Showing posts with label ایمان. Show all posts
Showing posts with label ایمان. Show all posts
Oct 7, 2020
Aug 22, 2015
برقی پیغامات
رات کے پچھلے پہر جب انسان دنیا و مافیا سے بے نیاز خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہےتو بعض اوقات شدید پیاس کا احساس بند آنکھ کھول کر پانی تک رسائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہاتھ لمبا کر کے گلاس اُٹھایا جاتا ہے اور ہونٹوں سے لگا کر غٹا غت حلق سے نیچے اُتار لیا جاتا ہے۔ مشن مکمل ہونے پر آنکھیں پھر سے بند ہونے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔اسی طرح کے کئی مواقع سے ہمیں روز انہ صبح سے شام تک گزرنا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے یہ معمولات زندگی ہوتے ہیں سائنس اس کی کئی توجیحات پیش کرتی ہے۔ ہمارے ایکشن اور رویوں میں برین کا موٹر فنکشن شامل ہوتا ہے۔
پانی کا سادہ گلاس اُٹھانے کے لئے کن پٹھوں کو استعمال میں لایا جائے کافی نہیں ہوتا، بلکہ گلاس کو کہاں سے پکڑا جائے، اُٹھانے کے لئےکتنی قوت بروئے کار لائی جائے، گلاس میں کتنا پانی ہے ،گلاس کس میٹیریل کا بنا ہوا ہے بلکہ اس کی جزئیات کے بارے میں بھی برین مکمل چھان پھٹک کرتا ہے۔ برین کاوہ حصہ موٹر کورٹکس کہلاتا ہے۔جہاں سے سگنل اعضاء تک پہنچائے جاتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔
سائنس میرا موضوع نہیں اور نہ ہی آج کی تحریر برین کے کام کرنے کے طریقہ کار کو وضع کرنے کے لئے ہے۔ صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ ہم اپنے ظاہر کے ہر عمل سے واقف اور با خبر ہوتے ہیں مگر پس پردہ ہونے والےایکشن اور مشن سے مکمل طور پر بے خبر اور لا علم رہتے ہیں۔یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ سکن کے نیچے کی دنیا ہمیں اپنے ہونے کے احساس سے لا علم رکھتی ہے۔چمڑی سے باہر کی دنیا کا ہر فعل مکمل دکھائی دیتا ہے ۔ بھاگتے ہوئے توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے ، ایک ایک اعضاء دوسرے اعضاء کو سہارا دے کر یکجہتی کا کمال مظاہرہ کرتے ہیں۔ اجسام دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں جہاں دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصہ کو اور دماغ کا دائیاں حصہ جسم کے بائیں حصہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن انسان پیدائش سے لے کر موت تک ان بھول بھلیوں سے لا تعلقی اختیار کئے رکھتا ہے کیونکہ مشن میں ایکشن بھی ہوتا ہے ری ایکشن بھی۔تلاش و جستجو کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر کام اپنے وقت مقررہ پر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔
اگر کہیں بہت تھوڑی گڑ بڑ مشن کی تکمیل کے راستے میں حائل ہو تو جسم ہاسپٹل کے بستر پر پہنچ جاتا ہے۔ جہاں ڈاکٹر دوائی سے علاج معالجہ کرتے ہیں اور مزاج پرسی کے لئے آنے والے دعاؤں سےجو کہ مریض کی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ہوتی ہے۔ مساجد میں با جماعت نماز کے بعد امام مساجد سے بیماری سے شفا کے لئے خصوصی دعاؤں کے لئےکہا جاتا ہے۔ مزاروں پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں ،غرباء میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ صدقہ و خیرات کیا جاتا ہے۔ ہمت و حوصلہ سے لڑنے والے بیماریوں سےجلد چھٹکارہ پا لیتے ہیں۔ دعاؤں کو جو طاقت بنا لیتے ہیں وہ دواؤں سے فوری نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔جو صرف دواؤں ہی سے مسیحائی چاہتے ہیں ایک سے چھوٹ نہیں پاتے کہ دوسرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دین و دنیا ہماری زندگیوں میں برین اور اجسام کی طرح ایکٹ کرتی ہے اور نتائج فراہم کرتی ہے۔مرئی اور غیر مرئی قوتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں۔ظاہر یقین سے ربط رکھتا ہے باطن ایمان سے ، دنیا سبب سے منسلک ہے دین اعتبار سے۔پانچ وقت کی نمازیں رمضان کے روزے نماز عیدین اور قربانی کے فرائض کی ادائیگی کے تہوار و عادات اجسام کو چمڑی سے نیچے کے سفر پر گامزن کرتے ہیں۔ دنیا ایک جسم کی مانند دکھائی دیتی ہے جس کا برین دین اسلام ہے جو تا قیامت زندگیوں کی چھان پھٹک کرتا ہے۔تواز ن کو بگڑنے نہیں دیتا۔بدی کو پھیلنے سے روکتا ہے نیکی کو طاقت عطا کرتا ہے۔ ہزار جھوٹ کے مقابلے میں ایک سچ کو قوت دیتا ہے۔مغرور ، گھمنڈی اور متکبر امارت کے زعم میں عقل سے اندھے ہو جاتے ہیں۔جن کا وجود کے خاتمے کے ساتھ نام لیوا کوئی نہیں رہ جاتا۔
کلام مجید کا ایک ایک حرف اس کائنات کے چھپے رازوں کےبند قفل کی چابی ہے۔ جو دوا اور دعا دونوں کا کام کرتی ہے۔جو بیمار اجسام دواؤں کی تھوڑی مقدار سے ٹھیک ہو جائیں وہ دعاؤں کے طالب نہیں رہتے۔جنہوں نے دعاؤں سے شفاء پائی ہو وہ باآسانی جان جاتے ہیں کہ جس دنیا کے وہ باسی ہیں اس کا برین صرف قرآن ہے۔جو ہر فعل و عمل کی جزئیات تک رہنمائی فراہم کرتا ہےاور قوت مدافعت بڑھانے کے لئے مددومددگار فراہم کرتا ہے۔ جو علم خوبصورتی میں لپٹا دانش یزداں کی آمیزش سے لمحاتِ پھیلاؤ میں وقت کو سمیٹ لے وہ حسنِ زوالجلال کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے۔
محمودالحق
Feb 8, 2014
میرا گھر میری جنت
باتیں
بنانے کے لئے قصے کہانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔گفتگو کے لئے موضوعات کی۔بحث کے لئے
ہٹ دھرمی کی۔جہاں علم صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے جس کے بارے میں بابا بلہے شاہ نے کہا
علموں بس کری او یار۔سخت گرمی میں کالی گھٹائیں برس کر لُو بھری ہواؤں کو ٹھنڈی نہ
بنائیں تو سورج اور زمین کے درمیان پھر بادلوں کی کالی چادر کا کیا کام۔زمین اور آسمان کے درمیان علم کی چادر پھیلےتو
ایمان کی ٹھنڈک سے کہلائے مسلمان۔رزق رازق کا اختیار ہےخواہش طلب کی مددگار ہے۔صبر
قناعت سے شکر عاجزی سےہم رکاب ہے۔چیونٹی کا تو نظام
ہی اس کا جہان ہے۔
جو
پوشیدہ ہے وہ مکمل بھی ہے چاہے ایٹم کا زرہ ہو یا گردش کائنات۔جو ظاہر روٹھ جائے
تو منانے کی کوشش ہوتی بار بار ہے۔جیت
جائے تو شفاء ہار جائے تو قضاء ۔حاصل بے نتیجہ تو ہو سکتاہے مگر مقصد نہیں۔ کوشش
رائیگاں نہیں جاتی وقت گزر جاتا ہے۔محبت
کم نہیں ہوتی نظر محبوب سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہے۔چہرے کے تاثرات خوشی اور غم
کے علاوہ حیرانگی کے تاثر سے بھرپور ہوتے ہیں۔زبان میٹھے اور نمکین کے علاوہ کھٹے
اور کڑوے ذائقے کے سگنل دماغ کے خلیوں تک پیغام رسانی کا کام سرانجام دیتی ہے۔کان جنہیں سننا پسند کرتے ہیں وہ دماغ کے نہاں
خانوں میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔
ہم میں سے کتنے ہوں
گے جو اس حقیقت حال سے واقف ہیں کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔نیکی کا
خیال کریں تو وسوسہ عود کر آتا ہے۔سچی بات کہنے کا ارادہ ہو
تو وہم ڈر کی صورت اندیشوں سے خوفزدہ کرتا ہے۔ماضی بیشتر اوقات افسوس میں مبتلا
رکھتا ہے، مستقبل خوف سے نجات پانے نہیں دیتا۔ حال وہم و وسوسہ سے محتاط رہنے کی
تلقین میں گزرتا رہتا ہے۔
ایک دروازہ ،ایک کھڑکی اور ایک روشندان کےذکر سے ایک کمرہ
کا تصور نظرمیں گھوم جاتا ہے۔ چار دیواری
میں گھرے صحن سے وہی کمرہ گھر یا
مکان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔باسیوں کے قہقہوں کی جھنکار سے مکین محبت کے نام لیوا
ہو جاتے ہیں۔ وہاں سے گزرتے کانوں
میں رس گھلتا ہے۔کہیں شور وغوغا اُٹھنے سے نفرت کے نشان چھوڑجاتے ہیں۔ جہاں سے
گزرتے کان پک جاتے ہیں۔ ہر عمل کا ردِ عمل ضرور ہوتا ہے کہیں زبان سے کہیں بیان سے کہیں
خاموشی سے کہیں فراموشی سے کہیں
محبت سے کہیں نفرت سےکہیں اقراری سے کہیں بیزاری سے۔ دھوپ ہوتی ہے تو چھاؤں نہیں
رہتی، چھاؤں آتی ہے تو دھوپ نہیں رہتی۔شب کی چاندنی ہو یا دن کی روشنی ایک وقت میں صرف ایک ہی رہے گا۔
نیکی
کرنا دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔برائی
میں بڑائی نہیں۔سچ دنیا میں اکڑ کر رہتا ہے۔جھوٹ کے پاؤں نہیں آج یہاں تو کل وہاں۔
کبھی ایک در پہ تو کبھی در بدر ۔فیصلہ کا وقت آنے سے پہلےخود میں فیصلہ ضروری ہے
کہ اس پار یا ہمیں رہنا اُس پار ہے۔ایک
رکھنا ایک چھوڑ دینا ہے۔جس سے دنیا ملے اسے رکھنا مقام قضاء تک رہے۔ جو دنیا سے د
ور جاکر ملے اسے اپنانا مقام زمان تک رہے۔گھر میں کیا کیا ڈالیں گھر سے کیا کیا نکالیں۔جو
بیکار ہیں رکھنا جو شرمسار کرے ہو سکے تو اسے چلتا کرو۔زندگی کو اپنے صرف یکتا
کرو۔مکان ایک ہے تو مکین بھی ایک کرو۔ کام گر نیک ہے تو انجام بھی نیک کرو۔حاصل
اگرلطیف ہے تو کوشش سے قریب کرو۔ کل تک جو بولا سچ میں جب اسے تولو
،ہو سکے تو آج اس سے جان چھڑا لو ۔کیونکہ گھر تو جنت ہے باغ و بہار میں رہنا وہاں
ایک نعمت ہے۔حقیقت سے چشم پوشی میں بدن
سزاوار ہےتودھوکہ کی آگاہی میں باطن دلدار ہے۔ ہر صبح نئے دن کا آغاز سچے کلام سے کریں۔ سچی بات سننے میں ہو یا نہ
ہو مگر کہنے میں ضرور ہو۔خواہشوں آرزؤں کی
آلائشوں سے پاک گھر میں رہنا مکین کا حق ہے۔کیا ہم اُس کا حق اسے ادا کر رہے ہیں۔اگر
نہیں تو مکاں کی ضرورتیں محدود کر کے مکیں کو لا محدود وسعتوں سے روشناس کر سکتے
ہیں۔
تحریر:
محمودالحق
Dec 16, 2013
انشااللہ
بڑے
بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب تک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی چاہ شامل نہ
ہو جائے۔ تاریخ شاہد ہے مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔
اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہو اگر ان کا اللہ چاہے تو۔
تو
اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو
ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زد عام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن
کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی اصل طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش
سے مزین ہوتا ہے۔ باطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھنا
چاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نئے
نئے انداز ترنم آبشار کی لگنِ دھن رکھتے ہیں۔
سورج
کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں
سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین
سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں۔ تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر
گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع و تفریق کے فارمولہ
کے تحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے
ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہر بالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان
کے خون سے۔
انسانی
معاشرے میں بے حسی ، بے مروتی، خیر و شر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ و جھوٹ میں فرق نہ
کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا ، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔
پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھلنے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے
اور دینے والےعہد و پیمان کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی
دینے والے، ایثار کرنے والے دوسروں کی نظر میں ہمیشہ سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ
تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ منزل تک جلد
پہنچنے کا ارادہ کرنے والے اور کسی مجبوری سے بیچ راستے سے ہی واپس پلٹ کر سفر پر نہ
جانے والے اسی جہاز یا گاڑی کے حادثہ کے شکار ہونے کی روح فرسا خبر کو ایک بدقسمتی
اور دوسرے خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔
تیز
ہواؤں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے
خوش قسمت۔ یہ ایک خودکار سسٹم ہے جس کے وہ تابع ہیں۔ پانی ،روشی اور ہوا لے کر پروان
چڑھنے والے پتے ٹہنیوں و تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم
ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین
ہے جنم ہوتے رہیں گے ۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائیگا۔
روشنی
پانی ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ، روشنی پانی
ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر
عظیم ہو سکتا ہے۔ جب کہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔ عظیم وہ ہے جو
عظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسنِ اخلاق
کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور امانت داری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائے شرافت
و دیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کا مینار کوئی کوئی تھا۔
پیدائش
و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین
ہوتے ہیں۔ تہذیبی و ترتیبی معاشروں میں حسنِ اخلاق و اخلاص کی کیاریاں پھولوں کو سینچتی
ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ اور بے ترتیب ہوتے ہیں جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے
ہیں ، پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک
نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاجِ کثیر سے روح کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
تحریر
: محمودالحق
موضوعات
اللہ,
ایمان,
تربیت، معاشرہ،,
زندگی,
قوم,
نثری مضامین
Jan 10, 2011
رضوان سے ایک تعارف
چند روز ہوئے ایک سیاہ فام نوجوان میرے پاس ایک کاروباری کمپنی کی طرف سے آیا ۔ اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ۔ کچھ کمپنی کےفضائل پیش کرنے کے بعد اپنا فون نمبر نام کے ساتھ چھوڑ کر اجازت چاہی ۔ میں نام دیکھ کر چونک گیا ۔
رضوان !
یہی نام تھا اس کا ۔ میرے استفسار پر بتایا کہ چار سال پہلے اس نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ ایک بیٹے کا نام ابراہیم اور دوسرے کا عمر رکھا اس نے ۔ میرا نام جاننے کے بعد اپنے ٹرک میں سے قرآن پاک ، انگلش ترجمہ اور کئی ایک اسلامی کتب نکال لایا ۔ میں حیرانگی سے اسے دیکھتا رہا کہ کام کے دوران میں اتنی کتب کا کیا کام ۔ میرے سوال پر اس نے بتایا کہ جب بھی اسے دوران ملازمت وقت میسر ہوتا ہے اللہ سبحان تعالی کے ذکر سے مستفید ہوتا ہے ۔ اور اپنی زندگی کو صحیح اطوار پر رکھنے کے لئے اسلام کے لافانی اور لاثانی ضابطہ حیات کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے مطالعہ کرتا ہے ۔
وہ تو چلا گیا مگر اپنے پیچھے میرے لئے کئی سوال چھوڑ گیا ۔ اللہ اور اس کے محبوب کے ذکر سے کتنا خوش تھا ۔جو اس کے چہرے سے عیاں تھا ۔ اور مجھے بھی ان کتابوں کا حوالہ دئیے جارہا تھا ۔ اور میں بھی اس کے اشتیاق میں برابر دلچپسی لیتا رہا ۔
ایک لمحے کے لئے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اسے اپنا تعارف پیش کروں کہ کس ملک کی مٹی سے میرا تعلق ہے ۔ کن اسلاف کی نیابت میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد وطن پاکستان حاصل کیا ہے ۔ نوجوانوں اور بوڑھوں کو تیغ زن کیا گیا ۔ بچوں کو نیزوں میں پرو دیا گیا ۔ لڑکیوں کو ہوس کے پجاریوں نے ایک لاش بنا کر اپنی دھرتی پر زندہ درگور کر دیا ۔
لیکن ہم اپنے مقصد سے نہیں ہٹے ۔ پہلے بھی ہم میں غازی علم دین شہید پیدا ہوتے رہے ۔ ہندو کو اتنی جرآت نہیں دی کہ وہ ہمارے اسلام یا ہمارے ایمان پر نشتر چبھو سکے ۔ اٹوٹ انگ کا اس کا خواب چکنا چور کر دیا ۔ اس کے مغرب اور مشرق دو بازوؤں پر مشتمل پاکستان گھیرا ڈالے تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ہماری گرفت سے نکالنا چاہ رہا تھا ۔ اور ہم ایک دوسرے کی گرفت سے ۔
دلوں کی کھیتی جو ہری بھری تھی ۔ جو ذکر سے کھلی کھلی تھی ۔اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ساری توانائیاں خرچ کر دی گئی ۔ پہلے بازو کی گرفت ڈھیلی پڑی پھر ایک دوسرے سے ہی آزاد ہو گئے ۔ اب مشرق اور مغرب صرف سورج کے لئے ہیں ۔ اب ہم صرف مغرب ہیں ۔ مشرق ہمارا سنہ 71 میں غروب ہو چکا ۔ آج ہم مغرب سے طلوع ہونے کو دنیا کے لئے پیغام بننے جا رہے ہیں ۔
میں حیران تھا کہ رضوان شائد ہماری نئی تاریخ سے بھی آگاہ نہیں ۔ ہم اپنی ہی مساجد کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں ۔ پٹاخوں کی گونجدار آواز میں خون کے فوارے بہانے میں سکون پاتے ہیں ۔
ہم سب ---- ہیں ۔ نعوذبااللہ ۔ کیونکہ ہم ایک دوسرے کو اس نام سے پکارتے ہیں ۔ ہمارے عقائد ہی ہمارا دین ہے ہمارا اسلام ہے۔ جو ہمارا امام ہے ۔ ایک دوسرے کو ایسے طعنے دیتے ہیں ۔ کہ پاکستان پاک نہیں رہ جاتا شرکستان معلوم ہوتا ہے ۔ جو دوسرے کریں وہ غلط جو ہم کریں وہ ٹھیک عین اسلامی جو قرآن و سنت سے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے ۔
رضوان تم کتنے بھولے ہو مجھے قرآن پاک اور احادیث کی کتب کا بتا رہے ہو ۔ ہم مہینوں سالوں اس پر بحث کر سکتے ہیں کہ کون علمی بد دیانتی کر رہا ہے ۔ کس کے عقائد فاسق ہیں ۔ ہم اتنی جلد متفق نہیں ہوتے ۔ عمل اگر نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں وہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ سمجھا جاتا ہے ۔ ہمیں تو حکم ہے صفیں درست کرنے کا ۔ اعمال کی درستگی اتنی ضروری نہیں سمجھتے ۔
کیا کہا تم نے چار سال پہلے شہادۃ پڑھی کہ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔
مگر یہ جاننا تمہارے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا مقام کس حد تک ہے کیونکہ اب تم جس مذہب میں داخل ہوئے ہو وہاں تمہیں ان سوالات کا بھی جواب دینا پڑ سکتا ہے ۔
جتنا تم جان جاؤ دوسروں تک پہنچاؤ بلکہ انہیں منوانے تک جاؤ ۔ علم کا اتنا پانا ضروری نہیں ۔ دس بیس کیسٹس میں تیار لیکچر تمہیں اسلام کے دائرہ میں داخل صحیح افراد کی نشاندہی کر دیں گے ۔ ہاتھ آیا موقع گنوایا نہیں جاتا یہاں ۔ ایک دنیا پرست ، مفاد پرست کی بنیاد پر ساری امت کے ایمان کو دھویا جا سکتا ہے ۔
زیادہ گہرائی میں مت جانا کہ ہم نے صدام حسین کو عالم اسلام کا ہیرو کیوں بنا دیا تھا جب کہ اس نے ایک ہمسایہ اسلامی ملک کویت پر قبضہ کر لیا تھا ۔ کیوں ہر کار ، ویگن اور دوکان پر صرف اسی کا پوسٹر چسپاں تھا ۔ملک کی تاریخ میں شائد ہی اس سے زیادہ پوسٹر کسی کا فروخت ہوا ہو ۔
یہ سوال بھی ہم سے نہ پوچھنا کہ اکثر اسلامی ممالک میں موروثی بادشاہت ہمیں قبول کیوں ہے ۔لیکن ہمارے ہاں تمہیں بادشاہت نہیں ملے گی ۔ کیونکہ ہم صرف موروثی سیاسی و مذہبی قیادت پر یقین رکھتے ہیں ۔
جو ملک ووٹ ، عوامی سپورٹ سے بنا تھا اب لوٹ کھسوٹ سے چلتا ہے ۔
ایک بات کا خیال رکھنا قدم بوسی کی اجازت چاہنے کا استعمال کبھی غلطی سے بھی نہ کرنا ۔ بے علم بھی نسبت رتبہ سے سجدہ تک پہنچا دے گا ۔ ہندوستان کے ہر دلعزیز بادشاہ اکبر اعظم کے دین الہی کا مطالعہ شائد تمہیں مدد دے سکے ۔ یہ بادشاہ تو نہیں مگر شاہ گری کے کمالات سے بخوبی واقف ہیں ۔ دنیا کے خزینے سمیٹتے اور اللہ کی رحمتیں بانٹنے کے دعوےدار ہیں ۔
مگر رضوان !
یہ سو فیصد حقیقت نہیں ۔
اکثریت کا ایمان تو اللہ سبحان تعالی اور اس کے پیارے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھتا نہیں ۔ جتنا سمجھنے کے لئے سوچ لیتےہیں ۔ ڈر ختم نہیں ہوتا کہ کہیں اللہ تعالی کی حدود سے نہ آگے بڑھ جائیں ۔
ہم کسی کو بھی برا نہیں کہ سکتے کیونکہ سب ہی اللہ سبحان تعالی کےنام لیوا ایمان کے خزینوں سے بھرے قلب رکھتے ہیں ۔ ہم گناہگاروں سے بہت اچھے ہیں ۔
یہ دعا ہے کہ ہمیں ایمان کی سلامتی اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
در دستک >>
رضوان !
یہی نام تھا اس کا ۔ میرے استفسار پر بتایا کہ چار سال پہلے اس نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ ایک بیٹے کا نام ابراہیم اور دوسرے کا عمر رکھا اس نے ۔ میرا نام جاننے کے بعد اپنے ٹرک میں سے قرآن پاک ، انگلش ترجمہ اور کئی ایک اسلامی کتب نکال لایا ۔ میں حیرانگی سے اسے دیکھتا رہا کہ کام کے دوران میں اتنی کتب کا کیا کام ۔ میرے سوال پر اس نے بتایا کہ جب بھی اسے دوران ملازمت وقت میسر ہوتا ہے اللہ سبحان تعالی کے ذکر سے مستفید ہوتا ہے ۔ اور اپنی زندگی کو صحیح اطوار پر رکھنے کے لئے اسلام کے لافانی اور لاثانی ضابطہ حیات کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے مطالعہ کرتا ہے ۔
وہ تو چلا گیا مگر اپنے پیچھے میرے لئے کئی سوال چھوڑ گیا ۔ اللہ اور اس کے محبوب کے ذکر سے کتنا خوش تھا ۔جو اس کے چہرے سے عیاں تھا ۔ اور مجھے بھی ان کتابوں کا حوالہ دئیے جارہا تھا ۔ اور میں بھی اس کے اشتیاق میں برابر دلچپسی لیتا رہا ۔
ایک لمحے کے لئے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اسے اپنا تعارف پیش کروں کہ کس ملک کی مٹی سے میرا تعلق ہے ۔ کن اسلاف کی نیابت میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد وطن پاکستان حاصل کیا ہے ۔ نوجوانوں اور بوڑھوں کو تیغ زن کیا گیا ۔ بچوں کو نیزوں میں پرو دیا گیا ۔ لڑکیوں کو ہوس کے پجاریوں نے ایک لاش بنا کر اپنی دھرتی پر زندہ درگور کر دیا ۔
لیکن ہم اپنے مقصد سے نہیں ہٹے ۔ پہلے بھی ہم میں غازی علم دین شہید پیدا ہوتے رہے ۔ ہندو کو اتنی جرآت نہیں دی کہ وہ ہمارے اسلام یا ہمارے ایمان پر نشتر چبھو سکے ۔ اٹوٹ انگ کا اس کا خواب چکنا چور کر دیا ۔ اس کے مغرب اور مشرق دو بازوؤں پر مشتمل پاکستان گھیرا ڈالے تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ہماری گرفت سے نکالنا چاہ رہا تھا ۔ اور ہم ایک دوسرے کی گرفت سے ۔
دلوں کی کھیتی جو ہری بھری تھی ۔ جو ذکر سے کھلی کھلی تھی ۔اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ساری توانائیاں خرچ کر دی گئی ۔ پہلے بازو کی گرفت ڈھیلی پڑی پھر ایک دوسرے سے ہی آزاد ہو گئے ۔ اب مشرق اور مغرب صرف سورج کے لئے ہیں ۔ اب ہم صرف مغرب ہیں ۔ مشرق ہمارا سنہ 71 میں غروب ہو چکا ۔ آج ہم مغرب سے طلوع ہونے کو دنیا کے لئے پیغام بننے جا رہے ہیں ۔
میں حیران تھا کہ رضوان شائد ہماری نئی تاریخ سے بھی آگاہ نہیں ۔ ہم اپنی ہی مساجد کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں ۔ پٹاخوں کی گونجدار آواز میں خون کے فوارے بہانے میں سکون پاتے ہیں ۔
ہم سب ---- ہیں ۔ نعوذبااللہ ۔ کیونکہ ہم ایک دوسرے کو اس نام سے پکارتے ہیں ۔ ہمارے عقائد ہی ہمارا دین ہے ہمارا اسلام ہے۔ جو ہمارا امام ہے ۔ ایک دوسرے کو ایسے طعنے دیتے ہیں ۔ کہ پاکستان پاک نہیں رہ جاتا شرکستان معلوم ہوتا ہے ۔ جو دوسرے کریں وہ غلط جو ہم کریں وہ ٹھیک عین اسلامی جو قرآن و سنت سے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے ۔
رضوان تم کتنے بھولے ہو مجھے قرآن پاک اور احادیث کی کتب کا بتا رہے ہو ۔ ہم مہینوں سالوں اس پر بحث کر سکتے ہیں کہ کون علمی بد دیانتی کر رہا ہے ۔ کس کے عقائد فاسق ہیں ۔ ہم اتنی جلد متفق نہیں ہوتے ۔ عمل اگر نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں وہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ سمجھا جاتا ہے ۔ ہمیں تو حکم ہے صفیں درست کرنے کا ۔ اعمال کی درستگی اتنی ضروری نہیں سمجھتے ۔
کیا کہا تم نے چار سال پہلے شہادۃ پڑھی کہ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔
مگر یہ جاننا تمہارے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا مقام کس حد تک ہے کیونکہ اب تم جس مذہب میں داخل ہوئے ہو وہاں تمہیں ان سوالات کا بھی جواب دینا پڑ سکتا ہے ۔
جتنا تم جان جاؤ دوسروں تک پہنچاؤ بلکہ انہیں منوانے تک جاؤ ۔ علم کا اتنا پانا ضروری نہیں ۔ دس بیس کیسٹس میں تیار لیکچر تمہیں اسلام کے دائرہ میں داخل صحیح افراد کی نشاندہی کر دیں گے ۔ ہاتھ آیا موقع گنوایا نہیں جاتا یہاں ۔ ایک دنیا پرست ، مفاد پرست کی بنیاد پر ساری امت کے ایمان کو دھویا جا سکتا ہے ۔
زیادہ گہرائی میں مت جانا کہ ہم نے صدام حسین کو عالم اسلام کا ہیرو کیوں بنا دیا تھا جب کہ اس نے ایک ہمسایہ اسلامی ملک کویت پر قبضہ کر لیا تھا ۔ کیوں ہر کار ، ویگن اور دوکان پر صرف اسی کا پوسٹر چسپاں تھا ۔ملک کی تاریخ میں شائد ہی اس سے زیادہ پوسٹر کسی کا فروخت ہوا ہو ۔
یہ سوال بھی ہم سے نہ پوچھنا کہ اکثر اسلامی ممالک میں موروثی بادشاہت ہمیں قبول کیوں ہے ۔لیکن ہمارے ہاں تمہیں بادشاہت نہیں ملے گی ۔ کیونکہ ہم صرف موروثی سیاسی و مذہبی قیادت پر یقین رکھتے ہیں ۔
جو ملک ووٹ ، عوامی سپورٹ سے بنا تھا اب لوٹ کھسوٹ سے چلتا ہے ۔
ایک بات کا خیال رکھنا قدم بوسی کی اجازت چاہنے کا استعمال کبھی غلطی سے بھی نہ کرنا ۔ بے علم بھی نسبت رتبہ سے سجدہ تک پہنچا دے گا ۔ ہندوستان کے ہر دلعزیز بادشاہ اکبر اعظم کے دین الہی کا مطالعہ شائد تمہیں مدد دے سکے ۔ یہ بادشاہ تو نہیں مگر شاہ گری کے کمالات سے بخوبی واقف ہیں ۔ دنیا کے خزینے سمیٹتے اور اللہ کی رحمتیں بانٹنے کے دعوےدار ہیں ۔
مگر رضوان !
یہ سو فیصد حقیقت نہیں ۔
اکثریت کا ایمان تو اللہ سبحان تعالی اور اس کے پیارے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھتا نہیں ۔ جتنا سمجھنے کے لئے سوچ لیتےہیں ۔ ڈر ختم نہیں ہوتا کہ کہیں اللہ تعالی کی حدود سے نہ آگے بڑھ جائیں ۔
ہم کسی کو بھی برا نہیں کہ سکتے کیونکہ سب ہی اللہ سبحان تعالی کےنام لیوا ایمان کے خزینوں سے بھرے قلب رکھتے ہیں ۔ ہم گناہگاروں سے بہت اچھے ہیں ۔
یہ دعا ہے کہ ہمیں ایمان کی سلامتی اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو
موضوعات
،اللہ,
ایمان,
سفینہء محمود,
نثری مضامین,
نثری مضامین،
Jun 23, 2010
الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا
الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا
نفس کو کاٹ شکمِ فقر سے صوم کی تلوار ہو جا
کھول دے بند در اونگھ تو ذرا آنے دے
کھلی آنکھوں سے دیدار نہ ہو تو اشکبار ہو جا
میرا درد تو ہے میرے جینے کی دعا
نہ پہنچے تجھ تک منزل کے نشان انتظار ہو جا
یونہی تو نہیں اک قطرہ کو سمو کر بنایا موتی
دے اپنے قلب کو حدتِ ایمان ہیرے کی دھار ہو جا
مت پلٹ کر دیکھ جب منزل ہو قریب
ہر رغبتِ کون و مکاں سے تْو انکار ہو جا
رات کی چاندنی اور سحرِ صبا ہیں صیادِ گردش ایام
بھڑکا اپنی آتشِ ایماں کو اور اْس پار ہو جا
موسل بار / محمودالحق
در دستک >>
نفس کو کاٹ شکمِ فقر سے صوم کی تلوار ہو جا
کھول دے بند در اونگھ تو ذرا آنے دے
کھلی آنکھوں سے دیدار نہ ہو تو اشکبار ہو جا
میرا درد تو ہے میرے جینے کی دعا
نہ پہنچے تجھ تک منزل کے نشان انتظار ہو جا
یونہی تو نہیں اک قطرہ کو سمو کر بنایا موتی
دے اپنے قلب کو حدتِ ایمان ہیرے کی دھار ہو جا
مت پلٹ کر دیکھ جب منزل ہو قریب
ہر رغبتِ کون و مکاں سے تْو انکار ہو جا
رات کی چاندنی اور سحرِ صبا ہیں صیادِ گردش ایام
بھڑکا اپنی آتشِ ایماں کو اور اْس پار ہو جا
موسل بار / محمودالحق
Jun 20, 2010
حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے
حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے
مشرق اپنے ہی گھر لٹکی تصویر مغموم ہے
تعبیر تعمیر میں تھا سرگرداں ایمان مسلمان تب بھی
بیتابی تب نہ تھی ہیجان خیز داستان فارس و روم ہے
امید گھر جلاتے اپنے ہی آتش شوق زماں میں
ہاتھوں میں رکھتے انگار خود تو مجسم موم ہے
باد اُمنگ / محمودالحق
در دستک >>
مشرق اپنے ہی گھر لٹکی تصویر مغموم ہے
تعبیر تعمیر میں تھا سرگرداں ایمان مسلمان تب بھی
بیتابی تب نہ تھی ہیجان خیز داستان فارس و روم ہے
امید گھر جلاتے اپنے ہی آتش شوق زماں میں
ہاتھوں میں رکھتے انگار خود تو مجسم موم ہے
باد اُمنگ / محمودالحق
Jun 19, 2010
تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا
تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا
ہزاروں سال جل جل کر تو آفتاب ہوا
کہیں آگ کے دریا کہیں روشنی کے مینار
آنکھ مچولی کھیل کھیل کر ہی تو مہتاب ہوا
وارفتگی نم سے ہی ایک دانہ کو بہار آئی
حدتِ قطرہ سے ابر اور قطرہ ہی دمِ آب ہوا
در دستک / موسل بار
در دستک >>
ہزاروں سال جل جل کر تو آفتاب ہوا
کہیں آگ کے دریا کہیں روشنی کے مینار
آنکھ مچولی کھیل کھیل کر ہی تو مہتاب ہوا
وارفتگی نم سے ہی ایک دانہ کو بہار آئی
حدتِ قطرہ سے ابر اور قطرہ ہی دمِ آب ہوا
در دستک / موسل بار
Mar 8, 2010
منزل ایک- الگ الگ قطب ستارہ
زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں ۔ عقل ، فہم اور شعور کا ادراک تقدیر سے جدا نہیں ہوتا ۔آنکھ جس منظر کو دیکھتی ہے۔ اسی کا عکس پردے پر نمودار ہوتا ہے ۔ ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں ۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں ۔مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے ۔بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں ۔شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی۔ مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے ۔کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے ۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے ۔اچھا یا برا ۔نظام کائنات سبب کی وجہ سے ہے ۔ مگر
در دستک >>
Subscribe to:
Posts (Atom)

