Oct 7, 2018

کائنات کے سر بستہ راز

اشرف المخلوقات کے مقام برتری نے انسان کو ہمیشہ آسمانوں پر پھیلے جگمگاتے روشن ستاروں کی حقیقت جاننے کی جستجو میں اُلجھائے رکھا۔ ہزار ہا سال سے یورپ و ایشیا کے علم ریاضیات  اور علم نجوم  کے اساتذہ اور ماہرین کھوج لگانے کی کوشش میں رہے لیکن تاحال زیادہ تر مفروضے ہیں جو خیال ہیں یا شکوک شبہات۔ سولہویں صدی میں Agrippa اور Durer ایسے انسان گزرے ہیں جن کے دیئے گئے فارمولے math magic square کہلاتے ہیں۔جنہوں نے اپنے فارمولہ کے علم اعداد کو مختلف سیاروں ستاروں سے منسوب کیا ۔ مختلف انداز میں آج بھی وہ موضوع بحث ہیں۔
Math magic square کے method کو ریاضی دانوں نے مختلف طریقوں کو استعمال کرتے ہوئےانہیں  بنانے کا راز پا لیا ہے۔ایم۔ اے تاریخ ہونے کے ناطے مجھے پرانے لوگوں کی زندگی جاننے کی ایک عادت پڑ چکی ہے۔سائنسی معلومات بس واجبی سی ہیں۔اکثر سر کے اوپر سے جنگی جہاز کی رفتار سے گزر جاتی ہیں۔میٹرک سائنس فسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کا بس اتنا فائدہ ہے کہ نیٹ پر عام فہم سائنسی معلومات سے آگاہی پا لیتا ہوں۔ رٹے  کی عادت جب سے چھوٹی جاننے کی جستجو زیادہ بڑھ چکی ہے۔
فطرت کے حسن میں کھو جاتا ہوں۔رنگوں کا خوبصورت امتزاج پرندوں کے پروں اور پھلوں کے رنگوں میں دیکھیں تو بے ساختہ مونہہ سے سبحان اللہ نکلتا ہے۔جاندار اور بے جان میں تشکیل کی ایسی ترتیب ہے کہ ترکیب سمجھنے میں دنیا بھر کی لیبارٹریاں اور لائبریریاں بہت معمولی دکھائی دیتی ہیں۔
ایک یو ٹیوب ویڈیومیں کسی سیمینار سے ریاضی کا ایک پروفیسر Agrippa  اور Durer کے ریاضی کی ان کی تراکیب کے فارمولے پر تقابلی جائزہ پیش کر رہا تھا، حیران کن طور پر  square  میں موجود اعداد کی ترکیب horizontally, vertically, diagonally ایک جیسے ٹوٹل میں تھی۔


کاغذ پنسل لے کر میں بھی اعداد کو ٹٹولنے لگا کہ کیسے ایک فارمولہ اعداد کی تشکیل ایسے کر دیتا ہے کہ ان کا حاصل چاروں اطراف سے ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ میری محنت لے آئی اور  ان دونوں کے Magic Square کے فارمولے سمجھنے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگا پروفیسر کے کلیہ کے مطابق بآسانی حل مل گیا۔

جس طرح میرے ذہن سےالفاظ باہر نکلنے کے لئے مچلتے ہیں عین اسی لمحے اسی طرح ایک فارمولہ میرے ذہن میں کھلبلی مچانے لگا۔ بے اعتناعی سے 3x3 کے square پر اسے آزمانے کا ارادہ کیا مگر یہ کیا میرا فارمولہ تو ان بڑے ریاضی دانوں کی طرح فٹ بیٹھ گیا۔ ہندسوں نے اپنا جادو دکھا دیا۔ 
اسے اتفاق سمجھتے ہوئے ایک کے بعد اگلے بڑے اعداد پر آزمانے لگا ۔ اللہ تبارک تعالی کی عطا کردہ عنایت پر دم بخود رہ گیا۔ کیونکہ میرے جیسے آرٹس پڑھنے والے کے لئے ایسا فارمولہ تشکیل پانا کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔ 

یہ فارمولہ طاق ہندسوں کے Squares میں unlimited ہے۔ نظام کائنات  شائد کسی ایسے ہی فارمولے کی بنیاد پر Big 
Bang کی تشکیل کا سبب ہو۔ واللہ علم بالصواب


میری حیرانگی اپنی انتہا تک جا پہنچی جب میرا فارمولہ 21x21 کے square 441 اعداد کے ساتھ اپنے چاروں اطراف میں 408408 اعداد کی ٹوٹل حاصل کر گیا۔ مجھے اس کے اندر  441 کے اعداد انتہائی کمزور بے بس دکھائی دئیے۔

میرا فارمولہ Agrippa  اور Durer سے قطعی مختلف ہے البتہ Durer کے Square کی طرح ایک کا ہندسہ Top Center  میں رہتا ہے۔ 
علم فلکیات اور علم نجوم کی حقیقت نظروں کے سامنے تھی۔میرے ذہن میں ایک فارمولہ آیا لاکھوں اعداد خود بخود ایک ایسی ترتیب میں چلے گئے کہ  چاروں اطراف سے ایک برابر طاقت نے اسے جکڑ لیا۔ایک فارمولہ میں اتنی طاقت ہے کہ کروڑوں اعداد ایسے تشکیل پا جائیں کہ اعداد کی ان سے کئی گنا بڑی طاقت ان کے اطراف میں ایسی گرفت پیدا کر لے کہ وہ اپنہ جگہ سے ہل نہ سکیں۔
کائنات میں اربوں  کھربوں سیارے ستارے اور گلیکسیز اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہی ہیں۔ ایک مخفی طاقت کے زیر اثر اپنی حدود کے اندر کہیں سیارے بہت بڑے تو کہیں بہت چھوٹے ان Squares کی مانند کائنات سے باہر چاروں اطراف سے کئی گنا بڑی ایک مجموعی طاقت کے کنٹرول میں رہتے ہوئے۔
اس وقت مجھےقرآن کی آیات یاد آ گئیں۔ 
 سورۃ الرحمن کی آیت ۳۳ میں اللہ تبارک تعالی جن و انسان سےفرماتاہے۔
ترجمہ:اے گروہ جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین میں کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے ۔
ترجمہ: اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو ( اور تسخیرِ کائنات کرو ) تو تم نکل جاؤ ، تم جس ( کرّۂ سماوی کے ) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی۔
سورۃ النحل کی آیت ۴۰ میں اللہ تبارک تعالی کا فرمان ہے۔
ترجمہ: ہم جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہو جا ، پس وہ ہو جاتی ہے ۔

تحریر: محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک