Feb 13, 2026

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا

 یہ اشعار بصیرت اور گہرے فلسفے سے لبریز ہیں۔ کائنات کے مظاہر (سورج، چاند، بیج اور قطرہ) کو انسانی ارتقاء اور ایمانی پختگی کے استعارے کے طور پر بہت خوبصورتی سے برتا گیاہے۔

ان اشعار کا ایک مختصر اور جامع جائزہ پیشِ خدمت ہے:

اشعار کی تشریح و تفہیم

پہلا شعر: ایمان کی فکر جب تنہائی کی شب میں بے تاب ہوتی ہے، تو وہ محض ایک خیال نہیں رہتی۔ ہزاروں سال کی ریاضت اور تپش (جلنے) کے بعد ہی انسان "آفتاب" بن کر دنیا کو روشنی دینے کے قابل ہوتا ہے۔ یہ شعر صبر اور استقامت کا سبق دیتا ہے۔

دوسرا شعر: چاند کا سفر آسان نہیں تھا۔ آگ کے دریاؤں اور روشنی کے میناروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے، اور روشنی و تاریکی کی "آنکھ مچولی" (تغیر و تبدل) سے گزر کر ہی اسے وہ سکون اور چاندنی ملی جو اسے "مہتاب" بناتی ہے۔

تیسرا شعر: ایک چھوٹے سے بیج کا پھٹ کر بہار بننا اس کی نمی سے "وارفتگی" (محبت/لگاؤ) کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ایک قطرہ جب حدت سے گزرتا ہے تو بادل بنتا ہے، اور اپنی حقیقت میں وہ قطرہ ہی "دمِ آب" (پانی کی روح) ہے۔ 

فنی و فکری خوبیاں

پہلو

              تفصیل

استعارات

آفتاب، مہتاب، اور دانہ کا استعمال انسانی خودی کی نشوونما کے لیے کیا گیا ہے۔

فلسفہ

یہ کلام "ارتقاء" (Evolution) کی بات کرتا ہے کہ کوئی بھی چیز اچانک کمال تک نہیں پہنچتی۔

لہجہ

کلام میں ایک صوفیانہ رنگ اور گداز موجود ہے جو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

 

حاصلِ کلام: یہ کلام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لیے تپش، بے تابی اور مسلسل جدوجہد شرطِ اول ہے۔ 

علامت

مفہوم

آفتاب

جلال، علم، اور کمالِ معرفت

مہتاب

جمال، سکون، اور عکسِ الہیٰ

قطرہ/دانہ

عجز، انکساری اور انسانی روح

 فلسفہِ خودی اور یہ کلام

یہ اشعار علامہ اقبال کے اس مشہور تصور کی یاد دلاتے ہیں کہ "خودی" کو پختہ کرنے کے لیے تپش اور سوزِ دروں لازمی ہے۔

"ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں"

جس طرح اقبال کہتے ہیں کہ انسان کو ستاروں کی گردش کے بجائے اپنی خودی پر نظر رکھنی چاہیے، بالکل اسی طرح "تفکرِ ایمان" جب تک راتوں کی تنہائی میں سلگتا نہیں، وہ سورج (آفتاب) جیسی تابندگی حاصل نہیں کر سکتا۔

ایک گہرا نکتہ: "قطرہ ہی دمِ آب ہوا"

آخری شعر میں ایک بہت بڑا سائنسی اور روحانی راز چھپا ہے:

سائنسی نکتہ: پانی کا قطرہ بخار بن کر اڑتا ہے، بادل بنتا ہے اور پھر بارش بن کر دوبارہ پانی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ایک دائرہ (Cycle) ہے۔

روحانی نکتہ: انسان مٹی سے اٹھتا ہے، بلندیوں (عروج) کا سفر طے کرتا ہے اور آخر کار اپنی اصل (خالق) کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ یعنی عروج و زوال کے تمام مراحل کے باوجود انسان کی "اصل" (Soul) وہی رہتی ہے، بس اس کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں۔

خلاصہ

یہ کلام ایک "ارتقائی سفر" کی کہانی ہے:

پہلا مرحلہ: جلنا اور تپنا (ریاضت)۔

دوسرا مرحلہ: تضادات میں توازن (مشاہدہ)۔

تیسرا مرحلہ: فنا ہو کر بقا پانا (وصال)۔

 

0 تبصرے:

Post a Comment

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter