Apr 15, 2012

ہدایت یا روایت

تاریخ کے ٹیچر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مانیٹر کہتاکلاس سٹینڈ۔ تمام طالب علم مؤدب کھڑے ہو جاتے۔ ٹیچر ہاتھ کے اشارے سے انہیں بیٹھنے کے لئے کہتا۔طالب علم روزانہ کی طرح اپنے اپنے بستوں سے کتابیں اور نوٹ بکس نکالتے۔ انہیں ہر روز ایک نئے سبق کو پڑھنے کی عادت سالہاسال سے تھی۔ ہر اگلی جماعت میں ایک کے بعد ایک نئی سبق آموز کہانی ان میں اخلاقی ، مذہبی اور نفسیاتی تربیت کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی۔ انہیں ہمیشہ تاریخ کا آئینہ دکھا کر سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔کیسےٹیپو سلطان نے اپنے دشمن کو میدان جنگ میں گھوڑا پیش کیا۔ وہ زمانہ ٹیکنالوجی کا نہیں تھا۔قلعوں پر پتھر برساتی منجنیق ہی جدید ترقی کا شاخسانہ تھی۔ ٹی وی ریڈیو درکنار اخبار نام کی بھی کسی شے کا وجود نہیں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں جس جنگ کا فیصلہ ہوتا۔ موسم سرما میں دور درازکے علاقے اس سے آگاہ ہوتے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے،کولمبس کے 1492  ء میں امریکہ دریافت کرنے سے پہلے دنیا مکئی یعنی کارن کے نام سے نا آشنا تھی۔ بلکہ آلو ، ٹماٹر جیسی نعمتیں بھی ہنڈیا میں جلنے بھننے سے محروم تھیں۔ اور ریڈ انڈین معمولی گھوڑے جیسی بنیادی سواری سے بھی محروم تھے۔
دنیا میں انسان نے ایک کے بعد ایک نئی شے کو متعارف کرایا۔ اس کا سہرا جستجو سے زیادہ ضرورت کو جاتا ہے۔ اسی لئے تو ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے۔ جدید دنیا کی ترقی کے اہم کرداروں میں ایک لائبریری بھی ہے۔ جہاں جستجو نے تحقیق کا راستہ اپنایا اور انسان کو اس راہ پر ڈال دیا کہ وہ فاصلوں کو علم و رقم کی تلاش میں سر کرنے لگا۔ جس کی موجودہ شکل ہمارے سامنے ہے جہاں حسب ذائقہ پھل و سبزیوں کی تجارت اختیار کی جاتی ہے۔ اگر اس شے کا وجود نہ بھی ہو کیلنڈر ایسا ضرور مل جائے گا جہاں سے اس کی تصویر اور نام سے پہچان رہتی ہے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے انسانوں کے پرندوں کی طرح ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں نقل مکانی کے شواہد ملتے ہیں۔ مگر پورے قبائل کی نقل مکانی کے شواہد کم ہیں۔ ایسے انسان جو اپنے حال سے مطمئن نہیں یا جنہیں دوسرو ں سے آگے بڑھنے کی لگن ہو، ہمیشہ سے ہی ایسی منزلوں کے مسافر بنتے ہیں۔ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل گھڑی کو موت کی طرح ٹال دیتے ہیں اورکھلے سمندروں میں کشتیوں سے ساحل کنارے پہنچنے کی آرزو میں چند ایک اپنی جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔
 قوموں کے اثاثے ان کی لائبریریاں ہوتی ہیں اور لائبریری کے روح رواں ان کے قائد۔جن کے دم سے وہ آباد ہیں۔ جو مرنے کے بعد بھی اقبالیات اور غالبیات بن کر زندہ رہتے ہیں۔ چاہے مذہب ہو یا ادب ، تاریخ ہو یاسیاست اپنے اپنے پیرو کاروں کے سہارے نسل در نسل عقیدت مندوں میں کسی روحانی مرشد کی طرح فیض پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو معاشرے میں بنا امارت کے بھی تعظیم وتکریم کے لائق جانا جاتا تھا۔
آج کا دور ایک مختلف دور ہے ہدایت کی بجائے روایت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ ترقی کرنے کی پاداش میں قوموں کو اجتماعی خود کشی کے لئے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ کامیابی کے جس زینے پر خود چڑھتے ہیں دوسروں کو احساس محرومی کی بلند و بالا عمارتوں سے دھکا دیتے ہیں۔ نامعلوم طریقے سے احساس کمتری پروان چڑھتا رہتا ہے۔جو مایوسیوں کے اندھیرے میں انہیں دھکیل دیتا ہے۔جو ان کا مقدر نہیں۔
بچوں کے تعلیمی ریکارڈ آن لائن دوسروں کو دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ بھی ہدایت کی بجائے روایت کی بھینت چڑھ جائیں۔ انسان نے اخلاقی اقدار کو دنیاوی قابلیت کے چوغے پہنا دیئے ہیں۔ نصیحت اور گائیڈ لائن کی آڑ میں دوسروں پر برتری ثابت کرنے سے ضرور احساس برتری کو تقویت پہنچاتے ہوں گے۔ چند کتابوں سے زندگی کے مفہوم اخذ کر لئے گئے۔ پھر علم کی معراج پر تجربات کی مہر ثبت کر دی گئی۔
نناوے فیصدکرپشن اور ہٹ دھرمی جس دور کا خاصہ بن جائے وہاں ایک یا دو فیصد اچھائی کے پنپنے کے لئے وسائل سے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لئے سچائی کی ضرورت ہوتی ہے اور سچائی کے لئے ہمت کی ۔ ہمت کے لئے بھروسہ کی۔ بھروسہ کے لئے عہد کو پورا کرنے کی یقین دہانی اور عہد ایمان کا متقاضی ہے۔
نوجوان جس منزل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ بوڑھے جو بھٹکے ہیں انہیں پھر اسی راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ سبق انہیں یہ دیا جاتاہے کہ گھوڑے دشمنوں کو دینے سے قوم ترقی کی راہ پر نہیں چلتی بلکہ مکئی ، آلو اور ٹماٹر کی دریافت نے دنیا کو ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بدلے میں انہیں گھوڑے جیسی سواری کی نعمت عطا ہونا بذات خود ایک بڑی نعمت ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک بنچ پر بیٹھے دو طالب علم سالہاسال کے بعد بھی بستے میں سے کتابیں نکال کر قصے کہانیوں سے آگے نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور دو متضاد سوچوں کے ترجمان بن کر ایک سکول سے نکل کر دنیا کے دوسرے کونے تک دو مختلف ، متضاد نظریات کے حامل پروردہ رہتے ہیں۔ جنہیں دوسروں کے مسائل میں جھانکنا اس لئے اچھا لگتا ہے تاکہ وہ ان کی کامیابی کو قریب سے دیکھ کر انہیں شاباشی دے سکیں۔
 ۔28 سال پہلے آزادی کی نعمت سے ہمکنار ایک ملک کے دو سو کے قریب باشندے   1975 میں دنیا کے ایک بڑے شہر میں آباد ہوئے۔ ان کے قریب ہی ایک دوسرے ملک جسے آزاد ہوئے چار سال ہوئے تھے چند گھر آباد ہو گئے۔37 سال بعد وہ چند گھر چالیس ہزار کی تعداد تک جا پہنچے اور نظریہ کی بنیاد پر  65 سال قبل آزادی حاصل کرنے والے اب وہاں شائد پچاس بھی نہ رہے ہوں۔ سب اونچی پرواز کے شوق میں پچاس میل کے علاقے میں امارت کی نشانیاں بن گئے۔ قوموں کو پڑھنے کے لئے کسی فارمولہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومیں اپنا آپ دکھاتی ہیں، تاریخ قوموں کو آئینہ دکھاتی ہے۔ایسا کوئی سانچہ نہیں جس میں ڈھل کر قوم بنتی ہو۔

تحریر: محمودالحق

1 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک