Jan 24, 2018

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں


کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا ،کچھ کہنا نہیں چاہتا،خدا کرے آج سوچ کو زبان نہ ملے۔ہم کہتے کہتے سنتے سنتے کہاں آ پہنچے ہیں۔معصومیت کو بھنبھوڑنے کے خیال نے بدن میں کپکپی طاری کر دی ہے۔ظلم برپا ہونے پر خون قہر بن کھول رہا ہے جو نفرت کے جزبات پر آتش فشاں کی طرح پھٹا ہے۔زندگی تسلی تشفی کی راہ گزر سے گزرتے گزرتے تلخی کو عبور کرتی  سلفی پر آن کھڑی ہوئی ہے۔جس کے آگے "میں"  انا کے مضبوط حصار میں قلعہ بند ہے۔جہاں پاس سے گزرنے والے دیکھنے سے عاری ہو چکے ہیں۔آس پاس رہتی  تتلیوں کے پروں سے رنگ نوچنے والوں سے لاعلم بھی ہیں اور لاپرواہ بھی۔آگے بڑھ بڑھ کر تماشا دیکھنے کی عادت  اور پیچھے سسکیوں اور چیخوں کے ویرانے کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں کس سے مسیحائی چاہیں۔
باپ جگر گوشے پر ڈھائے گئے ظلم پہ دکھ درد تکلیف  سےسہما بیٹھا  طاقتور وں کی فتح پر تالیوں کی گونج اور مسکراہٹوں کے نشتر سہتا ایک بت کی تصویر بنا نظر آتا ہے۔ایسے موقع پرمخالفین کو طاقت کے نشہ میں نصیحت کرنا نہیں بھولے۔ مظلوم ظلم سہنے اور اسے برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ فتح کے بگل سننے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔کیچڑ میں لت پت انسانیت دودھ کے دھلوں سےانصاف کی متمنی ہے مگر شائد اعمال کی سزا ابھی باقی ہے۔
ایک سجدہ  جوہزار سجدوں سے  انسان کو نجات دیتا ہےوہ اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ مانگنا بھی مشکل ہو گیا ،یقین کہیں کھو گیا ہے۔جو اپنی بے آواز لاٹھی سے ایسا انصاف کرتا ہے کہ نہ تو چھپنے کے لئے جگہ ملتی ہے اور نہ ہی بخشش کی مٹی نصیب ہوتی ہے۔سورج تو روشنی دیتا ہے اگلے سال بھی دے گا،جن کے لئے زمین تنگ ہو جائے انہیں ماہ و سال کی گنتی بھول جاتی ہے۔جھوٹے دعوے دلاسے عقل میں پروئے جاتے ہیں مگر توکل کے پہاڑ کے نیچے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔لاکھوں پرندے اپنی اجتماعی پرواز میں بے ترتیب نہیں ہوتے ،الجھتے ٹکراتے نہیں۔چیونٹیاں اپنے بل میں گھسنے والے سانپ مار دیتی ہیں۔جن باغات کے پنچھی کھلے میدانوں میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں تو وہاں اُلو  درختوں پر بسیرا کر لیتے ہیں۔جو معاشرہ ہاتھ چھڑانے اور نظریں چرانے کی راہ پر گامزن ہو جائے وہاں راہبر راہزن بن جاتے ہیں۔
کسی غریب کی مدد پر سینہ تان لینا انسانیت تو نہیں کہلائے گا۔ کسی نادار کی  دستگیری پر قہقہہ تو نہیں لگایا جائے گا۔بیوہ اور اس کے یتیم بچوں پر دست شفقت رکھ کر فتح کا نشان تو نہیں بنایا جائے گا۔سلائی مشین اور آٹے کے تھیلے غریب کو دیتے تصویریں بنواتے درد مند غمگسار مسکراہٹ سے فتح کا اعلان کرتے ہیں۔غربت کو سر عام رسواکیا جاتا ہے۔جو معاشرہ مادری و علاقائی زبان بولنے پر کمتری کا شکار ہو جائے، موٹر جوتے سے متاثر ہو جائے،ان کے لئے حاکم آسمانوں سے نہیں اتریں گے۔ کرامات کی توقع رکھنے والے شعبدہ بازی سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ 
الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں مگر قلم نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ کیونکہ سفید کاغذ نے کسی کالے لفظ کو قبول نہیں کرنا۔ وہ سنورناچاہتا  ہےداغ لگوانا نہیں۔ نجومی اس سال الیکشن کی کامیابی کی مراد بر آنے اور ناکامی کی خفت مٹانے والے لوگوں کو تنبیہ و تاکید کے وعظ کرتے نظر آ رہے ہیں۔مگر اصل میچ 2020 ہو گا ۔  بہت سوں کے لئے صرف سنہ ہو گا مگر ملک کی تاریخ کا پہلا اور آخری 2020ہو گا۔ جو ہار جیت پر منتج نہیں ہو گا حق کی فتح اور جھوٹ کی شکست پر فیصلہ صادر کرے گا کیونکہ سچ ہمیشہ رہنے کا حکم رکھتا ہے اور جھوٹ شکست و ریخت کی کچی دیواروں پر بنا محل۔

تحریر : محمودالحق           
در دستک >>

Jan 14, 2018

تسلسل زیاں


زندگی وہ پتنگ ہے جو ہوا تیز ہونے پر بلندیاں چھونے لگتی ہے ، کم ہوا میں جب زمین پر گرنے لگتی ہے تو اسے سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے تا وقتکہ اتنی ہوا موجود ہو کہ وہ اپنا آپ سنبھال پائے۔ بے صبری کا مظاہرہ کریں تو زمین اور دیواروں سے ٹکرا کر پھٹ جانے کی نوبت آ پہنچتی ہے۔ بعض اوقات زندگی میں اپنے ہی کھیلے گئے کھیل بہت بڑا سبق چھوڑ جاتے ہیں۔زندگی بسنت کا ایک ایسا تہوار ہے جہاں پورے شہر کی پتنگیں ایک ساتھ اڑان نہیں بھرتیں۔ بلکہ اپنی چھت پہ صرف اپنے لئے ہی ہوا کا زور چلتا ہے۔گڑیا کی شادی ، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے اور بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتی بہانے سے ایک ایک منزل بڑھتے خوشیوں اور خواہشوں کی سیڑھی پر اوپر اٹھتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنا بہت نیچے دیکھنے جیسا ہو جاتا ہے۔ چوٹی بہت قریب دکھائی دیتی ہےمگر سفر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کمزور جانوروں پر طاقتوروں کے حملے زوروشوق سے دیکھے جاتے ہیں مگر کبھی طاقتور کو کمزور ہو جانے پر کسمپرسی کی موت مرتے نہیں دیکھتے۔حسن اتنی دیر تک یاد رکھا جاتا ہے جتنی دیر تک اسے سنبھالا جاتا ہے۔ پھر وہ بھلا دیا جاتا ہے کیونکہ نئے اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
بہت غور و خوض کے بعد یہ جانا کہ ہم نے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا بلکہ ماضی نے ہمیں آگے دھکیل دیا ہے۔سالگرہ  منائی جاتی ہے آگے بڑھنے کی خوشی میں مگر یہ کیا آنے والا سال تو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ شائد یہی وجہ ہےکہ زندگی کھینچا تانی میں گزر جاتی ہے۔ محنت انسان کو آگے دھکیلتی ہے اور منزل اسے کھینچتی ہے۔ اول و آخر کے درمیان اس کھینچاتانی کا نام زندگی ہے۔  کامیابی و ناکامی کے باٹ سے زندگی کے پلڑے اونچے نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ فطرت سے زیادہ خوبصورت مثالیں موجود نہیں، لیکن انہیں سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے کہ ایسے تغیر و تبدل کی انسانی تاریخ میں یکساں نظام فطرت میں نعم البدل وہ مقام پانے میں ناکام رہتا ہے۔ 
ماضی انسان کے لئے بدن میں کمر کے اس حصے جیسا  ہے جہاں کھجلی کرنا بھی اس کے اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ مستقبل آنکھ کے اس نور کی مانند ہے جو کچھ دیر اندھیرے میں رہنے پر دیکھنے کی قوت پا لیتا ہے۔
ماضی میں کئے گئے عقل و دانش بھرے فیصلے، حال میں درپیش حالات کے مدوجزر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جو آہ رہ جاتے ہیں تو کبھی واہ بن جاتے ہیں۔ جو کانٹے تکلیف نہ دیں وہ پھولوں کے ساتھ گلدستہ کی سجاوٹ میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔انا اور تکبر وہ کانٹے ہیں جو زندگی کے حسن کو گرہن لگا دیتے ہیں۔ 
ہم تعلق مرضی کے چاہتے ہیں اور رشتے تابعداری کے۔کامیابی میں دکھاوا چاہتے ہیں اور ناکامی میں پردہ پوشی۔ طوطے وہ پسند کرتے ییں جو ہماری زبان بول سکیں، جانور وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری زبان  سمجھ سکیں اور انسان وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں۔ شاعری کو داد نہ ملے تو دیوان بھی ویران ہے۔ کہانی، ڈرامہ اور افسانہ چھپ کر گھر گھر نہ پہنچے تو بے مول ہے۔ پڑھنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں پڑھانے والے کم اور سمجھانے والےاتنے ہی ہوتے ہیں جتنے سمجھنے والے۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک