Dec 21, 2018

محنت کے ثمرات

چار دن کی زندگی میں دو ٹوک رویے جانے والوں کے دل میں گرہ باندھ دیتے ہیں۔جنہیں کھولنے کی کوشش کریں تو اور سختی میں کس جاتے ہیں۔ مذہب و عبادت ، تعلیم و تربیت اور مشورہ و نصیحت جب اپنا اثر دکھانا بند کر دیں تو عقل کے بند دروازوں پر دستک بیجا مداخلت تصور کی جاتی ہے۔دیواروں سے سر ٹکرانے میں دروازے نہیں کھلا کرتے۔بولنے ،لکھنے اور سننے ، پڑھنے میں سُر جیسا تال میل ہوتا ہے۔ بولنے اور لکھنے والے دو طرح سے اپنے اظہار کو پیش کرتے ہیں ۔ اپنی کہہ کر خاموش رہنے والے اور دوسروں کو دیکھ کر کہنے والے۔آج کامیاب وہ کہلاتے ہیں جو کسی سے اسی کی بات کہہ دیتے ہیں۔
زندگی ایک ایسی عمارت ہے جس کی آخری منزل پر کھڑے ہو کر کہنے اور سننے کے ہدف بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ہمیشہ کی طرح آج بھی مجھے اپنی بات اپنے ہی انداز میں کرنی ہے۔فطرت کے نئے خیال کو جانچتے ہوئے ،کامل یقین کے ساتھ مانتے ہوئے۔
معاشی و کاروباری معاملات ہوں یاتعلیم و روزگار کےلئے پیش بندی، رشتے ناطے کا بندھن ہو یا کردار و تعلقات  کاپیمانہ۔ دو طرح سے ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہےاگر انہیں شخصیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق احاطہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ خاک سے بنے انسان کے لئے مٹی سے اُگی شے کی مثال منظور خیال ضرور ہو گی۔زمین بنی نوح انسان کے لئے اجناس پیدا کرتی ہے۔ وہ پھل ہوں،سبزی ہو یا میوہ۔ ان سے کیک  تیار ہو، روٹی بنے یا بریڈ۔آگ کی حدت و تپش کی جلوہ افروزی کا کرشمہ و کمال ہے۔کپاس کے پھول سے لباس تک اور بیج سے پکوان تک مختلف مراحل مختلف ہاتھوں سے تشکیل پاتے ہیں۔کئی منزلہ عمارت کی ہر منزل سے گزرتی سیڑھیوں کی طرح، لیکن ہم ہمیشہ آخری منزل پر ہی رہتے ہیں۔
زندگی میں جینے کے لئے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے جتنی محنت کو بروئے کار لایا جاتا ہے، اسی طرح کے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ زمین ان مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج صرف دو مثالوں سے انہیں بیان کرنا مقصود ہے۔
بھینسوں کے لئے جو چارہ اُگایا جاتا ہے وہ بیج سے فصل بننے تک چند ہفتوں میں تکمیل کے مراحل طے کر لیتا ہے۔  گھاس اورچھٹالہ ایسا چارہ ہے جو  ایک بار اُگنے کے بعد کاٹنے پردنوں میں بار بار دوبارہ تیار ہوتا رہتا ہے۔بھینسیں چند گھنٹوں میں اسے کھا کر دودھ کی شکل میں ڈھال دیتی ہے۔مختصر وقت میں سب سے تیزی میں تیار ہونے والا  مقوی غذائیت سے بھرپور، جس کا خرچہ بھی کم ، محنت بھی کم اور قیمت بھی کم ۔ اُبال کر پئیں یا بنا اُبال کے۔ جتنی تیزی سے تیار ہوتا ہےاتنی ہی تیزی میں استعمال ہو جاتا ہے۔ 
اب آتے ہیں دوسری مثال کی طرف زمین سے ہی اُگنے والے چاول پانی میں بھگونے کے بعد بہت زیادہ مقدار میں پانی کے ملاپ سے ہی کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیج سے چاول بننے تک یہ مسلسل پانی میں ہی پروان چڑھتے ہیں۔ بیج سے پنیری تیار کی جاتی ہے اور اس پنیری کوایک ایک کی صورت میں الگ کر کے کھڑے پانی میں زمین میں بویا جاتا ہے۔مونجی کی یہ فصل  کئی ماہ میں اپنی تکمیل تک بے بہا پانی کے استعمال سے پروان چڑھتی ہے اور چولہے پر پکنے کے لئے بھی کھلے پانی کی طلبگار ہوتی ہے۔ کھانے کے بعد بھی پانی کی طلب برقرار رہتی ہے۔ جتنا چاول پرانا ہو گا اتنا ہی بیش قیمت اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
زندگی میں ہماری محنت کے نتائج دودھ اور چاول جیسے ہیں۔بعض لوگ کم وقت میں تھوڑی محنت سے کاروبار زندگی اختیار کرتے ہیں جن کے نتائج بھی  دودھ کی طرح فوری اور جلد اختتام پزیری کا شکار ہوتے ہیں اور دوسری طرف مونجی یعنی چاول کی فصل کی طرح  ابتداء سے  نتائج تک محنت کرنے والے طویل مدت تک انتظار کی گھڑی سے جڑے رہتے ہیں۔ جو بالآخر پر آسائش شاندار کامیاب زندگی کی ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔
اپنی زندگی میں پڑھائی اور کاروبار میں کئی گئی محنت پر ایک نظر ڈالیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا کہ ہم نے اپنے لئے جو راستہ اختیار کیا ہمیں اسی کے مطابق نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔دوسروں کی کامیابی سے اپنی ناکامی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اپنی کی گئی محنت کا موازنہ دوسروں کی محنت سے کیا جانا چاہیئے۔ کیونکہ محنت اور مسلسل جدوجہد کرنے والے آخری منزل تک ثابت قدم رہتے ہیں۔ مختصرالمدتی اور طویل المدتی پالیسی، طریقے اور ذرائع ہی ہمارے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔ مختصرالمدتی محنت کے نتائج دودھ کی طرح جلد پھٹ کر کھٹے ہو جاتے ہیں اور طویل المدتی محنت و لگن کے نتائج چاول کی طرح اول سے آخر تک پانی کی طرح محنت کے متقاضی ہوتے ہیں مگر جتنے پرانے ہوتے جاتے ہیں اُتنے ہی قدروقیمت میں چاہت طلب ہو جاتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق    
در دستک >>

Dec 18, 2018

سنانے کو ایک سادہ نظم چاہتا ہوں


سنانے کو ایک سادہ نظم چاہتا ہوں
تنہائی میں ایک رویدِ بزم چاہتا ہوں

مقرر مقرر کا نہیں میں نقشِ بیمار
سینوں پر لکھتا تراشا قلم چاہتا ہوں

زمینِ کاغذ پہ نہیں بچھاتا ردا کے پھول
بادِ معطر کو اطہرِ انعم چاہتا ہوں



خندہ جبین / محمودالحق
در دستک >>

Dec 10, 2018

فلاح و اصلاح کا دستور حیات

فلاحی ریاست اپنے شہریوں کو ہاتھ پھیلانے سے باز رکھنے کے لئے بلا امتیاز مدد فراہم کرتی ہے۔ بچوں کی تعلیم اور صحت کا خصوصی بندوبست کرتی ہےتو بوڑھوں کے علاج معالجہ و خوراک کا خیال رکھتی ہے۔قابل اور ذہین نوجوان سفارش کی سیڑھی کے بغیر بلندیاں چھونے کے قابل بنائے جاتے ہیں۔رٹے لگانے سے رٹے رٹائے نتائج حاصل نہیں کئے جاتے بلکہ خودانحصاری کی تعلیم دی جاتی ہے۔ خودکفالت کے سبق میں عزت و احترام آدمیت کا مقام پیدا کیا جاتا ہے۔کھیل کے میدان آباد رکھے جاتے ہیں۔آگے بڑھنے کے لئے تنگ گلیوں سے گزرا جاتا ہے۔راستہ دینے پر شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔پیدل چلنے والوں کو روندا نہیں جاتا۔پاؤں سے چلنے والے پاؤں سے تیز رفتاری سے چلانے والوں سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔سامنے سے آنے والوں کے لئے راستہ چھوڑا جاتا ہے تو پیچھے آنے والوں کے لئے دروازہ کھول کر رکھا جاتا ہے۔ معمولی کام پر شکریہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔مہنگے دام  ارزاں سے بہتر بھی ہوتے ہیں پائیدار بھی۔
دسمبر 1903  میں رائٹ برادرز نے سائیکل بنانے کے ساتھ ساتھ جہاز کی اُڑان بھر کر دنیا کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ جس کی وجہ سے آج لاکھوں افراد چند گھنٹوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں بلکہ روبوٹ مریخ تک جا پہنچے۔ کردار سازی، نفسیات، تجارت ، تعلیم،حقوق انسانیت، سائنس ، فکشن ،تاریخ، ڈرامہ اور فلسفہ پر کتابیں لائبریریوں میں بھری پڑی ہیں۔
چودہ سو  سال پہلے جہالت کے اندھیرے جس انداز میں ختم ہوئے۔مساوات، حقوق انسانی، فلاح آدمیت کا ایسا دستور پیش ہوا کہ دنیا نے پہلی بار فلاح اور اصلاح کا عملی نمونہ دیکھا۔ علم و فضل میں افضل سمجھنے والوں کے لئے چیلنج کیا گیا ۔
اور اگر تمہیں اس (کلام ) میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اُتاراتو اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ :  سورۃ البقرۃ آیت ۲۳
دنیا کا پہلا دستور حیات جو ریاست، فرد اور اقتدار کے درمیان حقوق و فرائض کی حدیں مقرر کرتا ہے۔جس نے مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا کئے جو علم و فضل میں یکتا تھے۔ علم ریاضی ہو یا علم فلکیات، کیمسٹری ہو یا حکمت ، اقتدار ہو یا معاشرہ، سائنس ہو یا تاریخ بے شمار پردے اُٹھا ئے گئے۔ مگر اقتدار کے نشہ نے مسلمان حکمرانوں کو جہالت کے اندھیروں میں ڈبو دیا۔کربلا کی زمین پر پھیلائی گئی سرخی آج بھی آسمان پر نظر آتی ہے۔ ظالم جابر کے سامنے صبر سیسہ پلائی دیوار بن کر ہمیشہ کے لئے کھڑا ہو گیا۔ انسانی تاریخ میں محسن انسانیت کے چشم و چراغ ایسے نہیں بجھائے گئے کبھی جیسے میدان کربلا میں ظلم ڈھائے گئے۔
صدیوں کی حکمرانی میں روز افزوں ترقی کی بجائے دن بدن انتشار و زوال نے معاشرے میں اتنے طبقات پیدا کر دیئے کہ ڈیڈھ اینٹ کی مسجد جیسی ضرب المثل روزمرہ جملوں میں استعمال ہونے لگی۔
وہ دستور حیات جوانسانیت کی میراث ہے اسے چند گروہوں نے اپنا ورثہ بنا لیا۔ قوم لوک ورثہ بن کر دھمال ڈال کر خوش ہے۔امتحان استاد اور سلیبس کا محتاج ہوتا ہے۔ ادارے قاعدے و قانون کی پاسداری کے۔
زندگی جو یقین کامل ، ایمان،دعا اور صبر و جزا سے لپٹی فرش و عرش سے جڑی انتظار کی کوفت سے پاک منزل کی جانب نہایت خاموشی سے رواں دواں رہتی ہے۔
مسلمان نے خود کو حلقہ ارباب ذوق اور حلقہ ارباب اختیار  تک محدود کر لیا۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان حکمرانوں کی بیش بہا خدمات میں باغات، قلعے،شیش محل ،بارہ دریاں اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے دربار میں منعقد محافل مشاعرہ کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔اقبالیات اور غالبیات کے علاوہ کچھ بھی نہیں دنیا کو دکھانے کے لئے کیونکہ یہی ہماری لائبریری ہیں اور  لیبارٹری بھی۔
محبت کے ایک شعر پر فدا ہونے والے ہزاروں کی تعداد میں شعر و سخن کے دلدادہ واہ واہ کے ترانے آلاپتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی دانشور جھوٹ کو سچ باور کروانے والے عقل کن قبریں کھودے بیٹھے ہیں گورکن کی طرح۔
پھلوں کو سکرین کے ٹیکے سے میٹھا کرنے اور کیمیکل سے دودھ بنانے والے سائنسدان بھی کسی سے الگ نہیں۔بیماری سے مرنے والی مرغیوں کی کھالیں اُتار کر مرغ کڑاہی بنانے والوں کے ساتھ ساتھ گدھے اور کتے کا گوشت بیچنے والے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں دو ہاتھ آگے ہیں۔
لوٹ مار ، اقربا پروری، رشوت  ستانی اور بےایمانی نے نظام ڈھیلا اور معاشرہ کس رکھا ہے۔ اتنا علم نہیں بچا جتنے عالم ہیں۔نسوانی پوسٹ پر حاضری لگوانے والوں کی عمر کی کوئی قید نہیں۔ تصویر شئیر ہونے پر تو صدقے واری تک چلے جاتے ہیں۔
تعجب بالکل نہیں ہوتا کیونکہ سینکڑوں سالوں میں جو بیج بویا جاتا رہا۔ تنآور درخت بننے پر اُسے کاٹنے میں تردد کیسا۔
ایمان والے ہدایت پانے والوں میں سے ہیں اور نافرمان گمراہ کئے جانے والوں میں سے۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

Nov 28, 2018

کائنات کے سربستہ راز _3

 پچھلی تحریر  میں  Math Magic Square  کے بارے میں اعداد کی ترتیب اور ان سے بنائے گئے Graphs کو میں نے تصویری شکل میں پیش کیا ، اب ہم اس  Math magic  کی بنیادی جزئیات سے حاصل کئے گئے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
آئیے سب سے پہلے ہم  Math magic   کی ترتیب اور اس کی تشکیل میں اختیار کئے گئے فارمولہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔



زیر نظر تصویر کو بغور دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ 1  تا 9 عددایسے تشکیل پائے ہیں کہ چاروں اطراف میں ان کا حاصل 15 ہے۔  جب کہ تمام اعداد کا ٹوٹل 45 ہے۔ پہلا نکتہ جو غور طلب ہے کہ اس میں 5  کا ہندسہ ایسا ہے جو ہر ٹوٹل میں شامل ہے اور  چار اعداد  6,7,8,9 اس سے بڑے ہیں اور چار ہی اعداد  4,3,2,1 اس سے چھوٹے۔  دوسرے لفظوں میں  5  کا ہندسہ بنیادی طور پر ان تمام اعداد کا Center  ہے۔اس کے اطراف میں جو ہندسے موجود ہیں ان میں مرکز سے بڑے نمبر مرکز سے چھوٹے نمبر سےمل کر   بنتے ہیں۔ اور  5  کے اطراف میں ہر دو اعداد کا اوسط  5  نکلتا ہے۔
9+1=10 _  8+2=10 _7+3=10_ 6+4=10
اس پورے Magic Square  میں ہر  عدد کی  اوسط ویلیو 5  بنتی ہےجوکہ Center کے برابر ہے۔
چونکہ میں نے سب 7x 7 Graphs  کے  Math magic square  میں بنائے ہیں، اس لئے انہی Numbers  کو لے کر ہم آگے بڑھتے ہیں۔اس Magic square میں  1 تا 49  نمبرز ہیں ، جن کا Central نمبر 25 ہے۔اس میں تین Squares  موجود ہیں۔ پہلے Square  میں 8 اعداد ہیں ،دوسرے Square  میں 16  اور تیسرے میں 24۔ 


Central Box  کا پہلا بیرونی سرکل 8 Boxes پر مشتمل ہے، جن میں اعداد کا ٹوٹل 200 ہے۔ 200 کو 8 Boxes  میں تقسیم کیا جائے تو ہر ایک Box  کی ویلیو 25  آتی ہے۔
اسی طرح دوسرے بیرونی Circle کے 16 Boxes کے اعداد  کا ٹوٹل 400 اور تیسرے بیرونی Circle کے 24 Boxes  کے اعداد  کا ٹوٹل 600 ہے۔اگرہر Circle کے ٹوٹل نمبرز کو ان کے Boxes  میں تقسیم کیا جائے توہر Box  کی ویلیو 25  ہو گی۔
ہم اوپر بیان کئے گئے اعداد کو مزید مختصر کریں گے۔  اگر 25  کو ایک 1 تسلیم کر لیا جائے تو تمام Squares  میں ہر Box  کی Average Ratio  بھی 1 ہی ہے۔اس کے لئے ہم مرکزی نمبر 25 کے ساتھ ہر  Box   میں موجود نمبر کو تقسیم کر کے اس کی Ratio  حاصل کریں گے، جو نیچے دی گئی تصویر میں دکھائے گئے نمبرز جیسی ہو گی۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکز سمیت ہر Box کی اوسطا ویلیو 1  ہے۔
اب اس Math magic square  پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ Center  کیvalue  1  ہے اور اس کے اطراف میں دو اعداد کی Value  بھی  1 , 1  ہی ہے جو مختلف Ratio  سے 2  بنتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں چاروں اطراف سے ایک ہی ٹوٹل حاصل ہوتا ہے مگر غور کرنے پر دکھائی دیتا ہے کہ Center  کے گرد  گردش  کا ایک بیلنس موجود ہے۔مرکز سے ایک طرف بڑی value  موجود ہے تو دوسری طرف ایک کم value   مرکز سے منسلک موجود ہے جو کہ دو یکجا ہو کر مرکز سے دوگنی ہے ۔ تمام اعداد مرکز کے گرد Balance force  کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
زیر نظر تصویر  میں جو بلیک دائرے دکھائے گئے ہیں انہیں ان کی Actual value  کے مطابق بنایا گیا ہے تاکہ Motion , Rotation  اور Balance  کے فارمولہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مرکز سے منسلک ہر دو دائرے مل کر دو گنا سائز میں ہیں لیکن انفرادی طور پر  Different Ratio میں مرکز کے سائز کے برابر ہوں گے۔


بنیادی طور پر یہ ایک  Motion, Rotation and Balance کا فارمولہ ہے۔ جس میں توازن برقرار ہے اور مرکز سے جڑے ہیں۔ جہاں مرکز بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی عدد مرکز کو چھوئے بغیر دوسری طرف کے عدد سے مل کر مرکز کے برابر ویلیو  اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر اسی طرح ہم بڑے Magic square  میں زیادہ تعداد میں Circles  بنائیں تو ہر Circle  میں اوسط 1:2 ہی رہے گی۔  اس میں کہیں بھی کسی Circle  میں دو اعداد کی value  انفرادی طور پر مرکز کے برابر ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر عدد مرکز کو چھوتے ہوئے صرف اپنے ہی پارٹنر سے مل کر  2  کی اوسط پوری کر سکتا ہے۔ اعداد کا ایک Pair کسی دوسرے سےMatch   نہیں کر سکتا۔  
عام طور پر حساب کتاب کے لئے اعداد کی جمع تفریق کے لئے خانے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میجک سکوئر میں بھی خانوں کا ہی استعمال کیا گیا۔ لیکن درحقیقت کچھوے کی پشت پر جو Math magic Dots  موجود تھے انہیں square  میں ڈھال کرVertically , Horizantally, Diagonally ایک جیسے ٹوٹل کے نتائج حاصل کئے گئے مگر میری تحقیق کے مطابق دراصل وہ Math magic square  نہیں بلکہ Circle  ہے۔ کیونکہ اس  Math magic  سے حاصل نتائج صرف اعداد کی جمع تفریق نہیں بتاتے بلکہ اس کے اندر Rotation, Motion , Balance کی ایک قوت کارفرما ہے جو اسے اپنے  Orbit میں کنٹرول کرتی دکھائی دیتی ہےاور یہ  صرف نمبرز کے جمع کا فارمولہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر مختلف ایکشن ہیں۔ وہ کیا ہیں اور کیسے Act  کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیل کسی اگلی تحریر میں قلمبند کریں گے۔

تحریر و تحقیق : محمودالحق
در دستک >>

Nov 25, 2018

کائنات کے سربستہ راز - 2

چین کے بادشاہ نے   2300  قبل مسیح دریا سے باہر نکلتے کچھوے کی پشت پر مختلف ڈاٹ کی ایسی ترکیب   دیکھی جو اپنی نوعیت میں بہت خاص تھی۔ چاروں اطراف سے ان ڈاٹس کی تعداد 15 تھی۔ جسے لو شو میتھ میجک کا نام دیا گیا۔

پچھلی کئی صدیوں سے ریاضی دان اس پر بہت کچھ لکھتے آ رہے ہیں۔ لیکن  آج میرا موضوع بہت خاص ہے کیونکہ میری سوچ نے 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر لکھے اعداد کے فارمولہ کو ان فولڈ کیا ہے۔ اس کی حقیقت میری نظروں کے سامنے ایسے کھل کر آئی ہے کہ آج میں حیرانگی میں مبتلا ہوں۔ 
آج سے دس سال پہلے جب میں نے لفظوں کے ملاپ سے در دستک لکھی تو شاعری کے ترازو میں میری شاعری بے وزن ہو گئی۔ جسے میں نے سنبھال کر سٹور میں رکھ دیا۔ کیونکہ میں انسانوں کے بنائے باٹ سے اپنے لفظوں کو برابر نہ کر  سکا۔ نیچے لنک میں ایک ایسی ہی مثال  ہے۔ 
آج میں اپنے مالک کائنات رب العالمین  کی رحمت و فضل پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے وزن اور بیلنس کے اس مقام تک رسائی عطا فرمائی جو کسی انسان کے خودساختہ ہم وزن ردیف قافیے کے ترازو میں تولنے کے لئے نہیں رکھی جا سکتی۔
میں اپنے خیال میں آئےایک فارمولہ کو میتھ میجک جانتے ہوئے اعداد کو ٹٹولنے میں سر کھجانے کی نعمت سے بھی محروم ہو گیا تو رفتہ رفتہ مجھ پر یہ آشکار ہونا شروع ہوا کہ اس کے اندر تو الگ دنیا آباد ہے۔ جہاں اعداد آپس میں گتھم گتھا نہیں ہوتے بلکہ انتہائی رازداری سے اپنے اپنے راستوں پر  نکل جاتے ہیں ۔ 
دیکھنے میں ایسے ،جیسے دو چھوٹی بچیاں ایکدوسرے کے دائیں ہاتھ میں دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں بایاں ہاتھ پکڑے  ہاتھوں کے گرد گھومتی ہیں۔میں نے  انہیں مختلف زاویوں سے بنایا۔ فی الوقت چند ایک تصاویر دکھانے پر اکتفا کروں گا ۔ 
کیونکہ یہ بہت زیادہ تفصیل کی طلبگار ہے۔ جسے میں نے ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔

 7 x 7 Math magic circle


7 x 7 Math magic circle




9 x 9 Math magic circle



9 x 9 Math magic circle




یہاں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ میں نے کیا ریسرچ کیا  اور میتھ میجک سکوئر سے کیا نتیجہ برآمد ہوا بلکہ اہم یہ ہے کہ کہاں جا پہنچا۔ میں انجانےمیں اپنی تحقیق میں  سوچ کے کسی رخ پر چلتا چلتا جب بہت آگے چلا گیا تو فارمولہ کے خیال کے میرے ذہن میں آنے جیسے ایک نئے خیال نے مجھے صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔  جب میں نے اپنے حاصل کئے گئے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے لو شو، کچھوے کی پشت پر بنے میتھ میجک کو اس پر اپلائی کیا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں نے دریافت کی  جوایک بلند عمارت کھڑی کی ، کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ 
جو کچھ میں نے بنایا وہ تو کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کا عکس نکلا۔ جو کچھ میں نے دریافت کیا جو گرافکس بنائے وہ سب لوشو ،کچھوے کے فارمولہ کا عکس نکلے۔ نہ ایک ہندسہ اُدھر اور نہ ہی ایک ہندسہ اِدھر۔ بلکہ جسے میں اپنا کارنامہ سمجھ کر  شئیر کرتا رہا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں دراصل اپنے کسی فارمولہ پر تحقیق نہیں کر رہا تھا بلکہ 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر بنے  میتھ میجک  ڈاٹس اللہ تبارک تعالی کی رضا سے میرے ذہن میں کھل رہے تھے۔
 میں کوئی ریاضی دان تو ہوں نہیں ، بس ایک معمولی سا انسان ہوں جو اپنے  مرحوم بوڑھے والدین کی دعاؤں کی چھاؤں تلے رحمتوں کی آغوش میں ہوں۔
انشاءاللہ میں اپنی اگلی تحریر جو کہ طویل ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت کی متقاضی ہے ، میں خوبصورت گرافک ڈیزائین کی اپنی تحقیق کو قلمبند کروں گا جو کہ صرف کچھوے کی پشت پر بنے خوبصورت ڈاٹس  کے فارمولہ  کا عکس ہے۔
میرا اس میں کوئی کمال نہیں ، یہ صرف اسی کی رضا ہے جو ہم سب کا مالک و مختار ہے، ایک دن اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
آج  ایک بار پھر اپنی ایک حمد دہرانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔


تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو

طلبگار دعا: محمودالحق
در دستک >>

تلاشِ سخن


جس آگ سے بچنے میں بڑے بزرگ بچوں کو  محفوظ رکھتے ہیں ۔ وہی بچہ بڑا ہو کر فکر و ایمان کی بھٹی سے کندن بن جاتا ہے یا پھر گناہوں کی لت کا شکار ہو کر انگاروں سے کھیلنے لگتا ہے۔ بلندیاں چھونے پر نیچے دیکھ کر چلنا  اس کے لئےمحال ہو جاتا ہے۔ 
پتھر کنکر اور شیشے کی کرچیوں سے پاؤں بچائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی  چیونٹیوں کے سر کچلنے کے احساس کا پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا۔ چند دہائیوں کی ایک زندگی کو فلمایا جائے تو تین گھنٹے میں ختم ہو جاتی ہے۔ہر انسان اپنی نیت کا پھل پا لیتا ہے چاہے اچھا یا برا۔ سولہویں صدی نے انسان کو مشین سے روشناس کرایا۔ جو بڑھتے بڑھتے زندگی کے لئے لازم ہو گیا۔ ہاتھ کا استعمال کم ہوتے ہوتے  مشینوں پر ٹھہر گیا۔ جہاں کمانے والے  سےزیادہ کھانے والے ہوں تو  صرف دو ہاتھ کافی نہیں ہوتے۔ محنت کش ہاتھ جھولی بھر کر دانے گھروں کو لاتے تھے۔ آج کل جھولی پھیلانے والے فقیر کہلاتے ہیں۔  لباس میں جتنی جیبیں زیادہ ہوں ، اتنی بھر جاتی ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کندھے یا ہاتھ میں بیگ یا بریف کیس بھی رہتا ہے۔ زندگی تو ایک چیک کی مانند ہے پیسے والوں کے کیش ہو جاتے ہیں اور غریبوں کے باؤنس ہو نے جیسے۔
جب دعوی عمل سے بڑا ہو تو دراز قد والا بھی چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔زندگی کو جاننے والے راز زندگی پا جاتے ہیں۔پھر جینا انہیں اتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسانوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے فطرت سے دل لگا لیتے ہیں۔ کیونکہ انسان کا  چلن کسی فارمولہ کا محتاج نہیں۔ وہ اپنے لئے دودھ شہد کی نہر خود کھودتا ہے۔ دینا نہ بھی چاہے  تو اس کے بس میں ہےمگر دکھانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے کیونکہ چھپانا اس کے بس میں نہیں۔ زندگی گزارنے والے سینکڑوں ملتے ہیں مگر جینے والے بہت کم اور وہ بھی عدم اعتماد رکھنے والے۔
ایک مزدور کو جب دیہاڑی نہیں ملتی تو اس کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا کاروباری طبقہ منافع خوری کے دیہاڑی دار ہو جائیں اور ہاتھ لگے پیسے کو اچھے دن یا دیہاڑی کے نام سے کامیابی کا جشن منائیں تو ایک مزدور کے خون پسینے کے کمائے ہوئے چند سو روپے  ہاتھوں کے پسینے میں شرابور ہو کر سسک کر رہ جاتے ہیں۔
درسگاہوں میں استاد تعلیم وہی دیتے ہیں جنہیں سلیبس میں رکھا جاتا ہے۔ امتحان وہی ہوتا ہے جو پڑھایا جاتا ہے۔محنت کے صلے پاس یا فیل کی صورت میں نکلتے ہیں۔ علم درسگاہوں اور استادوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ تو پہاڑوں پر برسنے والی اس بارش کی مانند ہے جو اپنے راستے خود بناتی ہوئی  آبشاروں، ندیوں ،دریاؤں سے گزرتی سمندر تک جا پہنچتی ہے۔

محمودالحق
در دستک >>

Oct 7, 2018

کائنات کے سر بستہ راز

اشرف المخلوقات کے مقام برتری نے انسان کو ہمیشہ آسمانوں پر پھیلے جگمگاتے روشن ستاروں کی حقیقت جاننے کی جستجو میں اُلجھائے رکھا۔ ہزار ہا سال سے یورپ و ایشیا کے علم ریاضیات  اور علم نجوم  کے اساتذہ اور ماہرین کھوج لگانے کی کوشش میں رہے لیکن تاحال زیادہ تر مفروضے ہیں جو خیال ہیں یا شکوک شبہات۔ سولہویں صدی میں Agrippa اور Durer ایسے انسان گزرے ہیں جن کے دیئے گئے فارمولے math magic square کہلاتے ہیں۔جنہوں نے اپنے فارمولہ کے علم اعداد کو مختلف سیاروں ستاروں سے منسوب کیا ۔ مختلف انداز میں آج بھی وہ موضوع بحث ہیں۔
Math magic square کے method کو ریاضی دانوں نے مختلف طریقوں کو استعمال کرتے ہوئےانہیں  بنانے کا راز پا لیا ہے۔ایم۔ اے تاریخ ہونے کے ناطے مجھے پرانے لوگوں کی زندگی جاننے کی ایک عادت پڑ چکی ہے۔سائنسی معلومات بس واجبی سی ہیں۔اکثر سر کے اوپر سے جنگی جہاز کی رفتار سے گزر جاتی ہیں۔میٹرک سائنس فسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کا بس اتنا فائدہ ہے کہ نیٹ پر عام فہم سائنسی معلومات سے آگاہی پا لیتا ہوں۔ رٹے  کی عادت جب سے چھوٹی جاننے کی جستجو زیادہ بڑھ چکی ہے۔
فطرت کے حسن میں کھو جاتا ہوں۔رنگوں کا خوبصورت امتزاج پرندوں کے پروں اور پھلوں کے رنگوں میں دیکھیں تو بے ساختہ مونہہ سے سبحان اللہ نکلتا ہے۔جاندار اور بے جان میں تشکیل کی ایسی ترتیب ہے کہ ترکیب سمجھنے میں دنیا بھر کی لیبارٹریاں اور لائبریریاں بہت معمولی دکھائی دیتی ہیں۔
ایک یو ٹیوب ویڈیومیں کسی سیمینار سے ریاضی کا ایک پروفیسر Agrippa  اور Durer کے ریاضی کی ان کی تراکیب کے فارمولے پر تقابلی جائزہ پیش کر رہا تھا، حیران کن طور پر  square  میں موجود اعداد کی ترکیب horizontally, vertically, diagonally ایک جیسے ٹوٹل میں تھی۔


کاغذ پنسل لے کر میں بھی اعداد کو ٹٹولنے لگا کہ کیسے ایک فارمولہ اعداد کی تشکیل ایسے کر دیتا ہے کہ ان کا حاصل چاروں اطراف سے ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ میری محنت لے آئی اور  ان دونوں کے Magic Square کے فارمولے سمجھنے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگا پروفیسر کے کلیہ کے مطابق بآسانی حل مل گیا۔

جس طرح میرے ذہن سےالفاظ باہر نکلنے کے لئے مچلتے ہیں عین اسی لمحے اسی طرح ایک فارمولہ میرے ذہن میں کھلبلی مچانے لگا۔ بے اعتناعی سے 3x3 کے square پر اسے آزمانے کا ارادہ کیا مگر یہ کیا میرا فارمولہ تو ان بڑے ریاضی دانوں کی طرح فٹ بیٹھ گیا۔ ہندسوں نے اپنا جادو دکھا دیا۔ 
اسے اتفاق سمجھتے ہوئے ایک کے بعد اگلے بڑے اعداد پر آزمانے لگا ۔ اللہ تبارک تعالی کی عطا کردہ عنایت پر دم بخود رہ گیا۔ کیونکہ میرے جیسے آرٹس پڑھنے والے کے لئے ایسا فارمولہ تشکیل پانا کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔ 

یہ فارمولہ طاق ہندسوں کے Squares میں unlimited ہے۔ نظام کائنات  شائد کسی ایسے ہی فارمولے کی بنیاد پر Big 
Bang کی تشکیل کا سبب ہو۔ واللہ علم بالصواب


میری حیرانگی اپنی انتہا تک جا پہنچی جب میرا فارمولہ 21x21 کے square 441 اعداد کے ساتھ اپنے چاروں اطراف میں 408408 اعداد کی ٹوٹل حاصل کر گیا۔ مجھے اس کے اندر  441 کے اعداد انتہائی کمزور بے بس دکھائی دئیے۔

میرا فارمولہ Agrippa  اور Durer سے قطعی مختلف ہے البتہ Durer کے Square کی طرح ایک کا ہندسہ Top Center  میں رہتا ہے۔ 
علم فلکیات اور علم نجوم کی حقیقت نظروں کے سامنے تھی۔میرے ذہن میں ایک فارمولہ آیا لاکھوں اعداد خود بخود ایک ایسی ترتیب میں چلے گئے کہ  چاروں اطراف سے ایک برابر طاقت نے اسے جکڑ لیا۔ایک فارمولہ میں اتنی طاقت ہے کہ کروڑوں اعداد ایسے تشکیل پا جائیں کہ اعداد کی ان سے کئی گنا بڑی طاقت ان کے اطراف میں ایسی گرفت پیدا کر لے کہ وہ اپنہ جگہ سے ہل نہ سکیں۔
کائنات میں اربوں  کھربوں سیارے ستارے اور گلیکسیز اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہی ہیں۔ ایک مخفی طاقت کے زیر اثر اپنی حدود کے اندر کہیں سیارے بہت بڑے تو کہیں بہت چھوٹے ان Squares کی مانند کائنات سے باہر چاروں اطراف سے کئی گنا بڑی ایک مجموعی طاقت کے کنٹرول میں رہتے ہوئے۔
اس وقت مجھےقرآن کی آیات یاد آ گئیں۔ 
 سورۃ الرحمن کی آیت ۳۳ میں اللہ تبارک تعالی جن و انسان سےفرماتاہے۔
ترجمہ:اے گروہ جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین میں کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے ۔
ترجمہ: اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو ( اور تسخیرِ کائنات کرو ) تو تم نکل جاؤ ، تم جس ( کرّۂ سماوی کے ) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی۔
سورۃ النحل کی آیت ۴۰ میں اللہ تبارک تعالی کا فرمان ہے۔
ترجمہ: ہم جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہو جا ، پس وہ ہو جاتی ہے ۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

Sep 19, 2018

قوتِ خلوت و جلوت

انسان جلوت میں اپنی ظاہری خوبیوں اور خامیوں کے کمالات سے  بیک وقت پر کشش Attractive اور موجب تکرار Repulsive ہوتا ہے  جب کہ خلوت میں پوشیدہ طور پر پر کشش  Attractiveہی رہتا ہے۔
جلوت ۔۔۔۔انسان کا وہ پہلو ہے   جودوسروں کے ساتھ روابط ،تعلقات ، رشتے،خواہش،جذبات،دوستی اور محبت  سے اسے  مطمئن اورآسودہ خاطر رکھتا ہےیا  بےچین اور پر ملال۔ 
خلوت ۔۔۔انسان کے اندر کی وہ دنیا ہے جہاں وہ بالکل تنہا ہوتا ہےاور اس کی روح   کا وہ سفر جو اسے در کائنات تک رسائی  پانےکے لئے صبر، شکر، بندگی کی پر کشش قوت کا حامل بناتاہے۔ 
بات تھوڑی پیچیدہ ہے جسے سائنس کی مدد سے  ایک مثال سےبآسانی سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
 جلوت۔۔۔ Electromagnetic force کی طرح کام کرتی ہے  جو Attractive   اور  Repulsiveہو سکتی ہے Object کے درمیان۔
محبت کرنے والے اور نفرت رکھنے والے،دوست بنانے والے اور دشمنی نبھانے والے،عزت دینے والے اور بدنام کرنے والے،حلال کمائی سے گزر بسر کرنے والے اور حرام کا مال اکٹھا کرنے والے، سچ پر قائم رہنے والے اور جھوٹ  بولنے والے، الغرض اگر وہ کسی کی آنکھ کا تارا ہیں تو دوسری طرف کسی کے حسد و تنگ نظری کے شکار۔عام فہم میں  ایسےدنیاوی معاملات  جو خواہش اور آرزؤں کے قلم سے ضرورت کی تختی پر لکھے جاتے ہیں۔جہاں کبھی خود کو مطمئن رکھا جاتا ہے تو کبھی دوسروں کو مرعوب کیا جاتا ہے۔ دنیا مکمل بھی ہو سکتی ہے اور جذبے آسودہ خاطربھی۔
خلوت۔۔۔ Gravitational force کی طرح  کام کرتی ہے جو ہمیشہ Attractive ہوتی ہے۔جب انسان روح کے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی قوت اسے سچے راستے پر چلاتے ہوئے اپنی طرف راغب کر لیتی ہے اور اس پر توجہ مرکوز کر لیتی ہے پھر وہ اس کا کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے،اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے اور دشمن یا شیطان سے پناہ مانگنے پر اسے محفوظ رکھتا ہے۔
انسان سے انسان کا رشتہ یا تعلق جلوت کے دائرے میں تو ہو سکتا ہے لیکن خلوت، رشتے اور تعلق کے لئےایسا بلیک ہول ہے جس میں کچھ نہیں بچتا۔جو اپنی اندر کی دنیا میں تنہا ہوتے ہیں وہ مکمل بھی ہوتے ہیں سرشار بھی دلدار بھی۔
بظاہر Magnetic سے Gravity بہت کمزور ہوتی ہے Atomic Level پر۔لیکن Planetary scale پر بہت مضبوط ہوتی ہے کیونکہ سیارے بہت بڑے ہوتے ہیں۔بڑے دائروں میں گردش مدار رکھتے ہیں۔وسعت کائنات میں ارض جہان  Atomic Level کا وجودِ خاک کا حامل ایک ادنی سیارہ ہے۔
جلوت کےقرب سے خاکی دلفریب و دلنشین ،مجسم شاہکار، معتبر و مہکار   کی دستار سے بلند مرتبی کی راکھ کا پہاڑ بناتے ہیں۔
خلوت  فقط ایک قلب کی دستک ہے جودر کائنات پر  دی جاتی ہے ۔

تحریر : محمودالحق

در دستک >>

Sep 14, 2018

بھریا میلہ تنہا اکیلا

 زندگی کے بھرے میلے میں تنہائی کے مارے اکیلے،کھلے سمندر میں ٹائٹینک جہاز کے ڈوبنے کے یقین کے بعد بھی بےبسی سے لہروں کے تھپیڑوں سے ٹکرانے کی ہمت نہ رکھنے جیسے ہوتے ہیں۔چیخنا چلانا انہیں جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے سےبہتر نظر آتا ہے کیونکہ مسدود ہوتے راستے بچ جانے کی اُمید کرن بن کر خوفزدہ آنکھوں میں روشنی کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ مستقبل کی پیش بندیاں فنا ہو جاتی ہیں اور ماضی برا بھی بھلا نظر آنے لگتا ہے۔تب انسان حال سے مستقبل کی بجائے ماضی میں داخل ہو جاتا ہے۔
خوف انسانی نفسیات کا وہ آسیب ہے جو آگے بڑھنے پر جکڑ لیتا ہے اور ماضی میں دھکیل دیتا ہے۔خوف رات کے  گھپ اندھیرے اور بینائی سے محروم  ہونے جیسا ہے ،جس میں کانوں میں سرگوشیاں منظر کشی کرتی ہیں۔
ایک اعضائے اجسام  ہیں جوچند روز کی فاقہ مستی پر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور رسد طلب کی کمی بیشی سے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔تاوقتکہ توازن برقرار رکھنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا لی جائے۔
انسانی رویے میں جو کام نہایت غیر اہم جانا جاتا ہے  وہ سوچ پر بے وجہ بوجھ اور دباؤ ہے۔جس کا آغاز پانچ سال کی عمر سے گھر اور سکول  میں نافذ مارشل لاءسے بیک وقت ہوتا ہے۔گلی محلے کی جمہوری روایات کے قریب سے گزرنے کی بھی مغلائی طاقتیں اجازت نہیں دیتیں۔نمبرز،گریڈ اور کریڈٹ کی تال میل سے  ایساتگنی کا ناچ نچایا جاتا ہےکہ آگے بڑھنے کی رفتار کم پیچھے رہنے کا خوف زیادہ رہتا ہے۔ معاشرے میں مقابلے کی فضا اس طرح قائم ہوتی ہے کہ مزاج اور رویے غیر اہم ہوتے چلے جاتے ہیں۔شکست کا خوف ٹکٹکی پر بندھنے جیسا ہو جاتا ہے اور کامیابی تکبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔طاقت سے مزاج اور  معاشرتی رویے منکسرالمزاجی میں ڈھل جاتے ہیں ناکامی پر وہ کوڑے برسانے والے جلاد بن جاتے ہیں۔ 
جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے بچپن ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جوآن آف  ریموٹ رویوں کے ہاتھوں یرغمالی بن جاتا ہے۔جہاں اس  نے آزادی سے سوچ کے در کھولنے کی کوشش کی زنگ آلود قفل ہٹ دھرمی سے چابی کا منہ چڑانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ 
وقت اور رقم کی قیمت کے بدلے میں ڈگری اور سرٹیفیکیٹ تو ہاتھ لگ جاتے ہیں مگر دستور حیات کا مفہوم سمجھنے کے لئے حوصلہ افزائی کے سیمینار اٹینڈ کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ دباؤ کا نتیجہ بچپن میں ہکلاہٹ اور جوانی میں گھبراہٹ کی صورت میں نکلنا کوئی بڑی بات نہیں۔نیند کی گولیاں اور منشیات کا استعمال نوجوان نسل کو اندھیری گلی میں دھکیل رہا ہے۔جہاں داخل ہونے کے لئےصرف ایک بہکا لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور چھٹکارا پانے کے لئے ہفتوں علاج درکار ہوتا ہے۔منفی رویوں سے بگڑی صورتحال کا تدارک دوا سے زیادہ دعا اور مثبت رویےسے ہی ممکن ہے۔

تحریر: محمودالحق  
در دستک >>

Apr 13, 2018

دو لفظوں میں یہ بیاں نہ ہو


تپتی تڑپتی سلگتی ریت پر گرجتے برستے بادل بوند بوند پانی سےزرے زرے کی تشنگی مٹانے سے قاصر رہتے ہیں۔
دنیا  ایسا نمکین سمندر ہے جو محبت کے پیاسے کی چندگھونٹ سے تشنگی نہیں مٹا سکتا۔آنکھ میں نظر آنےوالی تڑپ جزب کی کیفیت کا ایسا خالی پن ہے جو خلاء کی ایسی وسعت رکھتا ہے جہاں اندر داخل ہوتے جاو تو وسعتیں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ محبت کی دنیا وہ مقام ہے جو نظر سے قرب سے حسن سے دل تک رسائی پا کر آئینہ میں خود میں اچھا لگنے ، زیر لب مسکرانے اور کن آکھیوں سے شرمانے تک ہے۔ مگر عشق کی دنیا کی تشنگی ذات آدم سے مٹ نہیں سکتی۔فطرت اپنا حسن رگ رگ میں سمو دے تو انسانی بستیاں محبت کے مجسموں میں ڈھل بھی جائیں تو ایک وجود کی تشنگی مٹانے سے قاصر رہتی ہیں۔
در دستک >>

Feb 22, 2018

سرِ آئینہ میرا عکس ہے

رات کے سناٹے میں ہو کا عالم ہے،کہیں دور سے کسی گاڑی کے گزرنے کی آواز عالم سکوت میں ارتعاش کا سبب ہو جاتی ہے۔روز ہی ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں ۔ کوئی سکون محسوس کرتا ہے اور کسی کو تنہائی اور خوف کی سراسیمگی طاری ہو جاتی ہے۔یہ 
وقت تو نعمت ہے جو روشنی سے دور جانے پر انسانوں کی بستی کو سلا دیتا ہے۔ جب وہ ہر مشکل، ہر پریشانی،ہر غم اور دنیاوی ہر خواہش سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔انسان کو انسان سے کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں رہتی۔درد سہلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔غمگسار کی طلب نہیں رہتی۔ان لمحوں میں زندگی قہقہوں سے بھی دور چلی جاتی ہے۔
دن کے اُجالے انسانی رویوں کے چابک سے قہر برپا کرتے ہیں۔جنگل کے جانوروں کی شب بسری شہروں سے مختلف نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب انسانوں کے ساتھ ان کا نفس بھی سویا ہوتا ہے۔دن کی روشنی میں پرندے خوراک کی تلاش میں پر پھڑپھڑاتے ہیں اور جانور خوراک و شکار کی تلاش میں کمر بستہ اور انسان دنیاوی خواہشات کے ڈبے نفس کے انجن کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو دن بھر ساز وسامان سے بھرنے کی کوشش میں جتا رہتا ہے اور ادھر ادھر سے کچھ نئے ڈبے نفس کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ رات بستر تک پہنچنے تک نفس اتنا بے حال ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ انسان کو دنیا و مافیا سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
کبھی نہ سونے والی چیونٹیاں اور دن بھر سونے والے جانور ایک ہی فطرت پر زندہ رہتے ہیں مگر انسان اپنے عمل سے کردار سے سوچ سے خواہش سےخوبیوں سے خامیوں سے نیکی سے بدی سے اچھائی سے برائی سے خوشی سے غم سے صبر سے جلد بازی سے پانے سے کھونے سے الگ الگ حصوں میں  زندہ رہتے ہیں۔ جو بھیڑ میں تو ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں مگر کردار و افکار میں جدا جدا۔دولت شہرت  عزت کے متلاشی نفس کے انجن کے پیچھے ان خالی ڈبوں کو جوڑ کر منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔جہاں ساز وسامان سے لدی بوگیاں ان کے پاس سے گزرتی ہیں تو وہ مزید بوگیوں کے  اضافے کےساتھ رفتار بھی بڑھا لیتے ہیں۔
اچھائی اور نیکیوں کے راستے پر چلنے والے دراصل اللہ  کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر چلنے والے ہیں اور دنیاوی خواہشات کے حصول سے شہرت دولت عزت کی سیڑھی چاہنے والے اس شیطان کے پیروکار ہیں جن میں نفس اتنا   بھوکاہوتا ہےکہ کئی نسلوں کے زاد راہ کے انتظام کے بعد بھی لاغر وکمزور  رہتا ہے۔ 
جو خود کو اللہ کی رضا کے سپرد کر دیتے ہیں ، انتظار کی کوفت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔صبر کی چادر اوڑھ کر قلب سکون کی گہری آغوش میں سستالیتے ہیں۔انسانی معاشرہ صرف اپنی قدر نہیں کھو رہا بلکہ انسانیت تن آسانی کی مقابلہ بازی میں مقصد حیات کو بھول چکی ہے۔اللہ تعالی کی صفات  واحکامات کو اپنانے کے عمل سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ سچ کڑوہ معلوم ہوتا ہے۔ جس نے اپنے نفس میں جو پال رکھا ہے وہی اس کا ہمزاد ہے، وہی اسے عزیز ہے، وہی اس کا محبوب ہے، وہی اس کا دلدار ہے، وہی اس کا آغازہے، وہی اس کا انجام ہے۔
انسانی بستیوں میں ہم اپنے اپنے آئینوں کے سامنے رہتے ہیں جہاں دوسرا بھدا  بد شکل دکھائی دیتا ہے۔جسے ہم نے اپنے اندر پال رکھا ہے اسی کے ہم ماننے والے ہیں۔اسی کے پیروکار ہیں، جس کی حمایت کرتےہیں اسی سے وفا چاہتے ہیں۔ کسی کو تنہائی نے مار دیا ، کسی کو دکھ درد نے، کسی کو خواہشیں جینے نہیں دیتیں، کسی کو جینا یاد نہیں رہا۔جس نے زمین کی محبت سے کنارہ کر لیا، عمل اس کا گواہ ، کردار اس کی ضمانت ہو گئی۔
جس نے حقیقت کو پہچان لیا اُس نے خود کو جان لیا۔ جس نے اِس نظام فطرت کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔جتنی انسان پر مشکل پڑتی ہے اُتنی ہی اللہ کی اُس پر توجہ بڑھتی ہے۔ لیکن انسان تو خسارے میں رہنے والا ہے جو صرف اُن پر توجہ مرکوز رکھتا ہے جنہوں نے دولت شہرت عزت کو سمیٹا ہو۔اُن کو نہیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت کے سائے میں رکھا ہو۔
دنیا ایسا گلستان ہے  جہاں خوشبو  بھرے رنگ برنگے پھول دیکھنے والی آنکھ سے دل میں اُتر جاتے ہیں اور کسی کے دل میں صرف کانٹے پیوست ہو جاتے ہیں۔آنکھیں کھولنا اُس وقت مشکل ہوتا ہے جب نیند کا پورا غلبہ ہو۔نیند پوری ہونے پر تو آنکھیں خود بخود کھل جاتی ہیں۔ جو شے جتنی آسانی سے دستیاب ہو اُتنی  عام  بھی ہوتی ہے اور سستی بھی۔ گاڑیوں ، سیل فون ٹی وی کی جدت اور ٹیکنالوجی کی مثال سے سمجھنا چاہیں تو بات جلد سمجھ میں آ جائےگی مگر فطرت سے بڑی مثال کوئی نہیں جو خوبصورتی دلکشی رعنائی کے ساتھ ساتھ حکمت و دانائی میں بیمثال و لاجواب ہے۔دوسروں کی تعمیر و ترقی سے اِستفادہ حاصل کرنے کی خواہش ہر انسان میں شدت سے موجود ہے مگر عمل و کردار سے عاری معاشرے رہنماؤں پر ایک نظر ضرور ڈال لیں وہی ان کے آئینے ہیں جو اُن کی اصل صورت کے عکاس ہیں۔ جو رشتوں کے تقدس و احترام کا مفہوم نہ سمجھتے ہوں وہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔
صبح سچ کے پھول  چن کربیچنے نکلیں تو رک رک کر دیکھنے والے سینکڑوں ملیں گے مگر لینے والے کوئی نہیں کیونکہ اس کے لئے اپنےعمل و کردار میں  پاک ذات کی صفات و احکامات کا عکس دکھائی دینا ضروری ہوتا ہے۔ جو اپنے خیال و راہ اس کے حکم کے تابع کر دیتے ہیں وہ ایک بھی جی لیتے ہیں اور جو نفس کی خواہشات میں دنیاوی شہرت دولت عزت کے طلبگار ہوتے ہیں وہ تسکین جاہ ہوتے ہیں۔ سکون جاں روح کی آزادی سے میسر آتی ہے جو دنیاوی خواہشات کی قید میں نہیں ہوتی۔ علم و عرفان کی یکتائی جنہیں حاصل ہو وہ سجدے میں محبوبیت سے سرشار ہوتے ہیں۔بدن کی ضرورت جب نشہ و سرور کی کیفیت کاشکار ہو جائے تو سمجھو منزل سے دور ہو گئے۔ ہمدردی کی ناؤ میں سفر طے نہیں ہوتے بلکہ یقین اور بھروسے کے چپوؤں سے آگے بڑھا جاتا ہے۔تعریف و تحسین چاہنے والے اور حق و سچ کی چاہ پانے والے دو مخالف سمتوں کے مسافر ہیں جہاں اول الذکر نفس کی قید میں اونچی پرواز کے طالب ہوتے ہیں حالانکہ یہ  زمین دنیا  سمیت تو ایک وقت پاک ذات کے حکم سے لپیٹ دی جائے گی اور انسان یہاں پچاس سو سال میں کفن میں لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔جنہیں یاد رکھنے والے  بھی نہیں رہتے۔ کامیابی اور ناکامی کا تعلق پانے اور محروم رہ جانے سے ہر گز نہیں ہے بلکہ ختم ہو جانے اور رہ جانے والے سے ہے۔ جو ختم ہو گئے ان کا ذکر بیکار ہے جو رہ گیا وہ افادیت سے جانا جاتا ہے، اپنے برے یا اچھا ہونے کی گواہی کے ساتھ۔پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر دوسرے پہاڑ کی چوٹی نظر آتی ہے۔کھائی میں اترنے والے صرف اپنی کھائی تک محدود ہوتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق        
در دستک >>

Feb 9, 2018

تتلیاں

زندگی تتلیوں کے رنگوں کی مانند خوبصورت دیکھائی دیتی ہے،  آغاز سے بے خبر، انجام سے انجان۔ کون جانتا ہے کہ رنگ پانے کے لئے وہ ایک سفر سے گزرتی ہے انڈہ سے شروع ہو کر لاروا سے گزرتا پیوپا کے رینگنے تک چند پتوں سے خوراک پا کر خود کو ایک ایسے خول میں مقید کرنے تک جہاں خود کو تحلیل کر کے پروں میں رنگ بھرنے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جہاں ایک ایک قطرہ نئے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ پھر چار چھ ہفتوں کی یہ زندگی اسے پھول سے پھول اور باغ سے باغ تک مستی میں مشغول دیکھائی دیتی ہے۔بچے بڑے بوڑھے خوبصورت رنگوں کے حسین امتزاج کے گرویدہ اور دلدادہ نظر آتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر بعض اوقات باغ و بہار میں خوبصورت رنگوں سے مزین تتلیاں دیکھ دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں تو کبھی افسردہ۔خوبصورت رنگوں سے پہلے رینگ رینگ کر شاخوں پر لگے پتوں کو کھا کر اتنے بھر لیتے ہیں کہ ایک دو ہفتوں میں اپنا وجود ختم کر کے ایک نئے روپ میں ڈھل جاتے ہیں۔ 
قدرت کے حسین نظارے اپنے اندر بے شمار خزانے رکھتے ہیں ، انہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتے ہیں تو روح پر سکون و پر بہار ہو جاتی ہے۔سونے ہیرے بنے جواہرات اپنے گلے میں واہ کا ترانہ الاپتے ہیں اور دوسروں کے گلے کا ہار بنیں تو آہ کی دلسوزی میں چیختے ہیں۔یہ ہاتھوں سے بنائے بت نہیں ہوتے جن کے سامنے بنانے والے بھی جھک جاتے ہیں۔ پہاڑوں چٹانوں کے زیر بار ایک وقت کے  بعدتحلیل ہو کر نئے وجود میں ڈھلتے ہیں۔ 
کوئی بادلوں سے برستا پانی قدرت کا شاہکار دیکھتا ہے اور کوئی بخارات سے بنتا بادل ایک طویل سفر کی داستان کو کرامت و کرشمہ سمجھتا ہے، جو طاقت کے سرچشمے سے اٹھتا ہے پھر بن کر بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے۔
زمین کی زرخیزی درختوں پودوں سے کھلتے مہکتے خوشبووں سے لبریز قدرت کے حسین مناظر کی تعریف و تحسین کا حق رکھتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کا عمل نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور حالت متغیر سے بے خبر۔آسمان پر اونچی اڑان بھرتی پتنگیں نظروں کو بھلی لگتی ہیں مگر لیکن  دھاگے کا پتنگ کے ساتھ بندھا ایک سرا اور اپنے ہاتھ زمین پر دوسرا سرا کبھی غور کی معرفت حاصل نہیں کر پاتا۔ جیسے زندگی میں صرف کامیابی کی منزل پر پہنچے انسان کی آسائش و آرام کی زندگی ہی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی لطف و کرم کی کہانی زبان زد عام رہ جاتی ہے۔ سفر کی صعوبتیں ، حالات کی کشمکش، ہمت و صبر سے نئے رنگ بھرنے سے پہلے پرانے وجود کو تحلیل کر کے خول سے باہر نکلنے کی زور آزمائی کو سمجھنے کی قوت عطائی سے محرومی اپنے پر نوچنے کی حالت تک پہنچا دیتی ہے۔
آنکھ بچپن سے اپنے ارد گرد پھیلے خوبصورت رنگوں اور حالات کی ستم ظریفی کے شکار اجڑتے باغات کو دیکھتے پروان چڑھتے ہیں۔ 
ان الفاظ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں، پھر کہنا کہ یہ کہنا بھی کوئی مشکل کام نہیں مگر جنم دینے والی سے اُس احساس کو کوئی دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا۔ جسے مامتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ رشتہ چیونٹی کا ہو چڑیا کا یا کسی انسان کا۔ 
اللہ تبار ک تعالی کی تخلیق سے محبت، کل کائنات میں بھری ماں کی محبت سے ستر گناہ سے بھی زیادہ ہے۔اتنا سوچ کر ہی وجود مٹی ہو جاتا ہے اور خالق کی محبت تخلیق کے راستے ان سیلز تک چلی جاتی ہے جو  ڈی این اے سے مامتا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔خالق کائنات کی تسبیح و ذکر سے غور و فکر کے وہ دروازے کھل جاتے ہیں جہاں حسن و جمال کی کہکشائیں قوس وقزح کے بظاہر دکھنے والے رنگ اور ان دیکھے جلوے ظاہر کو فراموش کر دیتے ہیں اور حقیقت کو موجزن۔ 
محبت اظہار کی مرہون منت نہیں ہوتی ، یہ صرف ایک وجود سے دوسرے رنگ میں ڈھلتی ہے۔جب رنگ پانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف "میں" رہ جاتی ہے اور جب اپنا وجود دوسرے رنگ میں ڈھل جاتا ہے تو "تو"  رہ جاتا ہے۔ 
جب زندگی کا ہر رنگ ہر روپ صرف ایک رخ پہ بار بار مڑتا چلا جائے تو وہ ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے جہاں مسافر کوئی معنی نہیں رکھتے بس ایک سفر رہ جاتا ہے۔اپنی منزل کا نشان تو بنایا جا سکتا ہے ، جو اس منزل کا مسافر نہ ہو اس کے لئے سفر تکلیف و اضطراب کا سبب بن جائے گا۔سب اپنی اپنی راہ کے مسافر ہیں ، ہمسفر صرف پڑاو تک ہیں۔کھائی اور اونچائی میں ایک سفر آسان اور ایک مشکل ہوتا ہے۔ایک وقت کے بعد ساتھ دینے کا عمل رک جاتا ہے۔ بعض کے قریب یہ آگے بڑھنے کا سفر ہے مگر یہ خول ٹوٹنے کا عمل ہے۔ جہاں وجود تحلیل ہوتے ہیں ایک نئے روپ میں ڈھلنے کے لئے۔ جب پروں میں رنگ منعکس ہوتے ہیں، شعائیں اور روشنیاں گزرتی رنگوں میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔
رینگتا وجود کب اچانک تحلیل ہو جائے معلوم نہیں ،رنگوں کی دنیا  اچانک کب پر پھیلادے معلوم نہیں۔ 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Jan 24, 2018

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں


کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا ،کچھ کہنا نہیں چاہتا،خدا کرے آج سوچ کو زبان نہ ملے۔ہم کہتے کہتے سنتے سنتے کہاں آ پہنچے ہیں۔معصومیت کو بھنبھوڑنے کے خیال نے بدن میں کپکپی طاری کر دی ہے۔ظلم برپا ہونے پر خون قہر بن کھول رہا ہے جو نفرت کے جزبات پر آتش فشاں کی طرح پھٹا ہے۔زندگی تسلی تشفی کی راہ گزر سے گزرتے گزرتے تلخی کو عبور کرتی  سلفی پر آن کھڑی ہوئی ہے۔جس کے آگے "میں"  انا کے مضبوط حصار میں قلعہ بند ہے۔جہاں پاس سے گزرنے والے دیکھنے سے عاری ہو چکے ہیں۔آس پاس رہتی  تتلیوں کے پروں سے رنگ نوچنے والوں سے لاعلم بھی ہیں اور لاپرواہ بھی۔آگے بڑھ بڑھ کر تماشا دیکھنے کی عادت  اور پیچھے سسکیوں اور چیخوں کے ویرانے کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں کس سے مسیحائی چاہیں۔
باپ جگر گوشے پر ڈھائے گئے ظلم پہ دکھ درد تکلیف  سےسہما بیٹھا  طاقتور وں کی فتح پر تالیوں کی گونج اور مسکراہٹوں کے نشتر سہتا ایک بت کی تصویر بنا نظر آتا ہے۔ایسے موقع پرمخالفین کو طاقت کے نشہ میں نصیحت کرنا نہیں بھولے۔ مظلوم ظلم سہنے اور اسے برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ فتح کے بگل سننے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔کیچڑ میں لت پت انسانیت دودھ کے دھلوں سےانصاف کی متمنی ہے مگر شائد اعمال کی سزا ابھی باقی ہے۔
ایک سجدہ  جوہزار سجدوں سے  انسان کو نجات دیتا ہےوہ اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ مانگنا بھی مشکل ہو گیا ،یقین کہیں کھو گیا ہے۔جو اپنی بے آواز لاٹھی سے ایسا انصاف کرتا ہے کہ نہ تو چھپنے کے لئے جگہ ملتی ہے اور نہ ہی بخشش کی مٹی نصیب ہوتی ہے۔سورج تو روشنی دیتا ہے اگلے سال بھی دے گا،جن کے لئے زمین تنگ ہو جائے انہیں ماہ و سال کی گنتی بھول جاتی ہے۔جھوٹے دعوے دلاسے عقل میں پروئے جاتے ہیں مگر توکل کے پہاڑ کے نیچے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔لاکھوں پرندے اپنی اجتماعی پرواز میں بے ترتیب نہیں ہوتے ،الجھتے ٹکراتے نہیں۔چیونٹیاں اپنے بل میں گھسنے والے سانپ مار دیتی ہیں۔جن باغات کے پنچھی کھلے میدانوں میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں تو وہاں اُلو  درختوں پر بسیرا کر لیتے ہیں۔جو معاشرہ ہاتھ چھڑانے اور نظریں چرانے کی راہ پر گامزن ہو جائے وہاں راہبر راہزن بن جاتے ہیں۔
کسی غریب کی مدد پر سینہ تان لینا انسانیت تو نہیں کہلائے گا۔ کسی نادار کی  دستگیری پر قہقہہ تو نہیں لگایا جائے گا۔بیوہ اور اس کے یتیم بچوں پر دست شفقت رکھ کر فتح کا نشان تو نہیں بنایا جائے گا۔سلائی مشین اور آٹے کے تھیلے غریب کو دیتے تصویریں بنواتے درد مند غمگسار مسکراہٹ سے فتح کا اعلان کرتے ہیں۔غربت کو سر عام رسواکیا جاتا ہے۔جو معاشرہ مادری و علاقائی زبان بولنے پر کمتری کا شکار ہو جائے، موٹر جوتے سے متاثر ہو جائے،ان کے لئے حاکم آسمانوں سے نہیں اتریں گے۔ کرامات کی توقع رکھنے والے شعبدہ بازی سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ 
الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں مگر قلم نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ کیونکہ سفید کاغذ نے کسی کالے لفظ کو قبول نہیں کرنا۔ وہ سنورناچاہتا  ہےداغ لگوانا نہیں۔ نجومی اس سال الیکشن کی کامیابی کی مراد بر آنے اور ناکامی کی خفت مٹانے والے لوگوں کو تنبیہ و تاکید کے وعظ کرتے نظر آ رہے ہیں۔مگر اصل میچ 2020 ہو گا ۔  بہت سوں کے لئے صرف سنہ ہو گا مگر ملک کی تاریخ کا پہلا اور آخری 2020ہو گا۔ جو ہار جیت پر منتج نہیں ہو گا حق کی فتح اور جھوٹ کی شکست پر فیصلہ صادر کرے گا کیونکہ سچ ہمیشہ رہنے کا حکم رکھتا ہے اور جھوٹ شکست و ریخت کی کچی دیواروں پر بنا محل۔

تحریر : محمودالحق           
در دستک >>

Jan 14, 2018

تسلسل زیاں


زندگی وہ پتنگ ہے جو ہوا تیز ہونے پر بلندیاں چھونے لگتی ہے ، کم ہوا میں جب زمین پر گرنے لگتی ہے تو اسے سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے تا وقتکہ اتنی ہوا موجود ہو کہ وہ اپنا آپ سنبھال پائے۔ بے صبری کا مظاہرہ کریں تو زمین اور دیواروں سے ٹکرا کر پھٹ جانے کی نوبت آ پہنچتی ہے۔ بعض اوقات زندگی میں اپنے ہی کھیلے گئے کھیل بہت بڑا سبق چھوڑ جاتے ہیں۔زندگی بسنت کا ایک ایسا تہوار ہے جہاں پورے شہر کی پتنگیں ایک ساتھ اڑان نہیں بھرتیں۔ بلکہ اپنی چھت پہ صرف اپنے لئے ہی ہوا کا زور چلتا ہے۔گڑیا کی شادی ، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے اور بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتی بہانے سے ایک ایک منزل بڑھتے خوشیوں اور خواہشوں کی سیڑھی پر اوپر اٹھتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنا بہت نیچے دیکھنے جیسا ہو جاتا ہے۔ چوٹی بہت قریب دکھائی دیتی ہےمگر سفر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کمزور جانوروں پر طاقتوروں کے حملے زوروشوق سے دیکھے جاتے ہیں مگر کبھی طاقتور کو کمزور ہو جانے پر کسمپرسی کی موت مرتے نہیں دیکھتے۔حسن اتنی دیر تک یاد رکھا جاتا ہے جتنی دیر تک اسے سنبھالا جاتا ہے۔ پھر وہ بھلا دیا جاتا ہے کیونکہ نئے اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
بہت غور و خوض کے بعد یہ جانا کہ ہم نے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا بلکہ ماضی نے ہمیں آگے دھکیل دیا ہے۔سالگرہ  منائی جاتی ہے آگے بڑھنے کی خوشی میں مگر یہ کیا آنے والا سال تو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ شائد یہی وجہ ہےکہ زندگی کھینچا تانی میں گزر جاتی ہے۔ محنت انسان کو آگے دھکیلتی ہے اور منزل اسے کھینچتی ہے۔ اول و آخر کے درمیان اس کھینچاتانی کا نام زندگی ہے۔  کامیابی و ناکامی کے باٹ سے زندگی کے پلڑے اونچے نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ فطرت سے زیادہ خوبصورت مثالیں موجود نہیں، لیکن انہیں سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے کہ ایسے تغیر و تبدل کی انسانی تاریخ میں یکساں نظام فطرت میں نعم البدل وہ مقام پانے میں ناکام رہتا ہے۔ 
ماضی انسان کے لئے بدن میں کمر کے اس حصے جیسا  ہے جہاں کھجلی کرنا بھی اس کے اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ مستقبل آنکھ کے اس نور کی مانند ہے جو کچھ دیر اندھیرے میں رہنے پر دیکھنے کی قوت پا لیتا ہے۔
ماضی میں کئے گئے عقل و دانش بھرے فیصلے، حال میں درپیش حالات کے مدوجزر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جو آہ رہ جاتے ہیں تو کبھی واہ بن جاتے ہیں۔ جو کانٹے تکلیف نہ دیں وہ پھولوں کے ساتھ گلدستہ کی سجاوٹ میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔انا اور تکبر وہ کانٹے ہیں جو زندگی کے حسن کو گرہن لگا دیتے ہیں۔ 
ہم تعلق مرضی کے چاہتے ہیں اور رشتے تابعداری کے۔کامیابی میں دکھاوا چاہتے ہیں اور ناکامی میں پردہ پوشی۔ طوطے وہ پسند کرتے ییں جو ہماری زبان بول سکیں، جانور وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری زبان  سمجھ سکیں اور انسان وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں۔ شاعری کو داد نہ ملے تو دیوان بھی ویران ہے۔ کہانی، ڈرامہ اور افسانہ چھپ کر گھر گھر نہ پہنچے تو بے مول ہے۔ پڑھنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں پڑھانے والے کم اور سمجھانے والےاتنے ہی ہوتے ہیں جتنے سمجھنے والے۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک