Dec 24, 2014

بنجر زمین فصل نو بہار


جو زندگی کے سفر میں تنہا رہتے ہیں ۔ہجوم غافل میں سسکتی آہوںکو آنکھوں سے کھوجتے تو کانوں سے ٹٹولتے ہیں۔بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ اندھیری کھائیوں سے گونجنے والی آوازیں قوت سماعت سے ٹکرا کر قوت احساس کا امتحان بن جاتی ہیں۔
زندگی سفر میں آسان ہوتی ہے، آزمائش میں امتحان۔جس میں پورا اترنے کی کوشش میں راستے کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے خوف کی گانٹھیں ایسی سختی سے لگاتے جاتے ہیں کہ جب کھولنے کا وقت آتا ہے تو دانتوں سے بھی کھل نہیں پاتیں۔یہ ایسی آندھی ہےجو رفتار بڑھنے پر ہر شے تہس نہس کر دیتی ہے۔جو مان کر بیٹھ جاتے ہیں ،جان کر جان سے چلے جاتے ہیں۔پاس آنے سے جو سکون پاتے ہیں، دور جانے سے کھونے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔زندگی انہیں راستہ دکھاتی ہے جو منزل کی تلاش میں بے خود ہو جاتے ہیں، بے خوفی انہیں مقام تلاش سے آگے دھکیل دیتے ہیں۔پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے والے قدموں کی چاپ کے احساس سے واپس پلٹنے پر بضد رہتے ہیں۔
اندھیری گلیوں سے گزرتے ہوئے چاندنی راتوں کے انتظار کی سولی پر جو لٹکے رہتے ہیں، وقت گزرنے پر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔یہ محبوب کی گلی نہیں کہ جس میں راستے پھولوں سے سجائے جاتے ہیں۔عاشقوں کے راستے کانٹوں سے لبریز برہنہ پا عشقِ لہو سے سرخ ہوتے ہیں۔یہ سردیوں کی رات نہیں کہ لحاف اوڑھ کر بسر کر لی جائے۔ یہ وہ پیراہن ہے جو کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتی راتوں میں پیشانی پر پانی کے قطرہ سے نمودار ہو جائے۔
محبت کوئی پھول نہیں کہ آگے بڑھ جاؤ تو وہ مرجھا جائے۔ یہ تو وہ کانٹے ہیں جو دامن سے اُلجھ کر تار تار کر دیتے ہیں۔آگے بڑھنا جنہیں محال ہے، اظہار کی نہیں انہیں کوئی مجال ہے۔یہ بھیک نہیں جو خیرات پر ختم ہو۔یہ منزل نہیں جو جستجو پر ختم ہو۔یہ دل نہیں جو دھڑکن سے ختم ہو۔یہ اندھیرا نہیں جو روشنی سے ختم ہو۔یہ آس نہیں جو خیال سے ختم ہو۔یہ وجود نہیں جو چاہ سے ختم ہو۔
جو پا گیا وہ راز زندگی جان گیا۔جو کہنے سے رہ گیا وہ پھر ایک طویل سفر پر چلنے کے لئے تیار ہو گیا۔ایک پڑاؤ سے اُٹھ گئے تو سمجھو چل پڑےنئے پڑاؤ کی طرف نئی منزلوں کی طرف۔مسافر گزر جاتے ہیں منزلیں ٹھہری رہتی ہیں۔آگے بڑھ کر جو تھام لےوہی سفر کو روک لیتے ہیں۔ جو خود گزر جاتے ہیں وہ اُلجھ جاتے ہیں۔یہ ایسا امتحان ہے جو دوسرا چانس نہیں دیتا۔جو گزر گیا سو بھول گیا۔یاد صرف وہی رکھا جاتا ہے جسے مکمل تسخیر کر لیا جاتا ہے۔جو مسخر نہ ہو اسے ریاست تخیل سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔خط و کتابت میں حال واحوال جانا جاتا ہے۔ کیفیت اظہار میں ہاں نا سے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔جب کوئی خود کے بس میں نہیں تو کسی اور کے خیال سے حقیقت کیسے ہو گا۔
پرانے کپڑے رفو گری کے کمال ہنر مندی کے محتاج ہوتے ہیں ۔ نئے تعلق آداب تخیل سے بے پرواہ ہوتے ہیں۔دو راستے نقطہ آغاز سے سمت مخالف بڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔آگے بڑھنے والے پلٹ سکتے ہیں مگر پلٹ کر بڑھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔کیفیت اظہار کی مرہون منت ہے۔احساس محرومی اور تشکر ارمان میں چشم تر  سے نہ گزرے تو آرزوئے انجان سے نہ لپٹے۔
کھلی کتاب میں بند سوال صفحات در صفحات آگے نہیں بڑھتے۔بعض اوقات ایک لفظ سے ہی مفہوم کی وضاحت کر دیتے ہیں۔اظہار کیفیت کا حال بیان کرتا ہے۔خاموشی پردہ پوشی کرتی ہے۔بتانے والے سنا کر گزر جاتے ہیں۔سننے والے سمجھ کر ٹھہر جاتے ہیں۔حالانکہ مسافتیں ہمسفر چاہتی ہیں نہ کہ ہمراز۔ایک ساتھ چلنے والے ، ایک ٹھہرنے والے۔نا سمجھی میں چلنا ،سمجھ کر ٹھہرنے سے بدرجہا بہتر ہےکہ آگے بڑھنا ہی زندگی کا مقصد ہے۔پھولوں کی رنگت اور مہک سے بے خود ہو کررکنے والے ایک نئی بہار کے انتظار تک جامد و ساکت ہو جاتے ہیں۔زندگی ایک ایسا تسلسل ہے جو مسلسل ہے مگر متصل نہیں۔ہجر ہے فکر ہے مگر قدر کے بغیر صرف جبر ہے۔جنوں ہے تو سکون ہے۔زندگی چار دیواری کے اندر پروان چڑھتی ہےتو محبت سوچ وخیال کے بند کواڑ سے باہر جھانکتی ہے۔بند کواڑ کھل جائے تو پرواز کر جاتی ہے وگرنہ وہیں دم توڑ دیتی ہے۔
ان گنت بال جسم کو احساس دلائے بنا بڑھتے رہتے ہیں۔جب ان میں سے کسی ایک کو الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو جسم ایک بال کی جدائی کو پورے وجود میں محسوس کرتا ہے۔محبت ایسے ہی جسم و جاں پر نچھاور ہو کر پروان چڑھتی ہےکسی احساس کے بغیر، مگر الگ ہونے کی کوشش پر جسم قلب کے زیر عتاب آ جاتا ہے۔

تحریر! محمودالحق



در دستک >>

Oct 17, 2014

آنکھیں جو کھوجتی ہیں

علم و عرفان میں یکتائی ہر کسی کا نصیب نہیں ۔علم وفضل کے قلمدان آبروئے ورق پر آفرینش ہوتے ہیں۔کیاریوں میں پودوں کی آبیاری سے ننھے بیج توانا درخت تک کا سفر باآسانی طے کر لیتے ہیں۔بلند وبالا پہاڑ ،وادیوں میں بہتے چشمے ،انواع واقسام کے میوے اور خوشبو بھرے پھل نظروں میں ساکت فلم کی طرح ٹھہر جاتے ہیں ۔ انہیں محسوس کرنے کے لئے ایک جھلک ہی کافی ہوتی ہے کسی اینیمیٹڈ فلم  کے ایک سیکنڈ میں پچیس فریمز جیسی نہیں۔
آنکھ سے صرف دیکھنے کا کام لیا جاتا ہے حالانکہ یہ نظر کی گرفت میں آنے والے ہر منظر کو فریمز کی صورت دماغ کے حساس سٹور روم میں ارسال کرتی رہتی ہے۔دور و نزدیک  کےمناظر ،ان کی رنگت ، ان کی خوبصورتی  حتی کہ ان فاصلوں کو بھی ماپ لیتی ہے۔ جہاں سے ان کو دیکھا گیا ہو،محسوس کیا گیا ہو حتی کہ ان کےقرب و لمس سے لطف اندوز ہو کر سرشاری میں قربت کا نشہ  روح میں اتار لیا گیا ہو۔
جو فارمولہ نظروں کی طرح ہماری ذات کی شناخت اور پہچان میں آسانی  سے فٹ بیٹھ جائے  سلوموشن کے فی سیکنڈ میں آنے والے فریمز کی بجائےمکمل سین یاد داشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔موضوع جتنا اہم ہے وہاں تک پہنچنے میں ایک سفر طے کرنا پڑے گا۔جیسا کہ ان الفاظ کو پڑھنے تک کا سفر طے کیا گیا۔نہیں اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہو گا کہ اتنے سال اور اتنے ماہ زندگی کے نشسیب و فراز  سے گزر چکے ہیں یا یہ  کہ اتنی بہاریں دیکھ چکے ہیں۔
پیدائش سے لیکر موت تک مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ایک پل کے لئے بھی نہیں رکتے۔پچاس سال پورا ہونے پر انسان مسرور ہوتا ہے ۔ایک ہی گاؤں میں پچاس برس گزارنے والا اور دنیا بھر کا سفر کرنے والا ایک ہی طرح سے بڑھاپے کے آثار خدو خال میں تبدیل ہوتے ہوئے پاتا ہے۔کائنات میں زندگانی کا سفر دونوں اجسام نے اتنا طے کیا ہوتا ہے کہ چند ہزار یا  چند لاکھ میل ان کی ظاہری ہیئت پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتے۔کیونکہ سورج کے گرد دونوں کا سفر 47 ارب کلو میٹر بنتا ہے۔ زمین سورج کے گرد ایک سال میں 94 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ  طے کرتی ہے اور ہم اس کے ہمسفر ہوتے ہیں۔ذہنی معذورانسان چاہے عقل و شعور میں وقت کی قید سے نہ نکل پائیں مگر بڑھاپے کے اثرات ان پر زی شعور انسان کے برابر ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ بہاروں کے ساتھ ساتھ گرمی سردی کے علاوہ خزاں سے بھی بارہا گزرتے ہیں۔  اس سفر میں چاروں اطراف کائنات  کےپل پل بدلتے مناظر کو آنکھ  صرف ایک فریم  کی صورت دماغ کو تصویر ارسال کرتی ہے۔اگر اسے فی سیکنڈ سینکڑوں فریمز کی صورت یادداشت کی ٹیپ پر ریکارڈ کے لئے بھجوایا جائے تو کچھ اور یاد رکھنے کے لئے شائد سپیس نہ بچے۔
انسانی دماغ بالحاظ ساخت و وزن تقریبا ایک جیسے ہوتے ہیں مگر ان کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہوتا ہے۔عالم کے گھر جاہل اور کوتوال کے گھر چور پائے جا سکتے ہیں۔ انسانی آنکھ مختلف اشیاء کو فریمز کی صورت دماغ کے نہاں خانوں میں ارسال کرتی رہتی ہےاور ذہن انہیں جمع و منفی کے فارمولہ سے کانٹ چھانٹ کربرابر کرتا رہتا ہے ۔ اسی لئے تو روز مرہ معمولات زندگی میں ذہن کو تردد نہیں کرنا پڑتا۔جو ان کی تفریق سے رزلٹ  بتا دیتا ہے جو ہم کر گزرتے ہیں۔اسے ایک  عام فہم مثال سے  بہت آسانی سےسمجھا جا سکتا ہے۔

کسی گھر میں رشوت کے پیسے کی ریل پیل ہے وہاں چھوٹوں بڑوں کو انہیں 1- سے 100-کے درمیان  نمبر لگانے کا کہا جائے تو وہ  اس فعل کو 90- نمبر دے کر جسٹیفائی کریں گےاور ایمانداری  کو 20+ سے زیادہ نمبر نہیں دے سکیں گے کہ آج کل کہاں اتنی تنخواہ میں گزارا ہو سکتا ہےتو فیصلہ 70- کے ساتھ رشوت کے حق میں نکلے گا۔اسی طرح ایماندار انسان حق حلال کو 90+ اور بے ایمانی اور رشوت کو 10- سے زیادہ نمبر نہیں دے پائے گااور حلال 80+ کے ساتھ سر فہرست ہو گا۔اسی طرح معاشرے میں پائی جانے والی ہر اچھائی، برائی کو ازخود  جمع اور منفی نمبر لگاتے جائیں۔دماغ کیلکولیٹر کی طرح جواب سامنے رکھ دے گا۔میں جھوٹ کو 1- اور سچ کو 99+نمبر دیتا ہوں تو دماغ اسے 98+=1-99+کے ساتھ لوٹا دیتا ہے۔کوئی نیا اور سخت فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ہم ذہن کو جو جو نمبرز ارسال کرتے ہیں وہ انہیں تفریق سے  ہمارے ہی رویے کےمثبت یا منفی ہونے کی صورت واپس لوٹا دیتا ہے۔جیسے ہم کسی انسان کےدوسروں کے ساتھ برے رویے  کونظر انداز  کر کے  ایسی  کم سطح پر رکھتے ہیں کہ جب وہی رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا جاتا ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔دوسرے لوگوں کی باتوں اور مشوروں سے کبھی رزلٹ ہمارے خلاف نہیں آ سکتے جب تک کہ ہم خود اس بات کا فیصلہ نہ کر لیں کہ اچھے عوامل کو اچھے نمبروں کے ساتھ ذہن کو ارسال کیا جائے تو رزلٹ مثبت ہوں گے اورقلب سکون میں رہے گا۔

محموالحق
در دستک >>

Oct 16, 2014

زندگی کی عجب کہانی ہے

زندگی تیرے انجام سے بے خبر  یونہی چلتے رہےجیسے ننگے پاؤں انگاروں پہ جلتے رہے۔ کبھی چاند کو اپنا سمجھتے رہے کبھی پھول سے محبت کرتے رہے۔رات کے پچھلے پہر ستاروں کی ٹمٹماہٹ سے سلگتے رہے۔چاندنی میں جسم و جاں سے اُلجھتے رہے۔حدت ِآفتاب سے تپتی ریت پر گھسٹتے رہے۔دُعا میں اُٹھے ہاتھوں کووصلِ بیتاب سمجھتے رہے۔اقرارِ زباں کو قرارِ جاں سمجھتے رہے۔ عشق ِامتحاں کو دلِ ناداں سمجھتے رہے۔ جوانی کی مستیاں حسن کی لن ترانیاں رہ گئی گھٹ کر ان میں اذیت کی سرگوشیاں۔زندگی کے میلوں میں کھو گئیں بچپنے کی معصومیت،چاہت کی پاکبازیاں،آنکھوں کا بھول پن ،کانوں کی سرخی اور رخساروں کی لالی۔ 
شجر تو کونپل سے کونپل بڑھتے رہےپھلوں پھولوں سے بھر کر پھیلتے رہے۔ جوانی بپھر کر بھی سمٹتی رہی۔اُنگلی چھونے پہ ہاتھ بھی کٹتے رہے۔ایک نظر پڑنے پر  جوجان ہتھیلی پر لئے پھرتے رہے۔ نظر بدلنے پر جان جہاں سے بھی جانے میں مسکراتے رہے۔
زندگی کی عجب کہانی ہےدل پہ گزرے تو دیوانی ہے، درد میں ڈوبے تو آفتِ نا گہانی ہے۔   
در دستک >>

Sep 26, 2014

کرب واذیت کے کھونٹے

اردو کی ٹیچر نے دوسری جماعت کے طالب علم کو دونوں ہاتھ سامنے پھیلانے کا حکم صادر فرمایا ۔  حکم کی بجاآوری کے ساتھ  ہی اس نے اپنے بیگ میں سے کالے رنگ کا ایک ڈیڈھ  فٹ لمبا ڈنڈانکالا۔پانچ پانچ دونوں ہاتھوں پر کھانے کے بعد سوجے ہاتھوں نےتختی کبھی  گھربھول نہ آنے کی قسم کھانے کے ساتھ ساتھ مولا بخش سے ملاقات کا یہ شرف کبھی  نہ  بھلایا۔زندگی میں پہلا سبق اسے بھولنے کی وجہ سے بھگتنا پڑا ۔اس کے بعد وہ ہر سبق کی طرح ساتھ رکھنے والی چیزوں کو گن گن کر روزانہ بیگ میں سنبھالتا۔بھولنے کی ایک معمولی غلطی کی سزا کو اس نے دو ہفتوں تک اپنی نرم ہتھیلیوں پر محسوس کیا تھا۔جیسے ہر رات اس کی ہتھیلیوں پر کوئی آنگارے رکھ رہا ہو۔جسم بڑے ہو جاتے ہیں مگر سزا کے اثرات وہیں رہ جاتے ہیں۔کرب واذیت کے یہ کھونٹے بچپن میں ہونے والی زیادتیوں ، نا انصافیوں  کےسنگل سے چھٹکارہ پانے کی اُمید جوانی سے بڑھاپے کی طرف پہنچا کر بھی پوری نہیں ہونے دیتے۔انسان قدموں سے میلوں کا سفر اور سوچ میں صدیوں کا سفر طے کر لینے  کے باوجود ان کھونٹوں سے چھٹکارہ نہیں پا تا۔
ہمدردی کرنے والے انہیں فریب دکھائی دیتے ہیں۔کھونٹے سے کھولنے والے انہیں ظالم نظر آتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی دوسرے کھونٹے سے باندھنے کے لئے لے جایا جا رہا ہے۔جنہیں اعتماد سے ٹھیس پہنچتی ہے وہ اعتبار سے ڈرتے ہیں،جھوٹ سے ڈسنے والے سچ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔بھولنے کی سزا پانے والے یاد کرنے سے ڈرتے ہیں۔خوف کا ایک عفریت روح میں سما کر اتنا طاقتور ہو جاتا ہے جس کے سامنے ایک توانا وجود بھی دوسری جماعت کے طالبعلم کی نازک ہتھیلیوں سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔
گھر کی دہلیز اور سکول کی عمارت کے اندر سوچ کی آزادی کو باندھنے کے چھوٹے بڑے کھونٹے صدیوں سے معاشرے کے باڑوں میں سختی سے زمین میں گاڑے ہوتے ہیں۔خوش قسمتی سے اگر کوئی ان سے چھٹکارہ پا بھی لے تو بھول جانے کی سزا یاد نہ رکھنے کی عادت سے نکلنے نہیں دیتی۔اس کے بعد تلاش کے لا متناہی سلسلے پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرح زمین پر اکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔کوئی علم کے قلم پر سوار لفظوں کے سمندر میں اُتر جاتا ہے تو کوئی عقل سے ستاروں کی روشنیوں میں کھو کر منزل پانے کی نوید سننے میں بیتاب ہو جاتا ہے۔سفر میں آگے بڑھ جانے والے اگر آنکھیں موندھ لیں تو  بعض اوقات منزل پیچھے رہ جاتی ہے۔تلاش  کے بعد منزل پاناہمیشہ خمار میں مبتلا رکھتی ہےلیکن جب مقصد نہ رہے تو سفر باقی رہ جاتا ہے منزل کہیں کھو جاتی ہے۔جسے مشکل سے ڈھونڈا جاتا ہے اسے آسانی سے کھودیاجاتا ہے۔جسے پا کر کھو دیا جائے وہ منزل اپنے نشان بھی مٹاتی جاتی ہے۔ یہ بھول بھلیوں کا ایسا پزل ہے جس میں آسانی سے داخل ہو کر مشکل سے نکلا جاتا ہے ۔ ہر بار نیا راستہ بنتا ہے تو نیا راستہ ہی نکلتا ہے۔جس میں سے ایک بار گزر کر پچھلے راستے خودبخود بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔جیسے امتحانات میں ایک ہی کتاب سے سوالات ہر امتحان میں بدل جاتے ہیں۔جوابات چاہے کتنے ہی ازبر کیوں نہ ہوں ، ایک بار یادداشت کے پردے پر بے ہنگم ڈھول کی دھمک سنائی دیتی ہے۔ایک وقت کے بعد اگر کورس ہی تبدیل ہو جائے تو پھر پہلے جوابات ختم ہو جاتے ہیں اور نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔جن کے حل کے لئے تلاش کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔
سوچ و افکار کی لینڈ سلائیڈنگ سے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔پھر دو ہی صورتیں باقی بچتی ہیں پلٹ جاؤ یا کسی دوسرے طویل راستہ سے منزل مقصود تک پہنچنے کی کوشش شروع کر و۔کیونکہ  بعض اوقات ساری توانائی خرچ کر کے بھی بھاری پتھر اُٹھانے سے بھی راستے صاف نہیں ہوتے۔

محمودالحق
در دستک >>

Sep 19, 2014

کیفیتِ اظہار

کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              
در دستک >>

Sep 4, 2014

قیدِ بے اختیاری

چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

  محمودالحق
در دستک >>

Aug 25, 2014

دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا


جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان سے آشکار نہیں ہو گی۔احساسات اور محسوسات پر اعتراضات بھی نہیں ہوں گے۔
کون جانتا ہے کہ رات دن سے الگ کیسے ہوتی ہے اور دن رات میں کیسے چھپ جاتا ہے۔چاندنی راتوں میں سمندر پر لہریں کیوں رقص کرتی ہیں۔آسمانوں سے پانی برس کر پھلوں پھولوں میں رنگ و خوشبو کے رنگ کیسےبکھیر دیتا ہے۔ چاہنے اور پانے کے انداز جدا ، رنگوں کی ترتیب الگ رہتی ہے۔ رنگ ونور کی برسات صفحات پر اترے تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔مگر جب قلب پہ اُترے تو روح میں خوشگوار احساسِ حیرت کو جاگزیں کر دیتی ہے۔ 
آرٹس کے مضامین پڑھنے والا سائنسی توجیحات پر سر کھجانے سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ وہاں سوچ داخلہ بند کے آویزاں بورڈ سے استقبال کرتی ہے۔ قربت کا مضمون پڑھنے والے محبت کے مفہوم سے ہمیشہ ناآشنا رہتے ہیں۔پانے کا جنون احساس کے لگن سے کبھی ہم رکاب نہیں ہوتا۔بہشتی زیور بحر طور زمینی زیور سے بدرجہا بہتر بھی ہے اور لازوال و لافانی بھی ۔
جن چیزوں کی اہمیت انہیں پانے کے بغیر مکمل نہ ہو تو ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے سلسلے ختم نہیں ہوتے۔ جیولری ، کپڑے ، جوتے کا نیا ڈیزائن اور کار  کانیا ماڈل ،گلے میں لٹکے ہیرے کے ہار اور گیراج میں کھڑی نئی گاڑی کو بھی بے وقعت کر دیتی ہے۔ بچے جن کھلونوں کے لئے زمین پرسر پٹختے ہیں۔ پھر نیا دیکھ کر انہی کھلونوں کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ 
مگر اس کے مقابلے میں قدرت اور فطرت سے محبت رکھنے والے آپس میں دست و گریباں نہیں ہوتے۔ پانے کے لئے حسد و رقابت کی بھٹی میں نہیں جلتے۔چاہت بہت  ہوتی ہے مگر طلب نہیں کہ جان پر بن آئے۔ان کا جینا آسان ہوتا ہے ۔حقیقی خوشی سے سرشار ہوتا ہے۔صرف محسوس کرنے سے ہی قربت کے احساس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک روح میں سماتا چلا جائے  توتشنگی بڑھ جاتی ہے مگرتڑپ نہیں ۔ 
میلوں پھیلے گلستان میں ہزاروں رنگ بکھیرتے خوشبو پھیلاتے پھول دیکھنے والوں کوسحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا جاذبیت سے جذبیت بڑھا دیتا ہے مگر پہلے کی محبت کم نہیں کرتا۔ انہیں توڑ کر گھر وں میں سجایا  نہیں جاتا بلکہ قلب ِروح کے گلدان میں بسایا جاتا ہے۔خوشبو سے خود کومہکایا جاتا ہے۔ اظہار ِخیال قلبِ حال پر فوقیت نہیں رکھتا۔لفظ تو پھول کی مانند ہیں ۔کوئی انہیں گلستان میں مہکتا دیکھ کر محبت کا شکار ہوتا ہے تو کوئی انہیں توڑ کر کتابوں میں چھپا کر چپکے چپکے روتا ہے۔
سکول  میں پڑھنے والے طالبعلم چاہے پہلی پوزیشن سے کامیابی کے زینہ پر قدم رکھیں یا صرف پاس ہونے پر اکتفا کر پائیں۔ مگر بیس کمروں کے سکول کو بیس ہزار طالبعلم میرا سکول  کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے برعکس ہوٹل یا ہوسٹل میں سالہا سال  رہنےکے بعد بھی اسےاپنا نہیں کہہ پاتے۔
زندگی میں صرف دیکھنے سے مفہوم جانے نہیں جا سکتے۔زندگی میں درپیش حالات و واقعات کی کھائیوں سے دوبارہ ابھر کر سمجھے جا تے ہیں۔ کتابوں سے مطالب ومعنی تلاش کئے جا سکتے ہیں مگر مفہوم نہیں۔

محمودالحق                           
در دستک >>

Aug 6, 2014

زمین میری تھکن سے بھی چھوٹی ہے۔۔۔۔۔ سارا شگفتہ


           ؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛محمودالحق کے قلم سے؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛

سفید چاندنی میں لپٹی آنکھیں موندھے وہ مسکرا رہی تھی۔بائیں کندھے کو بایاں کندھا دینےوالےآگے سے پیچھے دائیں تو کبھی بائیں کندھے سے آج ایک فعل کو ایسے ادا کرنے جارہے تھے جیسے کوئی زمین کا بوجھ اُتارنے جا رہے ہوں۔ آج تو وہ ایک لاش کو دفنانے جا رہے تھے۔ جس کے چہرے پہ مسکراہٹ روح اپنا صدقہ سمجھ کر چھوڑ گئی تھی۔جسے جسم نے خیرات سمجھ کر کبھی قبول ہی نہیں کیا تھا۔ مگر آج وہ بے بسی کی تصویرنہیں تھی۔
بادل آج بھی کالی گھٹا کی صورت اپنا سایہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔کہ کہیں سورج کی کرنیں اسے اپنی آغوش میں نہ نہلا دیں۔کرنیں بادلوں سے اُلجھ رہی تھیں سفید چاندنی پرایک نظر التفات ڈالنے کے لئے بے چینی سے بادلوں میں کندھا دینے والوں کی طرح  کبھی آگے سے کبھی پیچھے کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے جھانک رہی تھیں۔  وہ آج بوند بوند برس کر روشنیوں سے انتقام لینے کے موڈ میں تھے۔ مٹی زرہ زرہ بکھر کر آج سارا وجود سمیٹ کر گوندھنے کے موڈ میں تھی۔بوند بوند پانی اسے بکھرنے سے روک رہا تھا۔ آج کندھوں پر جانے والی جوتیوں میں رہنے سے بھی بد تر حالت میں تھی۔جو پتھر دیواریں چنتے چنتے گلے تک آ گئے تھے آج وہ آنکھوں سے منظر چھین لینے کے لئے سر سے اوپر چننے کے لئے بیتاب تھے۔بیگانے سر سے بوجھ اُتارنے جا رہے تھے اور اپنے بانہیں پھیلائے سمیٹنے کے لئے بیتاب تھے۔ 
وہ سفید بے داغ کاغذ کے ایک ورق پر ایک نقطہ ڈال کر اُس میں اُتر جاتی۔وہاں اسے ویسا ہی پھر کاغذ ملتا ۔ نقطہ ڈال کر پھر  اس میں اُتر جاتی۔ نہ جانے  وہ سفید اور اُجلے اوراق کی کتنی ہی تہوں کے نیچے اُتر گئی۔ جہاں اسے سمندر ایک قطرہ بن کر آنکھ سے ٹپکتا نظر آیا۔زمین ایک زرہ کی مانند ہوا میں بھٹکتی نظر آئی۔سورج اس کے ہاتھ میں یوں اُتر آیا جیسے چیونٹی کے منہ میں آٹا۔
جو پہاڑ بن کر اُس پر گرے جہاں اُس کی چیخیں  دم گھٹ گھٹ کر مرتی رہیں ۔ وہ بے بسی سے تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی رہی۔مگر آسمانی صحیفوں کی تلاوت کرنے والے اسے پتھر کی مورتی بنا کر چٹانوں پر نصب کرتے رہے۔وہ کالی سیاہی کی مورتی بن کر علم کے قلم سے آڑھی ترچھی لکیروں میں ڈھال دی گئی۔
وہ بھول گئی یہ ہوائیں کب اُس کی سانسوں سے آشنا ہوئیں۔کب ان فضاؤں نے اُس کی پہلی آواز سنی تھی۔ ہاں یہ یاد تھا اسے پنچھیوں کی چہچہاہٹ سے وہ روئی تھی۔جب بھی پنچھی چہچہاتے وہ اپنا جنم دن منا لیتی۔
وہ ہواؤں کو شیشہ کہتی جو اسے چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے۔قوس وقزح کے رنگ اس کے رنگوں کو بے رنگ کر دیتے۔ سورج اپنی تمازت سے اُس کے پیرہن کے رنگ پھیکے کر دیتا۔پیڑوں پر ناچتے ہرے پتے ،سمندر پر بہتی سفید لہریں،آنکھوں سے بہتے آنسو  جس میں وہ خود ہی ڈوب جاتا ہے۔ان سب کو چوری ہونے کا خطرہ نہیں ۔جو انہیں چرا لے جائے وہ دن میں توڑے پھولوں کو رات میں کالا کر دیتے ہیں۔وہ اندھیروں کو چور سمجھتی۔جو روشنیوں کو چرا لیتے ہیں۔
پیڑ پر رات بسر کرنے والا پنچھی پتوں کے ہلنے پر پھڑ پھڑا جاتا ہے۔وہ صبح کے انتظار میں وہیں دبکا بیٹھا رہتا ہے۔کیونکہ اندھیرے خود سے جدا نہیں ہونے دیتے ۔سبھی اندھیرے مل کر روشنی سے محبت رکھنے والوں کو ڈرا کر پھڑ پھڑانے کی صرف اجازت دیتے ہیں۔پنچھی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر، چاہے ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ تک چلا جائے اندھیرے پیچھا کرتے رہتے ہیں تا وقتکہ روشنیاں اندھیرے بھگا نہ دیں۔
وہ ایک ایسا دکھ تھا  جو ماں کے کلیجے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر لے گیا۔ کوکھ میں پال کر چند لمحے زندگی کا کفارہ ادا  کر گئے۔ اُس کے کانوں سے خاموشیوں نے ساری آوازیں چھین لیں۔اُس کی چیخوں کی لہروں کو خاموشی کے گہرے سمندر کے طوفان غرق کر دیتے۔آسمان زمین کی گود میں اُتر کر زرے زرے کو گوندھ کر مٹی کی مورتیں بناتا ۔پھر توڑ کر مٹی بنا دیتا۔وہ خاموشی سے زروں سے مورتی بنتی تو لمحوں میں پھر زروں میں ڈھل جاتی۔جہاں اُس کے آدھے کمرے میں ہوا روشنی سے اُلجھ جاتی۔   تو وہ سہم کر کھلے آنگن میں یوں اُترتی جیسے دکھ کے گرم بدن پہ ٹھنڈی ہوا اُترتی ہے۔مگر وہاں روشنی بن سائے کے آس پاس سے گزر جاتی۔وہ انتظار کے دیپ جلا کر دکھوں کی بستی میں درد دل کے مسیحاؤں کو آنکھوں کی روشنی پانے کے لئے تکتی رہی۔ مگر جنہیں آنا تھا وہ نہیں آئے۔صنم روٹھ جائے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ جب دل ٹوٹ جائے تو  آنکھوں سے روشنی روٹھ جاتی ہے۔ 
نہ جانے کتنی ہی آنکھیں دل میں اُمید کے دیپ جلا کر  گھپ اندھیرے میں انتظار کر رہی ہوں۔ جو صبح کے انتظار میں پھڑ پھڑا رہی ہوں۔ آخر کب تک انسانی صحیفوں کے انتظار میں آنکھیں پتھرائی جاتی رہیں گی۔جب تک کنارے سامنے نظر آتے ہوں ہاتھ دینے والے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب کنارے اوجھل ہو جائیں تو تنکے بھی سہارے بن جاتے ہیں۔
بے سکونی اور تنہائی کے آسیب اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ انسانی بستیاں آسیبوں کی آماجگاہ معلوم ہوتی ہیں۔ جہاں بے اعتباری کے بھوت دن میں سوتے تو راتوں کو جگاتے ہیں۔مٹی کی جزبیت افکار وشعور کی تتلیوں کو بوند بوند نہلا کر بے رنگ کرنے کے درپے رہتی ہے۔پانی آگ سے تپش محسوس کرتی ہے تو آگ پانی سے ٹھنڈک کا احساس پانے سے ڈرتی ہے۔ آب آب میں رہ کر آب رہتا ہے مگر آگ آگ سے مل کر صرف خاک رہ جاتی ہے۔اُداسیوں کے محل برباد سے سیدھا نا اُمیدی کی قبر میں نہیں اُترا جا سکتا۔    بادل نے برس کر گزر جانا ہے اگر وہ ٹھہر جائے تو اسے نچوڑا نہیں جا سکتا۔جب تک قبر کھودی جاتی رہتی ہے خالی پیٹ ماتم ہوتے رہتے ہیں۔ جب مٹی بھر دی جاتی ہے ماتم روک کر پیٹ بھرے جاتے ہیں۔زندگی کی سچائیاں مٹی سے مل کر پائی جاتی ہیں ۔ مٹی میں گھل کر نہیں۔بادل زمین پر  بوند بونداُترتاہے۔آسمان رنگ بدلتا ہے۔ قوس و قزح کے رنگ۔ رم جھم  ستارےبوند بوند روشنی آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ جو سونے کے بعد بھی کالے آسمان پر چمکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ چاہ پانے والی نگاہوں کے انتظار میں روشنی کے دیپ جلا کر رکھتی ہیں۔ مگر نگاہیں اندر کے اندھیروں سے گھل مل جاتی ہیں کہ باہر کی روشنی انہیں کسی مزار پر جلتے تیل کے چراغ دکھائی دیتے ہیں۔جنہیں منت مانگنے والوں کی مدد سے روشن رہنے کی  عادت ہو جاتی ہے۔ ان کو زندگی تبھی ملتی ہے جب مایوسی اور محرومی کے شکار ان میں اُمید کے تیل ڈالتے ہیں۔
ایسے چراغِ شب بجھا دو جو نگاہوں کو ستاروں کی محبت سے محروم رکھیں۔


!نوٹ 
میں نے یہ تحریر شاعرہ سارا شگفتہ کو پڑھنے کے بعد لکھی ۔   اس کے الفاظ میری روح میں اُتر گئے ۔میں نے بہت کوشش کی کہ اُس مقام پر کھڑا ہو کر دیکھ پاؤں جہاں سارا شگفتہ نے نظمیں لکھیں۔لیکن میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ کیونکہ اُس کے لفظ کوڑوں کی طرح میری روح پر برس رہے تھے۔میں واہ واہ کی بجائے ہائے ہائے کرتا رہ گیا۔ اُس کے الفاظ میری روح کو تشنگی کی انتہا پر پہنچا کر اکیلا چھوڑ گئے۔ میں نے سونا چاہا تو اُس کے الفاظ مجھے جھنجوڑ جھنجوڑ کر اُٹھا دیتے کہ  تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ تلاش کرو۔ میں نے اپنے زمانہ کا سارا علم ٹٹول ڈالا ۔اُس کے الفاظ آنکھیں بن کر مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ جن کے جواب میرے پاس نہیں۔اسے تیس سال پہلے کوئی ٹرین کے نیچے آنے سے روک نہ سکا۔امریتا پریتم نے اسے جان کر کتاب لکھ ڈالی اور اسے انسانی صحیفہ کی پہلی آیت قرار دیا۔   مجھے آج تیس سال بعد معلوم ہوا کہ وہ کون تھی۔اُس کے لفظوں کے سامنے میں پانی پانی ہو گیا۔

تنہائیوں کی نوکیں میرے اعضاء میں پیوست کر دی گئی ہیں
پھر بھی کہتے ہو، آؤ باغ کو چلیں
میں اپنی آنکھوں پہ زندہ ہوں
میرے لب پتھر ہو چکے ہیں
اور کسی سنگ تراش نے ان کا مجسمہ
کسی پہاڑ کی چوٹی پر نصب کر دیا ہے
میں لہُو سے بیگانی ہوں
میرے جذبے اپاہج کر دیئے گئے ہیں
میں مکمل گفتگو نہیں کر سکتی
میں مکمل اُدھار ہوں
میری قبر کے چراغوں سے ہاتھ تاپنے والو
ٹھٹھرے وقت پر ایک دن میں بھی کانپی تھی
کاش آنکھیں آواز ہوتیں
زنگ کی دھار میرے لہُو میں رچ رہی ہے
بتاؤ ! تھوڑے پھُول دو گے
تیور زنگ آلود ہو چکے ہیں
میں نے کسی سے شاید وعدہ کر لیا تھا
مُسکراہٹ ہنسے گی تو آنکھیں ہنسیں گی
یہ تو لفظ کھڑکی کا پردہ ہوئے
لیکن دیوار کا پردہ نہ ہو سکے
رفتہ رفتہ پتھر میری گردن تک آ پہنچے ہیں
ڈر ہے کہیں میری آواز پتھر نہ ہو جائے
یہاں تو روز مجھے میری قبر سے اُکھاڑا جاتا ہے
کہ لوگ میری زندگی کے گُناہ گِن سکیں
یہاں تو میرے لہُو کی بوند بوند کو رنگا جا رہا ہے
لوگوں کی پُوریں انگارہ ہو رہی ہیں
میں کس سے ہاتھ مِلاؤں
کہ میری یاد کے ساتھ ہر ہر دل میں
ایک پتھر نصب کر دیا گیا ہے
میں نے نہیں کہا تھا
سُورج ہمیشہ میرے کپڑوں کا رنگ چُرا لے جاتا ہے
میرے قدم مجھے واپس کر دو
یہ اُدھار مہنگا ہے
میری دوکان چھوٹی ہے
جانے کون سی سڑک پہ ہم دوڑے تھے
میں پُوری مٹی میں چھُپ گئی
اور تم مٹی میں پانی چھڑکا کے
سوندھی سوندھی خوشبو اپنے جذبے میں لئے
اپنی زندگی کے دن بڑھا رہے ہو ۔۔۔۔
دیکھ تیرا چاند پتھر پہ لڑھک آیا ہے
اب کون سے چاند کو دیکھ کر
لوگ دعائیں مانگیں گے
میرا کفن زہریلے دھاگوں سے سیا جا رہا ہے
اور تم کہتے ہو
سفید لباس میں تم کتنی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔
در دستک >>

Aug 5, 2014

میں ہوں برگ و بار


ساری دنیا میرے سامنے ہے۔  زرہ زمین سے لیکر ستارہ آسمان تک میں دیکھ سکتا ہوں مگر مجھے میرا اپنا وجود محسوس نہیں ہو پا رہا ۔ ہاتھوں کو مسلتا ہوں پاؤں  رگڑتا ہوں پھر بھی اپنا آپ محسوس نہیں کر پا رہا۔ 
 یہ سوچتے سوچتے میرے دل کی دھڑکن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سانس میری روح میں سرایت کرتا جارہا ہے۔
طوفان تو کب کا تھم چکا ہے۔
سانس آج اکھڑا سا کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ یہ مجھے اپنے پن کا احساس نہیں دلا پا رہا۔
ایسے لگتا ہے کسی کی کونپل کسی دوسری شاخ میں پیوند کر دی گئی ہو۔ اجبنیوں کو بہت مشکل سے قبول کیا جاتاہے۔
 ہر شاخ اپنا وجود ہی چاہتی ہے۔ آزادی سے جینے کا ڈھنگ اپنے ہی وجود سے پھیل کر خود میں سماتی ہے۔ اسے کسی کا انتظار نہیں۔ بہار ہو تو زمین کو سینچ کر پھول کھلا دیتی ہے۔ خزاں میں انہی پتوں کو پھر لوٹا دیتی ہے۔ نہ احسان اٹھاتی ہے نہ احسان جتاتی ہے۔ جس سے لپٹ کر پروان چڑھتی ہے۔ جدا ہو جائے تو اسی میں فنا ہو جاتی ہے۔ 
عشق کی انتہا ہے۔
پلتی، بڑھتی، کھلتی، مہکتی مگر اپنے محسن سے بیوفائی کا تصور تک نہیں۔ اس کی بہار بہار نہیں خزاں خزاں نہیں۔
 زندگی جینے کا ایک ڈھنگ ہے۔
 جس میں سلیقہ ہے، قرینہ ہے، اپنائیت ہے، جزبیت ہے، وفا ہے، عاجزی ہے۔
 مگر!
 خودسری نہیں۔ جھکتے ہیں تو بوجھ سے نہیں۔ محبت کو ہاتھوں پہ رکھ لیتے ہیں۔
 خوشبو پھیلا دیتے ہیں تاکہ پیاس بجھانے والے بھوک مٹانے والے راستہ نہ بھٹک جائیں۔
چھپاتے نہیں ہیں کھلے دل سے بلاتے ہیں۔ 
مسافروں کا انتظار کرتے کرتے سوکھ جائیں تو پھر لوٹا دیتے ہیں۔
 سخت گرمی ہو تو آنچل بن جاتے ہیں۔ خود جلنے کا ملال نہیں۔
 پناہ دینے میں شاخ شاخ سے بڑھ جانے کی دوڑ میں ہے۔ ہر خوشی کا پل سنبھالنا ہی ان کی معراج ہے۔
 اس خدمت کا کیا صلہ پاتے ہیں؟ جن پہ احسان کرتے ہیں انہیں کے ہاتھوں مرتے ہیں۔ دفنائے نہیں جاتے سجائے جاتے ہیں۔
 خوشیوں میں تو شریک ہیں۔ جان کنی کے عالم میں دکھوں کے نالے ہیں۔
 بہار میں تو جیت گئے۔ 
مگر!
  خزاں میں ہار  گئے  وہ  برگ  و  بار

محمودالحق
در دستک >>

Jul 24, 2014

اللہ کرے زورِ جذب اور زیادہ

دماغ کے گرم تنور پہ اختلاف کے پیڑے سے تسلی کی روٹی بنانے کی کوشش میں ہوں۔ اگر گول مٹول کی بجائے چپٹی بن جائے تو مردِ انجان سے کھری کھری سننے کی نوبت نہیں آئے گی مگر امور خانہ داری نبھانے والوں سے جان بچانی مشکل ہو جائے گی۔ جنہیں بھوک نے ستا رکھا ہو ظاہری خدو خال کی پیچیدگیوں سے آنکھیں چرائے رکھتے ہیں۔نخرہ  تو تب کیا جاتا ہے جب پیٹ بھرا ہو۔ خالی پیٹ تو آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہوتا ہے۔
والدین بچوں کے گریڈ کم آنے پر دہائی دیتے ہیں۔ بچے ٹیچروں کے نہ پڑھانے کی دہائی دیتے ہیں۔ حکومتیں قانون قانون کی دہائی دیتی ہیں۔ عوام امن کی دہائی دیتے ہیں۔غریب مہنگائی کی دہائی دیتے ہیں۔امیر ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بے سکونی کی دہائی دیتے ہیں۔لڑکے محبت محبت کی دہائی دیتے ہیں۔ لڑکیاں بے وفائی کی دہائی دیتی ہیں۔مظلوم ظلم ظلم کی دہائی دیتا ہے ۔ ظالم نا انصافی کی دہائی دیتا ہے۔  اورشاعر وزن بحر کی دہائی دیتا ہے  توادیب نارسائی کی دہائی دیتا ہے۔  جن کی پانچ گھی میں ہوں وہ نیند میں خواب کے مزے لیتا ہے۔ جن کی ایک کے بعد ایک ٹیڑھی ہونے کے باوجود گھی نہ نکلے  انہیں دوسروں کی سیدھی بری لگتی ہے۔سب اصول و ضوابط حضرت انسان کے اپنی ذات انجمن کے طے کردہ ہیں۔لندن اور امریکہ میں نظام ٹریفک ایسے ہے کہ  ایک کو دوسرے کی ٹریفک ون وے کی خلاف ورزی کر تی نظر آتی ہے۔کیونکہ لندن لیفٹ ہینڈ ٹریفک چلتی ہے تو امریکہ میں رائٹ ہینڈ ۔
قانون فطرت نہیں بدلتا ، مذہب کی تشریح بدل جاتی ہے۔ سرحدیں آسانی سے نہیں بدلتیں  کیونکہ طاقتور سے سامنا کرنا پڑتا ہےمگر قانون بدل جاتے ہیں کیونکہ وہ کمزور پر لاگو ہوتے ہیں۔ جن ملکوں میں نظام تعلیم پرائیویٹ سکولوں کے ٹھیکیداری نظام پر چلتا ہو ۔ استاد ٹیوشن سے گھر کا چولہا جلانے پر مجبور ہو۔ جہاں پیسے کے زور پر علم سیکھا جاتا ہو۔ وہاں شعر و ادب کے رکھوالے صدیوں کی روایات کو نشاۃ ثانیہ قرار دے کر دبستان لکھنو کی تحریک کے روح رواں بنے نظر آتے ہیں۔وہ حق بجانب ہیں کیونکہ ادب کی ان اصناف کو ماننے والے مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔وہ اس لئے کہ مسلمان عشق حقیقی کو ماننے والا ہے  مگر یہاں تو عشق مجازی کے پرستار لاکھوں کی تعداد میں جلتی شمع کے گرد پروانوں کی طرح مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جن کے لئے میری ذات ذرہ بے نشان صرف ڈرامے کی حد تک ہوتی ہے۔قرآن و سنت نے جو طے کر دیا باتوں سے پورا کر لیا جاتا ہے۔اولاد  بننے سے لے کر فرد بننے تک اپنے فائدے کے حقوق مرضی کے فرائض ادا کر دئیے جاتے ہیں۔ 
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔یہ وہ دعا ہے جو لکھنے والوں کو دی جاتی ہے۔
اللہ کرے زور جذب اور  زیادہ ۔ یہ دعا  پڑھنے والوں کو دی جانی چاہیئے۔ 
لاہور کی سخت گرمی اور حبس  میں  لوڈ شیڈنگ سے بھری سحری اور افطاری کے بعد  ان سے دور آ کر ٹھنڈی ہواؤں  نےان سے غافل نہیں کیا جو گرمی اور حبس میں اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہتے ہیں۔ 
 پانچ انگلیوں سے لکھتے لکھتے پانچ سال ہو گئے۔ پانچ ملنے مشکل ہیں ۔لکھنا قلم سے ہوتا تو قلمی دوستیاں رکھتا۔مگر قلب مستی کرتا ہے۔اسی مستی میں ٹی وی پر آنے والے ایک فقیر سے ملاقات کا وقت مانگ لیا تو سیکرٹری نے دو گھنٹے انتظار کے بعد دو منٹ دینے پر رضا مندی ظاہر کی۔اتنے کم  تو ہم بھی نہیں کہ دو منٹ میں حال دل بیان کر دیتے۔ سالہا سال  سےعشق حقیقی میں مبتلا  ہیں۔دو منٹ میں تو دھڑکن سنائی نہیں دے  گی۔ ایک اور صاحب کے معتقد نے خود ہی  مایوسی سے بھانڈا پھوڑ دیا کہ آدھے گھنٹہ  کی ملاقات کا بیس ہزار اورپندرہ منٹ کے فون کا پانچ ہزار لیتے ہیں۔  ٹی وی پر آنے کا  معاوضہ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہو گا۔  اب وہ زمانہ نہیں کہ ایک ہاتھ سے خیرات کرو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ کیمرہ ٹی وی کا نہ بھی ہو اپنا ساتھ ضرور رکھو۔ نیکی کا ثبوت مانگا جا سکتا ہے۔اب نیکی کر دریا میں ڈال والا دور نہیں۔ کھوٹا کھرے سے زیادہ چلتا ہےاور جھوٹ سچ سے۔زبان قینچی کی طرح چلتی ہے تو قلم خنجر کی طرح۔
در دستک >>

Jul 23, 2014

محبت بے نام ہے



آج صرف دل کی سنتا ہوں۔کل کی بات ہے یہ صرف میری سنتا تھا۔یہ مجھے سمجھاتا کہ میں تو عکس آئینہ ہوں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ پسِ آئنیہ ہے۔میں تصویر پہ تصویر بناتا  چلا گیا اور یہ انہیں مٹاتا چلا گیا۔
غصہ تو بہت کیا ۔میرے رنگوں کو بے رنگ کر دیتا۔جیسے سکول میں استاد تختہ سیاہ  کے ہر نشان کو ڈسٹر سے  صاف کر دیتا۔
استاد تو میں تھا اس کا ۔حرف مٹانے کا اختیار تو میرا تھا پھر یہ اپنی من مانی کیوں کرتا رہا میرے ساتھ ۔ ہر جذبہ ، ہر احسا س کو کرایہ دار کی طرح مکان سے بے دخل کر دیتا۔
مطالبہ بھی عجب تھا  چاہت ِکرایہ چاہے نہ دو مگر سکونت مکین کی طرح رکھو مسافر کی طرح پڑاؤ نہیں۔
 اندھیروں سے ڈر کر پناہ کی تلاش میں آنے والے تیل بھر بھر چراغ لے جاتے مگر یہ بھول جاتے کہ چراغ ِ روشن کے لئے چنگاری چاہیئے ہوتی ہے۔پھر چاہے چراغ سے گھر روشن کر لو یا اسے جلا لو۔یہ جل کر روشنی بھی دیتا  ہے اور جلا کر بھی۔
لیکن خواہش میں ہمیشہ بنا تیل کے بجھا جادوئی چراغ رہتا ہے۔جو ہاتھ کی رگڑ سے ہی محل جگمگا دے۔
شاعر کی نطر محبت کے شعر رگڑنے سے  دل کے بیاباں روشن نہیں ہوتے۔جب تک  کہ دل خود نہ جلے ۔
محبت محبوب  کودیکھنے کا نہیں ، اس کی گلی سے گزرنے کا نام ہے۔اسے پانے کا نہیں اسے سوچنے کا نام ہے۔مٹنے کا نہیں ہمیشہ رہنے کا نام ہے۔دیکھنے کا نہیں جاننے کا نام ہے۔خواہش کا نہیں احساس کا نام ہے۔تعلق کا نہیں بے پرواہی کا نام ہے۔پھول چننے کا نہیں  کانٹو ں سے بچنے کا نام ہے۔خاک پر رہنے کا نہیں خاک میں رہنے کا نام ہے۔

در دستک >>

Jul 12, 2014

نشانیاں


گرمی سے ستائے لوگ نہر میں الٹی قلابازیاں لگاتے کود رہے تھے۔ چند ایک پانی کو گندہ جان کر صرف پاؤں کو ٹھنڈک پہنچانے تک ہی استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ وہاں گاڑیوں سے گزرنے والے بے اعتنائی سےکچھ بھی سوچنے کی مشقت سے لا پرواہی برتتے ہوئے افطاری میں مدعو کئے مہمانوں کی آؤ بھگت کے لئے جیب میں ڈالی لسٹ پر بار بار اچٹکتی نگاہ ڈالتے کہ کہیں گھر پہنچنے پر حافظہ کی کمزوری کا طعنہ سننے میں نہ آجائے۔کسی کو جانے کی جلدی تھی تو کسی کو واپس آنے کی۔دھوپ 43, 45  ڈگری سے جسم کی حرارت بڑھا رہی تھی تو دماغ ڈبل سپیڈ سے خیالات کو ہوا کے گھوڑے پر بٹھا رہا تھا۔غرض بندہ بشر کچھ سن رہا تھا کچھ سنا رہا تھا۔جو سبق ابھی یاد کیا اسے بھلا رہا تھا۔ رات کا چین کھو رہا تھا تو دن کا سکون بھی ہاتھ سے جا رہا تھا۔
نظر اُٹھا کر جب درختوں کو میں نے دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے۔ ٹہنی سے ٹہنی ملائے پتے سے پتہ ٹکرائے   تونشہ میں جھولتے ہوئے جھوم جھوم جاتے۔ میں زیر لب بڑبڑایا کہ تجھے اٹھکھیلیاں سوجی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں۔ چلنے کونہیں ہم تیار بیٹھے ہیں۔چاہے صدیاں گزر جائیں کر کے انکار بیٹھے ہیں۔ اور ان میں سے کسی نے  خود کوپھل کے زیور سے آراستہ کر رکھا ہے  اور جھک جھک کر آداب بجا لا رہا ہے۔ کوئی  خود پھیل کر چھاؤں پھیلا کر  احسان جتانے پر بضد ہے۔ 
بیشک اللہ بیج اور گٹھلی کو چیرنے والا ہے)۔الانعام 95۔) 
زمین کی ہمواری سے لے کر آبیاری تک بیج کو پے در پے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ جن کی موسم سےنسبت طے کر دی جاتی ہے۔جو پہلے رنگ پاتے ہیں پھر خوشبو پھیلاتے ہیں۔بیج زمین سے ایسے نکلتے ہیں جیسے تاریکی چاک کر کے صبح  نکلتی ہے۔رات تو چین کا باعث ہے ۔ دن اور رات کی نسبت سورج اور چاند سے طے  کر دی جاتی ہے۔جو حساب کے سا دہ اصول پر جمع تفریق میں مصروف عمل رہتا ہے۔ اور دن کی تھکاوٹ کا حساب رات کو چکتا کر دیتے ہیں۔
یہ سادہ اور زبردست ہے جاننے والے کا )۔ الانعام 96۔ )
سورج اور چاند سے ہٹ کر تارے آسمان پر ٹمٹماتے  انگلیوں سے گنتی میں نہیں آتے۔ نہ ہی سکون آور ہیں نہ ہی چین کھونے والے مگر  خشکی اور تری کے اندھیروں میں  مسافروں کو راہ دکھلاتے ہیں۔تاکہ وہ بھٹک نہ جائیں اپنی سمت کو درست رکھ پائیں۔ اور منزل تک پہنچ کر اگلے سفر کی تیاری کا قصد کر لیں۔ان کے انتظار میں رہنے والے سورج اور چاند کی گردش سے جانے آنے کے فاصلوں کو دن رات میں باندھ لیں۔بے شک یہ نشانیاں علم والوں کے لئے ہیں۔
ہم نے نشانیاں مفصل بیان کر دیں علم والوں کے لئے) الانعام 97)
اللہ تبارک تعالی نے  سب سے پہلے آدم کی تخلیق   کی جسے  جاننے کاعلم عطا کیا گیا۔  پھر اسی جان سے اس کی بیوی پیدا کی گئی ۔پھر ان سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کی گئیں۔ انسانی جان سے زندگی کے ایک مسلسل تسلسل کو جاری و ساری رکھنا حکمت خداوندی ٹھہرا ۔جہاں کوکھ  سےقبر میں ٹھہرانے اور امانت میں رکھنے کو منشاء و رضائے الہی ماننا بلا شک و شبہ  قرار پایا ۔جس کو علم کی طرح جاننے کی بجائے سمجھنا ضروری ہے کہ    حکم ربی ہے کیا۔زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے ۔چاہے وہ بیج اور گٹھلی ہو یا ایک جان سے پیدا کیا گیا انسان ۔ ایک میں مفصل بیان کی گئی نشانیاں علم والوں کےلئے ہیں اور ایک میں سمجھ والوں کے لئے۔ انسان قبل از پیدائش سے  موت اور بعد از موت رکھے جانے کو احکامات پروردگار سے جستجو و تلاش کے راستے سے سمجھنے کی کوشش میں اللہ کا قرب پانے کےقریب ہو جاتا ہے۔ جہاں اس پر رحمتیں نچھاور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔قبل از موت کئے گئے فیصلے بعد از موت محفوظ رکھے جاتے ہیں تاآنکہ فیصلہ کا دن آن پہنچے گا۔ انسان نشو ونما کی بجائے پرورش سے پروان چڑھتا ہے۔تربیت کے مختلف ادوار میں آگہی کی سوجھ بوجھ سے بعداز موت کے مناظر کو پہلے ہی کینوس پر  مختلف رنگوں کے حسین امتزاج   سےمنتقل کیا جانا بہتر رہتا ہے۔ 
بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کر دیں سمجھ والے کے لئے)  الانعام 98)
اللہ تبارک تعالی نے مخلوق کو زندگی کی لذتوں سے مستفید رکھا ۔ آسمان سے پانی اتارا جس نے مردہ زمین کو زندہ کیا پھر وہاں سے ہر اُگنے والی چیز پیدا کی۔ تاکہ آدم اپنی ضرورت کے مطابق  سبزیوں اور پھلوں کو اپنے استعمال میں لا سکے۔ صرف زندگی عطا نہیں کی بلکہ اس کے بھرپور لوازمات بھی عطا کئے۔ایسی سبزی جس کے دانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گچھے انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ایک دوسرے ملتے اور کسی بات پہ دیکھنے میں الگ ۔ ایسے پھل جو  پھلنے سے پکنے تک ٹوٹنے اور بچنے کی قدرتی حصار میں پروئے رہتے ہیں۔  تا آنکہ وہ پک کر اپنےوجود کو ذائقہ اور تسکین سے  بھر لیں۔آدم ان نعمتوں کو انعام و اکرام  مان کر رب کائنات کی شکر گزار بندگی میں چلا جائے۔
بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لئے) الانعام 99)

تحریر ! محمودالحق


در دستک >>

Jul 6, 2014

خالی مٹکے بھرے مشکیزے

میں بستر پہ آنکھیں کھول کر زمین پر کھڑا ہوتا ہوں تو آسمان زمین پر چادر پھیلا کر میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔مجھے اس احساس سے نکلنے نہیں دیتا کہ میں اس کی پناہ میں ہوں۔کسی ڈر یا خوف کے بغیر سینہ تان کر فخر سے پاؤں زمین پر جماتا ہوں۔انسانوں کی بھیڑ میں احساسِ تحفظ کسی سپر پاور کے حلیف ہونے جیسا ہوتا ہے۔تب اقتدار کے ایوانوں سے لے کر ہیرے جواہرات سے سجی دوکانوں تک بے وقعت اور بے مول دکھائی دیتی ہیں۔
جیت کے ایک لمحے کے انتظار میں ہار کے ماہ و سال شکوہ و شکایت کی بھٹی میں جلائے جاتے ہیں۔صبر و شکر کے مٹکے بھرے مشکیزوں کے انتظار میں سوکھ جاتے ہیں۔آنے کے انتظار میں بیٹھ رہتے ہیں۔ جا کر لانے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ سونے اور جاگنے میں صرف دیکھنے اور سننے کا فرق رکھا جاتا ہے۔حالانکہ یہ کھلی آنکھوں سے زماں و مکاں کی تلاش اور بند آنکھوں سے غفلت اور لا پرواہی کی کہانی بیان کرتی ہے۔
زندگی چولہے پر چڑھائی ہنڈیا کی طرح مرچ مصالحوں کی کمی بیشی سے پسند کے خوشبو و ذائقہ کو برقرار رکھنے تک محدود رکھی جاتی ہے۔پہلی نظر جس انتخاب پر ٹکتی ہے وہی منزل مراد ٹھہرتی ہے۔ اس سے آگے ہاں ناں میں ا’لفتِ جواز باقی رہ جاتا ہے۔ زندگی پیاز کی طرح ایک کے بعد دوسری پرت اُتارنے کا نام نہیں۔ کھیتی کی مانند پانی سے نم ہونے کے بعد اپنے ہی سخت وجود کو بار بار ہل چلا کر نرم کرنے کے بعد بیج کو پنپنے کے لئے ہموار و سازگار بناتی ہے۔فصلیں بوئی اور کاٹی جاتی ہیں مگر زمین اپنی جگہ تبدیل نہیں کرتی۔پھر وہی عمل دھراتی ہے۔بیج چاہے کوئی بھی ہو اپنی حیثیت و ہیئت میں فرق نہیں آنے دیتی۔زمین کی بےقراری کو جب انسان نہیں سمجھتا تو ان کے لئے پانی سے بھرے مشکیزے بادلوں کی صورت خشک مٹکے بھرنے خود آ پہنچتے ہیں۔
انسانی معاشرے میں جب سوچ بنجر ہونا شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی انسانوں میں خیالات کی پنیری اُگا دیتا ہے۔منجمد اور خشک سوچ دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ آس و اُمید کی نمی پا کر فصل  کو پروان چڑھانے میں منطقی کردار ادا کرنے پر راضی ہو جاتی ہے۔ 
سہل انگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں
گر ہوں عاجز تو خوف کے مارے ڈرتے ہیں
وحدہ لا شریک لہ کی امان میں جو نہیں رہتے
نفس کے کئی خداؤں سے وہ مرتے ہیں

محمودالحق
در دستک >>

Jul 3, 2014

تلاشِ ذات



پوری کائنات اللہ کی محبت کا سمندر ہے ۔ جہان کسی کونے کھدرے میں ایک عاشق ذات کی سیپ کے خول میں  چھپا محبت کا موتی ، نظروں سے اوجھل قدر دانوں کے غوطہ زنی کے انتظار میں صدیاں ساحلوں کو تکتا رہتا ہے۔جو ساحل پر کھڑے پاؤں کے نیچے سے سرکتی ریت سے یہی سوچ کر خوفزدہ  رہتے ہیں کہ اگر اندر اُتر گئے تو واپس کیسے آئیں گے۔
تلاش ِ ذات کے سفر میں کھوج و جستجو کے خاک آلود راستوں پر مسافتوں کی دھول میں سفر کرنے والے صدیوں کے بعد بھی اپنےہی دائرے سے باہر نکل نہیں پاتے۔ اندھیرے میں پھونک پھونک کر راستوں پر قدم جمانے والے چاندنی راتوں میں قدم اپنے ہی عکس سے راہ پا لیتے ہیں۔
زندگی کو جینا اور زندگی کو جاننا ایک وقت میں ایک ہی سوچ سے ممکن نہیں ہوتا۔پڑھ کر پا لینے سے پا کر پڑھنے کا نشہ خمار میں مبتلا کر دیتا ہے۔شخصیت کے رنگ و روپ قوس و قزح کی طرح اچانک ہی بے رنگ آسمانوں میں خوبصورت رنگ بکھیر دیتے ہیں۔دیکھنے والے سبحان اللہ کہہ کر نظروں سے من میں سمو لیتے ہیں۔شوقِ انتہا کو پہنچنے والے من سے نکال کر پھر نظروں کے سامنے پھیلا دیتے ہیں۔
فاصلے زمین کی قید میں رہتے ہیں۔ آسمان رنگ نہیں بدلتا۔  ہزاروں میل اور صدیوں کی مسافتیں بھی ایک ہی چاہ رکھنے والوں کو اتنا قریب کر دیتی ہیں کہ اپنے دل کی دھڑکن کہیں دور سنائی دیتی ہے۔
انسان فیصلوں کے انتظار میں رہتا ہے مگر نشانیاں تو عقل والوں کے لئے ہیں۔کچھ کھونے کا ڈر پانے کی لذت سے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی  نہ چاہنے کی ضد پر قائم رہتا ہے۔
جو کتابوں سے آگہی کا ادراک پانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ وہ سیاق و سباق کی نظرِ اختلاف کا شکار رہتے ہیں۔عمل کا اختیار  تو علم کی طاقت پر  ہمیشہ حاوی رہتا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
در دستک >>

Jun 21, 2014

محبت کی متوالی مکھیاں

تکمیل ذات و خیال کا ایسا بھنور ہے جس سے نکلنے کے لئے جسم و جاں تنکے کے سہارے کی اُمید بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پانا اور دینا حرف غلط کی مثل رہ جاتے ہیں۔ دراصل جینا اور مٹنا جسم و جاں کے باہمی تعلق کو سانس کی زندگی تک زندہ رکھتے ہیں۔ مٹے بنا جینا کھل کر سامنے نہیں آتا۔ ذات ایک ایسا بلیک ہول ہے جو قریب آنے والی تحسین و پزیرائی کو جزب کرتا ہے۔خیال مخالف کو آلارم بجا بجا دور بھگاتا ہے۔مکمل حیات جاودانی کے منظر احساس کو چھو جاتے ہیں۔جسے مکمل جانا نہ جا سکے اسے مکمل پایا نہیں جا سکتا۔
بچپن لڑکپن جوانی کے حالات کہانیوں کے کرداروں سے مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر وہی کردار زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے تلاش کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔یہ سفر صرف خوشبو کا سفر ہی رہتا ہے۔جسے محسوس کیا جا سکے لیکن جب پانے کی خواہش میں قریب ہونا چاہیں تو کانٹے دامن سے اُلجھنے تک آ جاتے ہیں۔حسن و خوبصورتی پائیں یا دامن بچائیں۔پھر کانٹوں سے بچنا ہی تلاش سفر کا انجام رہ جاتا ہے۔زندگی اپنے ارد گرد حفاظتی حصار بنائے رکھتی ہے۔جو نہ ہی فاصلے کم ہونے دیتی ہے۔ نہ ہی دور بھٹکنے دیتی ہے۔ لیکن جو کشش سے آزادی چاہتے ہیں وہ بندش خلا میں کھو جاتے ہیں۔ پھر وہ روشن رہیں یا تاریک نظر میں نہیں رہتے۔
انسان تاروں کی طرح چمکنا اور روشن رہنا چاہتا ہے۔ تاکہ دیکھنے والے نظر اُٹھا کر ہی دیکھ پائیں۔جن کا حاصل ، لا حاصل ہےکیونکہ جو کوشش سے بھی نہ پائے جا سکیں ۔ ان کے لئے دعائیں بھی کارآمد نہیں ہوتی۔
ہیرے سونے کو پانے سے آرزؤں کی تشنگی کم ہوتی ہےمگر ان کی تلاش میں تہہ زمین پتھروں کوئلوں تک پہنچنے کی جستجو نہیں کی جاتی۔زندگی بھر کی کوشش میں بھی شائد گلے کا ہار بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔صرف وہی پانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا حاصل آسان ہو۔ مشکل ہدف اکثر نشانے سے چوک جاتے ہیں ۔
زندگی کو جاننے کے لئے کہانیوں داستانوں کتابوں سے رہنمائی لی جاتی ہے۔مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں۔کائنات میں پھیلی ہر شے اپنی اپنی جگہ ایک الگ داستان کی غماز ہے۔صرف دیکھنے والی نظر چاہیئے۔کون کس سے کیا پا رہا ہے۔انسان خیر و شر کے امتزاج سے ہی اشرف المخلوقات کے درجہ تک پہنچا ۔چاہے وہ خیر میں بندگی کرے یا شر میں زندگی بسر کرے۔ 
انسان تکمیل کی منازل لینے اور دینے سے طے کرتا ہے۔یہ جاننا ضروری نہیں کہ کوئی کیا دینا چاہتا ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ لیا کیا جا رہا ہے۔کیونکہ دو مخالف اجزا ایک ساتھ سامنے آتے ہیں جنہیں کبھی ہاں سے قبول کرتے ہیں تو کبھی نا ں سے دور کرتے ہیں۔ باتیں جب سمجھنے میں مشکل ہو جائیں تو فطرت میں چلے جانا چاہیئے کیونکہ فطرت سے  زیادہ خوبصورت جواب کہیں اور  سےشائد نہ مل پائے۔ 
گلستانوں میں کھلتے پھول  کیڑے مکوڑوں بھنوروں اور شہد کی مکھیوں کے لئے یکساں دعوت قربت کا اہتمام رکھتے ہیں۔چشمہ کے بہتے پانی پینے میں خوش ذائقہ اور میٹھے ہوتے ہیں مگر ان پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح سمندر کے پانی سفر کی تھکان نہیں ہونے دیتے پر سکون رکھتے ہیں مگر پیاس بجھانے کی قدرت نہیں رکھتے۔جنہیں جو چاہیئے انہیں اسی کا قصد کرنا ہوتا ہے۔ 
جو مکھی پھول سے رس لیتی ہے وہ اسے چھتوں میں بھر دیتی ہے۔وہ شہد کی مکھی کہلائے یا ہنی بی اپنی افادیت کی وجہ سے پہچان میں رہتی ہے۔ انہی پھولوں سے پانی لینے والے حشرات ایک نظر نہیں بھاتے۔کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کے لئے پھولوں میں سے پانی چوسنے آتے ہیں۔پانی پیا اور اپنی راہ لی۔اگر رس لینے والے نہ پہنچ پائیں تو پھول رس کے خشک ہونے پر اپنا وجود تحیل کر دیتے ہیں۔ 
دیکھنا تو یہ ہے کہ پانی لینے والے اور رس حاصل کرنے والے ایک ہی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔لیکن ان کی شناخت الگ الگ ہے جسے صرف نظر کی پہچان سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ ایک اپنی تشنگی مٹانے کے لئے پھول کا پانی پانے آتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد بڑھتی جائے تو بہت جلد پھول کا رس خشک ہونے لگتا ہے ۔شہد کی مکھی کے پہنچنے سے پہلے وہ پھول رس کو اپنے وجود میں سمیٹ کر دفن ہو جاتا ہے۔
ہماری زندگی پھول کی مانند ہے اللہ کی محبت رس کی صورت میں اور دنیا کی آرزؤئیں پانی کی صورت میں لینے والوں کو دی جاتی ہیں۔اللہ کی محبت رکھنے والے اللہ کی محبت پانے کے لئے پھولوں سے محبت کا وہ رس لے کر چھتوں میں بھر بھر غلاف عشق بنا دیتے ہیں۔ جہاں عشق کے متوالے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے رہ کر محبت کے رس نچوڑ لیتے ہیں جس میں شفا بھی ہے اور حکمت بھی۔دوسری طرف ایک ایک رہنے والے لاکھوں کروڑوں دنیاوی محبت کے حصول کے لئے پانی پی پی کر پھول کی ذات فنا کر دیتے ہیں۔
جن پھولوں کی قسمت میں غلاف عشق میں محبت کے رس بھرنا لکھا ہو۔محبت کی متوالی مکھیاں ان پھولوں تک رسائی پا لیتی ہیں۔   
     
تحریر:  محمودالحق
در دستک >>

Jun 12, 2014

خوشی راس نہیں آتی


تکلیف دہ کانٹوں بھرے راستوں سے ننگے پاؤں چلتے چلتے منزل کے قریب پہنچ کر سستانے کی خواہش درد کی شدت میں اضافہ کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر قدم چلنے کی بجائے گھسٹنے پر آ جاتے ہیں۔ قریب ہو کر بھی منزل کوسوں دور نظر آتی ہے۔سانس سانسوں میں الجھتی چلی جاتی ہے۔ اجنبی پن میں جتنی تیزی سے اندر اُترتی ہے اُتنی تیزی سے باہر نکلتی ہے۔ 
زندگی راستہ پر ڈال دیتی ہے ۔ عقل سے مقام منزل تک مسافت کی راہداریاں بنائی جاتی ہیں۔ دیکھنے میں جو سیدھی اور قریب ترین پگڈنڈیوں کو نظر سے استوار کرتی ہیں۔ فاصلے ماپ لئے جاتے ہیں۔ قدم گن لئے جاتے ہیں۔وقت طے کر لیا جاتا ہے۔ خوشیوں سے جھولی بھر لی جاتی ہے۔ مگر تصور خیال حقیقت کا روپ دھارنے میں پس و پیش اور لیت و لعل سے کام لیتا ہے۔ منزل پانے کی خوشی جتنی زیادہ بانہیں کھولتی ہے۔ منظر اوجھل ہونے کا خوف اتنا زیادہ اسے جکڑ لیتا ہے۔ 
حرف آخر سمجھ کر فیصلے صادر کر دئیے جاتے ہیں۔ عقل حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہے۔خیال حقیقت میں ڈھلنے پر دھمال ڈالتا ہے۔ سکون کی داسیاں  عقل کی مورتیوں پر چڑھاوے چڑھاتی ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ دودھ کی نہریں بہنے کے لئے فرہاد کی ایک ضرب کی منتظر ہیں۔
غم ہجر محبوب میں کیفیت دل سے ہو کر گزرے تو چشم تر سے گزرے۔ یقین سے کہنا ہو گا کہ جسے دیکھنے ہوں جلوے وہ شہر محبت کے در سے گزرے۔ 
پردے گرانے سے جو نظارے ہوں وہ چلمن اُٹھانے سے نہیں ۔ پوجا کرے گا تو پجاری بنے گا۔عشق میں عقیدت مند رہے گا۔ محبت درگزر و معافی کی اونچی سر تان سے نغمہ سرا ہو گا۔ دور رہنے والا عشق پاس رہنے والی محبت سے  رتبہ میں عظیم ہے۔ آگ کے آلاؤ کتنے ہی روشن کیوں نہ ہو۔ قریب آنے پر جلانے میں دیر نہیں لگاتے۔ روشنیوں کے دہکتے آلاؤ فاصلوں کی دوری سے  جلانے کی فطرت پر نہیں ہوتے۔ 

در دستک >>

Jun 4, 2014

نشانِ منزل

بلندیوں کی جس انتہا پر پرواز کرتےہیں، اسی قدر اعتماد اور اعتبار بھی رکھتے ہیں۔ اُڑنے والا جہاز ہو یا اُڑانے والا پائلٹ۔ مہارت پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کی مسافت طے کرتے ہیں۔زندگی زندہ رہنے کی گارنٹی عطا کرتی ہے۔حالانکہ زمین پر چلتے ہوئے انسان بھی بلندیوں سے رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرح بھی دکھائی نہیں دیتے۔اتنی بلندی مگر خوف کا عنصر سرے سے غالب نہیں آتا۔اس لئے کہ اگر جہاز کے پرزہ جات کے ناقابل استعمال ہونے کا یقین کر لیں تو خوف کے مارے آنکھیں کھولنا مشکل ہو جائے گا اور اگر پائلٹ کی نا تجربہ کاری کا یقین ہو جائے تو تو موت کو برحق کہنے والے بھی ایسے سفر کو خودکشی سے کم نہیں سمجھ سکتے ۔ 
ہم زندگی کی بدنی مسافرت میں اپنی جان  کا اختیار ان دیکھے انسان کے حوالے کرنے سے ہچکچاتے نہیں ہیں اور لے جانے والے پرزے بھی اپنی گارنٹی خود دیتے ہیں۔لیکن جب تخیل میں سے خواب وخیال حقیقت کا روپ دھارنے پر آتے ہیں تو ،اگر ،مگر، کیوں، کیسے  کی تکرار انہیں خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ممکن نا ممکن کی ضرب تقسیم سے فائدے کے نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اچھے نمبروں کے لئے انسان بچپن سے امتحانات کے پل صراط سے گزرتا ہے۔اول پوزیشن پانے پر ہار کی مالا استاد کے گلے میں پہنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ حالانکہ دن رات کی محنت سے حاصل وجود کسرت سے ہوتا ہے۔ لیکن رہنمائی اور پابندیٗ اوقات اسے مقصدکی تکمیل تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔
ذات کی پہچان کا سفران تمام مسافتوں سے کہیں زیادہ توانائی کا طالب ہوتا ہے۔اس منزل کے مسافر جب بلندیٗ پرواز میں رہنما کے گلے میں مہارت اور قابلیت کی مالا پہنا دیتے ہیں تو انسانوں کی بھیڑ  سے دور ہوتے ہوئے بھی وہ محسو س انہیں قریب  کرتے ہیں۔
جو پھول خوشبو دیتا ہے وہ رنگ بھی رکھتا ہے۔جو دلکشی میں جازب نظر ہوتے ہیں۔جن کی تعریف نہ کرنا بھی خوشبو سے نا انصافی کے زمرے میں آتی ہے۔ان رنگوں میں بعض رنگ خاص ہوتے ہیں۔خوشبو سے مہکا دیتے ہیں۔ان کا عرق بھی آنکھوں کی بینائی کو شفا بخشتا ہے۔لیکن انہیں پھر بھی مخصوص و محدود نہیں کیا جا سکتا۔خوشبو چھپائی نہیں جا سکتی جب بھی کھولیں گے وہ دوسروں تک پہنچ جائے گی۔اگر دوسروں کو اس سے محروم رکھنا چاہیں گے تو خود بھی اس سے محروم رہیں گے۔
آسمان چمکتے دمکتے ستاروں سے بھرا پڑا ہے۔ جو طواف گردش میں پابندی سے جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔مگر ان میں ہی قطب ستارے تبدیلی کے مراحل سے کم گزرتے ہیں۔ایک جگہ قائم رہ کر دوسروں  کو صحیح راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔جس سے راستہ بھٹکنے والےمنزل تک با آسانی پہنچ جاتے ہیں۔دوسروں کو بھی اسی راستہ کی 
 نشاندہی کرتے ہیں۔
پسند کی شے کو مخصوص کر لینا  انسانی فطرت میں ہے۔ وہ بلا شرکت غیرے اپنا  اختیار رکھنا چاہتا ہے۔جو اسے خود پرستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔جو ایک لا علاج مرض کی طرح وجود ہستی کو متواتر کچوکے لگاتا رہتا ہے۔پانے کی چاہت ، قبضہ کی شدت میں تبدیل ہونے میں کچھ وقت لیتی ہے۔پھر میں کی رسیاں پاؤں کی بیڑیاں بن جانے میں دیر نہیں لگاتیں۔
آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ حقیقت کو حق کے ساتھ سمجھا جائے۔پر پرواز کی سکت نہ رکھتے ہوں تو اونچی اُڑان خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔انھیں پھڑ پھڑاتے رکھنا ضروری ہے۔تاکہ وقت کی مالش سے  قوت پرواز رفتہ رفتہ بڑھتی رہے۔تقویت پانے کے لئے تنہا پرواز کا شوق مہنگا پڑ جاتا ہے۔بلندی پرواز روکنے کے لئے بلند نگاہ خور ان پر جھپٹنے کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔
ایک ہی طرح کی قوت پرواز رکھنے والے اکھٹے رہ کر ہی قطبی ستارہ کے بتائے راستہ پر چلنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔وگرنہ سفر کی تھکان قطبی ستارہ کو آنکھوں سے اوجھل کر سکتی ہے۔
پا کر دینے کا نام زندگی ہے۔خود کو نچھاور کر دینا بقاٗ حیات ہے۔
تھکا ماندہ وجود  خودفریبی میں رہے تو حیات باقی بن جاتا ہے۔جو صرف وقت کھونے کا دکھڑا سناتا رہتا ہے۔
منزل پانا اتنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ جو دیکھا ہی نہ ہو وہ منزل کیسی۔ وہ صرف مقام کہلاتا ہے۔مقام تک لے کر جانے والے منزل ہوتے ہیں۔جو اپنی جگہ کھڑے رہ کر راستہ کی بھل بھلیوں سےگزر کر مقام تک رسائی کی منزل پاتے ہیں۔
مہمان بن کر جانا ہو یا مہمان کا گھر آنا ہو تو تیاری مکمل کی جاتی ہے۔غسل سے لے کر نئے کپڑے اور خوشبو کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ فنکشن کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔آغاز سفر سے پہلے ہی مقام تک پہنچنے کے تمام مراحل طے کر لئے جاتے ہیں۔
مگر جب روح کے سفر پر چلنا ہو تو گناہوں کی گھڑیاں سر پر اُٹھا کر طواف کعبہ تک چلا جاتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر توبہ سے دھلے نئے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں۔پھر ان میں سے چند ان کپڑوں کو داغ دھبوں سے بچا کر رکھتے ہیں اور بعض دوبارہ آنے کا قصد کر کے توبہ سے دھلے کپڑے میلے کر لینے کے بعد پھر ایک نیا عہد کرتے ہیں۔
ایسی چھوٹ انسان تو گھر آئے مہمان کو بار بار نہیں دیتا۔مگر اللہ ہر بار اپنے گھر آنے والے بندے کو توبہ سے دھلے کپڑے بار بار لینے سے منع نہیں فرماتا۔
کیونکہ وہ عظم ہے عظیم تر خالق ہے، مالک ہے ، سننے والا ،جاننے والا،بخشنے والا ہے۔چاہنے والا اور چاہے جانے والا ہے۔ 

تحریر ! محمودالحق 
یکم جون 2014

در دستک >>

در کائنات

آٹھ سال بعد آٹھ ماہ سے لاہور میں بیتے دن آٹھ دہائیوں کی کہانی میں اوراق کتاب کی مانند کبھی کھلتے تو کبھی بند ہورہے ہیں۔ شہر مجھے نیا نہیں مگر باسی اجنبیت میں مدرس میں داخل ہوتے پہلے قدموں کی ہچکچاہٹ کا عملی نمونہ بنے پھرتے ہیں۔
جب الف سے آدم کی الف سے اولاد نے الف سے اللہ کے نام کی پہچان میں در کائنات پر پہلی دستک دی۔ جہاں سے ہر دستک پر ایک ہی آواز آتی ہے کہ " تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے " ۔
جس نے جان کو جہان میں آدم کو فضیلت سے اپنا نائب بنایا۔ فرشتوں نے اس پر کہا کہ " جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تجھ کو بے عیب کہتے ہیں۔ اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں " ۔
تمام جہانوں کے رب نے کہا کہ " وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے " ۔جیسا اس نے رحم کیا آدم پر " پھر اس نے آدم کی توبہ قبول کی بیشک وہ توبہ قبوم کرنے والا رحم کرنے والا ہے" ۔
اور توبہ قبول کی قوم موسی علیہ السلام کی " اس نے توبہ قبول کی تمہاری بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے " ۔
جو عین شان رب العالمین ہے" بدلہ کے دن کا مالک ہے " چاہتا ہے کہ کائنات کا ہر زرہ اس کی حمدو ثنا  میں مصروف عمل رہے۔آدم یاد رکھے کہ وہ نائب ہونے کے ناطے صرف یہی پکارے کہ " ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں" ۔
جو اپنے راستہ سے بھٹک گیا ہدایت کے راستہ سے۔ انعام و اکرام کی خواہش کی بجائے جنہوں نے گمراہی اختیار کی اور بالآخر غضب کا شکار ہوئے۔
تمام جہانوں کا رب رحمن الرحیم آدم کو محبت و فضیلت کے سائے تلے دعا سے راست روی اور بخشش کا طلبگار بناتا ہے تاکہ فساد سے دور رہے۔

در دستک >>

May 28, 2014

پہچان ِ انسان کا ا متحان

ہم پیدائش سے لے کر لحد تک سیکھنے سکھانے ، سننے سنانے ، منانے منوانےاورکھونے پانے کی کشمکش سے گزرتے ہیں۔کبھی چہرے کھل جاتے ہیں تو کبھی اُتر جاتے ہیں۔کبھی آنسو بہہ جاتے ہیں تو کبھی نکل جاتے ہیں۔ہم جان ہی نہیں پاتے ہم چاہتے کیا ہیں۔عارضی تسکین یا ابدی سکون؟
تعریف و تحسین لباس کی ہو یاحسن و جمال کی ،شان و شوکت کی ہو یا عنایاتِ خداوندی کی ۔۔۔رطوبتِ ہم آہنگی سوچ میں بہہ کر آنکھوں میں اُتر آتی ہے۔ جو ہمدردی کے لبادے اوڑھ کر مقامِ رفعت و عزت  پر ٹڈی دل حملہ آور بن جاتے ہیں۔جو وجود کی کھیتی اُجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
زمانہ جاہلیت سے ہی انسان پہچان کے امتحان سے گزرنے پر مجبور ہوا۔آگ ، چاند ،تارے اور سورج سے ہوتے ہوئے تخیلاتی بت پرستی پر صدیوں تک رکا رہا۔ہر نئی اُمید کی کرن اسے اپنی منزل کا نشان نظر آئی۔جس کی اندھا دھند پیروی شروع کر دی گئی۔ کبھی زائچوں سے تو کبھی جنتریوں کے ہندسوں سےقسمت و تقدیر کو جاننے کی سعی کی جاتی رہی مگر حاصل نمرود و فرعون سے مختلف نہیں۔۔۔فتح کے نشہ میں سرشار سکندر یونانی بھی خالی ہاتھ ہی رہا۔ 
حالات و واقعات تو مختلف ہو سکتے ہیں۔۔۔چہرے  تبدیل ہو سکتے ہیں۔۔۔ مگربہکنا ، سنبھلنا آج بھی وہی پرانی روش پر ہے۔مقصدِ حیات سے ہٹانے والے مجبوریوں ،لا چاریوں ،ہمدردیوں ، محبتوں ، چاہتوں کے راگ آلاپتے  ۔۔۔اپنی محرومیوں کا رونا رو تے ۔۔۔نفس ِدرندگی کی تسکین  پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔
جو آنکھیں ان چہروں کے پیچھے ہمدردی میں چھپے زہر فناءحقیقت کو دیکھ نہیں پاتیں۔۔۔۔تنہائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔قسمت ان سے روٹھ جاتی  ہے۔ میَں کا خول انہیں کھلنے نہیں دیتا۔ روشنی سامنے پا کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔کیونکہ تعریف وتحسین ایسا سانپ ہے جو حقیقت شناسی کی سیڑھی چڑھنے نہیں دیتا۔
ہمدردی کے دیپ جلا کر روشنی کی طرف بلانے والے خود چھپکلیوں کی طرح  دیواروں سے چپکے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
معصوم بھولے روشنیوں سے محبت کرنے والے روشنی ہی کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔اندھیروں سے بے خوف ہو جاتے ہیں۔جو انہیں کھینچ کر خود فریبی کی دلدل میں پھینک دیتے ہیں۔جو انہیں نکالنا چاہے تو خو ڈوبنے کے خدشے میں ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔
آج کی دنیا  نیٹ کی دنیا ہے جس میں ہم جتنے بھی با پردہ  کیوں نہ ہوں لفظ روح کو بے لباس کر دیتے ہیں۔سوچ و افکار کی آڑ  میں  چھپے آستین کے سانپ ڈسنے چلے آتے ہیں۔ چہروں کے شیدائی چہرے پیچھے، لفظ کے دیوانے لفظ کےپیچھے اورنفس کے بھکاری مجبوریوں کی صدا لگاتےمحبت کشکول  پھیلائے سوالی بنے پھرتےہیں۔
کمپیوٹر  وہ آئینہ ہے جس میں ہم دو آنکھوں سے یہ سوچ کر دیکھ رہے ہیں  کہ صرف  ہم ہی دیکھ رہے ہیں مگراسی کے دوسری طرف  ہزاروں آنکھوں سےہم دیکھے  بھی جا رہے ہوتے ہیں۔  وہ  اپنی سکرین پر جودیکھنا چاہتے ہیں صرف انہیں ہی تلاش کے بعد دیکھتے ہیں۔
در دستک >>

May 24, 2014

تشنگی کی انتہا

کائنات کی وسعتیں لا محدود ، تا حدِ نگاہ فاصلے ہی فاصلے،نگاہ اُلفت سے کھوج کی متلاشی مگرتھکن سے چُور بدن کا بستر پر ڈھیر ہو نا اپنی ذات پر احسانِ عظیم   سے کم نہیں ہوتا۔بظاہر  یک نظر تخلیق و حسن کے جلوے  آنکھوں پر لا علمی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور عقل پر دلیل کی۔حقیقت جانے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔حقیقت جاننے کے لئے مخبر خیال مثبت و منفی رویوں کی چغلی کرتے پائے جاتے ہیں۔وسوسہ خیال کی جڑوں میں نا اُمیدی کی کھاد ڈالتا ہے۔جو اسے حقیقت بن کر سچ تک پہنچنے کے راستے کی دیوار بنتا ہے۔
حقیقت شناسی کا علم ایک سمندر ہے جس کی چاہ پانے والوں کی جزبیت  چڑیا کی چونچ میں سمانے والے قطروں سے زیاد نہیں۔ اللہ کی محبت جس دل میں سما جائے وہ  عشق کا ایسا سمندر ہے جس کی تشنگی ایک چڑیا کی چونچ میں سمانے والے چند قطروں سے ممکن نہیں۔آگ پانی سے دور اپنے آلاؤ روشن رکھتی ہے۔سمندر کے سینے پر جلنا آتش کے بس کی بات نہیں۔جب پانی اپنے بہاؤ سے ان راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے تو  آگ کی چنگاریاں چیخ چیخ کر دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔بچتا ہے تو صرف پانی ۔۔۔۔۔پیاس بجھانے سے لے کر سیراب کرنے تک  ۔۔۔۔دھرتی حدت سے نمو پانے کے نشے میں اُتر جاتی ہے۔
قلب عشق کا وہ سمندر ہے۔۔۔ جو اس کے وجود پر اُترتا ہے تو۔۔۔۔۔چند قطروں سے بیتابی ۔۔۔۔شادابی میں بدل جاتی ہے۔سمند ر کی تشنگی پیاس مٹانے میں ہے ۔۔۔۔۔خود مٹنے میں نہیں۔۔۔۔۔۔جو اعتماد اور چاہت کی کشتیوں کے بادباں کھول کر  عشق کے سمندر میں اُترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو  عقیدت و احترام کی لہریں انہیں غرق کرنے کی بجائےبحفاظت کناروں تک پہنچا دیتی ہیں۔
محبت کے موتی چونچوں میں بھر کر وہ چڑیاں  ۔۔۔۔نفرت و حقارت کےجلتے آلاؤ میں ۔۔۔۔۔ڈالے جانے والے عاشقوں کو بچانے کے لئے  ۔۔۔۔چونچ میں بھرے محبت کے سمندر سے لائے ۔۔۔۔ چند قطروں سے آگ بجھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔  وہ جانتی ہیں کہ یہ  پانی عاشق ِحقیقی کو  آگ سے بچانے کے لئے نا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر عشق و محبت کی داستان میں وہ اپنا کردار نبھانا چاہتی ہیں۔تاکہ سچے عشق اور سچے عاشق کی نظر میں سرخرو ہو جائیں۔
تشنگی کی انتہا کیا ہے؟
 سمندر کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایک  چڑیا کی چونچ   ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے سمندر سے چند قطرے پانی چڑیا کی چونچ میں عشق کی آگ بجھانے میں جب  ناکافی ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔تو تشنگی کی انتہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ پا کر بھی مکمل پایا نہ جا سکے۔۔۔۔۔۔ بجھا کر بھی مکمل بجھایا نہ جا سکے۔
برسہا برس سے  خوش نصیبی کو ترستی بنجر زمین ۔۔۔۔۔ جس کے اوپر سےبادل بن برسے گڑ گڑا کر  گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چند قطرے سیرابی  کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ یہ زمین کی تشنگی کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر بادل مکمل برس کرتحلیل ہونے سے سیراب ہونے کی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔یہی اس کی تشنگی کی انتہا ہے۔
اشرف المخلوقات میں تشنگی کی انتہا جاننے کے لئے ۔۔۔۔۔  کیفیت سے زیادہ عقل کے ترازو پر رکھی سمجھ  بوجھ  ۔۔۔۔۔کانٹ چھانٹ کے بعد محتاط طرز عمل سے زیادہ تر پڑھی جاتی ہے سمجھی نہیں۔
کسی جزبہ ۔۔۔۔شدت احسا س۔۔۔۔۔۔افکار تخیل۔۔۔۔۔۔لمس لفظ ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔۔قربتِ محبوب کی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔
صرف اتنا جان لینے سے حقیقت حق کے ساتھ  ۔۔۔۔ ضمیر روشن کو آمادگی کی راہ پہ   ۔۔۔۔خوش آمدیدی نظریں بچھائے  ۔۔۔۔لینے آ جائے تو جواب مل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔لینے کی جگہ اگر اللہ تبارک تعالی کی محبت کا سمندر ہو  ۔۔۔۔۔۔۔ پانے والی چڑیا ہو۔۔۔۔۔۔  دینے کی جگہ آگ میں ڈالا گیا عشق حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تو پانے میں کمی اور دینے میں جان تک چلی جانے سے تسلی نہ ہو  تو
تشنگی کی انتہا کسے کہتے ہیں  ۔۔۔۔۔جان جاتےہیں۔


 تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

May 21, 2014

نقطہء تحریر _ 2

دوسروں کے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے بھول جاتے ہیں کہ اس راستہ میں پگڈنڈیاں نشاندہی نہیں کرتی بلکہ سب ہی اپنے راستوں کے قطب ستارہ ہیں۔

قلب کی قربتیں جسموں پربہت بھاری ہوتی ہیں۔ اس رشتے کو ہمیشہ ساتھ رکھیں جو روح کے لئے ایک لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتا ہے ۔

پر آسائش گداز بستر ہو یا آرام دہ سفر چند پل کے بعد وہی بدن اکتاہٹ و مجبوری میں بدل جاتا ہے۔

ہمارا سفر ایک ہے اور منزل بھی ایک ہوتی ہے مگر مسافر روز الگ الگ ہیں۔منزلیں سب کی بظاہر تو ایک ہیں اور راستے بھی بظاہرایک مگر وہ فنا کے راستے ہیں اسی لئے تو ایک ہیں۔

انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے۔

جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں۔

جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔

جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں۔

مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے۔ جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔

زندگی کے راستے فیصلوں کے محتاج نہیں ہوتے۔بلکہ اسباب کی پگڈنڈیاں راستوں کی نشاندہی میں بدل جاتی ہیں۔

پھول کھلنے سے پہلے اپنی مہک سے اعلان بہار نہیں کرتے بلکہ پوشیدگی کے عمل تولیدگی میں چھپے رہتے ہیں۔

اگر صبر و شکر میں انتظار رہے تو مادیت کے کرب سے روح محو پرواز رہتی ہے۔

خواہش میں انتظار ہو توکرب ، اسباب ہوں تو فرحت کا باعث ہیں۔

پھول کھلنے کے لئے کانٹے کافی نہیں ، نئے پتوں کا انتظار رہتا ہے۔

بادل ٹہلنے سے دھواں ہیں مگر دھواں برسنے میں بادل نہیں۔

جو موسم کا انتظار نہیں کر سکتے وہ پھلوں کی چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں۔

جو فیصلوں کے انتظار میں رہتے ہیں کرب نہیں جھیلتے، راحت پاتے ہیں۔

خوش نصیب ہیں وہ جو دل کے رشتوں کے قریب بستے ہیں۔فاصلے چاہے جتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہوں مگر محسوس انہیں ہمیشہ قریب ہی کرتے ہیں۔

محبت رکھنے والے کبھی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں دیتے کہ جس سے دیکھنے والا فعل کی نسبت محبوبیت سے جدا کر سکے۔

آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔

جسے اپنی منزل تک رسائی کی جتنی جلدی ہوتی ہے ان قدموں کا ساتھ دست و بازو بھی پوری تندہی سے دے رہے ہوتے ہیں اور ایک وفادار غلام کی طرح ہوس و حرس کے آقا کی دلربائی کا اہتمام کرنے میں جتے رہتے ہیں۔

دوسروں کے آئینے میں اپنا عکس دیکھنے والے بھول جاتے ہیں خوشبو سدا نہیں مہکتی، جوانی سدا نہیں رہتی، اس مٹی سے پیدا ہر چیز مٹی ہو جاتی ہے۔

تکلیفیں ،پریشانیاں ،دکھ انسان کو کمزور کرنے نہیں آتے بلکہ وجود میں صبر، برداشت، ایمان کی پختگی کا پیغام لاتے ہیں۔

بدن روح کی طاقت کا محتاج ہے جو اسے ہم دیتے ہیں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ آسائش، سہولت، شاندار طرز زندگی اسے اپنے اصل سے بہکاوہ کی ترغیب دلاتے ہیں۔

بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کی جنگ لڑتا ہے۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ۔ اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتاہے۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے۔ وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی و اداسی۔

کوشش میں اگر کمی ہو تو حالات کی ذمہ داری قسمت پر ڈال دی جاتی ہے جو رو دھو کر شکوہ پر ختم ہوتا ہے۔

کمزور پودے زندگی تو پالیتے ہیں مگر طوفانی حالات کے تھپیڑوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا پاتے۔

عالم فناہے تو علم بقا ہے،عامل فناہے تو عمل بقا ہے ،جسم فناہے تو روح بقاہے ،زخم فنا ہے تو درد بقا ہے ،دوا فنا ہے تو اثر بقاہے ،محبوب فنا ہے تو محبت بقا ہے ،ماں فنا ہے تو مامتا بقا ہے۔

جو آنی جانی شے کی محبت   میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔

سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے، غنی ہے ، غفور ہے ، رحیم ہے ، محبتیں اس کی امین ہیں ،

گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔

ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔

شائدانسان تخلیق سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

شمع جلنے سے پہلے بھی موم ہوتی ہے اور بعد میں بھی مگر روشنی موم سے نہیں سبب سے ہو تی ہے۔

کوئی بھی کام مشکل تبھی ہوتا ہے جب وہ پوشیدہ رہتا ہے۔ سبب ظاہر ہونے پر تو وہ قیاس بن جاتا ہے اچھا یا برا۔

ہوائیں تیز ہو جائیں تو آندھیوں کی پشین گوئی کرتی ہیں۔ بادل بھاگتے بھاگتے جمگھٹی گھٹائیں بن جائیں تو برسنے کی نوید بن جاتے ہیں مگر بخارات بادل بننے سے قبل اپنا وجود پوشیدہ رکھتے ہیں۔

جب نظام کائنات نے اپنا وجود اسی کے حکم کے تابع کردیا تو پھر نظام حیات کے متعلق قیاس و گمان کیوں رہتا ہے۔

اللہ تعالی کے فیصلے انتظار کی اذیت سے دوچار نہیں کرتے۔بلکہ بروقت راحت و تسکین کا باعث ہوتے ہیں۔

ہر راستے پر کھڑا نیا موڑ اگلے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لئے راستے نہیں ناپے جاتے بلکہ موڑ ان راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو منزل کی طرف جاتے ہیں۔

اندھیرے جو دکھاتے ہیں سورج انہیں چھپا دیتا ہے۔نظروں کے سامنے اپنا منظر پیش کرتاہے۔آنکھیں اسی کی عادی ہو جاتی ہیں اور اسی کو دیکھنا پسند کرتی ہیں۔اندھیروں سے خوف کھانے لگتی ہیں۔

قدم راستوں سے شناسانہیں ہوتے روشنی کے تابع ہوتے ہیں۔

ہر شے اپنی جگہ موجود رہتی ہے اور سبب سے تعلق کی بنا پر نظر سے جڑی رہتی ہیں۔

روح احساسات بدنِ فانی سے چند لمحوں کے لئے آزاد رہتی ہے،پھر تو اگلی آزادی تک جسم جسموں پر چنگھاڑتے برستے آگ اگلتے روز ہی فنا ہوتے ہیں۔

جوں جوں تفکر ایمان بڑھتا چلا جا تا ہے وجود اس کے مقابل کمزور سے کمزور ہوتاجاتا ہے۔

محنت کی آبیاری سے صبر و شکر کی فصل تیار ہوتی ہے۔خیالات کی کھیتی میں شکوہ کی فصل کاٹی جاتی ہے۔

لکھنا قلم سے ہو تو قلمی دوستی سے آگے نہیں بڑھ پاتی مگر قلب سے لکھنا قلبی تعلق تک وسیع ہے۔

آنکھوں سے دیکھنا صفحات پر اترتا چلا جائے تو نشتر بن کر زخم دیتا ہے۔ قلب سے جو اترے تو خنجر بن جاتا ہے

جو کھونے کے خوف سے پہلے سے جمع سنبھالنے میں آنکھیں بند اور ہاتھ باندھ لیتے ہیں۔ وہ دینے والے کے انعامات سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں۔

زندگی کا کھیل آنکھ مچولی نہیں کہ ایک چھپ جائے تو ڈھونڈتے رہو۔یہ منظر اور نظر کی محبت کا کھیل ہے۔

نظر جب پانے کی خواہش پالیتی ہے تو منظرمنظورنظر ہو جاتے ہیں اور نظر میں بس جاتے ہیں۔ اوجھل روشنی ہوتی ہے منظر اندھیرے میں بھی روشن رہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے جسم کو زمین کی قید سے آزادی کے لئے صبر و شکر ، استقامت اور عبادت کا پروانہ تھما دیا۔

روشنیوں میں راہ پانے والے اندھیروں سے چھپتے ہیں۔روشنی کے جگنو دن میں خود چلتے تو اندھیرے میں راہ دیکھاتے ہیں۔

قرآن و سنت اندھیروں میں روشنی سے اجالا لانے کا ذریعہ ہے۔اب بھی کوئی اندھیرے میں رہنا چاہتا ہے تو ایسی عقل پہ ماتم کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

زندگی میں بہت سی باتیں سمجھ آنے کے باوجود سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں۔

انسانی تخیل سے نکلتے افکار اظہار رائے کا شاہکار تو ہو سکتے ہیں مگر زندگی کی سچائی نہیں ۔

سوچ بن کر وہی زندہ رہتے ہیں جو ناکامی کو قسمت کا کھیل سمجھ کر ہتھیار نہیں ڈالتے بلکہ بار بار کی کوشش سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں۔


محمودالحق
در دستک >>

May 19, 2014

نقطہء تحریر

:: زندگی کے پل جسم سے تو جدا رہتے ہیں مگر کبھی خود تو کبھی جواز پیدا کر کے جسم ہی کو احساس سے تختہ مشق بناتے ہیں۔

:: زندگی کوپانے کے احساس لمس دلاتی ہر شے دلپزیر ہوتی ہے۔

:: پانے کی خواہش ایک لمبے پل کی محتاج ہے  مگر پا کر خوشی کی چند پل سے زیادہ نہیں۔

:: کھونے کا خوف چند پل کا ہے مگر کھونے کا درد ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے۔

:: جسم کی ضرورتیں پل پل بدلتی ہی کبھی پسند و نا پسند میں تو کبھی خوشی و غم کے کھونے اورپانے میں۔

:: پھول احساس سے مزین ہوتے ہیں بھنوروں کو بلاتے ہیں صرف لمس ہی نہیں خوشبو بھرا رس بھی دیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی بھنورے اور پھول کی  قسمت میں فنا لکھا ہے ،لہر اور کنارے کی طرح صدیوں تک آبادرہنا نہیں۔  

:: محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے ۔جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے ،تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں۔

:: محبت کی داستان سچی ہو۔تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیاکھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا۔

:: آغازِ محبت میں شدت ایمان کی صورت اورانجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی۔

:: عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں۔

:: جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔

:: زندگی اچھے برے نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔

:: پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہےنا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔

:: قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لومحبت کے سفید کاغذ پرعشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔

::کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا   اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔

:: میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے--پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں۔

:: کنویں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہےمٹکے کے پانی سے پیاس بجھنے میں نہیں۔

:: ہر بڑھتی شاخ میں جو نشہ ہےوہ جڑ کی بدولت ہے ۔جو خاموشی سے سخت زمین ہو یا پتھر انہیں چیر کو رکھ دیتی ہے--ٹکر لینے کی اس کی وہی فطرت شاخوں اور ان پر لگے پتوں کو زندگی کی خوشیاں خوشبو سے بھری دیتے ہیں-

:: جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔

:: جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔


:: ہر آنکھ پھول پسند کرتی ہے  پنکھڑی کی نازکی پہ فدا ہو جاتی ہے۔خوشبو سے مسحور ہونا اسے بے خودی میں مبتلا کر دیتا ہے ۔مگر آنکھ وہ نہیں دیکھ پاتی جس وجہ سے یہ سب ہے۔

:: جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔۔استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔

:: اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔

:: تحریریں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔

:: کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے۔
در دستک >>

May 17, 2014

عشقِ وفا کہاں

تحریر و اشعار  !    محمودالحق

 گیس  کے غبارے کو صرف دھاگے سے  باندھ کر بچے بھاگ بھاگ اُڑاتےہیں۔ ہاتھ سے چھوٹنے کی غلطی اسے آسمانوں کی طرف اُڑانیں بھرنےمیں آزادی کے سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔ کھونے کا درد اور تکلیف چہرے کے فق رنگ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار چیخنے تک لے جاتی ہے۔بڑے بچوں کو غباروں کی آزادی پر  پہرے بٹھانے کے لئے تراکیب سمجھاتے ۔ کھڑکی ،کلائی  سے باندھ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کھلے میدان میں پڑے کسی چھوٹے پتھر سے باندھ لو ہوا کے جھولے میں جھولتا رہے گا۔جوں جوں گیس بھرے غبارے سائز میں بڑے اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔ایسے پتھر کا استعمال شروع ہو جاتا ہے جو زمین  سے اُٹھنے کی بجائے اپنی طرف کھینچنے کی طاقت زیادہ رکھتا ہے۔ دھاگہ بھی ایسا استعمال میں لایا جاتا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے اس کھینچا تانی میں الگ ہونے سے بچاتا رہے۔
زندگی بھی اسی اصول پر سدا کاربند رہتی ہے۔خیر اور شر کی قوتیں اسی فارمولہ پر کھینچا تانی میں مصروف عمل رہتی ہیں۔جسم ایک دھاگہ کی مانند ان کے درمیان رسہ کشی میں الگ ہونے سے بچانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ روح جب آزادی کی طلب میں آسمانوں کی طرف پرواز کا قصد کرتی ہےتو دنیاوی خواہشات  ،محرومیوں،مجبوریوں اور ضرورتوں کے پتھروں سے جسم کو مضبوطی سے جکڑ لیتی ہیں۔ روح آزادی کی تڑپ میں بے بسی کی رسی سے لٹکی جھولتی رہتی ہے۔تاوقتکہ کوئی ان پتھروں سے انہیں آزادی نہ دلا دے ۔
پتھروں کی پہچان  کے لئے سنگتراش ہونا ضروری نہیں۔ سائز دیکھ کر ہی وزن اور طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ خواہشات اور ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گی زمین کی گرفت بھی اتنی زیادہ ہو گی۔ روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔
جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔
مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق  حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔
جنہیں اس سفر پر چلنا ہوتا ہے وہ لفظ کی حرمت کو لمس سے محسوس کرتے ہیں۔جو آنکھوں سے آنسو بہا دے۔جسم چیخنے اور چنگھاڑنے کی تسکین طلب رکھتا ہو۔تو سمجھ لو کہ وقت کا پہیہ رک نہیں سکتا۔جسم خواہشات کے وزن سے زمین سے چپک جائے مگر روح کو آزادی کے لمس سے زیادہ دیر تک دور نہیں رکھا جا سکتا۔ تقریریں اور تحریریں کتابوں کا لمس رکھتی ہیں۔جن سےسوالات کا دھواں اُٹھتا ہے۔جوابات کا پانی کہیں  اور سے بادل بن اُڑتا ہے۔ خشک دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے۔
درِ دنیا کے سوالی تو بہت  مگر درِ کائنات کےنہیں جو درِ اثر سے گزریں۔ جس کے نشے کی لت کا شکار جو ایک بار ہو گیا تو احساسِ لمس کی پریاں بادِ صبا کے جھونکوں کی طرح سحر میں مبتلا کر دیں گی۔ مگریہاں تک کا سفر اتنا آسان نہیں۔کیونکہ یہ داستانِ عشق ہے۔اور یہ عشق ہر ایک کسی کے نصیب کا مقدر نہیں۔

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو


تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو


گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اُگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو


شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو



در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک