Mar 29, 2014

چراغِ شب بجھا دو

ایمان کا تقاضا کیا ہے ؟ رضا کا مقام کیا ہے؟ ثواب کی جزا کیا ہے؟ گناہ کی سزا کیا ہے؟ صبر کی انتہا کیا ہے؟ مشکل کی انتہا کیا ہے؟ پریشانی کا حل کیا ہے؟ جستجو کا انجام کیا ہے؟ مدد کی طلب کیا ہے؟ اور حاصل کا وجود کیا ہے؟
ان میں سے کچھ لازم ہیں باقی ملزوم ہیں ۔لیکن شائبہ کی گنجائش نہیں۔شک کا احتمال نہیں۔شکوہ کی اجازت نہیں۔خواہشیں آرزؤئیں لاکھ انگڑائیاں لے لے بستر مرگ پہ سلوٹوں سے تابندگی کی نوید اُمنگ جگاتی رہیں۔مگر زندگی کی ناؤ  تا دم ازل و آخر حیات و ممات کے سمندر میں موجزن ململی لہروں پر رقصاں رہتی ہے۔
نا اُمیدی اتھاہ گہرائیوں کے اندھیرے سناٹے میں چیخنے چلانے کے بے ہنگم ہنگامے پر شادمانی  میں جھومتی رقصاں رہتی ہے۔ یہیں سے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب ضروری ہو جاتا ہے۔ ڈوب جاؤ یا پار لگ جاؤ۔ اُڑتے رہو یا گر جاؤ۔توکل اختیار کرو یا تحمل برد باری چھوڑ دو۔ رضا کو پا لو یا خواہشیں چھوڑ دو۔روشنی کے لئے چراغ میں تیل ڈالتے رہو یا کرنیں بکھیرتی صبح کے انتظار میں چراغ شب بجھا دو۔ مایوسی کا خوفناک عفریت ایسا سراب چاہت بناتا ہے کہ چشم َ عقل اندھے کی لاٹھی کی مثل ٹھک ٹھک راستہ تلاش کرتی ہے۔ منزل جتنی دور ہو گی راستے اتنے آسان ہوں گے۔ منزل جتنی قریب ہو گی راستہ اتنا ہی مشکل۔
شاہی تخت یا تختہ کی ترکیب پر ہوتی ہے۔زندگی میں اور تو کی ترکیب پر۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو سراسر پورے تول کی غمازی کرتی ہے۔ جتنا دیا اس سے کم پر سمجھوتہ نہیں کرنا۔ زندگی پانی ہے تو موت دے دو۔ بھوک مٹانی ہے تو دوسرے سے چھین لو۔طاقتور بننا ہے تو  مد مقابل کو کمزور بنا دو۔
 ناخنوں کی تراش کے دوران ایک ہلکی لائن کے پیچھے زندگی اور اگے موت پاتا ہوں۔ بند آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں کان سوتے میں سننے سے ۔سانس اور دھڑکن  کی حد خاموشی کے اس پار ہے۔ اس کے لئے ایک وقت کا انتظار ہے۔ ایک کمزور بال کھینچنے کی معمولی تکلیف پر پورا وجود یکسوئی سے اس مقام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔زبان بہت گرم اور نہایت ٹھنڈے کے درمیان ہی عافیت سے رہتی ہے۔بدن جاڑے میں لحاف اور  گرمی میں ہوا سے تسکین پاتا ہے۔خوشبو آنکھوں میں نشہ بھر دیتی ہے ۔ بد بو پورے وجود کو کچوکے لگاتا ہے۔
پھر یہ نفس ہی ایمان کا امتحان کیوں ہے۔دراصل دنیا امتحان گاہ ہے جس میں پرچہ ایمان کا ہے حل نفس کو کرنا ہے۔ سوالات کے آؤٹ آف سلیبس جوابات سے صفر ہی حاصل ہو گا۔ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہو گی اصل کیا جعلی کیا۔ مگر نقل محنت سے جیت نہیں سکتی۔پاس کا رتبہ اور ہے فیل کا مقام اور۔ نہ تو دنیا گیلری ہے اور نہ ہی دنیا دار آرٹ کے نمونے۔ جیسے کہ میٹروپولیٹن میوزیم نیو یارک میں رکھے یونانیوں کے عہد قدیم کے ننگ دھڑنگ دیو قامت مجسمے۔
جیتے جاگتے انسان جو ناخنوں سے مردہ حصے باقائدگی سے الگ کرتے ہیں۔ روح کی زندگی یعنی ایمان  کی تراش سے کسی بھی تکلیف کے احساس سے محروم کیسے رہتے ہیں۔لالچ وغرض کے کفن میں لپیٹ کر زندہ درگور کر دیتے ہیں خواہشوں آرزؤں کی مالاؤں  سے یاد کے دئیے روشن رکھتے ہیں۔یہ ایسا قبرستان ہے جہاں ایک کے بعد ایک زندہ حصے دفن کرنے چلا آتا ہے۔مردہ حصے چمکتے دمکتے گھروندوں میں سجانے میں مشغول ہے۔
 
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Mar 26, 2014

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

دل کی بات یوں زبان پر چلی آئے گی سوچا نہ تھا۔ آج نئی بات کہوں تو زمانہ پرانی روش پر چل نکلے۔
 نہ تھا کچھ تو خدا تھا  کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈ بویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
حالت پرواز میں نفس نگری کی رفتار ایک بار بلندیوں کو چھونا چاہتی ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ہولے ہولے جھولتے جھولتے اٹکتی اٹکتی بے بسی سے خاک چاٹنے تک جا پہنچتی ہے۔ سر تکیے سے اوپر رہے تو نیند میں مددگار ہے۔خیال سر تک نہ پہنچے تو زندگی پر نہیں کوئی بار ہے۔ جھٹک جھٹک ایک لمحے کے توقف سے پھر سر چڑھ دوڑتا ہے۔ اُٹھا اُٹھا پٹخنےسے بھی زندہ جاوید رہتا ہے۔ کم از کم دیار غیر میں یار کا تو یہی حال ہے۔ یار وہی جس کے ہم خیال ہیں۔کبھی بھاری تو کبھی طاری ہے۔کبھی خوشی میں  آنسو ٹپکا دیتا ہے تو کبھی درد میں مسکرا دیتا ہے۔ یہی تو ہےجو ماہر تیراک دبو دیتا ہے۔ اناڑی کنارے پہنچا دیتا ہے۔قدم جس کے بتائے راستے پر چلتے ہیں ۔آنکھیں ہزاروں مناظر میں سے ایک منظر تلاش کرتی ہیں۔ جو قلب کو سکون ،عقل سرور میں مبتلا کر دے۔ مگر یہ آنکھیں بھی ظلم ڈھاتی ہیں پلکیں جھپک جھپک پسند کو پردے کے پیچھے اور جو نا پسند ہوں باہر گراتی جاتی ہیں۔ جنھیں دماغ یاداشت سے اور قلب احساس سے مٹاتے جاتے ہیں۔ نہ جانے کیوں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تصور خیال بن جانے والے اور نظروں سے گرائے جانے والے بیٹوں اور بیٹیوں جیسی پیدائش اظہار کی مماثلت رکھتے ہیں۔خیال تو خیال ہوتا ہے جہاں سے چنا جاتا ہےوہاں ڈھیروں اپنی اپنی باری کے انتظار میں پلکوں میں سمونے کو بیتاب رہتے ہیں۔ ہیروں کی تلاش میں آنے والے جوہریوں کی نظر التفات سے ہار میں پرو دیئے جاتے ہیں۔
جن کے محبوب اچانک خیال سے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ وہ آنکھیں جھپکانا اور گردن جھکانا بھول جاتے ہیں۔  منزل تک پہنچنے کے مراحل طے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ راستہ ہموار نہ ہو تو  ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔مگر جن کی منزل حقیقت کا روپ پہلے سے اختیار کر لے ، ان کے غیر ہموار راستے بھی ارادوں کو متزلزل نہیں کر پاتے۔
مگر یہ منظر کشی نظر اختتام کے بس سے باہر ہے۔نظر ابتدائ ہی سے یہ کینوس پر روشنی ڈال کر ایک شاہکار ابھار دیتی ہے۔ روشنی اپنے ہر رنگ سمیت اپنا انگ انگ منتقل کر دیتی ہے۔ پھر چاہے پلکیں نظر پر پردے گرا دیں ۔ایک دنیا اس کے پیچھے بسیرا کر لیتی ہے۔ ہونے کا علم کرنے کے حکم سے بھاری پڑ جاتا ہے۔ راز و نیاز میں میں نہیں ہوتا ۔ بس تو ہی تو سے ہوتا ہے۔ پلک اُٹھنے سے تو ہے تو پلک گرنے سے صرف میں ہے۔ مقام ایسا جہاں نہ عقل ہے نہ شعور ۔ جو رات سفر میں ہے وہ بستر میں نہیں۔
جو رزق دیار میں ہے وہ وطن میں نہیں۔ مصالحت کوشش سے ہے ،مصلحت رضا  سے ہے۔الفاظ چناؤ  کے محتاج ہیں، مفہوم چنے جانے کا۔ پانی کا بہاؤ اخراج سے طے کر لیتا ہے کہاں اور کیسے راستے بنانے ہیں۔چاہے بند کتنے ہی کیوں نہ بنا لئے جائیں مگر بہاؤ کے راستے پلوں کے محتاج رہتے ہیں۔
آج کی بات اگر آسان نہیں تو اتنی پریشان بھی نہیں۔ پڑھنا اگر کہیں بھی مشکل ہو تو پلکیں گرا کر سننے میں آسان  بیان رہتا ہے۔ کیونکہ نظریں زیر زبر کے زیر بار رہتی ہیں۔سننا پابندی سے مستثنی ہوتا ہے۔
تحریر !  محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک