Sep 7, 2019

اعدادِ گل دستہ

 بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ" انسانی ذہن اس پیٹرن کو تقریبا" ہر چیز میں ڈھونڈ لیتا ہے جو اس میں سما جائے –"
اور کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ " حساب اور ریاضی میں یہ ممکن نہیں ہے - علم اعداد اور ریاضی میں فرق یہ ہے کہ علمی اعداد میں آپ مرضی کے نتائج اخذ کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں جبکہ ریاضی میں سر تسلیم خم کرکے اس کے پیچھے چلنا پڑتا ہے - علم ریاضی اکثر آپ کو ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جہاں آپ خود کو بند گلی میں محسوس کرتے ہیں  اور پھر اگلی جنریشن کا کوئی ریاضی دان اس بند گلی سے نئے جہانوں کے در ڈھونڈ لیتا ہے - میتھ کو کوئین آف سائنسز کہا گیا ہے یعنی نیچرل سائنسز کی ملکہ جبکہ علم اعداد پراسرار اور سپر نیچرل سبجیکٹ ہے ۔"
میں نے کچھوے کے شیل پر بنے ڈاٹس میں ایک پیٹرن کو ڈھونڈا  اور پھر مختلف اعداد کی ترکیب و ترتیب میں انہیں ہر جگہ ڈھونڈ لیا۔  میرے لئے وہ پر اسرار تو نہیں ہے  مگر سپر نیچرل ضرور ہیں۔میں علم الاعداد کے بارے  میں بہت زیادہ تو نہیں جانتا  ۔لیکن جو حقیقت مجھ پر آشکار ہوتی رہی ، میں اسے  ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں لاتا رہا۔اسرار و رموز اعداد کی  گزشتہ تحریر میں ایک نئی میتھ کیلکولیشن کو پیش کیا، جس میں مختلف گرافکس تشکیل پائے۔آج پھر ایک  نئی دریافت  کو ترتیب دینے جا رہا ہوں۔ یہ اعداد کی پر اسراریت سے ہٹ کر ان کے سپر نیچرل ہونے کی دلیل ہے۔ غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد اس میں پائی جانے والی حقیقتوں کی کھوج میں مصروف عمل ہے۔
ا سکا آغاز میں نے کائنات کے سربستہ راز کے نام سے تحاریر لکھ کر کیا تھا اور اس نسبت سے میری تمام تحاریر اسی ٹیگ میں ایک ساتھ موجود ہیں۔   اسرار و رموز اعداد کی ویڈیو میں   آج کے موضوع کی تفصیل کا ایک رخ بیان کر چکا ہوں۔آج اسی کے تسلسل میں ایک نیا انداز پیش کرنے جا رہا ہوں۔اس کی خاصیت یہ ہے کہ دو مثالوں میں Even  اور  Odd  نمبرز الگ الگ میجک سکوئر تشکیل دیتے ہیں اورایک مثال ایسی ہے کہ جس میں 16x16  میجک سکوئرسولہ 4x4 میجک سکوئر بناتا ہے تو 16مختلف ٹوٹل حاصل ہوتے ہیں۔ اعداد کا یہ کھیل آج تک کبھی کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔ زیر نظر دو تصاویر خوبصورت رنگوں کے امتزاج سے گرافکس کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔اعداد کا جو کھیل پیش کرنے جا رہا ہوں وہ تمام بالآخر  انہی دو تصاویر میں ڈھل جائیں گی اور ان کے نتائج الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی رنگ میں ڈھلے نظر آتے ہیں۔  پچھلی تحریر میں شامل کی گئی ویڈیو میں رنگین گرافکس کی تفصیل بیان کر چکا ہوں کہ نمبرز کیسے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت و مسابقت رکھتے ہیں۔ ابھی صرف تین مثالیں پیش کر رہا ہوں جبکہ  اللہ تبارک تعالی کے فضل و کرم سےمیرے پاس ایسی مختلف مثالیں دینے کے لئے سینکڑوں میتھ میجک بنانے کی اہلیت موجود ہے۔

زیر نظرپہلی تصویر میں 16x16 کا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 2056 رکھتے ہیں ۔


اس میں نمبرز 1 تا 256 ایسے ترتیب پاتے ہیں کہ 4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ 4x4 کے آٹھMagic Squares میں 516 کے ٹوٹل میں نمبرز Even کی ترتیب میں ہیں اور آٹھ 4x4 کے Magic Squares میں 512 کے ٹوٹل میں نمبرز Odd کی ترتیب میں ہیں ۔جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔



اوپر دئیے گئے خوبصورت گرافکس میں جب انہی نمبرز کو اسی ترتیب میں لکھا جائے تو وہ اسی پیٹرن میں ڈھل جاتے ہیں۔



16x16 کے اس دوسرے  Magic Square میں نمبرز کوئی خاص ترتیب میں نہیں بلکہ بعض نمبرز Repeat ہوئے ہیں۔ یہ ایسا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 1462رکھتے ہیں ۔

اس میں نمبرز کی ترکیب مختلف ہے اور4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ  یہ ایسے سولہ Magic squares بنتے ہیں جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں۔ اور چاروں اطراف میں سولہ Magic Squares کے سولہ  مختلف ٹوٹل  آتے ہیں۔ نیچے ان سب کے ٹوٹل کو اسی ترتیب میں ایک میجک سکوئر کی تصویری شکل میں دکھایا گیا ہے ۔

جب انہی نمبرز کو اسی رنگدار پیٹرن میں ڈھالا گیا تو نمبرز مختلف ہونے کے باوجود اسی رنگ میں رنگے گئے۔


تیسری تصویرمیں 16x16کے اس Magic Square میں نمبرز کی ترتیب مختلف ہے اور اس میں نمبرز Repeat نہیں ہوتے۔ یہ ایسا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 2096رکھتے ہیں۔
اس میں نمبرز کی ترکیب مختلف ہے اور4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ 4x4 کے آٹھMagic Squares میں نمبرز Even کی ترتیب میں ہیں اور آٹھ 4x4 کے Magic Squares میں نمبرز Odd کی ترتیب میں ہیں ۔جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے سولہ Magic squares بنتے ہیں جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں اور تمام کا ٹوٹل ایک جیسا 524 آتا ہے۔

جب انہی نمبرز کو اسی رنگدار پیٹرن میں ڈھالا گیا تو نمبرز مختلف ہونے کے باوجود اسی رنگ میں رنگے گئے۔


در دستک >>

Aug 31, 2019

اسرار و رموز اعداد


قلم سے شناسائی میں دس برس گزر گئے  اور اعداد کی حقیقت ِ کھوج میں دس ماہ۔
4300 سال قبل کچھوے کے خول پہ بنے اعداد کی تشکیل و ترتیب نے  اپنے سحر میں ایسے جکڑا کہ اعداد ہی بولنے لگے۔آج جو دیکھنے جا رہے ہیں وہ لفظوں کی نہیں اعداد کی کہانی ہےجو اُن کی اپنی زبانی ہے۔اعداد کی ترتیب و تشکیل کا ایک منفرد، انوکھا اور دلچسپ انداز جو  دنیا میں آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گااورعقل و دانش کے ترازو پر جواز تلاش کرنے والوں کے لئے کھلا چیلنج رکھتا ہے ۔  1 تا 256 اعداد کے توازن کی ایسی حقیقت جو اجتماعیت سے انفرادیت تک اپنا تواز ن  بگڑنے  نہیں دیتی۔   کوئی Mathematical equation  ایسا شاندار اور جاندار رزلٹ نہیں دے سکتی۔یقین کی جس قوت کو  بروئے کار لا  کر اسے بنایا گیاسمجھنے کے لئے بھی اسی یقین کی  ضرورت پڑے گی۔

تفصیل اس ویڈیو میں 


در دستک >>

Aug 4, 2019

قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی

لکھنے کے لئے کاغذقلم ہاتھ میں لئے دہائیاں گزر گئیں۔ قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی ، کاغذ ہاتھوں سے میلے ہوتے رہے۔ہم بڑے ہو گئے قلم کتابیں چھوٹ گئیں اور کاغذ پر چھپی ڈگریاں ہاتھ لگتی رہیں۔ہم خیال کی اونچائی سے حقیقت کی کھائی میں اترنے لگے۔ دوستوں نے تنہائی کے احساس پر ٹائم پاس کا مرہم رکھا۔جو چاہا وہ پاس نہ آیا ، جس سے  دور بھاگے وہ گلے پڑ گیا۔زندگی بعض اوقات انسان سے کھیلتی ہے۔ امتحان سے گزارتی ہے پھر نہ ہی وہ پاس ہوتا ہے اور نہ ہی فیل ، بس ورکشاپ میں ہتھوڑا  ،اوزار پکڑوانے والا چھوٹا یا ایک ہی جماعت میں جونئیر کو خوش آمدید اور اگلی جماعت میں ترقی کرنے والوں کو الوداع کہنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔
ماضی انسان کا پیچھا کرتا ہے ،کبھی خوف بن کر، کبھی پچھتاوا کی صورت، کبھی ندامت تو کبھی سر کشی کا کوڑا بن کر جو بدکے ہوئے گھوڑے پر  چابک برسا کر غصہ کی حالت سے اسے تابعداری کی طرف مائل کرتا ہے۔
بچے اچھے برے کی بجائے قابل اور نالائق کی تقسیم سے جانے اور پہچانے جاتے تھے اور  جاتے ہیں اور جانے جاتے رہیں گے۔ ملازمت پیشہ تنخواہ  سے، کاروباری دولت سے ، طاقتور اختیا ر سے جانے جاتے ہیں اور مانے بھی۔پانچویں پاس امیر اور پڑھا لکھا کلرک لندن امریکہ میں بچوں کی  اعلی تعلیم کا خواب آنکھوں میں سجانے کی بجائے ذہن میں سما لیتا ہے۔نامکمل اور ادھورے خواب سے کچھ دیر کے لئے ماضی سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور حال مطمئن۔
اپنی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت و دولت کا مقام پانے کے بعدانسانیت کی بھلائی میں  انہوں نےان لوگوں سے زیادہ عملی طور پر حصہ لیا جنہیں اپنے بزرگوں سے صرف دولت کے مینار تعمیر کرنے کی تربیت ملی۔انہوں نے اپنے زیر اثر افراد ، معاشرے اور قوم کو بیوقوف بنا کر ایک ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جو دیگیں پکانے والے کسی پکوان خانے کی پک اپ وین میں ایک زندہ گدھا دیکھ کر زیر لب مسکرا کر اسے کھانے والوں کی قسمت پر ہنستے ہیں ۔  
کہیں دولت کا رونا ہے ، کہیں عزت کا، کہیں محبت کا، لیکن شرافت کا ذکر خیر سننے کو کان ترس گئے۔حرام کمائی سے محل کھڑے کرنے والے معتبر  و معزز کہلائے۔ ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک ادھ بوٹی کے لئے کناتوں پراتوں پر ٹڈی دل کے حملہ جیسا نقشہ قوم کی غیرت و حمیت کی بجائے غربت کا مذاق بنایا جاتا ہے حالانکہ گھروں میں تین وقت کا بہترین کھانا سویٹ ڈش کے ساتھ نوش فرمانے والوں کی پلیٹ پر بڑا مینار کھانے والے کی نیت کی بجائے اس کی فنکاری پر داد وصول کرتا پایا جاتا ہے۔تعلیمی ادارے آخر کہاں جائیں ، جہاں گھر بار، تھڑے بازار سیاسی درسگاہیں نوکر شاہی کے طفیل پسند ، نا پسند اپنا اُلو سیدھا رکھنے سے غرض رکھتے ہوں۔جب معاشرہ لوٹ مار اور حرام کی دولت کو برا جاننا چھوڑ دے اورتھانہ کچہری میں وہی باعزت کہلائے جاتے ہوں۔تو معاشرہ کہاں جائے جہاں ہر فرد عزت کا بھوکا ہو۔
زخمیوں اور بیماروں کے لئے ایدھی اور چھیپا ایمبولینس کسی نعمت سے کم نہیں  ایسے معاشرہ میں جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہو۔ جو جتنا متنازعہ ہو گا وہ اتنا ہی مشہور اور قدآور ہو گا۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں وشل میڈیا ہو یا اخبارات، ان کی جیبیں بہت بھاری ہوں گی اور تجزیے پھیکے۔
حالات سمجھنے کے لئے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں چاہیئے ہوتی ، تاریخ ہمیشہ اپنے اُپ کو دہراتی
23 جنوری 2010 کو میری تحریر " سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری" کسی پارٹی یا سیاستدان کی بجائے نظام کے متعلق ہمارےعمومی روئیے کی غماز تھی۔ 26 مئی 2013 کو لکھی میری تحریر" فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا"  میں فلم کچھ عرصہ بعد چلنے کا عندیہ تھا جس کی آج سارے ملک میں دھوم ہے۔اس میں کچھ حقائق کی نشاندہی کی تھی کہ ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو لالی پاپ کے لالچ میں نہ ملک چلتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔  بالآخر وہ تعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ کسی بھی ایماندار شخص کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔
ہمارے سیاستدان احمقوں کی جنت سمجھتے رہے پاکستان کو۔عوام چاہے کتنی ہی بے حس ہو جائے  مگر نظام قدرت کا اپنا دستور ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھے طوطے شائد جوانی کے نشہ میں ابھی بھی سرشار ہیں ( دوسری تیسری شادی  سے ہٹ کر) ۔ یہ 80 اور نوے کی دہائی نہیں ہے جب  ایک کمانے والا دس افراد کے کنبے کا کفیل تھا۔ ہر کمرے میں اے سی  کے لئے بجلی اور موٹر سائیکل، کار کے لئے پٹرول کی ضرورت ہر فرد کو ہے۔ جس کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی چوری سے لوڈ شیڈنگ نے ملک کا جو حال کیا تھا۔ بجلی کی زیادہ قیمت اور چوری رکنے پر لوڈ شیڈنگ پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔  بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب ایک گاؤں کا حال میں جانتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ ڈائریکٹ بجلی چلائی گھر وں میں کئی ای سی دن رات بدن کو گرم ہونے سے بچائے رکھتے تھے۔ پرچوں کے اندراج پر جب تھانوں کا منہ دیکھنا پڑا تو ای سی بند اور میٹر کے زریعے بجلی کی آمدورفت شروع ہو گئی وہاں۔
آج کے  کالم نگار ،مفکریں ٹاک شو کے تجزیے  قوم کو حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے مستقبل کی پیش گوئیوں پر کمر بستہ ہے۔ نیا لیڈر کون بننے جا رہا ہے ، پارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہو گی۔اس نظام سیاست کو ماننے والے اور سہارا دینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے آنے والے وقت میں قیادت کا فیصلہ پڑھی لکھی عوام کرے گی۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے والے جاہل سپوٹر اور ووٹر ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔جو قیادت کی بجائے باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جو انہیں دنیا میں ایک آزاد شہری کی بجائے اپنی رعایا بنا کر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو معاشرہ لچُا سب سے اُچا کی پالیسی پر گامزن ہو۔ وہاں فیصلے زمین پر نہیں ہوتے۔ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک کسی خاندان کی غلامی کے لئے دنیاکے نقشے پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ ووٹر جتنی وفاداری پارٹی رہنما سے رکھتا ہے اگر اُتنی  عزت واحترام ، قدرو منزلت اور قربانی و ایثار اپنے گھر ، عزیز رشتےدار اور ہمسائیوں محلہ داروں سے بھی رکھ لے تو معاشرہ بے حسی کی تصویر نہ بنا پھرے جہاں لا تعلقی اور خود غرضی کی اجارہ داری ہے۔ مفاد پرست چند ایک چوہدریوں نے اپنے محلہ گاؤں کے نوجوانوں میں مخالفت نفرت کا ایسا بیج اپنے مخالفوں کے بارے میں بویا ہے کہ نوجوان نسل اچھے برے کی تمیز بھول گئی ہے۔  چائے بوتل ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل سے بیگانے ہو چکے ہیں۔
دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلتا بلکہ قانون کی حکمرانی میں تمام عوام اور ارباب اختیار قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں فیصلے سنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوں تو کیا ہر ادارے کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بار بار کوٹ پہن کر تحریک چلانی پڑے گی۔
کیا ہم اُس مقام تک آ پہنچے ہیں کہ " اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی"

تحریر : محمودالحق


  

در دستک >>

Jul 23, 2019

خود کے آلاؤ خود کی جھونپڑی


پھولوں کی طرف بڑھنے پر کانٹے آستینوں کی طرف لپکے،زرا سنبھل  کر پلٹے تو پھول مسکرا کر ہوا کے رخ جھوم اٹھے۔ہر بار جانے سے پہلے آنے کا قصد کر تے تو  ارادہ ہوا کی لہر پر آواز بن کر مخبری کر دیتا۔  ایک مہک جاتا ، ایک اُداس لوٹ جاتا۔  گلستان میں پھر کسی نے جھانک کر آنے کی خبر دی  ۔  خوشبو تو ہوا سے لپٹ کر احساس کو معطر کر دے گی مگر  جذب کرب کی سولی پر لٹکا رہے گا۔
جب شہروں کی پابندی راس نہ آئے  تو جنگل کی طرف بھاگتے ہیں۔   جہاں ہوا، پانی اور گھاس پر سینکڑوں ہزاروں لاکھوں  ٹکر سے محفوظ رہنے کے لیے سرخ سبز اشارے کے پابند نہیں ہوتے کیونکہ اُن کے ارادے پکے ہوتے ہیں اور مقصد واضح ۔   نام ان کے کہیں فخر و غرور اور کہیں گالم گلوچ میں  تشبیہ و استعارہ   ہو جاتے ہیں، پھر بھی شکوے ان کے آسمان سے نہیں ہوتے۔
جب اکیلا آنا لکھا ہو اور جانا تنہا،تو پلٹ کر اٹھکھیلیاں کیسی۔زندگی کا سفر سمندر کی لہر نہیں جو ساحل تک چھوڑ جائے ، نہ ہی شہر کی سڑک ہے جہاں جب چاہا پلٹ لیا۔یہ تو جنگل ہے گہرائیوں کا تنہائیوں کاکھائیوں کاپھولوں کا پھلوں کا اندھیرے کا خوف کا ، جہاں دوست بھی ہیں دشمن بھی۔ جینے کے ڈھنگ نرالے  موت کے سنگ  ۔
خود  کے آلاؤ   خود کی جھونپڑی، مسافر کی دوستی  سفر تک۔منزل تو  رہتی بچھڑنے کے آغاز کا نشان  بن کر۔ جو سفر پر نہیں وہ مسافر نہیں۔ جو پڑاؤ پر رک گئے وہ سفر پر نہیں۔ جو کھو چکے اُنہیں پانے کی اُمید کیسی۔جو رُک چکے اُنہیں  ساتھ چلانے کی  ضرورت کیسی۔  جب شام ڈھل جائے تو کھڑکیاں ہی صرف کھلتی ہیں۔ دروازے دستک سے آواز پیدا نہیں کرتے جس سے آنے والوں کی اطلاع پہنچ پائے۔
زندگی ایک گھورکھ دھندہ ہے لفظوں کی بناوٹ کا، پلکوں کی جنبش کا، زبان کی حلاوٹ کا، آنکھوں کے انتظار کا،سوچ کے غبار کا، بھوک و پیاس کے اوقات کا اور سانس سے گردش خون کی روانی کا۔
کسی کے لئے بند آنکھوں  کے بعد  دنیا ختم ہوتی ہے اور کسی کے لئے کھلی آنکھوں میں۔ جہاں چاہت کا دربار ہے وہاں محبت سرکار ہے۔ جو مالک و مختار ہے چاہت اس کی طلبگار ہے  ۔بندہ ہی لاچار ہے ۔
سامان کی طرح اس سفر میں اپنے اعمال کی خود حفاظت کرنا پڑتی ہے۔خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔
جب زبان رک جاتی ہے تب قلب جاری  ہو جاتا ہے۔

محمودالحق

در دستک >>

Jul 6, 2019

روشن سیڑھی


انسانوں سےبھرےمعاشرےسےجب اکتاہٹ ہونےلگےیادل بھرجائےتوقدرت کےحسین نظارےبانہیں کھولےخوش آمدیدکہنےکےلئےبیتاب ہوجاتےہیں۔ لہلاتےدرخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روح تک اپنی تاثیرمسیحائی پہنچاتی ہیں۔بدن کی گرمائش پتوں کی سرسراہٹ سےآلام وآرائش سےاتنی دورچلی جاتی ہےکہ واپس جانےکوجی نہیں چاہتا۔ مگررہناتوبستیوں میں ہی ہوتاہےکیونکہ آبادیوں میں جسم محفوظ ہوتےہیں اور نقصان سےمحفوظ انہیں قانون کی عملداری رکھتی ہے۔ درخت جب روشنی سےفاصلہ کرلیتےہیں توحشرات اورجانوروں کےقوانین کی عملداری شروع ہوجاتی ہے۔ جوننگےبدن پرخوراک کی تلاش میں حملہ آورہوتےہیں۔ چھوٹےپرندےچونچ میں چھوٹےکیڑےدبائےاپنےگھونسلوں کی طرف بچوں کےلئےمحوپروازہوتےہیںلیکن آبادیوں میں انسان ہوس وحرص،لالچ ومفاداورحسدونفرت کی ٹوکریاں بھرکراپنےبچوں کوعمربھرکاراشن مہیاکرنےکےلئےاحساسات وجذبات کی لاشوں کوبےدردی سےروندتےآگےبڑھتے ہیں۔ 
 انسان علم سےقداونچاکرتاہےاوردولت سےمعیار۔ رویےسےدباؤاورمقابلےسےتناؤکاماحول پیداکرتاہے۔ 
حواس خمسہ کاپانچ ہونا،بدن میں دل جگرپھیپھڑےمعدہ اورگردےکاپانچ ہونا،ہاتھ پاؤں کی انگلیاں پانچ ہونا،دوٹانگوں دوبازؤوں اورایک گردن کاپانچ ہوناایمان رکھنےوالوں کےلئےبہت اہمیت اختیارکرلیتےہیں جونمازپنجگانہ اوردین اسلام کےپانچ ارکان کواختیارکرلیتےہیں۔ 
ذہن میں خیالات اترآئےتوتخیل بن جاتاہےاگرخون اپنےراستےسےاترجائےتوزندگی راستہ بھٹک جاتی ہے۔ سجدوں میں دعائیں رہ جاتی ہیں۔ عجب تماشاہےجوچارسوپھیلاہے۔ فرعون کی ممی عجائبات جہاں بن کررہ گئی۔ فرعون سوچ بن کرجہاں میں دندناتےپھررہےہیں۔ 
قرآن نےآسمان سےزمین تک روشن سیڑھی کھڑی کردی اورانسان نےزمین پرپہیہ بناکرلڑھکناشروع کردیا۔ 

تحریر: محمودالحق




در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک