Mar 26, 2011

پروانے شمع سے جلتے ہیں

تحریر ! محمودالحق
میری تحاریر پر بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ مشکل مفہوم کے ساتھ پیچیدہ طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے " ۔ اگراس کے ساتھ نصیحت بھی ہو تو مشورہ مفت دل بے رحم سے کم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے پر کمر بستہ ہوں ۔ اب اگر شکوہ نہ جائے تو ہمیں ضرور توبہ کرنی چاہئے قاری کو پڑھنے سے اور مجھے ایسی سوچ رکھنے پر ۔
کیونکہ میرے سیاسی عزائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ نا عاقبت اندیشی سیاست میں کسی کام کی نہیں ۔ سیاستدان ہمارے کسی کام کے نہیں ۔ اب اگر ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت سیاستدان یا وزیراعظم مجھے پسند ہے تو اس کی خاص وجہ یہ کہ زندگی میں ایک بار بغیر امتحان دئیے ساتویں سےآٹھویں جماعت میں پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ نو ستارے مل کر الیکشن میں اپنے انتخابی نشان ہل جو کہ کسان کی محنت اور قوت کی غمازی ہے کے بل پر بھی ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو نہ بچا سکے ۔ اور بھٹو اپنی جان کو ۔
حکمرانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی اور اپوزیشن نئی حکومت کے پیچھے کے دروازے پر ۔ دونوں کو آخر کیا ملا ۔ ایک کو موت تو دوسری اپنی موت آپ مر گئی ۔ کیونکہ وہ آج بھی صرف ایک اپوزیشن کا ہی کردار نبھانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔جسے عوامی اعتبار حاصل کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن امید بھی ختم نہیں ہوئی ۔علامہ اقبال کے اس شعر پر ابھی تک کامل یقین رکھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔
مٹی زرخیز ہو بھی تو کیا ۔ہل چلانے والے ہی انجان اور نا تجربہ کار ہوں ۔ بنا محنت کے ہی فصل کاٹنے کے لئے بیتابی مہماناں کو جاناں تصور بنا کر رکھتے ہوں تو ایک کیا صدیاں تو تین بھی نا کافی ہوں گی ۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو ۔ تو پھر ہاتھی میرا ساتھی نہیں ہوتا ۔
ان میں سے ہی بعض تو ایسے قد کاٹھ رکھنے والے قائد تھے ۔ کہ دل جلے پھبتی کستے کہ پوری پارٹی ایک ہی تانگہ پر پوری بیٹھ سکتی ہے ۔ اب بھلا تانگہ پر بیٹھ کر ایوان تجارت تک جانے کا راستہ نہیں رہا تو ایوان صدارت تک تو کجا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اسلام آباد میں کئی بار اس راستے سے گزر کر قیاس کیا کہ کیسے یہاں تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے ۔ لیکن جہاں سے گزرنا میرا تھا وہاں سے تو روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزرنا رہتا ہے ۔پھر ایک خیال دل میں آیا کہ جسے ہم اندر جانے کا راستہ سمجھتے ہیں دراصل وہ باہر آنے کا راستہ ہے ۔ اندر جانے کے لئے کسی دروازے کی نہیں ایک گہری سرنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نکلتی کہاں سے ہے کسی کو معلوم نہیں ۔ جاتی کہاں ہے سب ہی جانتے ہیں ۔
حیدرآباد میں کوئلہ کی کانوں میں جو سرنگیں مجھے دکھائی گئی تھیں ۔ وہ تو ایک ہی کنویں سے چاروں اطراف پھیل جاتی تھیں اور کوئلہ نکال نکال کر اس کنویں سے باہر لایا جاتا اور ضرورت مندوں تک پہنچا بھی دیا جاتا ۔ لیکن یہ فارمولہ ہر جگہ اپلائی نہیں ہوتا ۔ضرورت مند تو وہ بھی بہت تھے جن کے گھروں پر سویت یونین نے یلغار کی تھی ۔ اور وہ خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بارڈر کے اس طرف خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ اور ان کے لئے بھیجا گیا ہالینڈ کا اعلی گھی ان کے ہاتھوں سے صرف پانچ سو میل دور شہروں میں دوکانوں کے باہر ڈھیر کی صورت سستے داموں بیچنے کے لئے موجود تھا ۔ ایسا ولائتی گھی دیہات میں گھروں میں نکالے جانے والے دیسی گھی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔ کالج یونیورسٹیز میں مجاہد عام دیکھے جا سکتے تھے ۔ نوجوانوں میں کمانڈو جیکٹ کا شوق دیدنی تھا ۔ بعض نے تحقیق پر پتہ چلایا کہ لنڈے بازار سے دو سو پاکستانی روپے میں امریکن کمانڈو جیکٹ دستیاب ہے ۔ مقصد کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو جب نیت میں کھوٹ ہو وہ مراد بر نہیں آتی ۔
صرف جیکٹ یا یونیفارم پہن لینے سے ہر ڈیوٹی پوری نہیں ہوتی اور نہ کوئی ڈگری ہاتھ لگتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نکاح کا کاغذ بیوی کے ساتھ رکھنا ضروری تھا ۔ ڈیوٹی ادا کرنے والے نانی تک یاد کروا دیتے تھے ۔ کیونکہ شوہر و بیوی کو اپنا نکاح سچ ثابت کرنے کے لئے الگ الگ عزیز رشتہ داروں کے نام بتانے پر جان چھوٹنے کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ۔
وقت ا ور حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ منہ سونگھنے سے بھی کئی دفعات نافذالعمل ہوجاتی تھیں ۔بعد کا ایک وقت وہ بھی گزرا جب سونگھنا ایک اچھا فعل نہیں مانا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ آزادی حق کلام سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ صرف بات کرنے سے ذہنی فتور کےپکڑے جانے کا اندیشہ تھا ۔
لیکن جن کے بات کہنے سے پوری قوم کی نمائندہ اسمبلی گھر وں کو روانہ ہو گئی ۔ انہیں صرف اتنی تنقید کا سامنا رہا کہ جو منہ سے بادام نہیں توڑ سکتے انہوں نے اسی منہ سے اسمبلی توڑ دی ۔ لیکن ذہنی فتور پکڑنے کا کسی کو خیال کبھی نہیں آیا ۔خیال تو ان سیاسی بازیگروں کو بھی نہیں آیا جب مینار پاکستان پر جلسہ غیر منتخب حکمرانوں کا ہو بسیں بھر بھر سرکاری ملازم لائیں جائیں ۔ اور جھنڈے اُٹھائے ان کے پارٹی ورکر اپنے اپنے قائدین کے وزیراعظم ہونے کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹتے رہیں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو پٹتے ہیں وہ قائدین کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ قائد وہ ہوتا ہے جو پٹوا سکے نہ کہ خود پٹتا پھرے ۔ تاریخ شاہد ہے صرف ہماری کہ جن کے سر پھٹے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے"روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھتے رہے ۔
مصر تیونس میں سر تو ضرور پھٹے جانیں بھی گنوائی گئیں مگر آنکھیں پوری کھل چکی ہیں ۔ اب لیبیا اور اس کے بعد شام میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے حکمران "روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھ رہے ہیں ۔ امیدیں تو کچھ مہربانوں کو یہاں بھی ہیں ۔ عوام نے کئی بار نئی امید سے کبھی ایک کبھی دوسرے کو کندھوں پر بھٹا کر سر کا تاج بنایا ۔ مگر وہ تاج ور نہ بن سکے ۔ محتاج ہی رہے امداد کے ، سہارے کے ۔
جو حکمران خود محتاج ہوں ۔عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے اہل ہوئے ہوں ۔ ایسے اخلاقی طور پر مرے ہوئے دوبارہ مرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
جن کے پاس انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس عوام نہیں ۔ جن کے پاس عوام ہیں انہیں سوچنے کی فرصت نہیں ۔سالہا سال وہ جلا وطنی کے دور میں تنہا سوچ سوچ کر اب کسی نئی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔
گھر کی مرغی دال برابر کی مثال تو سن رکھی ہے ۔ مگر ملک میں لیڈر بھی مرغ برابر ہی رہتا ہے ۔ جو وقت بے وقت ہڑتال ، ریلی کی بانگ دیتا رہتا ہے ۔
قوم کی ہمدردی کی عرق ریزی وہ کامیابی سے کرتے ہیں جو جلا وطن ہوں چاہے خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس بات پر یقین کرنے کے علاوہ کیا چارہ ہے ۔ اگر نہیں تو خود ہی دیکھ لیں تین بڑی حکمران پارٹیاں تینوں کے رہنما جلا وطن ہیں یا رہ چکے ہیں ۔
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں ۔جیسے پروانے شمع سے جلتے ہیں ۔
در دستک >>

Mar 19, 2011

تیرا دل تو ہےصنم آشنا

کافی دنوں کے بعد آج مزاج کچھ ہشاش بشاش ہے ۔ اب امید پیدا ہو ئی کہ عنقریب خوش باش بھی ہو گا ۔ پر باش تو روز ہی رہتا ہے ۔ا مارت کا ابھی دور شروع نہیں ہوا مگر بیماری ء امراء کا آغاز ہو چکا ہے ۔کیونکہ بہت سی ڈشیں مجھے پسند نہیں اور جو پسند ہیں وہ ڈاکٹر کو پسند نہیں ۔ بچی کھچی اب معدہ پسند نہیں کرتا ۔
ایک زمانہ تھا تندور سے روٹی منگواتے تو پانی بھری دال چنے منہ کا ذائقہ بدلنے کو منہ چڑانے کو آتی ۔ یہ اتنی خوشی بھرپور کھانا تناول فرمانے کی خوشی میں نہیں ہے ۔ بلکہ سکون جان سے آئی ہے ۔ خوش آمدی کلمات کہتے کہتے چہرے پر تو خوشی امڈ آتی ہے مگر دل کی ویرانی ہے کہ بڑھتی جا تی ہے ۔روکنا چاہتے ہیں مگر خود میں جھانکنے سے ایک آواز دستک پہ دستک دیتی ہے کہ
تیرا دل تو ہے صنم آشنا
صنم کا تصور اتنا بڑ اہے کہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہوں ۔جو مجھ سے دور تھے میں آج ان کے قریب نہیں ۔
عجب کھیل ہے اس زندگی کے کھیل کا ۔کھیلتے ہیں اور کھلاڑی بھی نہیں ۔جہاں ہار جیت کا ٹاس ہے کھیل کے آغاز کا نہیں ۔بہت سی باتیں ایک ساتھ کرنے سے بوجھل نہ ہو جائیں ۔ جو کہنا چاہتا ہوں درحقیقت انہیں سمجھنا چاہتا ہوں ۔ کہ محبوب کے ہاتھ میں دل دیا تو عاشق کہلائے ۔ دل میں ہی محبوب بسائے تو دیوانہ کیوں کہلائے ۔
عجب زندگی کی رت ہے بے چین دن تو پرسکون رات ہے ۔ جاگنے میں اذیت تو سونے میں عافیت ہے ۔زخم بھی اپنے کانٹے بھی اپنے ۔مرہم بھی اپنا مسیحائی بھی اپنی ۔ غیر صرف وہ جو ہرجائی ہے ۔ کس توسط سے بلاؤں کہ آؤ تمہیں محبوب اپنے سے ملاؤں ۔ چاہت اس کی گمنام ہے ۔زندگی ہی جس کا انعام ہے ۔
ڈھونڈتا انہیں جو اپنی تلاش جستجو میں ۔
عشق کہنے کا ،محبت جوانی کی ، سوز نگر میں تصویر بشر کا حسن جمال ۔
خیال حسن کی پزیرائی ، دلکشی بھی اور رعنائی ، ڈھونڈنا اپنے لئے ،پانا تسکین وفا ، کھونا ملال و آہ ۔
وہ وقت بھی آئے گا جو یہ سمجھائے گا ۔ راستے خود سے ہیں جدا ۔ تلاش اختیار میں نہیں ۔اختیار کی تلاش ہے ۔
زندگی کو نہ یوں پڑھا ہوتا ۔ خواہشوں سے نہ جھگڑا ہوتا ۔آرزو میں لپٹا کفن لمس احساس میں نہ ڈوبا ہوتا ۔ تو ہزاروں خواہشوں پہ نہ اتنا دم نکلا ہوتا ۔
در دستک >>

Mar 12, 2011

کالج سے شادی کی " تیاری " تک

آج پھر وہ آئینے میں اپنے آپ کو بار بار دیکھ کر خود پہ فریفتہ جا رہا تھا ۔ تو ماں جی کی بلند آواز میں دی جانے والی تنبیہ کہ آج بھی کالج دیر سے پہنچنے کا ارادہ ہے ۔ تو قربان واری جانے کا پروگرام ادھورا رہ گیا ۔ ایک ہاتھ میں کاپی اور ایک کاپی نما کتاب ، دوسرا ہاتھ جیب میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔ پھٹی جیب کا کیا بھروسہ ویگن کے کرایہ کی رقم ہی راہ چلتے کسی بے فکرے کو تھما دیں ۔ تھمانی تو رقم ہمارے ہاتھ ویگن والوں کو چاہئے کہ بکروں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے مگر اُف تک نہیں کہتے ۔بس سٹاپ تک تمام دوست اکھٹے رہتے ۔ پھر بکرے الگ الگ بن کر کلاس روم تک پہنچتے ۔ اب تو ٹیچر بھی یہ کہنا چھوڑ گئے کہ کس سے لڑ جھگڑ کر آئے ہو ۔ کیونکہ آدھی قمیض کا پتلون سے باہر رہنا معمول کا پہناوہ بن چکا ہے۔ سلوٹیں تو اب ڈیزائن بن چکی ہیں ۔ کئی گارمنٹس کمپنیوں نے کپڑے ہی ایسے بنا دئے ہیں کہ سو کر ہاتھ منہ دھوئے بغیر بھی باہر جھانک لیں ۔ تو پوچھ لیا جاتا ہے کہ کہاں جانے کےپروگرام میں اتنی تیاری ہے ۔
اتنی تیاری صرف امتحانی ہال تک پہنچے میں کی جاتی ہے ۔ پرچہ ہمیں ہمارے حال تک پہنچاتا ہے ۔ پھر گھر میں سبھی پہلے دن کالج جانے کی تیاری میں کی جانے والی تیاری تک پہنچاتے ہیں ۔کہ اب دیکھ لو دیر تک آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے کا نتیجہ ۔ نتیجہ والے دن لمبی قطار میں کھڑے خوشیوں کے قہقہوں میں دبی دبی گلے سے نکلتی آواز بیماری کی علامات کی تیاری میں ہوتی ہے ۔ کئی بار ایسی علامات ظاہر ہوئیں مگر بیماری بننے سے پہلے ہی رفو چکر ہو گئیں ۔ اب اگر ہاتھ میں لئے ڈگری کو انتہائی کم نمبروں سے رفو کیا ہو ۔ ملازمت کے لئے جگہ جگہ چکر لگانے سے آخر بھوک میں چکر آ جاتے ہیں ۔ تھک ہار کر گلی کی نکڑ پر شاہیں کا بسیرا رہتا ۔
گلیاں آنے جانے والوں کے لئے راستہ ہوتی ۔ مگر کچھ کے نزدیک وہ صرف چکر لگانے کے کام آتی ہیں ۔ کھلی کھڑکیوں سے کھلی ہوا کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ دیکھنے بار بار ان گلیوں میں چکر لگاتے ہیں ۔ اپنے گھر میں والدین کھانس کھانس کر بے حال ہو جائیں ۔ حالات خراب ہیں کہ کر کھڑکیاں دروازے بند رکھوائے جاتے ہیں ۔ انہی حالات کی کارستانی کی وجہ سے اکثر کالجز کے باہر لڑکوں کا رش رہتا ہے ۔ اپنے کالج سے بھاگنے کو جی چاہتا اور دوسرے کالج میں جھانکنے کو ۔ آنکھیں عقاب کی طرح چوکس رہتی ۔ مست حال شکار پر جھپٹنے کے لئے ۔
نظر کی کمزوری کے شکار بزرگوں کو نیچی نظروں میں گزرتے نوجوان سعادت مندی کی معراج پر نظر آتے ۔ رضا مندی کے لئے سیل فون پرٹیکسٹ میسجنگ کے لئے نظروں کا نیچا رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ نظریں اُ ٹھا کر چلنا اب صرف محاورہ کی طرح رہ گیا ہے ۔ محاورہ اگر نہیں بھی ہو گا تو بن جائے گا ۔
سیل فون پر نظریں ایسی جمتی ہیں جیسی کسی زمانے میں پرس میں رکھی تصویر پر یار لوگوں کی رہتی تھیں ۔سیل فون میں خامیاں کئی مگر ویسے سہولت تو ہے ۔ کہاں ہو ؟ کیا کر رہےہو ؟ گھر سےنکلے کہ نہیں ؟ کب تک پہنچو گے ؟
شادی بیاہ میں تو اپنے گھر والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے ۔ عزیز رشتہ داروں سے پوچھتے کہ خالہ امی تو نہیں دیکھی آپ نے ۔ تتلی ! پری کو دیکھا کیا ۔باجی کو بتاؤ گڑیا کی مہندی لگانے والی آ چکی ہیں ۔ ابا کو ڈھونڈتے پھرتے دیگ پکانے والا سامان مانگ رہا ہے ۔
اب تو اور بھی سہولت ہے ۔گھر والے ڈھونڈنے نہیں پڑتے بلکہ شادی ہال پہنچ کر مہمان فون پر پوچھتے ہیں ۔ کہاں ہو تم دولہے میاں ۔
بیوٹی پارلر سے آدھے گھنٹے میں بس فارغ سمجھو ۔ابھی پہنچے کہ پہنچے چاہے آنے میں گھنٹہ لگے ۔
بھئی اگر تمہارے پہنچے میں دیر ہے تو انتظار کرنے والوں کو تو ایک ایک کھجور ہی تھما دو ۔لیکن رواج کے مطابق نکاح کے بعد ہی ٹوفیاں گولیاں میٹھی سونف اور پرانے خشک چھوہارے حلق سے نیچے اتار پاؤ گے ۔ کھانا کھلنے پر پہلے آئیے پہلے پائیے کا اصول کارفرما ہوتا ہے ۔ چمچ کانٹے سے لیس پلیٹ کھانے کی سستی میں سستانے کی قائل نہیں ہوتی اس لئے ایک بار ہی گولہ بارود" گول بارعب بوٹیوں " سے بھر لیا جائے تو اچھا ہے ۔
کسی نے گھر جہیز سے بھر لیا، جیب نوٹوں سے بھر لی ۔ گھر کے کام کاج میں ایک سپاہی اور بھرتی کر لی ۔
اور تجھے اعتراض صرف مہمانوں کی پلیٹ بھرنے پر واہ تیرے لکھنے پر قربان جائیں !!!!!
میرے لکھنے پر واہ واہ نہ بھی کریں تو کیا ۔ارادہ کر لیں کہ کالج کے لئے آئینہ کے سامنے تیار ہو کر نکلنےسے لے کر بیوٹی پارلر میں تیار ہونے تک کسی ایک اپنی قربانی پر خود ہی قربان ہو جائیں تو واہ واہ ہو جائے ۔
در دستک >>

Mar 5, 2011

بوڑھے کی لاٹھی - 4

باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

آخری حصہ
نہ جانے اس قلب میں ایسی کیا خوبی ہے۔ کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اپنی ہی ریاست کا خود بادشاہ ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دماغ کے خلئے کام کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس کے حکم کا محتاج نہیں ہے۔صبح شام اپنی ایک ہی رفتار سے اپنے آقا روح کی موجودگی کا بگل بجاتا رہتا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ہی کی طرح کے دوسروں کے سینوں میں بگل بجانے والے کس حال میں ہیں۔ اسے صرف اپنے حال ہی کا فکر ہے۔ جو دوسروں کے متعلق جاننے والا تھا ۔وہ خود اپنے آپ سے چھوٹ رہا تھا ۔کمانڈ اور اتھارٹی کا نرالا امتزاج ہے ۔ایک جسم تو دوسرا روح کی کمانڈ کرتا ہے ۔دونوں میں سے جس کی کمانڈ ختم ہو جائے۔ تو مکمل سکوت طاری ہو جاتا ۔لیکن یہاں ایک بات تو طے ہے۔قلب کو دماغ پر فوقیت ہے۔ کیونکہ اباجی کا ایک نظام تو بالکل مفلوج ہو چکا تھا ۔مگر قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی مکمل موجود تھی ۔اگر قلب کا کنٹرول ختم ہو جائے تو دماغ اپنی کسی طاقت کے بل بوتے پر بھی نہیں بچ سکتا ۔
اسے اب اندازہ ہو چکا تھا کہ ذہن کے بل بوتے پر زندگی جینے والے دراصل کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ زندہ وہی رہتے ہیں جو اپنے قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی کو سمجھ لیتے ہیں اوراب اس کے اندر یقین کامل پیدا ہو چکا تھا کہ یہ جسم و دماغ اسی مٹی سے جو بنے ہیں مٹی کی ہی ترغیب رکھتے ہیں ۔
قلب کی طاقت ہی دراصل روح کی طاقت ہے۔ جس کے سامنے دماغ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بھی کمزور ہے ۔
اس لئے وہ اباجی کی بیماری کو دماغ سے نہیں قلب سے قبول کرچکا تھا اور اسی قوت کو بروئے کار لا کر اس منزل کا مسافر بننا چاہتا تھا ۔جہاں سفر کرنے والے بدنی مسافر ایک دو ہی پڑاؤ کے بعد لوٹ جاتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی بیماریوں سے اس کے علم میں صرف میڈیسن کے متعلق ہی اضافہ نہیں ہوا ۔بلکہ جسم اور روح کے باہمی تعلق کی گتھیاں بھی کافی سلجھنے لگیں۔ ہر بار وہ کیوں کے سوال پر اٹک جاتا۔ جب تک اسے وہ جواب ملتا ایک نیا کیوں، پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا اور پھر کیوں کیوں کی تکرار نے اسے بہت سے سوالوں کے جوابات سے آگاہ کر دیا ۔جو شائد کتابوں سے حاصل کبھی بھی نہ ہو پاتے۔ اس کے ذہن میں یہ تاثر ابھر جاتا کہ کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر زندگی میں قرآن پاک کو سمجھ کراللہ تعالی کو پڑھنے سے ہی پالیا جائے ۔کیونکہ خود اس کی اپنی جوانی کے ایام صرف اللہ تعالی کے ایک حکم پر مبنی آیات پر عمل کرنے سے ہی گزر گئی اور مکمل قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے میں شائد اسے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ کاعرصہ درکار ہو گا ۔لیکن پھر بھی وہ مطمعن نہیں تھا ۔تنہائی میں اباجی کے پاؤں پکڑتا اور معافی مانگتا ۔کہ جو کوتاہی اس سے رہ گئی ہو۔ وہ معاف ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی نے جس طرح والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے۔ شائد وہ اسے پورا نہیں کر پا رہا ہے۔
اپنے ارد گرد دیکھنے پر اس جیسی زندگی کا حامل کوئی بھی انسان نظر نہیں آ رہا تھا ۔بہکنے کے امکانات زیادہ تھے ۔یہی وجہ تھی کہ اس کی جوانی جدید دنیا سے الگ نہیں ہو پا رہی تھی۔ تین بیٹوں کا وہ باپ بن چکا تھا بڑا بیٹا اب سات برس کا ہو چکا تھا ۔اسے ایک بار ایسا کیلنڈر نظر آیا۔ جس پر سورۃ بنی اسرائیل کی وہی آیات تھیں جو والدین کی خدمت کے متعلق تھیں ۔اسے لا کر اس نے انہیں اباجی کے پلنگ کے اوپر لگا دیا ۔تاکہ وہ کہیں بہک نہ جائے۔ کیونکہ اب وہ اس بیماری کے متعلق جان چکا تھا ۔کہ شائد اسے ان حالات کا سامنا اگلے دس پندرہ سال تک بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اللہ تعالی کی مدد کے بغیر یہ سب ناممکن تھا ۔
ابا جی جیسا انسان زندگی کی جنگ ایسے لڑے گا۔ کبھی اس نے سوچا نہ تھا ایک رخ ایسا بھی اس کے سامنے تھا۔ جو ابا جی کے بارے میں احترام کی ایسی بلند عمارت کھڑی کر گیا ۔کہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیا جو لوگ زندگی میں نیکی کم کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت میں مرتے ہیں۔ وہ شکوہ کیوں زیادہ کرتے ہیں ۔
ایک بار گھر کی بیل بجی تو ایک بوڑھا شخص پوچھنے لگا وکیل صاحب کا گھر یہی ہے۔
جی ہاں ! یہی ہے فرمائیے آنے والے سے اس نے پوچھا ۔
کیا وہ اب ہیں ؟
وہ چونک گیا کہ کیسا سوال ہے ! اس کے استفسار پر آنے والے نے کہا کہ میرا بیس سال پرانا کیس کی تاریخ نکلی ہے اور یہ میرے وکیل تھے اس وقت ان کی عمر ساٹھ سے اوپر تھی اس لئے مجھے خیال ہوا کہ شائد وہ اس دنیا میں نہ ہوں دیہاتی آدمی بہت سادہ ہوتے ہیں جو بات دل میں ہو کہہ دیتے ہیں۔ شائد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر زندہ رہنے کا مصنوعی ڈھنگ نہیں اپنا پاتے۔
آپ مجھے ایک دو روز دیں۔ آپ کی فائل ڈھونڈ دیتا ہوں ۔نیا وکیل کر لیں اور ان کے بارے صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے ہمدردی اظہار کیا اور چلا گیا ۔
اس نے اباجی کی تمام پرانی فائلوں میں تلاش کاکام شروع کیا۔ تو فائل مل گئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسے ایسے لیٹر ملے جو ایوب خاں کے مارشل لاء کے ابتدائی دور کے تھے ۔ عوامی لیگ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری پارٹی کے لیٹر پیڈ پر بعض لوگوں کوپارٹی فنڈ سے رقم کے اجرا کا کہا گیا تھا ۔جو اس زمانے کے مطابق ایک بڑی رقم تھی۔
جوں جوں وہ ابا جی کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں ان کے بارے میں عزت و احترام کا مجسمہ اور بڑا ہو جاتا ۔
اس کی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم جاتا ۔جس کا ذکر ماں جی اکثر کیا کرتی یہ وہی سال ہے ۔جس کے متعلق ماں جی کہتی کہ سیاست کی وجہ سے وکالت متاثر ہوئی تمھارے اباجی کے معاشی حالات بہت برے ہو گئے۔ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دیا گیا ۔تاکہ کچن چلایا جا سکے ۔مگر یہ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری لیٹر کوئی اور کہانی بیان کر رہے تھے۔ کہ ایک ایسا انسان جو پارٹی کا فنانس سیکرٹری ہو سینکڑوں اور ہزاروں روپے اس کے دستخط سے جاری ہوتے ہوں اس کےگھر کا کچن چلانے کے لئے گھر کا ایک حصہ60 روپے ماہانہ کرایہ پر دیا گیا ہو۔ آج امانت میں خیانت نہ کرنے والے لوگ اب کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ لوٹ مار، اقربا پروری، رشوت ،سفارش نے پورا معاشرہ ہی کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اور غلط کو غلط کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جب دنوں میں امیر ہونے والے معاشرے میں تقویت پاتے ہیں۔ تو پھر بھیڑیں ہی بھیڑیوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
اس کےابا جی نے کبھی بھی سفارش کی سیڑھی کا سہارا نہیں لیا ۔یہی وجہ تھی کہ بعض بیٹے باپ سے نالاں تھے کہ 1973 کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے صدر( جو ان کا بہت گہرا دوست تھا ۔سیاست کےابتدائی دور میں دونوں ایک ساتھ پارٹی میں تھے۔جب وہ ملک کا صدر بنا ۔اس کے ابا جی سیاست چھوڑ چکے تھے ۔مگر دوستی کا تعلق ابھی تک جاری تھا)سے کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ مگر انہوں نے مفاد پرستی کے لئے اصول کی زندگی قربان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔وہ ہمیشہ یہی سمجھاتے کہ لوگ ترقی کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔مگر عزت و احترام کھو دیتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لئے کسی جائز کا حق مت غصب کرو۔
اپنی ساری زندگی کی کمائی سے صرف ایک پونجی بنائی ۹۹ سالہ لیز کا مکان !فیصلہ تو یہ کرنا ہے ۔کہ کیا وہ انسان ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہا ہے۔ اگر وہ سچ پہ تھا تو کیا اسے اپنی نیکیوں کا صلہ مل گیا۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد ۔جس نے انہیں ہاتھوں پہ لیا ۔کیا وہ اس کی صاف ستھری زندگی گزارنے کا انعام تھا ۔
اس بیٹے میں باپ کی محبت بڑھ کر عشق بن چکی تھی۔ چھ سال تک وہ ایک ایسے باپ کے ساتھ رہا۔ جو صرف دیکھنے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ اورگوشت پوست کا لوتھڑا تھا ۔جو صرف سانس لینے تک محدود تھی اور چند نوالے کھانے اور چند گھونٹ پانی کے لینے تک۔
اس کے ابا جی ۱۴ سال کی بیماری سے بھرپور زندگی بھی جی گئے اور آخر کار ۹۴ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اور وہ بالوں میں مکمل پھیلی چمکتی سفیدی کے ساتھ چالیس سال کی حد عبور کر گیا ۔ اور تیرہ سالہ اس کا بڑا بیٹا پہلی بار اپنے سخت مزاج باپ کو ایک بچے کی طرح روتا دیکھ رہا تھا ۔
جس رات وہ ابا جی کو دفنا کر واپس آیا ۔اگلی صبح کئی سالوں کے بعد اجنبی تھی ۔آج سورج کے طلوع کا منظر وہ نہ دیکھ پایا ۔کیونکہ دیر تک وہ سویا رہا ۔اس کے ابا جی نے آخری سانس اس کے سامنے پورے کئے اور جب روح جسم کو چھوڑ کر گئی۔ تو جسم کسی بھی تکلیف کے اس احساس سے خالی تھا ۔کیونکہ جسم تو بہت پہلے مر چکا تھا ۔صرف روح کو اپنا کام کرنا تھا اور اتنی خاموشی سے جدا ہوئی جیسے ہوا کا ایک لطیف جھونکا آکر گزر جاتا ہے۔
وہ اپنے ابا جی کا اتنا عادی ہو چکا تھا ۔کہ جدائی سے آنسو بار بار آنکھوں سے ٹپک جاتے ۔
اس کےجیسے ہی ابا جی دنیا سے گزرے۔ چند روز میں غرض و مفاد کی ایک نئی دنیا جو اس سے پہلےغفلت فرائض میں آنکھیں موندھے سو رہی تھی۔ اب اس کے سامنے اپنے پر کھول کر کھڑی ہو گئی۔ اور اپنے مقابلے میں اڑان کی نوید سنائی۔ مگر وہ تو ایک ایسے پرندے کی زندگی گزارنے کا عادی تھا ۔جس کے پر کٹے ہوں۔ وہ انہیں اڑتا دیکھتا مگر خود پرواز کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔مگر اس نئے چیلنج نےاس کے آنسو خشک کر دئیے ۔اور وہ اپنے آپ کو یہ سوچ کر آمادہ کرنے لگا ۔کہ اسے دنیا کا یہ روپ بھی برداشت کرنا ہو گا ۔
ایک سوال ابھر کر اس کے سامنے آ گیا ۔کہ میں جو شروع کرنے اب جا رہا ہوں اگر زندگی یہ ہے۔ تو جو گزاری ہے وہ کیا تھی۔ ایک خیال کےآتے ہی وہ زیر لب مسکرایا !
ایک نئی ہمت کو اپنے اندر پا کروہ اٹھ کھڑا ہوا اور خود کلامی کے انداز میں بولا !
وہ تو ایک بوڑھے کی لاٹھی تھی ۔


تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

بوڑھے کی لاٹھی - 3

 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

حصہ سوم
اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی جب جمعہ کی نماز میں اس نے یہ حدیث سنی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 )

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو : آپ سے سوال کیا گیا یا رسول اللہﷺ وہ کون شخص ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پا لیا پھر بھی "ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے" جنت میں داخل نہیں ہوا۔
شائد اس حدیث کے الفاظ سے وہ اپنے آپ کو کبھی بھی الگ نہیں کرپایا ۔اسے یہی خوف رہا کہیں اس کا ناک خاک آلود نہ ہو جائے۔
قران پاک کے اندر سورۃ بنی اسرائیل میں ان آیات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم جب اس نے پڑھا کہ
"اور تمھارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ اس کےسوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنااور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کرکہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کرجیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا"
تو اب اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کا سوال پیدا ہونے کا امکان نہیں تھا ۔مقصد اس کے سامنےتھا۔ بوڑھے والدین کو چھوڑنا نہیں۔
کئی سال اپنے ابا جی کو اٹھانے سے وہ خود بھی کمر کی شدید تکلیف کا شکار ہو گیا۔ اور درد دن بدن بڑھتا ہی رہتا۔ خود بھی اسی ڈاکٹر کا مریض بن گیا جو کبھی اس کے ابا جی کا ڈاکٹر تھا ۔عزیز رشتہ دار تو اب آپس میں باتیں کرتے کہ اتنی پر آسائش زندگی اور بے بہا دولت ہونے کے باوجود ملازم کیوں نہیں رکھ لیتا، ان کے لئے۔ خود اٹھاتا، بیٹھاتا، نہلاتا، دھلاتااور نجاست کی صفائی خود ہی کرتا ہے ۔بیمار ہو گیا ہے یہ دولت کس کام کی ہے۔
مگر وہ کیا بتاتا کسی کوکہ انہیں سنبھالنے کا حکم صرف اس کے لئے ہے۔ کیسے سمجھ پائیں گے اللہ تعالی سےاپنی معافی کا راستہ ماں باپ کی خدمت میں نظر آیا اسے۔
اور جس دولت کی وہ بات کرتے ہیں وہ تو آزمائش ہے۔ اللہ تعالی نے اسے اسی خدمت کے صلے میں اسے انعام کیاہے۔ ورنہ وہ اس وقت کو آج تک نہیں بھول پایا ۔جب اس کے ابا جی ولیمے کے دن ایک سوال پر ٹھہر گئے تھے "بیٹا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا"اور یہی سوال ہر دس پندرہ منٹ بعد دہراتے۔
بات ماہ دو ماہ کی ہوتی۔ تو الگ بھی تھی ۔اب تو اس کا پورا وجود اپنے ابا جی کی روح میں ڈھل چکا تھا۔ اسے وہ دن بھی ابھی یاد تھے جب اس بیماری کی اگلی سٹیج میں گھر سے سیر کرنے کے لئے اچانک خاموشی سے نکلتے اور بھول جاتے کہ وہ کون ہیں ،کیا نام ہے ان کا، کہاں رہتے ہیں۔ سڑکوں پر اپنے ہی گھر کے سامنے سے بار بار گزر جاتے اور اپنے گھر کی پہچان بھول جاتے۔ کئی بار تو ایسا ہو چکا تھا !
دنیا میں نیک انسانوں کی کمی نہیں۔ ایک بار تو ایک رکشہ والے کو انہوں نے روکا اور کہا میں اپنا گھر بھول گیا ہوں ۔اس نے ساتھ بٹھایا ۔تو ایک گھنٹہ ان کو لئے پھرتا رہا اور وہ خود ابا جی کو موٹر سائیکل پر گلیوں محلوں میں تلاش کر رہا تھا۔ ابا جی کی اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے پہچان واپس آ گئی تو رکشے والا اتار کر چلا گیا ماں جی نےکچھ پیسے دینے چاہے۔ تو اس نے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ چار بار ہو چکا تھا دو بار تو وہ خود دوتین گھنٹے گلیوں بازاروں میں گھوم گھوم کر ڈھونڈ لایا تھا اور دو بار جنہوں نے ابا جی کی مدد کی وہ انتہائی غریب لوگ تھے۔ وہ ہمیشہ ابا جی کو لانے والوں کو دعائیں دیتا ۔
دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں بدلتے جا رہے تھے ۔ اس کی شادی کوچار سال گزر چکے تھے۔ اسی دوران اس کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا ۔گھر میں سبھی خوش تھے ۔
اب تو اس کے ابا جی کا پیشاب پاخانے پر کنٹرول مکمل ختم ہو چکا تھا۔ باتھ روم لے کر جاتے تو کچھ نہ کرتے واپسی پر چلتے جاتے اور جہاں جہاں سے گزرتے کپڑوں سے لے کر فرش تک نجاست بہہ جاتی ۔
بیٹا میں جان بوجھ کرنہیں کرتا ۔مجھے پتہ ہی نہیں چلتا۔اپنی صفائی وہ خود ہی دینے کی کوشش کرتے ۔
مجھے علم ہے ابا جی !
آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ میں صفائی کردیتا ہوں۔ وہ فوری ابا جی کو تسلی دیتا ۔
یہ تو اب معمول بن چکا تھا ۔کبھی بستر تو کبھی قالین صحن میں دھو کر رکھا جاتا تھا ۔ماں جی کے ساتھ ان کا وقت گزر جاتا تھا ۔
اس کی ماں کی پتے کی پتھری اپریشن نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف بہت بڑھ چکی تھی ۔کئی بار ہاسپٹل میں داخل رہ چکے تھے۔ ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ اپریشن سے جان کا رسک ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسے نکلوا دیا جائے۔ ڈیفنس میں ایک ڈاکٹر کا اسے علم ہوا کہ وہ جدیدٹیکنالوجی لیپراسکوپی سرجری کے ذریعے اپریشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر سے اس نےبات چیت کی۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ خطرے والی بات نہیں ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ہیموگلوبن کی کمی اور ہارٹ ان لارج کے باجود اس میں رسک بہت کم ہے۔ کیونکہ اس وقت شہر میں وہ اکیلا ہی اس شعبہ میں تھا ۔سو ایک بڑی رقم کا اس نے تخمینہ بتایا۔ مگر یہاں اسے رقم سے زیادہ اپنی ماں جی کی صحت کی فکر تھی۔ کیونکہ جب سے اس نے اباجی کی زرعی زمین پر خودکاشت کا کام شروع کیا۔ دولت کی ریل پیل تھی ۔
تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی۔ کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے تیاری کے بعد انہیں بلایا۔ اپریشن کیا اور باہر آکر خوش خبری سنائی کہ اپریشن کامیاب رہا اور ساتھ ہی ایک ایسی خبر جو وہ سننے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔کہ پتھری اتنی بڑی ہو چکی تھی، جگر اس سے متاثر ہوا ہے اور اس نے جگر کے متاثرہ حصے کی بھی سرجری کر دی ہے اور اسے بائیوپسی کے لئے بھجوا دیا گیا ۔ دو دن بعد وہ ماں جی کو لے کر گھرچلے گئے چند روز بعد وہ بائیوپسی کی رپورٹ لے کر ڈاکٹرکے پاس گیا ۔تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری ۔جگر کا کینسر تشخیص ہوا تھا ۔تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹرنے کہا ایسے مریض چھ ماہ یا آٹھ ماہ سے زیادہ زندگی نہیں پاتے۔
ڈاکٹر کے یہاں سے نکل کر وہ جناح باغ چلا گیا درختوں کی پناہ میں کھلی فضا میں۔
سگریٹ پہ سگریٹ سلگائے جارہا تھا اور صرف ایک خیال اس کے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گیا کیا میری ماں اب مہینوں کی مہمان ہے ۔یہ دن دیکھنا باقی تھا ۔کہ اپنی نظروں کے سامنے ہر پل موت کی طرف جاتا دیکھوں اور دوسری طرف ابا جی کی بگڑتی ذہنی اور جسمانی حالت اور اب یہ روح فرسا خبر ۔
دیر تک اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا اور خدا سے اپنے لئے ہمت اور حوصلہ کی دعا مانگتا رہا۔ اس نے پھر ایک نئی طاقت کو اپنے اندر محسوس کیا کہ جس میرے مالک نے مجھے ان مشکلات سے لڑنے کی طاقت پہلے دی۔ اب بھی وہی دے گا اور گھر کی طرف روانہ ہوا ۔
کیا رپورٹ آئی ہے ماں کے سامنےبڑی بہن نے سوال کیا !
بالکل ٹھیک ہے۔ وہ جھوٹ بول گیا اور اسی طرح مسکراتے ہوئے ماں جی سے ہنسی مذاق کرنے لگا ۔
زندگی میں پہلی بار وہ اداکاری کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔مگر بدلا رویہ اس کی چغلی کر رہا تھا۔ نہ جانے اس کی بڑی بہن نے اس ہنسی کے پیچھےدرد کو کیسے دیکھ لیا اور چند روز کے بعد ہی ایک الگ کمرے میں اسی لے گئی اور پوچھنے لگی سچ بتا رپورٹ میں کیا ہے۔ تیرا چہرہ مجھے کچھ اور کہتا ہے۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔دونوں بہن بھائی کافی دیر تک روتے رہے ۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ماں جی کو پتہ نہیں چلنا چاہیئے۔ کہیں ان کی ہمت نہ ٹوٹ جائے ۔
ابا جی تو بیماری کے ہاتھوں پہلے ہی ان باتوں سے لاتعلق ہو چکے تھے ۔
اس کی ماں کی دن بدن حالت بگڑتی جارہی تھی۔ اپریشن سے پہلے انہوں نے بیٹے سے کہا تھاکہ اس بار جب فصل آئے گی ۔گھر کے تمام اینٹوں کے بنے ہوئے فرش اکھاڑ کر سیمنٹ کا فرش لگوانا ہےاور سٹور بنانے ہیں۔ صفائی میں بہت مشکل ہوتی ہے اور ایک مجھے اپنے لئے نیا پلنگ بنوانا ہے ۔جس کے پیچھے دراز زیادہ ہوں ۔
جی ماں جی ضرور ! کہہ کر ماں سے وعدہ کیا تھا۔
ڈاکٹر نے زندگی جینے کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔ مگراسے ماں سے کئے گئے وعدہ کا پاس تھا ۔فصل کی رقم ملتے ہی اس نے پلنگ کا آرڈر دے دیا ۔جیسا ماں چاہتی تھیں اور گھر کے تمام فرش اکھیڑ دئیے اور مستری سے ایک ماہ میں اسے مکمل کرنے کا کہا ۔ خاندان کے بعض افراد اس بات سے ناراض دکھائی دیئے کہ ایسی بیماری اور گھر میں مرمت کا کام ۔
مگر اسے صرف ایک بات کی خواہش تھی۔ ماں جی نے جو خواہش کی ہے وہ ان کی زندگی میں پوری ہو۔ جسم ان کا سوکھ کر کانٹا بنتا جا رہا تھا۔ کینسر اندر ہی اندر پوری طرح پھیل چکا تھا ۔جب فرش تیار ہو گئے ۔تو اپنی ماں کو اٹھوا کر صحن میں لایا اور اس نے کہا ! ماں جی ! جیسا آپ نے کہا ویسا ہو چکا ہے۔ انہوں نےغور سے صحن کو دیکھا اور بہت دھیمی آواز میں کہنے لگیں میں ٹھیک ہوتی تو اس سے بہتر کام کرواتی لیکن پھر بھی ٹھیک ہے ۔
کینسر نے چھ ماہ میں پورے وجود کو پہلےمکمل زیر کیا۔ پھر اذیت پر اتر آیا۔ درد کی شدت اب بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر خوش مزاج نہیں تھا بس چیک کرتا اور نسخہ ہاتھ میں دے کر چلتا کر دیتا۔ ماں جی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔تو نئے ڈاکٹر کا انتخاب کیا گیا۔جو اپنے شعبہ کا ماہر اور نہایت خوش اخلاق خوش گفتار بھی تھا۔ پل پل موت اپنا گھیرا تنگ کر رہی تھی اور ڈاکٹروں کی دی گئی معیاد پوری ہوئی اور آٹھویں ماہ وہ زندگی کی جنگ ہار گئیں۔
انہیں دفنانے کے بعد جب وہ واپس لوٹا۔ تو ابا جی کسی بھی طرح کے رد عمل سے بے نیاز اپنے کمرے میں سستا رہے تھے۔ اور وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے زندگی کی یہ جنگ اکیلے لڑنی ہے۔ ماں کا سہارا ختم ہو چکا تھا۔ ایک دعا دینے والے ہاتھ اب اس کے پیچھے نہیں تھے۔
انسانی دماغ کے خلیات کیسے کام کرتے ہیں۔ میڈیکل میں اسے مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ مگر اباجی کے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ اسے کیا نام دیتا ۔ کینسر ،دل کی بیماری اور فالج کی معلومات تو اسے کافی تھی مگر اس بیماری کا انجام کیا ہو گا۔ اس بات سے لا علم تھا ۔
روز بروز بڑھتی بیماری اس کے لئے نئی سوچ کے دروازے کھول دیتی۔ ہاتھوں کی انگلیاں مٹھی کی مستقل شکل اختیار کر چکی تھیں۔ جیسے انگلیاں انگوٹھوں کو آزادی نہ دینے کی ضد پر اوپر ایسے جم چکی تھیں ۔کہ ان کا ہلنا بھی ممکن نہ تھا۔ ٹانگیں بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہی تھیں۔
وہ سوچتا کہ کیسے ممکن ہے ۔انسان اچانک ہی کسی بات کو بھول جائے اور پھر یہ بھی بھول جائے کہ ہاتھوں سے گلاس یا چمچ کو کیسے پکڑا جاتا ہے ۔اور انتہا تو یہ کہ دست لگنے کی وجہ سے دو دن پلنگ پر رہنے سے یہ بھول جائے کہ اسے چلنا کیسے ہے۔ اس کے اباجی کے ساتھ یہ سب یکےبعد دیگرے ہو رہا تھا ماں جی کو فوت ہوئے تین سال ہوئے تھے ۔کہ دستوں نے ایسا کمزور کیا پھر انہیں اٹھنے کے لئے کہا تو پوچھنے لگے کیسے چلوں۔ ٹانگیں ان کے دماغ سے آزاد ہو چکی تھی۔ اب وہ کسی حکم کی محتاج نہیں تھیں ۔بلکہ اپنی مرضی کی مالک خود مختار اس جسم کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کر رہی تھیں اور پھر اس کی تقلید میں بازو، ہاتھ بھی ساتھ شامل ہو گئے اور خود مختا ری کا باری باری اعلان کرنے لگے۔--------- جاری ہے


تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Mar 4, 2011

بوڑھے کی لاٹھی - 2

 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔
حصہ دوم
اسے تو اپنے اباجی کے الفاظ یاد تھے کہ بیٹا میں ہائیکورٹ کا وکیل ہوں۔ چاہے آمدن کم ہے مگر عزت والا پیشہ ہے۔ وہ ہر پیشے کو پیسے سے نہیں عزت کی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
باپ بیٹے میں ایک ایسا رشتہ مضبوطی کے بندھن میں بندھ رہا تھا جو بڑھ کر عقیدت و محبت میں بدل گیا ۔
اس روز تو ابا جی کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ جب اس نےکہاکہ میرا ایم اے کا آخری سال ہے۔ ایک نیا پرائیویٹ لاء کالج کھلا ہے مجھے اس میں داخلہ لینا ہے۔ خوشی خوشی انہوں نے روپوں کا بندوبست کیا اور اس کا لا ء کالج میں داخلہ ہو گیا ۔
اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ گھر میں ماں باپ اس کی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے کرنے جارہے ہیں۔ ایم اے کی ڈگری اسکے ہاتھ میں تھی۔ ایف ای ایل کا امتحان دے چکا تھا۔ اس کے کانوں میں خبر پہنچی اب اس کی شادی کر دی جائے۔
لیکن ماں جی ! میرے پاس ہے کیا۔
وہ پریشانی کے عالم میں بولا ! بےروز گار ہوں ۔ ابا جی کی زرعی زمین کے ٹھیکے سے تو گھر کا خرچہ بمشکل چلتا ہے۔کیسے چلے گا ۔
بس! ماں حکم دینے کے انداز میں بولی۔ میں تھک چکی ہوں بیمار رہتی ہوں ۔ اب اس گھر کو ضرورت ہےایک بہو کی جو اسے سنبھالے۔
مگر ماں جی !
بات ادھوری کی ادھوری رہ گئی اس کی ایک بھی نہ چلی ۔
دور نزدیک کے رشتہ داروں میں اسکا رشتہ طے کر دیا گیا۔ اکتوبر میں منگنی کی رسم ادا ہوئی اور اگلے سال دسمبر میں شادی کا فیصلہ ہوا ۔
اسے تسلی تھی اس وقت تو لاء مکمل ہو چکا ہو گا۔ مگر حالات نے پھر ایک نیا رخ لیا اور شادی کو چار ماہ بعد ہی جنوری میں کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کیونکہ اسی گھر میں بیٹے کی بھی شادی طے تھی جب اس کی تاریخ مقرر کی جانے لگی تو اصرار ہوا کہ بیٹی کی شادی بھی ساتھ ہی ہو اور وہ طے کر دی گئی۔ جلدی میں سارے انتظامات مکمل کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔
اس نے لیکچرار شپ کی آسامی کے لئے اپلائی کر دیا اور انٹرویو کی تیاری میں مشغول ہو گیا۔
دوسری طرف ان کی زرعی زمین جن کے پاس تھی ۔ ٹھیکہ کی بقایا رقم کی ادائیگی کئے بغیر چھوڑ گئے اور صرف یہی نہیں واپڈا کے بقایا جات بھی ان کے سر ڈال گئے۔
ٹیوب ویل کا پانی کم ہو نے کی وجہ سے اب کوئی نیا ٹھیکیدار بھی رسک لینے کے لئے تیار نہیں تھا مجبوری میں نئے ٹیوب ویل کے لئے نئے ٹھیکیدار ہی سے رقم ادھار اٹھائی گئی۔
اب شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے اور اس کے ابا جی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی تھی ۔
ان کے علاوہ اس صورتحال کا کسی کوعلم نہیں تھا۔ تمام لوگ انہیں خوشحال تصور کرتے۔ کئی مربع زمین، دو کنال کا گھر، بڑے بیٹے باہر کے ملکوں میں برسر روزگار ۔مگر اندر کبھی کسی نے جھانکا ہی نہیں۔ اسی پریشانی میں ہائیکورٹ سے واپس آ تے ہوئے کے پائیدان سے چوٹ لگی تو سر سے خون بہنے لگا۔ پوچھنے پر کہنے لگے مجھے نہیں علم کیا ہوا۔ بس چگرا گیا تھا تانگہ سے ٹکرا کر گر گئے۔ بعد میں اس بات کا انکشاف ہو ا ۔انہیں فالج کا معمولی حملہ ہوا تھا ۔
انہوں نے ہمیشہ خودداری سے جینے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ۔ بیٹوں سے بھی کبھی تقاضا نہیں کیا تھا ۔
خودداری کا تو یہ عالم تھا ۔حسین شہید سہروردی جب پاکستان کا وزیراعظم تھا اسی پارٹی عوامی لیگ کے وہ فنانس سیکرٹیری کے عہدے پر فائز تھے ۔
ان کے چھوٹے بھائی نے ایم اے اکنامکس کیا۔ تو بھائی سے کہا کہ وزیراعظم سے کہہ کر کوئی نوکری دلوا دیں ۔وزیراعظم کی قیادت میں پارٹی اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں ہوتے شرکت کرنے جاتے تو چھوٹے بھائی کی درخواست کوٹ میں رکھ لیتے۔ واپسی پر بھائی کے استفسار پر کہہ دیتے مناسب وقت نہیں ملا بات کرنے کا اور بات ٹل جاتی۔
اس کی حکومت ختم ہو گئی ۔مگر انہوں نے درخواست اپنے کوٹ کی جیب ہی میں رکھی۔
انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو یہی تلقین کی ۔کہ اپنے بل بوتے پہ زندگی جیو ۔ سفارش کی سیڑھی سے زندگی کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کرنے والے ہمیشہ سیڑھی کے محتاج رہتے ہیں اور وہ خود اس کی زندہ مثال تھے ۔ایک سپاہی سے صوبیدار میجر تک ترقی پانے والے کا بڑا بیٹا اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کی حکومتی پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہا اوریہ قیام پاکستان کے بعد کا وہ ابتدائی دور تھا جب صرف جاگیر دار اور وڈیرے ہی سیاست کے ستون تھے اور انہوں نے ان میں رہتے ہوئے اپنا مقام بنایا ۔
اپنی اولاد میں بھی ایسا ہی دیکھنے کی ان کی ایک خواہش تھی ۔جو ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو ئی۔
شادی کی تیاری اپنے عروج پر تھی۔ سبھی بہت خوش تھے ایک نئی خوشی کا اضافہ یہ ہوا کہ اسے لیکچرار شپ مل گئی اور اپنی مہندی کے دن اس نےدوسرے شہر کے کالج میں جوائننگ رپورٹ کی۔
اب تو وہ بہت خوش تھا۔ زندگی کے اہم دو موڑ خوشیوں کے ساتھ ایک ساتھ اس کی زندگی میں وارد ہوئے۔
دوست احباب اس کی شادی کو خوش نصیبی سے تعبیر کر رہے تھے۔
مگر!
زندگی انسان کے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے۔ وہ کوئی نہیں جانتا ۔ظاہری خوشی اور کامیابی دیکھ کر ہی مستقبل کے سنہرے خواب آنکھوں میں بسا لئے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ان دیکھا خواب جو فیصلہ اپنے ساتھ لئے انسان کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی ،غم، کامیابی، ناکامی کی شکل میں کبھی سامنے آتا۔ تو کبھی چھپ جاتا اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آدمی کو اپنے لئے راستہ کا تعین کرنا ہوتا ہے ۔
انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔ اچھائی کو اچھائی ہی سے رغبت ہوتی ہے۔
اسکے ابا جی کا کردار بےمثال تھا۔ گھر میں جتنی بھی شادیاں ہوئی ۔لڑکی والوں نے ان کی شخصیت ہی کو سامنے رکھا ۔برادری میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
وہ دن بھی آن پہنچا جب بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور پھوار سے لاپرواہ بارات ایک سو میل کا سفر طے کر کے لڑکی والوں کے گھر پہنچی۔ بڑی دھوم دھام سے بارات کا استقبال کیا گیا۔
اس شہر کے لوگوں نے ایک نرالا ڈھنگ دیکھا۔ اس کے دوستوں کا حلقہ بہت بڑا تھا اور ان میں اسی پہلے دوست نےسہرا باندھنے کا اعزاز حاصل کیا۔خوشی میں بھنگڑا ڈالاگیا سارا شہر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ تو یہ ہیں زندہ دلان لاہور ۔
ساری رسومات احسن طریقے سے انجام پائی خوشی میں ہر فرد مسکرا رہا تھا ۔
مگر !

وہ انسان جو نہ جانے کب سے ذہنی کشمکش کی جنگ لڑ رہا تھا۔ کوئی بھی اس کی کیفیت کو محسوس نہیں کر پایا ۔ اسے بھی حوصلہ چاہیے ہو گا۔ شائدمدد کا طلب گار ہو۔
خوشیوں میں دکھ، پریشانی ایک ہارے ہوئے فوج کی مانندہوتی ہیں ۔جو موقع ملتے ہی دوبارہ حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف سارا گھرانہ اس بات سے لاعلم اپنی بڑھتی خوشیوں کا جشن منا رہا تھا اور دوسری طرف ایک انسان اپنی ہمت اور حوصلہ کی جنگ ہار رہا تھا ۔
اگلے دن ولیمہ میں سب مہمان آ رہے تھے وہ ان کے استقبال میں سب کو خوش دلی سے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اس کے ابا جی بار بار اس کے پاس آتے اور پوچھتے بیٹا کیا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا ۔
ابا جی !آپ فکر نہ کریں انتظام مکمل ہے۔ انشااللہ احسن طریقے سے ہر کام ہو گا۔
مگر وہ پھر وہی سوال دہراتے ۔بیٹا کہیں کمی نہ رہ جائےاور وہ پریشانی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔
سب مہمان واپس جا چکے تھے۔ شامیانے اتر گئے،برتن سمیٹ لئے گئے، گھر کے سبھی افراد خوش گبیوں میں مصروف تھے۔ کہ اس کے ابا جی اپنے کمرے میں جاتے ہی بستر پر گر گئے اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے لاتعلق بے ہوش ہو گئے۔ شادی میں شرکت کے لئے ڈاکٹر بیٹا جو خاص طور سے بیرون ملک سے آیا تھا ۔اس نے چیک اپ کیا تو انکشاف ہوا۔کہ انہیں فالج کا حملہ ہوا ہے۔
یہ الفاظ سنتے ہی جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔
یہ کیسے ہوگیا !
اباجی! اباجی !کی آوازیں دیتا بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔ چند گھنٹے پہلے تک جہاں خوشیوں کے شادیانے تھے۔ وہیں غم کے بھاری بادل چھا گئے۔ نئی نویلی دلہن جائے نماز پہ ان کی زندگی کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی ۔کہ کہیں میرے اس گھر میں داخل ہوئے قدموں کو نحوست سے نہ تعبیر کر لیا جائے۔ مگر اٹیک معمولی تھا چند دنوں میں صحت یاب ہو گئے۔
مگر یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہ سکی اور تین ماہ بعد پھر دائیں طرف ایک شدید فالج کا حملہ ہوا۔ بیماری سے ابھی پوری طرح سے چھٹکارہ نہیں ملا تھا ۔کہ چار ماہ بعد اس کے چچا کا جوان بیٹا ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوا اور ایک ہفتہ کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس کےابا جی کو اپنے چھوٹے بھائی اور اس کی اولاد سے بہت محبت تھی ۔یہ اچانک صدمہ وہ برداشت نہ کر پائے۔ اور اپنے حواس کھو بیٹھے اور زندگی کے وہ واقعات جو پچاس سال پیشتر پیش آئے تھے۔ ابھر کر دماغ کی سکرین پر نمودار ہو گئے۔
حال ختم ہو گیا اور ماضی زندہ ہو گیا ۔
ایک طرف جوان موت جنازہ کی صورت میں چارپائی پر پڑی تھی اور دوسری طرف ایک بوڑھا اپنی جوانی کے واقعات کو اپنے بیٹے کو ایسے سنا رہا تھا۔ جیسے کل ہی کا واقعہ ہو۔ چار گھنٹے کی روئداد سنانے کے بعد ۔پھر وہیں سے شروع کر دیتے جیسے ابھی سنائی نہ ہو ۔
نیند سے بوجھل اس کی آنکھوں میں اب جاگنے کی تاب نہیں تھی۔ پچھلے چالیس گھنٹوں سے جاگ جاگ کر اب اس کی ہمت نہیں تھی جاگنے کی۔
ابا جی مجھے نیند آئی ہے میں سو جاؤں ؟
ابھی میری بات کہاں ختم ہوئی ہے !
ایک ہی کہانی پچھلے کئی گھنٹوں میں وہ کئی بار سن چکا تھا۔ ذہنی امراض کے ڈاکٹر کا کہنا تھا۔ دوائی آہستہ اثر کرے گی ۔دماغ کی رفتار تیز ہو چکی ہے۔ ماضی واپس لوٹ آیا اور حال چند پل سے زیادہ کا نہیں رہ گیا۔
وہ سوچ رہا تھا ۔کہ انسان کا دماغ اپنے اندر ہر واقعہ کو جزئیات سمیت کسی کیسٹ کی طرح ایسے ریکارڈ کر لیتا ہے۔کہ جب حال رک جائے تو ماضی کی فلم نکل کر چل جاتی ہے۔
چند مہینوں میں اس کے ابا جی کافی حد تک سنبھل چکے تھے ۔خاموش زیادہ رہتے اور یہ سب دوائی کے اثرات تھے۔ان کی خاموشی ایک خاموش طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ جس سے وہ لا علم تھا کہ اب اس کی زندگی میں کیا کیا ہونے والا ہے۔یہ کونسی بیماری ہے۔ جسے ڈاکٹر کوئی بھی نام نہیں دے رہے۔ ماسوائے اس کے کہ دماغ کی شریانیں سکڑ گئی ہیں۔ خون کی گردش صحیح طرح سےنہیں ہو پا رہی۔
اسی دوران اسے اللہ تعالی نے پہلی اولاد نرینہ سے نوازا ۔جس پر گھر کا ہر فرد پھر بہت خوش تھا ۔دادی پوتے کی محبت میں سرشار تھی ۔ باپ کے بعد اب اس کا بیٹا اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا ۔جسے پا کر وہ بہت مسرور تھی ۔ بہو لانے کے بعد انہوں نے گھر کے کاموں خاص طور پر کچن سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی ۔ زیادہ وقت اپنی عبادت یا پوتے کو سنبھالنے میں صرف کرتیں ۔
اسی دوران انہیں شدید درد نے آ گھیرا تو انکشاف ہوا ۔کہ ان کے پتے میں پتھری ہے ڈاکٹروں نے تین دن ہاسپٹل رکھنے کے بعد یہ کہہ کر اپریشن سے انکار کر دیا کہ دل بڑھا ہوا ہے۔ ایسے مریض کا رسک نہیں لیا جا سکتا ۔
ایک طرف بوڑھا باپ جو اپنی زندگی بھولتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف بوڑھی ماں جو پتھری کے درد سے نڈھال ہو جاتی مگر اپریشن ممکن نہیں تھا۔ ایک بیٹا اپنے والدین کے لئے ہر ڈاکٹر سے منت کرتا کہ وہ اپنے والدین کی تکلیف نہیں چاہتا ہر ممکن مدد کا طلب گار رہتا ۔
اس کی سگریٹ کی عادت بہت بڑھ چکی تھی جب بھی وہ تنہائی میں ہوتا ۔سگریٹ کے دھواں میں اپنے سوالوں کے خود ہی جواب تلاش کرتا۔جو وہ کئی سال پہلے اپنی ماں کی گردن اور کندھوں پرآئیوڈیکس تو کبھی وکس ملتے ہوئے اکثر مذاق میں کیا کرتا تھا ۔
ماں جی آپ کی اتنی اولاد تھی پھر میری دنیا میں کیا ضرورت تھی؟
ماں اسےڈانٹتے ہوئے کہتی !
تمہیں شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے۔
آتی ہے۔ جب دو سال بڑا بھتیجا مجھے چچا کہتا ہے۔ اس کے جواب پر ماں خاموش ہو جاتی۔
اس کے سب سے بڑے بھائی اور اس میں تیس سال کا فرق تھا۔ دو شادیوں میں بچوں کی عمروں میں اتنا فرق ۔کبھی کبھار ایسا بھی ہو جا تا ہے۔
آج اسے اپنے وہ سوال جو ماں سے مذاق مذاق میں کئے تھے۔ جواب مل گیا تھا کہ
دنیا کا بنانے والا انصاف کرنے والا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ صرف رزق اور موت نہیں مقصد بھی لےکر آتا ہے۔ جو کبھی کبھار سوال بن کر اس کے ذہن میں ابھرتے رہتے تھے۔ ان کا جواب اسے مل چکا تھا اور اپنا مقصد بھی !
کیوں اس کے ذہن میں کبھی بھی ملک سے باہر اچھے مستقبل کی خواہش پیدا نہیں ہوئی۔ دوستوں پر حیران ہوتا تھا کہ انہیں کیا بے چینی ہے۔ جو ہر ملک کی ایمبیسی سے نامراد لوٹتے ہیں۔ ایک بار تو ایک دوست نے امریکہ کی خاتون اول کو بھی خط لکھ دیا۔ ویزہ آفیسر کے خلاف ویزہ نہ دینے کی پاداش میں !
آج ان میں سے کافی ملک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے۔ اور وہ وہیں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہا تھا ۔جو اسے خوش نصیب قرار دیتے کہ تمھارے راستے کھلے ہیں۔
اس کے راستے کھلے بھی منزل کی نشاندہی نہیں کر رہے تھے۔ اور جن کے بند تھے وہ اپنی منزل کی تلاش میں ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگ رہے تھے۔ نہ جانے انسان اپنوں سے جدا ہو کر۔ غیروں کےکن احسانوں کو چکانے کے لئے رشتوں کو پاؤں کی بیڑی سمجھ کر توڑ دیتا ہے ۔اور باپ کی حیثیت سے اولاد کے ساتھ جس رشتے کو وہ نبھانے جارہاہوتا ہے۔ وہ خود ہی اس رشتے کی پامالی کاباعث ہو چکا ہوتا ہے۔ اور رشتوں کی مجبوری کو خودغرضی کا جواز بنا دیتے ہیں ۔
جو بویا ہے وہی کاٹنا ہے ۔پھر شکوہ کا تو کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ مگر ایسے انسان ملنے والی ہر کامیابی اپنے دم اور بل بوتے کے نام کر دیتے ہیں۔ اور ناکامی کا سہرا کبھی دوسرے تو کبھی قسمت پر ڈال دیتے ہیں۔
اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی جب -------------- جاری ہے


تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک