May 28, 2014

پہچان ِ انسان کا ا متحان

ہم پیدائش سے لے کر لحد تک سیکھنے سکھانے ، سننے سنانے ، منانے منوانےاورکھونے پانے کی کشمکش سے گزرتے ہیں۔کبھی چہرے کھل جاتے ہیں تو کبھی اُتر جاتے ہیں۔کبھی آنسو بہہ جاتے ہیں تو کبھی نکل جاتے ہیں۔ہم جان ہی نہیں پاتے ہم چاہتے کیا ہیں۔عارضی تسکین یا ابدی سکون؟
تعریف و تحسین لباس کی ہو یاحسن و جمال کی ،شان و شوکت کی ہو یا عنایاتِ خداوندی کی ۔۔۔رطوبتِ ہم آہنگی سوچ میں بہہ کر آنکھوں میں اُتر آتی ہے۔ جو ہمدردی کے لبادے اوڑھ کر مقامِ رفعت و عزت  پر ٹڈی دل حملہ آور بن جاتے ہیں۔جو وجود کی کھیتی اُجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
زمانہ جاہلیت سے ہی انسان پہچان کے امتحان سے گزرنے پر مجبور ہوا۔آگ ، چاند ،تارے اور سورج سے ہوتے ہوئے تخیلاتی بت پرستی پر صدیوں تک رکا رہا۔ہر نئی اُمید کی کرن اسے اپنی منزل کا نشان نظر آئی۔جس کی اندھا دھند پیروی شروع کر دی گئی۔ کبھی زائچوں سے تو کبھی جنتریوں کے ہندسوں سےقسمت و تقدیر کو جاننے کی سعی کی جاتی رہی مگر حاصل نمرود و فرعون سے مختلف نہیں۔۔۔فتح کے نشہ میں سرشار سکندر یونانی بھی خالی ہاتھ ہی رہا۔ 
حالات و واقعات تو مختلف ہو سکتے ہیں۔۔۔چہرے  تبدیل ہو سکتے ہیں۔۔۔ مگربہکنا ، سنبھلنا آج بھی وہی پرانی روش پر ہے۔مقصدِ حیات سے ہٹانے والے مجبوریوں ،لا چاریوں ،ہمدردیوں ، محبتوں ، چاہتوں کے راگ آلاپتے  ۔۔۔اپنی محرومیوں کا رونا رو تے ۔۔۔نفس ِدرندگی کی تسکین  پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔
جو آنکھیں ان چہروں کے پیچھے ہمدردی میں چھپے زہر فناءحقیقت کو دیکھ نہیں پاتیں۔۔۔۔تنہائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔قسمت ان سے روٹھ جاتی  ہے۔ میَں کا خول انہیں کھلنے نہیں دیتا۔ روشنی سامنے پا کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔کیونکہ تعریف وتحسین ایسا سانپ ہے جو حقیقت شناسی کی سیڑھی چڑھنے نہیں دیتا۔
ہمدردی کے دیپ جلا کر روشنی کی طرف بلانے والے خود چھپکلیوں کی طرح  دیواروں سے چپکے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
معصوم بھولے روشنیوں سے محبت کرنے والے روشنی ہی کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔اندھیروں سے بے خوف ہو جاتے ہیں۔جو انہیں کھینچ کر خود فریبی کی دلدل میں پھینک دیتے ہیں۔جو انہیں نکالنا چاہے تو خو ڈوبنے کے خدشے میں ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔
آج کی دنیا  نیٹ کی دنیا ہے جس میں ہم جتنے بھی با پردہ  کیوں نہ ہوں لفظ روح کو بے لباس کر دیتے ہیں۔سوچ و افکار کی آڑ  میں  چھپے آستین کے سانپ ڈسنے چلے آتے ہیں۔ چہروں کے شیدائی چہرے پیچھے، لفظ کے دیوانے لفظ کےپیچھے اورنفس کے بھکاری مجبوریوں کی صدا لگاتےمحبت کشکول  پھیلائے سوالی بنے پھرتےہیں۔
کمپیوٹر  وہ آئینہ ہے جس میں ہم دو آنکھوں سے یہ سوچ کر دیکھ رہے ہیں  کہ صرف  ہم ہی دیکھ رہے ہیں مگراسی کے دوسری طرف  ہزاروں آنکھوں سےہم دیکھے  بھی جا رہے ہوتے ہیں۔  وہ  اپنی سکرین پر جودیکھنا چاہتے ہیں صرف انہیں ہی تلاش کے بعد دیکھتے ہیں۔
در دستک >>

May 24, 2014

تشنگی کی انتہا

کائنات کی وسعتیں لا محدود ، تا حدِ نگاہ فاصلے ہی فاصلے،نگاہ اُلفت سے کھوج کی متلاشی مگرتھکن سے چُور بدن کا بستر پر ڈھیر ہو نا اپنی ذات پر احسانِ عظیم   سے کم نہیں ہوتا۔بظاہر  یک نظر تخلیق و حسن کے جلوے  آنکھوں پر لا علمی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور عقل پر دلیل کی۔حقیقت جانے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔حقیقت جاننے کے لئے مخبر خیال مثبت و منفی رویوں کی چغلی کرتے پائے جاتے ہیں۔وسوسہ خیال کی جڑوں میں نا اُمیدی کی کھاد ڈالتا ہے۔جو اسے حقیقت بن کر سچ تک پہنچنے کے راستے کی دیوار بنتا ہے۔
حقیقت شناسی کا علم ایک سمندر ہے جس کی چاہ پانے والوں کی جزبیت  چڑیا کی چونچ میں سمانے والے قطروں سے زیاد نہیں۔ اللہ کی محبت جس دل میں سما جائے وہ  عشق کا ایسا سمندر ہے جس کی تشنگی ایک چڑیا کی چونچ میں سمانے والے چند قطروں سے ممکن نہیں۔آگ پانی سے دور اپنے آلاؤ روشن رکھتی ہے۔سمندر کے سینے پر جلنا آتش کے بس کی بات نہیں۔جب پانی اپنے بہاؤ سے ان راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے تو  آگ کی چنگاریاں چیخ چیخ کر دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔بچتا ہے تو صرف پانی ۔۔۔۔۔پیاس بجھانے سے لے کر سیراب کرنے تک  ۔۔۔۔دھرتی حدت سے نمو پانے کے نشے میں اُتر جاتی ہے۔
قلب عشق کا وہ سمندر ہے۔۔۔ جو اس کے وجود پر اُترتا ہے تو۔۔۔۔۔چند قطروں سے بیتابی ۔۔۔۔شادابی میں بدل جاتی ہے۔سمند ر کی تشنگی پیاس مٹانے میں ہے ۔۔۔۔۔خود مٹنے میں نہیں۔۔۔۔۔۔جو اعتماد اور چاہت کی کشتیوں کے بادباں کھول کر  عشق کے سمندر میں اُترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو  عقیدت و احترام کی لہریں انہیں غرق کرنے کی بجائےبحفاظت کناروں تک پہنچا دیتی ہیں۔
محبت کے موتی چونچوں میں بھر کر وہ چڑیاں  ۔۔۔۔نفرت و حقارت کےجلتے آلاؤ میں ۔۔۔۔۔ڈالے جانے والے عاشقوں کو بچانے کے لئے  ۔۔۔۔چونچ میں بھرے محبت کے سمندر سے لائے ۔۔۔۔ چند قطروں سے آگ بجھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔  وہ جانتی ہیں کہ یہ  پانی عاشق ِحقیقی کو  آگ سے بچانے کے لئے نا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر عشق و محبت کی داستان میں وہ اپنا کردار نبھانا چاہتی ہیں۔تاکہ سچے عشق اور سچے عاشق کی نظر میں سرخرو ہو جائیں۔
تشنگی کی انتہا کیا ہے؟
 سمندر کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایک  چڑیا کی چونچ   ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے سمندر سے چند قطرے پانی چڑیا کی چونچ میں عشق کی آگ بجھانے میں جب  ناکافی ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔تو تشنگی کی انتہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ پا کر بھی مکمل پایا نہ جا سکے۔۔۔۔۔۔ بجھا کر بھی مکمل بجھایا نہ جا سکے۔
برسہا برس سے  خوش نصیبی کو ترستی بنجر زمین ۔۔۔۔۔ جس کے اوپر سےبادل بن برسے گڑ گڑا کر  گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چند قطرے سیرابی  کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ یہ زمین کی تشنگی کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر بادل مکمل برس کرتحلیل ہونے سے سیراب ہونے کی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔یہی اس کی تشنگی کی انتہا ہے۔
اشرف المخلوقات میں تشنگی کی انتہا جاننے کے لئے ۔۔۔۔۔  کیفیت سے زیادہ عقل کے ترازو پر رکھی سمجھ  بوجھ  ۔۔۔۔۔کانٹ چھانٹ کے بعد محتاط طرز عمل سے زیادہ تر پڑھی جاتی ہے سمجھی نہیں۔
کسی جزبہ ۔۔۔۔شدت احسا س۔۔۔۔۔۔افکار تخیل۔۔۔۔۔۔لمس لفظ ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔۔قربتِ محبوب کی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔
صرف اتنا جان لینے سے حقیقت حق کے ساتھ  ۔۔۔۔ ضمیر روشن کو آمادگی کی راہ پہ   ۔۔۔۔خوش آمدیدی نظریں بچھائے  ۔۔۔۔لینے آ جائے تو جواب مل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔لینے کی جگہ اگر اللہ تبارک تعالی کی محبت کا سمندر ہو  ۔۔۔۔۔۔۔ پانے والی چڑیا ہو۔۔۔۔۔۔  دینے کی جگہ آگ میں ڈالا گیا عشق حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تو پانے میں کمی اور دینے میں جان تک چلی جانے سے تسلی نہ ہو  تو
تشنگی کی انتہا کسے کہتے ہیں  ۔۔۔۔۔جان جاتےہیں۔


 تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

May 21, 2014

نقطہء تحریر _ 2

دوسروں کے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے بھول جاتے ہیں کہ اس راستہ میں پگڈنڈیاں نشاندہی نہیں کرتی بلکہ سب ہی اپنے راستوں کے قطب ستارہ ہیں۔

قلب کی قربتیں جسموں پربہت بھاری ہوتی ہیں۔ اس رشتے کو ہمیشہ ساتھ رکھیں جو روح کے لئے ایک لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتا ہے ۔

پر آسائش گداز بستر ہو یا آرام دہ سفر چند پل کے بعد وہی بدن اکتاہٹ و مجبوری میں بدل جاتا ہے۔

ہمارا سفر ایک ہے اور منزل بھی ایک ہوتی ہے مگر مسافر روز الگ الگ ہیں۔منزلیں سب کی بظاہر تو ایک ہیں اور راستے بھی بظاہرایک مگر وہ فنا کے راستے ہیں اسی لئے تو ایک ہیں۔

انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے۔

جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں۔

جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔

جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں۔

مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے۔ جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔

زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں۔

پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں۔

اگر صبر و شکر میں انتظار رہے تو مادیت کے کرب سے روح محو پرواز رہتی ہے۔

خواہش میں انتظار ہو توکرب ، اسباب ہوں تو فرحت کا باعث ہیں۔

پھول کھلنے کے لئے کانٹے کافی نہیں ، نئے پتوں کا انتظار رہتا ہے۔

بادل ٹہلنے سے دھواں ہیں مگر دھواں برسنے میں بادل نہیں۔

جو موسم کا انتظار نہیں کر سکتے وہ پھلوں کی چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں۔

جو فیصلوں کے انتظار میں رہتے ہیں کرب نہیں جھیلتے، راحت پاتے ہیں۔

خوش نصیب ہیں وہ جو دل کے رشتوں کے قریب بستے ہیں۔فاصلے چاہے جتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہوں مگر محسوس انہیں ہمیشہ قریب ہی کرتے ہیں۔

محبت رکھنے والے کبھی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں دیتے کہ جس سے دیکھنے والا فعل کی نسبت محبوبیت سے جدا کر سکے۔

آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔

جسے اپنی منزل تک رسائی کی جتنی جلدی ہوتی ہے ان قدموں کا ساتھ دست و بازو بھی پوری تندہی سے دے رہے ہوتے ہیں اور ایک وفادار غلام کی طرح ہوس و حرس کے آقا کی دلربائی کا اہتمام کرنے میں جتے رہتے ہیں۔

دوسروں کے آئینے میں اپنا عکس دیکھنے والے بھول جاتے ہیں خوشبو سدا نہیں مہکتی، جوانی سدا نہیں رہتی، اس مٹی سے پیدا ہر چیز مٹی ہو جاتی ہے۔

تکلیفیں ،پریشانیاں ،دکھ انسان کو کمزور کرنے نہیں آتے بلکہ وجود میں صبر، برداشت، ایمان کی پختگی کا پیغام لاتے ہیں۔

بدن روح کی طاقت کا محتاج ہے جو اسے ہم دیتے ہیں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ آسائش، سہولت، شاندار طرز زندگی اسے اپنے اصل سے بہکاوہ کی ترغیب دلاتے ہیں۔

بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کی جنگ لڑتا ہے۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ۔ اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتاہے۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے۔ وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی و اداسی۔

کوشش میں اگر کمی ہو تو حالات کی ذمہ داری قسمت پر ڈال دی جاتی ہے جو رو دھو کر شکوہ پر ختم ہوتا ہے۔

کمزور پودے زندگی تو پالیتے ہیں مگر طوفانی حالات کے تھپیڑوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا پاتے۔

عالم فناہے تو علم بقا ہے،عامل فناہے تو عمل بقا ہے ،جسم فناہے تو روح بقاہے ،زخم فنا ہے تو درد بقا ہے ،دوا فنا ہے تو اثر بقاہے ،محبوب فنا ہے تو محبت بقا ہے ،ماں فنا ہے تو مامتا بقا ہے۔

جو آنی جانی شے کی محبت   میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔

سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے، غنی ہے ، غفور ہے ، رحیم ہے ، محبتیں اس کی امین ہیں ،

گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔

ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔

شائدانسان تخلیق سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے۔

کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے اچھا یا برا۔

ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں۔

جب نظام کائنات نے اپنا وجود اسی کے حکم کے تابع کردیا تو پھر نظام حیات کے متعلق قیاس و گمان کیوں رہتا ہے۔

اللہ تعالی کے فیصلے انتظار کی اذیت سے دوچار نہیں کرتے۔بلکہ بروقت راحت و تسکین کا باعث ہوتے ہیں۔

ہر راستے پر کھڑا نیا موڑ اگلے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لئے راستے نہیں ناپے جاتے بلکہ موڑ ان راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو منزل کی طرف جاتے ہیں۔

اندھیرے جو دکھاتے ہیں سورج انہیں چھپا دیتا ہے۔نظروں کے سامنے اپنا منظر پیش کرتاہے۔آنکھیں اسی کی عادی ہو جاتی ہیں اور اسی کو دیکھنا پسند کرتی ہیں۔اندھیروں سے خوف کھانے لگتی ہیں۔

قدم راستوں سے شناسانہیں ہوتے روشنی کے تابع ہوتے ہیں۔

ہر شے اپنی جگہ موجود رہتی ہے اور سبب سے تعلق کی بنا پر نظر سے جڑی رہتی ہیں۔

روح احساسات بدنِ فانی سے چند لمحوں کے لئے آزاد رہتی ہے،پھر تو اگلی آزادی تک جسم جسموں پر چنگھاڑتے برستے آگ اگلتے روز ہی فنا ہوتے ہیں۔

جوں جوں تفکر ایمان بڑھتا چلا جا تا ہے وجود اس کے مقابل کمزور سے کمزور ہوتاجاتا ہے۔

محنت کی آبیاری سے صبر و شکر کی فصل تیار ہوتی ہے۔خیالات کی کھیتی میں شکوہ کی فصل کاٹی جاتی ہے۔

لکھنا قلم سے ہو تو قلمی دوستی سے آگے نہیں بڑھ پاتی مگر قلب سے لکھنا قلبی تعلق تک وسیع ہے۔

آنکھوں سے دیکھنا صفحات پر اترتا چلا جائے تو نشتر بن کر زخم دیتا ہے۔ قلب سے جو اترے تو خنجر بن جاتا ہے

جو کھونے کے خوف سے پہلے سے جمع سنبھالنے میں آنکھیں بند اور ہاتھ باندھ لیتے ہیں۔ وہ دینے والے کے انعامات سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں۔

زندگی کا کھیل آنکھ مچولی نہیں کہ ایک چھپ جائے تو ڈھونڈتے رہو۔یہ منظر اور نظر کی محبت کا کھیل ہے۔

نظر جب پانے کی خواہش پالیتی ہے تو منظرمنظورنظر ہو جاتے ہیں اور نظر میں بس جاتے ہیں۔ اوجھل روشنی ہوتی ہے منظر اندھیرے میں بھی روشن رہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے جسم کو زمین کی قید سے آزادی کے لئے صبر و شکر ، استقامت اور عبادت کا پروانہ تھما دیا۔

روشنیوں میں راہ پانے والے اندھیروں سے چھپتے ہیں۔روشنی کے جگنو دن میں خود چلتے تو اندھیرے میں راہ دیکھاتے ہیں۔

قرآن و سنت اندھیروں میں روشنی سے اجالا لانے کا ذریعہ ہے۔اب بھی کوئی اندھیرے میں رہنا چاہتا ہے تو ایسی عقل پہ ماتم کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

زندگی میں بہت سی باتیں سمجھ آنے کے باوجود سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں۔

انسانی تخیل سے نکلتے افکار اظہار رائے کا شاہکار تو ہو سکتے ہیں مگر زندگی کی سچائی نہیں ۔

سوچ بن کر وہی زندہ رہتے ہیں جو ناکامی کو قسمت کا کھیل سمجھ کر ہتھیار نہیں ڈالتے بلکہ بار بار کی کوشش سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں۔


محمودالحق
در دستک >>

May 19, 2014

نقطہء تحریر

:: زندگی کے پل جسم سے تو جدا رہتے ہیں مگر کبھی خود تو کبھی جواز پیدا کر کے جسم ہی کو احساس سے تختہ مشق بناتے ہیں۔

:: زندگی کوپانے کے احساس لمس دلاتی ہر شے دلپزیر ہوتی ہے۔

:: پانے کی خواہش ایک لمبے پل کی محتاج ہے  مگر پا کر خوشی کی چند پل سے زیادہ نہیں۔

:: کھونے کا خوف چند پل کا ہے مگر کھونے کا درد ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے۔

:: جسم کی ضرورتیں پل پل بدلتی ہی کبھی پسند و نا پسند میں تو کبھی خوشی و غم کے کھونے اورپانے میں۔

:: پھول احساس سے مزین ہوتے ہیں بھنوروں کو بلاتے ہیں صرف لمس ہی نہیں خوشبو بھرا رس بھی دیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی بھنورے اور پھول کی  قسمت میں فنا لکھا ہے ،لہر اور کنارے کی طرح صدیوں تک آبادرہنا نہیں۔  

:: محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے ۔جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے ،تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں۔

:: محبت کی داستان سچی ہو۔تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیاکھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا۔

:: آغازِ محبت میں شدت ایمان کی صورت اورانجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی۔

:: عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں۔

:: جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔

:: زندگی اچھے برے نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔

:: پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہےنا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔

:: قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لومحبت کے سفید کاغذ پرعشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔

::کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا   اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔

:: میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے--پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں۔

:: کنویں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہےمٹکے کے پانی سے پیاس بجھنے میں نہیں۔

:: ہر بڑھتی شاخ میں جو نشہ ہےوہ جڑ کی بدولت ہے ۔جو خاموشی سے سخت زمین ہو یا پتھر انہیں چیر کو رکھ دیتی ہے--ٹکر لینے کی اس کی وہی فطرت شاخوں اور ان پر لگے پتوں کو زندگی کی خوشیاں خوشبو سے بھری دیتے ہیں-

:: جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔

:: جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔


:: ہر آنکھ پھول پسند کرتی ہے  پنکھڑی کی نازکی پہ فدا ہو جاتی ہے۔خوشبو سے مسحور ہونا اسے بے خودی میں مبتلا کر دیتا ہے ۔مگر آنکھ وہ نہیں دیکھ پاتی جس وجہ سے یہ سب ہے۔

:: جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔۔استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔

:: اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔

:: تحریریں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔

:: کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے۔
در دستک >>

May 17, 2014

عشقِ وفا کہاں

تحریر و اشعار  !    محمودالحق

 گیس  کے غبارے کو صرف دھاگے سے  باندھ کر بچے بھاگ بھاگ اُڑاتےہیں۔ ہاتھ سے چھوٹنے کی غلطی اسے آسمانوں کی طرف اُڑانیں بھرنےمیں آزادی کے سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔ کھونے کا درد اور تکلیف چہرے کے فق رنگ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار چیخنے تک لے جاتی ہے۔بڑے بچوں کو غباروں کی آزادی پر  پہرے بٹھانے کے لئے تراکیب سمجھاتے ۔ کھڑکی ،کلائی  سے باندھ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کھلے میدان میں پڑے کسی چھوٹے پتھر سے باندھ لو ہوا کے جھولے میں جھولتا رہے گا۔جوں جوں گیس بھرے غبارے سائز میں بڑے اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔ایسے پتھر کا استعمال شروع ہو جاتا ہے جو زمین  سے اُٹھنے کی بجائے اپنی طرف کھینچنے کی طاقت زیادہ رکھتا ہے۔ دھاگہ بھی ایسا استعمال میں لایا جاتا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے اس کھینچا تانی میں الگ ہونے سے بچاتا رہے۔
زندگی بھی اسی اصول پر سدا کاربند رہتی ہے۔خیر اور شر کی قوتیں اسی فارمولہ پر کھینچا تانی میں مصروف عمل رہتی ہیں۔جسم ایک دھاگہ کی مانند ان کے درمیان رسہ کشی میں الگ ہونے سے بچانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ روح جب آزادی کی طلب میں آسمانوں کی طرف پرواز کا قصد کرتی ہےتو دنیاوی خواہشات  ،محرومیوں،مجبوریوں اور ضرورتوں کے پتھروں سے جسم کو مضبوطی سے جکڑ لیتی ہیں۔ روح آزادی کی تڑپ میں بے بسی کی رسی سے لٹکی جھولتی رہتی ہے۔تاوقتکہ کوئی ان پتھروں سے انہیں آزادی نہ دلا دے ۔
پتھروں کی پہچان  کے لئے سنگتراش ہونا ضروری نہیں۔ سائز دیکھ کر ہی وزن اور طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ خواہشات اور ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گی زمین کی گرفت بھی اتنی زیادہ ہو گی۔ روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔
جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔
مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق  حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔
جنہیں اس سفر پر چلنا ہوتا ہے وہ لفظ کی حرمت کو لمس سے محسوس کرتے ہیں۔جو آنکھوں سے آنسو بہا دے۔جسم چیخنے اور چنگھاڑنے کی تسکین طلب رکھتا ہو۔تو سمجھ لو کہ وقت کا پہیہ رک نہیں سکتا۔جسم خواہشات کے وزن سے زمین سے چپک جائے مگر روح کو آزادی کے لمس سے زیادہ دیر تک دور نہیں رکھا جا سکتا۔ تقریریں اور تحریریں کتابوں کا لمس رکھتی ہیں۔جن سےسوالات کا دھواں اُٹھتا ہے۔جوابات کا پانی کہیں  اور سے بادل بن اُڑتا ہے۔ خشک دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے۔
درِ دنیا کے سوالی تو بہت  مگر درِ کائنات کےنہیں جو درِ اثر سے گزریں۔ جس کے نشے کی لت کا شکار جو ایک بار ہو گیا تو احساسِ لمس کی پریاں بادِ صبا کے جھونکوں کی طرح سحر میں مبتلا کر دیں گی۔ مگریہاں تک کا سفر اتنا آسان نہیں۔کیونکہ یہ داستانِ عشق ہے۔اور یہ عشق ہر ایک کسی کے نصیب کا مقدر نہیں۔

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو


تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو


گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اُگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو


شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو



در دستک >>

May 14, 2014

قوتِ کشش


سائنسدانوں نے ایک ایسی مشین ایجاد کر لی ہے کہ جس سے قوت کشش کوجانچا جا سکتا ہے۔زمین اور چاند کے درمیان ،سورج اور زمین کے درمیان  استعمال ہونے والی قوت  کیسے کام کرتی ہے  ۔کہتے ہیں کہ چاند اور زمین کے درمیان کار فرما قوت زیادہ طاقتور ہے سورج اور زمین کے درمیان کی قوت سے۔ پہاڑ چاہے جتنے بھی بڑے کیوں نہ ہوں مگر ایٹم کازرہ کام بہت بڑے کرتا ہے۔فی الحال اتنا ہی کافی ہےہم جیسے انسانوں کو سمجھنے کے لئے گلیکسیوں کے درمیان یہ قوت کیا ہے ابھی  اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔
جنہوں نے اس مشین کے بارے میں جاننا ہے وہ جان لیں کہ نیٹ پر تلاش کا کام شروع نہیں کریں۔ کیونکہ مضمون کے شروع میں میں لکھنابھول گیا کہ یہ ایک خواب کا حال بیان کر رہا ہوں۔
چلیں جان چھوٹی خامخواہ ہی وقت برباد ہوتا تلاش پر۔ اب یہاں  مزید رہنا خطرے سے خالی نہیں ،آگے نا سمجھ آنے والی لفاظی کے نشتر چبھوئے تو تیر چلائے جائیں گے۔
جناب زرا دل تھام کر رکھیں فوجی تو ہیں  نہیں توپ چلانے سے رہے۔ تاریخ پڑھی ہے زوالوجی باٹنی یا میتھ کی گھمن گھیریاں سیدھے کرنے سے رہے۔ جو سیکھا ہے ، جو کام آتا ہے اسی پر اکتفا کریں گے۔اگر طوطا "طوطا چشم" نہ ہوتا تو قسمت کا حال بتاتے۔ کارڈ ریڈنگ میں یکتا ہوتے تو بچوں کو ولائت بھجواتے بزرگوں کو کعبہ۔ شاعر ہوتے تو کنگن گھماتے۔ عاشق ہوتے تو ہیر رانجھا سناتے۔
طاقتور ہوتے تو غریبوں کا سانس سکھاتے۔ حکمران ہوتے تو زبان چلاتے۔صحافی ہوتے تو جادو دکھاتے۔منصف ہوتے تو مظلوم رلاتے۔ لیڈر ہوتے قوم دھرنا بٹھاتے۔
اب جب کہ کچھ بھی نہیں تو جو میری بیچارگی پر ترس کھا ئے ابھی تک ثابت قدم ڈٹے ہیں۔
انہیں میرا سلام
کیونکہ  یہاں تک پہنچ کر میدان میں کھڑے رہنے والے جان جائیں  گےکہ قوت کشش کیا ہے۔ ایک جھلک تو دیکھ چکے کمزور ہی سہی لفظوں کی کشش نے یہاں سے ہلنے نہیں دیا۔ حالانکہ یہاں ابھی تک کوئی منطقی سوچ نہیں۔جسے اوپر بیان کیا اگر خواب نہ کہتا تو سو میں نوے  عینکیں ناک پہ ٹکاتے۔ بچوں کو جھاڑیں پلاتے ماؤں کو بیش قیمت مصروفیت جتاتے۔ کف کے بٹن کھول کالر کا بٹن ہٹا گردن لڑھکاتے ،مجھے سو سو صلواتیں سناتے  کہ وقت برباد کیا۔اس سے تو اچھا تھا صاحب مضمون کا پورا مضمون پڑھ لیتے۔فائدہ نہیں ہٹ کاؤنٹر میں ایک عدد اضافہ سے اپنا قد بڑھاتے۔
چھوٹے بھائی بہنیں تو ادب میں منہ بڑبڑاتےگردن جھٹکاتے نکل کھڑے ہوئے  ڈرامہ دیکھنے کہ چینل ہی تھیٹر بنا ہوا ہے۔وہ پیسے بھی کماتے ہیں عزت بھی تھانوں افسروں کے سامنے کرسیاں بھی۔
معصوم سیدھے بلاگرز جان توڑ محنت سے چند فقرے دیکھنے کو آنکھیں مہینوں گھماتےکہ شائد میرا کام کسی کو اچھا لگے۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ ایک مشہور مثال ہے
مال ِ مفت دلِ بے رحم
ہماری تحریوں کا حال کسی گاؤں کے چودھری کی بیٹی پر بن بلائے گاؤں کے کمیوں کا کھانوں پر ٹوٹ پڑنے جیساہے۔نہ ہی کھانے والے کا پیٹ بھرا اور نہ ہی دیگ بنانے والے کی محنت کا صلہ۔اب تو پڑی کہ پڑیں لیکن جناب گستاخی کہاں کی۔صرف اپنا حال سنایا ہےکہ زمین پر پڑا ادھ کھایا رزق  اچھا نہیں لگا۔
عقلمند ہوتے تو لکشمی چوک لاہور میں مرغی کی کلیجی اور پوٹے بیچنے والوں ہی سے کچھ سیکھ لیتے کہ مرغی کی قیمت کے برابرتو وہ بھی بچا ہی لیتے ہیں۔کان میں سرگوشی بھی اب سننے لگی ہے ۔ غصہ کرتا ہے کام کوئی آتا نہیں۔لکھنا کیسے آ سکتا ہے۔ حالانکہ تختی تو بہت لکھی ہے مگر جمیل نوری نستعلیق نے ہماری محنت پر پانی پھیر دیا۔
کمپیوٹر پر لکھو پرنٹر سے نکالو  ۔ شاہکار تیار۔
ل لمبی کرو  توچ چھوٹی ہو جاتی ہے ۔الف اونچا کرو ن نیچا رہ جاتا ہے۔ک کو کھینچو تو ت تنگ ہو جاتا ہے۔
اب فیصلہ کریں کہ رضیہ کا غنڈوں میں پھنسنے جیسا حال ہےکہ نہیں۔پھر یہ طعنہ سننے کو ملے کتھوں پڑھے او۔تو جناب پھٹیاں تے بیٹھ پڑھیں اں۔صوفے تو سکولوں میں ہوتے نہیں۔کتابیں مفت چھاپیں بورڈ والے ملتی پھر بھی قیمتا ہیں۔بینچوں کے کیلوں سے ہماری تو ہماری بڑے بھائی کی نیکر اور چھوٹے بھائی کی پینٹ بھی چھدوا چکے۔ گالیاں وکھری کھا چکے۔ جوتے۔۔۔ او ہو ۔۔۔۔۔جوتے میرے ہی تھے۔کوئی آئیڈیا نہ نکالنا شروع کر دیں عزت والے ہیں سکول میں ڈنڈے اکثر کھائے ہیں مگر جوتے ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ تو آماں نے دودھ پینے آنے والی بلی کو رسید کیا تھا۔ہمارامنہ بلی کی طرف تھا ۔سو کمر کافی دن دکھتی رہی۔
آپ بھی نہ بال کی کھال اُتارنا شروع ہو جاتے ہیں۔جوتے اُتاریں ۔ آج کپڑوں سمیت ہی ٹوٹی یعنی نلکے کے نیچے سر دے کر "جیسے کسی زمانہ میں نائی بچوں کا سر گھٹنوں میں دے  کرٹنڈ کیا کرتے تھے" ٹھنڈے پانی سے غسل شکر کریں کہ بتی نہ سہی پانی پہاڑوں کی بجائے گھر کے صحن ہی میں 90 فٹ نیچے اُبلنے کو بے چین ہے۔ورنہ یہ بھی آئی ایم ایف کے سر پر مٹکے رکھ کر لایا جاتا۔ پھر اتنی شدید گرمی میں خاک اُٹھا اُٹھا سر پر ڈالتے۔ بین الاقوامی پروازوں کے پائلٹ شہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے آپس میں سر گوشیاں کرتے کہ
ہڑپہ اور موہنجوڈھارو کی ہزاروں سال پرانی بستیوں کے ساتھ انسان بھی دریافت ہوئے ہیں یہاں۔ کمال ہے۔ مشرف نے کسی لیکچر میں ذکر نہیں کیا۔زرداری اکثر آتا ہے مگر زیادہ وقت ہنسنے میں رہتا ہے ۔نواز شریف  گنے کا رس نچوڑنے والی مشینوں میں دلچسپی زیادہ رکھتا ہے۔ خان صاحب پہاڑوں میں چھوٹے جہاز تاکتے رہتے ہیں۔ اسی لئے ہم تو بہت اونچا اُڑاتے ہیں۔
بیچارہ کیپٹن ! بھولے بادشاہ یہ بھی نہیں جانتا میں نے ایک کہانی اپنے آبا سے سنی ،آبا نے دادا سے ، داد نے آبا کے دادا سے، اور انہوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اچھا سمجھ   گیاکہنا چاہ رہے ہیں"کم ٹو دی پوائنٹ"
ایک چرواہا پہاڑ پر بکریاں چرانے جاتا۔ ایک روز اسے  شرارت کا خیال آیا۔
اس نے شور مچایا!
شیر آ گیا! شیر آگیا!
گاؤں والے پاؤں سر پر رکھ کر جو جہاں وہاں سے بھاگا ڈنڈے سوٹے کلہاڑیاں لے کر۔
گاؤں والے جب وہاں پہنچے تو وہ چرواہا آرام سے زمین پر بیٹھا  نیرو کی طرح بانسری بجا رہا تھا۔
گاؤں والوں کے استفسار پر خوش ہو کر بولا ۔
مذاق کیا تھا۔گاؤں والے بڑ بڑ اتے پہاڑ اُتر آئے۔
دوسری بار شیر اچانک سے پہاڑ پر نمودار ہوا ۔
چرواہا چیخا چلایا  !
شیر آ گیا!
شیر آگیا!
گاؤں والے خوشگپیاں کرتے رہے۔
چرواہا شام کو بکریوں کے خون سے بھرے کپڑوں میں لپٹا گاؤں پہنچا ۔ایک جھوٹ کی سزا پا کر۔
یہ نہیں بتاؤں گا میرےاورمیرے آبا کے سر سےکتنے انقلاب  کے نعرے گزرے۔
اب جتنا چاہو مدد کو پکارو چرواہے کی طرح!
کان پک چکے ہیں۔گرمی بڑھ چکی ۔کم از کم آم کے پکنے میں کوئی شک نہیں ۔


تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

May 11, 2014

غلافِ عشق


 عشق و محبت کا موضوع  توبہت پرانا ہے۔معاشرہ ہمیشہ اسے خلافِ عشق گردانتا رہا۔حالانکہ عاشق و محبوب اس سے خ خوشی محسوس کرتے تھے۔ مگر حالات  نے انہیں  غ غم میں مبتلا کیا۔ اسی لئے تو خ لاف کو غ لاف سے مربوط کر دیا۔
یہاں خ غ کا قائدہ قانون بتانا مقصود نہیں ہے۔ جن کی حفاظت کی جانی ہوتی ہے انہیں محفوظ کیا جاتا ہے۔  جو خوشبو پھیلاتے ہیں وہ کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح کھلے نظر آتے ہیں۔ اپنی ذات کو وقت آنے پر فنا کر دیتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو سپیس دیتے ہیں۔
 مگر جو ان کی محبت کو نچوڑ لیتے ہیں۔وہ انہیں غلافوں میں بھر بھر رکھتے ہیں۔ ایسی چاشنی ، لذت اور مٹھاس روئے زمین پر اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ صحت بخش ، توانائی  بھی ہوتی ہے بیماریوں سے نجات کا  ذریعہ بھی۔ انگریز انہیں ہنی اور ہم شہد کہتے ہیں۔ ہنی کا لفظ اس لئے استعمال کیا  کیونکہ اس کی افادیت شہد بتانے سے قدرے زیادہ ہے۔حکیم ان سے علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔جب اس کا استعمال بڑھا تو یار لوگ ملاوٹ کرنے وہاں بھی پہنچ گئے ۔ شکر کے شربت اور لکڑی کے گھروندوں میں غلافِ عشق بنا ڈالے۔جن کی نہ ہی تاثیر ہے نہ ذائقہ۔فائدہ تو کیا ہونا تھا چاہنے  والوں کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔شکر سے کچھ زیادہ مٹھاس کے علاوہ افادیت ہی کھو بیٹھا۔جب عشق و محبت میں سچائی کی خوشبو ڈھونڈنے والے مصنوعی تاک دان میں عشق کو غلاف میں لپٹا پائیں گےتو ان میں جستجو چاہت قربانی کے  جزبات اہمیت و قدر کے ساتھ ساتھ پاکیزگی اور شفافیت بھی  کھو دیں گے۔
 عشق قربانی مانگتا ہے یہاں تک کہ جان بھی عزیز نہ رہے۔اگر عاشق محبوب کی قربت کے خیال سے نفاست نصف ایمان سے بھی بڑے درجہ پر لے جائے تو اسے عشق کو غلاف میں لپیٹ کر رکھنا ہو گا۔موسمی اثرات ہوائے گرد آلود سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ عشق حقیقی کو  مجازی بننے سے ۔ جن کی منزل ایک ہوتی ہے وہ مسافر قربت کی پگڈنڈیوں سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحریر ابھی تک واضح خدو خال کے ساتھ دل اور دلدار کے بغیر  غلافِ عشق کے زمرے   میں نہیں  آ ئی۔
عاشق ذہن پر دباؤ کا شکار ہوں گے اور محبوب قلب کی تیز دھڑکن کا۔  
مقدس کتاب کی طرح یہ غلاف بھی مقدس عشق کا ہے۔  ایک سچےواقعہ سے غلافِ عشق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
3 فروری 2012 بروز جمعۃالمبارک اوکلوہاما کے شہر تلسہ میں ایک بڑی جامع مسجد کی دوسری صف میں کھڑا ایک نمازی جس کے بائیں جانب 60 اور دائیں جانب 45 نمازی نیت باندھے کھڑے تھے۔  مسجد داخل ہونے سے پہلے وہ سگریٹ کے پیکٹ میں  آخری سگریٹ کو  دھوئیں میں ڈھال کر وضو کرتےہوئے  نئے سگریٹ کے پیکٹ کے نہ ہونے کےافسوس میں مبتلا تھا۔ کیونکہ  بینسن اینڈ ہیجز  برانڈ ہر جگہ سے نہیں ملتا   تھا۔ اسی چاہت شوق میں جو وہ پچیس سال سے پالے ہوئے تھا مسجد میں نمازیوں کے ساتھ نیت باندھے کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح عشق کو غلاف سے نکال لیتا اور امام کے پیچھے اپنی ناقص عقل سے الحمداللہ رب العالمین کو جزب کرنے کی کوشش کرتا۔  لیکن اس دن عشق نے نماز تک پہنچنے والے خیال کو آڑے ہاتھوں لیا۔  ہاسپٹل دفتر تو ایک طرف بسوں اور پارکوں میں جس کے سلگانے کی اجازت نہیں ہے  ۔ چند کلیوں کے بعد رب العالمین کا نام لینے  سے کوئی ملال نہیں جس کی بد بو ابھی تک سانس میں رواں تھی۔ اس خیال کے آتے ہی قلب کے نہاں خانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ جسم کے روئیں روئیں سے  لہو غلافِ عشق اُتار کر پچیس سال سے دماغ میں بسی چاہت  دھواں کو ایک ایک خلیے سے نکال باہر لائے ۔ اور پورے وجود کو ایسے نہلا دیا جیسے بارش کے بعد چاندنی رات میں زمین کو روشنی سے نہلا دیتی ہے۔جسے نماز سے پہلے وہ فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ اب وہ اسے یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ جسے ہاتھ سے  چھونا اور ہونٹوں سے لگانا ایک نشہ میں مبتلا کر دیتا تھا ۔ آج وہ چاہت بے ثباتی اسے ایسے چھوڑ گئی جیسے کسی زندہ وجود سے روح نکل کر واپسی اختیار نہیں کرتی۔عشق میں سچائی ہو دیانت ہو ایمانداری ہو محبوب کی عزت و تکریم  کا خیال ہو۔تو عشق لہو بن کر رگوں میں دوڑتا ہے۔
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے

تحریر : محمودالحق




در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک