May 3, 2012

طوطی اور سوداگر

سندر خانی انگور ذائقہ اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انورٹول آم خوشبو اور ذائقہ میں کسی سے کم نہیں۔اگر آم پھلوں میں بادشاہ کہلاتا ہے تو انگور بھی کسی رانی سے کم نہیں۔
لیکن اعلان وفا سے پہلے دونوں ہی کسی دشمن سے کم نہیں ہوتے۔ایسے دانت کٹھے کرتے ہیں کہ کسی جلاد سے کم نہیں ہوتے۔ اعلان وفا چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا مگر یہاں تک سفر طے کرنے میں سال بھر میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں اور بدلتے موسموں کی تغیرات سے بچتے بچاتے انجام صبر کی مثال بنتے ہیں۔
سال بھر انتظار کے بعد حسن کے چرچے ہفتہ بھر ہی سننے میں رہتے ہیں۔ جن کے مقدر میں مٹھاس نہیں ہوتی ، وہ کٹھے ہی مرتبانوں کی زینت بن جاتے ہیں۔وہاں وہ منصب بادشاہت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رانی جب ڈھل جائے تو گلے سڑے ہوئے پانی سے نشہ کی لت کی شکار ہو جاتی ہے۔نرالا دستور ہے زمانہ کاایسی حالت میں رانی کی بیٹی بن کرتمکن چیرہ دست ہو جاتی ہے۔معاملہ کچھ بھی ہو۔ بات سمجھنے کے لئے کہانی ضروری ہوتی ہے۔
اگر بغداد کا سوداگر ہندوستان کی طوطیوں کو ایک قیدی طوطی کا پیغام پہنچاتا ہے تو اسے قید سے رہائی کی ترکیب سوداگر کے زریعے پہنچا دی گئی۔ جسے سوداگر کی قید میں روزانہ مرتی ہوئی طوطی نے خود کو مار کر قید سے رہائی کا پروانہ پا لیا۔ جسے بظاہر طائر کی عقلمندی سے رہائی کی حکایت بنا دیا گیا۔  مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں تشبیہات اور استعارات میں ایسی کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔
ان کے نزدیک طوطی تو دراصل ایک خوبصورت ، خوش گفتار اور دل کو چھو لینے والے حسن سے آراستہ روح تھی جو نفس کی سلاخوں سے بنے جسم کی قید میں تھی۔ جس نے نفس کی قید سے رہائی کا پروانہ تحسین و رغبت آدمیت کی نفی سے حاصل کیا۔ حسن جب نچھاور ہونے کے لئے حد سے بڑھ جائے تو رغبت انسانیت صیاد بے رحم بن کر دبوچ لیتا ہے۔پھر وہ نفس کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسروں سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے قیدی سوداگروں سے رہائی نہیں پاتے بلکہ اس زندگی کو فنا کر دیتے ہیں جو صیاد کو دلربائی عطا کرتی ہے۔ خوبصورت اور خوش الہان پرندے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے ہیں مگر ملکہ ترنم کوئل نہایت خوبصورت ، دلکش اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے باوجود کھلے درختوں پر آزاد رہتی ہے۔ اس کی آزادی کا راز یہ ہے کہ وہ قید ہونے سے پہلے صیاد کے ہاتھوں میں ہائی بلڈ پریشر سے فنا ہو جاتی ہے۔ اس کا ایسے مر جانا آزاد زندگی کی علامت ہے۔
کھلے روشندان سے کمرے میں قید ہونے والی چڑیا آزادی کے لئے چھتوں ، پنکھوں سے جس طرح ٹکراتی ہے، وہ آزادی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پیدائشی قیدی طوطا پنجرے کا دروازہ کھلا ملنے پر طوطا چشم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیدائشی آزاد روح انسانی ، نفس بدن کی قید میں بھی خوشی کے ترانے گنگناتی ہے۔ اس کی آزادی اس کے
 تفکر میں ہے، صبر میں ہے ، شکر میں ہے۔
محبت میں ہے، قربت میں ہے، عبادت میں ہے۔
اقرار میں ہے، دلدار میں ہے، ابرار میں ہے۔
آسمان میں ہے، ایمان میں ہے، قرآن میں ہے۔
سبب میں ہے، طلب میں ہے، قلب میں ہے۔
احد میں ہے، حمد میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔
کامیابی قدم چومے تو دولت و شہرت کا پہلا شکار وہ خود ہوتا ہے۔ زر زمین کی فرمائش پر پہلے خود قربان ہوتا ہے۔ پھراپنی روح کو نفس بدن کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ظاہری تبدیلیوں سے ارواح انسان کو نفس کی غلامی کا درس دیتا ہے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی ضرورتوں کا بڑھ کر آسائش بن جانا ہے۔ معاشرے کے لئے وہ آلائش بن جاتی ہیں۔ پھر ہر ایک کی وہ فرمائش بن جاتی ہے۔
انسان کے لئے پیغام انسانیت ہے، پیغام آدمیت ہے۔آدمی نے مادیت کا پیغام  خود سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جس کی اساس مادہ پرستی ہے۔ مادہ پرستی نفس کے درون قید خانہ کی بالکونی ہے۔ جہاں سے روح کی آمدورفت کی راہ میں دعوت گمراہی کا انتظام ہوتا ہے۔
وجود کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ طوطی کی طرح خود کو فنا کر کے بقاء پائی جاتی ہے اور اس کے لئے نفس کے سوداگر سے آزادی کا مفہوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
قیدیوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوا جاتا بلکہ انہیں قید سے رہائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے نا کہ سوداگر کے ہاتھ میں اپنی ہی آزادی سونپ دی جائے۔
ملک آزاد ہوتے ہیں۔ جنگل آباد ہوتے ہیں۔ صرف طوطے قید ہوتے ہیں۔ ہاتھوں کی چوری جنہیں بادشاہ اور رانی سے بڑھ کر مٹھاس کا نشہ دیتی ہے اور دوسروں کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتی ہے جس کی منزل قید ہو۔


تحریر : محمودالحق


در دستک >>

Apr 25, 2012

روشنیوں کا شہر



قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 22, 2012

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں


پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں
رحمتوں کی ہر دم نوازش شکرِ کلمہ پر ہے زباں

گلِ نام میں کیا رکھا ہے خوشبو تو خود نامہ بریں
آندھی کے آم چنتے جاؤ بے پرواہ ہے باغباں

آنکھ سے گر لہو ٹپکے گوہر فشاں بن بھڑکے
نظر کرم ہو اس کی آگ بھی ہو جائے روحِ پاسباں

گھر یہ گر میرا ہے مکیں نظر میں کیوں جچتے نہیں
تن پوشاکِ مالابار قلب کیفیت غریباں

جواب پڑھ کر بھی جو سوال سے ہٹتے نہیں
اندھیروں میں بھٹکتے ڈھونڈتے پھر کیوں نیاباں

آفتاب کو دھکایا کس نے مہتاب کو چمکایا کس نے
زروں سے جو پہاڑ گرا دے وہی تو ہے نگہباں

کچھ پڑھا ہوتا کچھ تم نے بھی سمجھا ہوتا
یہ نہ بھولا ہوتا ہجومِ بھیڑ ہیں حصار غلہ باں

علم کا کال ورقِ علم کالا تحریر ہے کہاں
نقطوں پہ تحریریں لفظوں میں زمانہ علم و ادباں

۔۔۔٭۔۔۔

 بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو


بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

۔۔۔٭۔۔۔

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں




گندم کی کھڑی پکی فصل کے قریب چنگاریوں کو ہوا نہیں دی جاتی۔محنت کی محبت کا جنازہ سیاہ خاک سے اُٹھایا نہیں جاتا۔بچپن کا بھولپن جوانی کی دلنشینی سے تھپتھپایا نہیں جاتا۔بڑھاپا جوانی کے در پہ دستک سے رکوایا نہیں جاتا۔کہیں تو کچھ ایسا ہے جو مزے سے نیند نہیں دیتا۔چین سے جاگنے نہیں دیتا۔ادھوری خواہشوں سے جینا لولی لنگڑی زندگی جینے سے پھر بھی بڑھ کر رہتا ہے۔مگر شخصیت کا ادھورا پن کبھی پہلی سے چودھویں کے چاند تو کبھی پندرھویں سے تیسویں کے چاند جیسا ہوتا رہتا ہے۔جس کا مقصد صرف دن گننے رہ جاتے ہیں۔
خیالوں میں پھول کھلانا نہایت آسان ہے مگر خوشبو صرف سونگھنے سے موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔جو کلی سے مرجھانے تک وجودِ ناتواں سے عشق بہاراں کا جشن مناتی ہے اوربدنصیب کانٹے شاخوں میں رہیں تو رقابت سے ہاتھوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ٹوٹے پڑے زمین پر دھول سے اَٹے پاؤں پر بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ریزہ ریزہ ہونے تک تکبر کے نشہ سے مستی میں رہتے ہیں۔رقابت میں جل جاتے ہیں مگر محبت میں جینا نہیں سیکھ پاتے۔
عورت زندگی میں چھت کی طلبگار رہتی ہے۔مرد گھروندوں میں اپنے گھرانہ کے لئے تین مرلہ سے تین کنال کے گھر کی جستجو میں پیٹ پر پتھر باندھنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتا ہے۔کھلی زمین میں ایک جگہ کو مقامِ محمود کا نام دئیے ایک عرصہ بیت گیا۔ان دیواروں کو ترستے ترستے ایک عمر بیت گئی۔جن پر لکیریں کھینچ کر چڑیا ، طوطا جیسے نقش و نگار بنا پاتے بچے۔جن کا بچپن دیواروں کی محبت کے بغیر جوانی کی دہلیز تک جا پہنچا۔جہاں دروازوںسے گزرنے تو کھڑکیوں سے جھانکنے کی عادت تک زندگی محدود ہو جاتی ہے۔
پانے کا نشہ شیر کے اپنے شکار کی گردن میں دانت گاڈ کر خون بہانے جیسا ہے اور کھونے کا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے جیسا۔کاش اور اگر جیسے الفاظ اپنی اہمیت کا احساس نقصان و ناکامی میں زیادہ دلاتے ہیں۔بنا چھت کے گھر بادوبارں کے طوفان سے بچائے نہیں جا تے اور دخول و خروج کے راستے اگر کھلے بھی ہوں تو تحفظ کا احساس مٹنے نہیں دیتے۔
آسمان سے کبھی کچھ گرتا نہیں ، زمین سے کچھ اُٹھتا نہیں۔ٹانگوں پہ کھڑی پاؤں پر چلتی وجود ہستی ء انسان زمین پر نخلستانی زرے سے زیادہ نہیںاور زمین اس کائنات میں ایک زرے سے زیادہ نہیں۔سائنس نے کائنات کے دوسرے حصے تک فاصلے کا وقت اندازے سے متعین کر دیا۔صرف پانچ بلین سال اور وہ بھی نوری۔ اب دیر کس بات کی چاند و مریخ کے پروگرام ہی موخر کر دئیے۔ جب اونچی دیوار کے ساتھ انگور کے گچھے لٹکے ہوں تو وہ ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں۔
راز جاننے کی جستجو اندھیرے میں کالے دھاگے کی نسبت سفید تک پہنچنے جیسی آسان ہوتی ہے۔جیسے کبھی کبھار نقصان اُٹھا کر بھی سکون کی نعمت سے انسان مالامال رہتا ہے۔ویسے اکثر توقع سے کم نفع ملنے پر پریشانی کی صلیب پر لٹکنا پسند کرتا ہے۔یہاں تک پہنچنے کے لئے ''کہ سکون کے لمحات پہاڑوں کی طرح کوفت وبے چینی کی زمین میں کیل کی طرح گڑ جائیں''فاصلے ایسے طے کئے جاتے ہیں جیسے آنکھوں کی روشنی لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر تیرتے جہانوں کو ایک نظر سے شکار کر لیتی ہے۔
قرآن کے الفاظ کئی بلین سال کا فاصلہ ایک پل میں محبوب خدا تک پہنچنے میں طے کر لیتے ہیں۔اس کلام کا ایک ایک لفظ عبادت ہے۔کائنات کے کروڑوں سالوں پر پھیلے فا صلے وجودِانسانی کو آرائش و زیبائش سے بدگمان کر دیتے ہیں۔نماز فرض عبادت ہے،اگر یہ سوچ کر پڑھی جائے اللہ سبحان تعالی کو بندے کی زبان سے اپنا ذکر محبوب ہے تو یہ عشق کے نشہ میں ڈھل جاتی ہے۔اس کا ذکر ہر پریشانی سے مستقبل کے ان دیکھے خوف سے، عدم تحفظ کے احساس سے، زندگی کی محرومیوں کی ندامت سے، رشتوں کی جھوٹی انا کی رقابت سے، خودنمائی کے احساس کی حرص سے نجات دلا کر سچائی کی روشنیوں سے راہ دکھاتا ہے۔صبر کا دامن اتنا پھیل جاتا ہے کہ دعاؤں کی جھولیاں کم پڑ جاتی ہیں۔
ایک غیر مسلم اس حقیقت سے آشنائی پاگیا۔سچائی کی تلاش میں صراط مستقیم پر چلنے کی رضامندی سے ہی سکون کے گہرے سمندر سے خوشیوں کی موتی بھری سیپیاں سمیٹنے لگا۔مگر پیدائش کے فوری بعد جس کے کان میں اللہ اکبر اللہ اکبر کا پیغام پہنچا وہ کان آج بھی حقیقت پسندانہ سچائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔علم کے قلم سے سچائی کی کتاب پر سنہری حروف میں لکھنا مقدر سمجھتا ہے۔سچ کو عقل کے پیمانہ سے ماپنا چاہتا ہے۔تصدیق کے لئے تحقیق کا سہارا چاہتا ہے۔ہبل سے اُتاری گئی تصویریںخوش رنگ امتزاج سے آگے بحث کے قابل نہیں رہتیں۔وہ اپنی تعریف کے لئے لفظوں کے سہارے کی پابند نہیں۔مگر قرآن نے کسے مخاطب کیا اسے جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اس پیراگراف تک پڑھ کر جو پہنچے ہیں،ان میں ایک الفاظ کے بہاؤ میں بہتے چلے آئے ہیں۔جن کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تحریر سے حاصل کیا مقصود ہے۔زندگی پہلے ہی مکمل اور خوبصورت ہے۔اب مزید سوچ کے بار سے ضرب افکار کی کیا ضرورت ہے۔
دوسرے وہ ہیں جنہیں مسائل اور پریشانیوں نے ستا رکھا ہے۔ہر طرف اُڑانیں بھرتے بھاری بھر کم مقابل حریف چتکرنے کے درپے ہیں۔بار بار میدان میںاُترنے کا چیلنج دیتے ہیں ۔ ایسے بہت سے چیلنجز گزر چکے۔کئی ایک اب بھی سامنے کھڑے ہیں۔مگر چیلنج کرنے والے سکونِ قلب کی نعمت کے نخلستان میں بکھرے ایک زرے سے زیادہ نہیں۔ وجود میںسکون کے احساس کا ایک سمندر صبر کی لہروں سے بے یقینی اور بد دلی کے ساحلوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ دنیا کی آرائش و زیبائش لالچ و حسد کی حدیں پھلانگ لے تو ایک وقت کے بعد ندامت ملامت نہ بھی بنے تو کم از کم صداقت نہیں رہتی۔جو سچائی سے منہ چھپاتے ہیںوہ کلامِ پاک تک پہنچنے کا راستہ قلب سے نہیں طے کر پاتے بلکہ رگوں میں دوڑتے لہو سے لیفٹ رائٹ حصوں پر مشتمل دماغ کے خلیات سے جانچنے پرکھنے کے کیمیکل اثرات کے زیراثر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔شاگرد جب خود استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں۔تو وہ اپنے پسندیدہ اساتذہ کے خود پر آزمائے فارمولوں کے ساتھ ساتھ تربیت میں کمی رہ جانے کیوجہ بننے والے نئے فارمولے بھی آزماتے ہیں۔پھر یہ سلسلہ نئی نئی جہتیں متعارف کرواتا ہے۔سیکھنے اور سکھانے کا عمل ایک کے بعد ایک چھ سات دہائیوں میں ختم ہوتا رہتا ہے۔مگر کسی بڑی نئی تبدیلی کا مظہر پانچ دہائیوں میں ایک بار ہی ہو پاتا ہے۔زیادہ تر پیروی ہوتی ہے۔رہنمائی کا علم صدی میں ایک دو کے ہاتھ ہی لگتا ہے۔جو شاگردی میں جنونی ہوتے ہیں وہ استادی میں انوکھے ہوتے ہیں۔بقول غالب!
مشکلیں اتنی مجھ پر پڑیں کہ آساں ہو گئیں
مگر اقبال  کا کہنا ہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 16, 2012

محبت

زندگی انسان کو ہمیشہ سے ہی پیاری رہی ہے۔موت کے سائے گر پھیل جائیں تو ویرانی ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ ،آنکھوں میں تیرتے قطرہ نم سے خشک زمین پر بارش کی پہلی پھوار کی طرح بھینی بھینی خوشبو کے اُٹھنے تک محدود ہوتی ہے۔
جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔دعاؤں کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں تو بد دعاؤں کے لئے جھولیاں۔توبہ کا دروازہ گناہوں کی آمدورفت کے لئے کھلا رکھا جاتا ہے۔گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں  رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔
جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔چلمن کے پیچھے سے دست سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ آنگن سے جھانکا نہیں جاتا۔
کھلے عام جو محبت کا دم بھرتے ہیں۔کہانی وہ ہی زبان زد عام رہتی ہے۔مرنے جینے کے وعدوں سے ہاتھوں پہ رنگ حنا پھیلاتے ہیں۔اللہ رسولۖ  کے ناموں کے سائبان تلے خواہشوں کے پھولوں سے سجی ردا بچھاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک عاشق نامراد بھنوروں کی طرح گلستانوں میں منڈلاتے ہیں۔جہاں بنے سنورے پھول کانٹوں کے حفاظتی حصار سے آنکھ بچا کر مہمانداری کے انتظام و انصرام میں دل و جان سے ارمان ہتھیلی پر رکھے پھرتے ہیں۔ مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے، جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔
جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔ جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔
جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قلب دھڑک دھڑک مہمانوں کی آمد کا نقارہ ذہن  پر ہتھوڑے کی طرح برس کر بجاتا ہے۔
جو آنی جانی شے کی محبت میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔چوری کھانے والے طوطے باغوں میں چوری کھانے والوں سے باعزت نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ طوطا کہانی نہیں کہ یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے کہ کون کیا ہے۔
سچی محبت ایک نظر میں فریفتہ کر دیتی ہے۔آدم کو فرشتوں کے سجدے سے معتبر کر دیتے ہیں۔حکم عدولی فرشتے سے شیطان کے مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔فضیلت محبت میں جھکنے سے ہے۔ بھلا آدم کو سجدے سے کیا۔ سجدہ کا حکم ماننے کے مقام اور نہ ماننے کے انجام سے خبردار کرنا بھی مقصود تھا۔ جسے بنی نوع آدم نے صرف فضیلت کے درجہ سے مقام محبت کو مقام اعلی ٹھہرا دیا۔
پھل ہوں یا پھول ، ذائقہ ہو یا خوشبو ، رنگ ہوں یا خوبصورتی انتخاب ہمیشہ خوب سے خوب تر ہی کیا جاتا ہے۔ گھر کی سجاوٹ ہو یا کپڑوں کی بناوٹ ہر کمی اور ہر خامی پر نظر رکھی جاتی ہے۔پھر دور کرنے میں بہتر سے بہتر صلاحیت بروئے کار لائی جاتی ہے۔زندگی اچھے برے ، نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہے۔نا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔
محبت کے جذبات سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں۔سچائی حقیقت سے ہے، حقیقت حق سے ہے،حق محبوب سے ہے،محبوب محبت سے ہے،محبت سچائی سے ہے،سچائی سچ سے ہے ، سچ کلام سے ہے،کلام امین سے ہے،امین صادق سے ہے،صادق طلوع سے ہے،طلوع آفتاب سے ہے،آفتاب روشنی سے ہے،روشنی کرن سے ہے، کر ن نور سے ہے،نور جلوہ سے ہے، جلوہ طور سے ہے،طور ظہور سے ہے،ظہور قرآن سے ہے، قرآن محمدۖ سے ہے اور محمدۖ  اللہ سے ہے۔ 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 15, 2012

ہدایت یا روایت

تاریخ کے ٹیچر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مانیٹر کہتاکلاس سٹینڈ۔ تمام طالب علم مؤدب کھڑے ہو جاتے۔ ٹیچر ہاتھ کے اشارے سے انہیں بیٹھنے کے لئے کہتا۔طالب علم روزانہ کی طرح اپنے اپنے بستوں سے کتابیں اور نوٹ بکس نکالتے۔ انہیں ہر روز ایک نئے سبق کو پڑھنے کی عادت سالہاسال سے تھی۔ ہر اگلی جماعت میں ایک کے بعد ایک نئی سبق آموز کہانی ان میں اخلاقی ، مذہبی اور نفسیاتی تربیت کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی۔ انہیں ہمیشہ تاریخ کا آئینہ دکھا کر سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔کیسےٹیپو سلطان نے اپنے دشمن کو میدان جنگ میں گھوڑا پیش کیا۔ وہ زمانہ ٹیکنالوجی کا نہیں تھا۔قلعوں پر پتھر برساتی منجنیق ہی جدید ترقی کا شاخسانہ تھی۔ ٹی وی ریڈیو درکنار اخبار نام کی بھی کسی شے کا وجود نہیں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں جس جنگ کا فیصلہ ہوتا۔ موسم سرما میں دور درازکے علاقے اس سے آگاہ ہوتے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے،کولمبس کے 1492  ء میں امریکہ دریافت کرنے سے پہلے دنیا مکئی یعنی کارن کے نام سے نا آشنا تھی۔ بلکہ آلو ، ٹماٹر جیسی نعمتیں بھی ہنڈیا میں جلنے بھننے سے محروم تھیں۔ اور ریڈ انڈین معمولی گھوڑے جیسی بنیادی سواری سے بھی محروم تھے۔
دنیا میں انسان نے ایک کے بعد ایک نئی شے کو متعارف کرایا۔ اس کا سہرا جستجو سے زیادہ ضرورت کو جاتا ہے۔ اسی لئے تو ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے۔ جدید دنیا کی ترقی کے اہم کرداروں میں ایک لائبریری بھی ہے۔ جہاں جستجو نے تحقیق کا راستہ اپنایا اور انسان کو اس راہ پر ڈال دیا کہ وہ فاصلوں کو علم و رقم کی تلاش میں سر کرنے لگا۔ جس کی موجودہ شکل ہمارے سامنے ہے جہاں حسب ذائقہ پھل و سبزیوں کی تجارت اختیار کی جاتی ہے۔ اگر اس شے کا وجود نہ بھی ہو کیلنڈر ایسا ضرور مل جائے گا جہاں سے اس کی تصویر اور نام سے پہچان رہتی ہے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے انسانوں کے پرندوں کی طرح ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں نقل مکانی کے شواہد ملتے ہیں۔ مگر پورے قبائل کی نقل مکانی کے شواہد کم ہیں۔ ایسے انسان جو اپنے حال سے مطمئن نہیں یا جنہیں دوسرو ں سے آگے بڑھنے کی لگن ہو، ہمیشہ سے ہی ایسی منزلوں کے مسافر بنتے ہیں۔ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل گھڑی کو موت کی طرح ٹال دیتے ہیں اورکھلے سمندروں میں کشتیوں سے ساحل کنارے پہنچنے کی آرزو میں چند ایک اپنی جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔
 قوموں کے اثاثے ان کی لائبریریاں ہوتی ہیں اور لائبریری کے روح رواں ان کے قائد۔جن کے دم سے وہ آباد ہیں۔ جو مرنے کے بعد بھی اقبالیات اور غالبیات بن کر زندہ رہتے ہیں۔ چاہے مذہب ہو یا ادب ، تاریخ ہو یاسیاست اپنے اپنے پیرو کاروں کے سہارے نسل در نسل عقیدت مندوں میں کسی روحانی مرشد کی طرح فیض پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو معاشرے میں بنا امارت کے بھی تعظیم وتکریم کے لائق جانا جاتا تھا۔
آج کا دور ایک مختلف دور ہے ہدایت کی بجائے روایت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ ترقی کرنے کی پاداش میں قوموں کو اجتماعی خود کشی کے لئے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ کامیابی کے جس زینے پر خود چڑھتے ہیں دوسروں کو احساس محرومی کی بلند و بالا عمارتوں سے دھکا دیتے ہیں۔ نامعلوم طریقے سے احساس کمتری پروان چڑھتا رہتا ہے۔جو مایوسیوں کے اندھیرے میں انہیں دھکیل دیتا ہے۔جو ان کا مقدر نہیں۔
بچوں کے تعلیمی ریکارڈ آن لائن دوسروں کو دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ بھی ہدایت کی بجائے روایت کی بھینت چڑھ جائیں۔ انسان نے اخلاقی اقدار کو دنیاوی قابلیت کے چوغے پہنا دیئے ہیں۔ نصیحت اور گائیڈ لائن کی آڑ میں دوسروں پر برتری ثابت کرنے سے ضرور احساس برتری کو تقویت پہنچاتے ہوں گے۔ چند کتابوں سے زندگی کے مفہوم اخذ کر لئے گئے۔ پھر علم کی معراج پر تجربات کی مہر ثبت کر دی گئی۔
نناوے فیصدکرپشن اور ہٹ دھرمی جس دور کا خاصہ بن جائے وہاں ایک یا دو فیصد اچھائی کے پنپنے کے لئے وسائل سے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لئے سچائی کی ضرورت ہوتی ہے اور سچائی کے لئے ہمت کی ۔ ہمت کے لئے بھروسہ کی۔ بھروسہ کے لئے عہد کو پورا کرنے کی یقین دہانی اور عہد ایمان کا متقاضی ہے۔
نوجوان جس منزل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ بوڑھے جو بھٹکے ہیں انہیں پھر اسی راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ سبق انہیں یہ دیا جاتاہے کہ گھوڑے دشمنوں کو دینے سے قوم ترقی کی راہ پر نہیں چلتی بلکہ مکئی ، آلو اور ٹماٹر کی دریافت نے دنیا کو ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بدلے میں انہیں گھوڑے جیسی سواری کی نعمت عطا ہونا بذات خود ایک بڑی نعمت ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک بنچ پر بیٹھے دو طالب علم سالہاسال کے بعد بھی بستے میں سے کتابیں نکال کر قصے کہانیوں سے آگے نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور دو متضاد سوچوں کے ترجمان بن کر ایک سکول سے نکل کر دنیا کے دوسرے کونے تک دو مختلف ، متضاد نظریات کے حامل پروردہ رہتے ہیں۔ جنہیں دوسروں کے مسائل میں جھانکنا اس لئے اچھا لگتا ہے تاکہ وہ ان کی کامیابی کو قریب سے دیکھ کر انہیں شاباشی دے سکیں۔
 ۔28 سال پہلے آزادی کی نعمت سے ہمکنار ایک ملک کے دو سو کے قریب باشندے   1975 میں دنیا کے ایک بڑے شہر میں آباد ہوئے۔ ان کے قریب ہی ایک دوسرے ملک جسے آزاد ہوئے چار سال ہوئے تھے چند گھر آباد ہو گئے۔37 سال بعد وہ چند گھر چالیس ہزار کی تعداد تک جا پہنچے اور نظریہ کی بنیاد پر  65 سال قبل آزادی حاصل کرنے والے اب وہاں شائد پچاس بھی نہ رہے ہوں۔ سب اونچی پرواز کے شوق میں پچاس میل کے علاقے میں امارت کی نشانیاں بن گئے۔ قوموں کو پڑھنے کے لئے کسی فارمولہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومیں اپنا آپ دکھاتی ہیں، تاریخ قوموں کو آئینہ دکھاتی ہے۔ایسا کوئی سانچہ نہیں جس میں ڈھل کر قوم بنتی ہو۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

ماں تجھے سلام

ماں  ایک رشتہ ، ایک جذبہ ، قربانی کی مثال ، محبتوں کا گہوارہ ، خوشیوں کا پہناوہ ، غموں   کے بادل سے اوپر  صبر کے پہاڑ کی چوٹی ۔
 گود اپنی میں سر  سہلاتی ،پیار سے تھپتھپاتی ، آنکھوں سے جھولا جھولاتی ۔ راتوں  میں تیری دھڑکنوں کا  پہرہ  ،  انگلی ہی تیری   میرا سہارا ،  قدموں کا  راستہ ،سانسوں سے جڑا میرا کنارہ ۔
تیرا ہی وجود تھا تجھ میں سمایا رہا ۔ اپنےقلب محبت کو مجھ سے زیادہ تم نے بھی نہ سنا ہو گا۔ میرے قلب نے پہلی دھڑکن تیرے قلب سے  سیکھی۔وجود سے سینچ کر اپنی محبت کا پہلا گھونٹ تم نے مجھے پلایا۔ لفظ زمانے نے مجھے سکھائے۔
 تیری عظمت کو سلام کروں بھی تو کیا پیش کروں۔ خون جگر بھی دے دوں  تو کیا وہ بھی تو تیرا ہے۔ میری پہلی دھڑکن بھی تو تیری ہی دھڑکن سے جڑی ہے۔ سانسوں کا طوفان تیرے سینے سے لپٹ کر  تھما تھا۔ تیری روح سے جدا ہوا  بھی تو تیرے وجود سے  نہ جدا ہو پایا۔ جدائی تیری فانی وجود مجھے دے گیا ۔ قلب تیرے سے نکلی جو دعائیں سر میرا سجدہ ہی میں جھکاگیا ۔
لحد میں ہاتھوں سے میں نے تمھیں اتارا  ۔ تیرے رخ ماہ کو جو میں نے قبلہ رخ چاہا ۔  تجھے تو چاہت تھی اپنے خدا کی ۔ ایسی خوشی تو تیرے چہرے پہ مجھے دیکھنے سے بھی نہ کبھی آئی ۔
 پھولوں کی طرح  کھلتی چہرے پہ مسکراہٹ۔ تیری بیماریوں کی کہانی دفن ہو گئی ۔
تیری عشق اللہ و رسول کی جوانی ابھر آئی ۔ جنہیں تو رات کے پہروں میں ذکر یاد کے دئیے جلاتی ۔
 دنیا سے لاتعلقی اور بےزاری کا تیرا اظہار مجھے تیری  قربتوں میں جدائی کا غم دے گیا  مگر تیری چاہتوں کے میں قربان کہ اصل راستہ میں پا گیا ۔ تم نے  مجھے ایسا سکھا دیا   ، دنیا اپنی کو سلا دیا ۔
 محبتیں حسرتوں سے لپٹ جائیں ۔ تو زمین سے جڑیں اکھڑ جائیں ۔ کونپلیں شاخوں میں ہی سمٹ سمٹ کر سکڑ جائیں ۔
 شاخ شجر کی محبت اپنی کونپل سے تب تک
 جڑ سے جو آب امر پہنچے اسے جب تک
محبتوں کے یہ بہاؤ  شجر شجر ، شاخ شاخ ،کونپل کونپل ،گلوں کے مہکانے تک , پھلوں کے پکانے تک , دھوپ سے بچانے تک ۔
 کٹ کٹ کر جو شجر خواہشوں کے ایندھن بن گئے  ۔ آب امر کو ترستے جل جل کر خاکستر  کرب و اذیت سے دوچار رہ گئے۔
تجھے میرا سلام جو محبت کا یہ رنگ مجھے سکھا گئی ۔ ماں سے بھی بڑھ کر اللہ کی محبت کا نشہ مجھے لگا گئی۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 12, 2012

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا
ہوش میں نہ تھا جو کھویا وہ صبر میرا نہ تھا

پروازمیں کوتاہِ نگاہی نے یوں شرمسار کیا
نشانہ پر جو نہ لگا وہ دعائے اثر میرا نہ تھا

یہ ہاتھ خود چھوٹ کر ہاتھ سے جدا ہو گیا
گلستان جلا جس سے وہ شرر میرا نہ تھا

آس نے یاس سے ہٹ کر خود کو پاس کر لیا
بارانِ رحمت میں پھیلتا ہر ابر میرا نہ تھا

مجھے میری تلاش ہے تو اپنے انتظار میں
نسیمِ جاں میں جو رہ گیا وہ ثمر میرا نہ تھا

اتنا بھی کیا کم ملا پھر انتظار میں بیٹھ گیا
یہ فلکِ جہاں اس کا کوئی امبر میرا نہ تھا

جب لوٹنا ہی لکھا تقدیر میں منزل تا حدِ نگاہ
محمود بس تو لکھتا جا وہ نشر میرا نہ تھا

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

جب آسمان نے خود ہی چن لیا


جب آسمان نے خود ہی چن لیا تو کوئی کیا کہے
دل نے جب خود ہی سن لیا تو کوئی کیا کہے

لہر بے کس کو طلاطمِ طوفاں میں ساحل ہی سہارا
شاہ زور جوانی نے ڈھل کر بچپن لیا تو کوئی کیا کہے

قطا در قطار یہ پرزے بیکار اُٹھاتے بدن و بار ہیں
روحِ کلام سے طریقت نے جو لہن لیا تو کوئی کیا کہے

انصافِ ترازو کے حدِ تجاوز سے جو جھول گیا
جلتے گلستان میں اپنا چمن لیا تو کوئی کیا کہے

سمجھاتے مجھ کو کہ ہوسِ نصرت کا انساں ہو جاؤں
گل نے مِٹ کر خار سے َامن لیا تو کوئی کیا کہے

تاریک راستوں میں جلتی روشن یہ کیسی بہزاد ہے
آب ہی آب میں سراب نے من لیا تو کوئی کیا کہے

زمین پر کھینچی لکیروں نے دلوں پر نقش و نگار بنا دئے
جیت کر وطن تو ہار کر اَمن لیا تو کوئی کیا کہے

پتھر ہی کیا انسان بھی کاٹ دے فولادِ اوزار سے
لوٹ مار کا بازار ہے بچا صحن لیا تو کوئی کیا کہے

محمود تو خود سے پریشان ہے کیسا یہ جہان ہے
عمل نے ڈھانپ خود چلمن لیا تو کوئی کیا کہے

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

Apr 8, 2012

سچ کی تلاش

وہ سچ کی تلاش میں تھا۔ اس نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جس کی تمنا دوسرے کئی برس سپنوں کی طرح کھلی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مگرجن میں مایوسی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔معاشرہ سے کٹ کر ضرورت صرف معاش رہ جاتی ہے ۔ پھر انسان بھی انس آن نہیں رہتا ۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی آواز سوکھی لکڑی کے تنے سے الگ ہونے جیسی ہوتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی ۔ اپنے پن سے جدا ہونے کا درد محسوسات سے خالی کبھی نہیں ہوتا ۔
اس کا یہی درد پیشانی پہ پڑی سلوٹوں سے عیاں تھا ۔ہر سوال کے آخر میں کیوں اور پھر ایک نئے سوال کی ابتدا ء ، یوں نہ تو وہ سوال سے اپنے آپ کو روک پایا اور نہ ہی جواب سے تسلی ۔" کیوں "نے اس میں گھبراہٹ کا سایہ پھیلا رکھا تھا ۔ سایہ اتنا گہرا ہو گیا کہ مایوسی کے اندھیرے میں اسے روشنی کی تلاش نے بے چین کر دیا۔ باپ سے سوال کرتا تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے پہلی غلطی کی سزا نظر آتا ۔
اس کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے اس کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئی اور دوسری بیوی اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کی بچی پر بھی اپنا حق جتاتی ۔ ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے ،مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی ۔وہ الجھتا چلا گیا ۔نشہ کی بجائے اس نے دوا کا سہارا لیا ۔ جس سے خیالات کچھ دیر سستا لیتے مگر آنکھ کھولتے ہی اسے بے رحم سوالوں کے تھپیڑے آ لیتے۔وہ سوالوں کی گٹھڑی کندھوں سے اوپر دماغ میں سجائے سوالی بنا پھرتا ۔
آخر اسے کس کی تلاش تھی۔ کہیں رشتوں سے فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے سہارے کی تلاش میں تو نہیں مارا مارا پھر تا رہا ۔
ملاقات دو سری بار سوال پہلے والا ۔
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ پہ سچائی لکھی ہو۔ بندے پہ جس کا اثر تو ہو مگر دسترس و اختیار سے اوپر ہو۔
جن کی نظریں اپنے چاروں اطراف برپا ہنگامہ خیزی سے دوچار ہوں۔ دماغ کے تندور میں خیال کے پیڑے سے اختلاف کی روٹی پکانے کا عمل جاری و ساری ہو۔ وہاں قلب میں میوے انتظار میں ہی سوکھ جاتے ہیں ۔
جو زندگی آنکھوں اور کانوں سے بسر کرتے ہیں زندہ قلب سے نہیں رہتے ۔ جو لفظ پڑھنے یا سننے سے ذہن میں سما جائیں مگرقلب میں نہ اتر پائیں تو برین واش تو ہو جاتا ہے مگر قلب صفائی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
دروازے پہ دستک گھر کے مکین سے تعلق کی غماز ہوتی ہے۔ مکین سے محبت ہو تو دستک ملائمت احساس سے بھری ہو گی۔ دوسری صورت میں ہاتھ کی ضرب آنے والے کے ارادے کا ڈھنڈورا پیٹے گی۔
اللہ سبحان تعالی کے فرمان تک پہنچنے کے لئے ذہن کے دریچے بند کر کے قلب کی سیڑھی سے سچائی کی رسی تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر جینے میں کیوں ، کیا ، کیسے کےحروف اضافی کی تکرار ہو تو سوالوں کی بھرمار کے وزن سے پیشانی پہ سلوٹیں بڑھتی ہی رہتی ہیں ۔
چاندپر پڑتی سورج کی شعائیں اسے گھٹا بڑھا کر تاریخوں میں بدل دیتی ہیں۔ یہی شعائیں زمین پر دن رات کی تمیز کرتی ہیں۔ اس سے آگے کا علم نہیں ۔ کہیں مفروضے تو کہیں کہانیاں ہیں ۔
زمین میں ننھے بیج کے دبانے سے خوشبو اور مہک میں لپٹنے تک پھل اور پھول ایک وقت کی حقیقت کے عکاس ہیں ۔ پل بھر کے چکھنے کی داستان نہیں۔جو ابر کے کرم کے محتاج ہیں۔ جو اتاریں نہ جا سکیں تو خود ہی اتر کر زمین سے لپٹ کر فنا ہو کر پھر نئی زندگی بن جاتے ہیں ۔
رب العالمین کا تصور کرنے کے لئے بند کمرے سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آنا ہو گا۔ نعمتوں کا تصور باغوں و بہاروں سے جدا ہو کر رنگ نہیں دکھا پائے گا۔ مہتاب کو اپنا کہہ دینے سے کسی کی ناراضگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔کیونکہ زمین کے عشق میں وہ خود دیوانہ وار جھومتا ہے۔
ہوائیں زندگی کی محبت میں بسترسے لپٹی سانس تک آمدورفت جاری رکھتی ہے جو زرد پتوں کو گرا دیتی ہیں اور آندھی بن جائیں تو اُڑا دیتی ہیں ۔خیالات کی زمین پر جب شک کی پنیری لگائی جائے گی۔ تو اختلاف کی فصل کو کاٹنا بہ امر مجبوری بن جائے گا۔دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے۔ ترازو میں تولنے والا ایک طرف ہمیشہ اپنے پاس باٹ رکھتا ہے۔ جس کے وزن کا پورا ہونا تول کی گارنٹی ہے۔
نئے ماڈل کی کار ، پوش علاقے میں مہنگے بنگلے خواہشات کے غلاموں کی امارت کی منڈیوں میں نیلام ہونے کی نشانیاں ہیں۔ جسے پانے کے لئے آزادی کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ۔
باتیں تو پرانی تھیں اسے نہ جانے کیوں نئی محسوس ہوئیں۔ شائد اسے دنیا میں جینے کے لئے جینے کا ڈھنگ ہی بتایا جاتا رہا۔ مگر سچ تو قلب میں ایسے اترے جیسے پھل میں رس اترتا ہے۔کلام کا اثر قلب کے پاک ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔ علم تو معلم کا محتاج ہو سکتا ہے۔ عقیدتِ عشق،محبوب کے وصل سے وابستہ نہیں۔ خوشنودی کے لئے رضا بھی درکار ہوتی ہے۔
زیادہ سوالات کبھی گتھیاں سلجھانے کی بجائے خود ہی اُلجھ جاتے ہیں۔ جس سے طالب متعلم ہو جاتے ہیں اور فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو علم کی معراج تو بن جاتے ہیں مگرعمل کی میراث نہیں۔ برسہا برس کی دھول چند لمحوں میں قلب سے دھل جائے تو شکریہ کا ہار الفاظ کے گلے میں نہیں ڈالا جائے گا ۔بلکہ اس قلب کو پہنایا جائے گا جو سچائی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا تھا ۔ لفظوں کو موتیوں کی مالا بنا کر جس نے پرو لیا ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       
در دستک >>

Feb 25, 2012

دنیا کی زندگی اور اس کی زینت

ان دیکھے مستقبل کے بارے میں کبھی پختہ اور مکمل یقین رہتا ہے تو کبھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اکثر بچوں کے مستقبل کو ابتدائی ایام زندگانی میں ہی تابناک مستقبل کی صورت میں پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ مگر فیصلہ حالات اور قابلیت کی بنا پر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے ۔ ذہین بچے 80 % سے اوپر نمبروں یا اے اور اے + کے ساتھ ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلے میں جیتنے پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ اوسط طالبعلم سکولوں سے بھاگ کر ورکشاپوں میں کام کرنے والوں سے بدرجہا بہتر شمار میں رہتے ہیں ۔ ذہانت کی درجہ بندی بچوں میں بزرگوں کے اختیار کئےگئے قوم پرستی ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسے درجوں کی طرح منقسم رہتی ہے ۔جیسے درجہ چہارم کے ملازمین درجہ اول کے افسران سے مصافحہ سے آگے تعلقات کی استواری سے محروم رہتے ہیں ۔
کب ، کیسے ، کیوں اور کہاں جیسے اکثر سوالوں کے جوابات ساحل سمندر پر رہتی ریت سے لے کر اونچے اونچے پہاڑوں پر جمے پتھروں میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ پہاڑوں سے اُبلتے چشمے ریت کی محبت سے محروم کیوں رہتے ہیں ۔اور کنکریوں کا ساتھ ہمیشہ کیونکر رہتا ہے ۔
یہاں نظام تعلیم ، مادی وسائل یا معاشرتی مساوات کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں ۔جو کہنا چاہتا ہوں اسے ایک مختصر کہانی سے سمجھانا بھی چاہوں گا ۔ اگر دل نہ مانے تو اس پر عمل کرنا بالکل ضروری نہیں ۔
فلاسفی کا ایک پروفیسر کلاس روم میں اپنے سامنے مختلف اشیاء رکھے کھڑا تھا ۔جب کلاس شروع ہوئی تو اس نے خاموشی سے ایک خالی بڑے مرتبان کو دو انچ سائز کے پتھروں سے بھر دیا ۔
پھر اس نے طالب علموں سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
وہ یک زبان بولے : ہاں
تب پروفیسر نے کنکریوں سے بھرا ایک بکس پتھر بھرے مرتبان میں ڈال دیا ۔ اور مرتبان کو ہلکا سا شیک کیا ۔کنکریاں پتھروں کے اندر جگہ بناتی ہوئی ٹھہر گئیں ۔
تب اس نے پھر سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
انہوں نے جواب میں کہا : ہاں
اس کے بعد پروفیسر نے ریت سے بھرا بکس اُٹھایا اور اسے مرتبان میں انڈیل دیا ۔ جس میں پتھر اور کنکریاں پہلے سے موجود تھے ۔ ریت نے مرتبان میں موجود ہر خالی جگہ کو پر کر دیا ۔
تب پروفیسر نے پھر اپنا سوال دھرایا : کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ؟
سٹوڈنٹس یک زبان بولے: جی ہاں
پروفیسر نے کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں یہ شناخت کرانا چاہتا ہوں کہ یہ مرتبان تمہاری زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اور پتھر تمہاری زندگی کی ضروری چیزیں ہیں جیسے تمہاری فیملی یعنی ماں باپ ، بیوی بچے ، عزیز رشتہ دار اور تمہاری صحت ۔ اگر تم ہر چیز کو کھو بھی دیتے ہو اور یہی باقی رہتے ہیں تو پھر بھی تمہاری زندگی بھرپور رہے گی ۔کنکریاں تمہاری زندگی کے دوسرے معاملات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔جیسے ملازمت ، گھر ، سواری وغیرہ اور ریت ان سب کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی زینت کی چیز ہے ۔
اگر تم مرتبان میں سب سے پہلے ریت بھر دو تو پتھروں اور کنکریوں کے لئے جگہ نہیں بچے گی ۔ تمہاری زندگیاں بھی اسی طرح ہیں "۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تمام وقت اور طاقت غیر ضروری معاملات پر صرف کر دیں گے ۔ تو ہماری زندگی میں ان کے لئے جگہ نہیں بچے گی جو ہمارے لئے اہم ہیں ۔جو ہمیں خوشی دیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ترجیحات کو طے کرنا ہے ۔ جو ہمارے لئے اہم اور ضروری ہیں انہیں زندگی میں پہلے بھرنا ہو گا ۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات ، تجارت کے اصول وضوابط طے شدہ ہیں ۔ ان کے لئے بڑے واضح احکامات ہیں ۔لباس کے تراش خراش میں پردہ کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور دوسرے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے ۔ تحریص کی ممانعت ہے ،علم میں رغبت ہے ، افکار میں جہت ہے ، سوچ میں مفارقت ہے ، عقل میں شراکت ہے ، نظریہ نظر شرارت ہے ، نیکی میں بہشت ہے ، عبادت میں قربت ہے ۔
جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت ، ہم ان کے لئے ان کے عمل اس (دنیا) میں پورے کر دیں گے ۔اور اس میں ان کی کمی نہ کی جائے گی۔  ۱۵   یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آْگ کے سوا کچھ نہیں ، اور اکارت گیا جو اس (دنیا) میں انہوں نے کیا اور جو وہ کرتے تھے نابود ہوئے ۔
سورۃ ھود ۱۶
جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زیبائش اور ایک دوسرے پر آپس میں فخر کرنا اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں زیادتی چاہنا ہے جیسے بارش کی حالت کہ اس کی سبزی نے کسانوں کو خوش کر دیا پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تُو اسے زرد شدہ دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے اور دنیاکی زندگی سوائے دھوکے کے اسباب کے اور کیا ہے
سورۃ الحدید۲۰

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 17, 2012

MOTIVATE, EDUCATE and ACTIVATE



ہر جگہ ہر دھاگہ جہاں کسی نے کوئی حدیث یا آیت شئیر کی تو بحث کا آغاز کر دیا جاتا ہے ۔ معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا ۔ کہ کیا اردو فورم  ٹی وی چینل کی طرح ریٹنگ بڑھانے کے لئے ہر جگہ ہر موضوع میں اعتراضات و اختلافات کی کھلی چھٹی کے فارمولہ پر عمل پیرا ہے ۔
کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرآن وسنت ہے ۔ جس کے لئے "دانشور" توپیں لئے یہیں براجمان ہیں ۔
نوجوان نسل کے اخلاق و اطوار سدھارنے کی ضرورت ہے ۔ گالی یا گولی سے سکھایا نہیں جا سکتا ۔ ویلنٹائن ڈے کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے ۔
مگر جو ممالک انہیں مناتے ہیں ان کا دوسرا رخ بھی پیش کرنا چاہوں گا ۔ کہ وہ اپنی قوم کی تربیت کہاں اور کیسے کرتے ہیں ۔ اور ہمارے ہاں شہروں سے گلی محلوں حتی کہ گھروں تک میں ایسا کوئی رواج نہیں ۔ اگر ہے تو صرف لڑائی جھگڑا ، الزامات ، نفرت ، فرقہ پرستی ۔
علامہ اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا ! کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!
امریکہ میں ایک 17 سالہ لڑکی نے 1999 میں اپنی موت سے پہلے ایک مضمون لکھا تھا جسے آج بھی نیشنل پروگرام کے تحت سکولوں میں سمجھایا اور بتایا جا رہا ہے ۔ مختصرا" ایک نیوز لیٹر سے اقتباس پیش کر رہا ہوں ۔

This week Elementary Schools kicked off Rachel,s Challenge , a national program that our district adopted to promote kindness and compassion towards others. Rachel,s challenge is based on the life and writings of Rachel,s Scott , a 17 year old student well known for her friendliness and compassionate nature . She wanted to change the world through small acts of kindness .Rachel wrote an essay for school stating . " I have this theory that if one person can go out of their way to show compassion then it will start a chain reaction of the same .This program encourages the students to live their life with purpose, kindness , and compassion by accepting Rachel,s 5 Challenges.
  پانچ چیلنجز کیا ہیں یہاں دیکھ سکتے ہیں

میری سب ممبران سے گزارش ہے کہ اپنی سوچ ، علم اور توانائیاں مثبت رخ پہ استعمال کریں ۔ نئی نسل کو زبر پیش میں الجھا کر ناقدین کی صفوں میں اضافہ نہ کریں ۔ بلکہ انہیں اس ملک کا ایک ذمہ دار شہری بننے میں مدد کریں ۔
قرآن و سنت سے اختلافی مسائل کو نکال نکال کر علمیت کے مینار اونچے کرنے کی بجائے ان باتوں کو شئیر کریں جو ان کے اخلاق سدھارنے میں ممد و معاون ہوں ۔ اور ایسے موضوعات کو زندہ رکھیں ۔ نا کہ انہیں "اچھی شئیرنگ ہے " " اچھی تحریر ہے " " بہت شکریہ " کا لیبل لگا کر کسی پرانے صندوق میں پرانے خطوں کی طرح ڈال دیں ۔

نوٹ :۔
 ایک اردو فورم پر لکھی گئی میری تحریر
در دستک >>

شاہیں کا جہاں اور

حال سے ماضی اچھاہو تو پچھتاوا ، برا ہو تو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا ۔رہنا تو بحرحال حال میں ہوتا ہے ۔اگر جان پر بن آئے تو جینا محال ہوتا ہے ۔کامیابی قدم چومے تو سر فخر سے بلند رہتا ہے ۔ ناکامی میں پاؤں کے جوتے کی دھول سر کو آتی ہے ۔زندگی محنت کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواب کے بغیر تو لگن بھی بنا بال وپر کی ہوتی ہے ۔
اقبال نے اپنے شاہین کو بلندیوں کا تاج پہنایا ۔ جس نے پہاڑوں کی چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا ۔ قصر سلطانی کے گنبد تو مٹی پر پڑے پتھروں سے دھول میں اَٹے ہیں ۔شاہین اپنی فطرت ، عادت اور خصلت میں دوسروں سے ممتاز رہتا ہے ۔بھوک سے نڈھال بھی مردار سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا ۔جینا ان کا وقار ، زندگی ان کی شکار ، جھکنے کے نہیں روادار ۔ مگر دوستی میں ہاتھوں سے اُڑ کر شکار پر لپکتے ہیں ۔خوبصورتی میں ان سے بڑھ کر بہت ہیں مگر قیمت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔کیونکہ ان کا وقار پرواز سے ہے ۔ جینے کے انداز سے ہے ۔ حالانکہ ان کے شکار میں پرندے اور خرگوش ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی پہچان کے اسباب میں سر فہرست گمراہی اور راست روی ہے ۔ اللہ جنہیں مومن کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ وہ قصر سلطانی کے گنبد پر بسیرا نہیں کرتے ۔ جو ایسی خواہش رکھیں وہ شہباز نہیں ۔ اونچی پرواز میں کرگس بھی کم نہیں ہوتا ۔مگر بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہان میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو پرواز کی طاقت رکھتے ہیں پاؤں ان کے زمین کی طاقت بھی رکھتے ہیں ۔انسان ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ علم کی طاقت سے سرفراز ہوا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ کے حکم سے سر بسجود ہوئے ۔ اسی علم کی بدولت انسان پہلے خشکی پھر پانی اور آخر کار ہوا میں سواری کرنے کے قابل ہوا ۔اسی طرح نیزوں ، تلواروں سے لڑتا بھڑتا توپوں ٹینکوں سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں تک ایجادات سے سرخرو ہوا ۔علم کی بدولت تسخیر کی خوبیوں سے مالا مال ہوتا گیا اور روح انسانی کو پابند سلاسل کرتا چلا گیا ۔
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفسِ طائر رہائی
اونچی اُڑان تو ہے مگر شاہین جیسی نہیں ۔جہان کرگس کا ہو تو اُڑان بھی اسی کی ہو گی ۔
بقول اقبال !
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس میں مٹی کی فطرت ہے تو تحریص بھی مٹی سے ہے ۔ جس کا منبع مادیت ہے ۔
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی
خود ہی کھیتی اُگاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ اناج پر قبضہ بھی جماتا ہے ۔ مگر مٹی نے اناج کو اُُگانے کا ڈھنگ نہ بدلا ۔ انسان کے کھانے کا ڈھنگ ضرور بدل گیا ۔ بدل تو ہر انداز گیا ۔ میلوں دوری کا فاصلہ محبت بھرے خطوط سے ناپا جاتا تھا ۔ انٹر نیٹ نے قربت کی انتہا کر دی زیادہ تر دور کے رشتوں میں ۔ اپنے خلوص بھرے خطوط سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ۔
بھاٹی گیٹ جرمن و لندن کے قریب ہو گیا مگر لوہاری گیٹ سے دور ہو گیا ۔

تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Feb 4, 2012

احساس تشکّر ۔۔۔۔ تم کتنے خوش قسمت ہو

ہماری آنکھیں روزانہ سینکڑوں مناظر کو ذہن میں نقش کرتی ہیں ۔ان میں سے اکثر وبیشتر بے اثر رہتے ہیں ۔ گہرے نقوش چھوڑنے والے منظر چند لمحوں سے زیادہ اثر پزیر نہیں ہوتے ۔ کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسروں میں کیا کمی ہے ۔ہمارے پاس کون کون سی نعمتیں ہیں ، ان کا شمار کم ہی کیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور لکھوں ایک ماخوذ کہانی پیش کرنا چاہوں گا ۔
بینائی سے محروم ایک لڑکا بلڈنگ کے باہر سیڑھیوں پر پاوّں میں ہیٹ رکھ کر بیٹھا ایک پلے کارڈ سے آنے جانے والوں سے مدد کا طلبگار تھا ۔جس پر لکھا تھا کہ
میں اندھا ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں ۔
اس کے ہیٹ میں صرف چند سکے موجود تھے ۔ ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ۔ جیب ٹٹول کر چند سکے نکالے اور ہیٹ میں ڈال دئَے۔ پھر اس نے پلے کارڈ کو اُٹھایا اسے پلٹایا اور چند الفاظ لکھ کر اسے واپس وہیں رکھ دیا تاکہ پاس سے گزرنے والے نئے الفاظ کو دیکھ سکیں ۔کچھ ہی دیر میں ہیٹ سکوں سے بھر گیا ۔اندھے لڑکے کی مدد میں کافی لوگوں نے پیسے دئیے ۔
اسی دوپہر وہ شخص جو پلے کارڈ پر نئے الفاظ لکھ کر گیا تھا وہاں یہ دیکھنے کے لئے آیا ۔ کہ اب حالات کیا ہیں ۔
لڑکے نے اس کے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا ۔اور پوچھا : کیا تم نے ہی آج صبح میرے کارڈ میں تبدیلی کی تھی ۔تم نے کیا لکھا تھا ؟
وہ شخص بولا میں نے صرف سچ لکھا تھا ۔میں نے وہ کہا جو تم نے کہا ۔ مگر ایک مختلف انداز میں ۔
میں نے لکھا : آج کا دن بہت خوبصورت ہے ۔ مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا ۔
دونوں تحریروں نے لوگوں کو یہی بتایا کہ لڑکا اندھا ہے ۔
پہلا کارڈ یہ بتا رہا تھا کہ لڑکا اندھا ہے ۔ دوسرے کارڈ نے لوگوں کو  بتایا کہ 
تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تم اندھے نہیں ہو۔
--------------
یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ ہمارے پاس جو ہے اس کے لئے ہمیشہ شکر گزار ہونا چاہیئے ۔ مثبت  اور مختلف سوچ کو پروان چڑھائیں ۔ اگر ہم اپنی نعمتوں کو شمار کریں  تو دوسروں کی محرومیوں کا احساس جا گزیں ہو گا ۔ جو قربانی اور مدد کے جزبے کو فروغ دے گا ۔ ہماری نعمتیں جسمانی اعضاء کی تندرستی سے لے کر  مال و متاع کی فراخی تک وسیع ہیں ۔ کائنات کی وسعت ہماری عقل و شعور اور اندازے سے بالا تر ہے ۔معاشرہ جب نعمتوں کی شکر گزاری سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ تو بے حسی کے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔میرا کیا اور تیرا کیوں ، کی تکرار سے اجنبیت کا رحجان پرورش پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم حکمرانی میں بھی ہر مذہب کے افراد امن وسکون سے زندہ رہتے ہیں ۔ اور مسلم حکمرانی کے باوجود ایک مذہب کے ماننے والے اپنی حفاظت کا حصار ٹوٹنے نہیں دیتے ۔
دوسروں پر سبقت لے جانے کا جنون خون کی طرح سر پر سوار رہتا ہے ۔کامیابیوں کے جھنڈے میدان میں گاڈ کر لوگوں کے دلوں میں دھاک بٹھانے سے زیادہ نشہ پاتے ہیں ۔
آئیے دیکھتے ہیں آیات قرآنی میں ہمارے لئے کیا احکام ہیں ۔ اور ان پر ہم کہاں تک عمل پیرا ہیں ۔
  ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ایک دانہ کی مانند ہے جس سے سات بالیں اُگیں ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۱

 جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر نہیں رکھتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان ، نہ کوئی تکلیف [ پہنچاتے ہیں] ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے ، نہ کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ البقرہ ۲۶۲
  
اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد ایذاء دینا ہو اور اللہ بے نیاز برد بار ہے ۔ البقرہ ۲۶۳

اے ایمان والوں ، خرچ کرو اس میں سے پاکیزہ چیزیں جو تم کماوّ اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین سے اور اس میں سے گندی چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جبکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں  مگر یہ کہ تم چشم پوشی کر جاوّ اب جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۷

آج کل تو والدین بھی محنت سے پال پوس کر جوان  اولاد  سے شکایات کے انبار رکھتے ہیں ۔ اولاد کے لئے والدین معاشرے میں داخل ہونے کا پہلا دروازہ ہیں ۔ جہاں سے گزر کر پلٹنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ہماری کمائی پر پہلا حق ان کا ہے ۔جنہیں دروازہ کی پرانی چوکھٹ سمجھ کر اپنے نئے گھروں میں فٹ نہیں کیا جاتا ۔رشتہ دار ، یتیم ، مسکین کا حق تو اس کے بعد رکھا گیا ہے ۔کہنے سننے میں یہ بات عام ہے کہ معاشرہ بے حسی کا شکار ہے ۔
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی غرض ، مفاد اور بے حسی کا شکار ہے ۔خیالات کے خزانے پہلے اپنی خواہشوں سے بھرتا ہے ۔ اوردوسرےکو  جزبات کے پیالے میں مکرو فریب بھر بھر دیتا ہے ۔
اور تمہارے پاس جو کوئی نعمت ہے سو اللہ کی طرف سے ہے ،پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم روتے چلاتے ہو ۔ النحل ۵۳
 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Feb 1, 2012

ٹرپل فلٹر ٹیسٹ

قدیم یونان کے عظیم فلاسفر سقراط کے پاس اس کا ایک جاننے والا آیا ۔ اس نے سقراط سے کہا  کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے  ایک  سٹوڈنٹ کے بارے میں میں نے کیا سنا ۔
سقراط نے کہا ایک لمحے کے لئے رکو ۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے کچھ بتاوّ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ایک ٹیسٹ پاس کرو ۔جس کا نام ٹرپل  فلٹر ٹیسٹ ہے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے تم مجحے میرے سٹوڈنٹ کے متعلق بتاو۔ جو تم کہنا چاہتے ہو اس کو فلٹر کر لیتے ہیں ۔
پہلا فلٹر سچائی ہے ۔ کیا تمھیں کامل یقین ہے کہ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو  وہ سچ ہے ۔
نہیں : وہ شخص بولا حقیقت میں میں نے صرف سنا ہے ۔ 
ٹھیک : سقراط نے کہا کہ تم حقیقت میں یہ نہیں جانتے کہ وہ بات سچ ہے یا نہیں ۔
سقراط  نے کہا کہ اب ہم دوسرا فلٹر استعمال کرتے ہیں ۔ اچھائی کا فلٹر ۔
جو تم مجھے میرے سٹوڈنٹ کے بارے میں بتانا چاہتے ہو ۔ کیا وہ اچھی بات ہے ۔
نہیں: اس شخص نے جواب دیا ۔
سقراط نے کہا ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے کوئی بری خبر سنانا چاہتے ہو ۔ حالانکہ تم اس کی سچائی کے بارے میں بھی یقین نہیں رکھتے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم اب بھی ٹیسٹ پاس کر سکتے ہو ۔کیونکہ ابھی  تیسرا فلٹر باقی ہے ۔ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو کیا وہ میرے لئے فائدہ مند ہے ۔
نہیں : وہ شخص گویا ہوا ۔
سقراط نے کہا کہ کیا تم مجھے وہ بات بتانا چاہتے ہو جو سچ نہیں ، اچھی  بھی نہیں اور میرے لئے فائدہ مند بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ معمولات زندگی میں کتنی ہی باتیں ا دھر سے اُدھر بغیر تحقیق کئے پھیلا دیتے ہیں ۔  مگر کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ جنہیں بتایا جا رہا ہے ان کے لئے اس کی افادیت کیا ہے ۔ کہیں گپ شپ اور وقت گزاری کے لئے سنی سنائی باتوں میں قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے ۔جس کا فائدہ نہ تو سننے والے کو ہوتا ہے اور نہ ہی سنانے والے کو ۔
  فتنہ پرور لوگ نفرت کا بیج بونے کے لئے محبت کے رشتوں میں سنی سنائی اور جھوٹی باتوں سے رخنہ ڈالتے ہیں ۔جنہیں سننے والے بغیر کسی حیل و حجت کے قبولیت کی سند عطا کر دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کانوں تک پہنچنے والی بات کو فلٹر ٹیسٹ سے کشیدہ کر لیں۔ تاکہ بات کی حقیقت سے زیادہ بات پہنچانے کی نیت واضح ہو سکے ۔ جو کہ اتنا مشکل اور دشوار ہر گز نہیں ہے ۔ لیکن سچائی جاننے سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کس نے کیا کہا ۔چاہے ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہ ہو ۔
یہ ایک عمومی رویہ ہے جو ہم اپنی دانست میں بہتری کی نیت سے پروان چڑھاتے ہیں ۔سنانے والے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں ، سننے والے کانوں کا۔ مگر تحقیق کے چند بول بولنے سے کمزور پڑ جاتے ہیں ۔
سقراط  جس دور کا فلاسفر تھا وہاں جہالت کی تاریکی زیادہ تھی ۔وہ قرآنی تعلیمات کے روشن باب کا دور نہیں تھا ۔مگر معاشرتی و اخلاقی اقدار پر اس کا تجزیہ عملی فضیلت  سے زیادہ حقیقت اشنائی کا سبق دیتا ہے ۔
آج ہمیں کسی سقراط کے حاصل کئے گئے نتائج سے اپنی زندگی کے معاملات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے پاس وہ پاک کتاب ہے کہ جس کے ایک ایک حرف سے انسانیت  کی بھلائی ، محبت کی پزیرائی اور حقیقت کی سچائی ٹپکتی ہے ۔جسے پانے کی چاہت ہو اسے ہر آیت میں حکم خداوندی نظر آتا ہے ۔ جن پر عمل پیرا ہونا فرض کی ادائیگی کا فرمان ثبت ہوتا ہے ۔
قرآن پاک کی آیات مخلوق خدا کے لئے ہیں ۔ مگر ان کی تلاش بعض مواقع پر ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ان میں ہر بری 
بات سے منع کیا گیا ہے اور اچھائی کی ترغیب دی گئی ہے ۔

وہ جسے چاہتا ہے حکمت( دانائی )عطا کرتا ہے ۔اور جسے حکمت دی گئی اسے بہت بھلائی ملی  ۔ " سورۃ البقرہ ۲۶۹ 
آج کل مختلف فورمز  پر مذہبی مباحث میں قرآن و سنت پر علمیت کے علم اٹھائے حکمت و دانائی سے محروم تفرقہ بازی  میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ نئی نسل کو بحث و مباحث  کے ذریعے  قرآنی تعلیمات  کا اصل مفہوم  پہنچانے کے فرض منصبی کے دعوی دار نظر آتے ہیں ۔
 اللہ تبارک تعالی فرماتا ہے
وہی تو ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ۔ اس میں محکم ( پختہ ) آیتیں ہیں ۔ وہ کتاب کی اصل ہیں ۔اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ  ہے  پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ۔ وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں  ۔ فساد ( گمراہی) کی غرض سے اور اس کا ( غلط ) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔
سورۃ آل عمران ۷


تحریر :محمودالحق
در دستک >>

Jan 6, 2012

گوگل سرچ میں وہ الفاظ ( کی ورڈ ) جن کی تلاش میں پاکستان نمبر ون ہے

 ڈیڈھ دو سال پہلے فاکس نیوز پر  غیر اخلاقی  ویب تلاش میں پاکستان کو اول ترین ملک قرارد دے دیا گیا تھا ۔  اس کے بعد سے آج تک مختلف حیلے بہانوں سے مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے بھی بوقت ضرورت پاکستانی قوم پر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے نہیں چوکتے ۔
ٹی وی ڈرامے ہوں ، فحش فلمیں ، اخلاق سے گرے ہوئے گانے ہوں یا کلچرل شو کے نام پر ڈانس ۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی دونوں ہاتھوں سے لیا جاتا ہے ۔ طعنے دینے کے لئے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بلا وجہ ہی اس کام کو سرانجام دیا جاتا ہے ۔
آج کل ٹی وی پر سیاسی مباحثہ کے نام پر جو کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ یعنی دوسروں پر الزام تراشی اور خود کو ہر آلودگی سے پاک مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کے اثرات پورے معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔
سیکس لفظ لکھ کر تلاش کرنے سے کوئی قوم بحیثیت مجموعی اخلاقی لحاظ سے پستی میں نہیں چلی جاتی ۔ ایسی قوم جس کے پاس کروڑوں سیل فون تو ہیں ۔ مگر کروڑوں کی تعداد میں کمپیوٹر نہیں ۔ جہاں پنکھا چلانے کے لئے بجلی نہیں ، چولہا جلانے کے لئے گیس نہیں ، مہنگائی کے ہاتھوں کھانے کے لئے لوہے کے دانت نہیں ۔ وہاں چند ہزار افراد کے اس بد اخلاقی پر مبنی فعل کو جو وہ دن رات اسے جاری رکھے ہوئے ہیں کو پوری پاکستانی قوم کے سر تھوپ دینا زیادتی کے علاوہ کچھ نہیں ۔
یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ کسی نے ایک شخص سے کہا کہ کتا تمہارا کان لے گیا ہے ۔ تو اس شخص نے کان دیکھنے کی بجائے کتے کا پیچھا شروع کر دیا ۔ ہماری صورتحال بھی آج کچھ ایسی ہی ہے ۔ کسی بھی ملک کے کسی اخبار رسالے میں کوئی خبر چھپ جائے تو اس کا پیچھا شروع کر دیا جاتا ہے ۔  مضامین لکھ لکھ کر سب کو اطلاع پہنچائی جاتی ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں سے ہمارے خلاف مواد فراہم کیا جاتا ہے وہیں ہمارے لئے جو باتیں باعث فخر ہیں ان کا ذکر خیر بھی کرتے چلیں ۔
جو ہمارے لئے باعث عزت ہیں  ٹھیک اسی طرح انہی کی تحقیق سے میں یہاں ان کے لنک فراہم کروں گا ۔ یقینا" ہمارے لئے آسودگی کا سبب ہوں گے ۔
کسی بھی ملک کا میڈیا ملک میں رائج رسم و رواج اور روایات کا مکمل عکس نہیں ہوتا ۔ مصالحے ضرور شامل کئے جاتے ہیں ۔ پھیکے پروگرام پھیکے پکوان سے بھی زیادہ بد مزا ہوتے ہیں ۔ یہ ہی انسانی نفسیات ہے ۔ ہیجانی کیفیت کو بریکنگ نیوز سے افاقہ ہوتا ہے ۔ نئی خبر بنیادی طور پر چسکا ہوتی ہے ۔ اتنی بار اسے دھرایا جاتا ہے کہ چسکا لے لے کر  سنانے کا حال کہیں سنا ہو تو یاد آ جاتا ہے ۔
ایک عام رواج یہ بھی ہے کہ  نصیحت اور نیک عمل کی طرف متوجہ کرنے والا مولوی یا مذہبی خانے میں رکھ لئے جاتے ہیں ۔ جیسے میری کتاب در دستک پڑھ کر مجھے اکثر نے دیکھے بنا ہی اسی خانے میں رکھ لیا کہ معرفت اور مذہب پر بے دھڑک لکھتا ہے ۔ اچھائی کی بات کیا صرف ظاہر تبدیل کرنے کے بعد ہی کی جانی چاہئے ۔ ہمیں اپنی سوچ کو مثبت انداز میں ڈھالنا ہو گا ۔  جسم کا کوئی حصہ اگر ٹھیک طرح سے کام نہ کرتا ہو تو اسے وجود سے الگ نہیں کیا جاتا ۔ بلکہ دوسرے اعضا ء مل کر اس خامی پر قابو پا لیتے ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں ایک ویڈیو دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔ دونوں بازوؤں  سے محروم انسان لکھنے ، وضو کرنے اور کھانے کا کام پاؤں سے کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں بھی وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے ۔ اور مطمعن زندگی گزار رہا ہے ۔ دوسری طرف بے شمار ایسے ہیں جو روزانہ شکوے کی مالا پروتے ہیں ۔
بات  تو شروع  ہوئی تھی پاکستان کو پہلا اعزاز دینے پر تو آئیے دیکھتے ہیں پاکستانی قوم کن کن الفاظ کی سرچ میں گوگل کا وزٹ کرتی ہے ۔ جس میں دشمنوں کو صرف سکس کا لفظ ہی مل سکا ۔
اللہ allah
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیںhttp://www.google.com/trends?q=allah&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  MOHAMMAD
۔۔۔۔اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=mohammad&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

قرآن QURAN
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=quran&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مذہب  RELEGION
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=RELEGION&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مدینہ MADINA
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MADINA&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0]

مکہ  MAKKAH
۔۔اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MAKKAH&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مسلم MUSLIM
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MUSLIM&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

نیوز  NEWS
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیںhttp://www.google.com/trends?q=NEWS&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

مومن MOMIN
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=MOMIN&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0

 اسلام ISLAM
۔۔۔ اس لفظ کی تلاش میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے یہاں دیکھیں http://www.google.com/trends?q=ISLAM&ctab=0&geo=all&date=all&sort=0
اب ان نتائج کو دیکھنے کے بعد پاکستان کو کس کیٹیگری میں رکھا جانا چاہیئے ۔ یہ نتائج اسے اسلامستان کہنے پر بضد ہیں ۔

محمودالحق
در دستک >>

Jan 5, 2012

ذرا سا خمیر اُٹھے

متزلزل ایمان ،بچھڑا معبود تو کبھی تحریف کتاب
پالنا گروہی تو اب دکھائی دیتے ہیں استعجاب

کرنوں کی برسات ہے یہ مہتاب و آفتاب
رحمتوں کی سوغات ہے یہ جہانِ آب و تاب

نہیں رکھتا شہباز شوقِ ہما سرخاب
جینے کی جان نکال لیتی ہے اذیتِ خواب

دیتا ہے وہ چھپر پھاڑ کر بے حساب
شعور زمان سے اونچا ہے علم الکتاب

یقین محکم ہو تو ریگستان بھی ہو آب الباب
عقلِ خرد کو تو بہتی برستی دنیا بھی ہے سراب

عشقِ جنوں میں ہے دل بیقرار و بیتاب
ذرا سا خمیر اُٹھے تو ہے مے بھی آب

محمودالحق
در دستک >>

Jan 2, 2012

شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے


شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے بنتے جاتے سائے ہیں
محبوب پر حقِ احسان کہ ہم تو اسکے ہمسائے ہیں

تمازتِ آفتاب بھی رکھتا باری رحمت کا اجمال ہے
ایک شاخِ پتے میں جذب اس کی قوتِ عطائے ہیں

مدفن خزینوں سے مہرباں حسنِ زن و زمین آراستہ
محبت میں ہیں سب مہمان نہیں کوئی بن بلائے ہیں

گرتے پانیوں سے پھیلتی روشنیوں تک کے فاصلے
شمعِ جہاں کے سب پروانے کچھ اپنے کچھ پرائے ہیں

بہت مشکل میں ہے انسان عالمِ جاودانی کے محور میں
بندھے ہوئے یہ سب جہاں روشنیوں کے سدھائے ہیں

کھینچی کاغذ کی لکیروں پر زائچہ بازیچہ، اطفال ہے
قوس و قزح کے رنگوں میں ذرّے سے ذرّے جمائے ہیں

خشکی ہوا پانی پر ہماری اختراعِ ایجاد ہیں
چلنے کے واسطے ایندھن بھی تو اسی کے بنائے ہیں



روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک