Sep 6, 2010

میں اور میری پرچھائی

اپنی پرچھائی سے ایک بار موقع ملا مجھے کرنے کا کلام
پوچھا روشنی سے ہے تو بچتی رکھتی گرد ہی میرے تو حصار
بولی ہمت نہیں میری خود کو دور رکھوں ۔نہیں ہوں میں وقت بے مہار
روشنیوں کا یہ جلوہ کبھی اندھیرے میں بھی دیکھایا ہوتا
ایک بے مقصد تو چیز ہے روشنیوں کی تشہیر ہے
لاکھوں کے مجمع میں بھی ہے تو بے سروساماں
ایک دوسرے میں ہے یوں پیوست اپنا وجود ہی نہیں رکھتی تو ابد
صرف روشنی سے ہے تجھ کو یہ غرض رکھتی ہے انساں کے پیچھے اپنا عکس
اکتا کر وہ گویا ہوئی یوں کہ
بہت سنا لیں ، بہت سمجھا لیں ، کبھی خود کا بھی رکھا تو نے یوں خیال
میں عکس نہیں ہوں تیرا ۔ میں نفس ہوں تیرا
اندھیروں میں ہوں میں چھپ جاتی ۔روشنیوں میں تم کو سب دیکھاتی
اندھیرے جو تم کو دیکھاتے ہیں ۔پہلے وہ مجھے ہی چھپاتے ہیں
روشنی جب تیرے اگے آتی ہے ۔ میں تیرے پیچھے ہوتی ہوں
میں امیدوں سے جڑی ہوں رسموں میں گھری ہوں
نفس تو ہے عکس آئینہ ۔روشنی سے ہے رکھتا وہ سامنا
روشنیوں میں جسم سے نکل کر پھیلتی ہوں
اور اندھیروں میں پھر یونہی جسموں میں سمٹتی ہوں
جوں جوں روشنیوں سے پھیلتی ہوں توں توں نفس سے جکڑتی ہوں
مجھ پہ جو اتنا غور کیا کچھ اندر اپنے کا بھی خیال کیا
جو تجھے بڑھکاتا ، بہکاتا روشنیوںمیں ہے پھیلتا
پھر اندھیروں میں ہی وہ سکڑ کر تیری ذات کانشان بن جاتا
اب اتنا بھی کیا ضروری ہے کہ زندگی سے بھی اب دوری ہے
اے نا سمجھ ناداں انساں اندھیرے تو تیری آنکھوں میں ہیں
میں تو تیری ذات ہی کا عکس چپکی زمیں پر رہتی ہوں

3 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

جوں جوں روشنیوں سے پھیلتی ہوں توں توں نفس سے جکڑتی ہوں

بہت خوب۔

کوثر بیگ said...

بہت عمدہ

محمودالحق said...

بہت شکریہ آپ کی پسندیدگی کا

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک