پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ
وفا کہاں جو چاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو
- مفہوم: پروانہ خود شمع کی
آگ میں جلتا ہے مگر قصور سورج کی حرارت و تپش پر ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ عشق سچا
اور وفادار نہیں کہلا سکتا جس کی تمام تر چاہت صرف محبوب کے ملن اور بے تاب
وصال تک محدود ہو۔
- تشریح:
- پہلا
مصرع:
شاعر ایک استعاروں کی مدد سے بات کر رہا ہے کہ جب نقصان یا تبا ہی اپنے
فیصلے اور اپنی بے راہ روی (شمع کے گرد طواف) سے ہوتی ہے، تو انسان اکثر
اپنی غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں (تمازتِ آفتاب) پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
- دوسرا
مصرع:
سچے عشق کی پہچان وصل (ملن) نہیں بلکہ خود سپردگی، صبر اور جدائی میں بھی
وفاداری ہے۔ اگر کسی کا عشق صرف اپنے ملن کی بے تابی اور خود غرض خواہشات پر
مبنی ہو تو اس میں سچی وفاداری اور قربانی کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔
زندگی
کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد
کا چیخِ مسکن خوشی القاب پہ ہو
- مفہوم: زندگی کو غیر
سنجیدگی، کھیل کود یا نمائش کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ایک دن خود زندگی ہی
تمہاری تذلیل اور تماشا بن جائے گی۔ پھر حال یہ ہوگا کہ دل کے اندر درد اور
چیخوں کا مسکن (گھر) ہوگا، مگر ظاہری طور پر خوشی اور سرور کے القابات سجائے
جا رہے ہوں گے۔
- تشریح:
- پہلا
مصرع:
زندگی ایک ذمہ دارانہ اور سنجیدہ عمل ہے۔ جو لوگ زندگی کی قدر و قیمت نہیں
پہچانتے اور اسے محفلوں اور نمائشوں کا تماشا بناتے ہیں، وقت ان کو اس موڑ
پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں وہ دنیا کے لیے عبرت کا نشان اور تماشا بن جاتے
ہیں۔
- دوسرا
مصرع:
انسان کی منافقت اور بظاہر خوش نما دنیا کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ جب انسان
اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے اور اس کے دل و ذہن میں صرف درد کی چیخیں ہوتی ہیں،
لیکن دنیا کو دکھانے کے لیے وہ اپنے اوپر خوشی کا لیبل اور مسکراہٹ کا القاب
سجا لیتا ہے۔
تختِ
عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ
محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو
- مفہوم: وہ تخت و اقتدار
جو صرف ہوا (غرور، فریب، یا بے بنیاد باتوں) پر قائم ہو، اسے کبھی ثبات و
دوام حاصل نہیں ہوتا۔ ٹھیک اسی طرح کسی عالی شان محل کا فرش پائیدار نہیں رہ
سکتا جس کی بنیاد ہی پانی پر رکھی گئی ہو۔
- تشریح:
- پہلا
مصرع:
شاعر اقتدار، طاقت اور غرور کی عارضی نوعیت کو بیان کر رہا ہے۔ جو لوگ ہوا
اور تکبر کے بل بوتے پر خود کو تختِ عرش کا مالک سمجھتے ہیں، وہ غلط فہمی
میں ہیں۔ ہوا بدلتے ہی تخت گر جاتے ہیں۔
- دوسرا
مصرع:
پانی کی بنیاد پر بنی عمارت جلد یا بدیر گر جاتی ہے۔ یہ مصرع اس بات کا سبق
دیتا ہے کہ جو رشتہ، عزت یا کامیابی جھوٹ، فریب یا کمزور اصولوں (بنیادِ آب)
پر قائم کی جائے، اس میں پائیداری اور استحکام کبھی نہیں ہو سکتا۔
گل
گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اگتا
ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو
- مفہوم: پھول کا وجود چمن
سے ہے اور اس کی خوشبو بہار کے موسم سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سراب
(جھوٹے دلاسوں اور فریب) پر اپنا مسکن بنائے گا، اسے وہاں پھول نہیں بلکہ صرف
کانٹے ہی ملیں گے۔
- تشریح:
- پہلا
مصرع:
ہر اچھی اور خوبصورت چیز کا ایک ماحول اور ذریعہ ہوتا ہے۔ پھول اور اس کی
مہک کی بقا گلزار اور بہار میں ہی ممکن ہے۔ یعنی نیک نیتی اور سچی کوششوں سے
ہی اچھے نتائج اور خوشبو جنم لیتی ہے۔
- دوسرا
مصرع:
سراب ریت پر چمکتے ہوئے اس پانی کو کہتے ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوتا۔ جو
انسان حقیقت کو چھوڑ کر خیالی پلاؤ، فریب یا غلط امیدوں (سراب) پر زندگی کی
عمارت تعمیر کرتا ہے، اسے زندگی میں سوائے دکھ، زخم اور کانٹوں (خار) کے کچھ
حاصل نہیں ہوتا۔
شاہِ
زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیریٔ
فقیر میں سدا رنگ تابانیء مہتاب پہ ہو
- مفہوم: وقت کے بڑے
بادشاہوں اور حکمرانوں کے مقرب اور معظم رازدار بھی اندر سے پریشان اور دل
برداشتہ (دل گرفتہ) رہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایک درویش/فقیر کی اداسی اور
قناعت میں بھی چاند کی طرح سچائی، چمک اور سکون کی تابانی پائی جاتی ہے۔
- تشریح:
- پہلا
مصرع:
دنیاوی مال و دولت، جاہ و جلال اور بادشاہوں کی مصاحبت انسان کو اندرونی
سکون نہیں دے سکتی۔ بادشاہوں کے ساتھ رہنے والے بڑے سے بڑے عہدے دار اور
ہمراز بھی خوف، خدشات اور دلی تنگی میں مبتلا رہتے ہیں۔
- دوسرا
مصرع:
فقیر یا عارفِ حق کی زندگی اگرچہ ظاہری طور پر غم اور سادگی سے بھری ہوتی
ہے، لیکن ان کا دل چاند کی روشنی (تابانیِ مہتاب) کی طرح روشن، پاک اور
مطمئن ہوتا ہے۔ حقیقی خوشی اور سکون دنیاوی اقتدار میں نہیں بلکہ فقر اور
قناعت میں ہے۔
کلام
: محمودالحق
