Showing posts with label اردو کلام. Show all posts
Showing posts with label اردو کلام. Show all posts

Feb 1, 2011

کھلتا جو گلاب ہے

کھلتا جو گلاب ہے جلتاپھر یہ زمان کیوں
گزرا ہر نشیدہ پل بہکاتا نیا شیطان کیوں

تجھے آنا مشکل نہیں جانا ہی پھر امتحان کیوں
جگر کا گرم لہو قلب ہی پھر ارمان کیوں

چبھتا نہیں خار بھی ، پھول پھر پشیمان کیوں
ڈرتا تاریکی سے چاندنی مجھ پہ مہربان کیوں

کٹتا رہا قلب تنہا ، میرا تن نادان کیوں
بیتابیء جاناں میں پٹخنا سر ہی آسان کیوں

چاہتے شب وروز مسیحائی کم پھر انسان کیوں
لکھتا لوح قلم پہ ، پڑھتے نہیں پھر قرآن کیوں


محمودالحق
خیال رست / در دستک
در دستک >>

اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو کیوں ہے

اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو کیوں ہے
جوسمجھ ہی نہیں پاتا ایسی جستجو کیوں ہے

دشت ہو یا صحرا ، گلزار ہو یا ہو گلستان
بہلانے میں نہیں رنگ پھر ماہ نو کیوں ہے

دست میں رکھا دم ، پا سرِ خم کر دیا
قلب عشقِ امتحان ،عقل جامِ سبو کیوں ہے

بیان جو میرا نہیں مفہوم بھی تو تیرا نہیں
ڈستے مجھے اندھیرے پھیلایا آفتاب صبو کیوں ہے

اصلاحِ احوال نہیں رہتے جو دامان اِستاد ہو
پلک جھپکتی روشِ روشن قلب کسو کیوں ہے

زلفِ نار سے جھولتے ، مے خراب سے مستی نہیں
محبتوں کے رنگ ہیں تیرا فراق ہجو کیوں ہے

آسان نہیں سمجھنا لعاب ریشم کی دھار ِ کنار کو
قیام جہان میں تنہا ،سجدہ میں روبرو کیوں ہے


محمودالحق
خیال رستاں / در دستک
در دستک >>

Jul 9, 2010

وہ ثناء جمال عشق بیاں

وہ ثناء جمال عشق بیاں
عجب رنگ مُحَمَّدﷺ کا سفر آسماں

لب سوز و جان با ادب بیاں
اَللہ مُحَمَّدﷺ و قرآن کا عہد و پیماں

معارض مدارج میں ھے دَہَن محبوب بیاں
کچھ تو ھے جش رباع عیاں

آرا تیہی قوس میں نو جرس متاں
عازم شکن ماذ فر آں



موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

آقا نبی آخرالزماںﷺ کی ایک جھلک چاہئیے





در دستک >>

آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو



آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو
زر ناب ہو خندہ آفتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ رشاد محبوب رب العباد ہو
پرسرخاب ہو تَسخِیرِماہتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ اتساہ با صفا اذعان ہو
باغ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان تاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ چمن دلبہار اشہر نجم اطہرہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید حسن المآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دل چاک کو آپۖ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپۖ گوہر خوش آب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپۖ مصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپۖ نگہت مآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / محمودالحق
در دستک >>

Jul 4, 2010

لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی


لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی

دین میں دی جاتی تعلیم نادانی پہلے تو نہ تھی

خدا کے سامنے سر تو نہتے پہ تلوار نہ اٹھتی

اسلام سرگزشتہ میں ایسی مسلمانی پہلے تو نہ تھی

اپنے ہاتھوں کو اپنا سر ہی درکار رہ گیا

قلب قوم میں ایسی ہوس فراوانی پہلے تو نہ تھی

ہاتھوں کی بنے زنجیر اب اس قوم کی پکار ہے

غفلت صبح میں ڈوبی قوم سلطانی پہلے تو نہ تھی

قلب ترازو میں پلڑا عشق اللہ و رسولۖ کیا ہوا

چاہ طلب دنیا کا بھاری پلڑا انسانِی پہلے تو نہ تھی




بادِ اُمنگ / محمودالحق
در دستک >>

Jun 23, 2010

الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا

الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا
نفس کو کاٹ شکمِ فقر سے صوم کی تلوار ہو جا

کھول دے بند در اونگھ تو ذرا آنے دے
کھلی آنکھوں سے دیدار نہ ہو تو اشکبار ہو جا

میرا درد تو ہے میرے جینے کی دعا
نہ پہنچے تجھ تک منزل کے نشان انتظار ہو جا

یونہی تو نہیں اک قطرہ کو سمو کر بنایا موتی
دے اپنے قلب کو حدتِ ایمان ہیرے کی دھار ہو جا

مت پلٹ کر دیکھ جب منزل ہو قریب
ہر رغبتِ کون و مکاں سے تْو انکار ہو جا

رات کی چاندنی اور سحرِ صبا ہیں صیادِ گردش ایام
بھڑکا اپنی آتشِ ایماں کو اور اْس پار ہو جا

موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

Jun 20, 2010

حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے

حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے
مشرق اپنے ہی گھر لٹکی تصویر مغموم ہے

تعبیر تعمیر میں تھا سرگرداں ایمان مسلمان تب بھی
بیتابی تب نہ تھی ہیجان خیز داستان فارس و روم ہے

امید گھر جلاتے اپنے ہی آتش شوق زماں میں
ہاتھوں میں رکھتے انگار خود تو مجسم موم ہے


باد اُمنگ  /  محمودالحق
در دستک >>

Jun 19, 2010

عشق نہیں محتاج کسی عہد و پیماں

عشق نہیں محتاج کسی عہد و پیماں
مشک کے پھیلنے کو نہیں پابندیء گلستاں

جب آفتاب و مہتاب ہی نہیں کرتے تفریق ِزیاں
نہیں ہے کوئی خدا اور بندے کے درمیاں

کبھی تو ہے باغباں اور کبھی بیاباں
آدمی کو میسر نہیں کہ وہ ہے کیا انساں

تیر تو چلتے ہیں اپنی ہی کماں
بے جا اسراف لے لیتے ہیں جاں

تکلف برطرف جنبشِ نیناں
نہیں یہ طوطا کی مینا جانِ جاناں

خونِ آنسو اور خوابِ حقیقت کا بیاں
کیسے بدل جاتا ہے کمیں کا عزتِ جہاں

اسی کے ہیں یہ سب ارض و سماں
وہی ہے یہاں اور وہی ہے وہاں

تڑپ دکھا چاہت کو پانے کی جاوداں
اتر آئے گا تیرے لیے فرشِ آسماں

نہیں ہے یہ کسی لیلی مجنوں کی داستاں
یہ تو ہے سچے عاشق کی تعظیمِ محبوبِ بیاں

پانے اور لوٹ جانے کا ہے تجھے گماں
یہ کچھ بھی نہیں بہت آگے ہیں وہ جہاں

الف اقرا ہی سے میرا علم وجود مہرباں
تیری رضا ہی سے رنگیں صحرا و ریگستاں


موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا
ہزاروں سال جل جل کر تو آفتاب ہوا

کہیں آگ کے دریا کہیں روشنی کے مینار
آنکھ مچولی کھیل کھیل کر ہی تو مہتاب ہوا

وارفتگی نم سے ہی ایک دانہ کو بہار آئی
حدتِ قطرہ سے ابر اور قطرہ ہی دمِ آب ہوا



در دستک / موسل بار
در دستک >>

May 28, 2010

دغا انسان سے اٹھ میرا وفا ایماں گیا

دغا انسان سے اٹھ میرا وفا ایماں گیا
ظاہر سیرت فرشتہ اندر دیکھا ہو حیراں گیا

نام خدا سے ہے جنکو ملتا مقام عزت جہاں
قلب سیاہ سے جلتا دیا خود اپنے پہ قرباں گیا
در دستک >>

May 24, 2010

پھولوں سے ہی تم نے اتنے درد سہہ لئے

عرقِ عبادات سے گناہوں کو اپنے تم دھویا کرو
نازاں جو مقامِ دھن اپنے حال اُن کے تم رویا کرو


جل جل کر خاک پھونکوں سے بجھتے چراغ
مخمل شان میں عاجزی فقیری کو تم پرویا کرو
در دستک >>

May 14, 2010

زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں

زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں
رک جا تو سمے دردِ پکار کی صدا میں ہوں
در دستک >>

رات کی تنہائی سے بھٹکتا رہے

دن کے اجالوں میں رات کی تنہائی سے بھٹکتا رہے
ابرِ رحمت بنے برسات قطرہ قطرہ ٹپکتا رہے
در دستک >>

May 11, 2010

میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے

میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے

میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے
در دستک >>

May 5, 2010

تنہا رہتا میں خلق جہان تو اچھا تھا

تنہا رہتا میں خلق جہان تو اچھا تھا
رکھتا ان سے میں تعلق زبان تو اچھا تھا

میرا گھر مجھ کو پہلے ہی بیگانہ کر چکا
آباد رہو میرا آشیانہ ویران تو اچھا تھا


باد اُمنگ
در دستک >>

رہتی دنیا تک ہیں آباد پیغام حی علی الصلواۃ

رہتی دنیا تک ہیں آباد پیغام حی علی الصلواۃ
گونج کون و مَکاں بالِیدَگی حی علی الفلاح

قوم وطن سے تو ملت اسلامیہ سے علم بلند
وعدہ اس کا سچا إذا جاء نصر الله والفتح
در دستک >>

May 4, 2010

آسمان اس کا انوار اس کا نظارہ کس لئے

آسمان اس کا انوار اس کا نظارہ کس لئے
لہر اس کی طوفان اس کا کنارہ کس لئے

محبت میں ہو کینہ سنگ ہو سینہ تو زمانہ کس کا
کم ہو جینا سنگدار ہو مینہ الفتِ انگارہ کس لئے
در دستک >>

Mar 19, 2010

بھر گیا میرا قلبِ قلب اَب تو

در دستک >>

Mar 14, 2010

شرابور مہک ٹپکتا مینہ سینہ خاک پہ

شرابور مہک ٹپکتا مینہ سینہ خاک پہ
کیسی آرزو کیسی تمنا رہتی دل چاک پہ

ذوق نہیں مجھے دلربا سے دلربائی کا
میرے آنگن میں وہ ہے ثمر شجر تابناک پہ

بند آنکھوں سے منزل رہتی دور نہ آتی پاس
دیکھنے میں نظر تو کرتی سفر براک پہ

انتظار میں ہے رہتی سب دنیا امتیاز
کوئی لا میں تو کوئی الااللہ کی تصویر پاک پہ

لوٹنا چاہتا ہوں چاہ جینے نہیں دیتی
جسم یہاں تو قلب جہان اشتراک پہ

انتظار میں ہے جوئے ارقم باد ابصار
بنیاد نہیں رہتی استوار ضمیم غمناک پہ

کوتاہی پرواز طائر نہیں سبب باد مخالف
روح جسم سے ہو جدا تو رہتی چپکی خاک پہ






خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter