Aug 30, 2010

علم باز گشت

حسب معمول بارش کے قطروں کا درختوں پر گرنے کا نظارہ کرنے کے لئے بالکونی میں براجمان ہوں ۔بارش سے بچنے کے لئے چھوٹی چڑیا اپنی ہمجولیوں کے ساتھ میرے پاس ہی کسی محفوظ پناہ گاہ میں چیں چیں جیسی کسی اجنبی زبان میں مصروف گفتگو ہیں ۔جو غور کرنے کے بعد بھی سمجھ سے بالا تر ہے ۔اور نہ ہی ان کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کر رہی ہیں ۔بارش کے رکتے ہی وہ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں روٹی روزی کی تلاش میں سرگرداں ہو ں گی ۔اگر روزی روٹی کے لالے نہ ہوں تو ہر طرف خاموشی خوف کا سبب بن جاتی ہے ۔
ہمیں کئی طرح سے انسانی تہذیبی معاشرے سے بولنے کے لئے خیالات کی پیوند کاری ملتی ہے ۔ بغور مطالعہ کے بعد چند مفید مشاہدات سے استفادہ پانے کی خواہش جنم لیتی ہے ۔مشاہدات تو اتنے زیادہ ہیں کہ خواہشات پوری کرنے کی دھن میں لگ جائیں تو کم از کم ایک صدی بھی کافی نہیں ہو گی ۔یہاں میں نے عمر کی بجائے صدی سے کام لیا ہے ۔طویل زندگی پانے کی امید اتنی گھمبیرتا میں ممکن نظر نہیں آتی۔البتہ صدی کے نہ گزرنے میں کسی شک و شبہ کی فی الحال گنجائش نظر نہیں آتی ۔
ابتدائی زندگی کے ایام میں ہم نے وہی بولا ہوگا جو پیدائش کے بعد سکھانا شروع کیا گیا ۔یعنی جب سننا ہی علم کی تحصیل کا مقام تھا ۔پھر تو پڑھائی کا پہاڑ ہے یا پہاڑے ۔شائد اسی وجہ سے بچے سکول میں پڑھائی کرنے جانے سے پہلے وقت کو بہتر جانتے ہیں ۔جب وقت نہیں ٹھہرتا تو حصول علم کا تسلسل کیسے تھم سکتا ہے ۔قید میں بوڑھے طوطے سیکھنے کے عمل سے دور ہو جاتے ہیں ۔حافظہ کی کمزوری حافظ حلوہ سے پوری کرنے کی کوشش بھی رائیگاں جاتی ہے۔البتہ بادام کے بارے میں مختلف آراء ہیں ۔
لکھنا حروف تہجی کا محتاج تو ہو سکتا ہے ۔مگر بولنا کسی کلیہ کے قید و بند میں نہیں ۔ تعلیم و تدریس سے پہلے یقینا انسانی معاشرہ ہاتھوں ، آنکھوں اور منہ کی بناوٹ سے ہی بولنے اور سمجھنے کے قاعدہ و قانون کی پابندی میں رہا ہو گا ۔اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ پہلے انسان نے بولنا سیکھا پھر لکھنا پڑھنا ۔ اور مشاہدات سے علم ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ۔ اگر انسانی معاشرے میں حصول علم کا شوق پروان چڑھتا چلا گیا ۔تو حدودو قیود کی قد غن بھی لگائی جانے لگیں ۔ ایک لکھنا وہ ہے جس کی بنیاد پر آج انسانی معاشرہ سائنسی ترقی کی معراج پر ہے ۔آغاز جس کا کئی صدیاں پہلے ہوا ۔ اور زیادہ تر علم کی پیاس بجھانے کے لئے تھا ۔
جیسے رائٹ برادرز نے اپنے پیش روؤں کی طرح جو شوق پالا ۔ پیسہ خرچ کر کے پورا کیا ۔ آج جہاز سازی کی صنعت میں اس خاندان کی آجارہ داری نہیں ہے ۔انسان نے جتنی بھی ایجادات کیں ان میں شائد ہی کوئی ایک فی سبیل اللہ ہو ۔گاؤں کے سیدھے سادھے بے روزگار نوجوان بھی چوبرجی لاہور میں کھڑے بے کار پی آئی اے کے جہاز پر دبئی چلو کا خرچہ ادا کر کے سوار کرا دئے گئے تھے ۔
اب دوسری طرز کے لکھنے کو لے لیں ۔ لائبریری سے علم بجھے تو بجھا لیں ۔ خریدنے نکل کھڑے ہوں تو گھر کا چولہا بجھا لیں ۔تمام کتابوں تک رسائی ممکن نہیں رہی ۔ایک پبلشر سے سے پوچھا اتنی قیمت کیوں ۔ جواب میں مہنگائی کا وہی رونا تھا ۔ کاغذ مہنگا تو پرنٹنگ کی سیاہی بھی نہیں سستی ۔ پھر سستا کیاہے ۔ دو روپے کی روٹی ۔ یہ جملہ روزمرہ زندگی میں چست کیا جاتا ہے۔ کم از کم مہنگائی کے اس دور میں گرانی کا سبب بے علمی کا کوئی عمل تو نہیں ہو سکتا ۔
یہی ایک وہ نقطہ ہے جس کی تلاش ہو سکتی ہے کہ لکھنا ہی سب سے مشکل ہے ۔جو میں لکھتا ہوں وہ کسی کھاتے میں نہیں ہے ۔بات لکھاریوں کی کر رہا ہوں ۔جنہوں نے اتنا لکھا کہ اب ان پر لکھنے کی باری ہے ۔اب اگر سوچیں کہ واقعی کاغذ اور سیاہی کی بڑھتی قیمتوں نے ایسا کیا ہے ۔ تو میرا یہ مطلب نہیں ہے ۔ کیونکہ چھپوانے کے لئے بھاری رقم کا تقاضا تو الگ ہے ۔مگر لکھنے کے لئے سوچ کی جن اتھاہ گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔ حقیقت میں ایک مشکل کام ہے ۔ اپنی ذات کو زرہ بے نشان بنا دیتا ہے ۔ سلام ہے ان ادیبوں شاعروں اور نثر نگاروں کو جنہوں نے جہاز اُڑانے والے رائٹ برادرز کی طرح تخلیق ادب کی تراکیب نکالیں ۔اور آنے والی نئی نسلیں ان سے مستفید ہوئیں ۔ان کی اکثر نایاب کتابیں کتب فروشوں کے ٹھیلوں پر سستے داموں آج بھی علم کی تشنگی رکھنے والوں کی پیاس بجھاتی ہیں ۔اور خوبصورت سرورق میں لپٹی امپورٹڈ کاغذ سے بنی صرف ہاتھ میں پکڑنے سے اپنے مالی وزن کا اظہار کر دیتی ہیں ۔
در دستک >>

Aug 21, 2010

بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا

الیکشن میں دھاندلی ہو یا حکومتی غلط بیانی ،بدکلامی ہو یا بد انتظامی ہمیشہ ہی افسوس کا اظہار کیا ۔ عوامی ترجمانی کا کبھی بھی دعویدار نہیں رہے ۔ کیونکہ سیاست ہو یا سیاسی چالبازی کے جراثیم کبھی پنپ نہیں پائے ۔مگر ایک بری عادت نے کبھی ساتھ نہ چھوڑا ۔سوچنے کی عادت جوشروع سے تھی لیکن آج سوچ کے تمام دروازے بند محسوس ہو رہے ہیں ۔حالات سے کبھی گھبرائے نہیں ۔ مسائل سے نپٹنا اور حالات سے مقابلہ کرنے کی اپنی سی سعی کرتےہیں ۔
علامہ اقبال کے اس شعر کو ہمیشہ پلو سے باندھ کے رکھا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ ایک نہ ایک دن ہمیں ضرور احساس ہو گا ۔ بحیثیت قوم ہمارے اندر جو خامیاں رہ گئی ہیں ۔ ضرور جلد یا بدیر ان پر قابو پا لیا جائے گا ۔ لیکن سیالکوٹ میں دو مقتول نوجوانوں پر تشدد کے دن دیہاڈے سینکڑوں کے ہجوم کے سامنے پیش آنے والے واقعہ نے انسانی تاریخ میں رونما ہونے والی وحشت و بربریت کی داستانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ ہسٹری چینل پر صدیاں پرانے مخالفین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے لئے جو طریقے اختیار کئے جاتے تھے ۔ میرے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھے ۔ ظلم و بربریت کی جو داستان قومی اور انتظامی سطح پر تماشا دیکھنے سے رقم کی گئی ہے ۔ شائد اگلی صدی میں انہیں بھلانا ممکن نہیں ہو گا ۔ آخر ایسی بھی کیا جرم کی انتہا ہو گئی کہ دیکھنے والے صرف تماشائی ہونے تک اپنا حق ادا کرتے رہے ۔سانس لیتی زندگی سے لیکر موت سے ہمکنار مردہ جسم مسلسل بربریت کی انتہا تک جا پہنچے ۔
کئی دہائیوں سے مردہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے والی قوم آج خود کو مردہ قوم کی شرمساری کی آغوش میں پناہ لینے لگی ۔ ظلم کرنے والے ہمیشہ سے بچوں و خواتین کو تنہائی میں اپنی درندگی کا شکار کرتے رہے ہیں ۔ایسے ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اجتماعی سطح پر قومی ذمہ داری کو ادا کیا جاتا رہاہے ۔ مگر یہ واقعہ کسی بند کمرے یا اندھیری رات کی سرگوشی نہیں ہے ۔دن دیہاڈے اجتماعی منظر کشی کا نمونہ خاص ہے ۔ جو ہمارے لئے سوالوں کے انبار چھوڑ گیا ہے ۔ کیوں ہمارا معاشرہ بےحسی کی تصویر بنتا جا رہا ہے ۔ اور ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ آج لکھنے کی طاقت نہیں ۔ لفظ شرمندہ ہیں ۔ ہاتھوں میں ڈنڈے لئے مارنے والوں کو دیکھتے خون کھول رہا ہے ۔ زمین پر بے بسی سے لیٹے خون میں لت پت ایک لمحے کو بھی زخم سہلانے کی مہلت نہیں پا رہے تھے ۔
دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں بھرے مجمع میں ایسی خوفناک بربریت کا شائد یہ پہلا واقعہ ہو ۔جہاں قانون کے محافظ خود قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو تحفظ دے رہے ہیں ۔اور بین الاقوامی سطح پرانصاف کی دہائی دینے والی قوم کے سینکڑوں افراد خود ہی انسانیت کی تذلیل کے عینی شاہد ہوں ۔
برسوں پہلے کے ایک واقعہ نے میرے اندر طلاطم پیدا کر دیا ۔ جسے میں اپنے ایک طنز ومزاح کے مضمون تھوڑی سی لفت کرا دے میں بیان کر چکا ہوں ۔ تئیس سال پہلے گورنمنٹ کالج لاہورمیں ایم اے میں داخلہ لینے کے چند روز بعد ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے آٹھ دس لڑکے دو مخالف پارٹی کے لڑکوں کوگھونسوں اور لاتوں سے پیٹ رہے تھے ۔ اور بیسیوں لڑکے خاموش تماشائی بنے خون آلود چہروں پر نظریں جمائے وہیں کھڑے تھے ۔ مجھ سےیہ منظر دیکھ کر رہا نہ گیا اور بیچ میں کود پڑا ۔ دونوں لڑکوں کو بحفاظت نکال کر لے گیا ۔ کہنے والے کہتے رہے کہ پرائی آگ میں کیوں کودے ۔خطرناک گروپ ہے اب اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا ۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ۔
سیالکوٹ کے واقعہ نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ دل سے برا جاننے سے ہی اپنی فرض منصبی کو ادا کر رہے ہیں ۔ روکنے والےسینکڑوں ہاتھ ظلم کرنے والے چند ہاتھوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔اور حکومت صرف نمائشی واقعات میں پانچ پانچ لاکھ کے چیک دینے سے غریبوں کی عزت بحال کرنے کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کو ترجیح دیتی ہے ۔
آج مجھے اپنے یہ اشعار شدت سے یاد آ رہے ہیں ۔

دغاء انسان سے اُٹھ میرا وفاءایماں گیا
ظاہر سیرت فرشتہ اندر دیکھا ہو حیراں گیا

نام خدا سے ہے جنکو ملتا مقامِ عزت جہاں
قلبِ سیاہ سے جلتا دیا خود اپنے پہ قرباں گیا

نام سے شہرت نہیں تو در سے گھر نہیں
جو خود کو نہیں بھولا دور اس سے لا مکاں گیا

ایک جسم و جاں میں رکھتے دو الگ فریب روپ ہیں
سوکھے پھول ہیں سب نام رکھا گلستاں گیا

خوش قسمت ہیں گل و گلزار عداوت خار رکھتے ہیں
ہر بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا

میرا فرش ملک ادنیٰ تیرا عرش فلک عظیم
حاکمیتِ فرعون نہ رہی مگر چھوڑ نفرت نشاں گیا

اسلاف اسلام تو ہے مجھے سفینہ محبت مقام مصطفےؑ
زمام رفعت مقام میں کھوتا بھٹکا انساں گیا
در دستک >>

Aug 15, 2010

سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے

بات جتنی مختصر اور جامع ہو گی ۔ اختلاف کی اتنی ہی کم گنجائش رہے گی ۔زیادہ بولنے سے کبھی زبان پھسل جاتی ہے تو مضمون کی طوالت سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے کہ جزبات کی رو میں بہتے بہتے اعتراض کی زد میں جا پہنچیں ۔خود کو اجڑ و گنوار کہوں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ انداز بیان سے تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائے گا ۔ کہ تعلیم کا میدان کہاں تک سر چکے ۔جو اس سر درد کے مرض میں مبتلا رہے ہوں تو چوٹی سر کرنا محاورے میں استعمال اچھا لگتا ہے ۔
پہاڑوں سے بہتے بہتے میدانوں تک پھیلتے پانی جب آنکھوں سے آنسو بن برس جائیں ۔ تو خوشیاں دیکھنا تو درکنار سوچنا بھی بیکار ہو جاتا ہے ۔ قافلے بے سروسامانی کے نشان، سر پہ گھٹڑیاں بندھی زندگی بھر کی پونجی کے ساتھ ،سوال کرتی آنکھیں خاموش زبان سے شاعری کے مجموعہ کلام پر بھاری پتھر سے کاری ضرب لگاتی ہیں ۔
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی امن کی فاختائیں ۔ رحم کی صدائیں ۔درگزر کی ادائیں ۔محبت کے گیت ۔ کھیت کھلیان باغ دلکشا۔نہ دیکھوں پھر کبھی اجڑے دیار ۔ بچھڑے یار ۔ مدد کے طلبگار۔ نہیں ہوش کون ہے کس کا دلدار ۔ بس امید کی ایک آس ہے ۔ چہرے تصویر یاس ہے ۔لٹے پٹے قافلے ہیں ۔ آٹا دال چاول کے مہنگے لوٹتے گھاؤ ہیں ۔پچیس ہزار میں پچاس میل کی مسافت کا بار ہے ۔
ہزار ہزار دیگوں میں بٹتی مرغ بریانی ہے ۔ پھر بھی بھوکے اکثر بےیارومددگار ہیں ۔بے چارے تعلیم میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ علم سے نابلد اجڑ و گنوار ہیں ۔کلاس روم کےنام سے بھی تھےجو نہ آشنا آج سکولوں میں حاضری رجسٹر پر پسماندہ حال ہیں ۔ خواندگی کی شرح شرمندگی کی سطح پر۔ پہلے ہی سکولوں میں پناہ لی ہوتی ۔ توان پڑھ گنوار نہ رہتے۔ ہر الیکشن میں انگوٹھا لگانے سے انگوٹھا چھاپ نہ کہلائے ہوتے ۔
گھروں سے بے گھر مہاجر ہیں توسکولوں میں رہتے پناہی ۔ صفحہ ہستی سے مٹنے والے اپنے گھروں کو جو نہ واپس لوٹ سکیں ۔اسی زمین پر رہیں گے بے گھر ہاری کسان بن کے مہاجر یا پناہی ۔
ہر طرف لاشیں ہیں ۔ نہیں رہتی اب نئی خواہشیں ۔زندگی امن سے جی لیں یہی اب ہیں فرمائشیں ۔کون جینے دے گا ۔ پانی اترنے کی دیر ہے ۔ زندگی صرف انہی کی اندھیر ہے ۔ جنہیں پہلے جینا بیزار تھا اب وہی زندگی کے طلبگار ہیں ۔
ایک معافی پہ پھر وہی بنائیں گے نئی سرکار ۔ جو آج نظر آتے ہیں لاچار ۔ مدد کے لئے آقاؤں کا ہے انہیں انتظار ۔آج سیاست پر بات نہیں کرنا تھی پھر بھی ایک آدھ فقرے کے لئے معذرت ۔ کیونکہ وہی مسیحا ہیں ۔ بااختیار ہیں زور آور ہیں ۔ ان کی مدد کے بغیر تسلی و تسفی نہیں ۔ شکوہ انہی سے سب کرتے ہیں ۔ قوم کو ایک کرنے کا تہیہ اب وہ آپس میں مل بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ ووٹوں پر جو تقسیم کرتے تھے ۔
ہر لیڈر کی اپنی قوم ہے پنجابی پختون سندھی بلوچی۔ جو ان میں نہیں وہ متحد ہے ۔14 اگست ان سب کی آزادی کا دن ۔ جب سب اکٹھے جشن مناتے ہیں ۔ صرف عید کے چاند پر اتفاق نہیں کرتے ۔ تین دن تک اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں ۔
جب الگ الگ ہو چکے تو اب یکجہتی کی ضرورت آن پڑی ۔ اب قطرہ قطرہ دریا بننے میں دیر کر رہا ہے ۔دوسروں پر انحصار کی بجائے خود کے بازو کو ہی طاقت بنایا ہوتا ۔ استعمال کے بعد نہ انہیں بھلایا ہوتا ۔ تو متاثرین کوخالی پلاٹوں سے بھی بے سروسامانی کے کیمپ اٹھائے جانے کو نہ کہا جاتا ۔5 ہزار روپے من تک آٹا نہ بکتا ۔
اگر انہیں سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری نہ لکھوں تو پھر کیا لکھوں ۔ جانتا ہوں کہ سیاسی حالات پر لکھنا بوریت پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ اختلافی موضوعات کو جو پزیرائی حاصل ہے وہ کسی دوسرے موضوع کو نہیں ۔ خاص کر لسانی اور مذہبی ۔ یہ کسی مفروضہ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ۔بہت سی باتیں کچھ کھلی تو کچھ ڈھکی چھپی بیان کر چکا ۔ اب اگر بات یہیں ختم نہ کروں تو پھر اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ تجربات اتنے سنجیدہ ہیں کہ غیر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی ۔
در دستک >>

Aug 13, 2010

بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر

بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بحرحال بہتر ہوتی ہے ۔ روزانہ ہی ٹی وی پر ہمارے سیاستدان یہ راگ آلاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جمہوریت کی نہ تو صحیح ترجمانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اصل شکل دکھائی جاتی ہے ۔
جمہوریت سے مراد گلی محلوں اور گاؤں سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی پا کر سیاہ و سفید کے مالک ہو جانا مراد نہیں ۔سیاسی باپ کے بوڑھے ہونے سے پہلے نوجوان بیٹے کو سیاسی گدی نشینی کے لئے تیار کیا جانا بھی نہیں ۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر اسے کہا گیا ہے کہ جس میں معاشرے کے عام افراد بلا خوف وخطر اپنی آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہوں اور نمائندگی کے لئے وراثت کی بجائے قابلیت کا معیار اپنایا گیا ہو ۔
جمہوریت سے مراد ہے عوام کو اپنے میں سے نمائندگی کا حق ، آزادی رائے کا حق،کاروبار و جائیداد کے تحفظ کا حق،مذہبی آزادی کا حق،تحریر و تقریر کا حق،معاشی تحفظات کا حق،بنیادی تعلیم اور حفظان صحت کا حق،امارت و غربت سے قطع نظر مساوی بنیادوں پر قانون و انصاف کے حصول کا حق،معاشرتی نا انصافی اور سماجی غنڈہ گردی سے استحصال سے محفوظ رکھنے کا حق، ایک عام آدمی کے وہ تمام حقوق جو حکمرانوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے لیکر آزادی صحافت میں لپٹی بعض کالی بھیڑوں سے عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا حق بھی شامل ہیں ۔
جس جمہوریت کی آساس آئین پر ہو ۔وہی آئین معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور افراد کو حقوق فراہم کرتا ہے ۔مگر بد قسمتی تو دیکھئے آئین کی پاسداری سے صرف پارلیمان ہی اپنے لئے حقوق کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔
جن حکمرانوں پر عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہو اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی ۔وزیراعظم سیلاب فنڈ میں شرمناک حد تک عطیات کا اکٹھا ہونا اس بات کی دلالت ہے کہ عوام جمہوری بھائی بندوں کی ایمانداری پر شکوک کا شکار ہے ۔آخر کار جمہوری وزیراعظم کا میڈیا پر عوام سے مخاطب ہو کر یہ یقین دلانا کہ ایک ایک پائی ایمانداری سے سیلاب زدگان تک پہنچائی جائے گی ۔ اور اس کا حساب بھی دیا جائے گا ۔ ویب سائیٹ پہ جا کر چیک کیا جا سکے گا ۔
پاکستانی عوام نے مصیبت کی ہر گھڑی میں جمہوری حکومت ہو یا آمریت دل کھول کر امداد کی ہے ۔مگر آج وہ مایوس ہیں ان کے کردار و گفتار سے ۔جمہوریت کے یہ چمپئن پارٹی ٹکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔ اور جو اسمبلیوں میں نہیں پہنچے وہ بھی اتنے ہی داؤ پر لگا چکے ہیں ۔ اگر وہی لوگ اپنے الیکشن پر پولنگ کے روز دیگوں پر خرچ آنے والی رقم کا آدھا بھی سیلاب فنڈ میں دے دیتے تو حکمرانوں کو سبکی نہ ہوتی ۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر امداد کی بجائے عید قربان پر کھالیں اکٹھا کرنے والوں کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ شامیانے ہر شہر میں عوام سے کھلے دل سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مگر ان تمام سیاسی جماعتوں کے اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والوں سے قوم کو کیا توقع رکھنی چاہئے ۔ جو صرف قوم سے لوٹا پیسہ قوم پر لگانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔اگر صدر صاحب ہی مانچسٹر میں پچاس لاکھ کا اعلان کرنے کی بجائے اس دورہ پر سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے دورہ منسوخ کر دیتے اور یہی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دے دیتے تو آج وزیراعظم صاحب کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے گا ۔
عوام سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے ۔سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے ۔ بچ جانے والوں کے پاس اب صرف کھالوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا ۔جو ان کے کسی کام کی نہیں ۔ہماری حکومتوں کو جانوروں کی شکل میں صرف کھالیں چاہئے اور انسانوں کی شکل میں بکرے ۔جو صرف چھری دیکھانے سے میں میں کرنے لگیں ۔
جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔وہاں چند پڑھے لکھے اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق کامیابی کے زینہ پر جلد چڑھ جاتے ہیں ۔مجمع اکٹھا کرنے کے لئے تماشا سے بڑا مداری ہوتا ہے ۔کیونکہ تماشا دیکھا نہیں جاتا دیکھایا جاتا ہے ۔تماشا چاہے ماچس کی ڈبیا کا ہو ۔ مگر زبان سے منظر باندھنے والا اسے بڑھکا دیتا ہے ۔
برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے ۔مکمل سادگی اختیار کریں ۔عید کے اہتما م میں ہزاروں روپیہ خرچ کرکے امیروں کی تجوریاں بھرنے کی بجائے مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں ۔سیاسی اور سیاست کرنے والی مذہبی جماعتوں کو جانچنے کا سب کا اپنا پیمانہ ہے ۔ جن اداروں کا ماضی بے داغ ہے اور خدمت خلق میں جن کا نام کی بجائے کام بڑا ہے ۔ انہی کے سپرد اپنی امدادی امانت کریں ۔ جو پچھلی کارکردگی کے فوٹو سیشن سے بیوقوف بنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
وزیراعظم کا سیلاب میں پھنسے لوگوں کے درمیان جانا اچھا فعل ہے مگر ایک ایک فرد کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے تھیلا تھمانا شرمناک فعل ہے ۔ آخر میں تو صرف یہی بات رہ جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجڑے باغاں دے گالڑ پٹواری
در دستک >>

Aug 10, 2010

ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

مری کے پہاڑوں پر گنگناتی فلمی ہیروئین پانچ سات سہیلیوں کے درمیان موج مستی کا گیت آلاپ رہی ہوتی ۔ تو درختوں کی اوٹ سے چند اوباش نکل کر رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ جاتے ۔آپس کی بات تو تکار سے بڑھتے بڑھتے ہاتھ پکڑنے تک جا پہنچتی تو لڑکیوں کا ہاتھ جوتے کو ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتا ۔ اور چھترول شروع ہونے سے کبھی پہلے کبھی بعد میں اوباش گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے ۔
ایسے فلمی مناظر اکیسویں صدی میں ریلیز ہونے والی فلموں میں عکس بند نہیں کئے جاتے ۔کیونکہ اب عشقیہ داستانوں پر مبنی کہانیاں پزیرائی نہیں پاتیں ۔اس تابوت میں آخری کیل اسی کی دہائی میں مولا جٹ فلم میں دارو نے ٹھونک دیا تھا ۔جب ماکھا جٹ ناک پہ جوتے کا نشان لے کر آیا تھا ۔اور نوری نت نے دارو کو ذلت کے نشان کو مٹانے پر شاباشی دی تھی ۔ستر اسی کی دہائی میں ایسے حقیقی واقعات کے بھی چشم دید گواہ ہوں گے ۔جو سرراہ جوتا بازی کی کرشمہ سازی دیکھ چکے ہوں ۔گواہ تو شائد حکمران پارٹی کے قائد کو مخالف اتحاد کی طرف سے جوتے دیکھانے کے بھی ہوں ۔ جنہیں چمڑا مہنگا ہونے سے مراد لے لیا گیا ۔
غرض جوتا سازی کی صنعت ہو یا جوتا بازی ۔اس کے مختلف ادوار ہیں ۔اب اگر پولیس کے زیر استعمال چھتر کی بات کی جائے تو وہ ایسا ہے کہ جسے کبھی پہنا نہیں جا سکتا ۔پھر بھی اسے چھتر کہا جاتا ہے ۔شائد اس کے پڑنے کی آواز جوتے پڑنے سے ملتی جلتی ہے ۔
بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں جو روایات من و عن منتقل ہوئیں ۔ ان میں سر فہرست پولیس کا چھتر ہے ۔ دوسری طرف سیاسی طور پر جوتا بازی کبھی بھی اچھا شغل نہیں رہا ۔مگر گزشتہ چند سالوں میں اس صنعت کو خاصی شہرت و پزیرائی حاصل ہو چکی ہے ۔
اکثر دو مد مقابل ٹیموں کے درمیان ٹاس کے ذریعے سکہ اچھال کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پہلی باری کا حقدار ہے ۔لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر جوتا ایسا تاثر نہیں رکھتا ۔ کیونکہ وہ اچھل کر ہی فیصلہ دے دیتا ہے ۔
ایک بات تو طے ہے کہ روزمرہ استعمال میں رہنے والا مقبولیت کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ جوتے کی نوک پہ رکھنے کے محاورے سے جس نے تذلیل کی گہرائیوں کو چھوا۔ اب وہ ہواؤں میں اچھل اچھل کر خوشیوں میں پھولے نہیں سماتا ۔ بحرحال جوتا پڑنے سے اچھلنے کا درد جھیلنا زرا مشکل دیکھائی دیتا ہے ۔
اچھے نتائج کا نکلنا بعید از قیاس نہیں ۔ جوتا بازی سے دیکھنے والے ضرور سبق حاصل کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے میٹرک سائنس میں فسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔اتنی تفصیل تو دینا ضروری ہو گیا کہ کہیں ہمیں جوتا بازی کا شکار نہ سمجھ لیا جائے ۔ ایسا تجربہ زندگی میں دیکھنے سے زیادہ نہیں ۔گلے سے نکلنے والی ہائے ہائے سننے سے تو آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا تھا ۔
جب نویں جماعت کے آغاز میں نئے کمانڈر ان چیف انگلش کے ٹیچر نے چارج سنبھالا ۔ تو بچپن سے ہی کمزور یادداشت رکھنے والے اس رنگیلے کھیل کے زیر عتاب آئے ۔دونوں ٹانگوں کے نیچے سے دونوں کان پکڑنا بھاری بھر کم موٹوں کے لئے پہلے ہی کسی سزا سے کم نہیں تھا ۔اوپر سے دفعہ 12 لگنے سے سزا با مشقت بھی ہو جاتی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیچر باٹا کا 12 نمبر پہنتے تھے ۔
اب جب کہ جوتا سازی ایک منعفت بخش کاروبار کے بعد جوتا بازی قبولیت عام کی سند حاصل کرتی تلوار بنتی جارہی ہے ۔ جو تلوار جیسی دھار تو نہیں رکھتی مگر زخم اس سے بھی کہیں گہرا دیتی ہے ۔اور اس پر مرہم رکھنا ابھی وقت نے سیکھا نہیں ہے ۔
اگر ملکی سربراہان اور سیاسی قائدین پر یہ دفعہ عوامی مینڈیٹ سے نافذالعمل ہو گئی ۔ تو امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی یادداشت رکھنے والے ضرور امتحانات میں فسٹ کلاس حاصل کریں گے ۔ اور کمزور خلیفے اچھے اداروں کی رکنیت کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ قابل ہی نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ قابلیت کے لئے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ضروری ہیں ۔
یونیورسٹی میں پڑھنے والے نہر کنارے چلتے چلتے محبوبہ کو منا بنا کر ہوا میں اچھالنے کی خواہش کریں اور محبوبہ منا بننے پر اعتراض کی بجائے اچھالے جانے پر خوش ہو ۔ تو منے کو اپنا حق یوں اچھال کر استعمال کرنے والوں پر اعتراض ضرور ہو گا ۔
اب اعتراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔خوشیوں کے لمحات بچے ہی کتنے ہیں ۔ جو اعتراضات کی بھینٹ چڑھا دیں ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کہاں سب بچے ہیں ۔انھیں بھی تو خوراک اچھال اچھال کر ہی دی جارہی ہے ۔اور وہ منے کی طرح اپنی آغوش میں سما لیتے ہیں ۔ جن کے اپنے جگر گوشے منے خوفناک سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔اور وہ کچھ نہ کر سکے ۔
ان کے چاروں اطراف اس قدر پانی ہے کہ ان کے بہتے آنسو کسی کو دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔
در دستک >>

Aug 6, 2010

عوامی پریشانی بے حسی حکمرانی

چند ماہ پہلے جب میں اپنے مضمون " سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی " میں یہ سطور لکھ رہا تھا ۔۔
"کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ ہمارے ملک میں ایسا سب ہو گا ۔ پانی ایسے سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔ 
آج بارہ ملین عوام تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاری سے جس کسمپرسی کا شکار ہیں ۔ مستقبل کی پیش بندی تو کیا ۔ جانوں کے لالے پڑے ہیں انہیں ۔ کب اور کہاں سے اپنی زندگی کا آغاز کریں گے ۔ کوئی نہیں جانتا ۔گاؤں کے گاؤں دریا برد ہو چکے ۔ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ گھر اپنے مکینوں کو بسانے سے معزوری کا اظہار کر رہے ہیں ۔
آنکھوں میں جو آج کل سیاسی موتیا اترنا شروع ہوا ۔ تو اب نظر صرف دھندلائی نہیں بلکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا شروع ہو چکا ہے ۔ بینائی کی بحالی کے لئے قطرے گن گن کر آنکھوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔پانی جتنا بھی وافر کیوں نہ ہو تولا کبھی نہیں جاتا ۔ آنسوؤں کی برسات کی جھڑی بھی لگ جائے تو خشک ہونے تک انہیں پونچھا جاتا ہے ۔ آنسو گنے نہیں جاتے ۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ ایک طرف تین نیشنل اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دو بڑی پارٹیوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ۔اور ایک پہ نون کی حمایت سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ووٹوں کی گنتی کے باوجود پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما جو غصے میں بھری بیٹھی پریس کانفرنس کر رہی تھیں نے ہارنے والی نشست پر بد ترین دھاندلی کا الزام عائد کیا ۔اور وہاں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر دیا ۔ ایک نشست کا کھونا کسی آفت سے کیا کم نقصان ہے کیا ؟
دوسری طرف نواز شریف کولندن یاترا سے فوری واپسی کے لئے زرداری کو دیا گیا اپنا مشورہ اپنے پاس رکھنے کو کہا گیا ہے ۔اگر شریف برادران انسانوں کو گننے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ تو زرداری صاحب بھی اسی گنتی کے نتیجے میں یہاں تک پہنچے ہیں ۔اب جب دونوں بڑی پارٹیاں انسانوں کو گننے سے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں تو انہیں تولنے کے لئے انصاف کا ترازو ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے ۔اگرچہ اقتدار میں آنے کے کے لئے انسانوں کو تولنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ مگر بولنے سے پہلے تولنا بہت ضروری ہے اور لکھنے سے پہلے اشد ضروری ۔
بقول ان کے قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ؟ ان کے مستقبل کے لیڈرو حاکم کے تعارف کی نقاب کشائی ہو رہی ہے ۔لب کشائی کی اجازت نہیں ۔ اگر کسی نے قائدین کا وزن گھٹانے کی کوشش کی تو کشتوں کے پشتے لگائے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے قائدین گنے اور آزمائے ہوئے ہیں ۔ کوئی تلے ہوئے نہیں ہیں ۔ پڑھنے میں غلطی نہ کی جائے تولنے سے تلنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ پکوڑے تلنے سے نہیں ۔
آپ کو ہر حالت میں پیش کا استعمال کرنا ہو گا ۔ سیلاب کی وجہ سے کھڑے پانی سے جو دست و پیچش کی وبائی امراض پھوٹیں گی ۔اس میں ان قائدین کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ پرچیوں کی گنتی سے عوام جو انہیں دیتے ہیں ۔وہ انہی ہاتھوں سے لوٹا بنا کر انہیں لوٹا دیتے ہیں ۔ لاکھوں عوام دست و پیچش کا شکار ہوں گے ۔تو لوٹوں کی تعداد کم پڑنے کا اندیشہ ہے ۔
نورجہاں تو اب اس دنیا میں نہیں رہی ۔ ایسے میں اگر نصیبو لعل مان جائے ۔ تو اس سے پانچ سات ترانے ہی گوالئے جائیں جو خون کو گرما دیں ۔ترانوں میں یہی تو ایک خوبی ہے ۔ کہ وہ خون گرماتے ہیں ۔ شرم نہیں دلاتے ۔ اسی لئے قائدین جوق در جوق اپنے انتخابی جلسوں میں بھرپور بجاتے ہیں ۔
سیلاب میں گھرے اور متاثرہ عوام کو قطعا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چند روز تک ہوا میں چکر لگاتے جہاز ان پر پرچیاں نچھاور کریں گے ۔ پرچیاں لندن سے تو ضرور آئی ہوں گی مگر وہ خوراک کے کوپن نہیں بلکہ ہمارے موجودہ اور مستقبل کے حکمرانوں کے فوٹو سیشن کی پرچیاں ہوں گی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ سابقہ صوبہ سرحد کے عوام کو جس طرح پختونخواہ کے نام سے ریلیف دیا گیا ہے ۔جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی اگلے سیلاب تک پورا ہو جائے گا ۔ عوام خوش حکمران خوش ۔
یہ سمجھ لینا کافی نہیں ہو گا کہ یہ آفت صرف پاکستان پر آئی ہے ۔پوری امت اسلام اس سے متاثر ہو گی ۔ بیڈ روم کی طرح پر آسائش ہوائی سفر کرنے والے عرب شہزادے جنہوں نے ان ریگستانوں کو شکار کے شوق میں جس طرح اندھا دھند استعمال کیا ۔ انہیں اس کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ محلات کی صورت میں جو وہاں کے غریب عوام کی مدد کی گئی ہے ۔ ضائع ہونے کا خطرہ ہے ۔
قوم تو ویسے ہی جلد بازی کا شکار رہتی ہے ۔اورمسائل کا حل جادو کی چھڑی جیسا چاہتی ہے ۔حالانکہ ایک لیڈر کو پیدا ہونے میں ایک مارشل لاء درکار ہوتا ہے ۔ قوم سکتے میں نہ جائے ۔ اپنی جیب ڈھیلی کرے ۔ زلزلہ کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لئے ملنے والی امداد کب کی ہضم ہو چکی ۔ اب نیا دور ہے نئے اخراجات کا تخمینہ اکیلے لیڈر کی بجائے پورے خاندان اس قوم کے رحم و کرم پر ہیں ۔ دل کھول کر عطیات دیں اور ماضی کی طرح کہاں خرچ کیا ۔ کے سوال سے اجتناب برتیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ ایک ٹی وی کی سلائیڈ پر غیر سرکاری این جی اوز کو بھرپورعطیات دینے کی اپیل کی جارہی ہے ۔
پختونخواہ کے عوام پریشان نہ ہوں ۔ سرحد کے نام کے ان کے سروں پر منڈالتے برے اثرات ٹل چکے ہیں ۔
آج کل ایک آدھ ہفتہ میں نا انصافی کی دہائی میں از خود نوٹس کی گونج سنائی دے جاتی ہے ۔ جس معاشرے میں معصوم بچوں اور خواتین کے جسموں کے چھیتڑے ہواؤں میں بکھرنے لگیں ۔اور احتجاج کرتی عوام کے بازوؤں پر اور حکمرانوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں بندھی ہوں ۔اور اس معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل لاشوں کے گرنے کی سیاست پر رکھا جائے۔ تو پھر از خود نوٹس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے ۔
در دستک >>

اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں


اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں
شرمندہ ہیں اس لیے کہ ہم خطاکار ہیں

تجھے بھول جانے کے ہم جرم وار ہیں
دنیا کی محبت کے ہم سزا وار ہیں

خطاؤں کے لیے چاہتے تجھے مددگار ہیں
تجھے بھولنے کے بعد ہم تو غم خوار ہیں

دنیا کی چاہتیں اب ہمیں بیزار ہیں
شاہِ زمانہ کو ترستے ہم غمِ روزگار ہیں

تیرا در چھوٹنے سے ہم آہ و فگار ہیں
تیری نعمتوں کی ہو بارش ہم اشکبار ہیں

نہیں بھولیں گے ہم شجرِ آب دار ہیں
واسطہ تجھے محمدۖ کا ہم امت جہاندار ہیں

سورج یہ چاند ستارے تیرے راز دار ہیں
رہیں خش و خاک میں تو ہم بیکار ہیں

تیری چاہتوں سے نہیں ہم انکار ہیں
اپنی خزاںء زندگی کو امیدِ جشن بہار ہیں

اتنا دکھ جب ہوتے ہم بیروزگار ہیں
خوشی میں نہیں سوچتے کہ ہم پر انوار ہیں

عقلیں اَٹی ہماری گرد و غبار ہیں
قلب کھلے تو بھرے نورِ مینار ہیں

نہیں کٹتا نفس صرف روزہ دار ہیں
گر ہو مومن تو صوم کی تلوار ہیں

سُستیء ایمان ڈھونڈتے ایک رات کا دربار ہیں
ارادوں پہ اپنے ہم بے اختیار ہیں

شکوے تجھ سے ہمیں بار بار ہیں
جڑے جانے کو کھڑے قطار در قطار ہیں

عنایات کو بانٹنے کے نہیں روا دار ہیں
دکھوں میں ڈھونڈتے ہم غم گسار ہیں

ہم خطا کاروں کے آپ پروردگار ہیں
دعاؤں میں تیری رحمتیں درکار ہیں

.٭.


روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک