May 19, 2014

نقطہء تحریر

:: زندگی کے پل جسم سے تو جدا رہتے ہیں مگر کبھی خود تو کبھی جواز پیدا کر کے جسم ہی کو احساس سے تختہ مشق بناتے ہیں۔

:: زندگی کوپانے کے احساس لمس دلاتی ہر شے دلپزیر ہوتی ہے۔

:: پانے کی خواہش ایک لمبے پل کی محتاج ہے  مگر پا کر خوشی کی چند پل سے زیادہ نہیں۔

:: کھونے کا خوف چند پل کا ہے مگر کھونے کا درد ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے۔

:: جسم کی ضرورتیں پل پل بدلتی ہی کبھی پسند و نا پسند میں تو کبھی خوشی و غم کے کھونے اورپانے میں۔

:: پھول احساس سے مزین ہوتے ہیں بھنوروں کو بلاتے ہیں صرف لمس ہی نہیں خوشبو بھرا رس بھی دیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی بھنورے اور پھول کی  قسمت میں فنا لکھا ہے ،لہر اور کنارے کی طرح صدیوں تک آبادرہنا نہیں۔  

:: محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے ۔جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے ،تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں۔

:: محبت کی داستان سچی ہو۔تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیاکھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا۔

:: آغازِ محبت میں شدت ایمان کی صورت اورانجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی۔

:: عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں۔

:: جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔

:: زندگی اچھے برے نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔

:: پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہےنا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔

:: قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لومحبت کے سفید کاغذ پرعشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔

::کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا   اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔

:: میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے--پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں۔

:: کنویں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہےمٹکے کے پانی سے پیاس بجھنے میں نہیں۔

:: ہر بڑھتی شاخ میں جو نشہ ہےوہ جڑ کی بدولت ہے ۔جو خاموشی سے سخت زمین ہو یا پتھر انہیں چیر کو رکھ دیتی ہے--ٹکر لینے کی اس کی وہی فطرت شاخوں اور ان پر لگے پتوں کو زندگی کی خوشیاں خوشبو سے بھری دیتے ہیں-

:: جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔

:: جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔


:: ہر آنکھ پھول پسند کرتی ہے  پنکھڑی کی نازکی پہ فدا ہو جاتی ہے۔خوشبو سے مسحور ہونا اسے بے خودی میں مبتلا کر دیتا ہے ۔مگر آنکھ وہ نہیں دیکھ پاتی جس وجہ سے یہ سب ہے۔

:: جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔۔استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔

:: اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔

:: تحریریں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔

:: کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے۔

3 تبصرے:

noureen tabassum said...

ہر لفظ بےمثال ہے۔یوں تو۔۔لیکن "زندگی اچھے برے نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔"
بےشک زندگی تلاش کا نام ہے

sarwataj said...

اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔
ہر سطر اپنی جگہ ایک پورا مضمون ہے
آباد رہیں

محمودا لحق said...

بہت شکریہ نورین صاحبہ اور ثروت صاحبہ
میری سوچ جو دراصل میری حقیقت بھی ہے کے لئے آپ کے کمنٹس ہوا کے تازہ جھونکے کی مانند ہیں

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک