Sep 19, 2018

قوتِ خلوت و جلوت

انسان جلوت میں اپنی ظاہری خوبیوں اور خامیوں کے کمالات سے  بیک وقت پر کشش Attractive اور موجب تکرار Repulsive ہوتا ہے  جب کہ خلوت میں پوشیدہ طور پر پر کشش  Attractiveہی رہتا ہے۔
جلوت ۔۔۔۔انسان کا وہ پہلو ہے   جودوسروں کے ساتھ روابط ،تعلقات ، رشتے،خواہش،جذبات،دوستی اور محبت  سے اسے  مطمئن اورآسودہ خاطر رکھتا ہےیا  بےچین اور پر ملال۔ 
خلوت ۔۔۔انسان کے اندر کی وہ دنیا ہے جہاں وہ بالکل تنہا ہوتا ہےاور اس کی روح   کا وہ سفر جو اسے در کائنات تک رسائی  پانےکے لئے صبر، شکر، بندگی کی پر کشش قوت کا حامل بناتاہے۔ 
بات تھوڑی پیچیدہ ہے جسے سائنس کی مدد سے  ایک مثال سےبآسانی سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
 جلوت۔۔۔ Electromagnetic force کی طرح کام کرتی ہے  جو Attractive   اور  Repulsiveہو سکتی ہے Object کے درمیان۔
محبت کرنے والے اور نفرت رکھنے والے،دوست بنانے والے اور دشمنی نبھانے والے،عزت دینے والے اور بدنام کرنے والے،حلال کمائی سے گزر بسر کرنے والے اور حرام کا مال اکٹھا کرنے والے، سچ پر قائم رہنے والے اور جھوٹ  بولنے والے، الغرض اگر وہ کسی کی آنکھ کا تارا ہیں تو دوسری طرف کسی کے حسد و تنگ نظری کے شکار۔عام فہم میں  ایسےدنیاوی معاملات  جو خواہش اور آرزؤں کے قلم سے ضرورت کی تختی پر لکھے جاتے ہیں۔جہاں کبھی خود کو مطمئن رکھا جاتا ہے تو کبھی دوسروں کو مرعوب کیا جاتا ہے۔ دنیا مکمل بھی ہو سکتی ہے اور جذبے آسودہ خاطربھی۔
خلوت۔۔۔ Gravitational force کی طرح  کام کرتی ہے جو ہمیشہ Attractive ہوتی ہے۔جب انسان روح کے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی قوت اسے سچے راستے پر چلاتے ہوئے اپنی طرف راغب کر لیتی ہے اور اس پر توجہ مرکوز کر لیتی ہے پھر وہ اس کا کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے،اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے اور دشمن یا شیطان سے پناہ مانگنے پر اسے محفوظ رکھتا ہے۔
انسان سے انسان کا رشتہ یا تعلق جلوت کے دائرے میں تو ہو سکتا ہے لیکن خلوت، رشتے اور تعلق کے لئےایسا بلیک ہول ہے جس میں کچھ نہیں بچتا۔جو اپنی اندر کی دنیا میں تنہا ہوتے ہیں وہ مکمل بھی ہوتے ہیں سرشار بھی دلدار بھی۔
بظاہر Magnetic سے Gravity بہت کمزور ہوتی ہے Atomic Level پر۔لیکن Planetary scale پر بہت مضبوط ہوتی ہے کیونکہ سیارے بہت بڑے ہوتے ہیں۔بڑے دائروں میں گردش مدار رکھتے ہیں۔وسعت کائنات میں ارض جہان  Atomic Level کا وجودِ خاک کا حامل ایک ادنی سیارہ ہے۔
جلوت کےقرب سے خاکی دلفریب و دلنشین ،مجسم شاہکار، معتبر و مہکار   کی دستار سے بلند مرتبی کی راکھ کا پہاڑ بناتے ہیں۔
خلوت  فقط ایک قلب کی دستک ہے جودر کائنات پر  دی جاتی ہے ۔

تحریر : محمودالحق

در دستک >>

Sep 14, 2018

بھریا میلہ تنہا اکیلا

 زندگی کے بھرے میلے میں تنہائی کے مارے اکیلے،کھلے سمندر میں ٹائٹینک جہاز کے ڈوبنے کے یقین کے بعد بھی بےبسی سے لہروں کے تھپیڑوں سے ٹکرانے کی ہمت نہ رکھنے جیسے ہوتے ہیں۔چیخنا چلانا انہیں جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے سےبہتر نظر آتا ہے کیونکہ مسدود ہوتے راستے بچ جانے کی اُمید کرن بن کر خوفزدہ آنکھوں میں روشنی کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ مستقبل کی پیش بندیاں فنا ہو جاتی ہیں اور ماضی برا بھی بھلا نظر آنے لگتا ہے۔تب انسان حال سے مستقبل کی بجائے ماضی میں داخل ہو جاتا ہے۔
خوف انسانی نفسیات کا وہ آسیب ہے جو آگے بڑھنے پر جکڑ لیتا ہے اور ماضی میں دھکیل دیتا ہے۔خوف رات کے  گھپ اندھیرے اور بینائی سے محروم  ہونے جیسا ہے ،جس میں کانوں میں سرگوشیاں منظر کشی کرتی ہیں۔
ایک اعضائے اجسام  ہیں جوچند روز کی فاقہ مستی پر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور رسد طلب کی کمی بیشی سے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔تاوقتکہ توازن برقرار رکھنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا لی جائے۔
انسانی رویے میں جو کام نہایت غیر اہم جانا جاتا ہے  وہ سوچ پر بے وجہ بوجھ اور دباؤ ہے۔جس کا آغاز پانچ سال کی عمر سے گھر اور سکول  میں نافذ مارشل لاءسے بیک وقت ہوتا ہے۔گلی محلے کی جمہوری روایات کے قریب سے گزرنے کی بھی مغلائی طاقتیں اجازت نہیں دیتیں۔نمبرز،گریڈ اور کریڈٹ کی تال میل سے  ایساتگنی کا ناچ نچایا جاتا ہےکہ آگے بڑھنے کی رفتار کم پیچھے رہنے کا خوف زیادہ رہتا ہے۔ معاشرے میں مقابلے کی فضا اس طرح قائم ہوتی ہے کہ مزاج اور رویے غیر اہم ہوتے چلے جاتے ہیں۔شکست کا خوف ٹکٹکی پر بندھنے جیسا ہو جاتا ہے اور کامیابی تکبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔طاقت سے مزاج اور  معاشرتی رویے منکسرالمزاجی میں ڈھل جاتے ہیں ناکامی پر وہ کوڑے برسانے والے جلاد بن جاتے ہیں۔ 
جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے بچپن ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جوآن آف  ریموٹ رویوں کے ہاتھوں یرغمالی بن جاتا ہے۔جہاں اس  نے آزادی سے سوچ کے در کھولنے کی کوشش کی زنگ آلود قفل ہٹ دھرمی سے چابی کا منہ چڑانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ 
وقت اور رقم کی قیمت کے بدلے میں ڈگری اور سرٹیفیکیٹ تو ہاتھ لگ جاتے ہیں مگر دستور حیات کا مفہوم سمجھنے کے لئے حوصلہ افزائی کے سیمینار اٹینڈ کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ دباؤ کا نتیجہ بچپن میں ہکلاہٹ اور جوانی میں گھبراہٹ کی صورت میں نکلنا کوئی بڑی بات نہیں۔نیند کی گولیاں اور منشیات کا استعمال نوجوان نسل کو اندھیری گلی میں دھکیل رہا ہے۔جہاں داخل ہونے کے لئےصرف ایک بہکا لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور چھٹکارا پانے کے لئے ہفتوں علاج درکار ہوتا ہے۔منفی رویوں سے بگڑی صورتحال کا تدارک دوا سے زیادہ دعا اور مثبت رویےسے ہی ممکن ہے۔

تحریر: محمودالحق  
در دستک >>

Apr 13, 2018

دو لفظوں میں یہ بیاں نہ ہو


تپتی تڑپتی سلگتی ریت پر گرجتے برستے بادل بوند بوند پانی سےزرے زرے کی تشنگی مٹانے سے قاصر رہتے ہیں۔
دنیا  ایسا نمکین سمندر ہے جو محبت کے پیاسے کی چندگھونٹ سے تشنگی نہیں مٹا سکتا۔آنکھ میں نظر آنےوالی تڑپ جزب کی کیفیت کا ایسا خالی پن ہے جو خلاء کی ایسی وسعت رکھتا ہے جہاں اندر داخل ہوتے جاو تو وسعتیں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ محبت کی دنیا وہ مقام ہے جو نظر سے قرب سے حسن سے دل تک رسائی پا کر آئینہ میں خود میں اچھا لگنے ، زیر لب مسکرانے اور کن آکھیوں سے شرمانے تک ہے۔ مگر عشق کی دنیا کی تشنگی ذات آدم سے مٹ نہیں سکتی۔فطرت اپنا حسن رگ رگ میں سمو دے تو انسانی بستیاں محبت کے مجسموں میں ڈھل بھی جائیں تو ایک وجود کی تشنگی مٹانے سے قاصر رہتی ہیں۔
در دستک >>

Feb 22, 2018

سرِ آئینہ میرا عکس ہے

رات کے سناٹے میں ہو کا عالم ہے،کہیں دور سے کسی گاڑی کے گزرنے کی آواز عالم سکوت میں ارتعاش کا سبب ہو جاتی ہے۔روز ہی ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں ۔ کوئی سکون محسوس کرتا ہے اور کسی کو تنہائی اور خوف کی سراسیمگی طاری ہو جاتی ہے۔یہ 
وقت تو نعمت ہے جو روشنی سے دور جانے پر انسانوں کی بستی کو سلا دیتا ہے۔ جب وہ ہر مشکل، ہر پریشانی،ہر غم اور دنیاوی ہر خواہش سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔انسان کو انسان سے کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں رہتی۔درد سہلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔غمگسار کی طلب نہیں رہتی۔ان لمحوں میں زندگی قہقہوں سے بھی دور چلی جاتی ہے۔
دن کے اُجالے انسانی رویوں کے چابک سے قہر برپا کرتے ہیں۔جنگل کے جانوروں کی شب بسری شہروں سے مختلف نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب انسانوں کے ساتھ ان کا نفس بھی سویا ہوتا ہے۔دن کی روشنی میں پرندے خوراک کی تلاش میں پر پھڑپھڑاتے ہیں اور جانور خوراک و شکار کی تلاش میں کمر بستہ اور انسان دنیاوی خواہشات کے ڈبے نفس کے انجن کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو دن بھر ساز وسامان سے بھرنے کی کوشش میں جتا رہتا ہے اور ادھر ادھر سے کچھ نئے ڈبے نفس کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ رات بستر تک پہنچنے تک نفس اتنا بے حال ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ انسان کو دنیا و مافیا سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
کبھی نہ سونے والی چیونٹیاں اور دن بھر سونے والے جانور ایک ہی فطرت پر زندہ رہتے ہیں مگر انسان اپنے عمل سے کردار سے سوچ سے خواہش سےخوبیوں سے خامیوں سے نیکی سے بدی سے اچھائی سے برائی سے خوشی سے غم سے صبر سے جلد بازی سے پانے سے کھونے سے الگ الگ حصوں میں  زندہ رہتے ہیں۔ جو بھیڑ میں تو ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں مگر کردار و افکار میں جدا جدا۔دولت شہرت  عزت کے متلاشی نفس کے انجن کے پیچھے ان خالی ڈبوں کو جوڑ کر منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔جہاں ساز وسامان سے لدی بوگیاں ان کے پاس سے گزرتی ہیں تو وہ مزید بوگیوں کے  اضافے کےساتھ رفتار بھی بڑھا لیتے ہیں۔
اچھائی اور نیکیوں کے راستے پر چلنے والے دراصل اللہ  کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر چلنے والے ہیں اور دنیاوی خواہشات کے حصول سے شہرت دولت عزت کی سیڑھی چاہنے والے اس شیطان کے پیروکار ہیں جن میں نفس اتنا   بھوکاہوتا ہےکہ کئی نسلوں کے زاد راہ کے انتظام کے بعد بھی لاغر وکمزور  رہتا ہے۔ 
جو خود کو اللہ کی رضا کے سپرد کر دیتے ہیں ، انتظار کی کوفت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔صبر کی چادر اوڑھ کر قلب سکون کی گہری آغوش میں سستالیتے ہیں۔انسانی معاشرہ صرف اپنی قدر نہیں کھو رہا بلکہ انسانیت تن آسانی کی مقابلہ بازی میں مقصد حیات کو بھول چکی ہے۔اللہ تعالی کی صفات  واحکامات کو اپنانے کے عمل سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ سچ کڑوہ معلوم ہوتا ہے۔ جس نے اپنے نفس میں جو پال رکھا ہے وہی اس کا ہمزاد ہے، وہی اسے عزیز ہے، وہی اس کا محبوب ہے، وہی اس کا دلدار ہے، وہی اس کا آغازہے، وہی اس کا انجام ہے۔
انسانی بستیوں میں ہم اپنے اپنے آئینوں کے سامنے رہتے ہیں جہاں دوسرا بھدا  بد شکل دکھائی دیتا ہے۔جسے ہم نے اپنے اندر پال رکھا ہے اسی کے ہم ماننے والے ہیں۔اسی کے پیروکار ہیں، جس کی حمایت کرتےہیں اسی سے وفا چاہتے ہیں۔ کسی کو تنہائی نے مار دیا ، کسی کو دکھ درد نے، کسی کو خواہشیں جینے نہیں دیتیں، کسی کو جینا یاد نہیں رہا۔جس نے زمین کی محبت سے کنارہ کر لیا، عمل اس کا گواہ ، کردار اس کی ضمانت ہو گئی۔
جس نے حقیقت کو پہچان لیا اُس نے خود کو جان لیا۔ جس نے اِس نظام فطرت کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔جتنی انسان پر مشکل پڑتی ہے اُتنی ہی اللہ کی اُس پر توجہ بڑھتی ہے۔ لیکن انسان تو خسارے میں رہنے والا ہے جو صرف اُن پر توجہ مرکوز رکھتا ہے جنہوں نے دولت شہرت عزت کو سمیٹا ہو۔اُن کو نہیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت کے سائے میں رکھا ہو۔
دنیا ایسا گلستان ہے  جہاں خوشبو  بھرے رنگ برنگے پھول دیکھنے والی آنکھ سے دل میں اُتر جاتے ہیں اور کسی کے دل میں صرف کانٹے پیوست ہو جاتے ہیں۔آنکھیں کھولنا اُس وقت مشکل ہوتا ہے جب نیند کا پورا غلبہ ہو۔نیند پوری ہونے پر تو آنکھیں خود بخود کھل جاتی ہیں۔ جو شے جتنی آسانی سے دستیاب ہو اُتنی  عام  بھی ہوتی ہے اور سستی بھی۔ گاڑیوں ، سیل فون ٹی وی کی جدت اور ٹیکنالوجی کی مثال سے سمجھنا چاہیں تو بات جلد سمجھ میں آ جائےگی مگر فطرت سے بڑی مثال کوئی نہیں جو خوبصورتی دلکشی رعنائی کے ساتھ ساتھ حکمت و دانائی میں بیمثال و لاجواب ہے۔دوسروں کی تعمیر و ترقی سے اِستفادہ حاصل کرنے کی خواہش ہر انسان میں شدت سے موجود ہے مگر عمل و کردار سے عاری معاشرے رہنماؤں پر ایک نظر ضرور ڈال لیں وہی ان کے آئینے ہیں جو اُن کی اصل صورت کے عکاس ہیں۔ جو رشتوں کے تقدس و احترام کا مفہوم نہ سمجھتے ہوں وہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔
صبح سچ کے پھول  چن کربیچنے نکلیں تو رک رک کر دیکھنے والے سینکڑوں ملیں گے مگر لینے والے کوئی نہیں کیونکہ اس کے لئے اپنےعمل و کردار میں  پاک ذات کی صفات و احکامات کا عکس دکھائی دینا ضروری ہوتا ہے۔ جو اپنے خیال و راہ اس کے حکم کے تابع کر دیتے ہیں وہ ایک بھی جی لیتے ہیں اور جو نفس کی خواہشات میں دنیاوی شہرت دولت عزت کے طلبگار ہوتے ہیں وہ تسکین جاہ ہوتے ہیں۔ سکون جاں روح کی آزادی سے میسر آتی ہے جو دنیاوی خواہشات کی قید میں نہیں ہوتی۔ علم و عرفان کی یکتائی جنہیں حاصل ہو وہ سجدے میں محبوبیت سے سرشار ہوتے ہیں۔بدن کی ضرورت جب نشہ و سرور کی کیفیت کاشکار ہو جائے تو سمجھو منزل سے دور ہو گئے۔ ہمدردی کی ناؤ میں سفر طے نہیں ہوتے بلکہ یقین اور بھروسے کے چپوؤں سے آگے بڑھا جاتا ہے۔تعریف و تحسین چاہنے والے اور حق و سچ کی چاہ پانے والے دو مخالف سمتوں کے مسافر ہیں جہاں اول الذکر نفس کی قید میں اونچی پرواز کے طالب ہوتے ہیں حالانکہ یہ  زمین دنیا  سمیت تو ایک وقت پاک ذات کے حکم سے لپیٹ دی جائے گی اور انسان یہاں پچاس سو سال میں کفن میں لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔جنہیں یاد رکھنے والے  بھی نہیں رہتے۔ کامیابی اور ناکامی کا تعلق پانے اور محروم رہ جانے سے ہر گز نہیں ہے بلکہ ختم ہو جانے اور رہ جانے والے سے ہے۔ جو ختم ہو گئے ان کا ذکر بیکار ہے جو رہ گیا وہ افادیت سے جانا جاتا ہے، اپنے برے یا اچھا ہونے کی گواہی کے ساتھ۔پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر دوسرے پہاڑ کی چوٹی نظر آتی ہے۔کھائی میں اترنے والے صرف اپنی کھائی تک محدود ہوتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق        
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک