکنے کا اپنا، ایک موسم میں ایک فصل کا ہونا ،پرندوں کا چہچہاتے ہوئے صبح کا آغاز اور چہچہاتے ہوئے ہی دن کا اختتام، کسی بھی بے چینی کے اظہار سے بے نیاز ہوتا ہے ۔جو میرے بچپن میں جیسا تھا آج بھی ویسا ہے ۔لیکن میں ویسا نہیں رہا ۔گزرنے والا ہر لمحہ پہلے سے زیادہ تفکر و پریشانی کا سبب بن جاتا ہے ۔نہ جانے کیوں پروان چڑھتی غلط انداز سوچ میں سامنے والا بیوقوفی یا جھلا پن کی حدوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمدردی جتانے والے چہرہ کے سامنے سے ہٹتے ہی منافقت کی چادر کیوں اوڑھ لی جاتی ہے ۔
تعلق ہو یا کوئی رشتہ غرض و مفاد
کی اوڑھ میں چھپا کر رکھا جاتا ہے ۔کیا یہ ضروری ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس بھی اختیار کیا جائے ۔گھر آنے والے ہر مہمان کو بلا لحاظ کردار مسکراتی آنکھوں سے خوش آمدید کہا جائے ۔جس کے وہ اہل نہ بھی ہوں ۔ سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔جب بار بار کی نیکی کرنے سے بھی نفاق کی گرہیں نہیں کھلتیں ۔ڈرامے اکثر چند قسطوں کے بعد اچھائی کے زیر اثر نظر آتے ہیں ۔مگر زندگی میں اچھا بننا کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتا ۔بلکہ اچھا دکھانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔جیسے اکثر ٹی وی پر آمنے سامنے بیٹھے سیاست کے ستون اس ملک کی حقیقی نمائندگی کے علمبردار نظر آتے ہیں ۔الزامات ، دفاع ، جارحیت اور جھوٹ کا پلندہ اٹھانے کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہیں ۔سچ کی ہمیشہ جیت نہیں ہوتی کبھی سبکی بھی ہوتی ہے ۔
کیا سچائی جاننے کے لئے انسانوں کو پھر سے جنگلوں کا رخ کرنا ہوگا ۔جہاں پل بھر میں بدلتے چہروں جیسے موسم نہیں ہوتے ۔مصنوعی ضابطہ حیات کی قد غن نہیں ہوتیں ۔پرندے اور چوپائے ہزاروں سال سے فطرتی کردار نگاری سے مزین نظر آتے ہیں ۔بادشاہت کا تاج ہمیشہ شیر ہی کے سر رہا ۔لومڑی فطری چالبازیوں سے ویسے ہی دم افروز ہے ۔لیکن جس تہذیب یافتہ معاشرے کے ہم باسی ہیں ۔وہاں کردار نگاری میں حقیقی رنگ مصنوعی طریقہ سے بھرا جاتا ہے ۔
جنگ آزادی کے ہیرو کے پڑ پوتے معاشی ضرورتوں کے لئے آج ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں ۔تو دوسری طرف آزادی کے متوالوں کی مخبری کرنے والوں کے پڑپوتے ملک و قوم کی آزادی اور سالمیت پر آنسو بہاتے ہوئے نہیں تھکتے ۔اتنے بڑے تضاد کے ساتھ حکمران ٹیپو سلطان ہو یا ایسٹ انڈیا کمپنی ، بہادر شاہ ظفر ہو یا ملکہ ۔ بیچاری عوام کبھی میر صادق، میر جعفر تو کبھی ہندو کی سازشوں کے طفیل اصطبل میں بندھے گھوڑوں کی مانند رہ جاتی ہے ۔ جنہیں خالی چنوں پر رکھا جاتا ہے ۔بھگانے کی ضرورت پڑنے پر سیبوں کے مربع سے بھی تواضع کی جا سکتی ہے ۔ لنگڑا ہونے کی صورت میں صرف گولی جن کا مقدر بنتی ہے ۔
در دستک >>

زن آٹے دارتھپڑ کی گونج

ڈاکٹر ڈین کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج کئی بار سنائی دی ۔ تھپڑ تو ایک بار ہی پڑا تھا ۔ مگر فلم کرما کئی بار دیکھی گئی ۔جیلر کو پلٹ کو ڈاکٹر ڈین کا دھمکانا کہ وہ اس تھپڑ کی گونج بھولے گا نہیں ۔ جیلر چاہتا بھی یہی تھا کہ وہ کبھی نہ بھول پائے ۔
لیکن ہمیں گونج سے کبھی بھی سروکار نہیں رہا ۔مگر اس بات کا تجسس کبھی ختم نہیں ہوا ۔کہ یہ خاص قسم کی گونج کب اور کیونکر پیدا ہوتی ہے ۔کیونکہ گھونسوں سے کبھی ایسی آواز نکلتے دیکھی نہیں ۔سنا ہے کہ آٹا گوندھنے والی خاتون کا ہاتھ بہت بھاری ہو جاتا ہے ۔ شائد اسی بنا پر گونج دار تھپڑ کو ایسی عورت کے ہاتھ سے تعبیر کردیا گیا ہے ۔ زن (عورت) آٹے دار ۔

اس نام کے سنتے ہی ایک واقعہ دماغ میں گرم روٹی کی طرح تازہ ہو جاتا ہے ۔جسے ہمارے ایک دوست نے کچھ یوں بیان کیا تھا ۔
ان کا ایک کلاس فیلو کیمسٹری کی لیب میں ایک روز دوستوں سے ایسے کیمیکل کے بارے میں جانکاری مانگ رہا تھا ۔جو اس کی داہنی آنکھ کو بھی سرخ کر دے ۔بائیں آنکھ بس میں دوران سفر ایک زن آٹے دار تھپڑ کی وجہ سے پہلے ہی سرخ تھی ۔ گھر والوں کی تفتیشی نگاہوں سے بچنے کا صرف یہی ایک حل انہیں نظر آیا ۔ دوستوں نے افسوس کا اظہار تو کم ہی کیا ۔ البتہ مذاق زیادہ اڑایا گیا ۔
موصوف ہمیشہ اپنی قمیض کی جیب میں ایک ایسی ڈائری رکھتے کہ جس میں روزانہ ادا کی گئی پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کے اوقات درج ہوتے ۔ چہرہ ان کا تراشی ہوئی داڑھی سے منور تھا ۔ایسے میں موصوف کے چہرے پہ زن آٹے دار تھپڑ کی لالی سمجھ سے بالا تر تھی ۔جو موصوف نے کچھ یوں بیان کی ۔
ان ہی کے کالج کا ایک آوارہ لڑکا اکثر بسوں میں لڑکیوں سے مہذب انداز میں چھیڑ خانی کرتا ۔ بد قسمتی سے اس بار وہ مہذب انداز چھیڑ خانی موصوف کی بغل کے نیچےسے ہاتھ نکال کر آگے کھڑی لڑکی سے کرنے لگے ۔تو زن آٹے دار تھپڑ کے سامنے جو پہلا چہرہ آیا وہ موصوف کا تھا ۔سو وہ انہی پر جما دیا گیا ۔اور وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ماجرا کیا ہوا ۔ اپنے پیچھے کھڑے مہربان کو پایا تو معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔پھر اس کے بعد وہ زندگی بھر بس کے پچھلے حصے میں ہی اپنا مقام بناتے رہے ۔ پچھلے دروازہ پر لٹک کر جانے کو بہتر جانتے اگلے دروازہ کے قریب جانے سے ۔
ابھی حال ہی میں دو خواتین ارکان اسمبلی میں دست بدست تھپڑوں کا تبادلہ ہوا ۔ مگر گونج زور دار نہیں تھی ۔البتہ گالیاں کافی جاندار تھیں ۔اگر زنانیاں( خواتین) آٹے دار ہوتیں تو زن آٹے دار گونج مرد ارکان کے کانوں میں بھی پہنچتی اور شائد ڈر کے مارے مرد و خواتین کی نشستیں اور دروازے بس کی طرح آگے پیچھے ہو جاتے ۔شائد اسی لئے تو آٹا گوندھنے والی خواتین کو اسمبلی کی اہلیت کے قابل نہیں سمجھا جاتا ۔ کہیں ان کی گونج قوم کو سنائی نہ دے جائے ۔



نوٹ : اس مضمون کو طنز و مزاح کے تناظر میں پڑھاجائے ۔
در دستک >>

Jul 10, 2010

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

انسان پیدا اپنی خاکی فطرت پہ ہوتا ہے ۔ خاک سے پیدا کی گئی خوراک لقمہ ہضم رکھتی ہے ۔خون میں ڈھلتی ہے تو پھر پانی سے جمتی ہے ۔مٹی کی جذبیت نہیں رکھتی مگر اس کی تاثیر سے ضرور پنپتی ہے ۔ پھل پھول کی طرح زندگی کے مدارج کا آغاز بیج ہونے سے نہیں ہوتا ۔ بلکہ بیج بنانے کے عمل کے آغاز سے ہوتا ہے ۔
دنیا میں آنکھ کھولنا شاید کچھ لمحوں کے توقف کا محتاج ہو مگر نہ جانے پہلا سانس لینا اسے کائنات میں گردش کرتے ستاروں سے کیسے جوڑ دیتا ہے ۔کہ بارہ مہینوں میں گردش ایام بارہ ستاروں سے منسوب کئے جاتے ہیں ۔آج شاید کم لوگ اس بات سے لا علم ہوں کہ ان کا سٹار کیا ہے ۔ سو سال پہلےضرورت پڑنے پر ہی تاریخ پیدائش ڈھونڈھی جاتی تھی۔
آج انٹر نیٹ کی دنیا میں سنڈے میگزین کا انتظار نہیں کہ " آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا " بلکہ روز کا معمول بھی جانا جا سکتا ہے ۔ مجھے کبھی بھی ہفتہ کیسا گزرے گا جاننے کا شوق نہیں رہا ۔ اور شاید اسی لئے پڑھنے کی بھی خاص ضرورت پیش نہیں آئی ۔ضرورت تو اب بھی نہیں ہے ۔
جب حالات میں تبدیلی کے آثار معدوم ہونے شروع ہوتے ہیں ۔تو طبیعت میں تغیر پسندی کچھ نیا کرنے کے لئے پرانے انداز میں ردوبدل کی گنجائش پیدا کر لیتی ہے ۔جس سے کبھی فائدہ تو کبھی نقصان کا بھی احتمال رہتا ہے ۔مگر پچھتاوا کا سبب نہیں ہوتا ۔ پچھتاوا مجبوری سے جڑا ہے ۔ شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوتا ۔
اب ایسی تغیر پسندی پر حال دل جاننے کی کوئی کوشش کرے تو پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی چننے پڑیں گے ۔مگر بات سوچنے والی ہے کہ خاکی بدن میں جو رویہ و مزاج اسے گھر سے بے گھر ، تعریف سے لعن طعن ، محبت سے نفرت ، دوستی سے دشمنی ، اچھائی سے برائی تک کا فاصلہ طے کرواتا ہے ۔ وہ ستاروں کے ایک دوسرے سے کی قربت و دوری سے کیا واسطہ رکھتا ہے ۔
دو اور دو چار کرنے والے کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔سمجھتے بھی وہی ہیں جو پڑھتے ہیں ۔بس کبھی کبھار ایک اور ایک کو دو کی بجائے گیارہ سمجھ لیتے ہیں ۔نو دو گیارہ ہونے میں اگر دقت ہو تو دس نمبری ہونے سے مشکل سے بچتے ہیں ۔یہ ہندسوں میں کیا خوب خاصیت ہے چاہے گنتی کر لیں یا باتیں ۔ خوش نصیبی اگر سات کے عدد سے ملنے کی آس رکھتے ہیں ۔ تو تیرہ کے قریب سے بھی گزرنے سے ڈرتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود آج بھی بہت سے اعداد ایسے ہیں جو بے اثر ہیں ۔
عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی شے کی اہمیت اس کی عددی اکثریت سے ہوتی ہے ۔مگر اعداد اگر عدد میں رہیں تو بڑے ہیں ۔اعداد کا یہ کھیل دلچسپ بھی اور اسراریت بھی رکھتا ہے ۔ستاروں کے جن گھروں سے ایک دوسرے کو جوڑا جاتا ہے ۔وہ ستارے خود میں ہی پر اسرار ہیں ۔اور تو اور بعض کھیل بھی اعداد اور گھروں سے چالیں چلنے میں استعمال ہوتے ہیں ۔جیسا کہ شطرنج کا وزیر چالیں چلنے میں ہر گھر میں داخلہ کا پروانہ ہاتھ میں لئے رکھتا ہے ۔گھوڑے کو ہمیشہ تیز رفتاری کی خوبی سے اچھا جانتے ۔ مگر ڈھائی گھر آڑھا ترچھا چلنے کا انداز تو یہیں پایا جاتا ہے ۔
آج بیٹھے بٹھائے کیا سوجی کہ اعداد کے چکر میں پڑ گئے ۔اب کوئی چکر دینا چاہے تو چکرا تو جائیں گے ہی ۔اور اگر کوئی تاریخ و وقت پیدائش کے ذریعے دو تین صفحات پر مشتمل شخصیت خوبیوں اور خامیوں کے تیہ پانچہ کے ساتھ ستارے کے گھرسے نکال لائے تو بات اچنبھے والی تو ہو گی ۔ کیونکہ اپنی خوبیوں کا کریڈٹ ستاروں کو دینا زرا مشکل کام ہے ۔ آج تک تو یہی سمجھتے رہیں ہیں کہ سونا بھٹی میں ڈھل کرکندن بنتا ہے ۔ایسے موقع پر تو یہی بات یاد رہ جاتی ہے کہ " سو سنار کی تو ایک لوہار کی "۔سچائی پر پردہ ڈال دینے سے "ایک لوہار کی" سے جان چھوٹ جائے مگر " سو سنار کی " میں زندگی کا ایک حصہ گزر جاتا ہے ۔اگر بات صرف ایک رات کی ہوتی تو کہہ دیتے کہ رات گئی بات گئی مگر یہاں معاملہ ایک دور کا ہے ۔ ادوار اس لئے نہیں کہا کہ وہ صرف سیاستدانوں کو میسر ہوتے ہیں ۔عوام تو ایک فرد ایک ووٹ ہوتے ہیں ۔جن کی قسمت کا حال کارڈ پر لکھا طوطا نکالتا ہے ۔بولنے والے طوطے تو بہت دیکھے تھے اب قسمت کا حال منہ زبانی سنانے والے طوطے بھی ایجاد ہو گئے ہیں ۔ جو کارڈ کی بجائے خوش بختی کی خبر فرفر بول کر سناتے ہیں۔ اور مایوس چہرے پہ تھکن کی سلوٹیں ایک امید کی کرن سے ہی خوشی کی چمک میں ڈھانپ دیتے ہیں ۔
بازاروں چوراہوں میں زمین پہ چادر پھیلائے قسمت کا حال بتانے والے طوطے صرف اپنی قسمت میں لکھی گئی چوری کا انتظام رکھتے ہیں ۔ مگر میڈیا پر فرفر بولنے والے طوطے اب کہانی والے نہیں رہ گئے ۔قسمت کا حال بتانے والے جادوئی طاقت کے حامل جادو گر بن گئے ہیں ۔جو جادو کی چھڑی سے کچھ بھی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ جب چاہیں بجلی ، گیس بند اور پٹرول ، آٹا ، چینی غائب کر سکتے ہیں ۔طوطا گری کا یہ فارمولہ اتنا کامیاب ہو چکا ہے ۔ کہ اب انصاف کے لئے بھی کسی دروازے کو کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ۔چار پانچ منٹ کی ایک جھوٹی کہانی کی خبر بھی چھٹی کا دودہ یاد دلانے کے لئے کافی ہے ۔
علامہ اقبال رحمہ کے یہ اشعار شائد آج ہمارے بارے میں ہی لکھے گئے ہیں ۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
در دستک >>

Jul 9, 2010

وہ ثناء جمال عشق بیاں

وہ ثناء جمال عشق بیاں
عجب رنگ مُحَمَّدﷺ کا سفر آسماں

لب سوز و جان با ادب بیاں
اَللہ مُحَمَّدﷺ و قرآن کا عہد و پیماں

معارض مدارج میں ھے دَہَن محبوب بیاں
کچھ تو ھے جش رباع عیاں

آرا تیہی قوس میں نو جرس متاں
عازم شکن ماذ فر آں



موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

آقا نبیۖ آخرالزماں کی ایک جھلک چاہئیے

آقا نبیۖ آخرالزماں کی ایک جھلک چاہئیے
سفر حجاز سے آزاد ایک عرش فلک چاہئیے

حاصل ھوا جو آپۖ کو مقام معراج پر
مجھ ادنی کو ایک زرا سی مشک چاہئیے


ملی جو آپۖ کو راہ میں پیاروں کی رسد
مجھ غریب ناتواں کو بھی اک زرا سی کمک چاہئیے

سموئی جو آپۖ میں ہر منزل کی تابناکی
میری آنکھوں کے نور کو ایک زرا سی چمک چاہئیے

حاصل ھوا جو آپۖ کو نظارہء عرش جہاں
میری زندگی کے گزرنے کو اک زرا سی دمک چاہئیے

پائی جو آپۖ نے نور خدا کی شفق
مجھ مریض عشق خدا کو اک زرا سی اشک چاہئیے



موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو



آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو
زر ناب ہو خندہ آفتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ رشاد محبوب رب العباد ہو
پرسرخاب ہو تَسخِیرِماہتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ اتساہ با صفا اذعان ہو
باغ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان تاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ چمن دلبہار اشہر نجم اطہرہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید حسن المآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دل چاک کو آپۖ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپۖ گوہر خوش آب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپۖ مصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپۖ نگہت مآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

Jul 4, 2010

لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی


لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی

دین میں دی جاتی تعلیم نادانی پہلے تو نہ تھی

خدا کے سامنے سر تو نہتے پہ تلوار نہ اٹھتی

اسلام سرگزشتہ میں ایسی مسلمانی پہلے تو نہ تھی

اپنے ہاتھوں کو اپنا سر ہی درکار رہ گیا

قلب قوم میں ایسی ہوس فراوانی پہلے تو نہ تھی

ہاتھوں کی بنے زنجیر اب اس قوم کی پکار ہے

غفلت صبح میں ڈوبی قوم سلطانی پہلے تو نہ تھی

قلب ترازو میں پلڑا عشق اللہ و رسولۖ کیا ہوا

چاہ طلب دنیا کا بھاری پلڑا انسانِی پہلے تو نہ تھی




بادِ اُمنگ / محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک