Oct 11, 2017

سفرِ نا تمام

اونچائی کی مناسبت سے سیڑھی کی لمبائی کا تعین کیا جاتا ہے اگر منزلیں زیادہ ہوں تو لفٹ کی مدد درکار ہوتی ہے۔کیونکہ ٹانگیں  وجود کواوپر اُٹھانے  سے آگے بڑھانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ دوسری طرف نظر پلک جھپکنے پر انتہائی بلندیوں تک جا پہنچتی ہے اور زمین پر قرب وجوار کے دائرے سے نکلنا  انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ 
آزمائشوں کی گھٹڑی سر پر آن پڑے تو کچھ گردن جھکا لیتے ہیں اور باقی آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔جنہیں زندگی میں آسائشیں بچوں کو سالگرہ میں ملے تحفوں کی مانند ملیں وہ ایک کے بعد دوسرے پیکٹ کو کھولنے میں بیتابی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دو چار دن کے بعد اگلی سالگرہ کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔جو درد کی سیڑھی اور غم کی چال سے زندگی کی منازل طے کرتے ہیں وہ آزمائشوں کے باغات میں آسائشوں کے پھول کھلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ  ایک پھول کے انتظار میں کئی سال  کانٹوں  سے لپٹ کرگزر جاتے ہیں۔خوشی کے بادل برس کر بکھر جاتے ہیں  تو ہوا  مٹی اور روشنی کی محبت کی بھینی بھینی خوشبو سے مہک اُٹھتی ہے۔غم کے بادل گرج کر گزر جاتے ہیں توزمین پیاسی رہ جاتی ہے اور اگلے بادلوں کے انتظار میں روشنی سے دست وگریباں ہو جاتی ہے دھول بن کر۔ 
بلندیوں سے انسان بہت چھوٹے دیکھائی دیتے ہیں مگر مزاج متکبر نہیں ہوتا  توبہ و استغفار میں سفر گزرتا ہے لیکن جونہی پاؤں زمین پر اُتریں تو گردن اَکڑ جاتی ہے۔ برابر دیکھائی دینے والے اتنے چھوٹے  دیکھائی دینے لگتے ہیں کہ رشتے سنبھالنے مشکل ہو جاتے ہیں۔انسان بیشک ناشکرا جو ٹھہرا۔قیدی درندے کے سامنے ببر شیر جیسے نشہ میں غوطہ زن ہوتا ہے مگر ان کی کھلی آماجگاہوں کے تصور سے رونگھٹے کھڑے کر لیتا ہے۔دیوار پر آئینے لگا دینے سے کمرے بڑے نہیں ہوا کرتے۔ منظر بدل جاتے ہیں مگر حدود وہی رہتی ہے۔ ساتھ والا کمرہ چھوٹا نہیں ہو جاتا۔
زندگی ایک کتاب ہے ،حالات  اس کےابواب ہیں اور اسباب صفحات۔پطرس بخاری کے مضمون "میبل اور میں" کی طرح بغیر پڑھے تبصرہ تو کیا جا سکتا ہے مگر نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ نتائج تک پہنچنے کے لئے حقائق کی روشنی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس سے سولات کے بخارات کا اُٹھنا نا گزیر ہو جاتا ہے۔ایک بار اندر اُتر جاؤ تو دلدل کی طرح سوچ کو اپنے اندر کھینچ کر دھنسا لیتی ہے۔ زندگی کی روشنی سے  سوالات کی تاریکی میں لا کھڑا کرتی ہے جہاں کسی کے ذہن میں اچھوتے خیال کی بجائے ایک سوال  سر اُبھارنے لگتا ہےاور وہ سوال کچھ اس انداز میں پوچھ لیتے ہیں۔ 
 کہ ہم جب تنہا ہوتے ہیں ذات کو ٹٹولتے ہیں بہت اندھیرا ہے بہت زیادہ اندھیرا کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کون ہیں کیوں ہیں اور کیا ہیں لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ھے کہ ہم ہی ہم ہیں اور کوئی بھی نہیں جو ہم سا ہو یہ الجھن ہے یا سوال ؟
ایساسوال،پوچھنے والے کی زندگی کی کتاب کا دیباچہ کی مانند ہے جس کے لئے میرے پاس ان الفاظ سے بہتر جواب دینا زرا مشکل تھا۔ 
ہر انسان دنیا میں دو آنکھوں ، دو ہاتھوں ، دو پاؤں ، حتی کہ دماغ کے دو حصوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ہمارا وجود ایک اور دو کی مناسبت سے سفر زیست طے کرتا ہے۔انسان اپنے رویے میں بھی ہاں ناں ، خیر و شر، سچ و جھوٹ، حتی کہ جنت و جہنم کے درمیان رسہ کسی میں مصروف عمل رہتا ہے۔انسان سب سے طاقتور اور مضبوط ظاہر و باطن کی کشمکش سے بر سر پیکار رہتا ہے۔ اور یہ ایک فطری عمل ہے اس میں الجھن پیدا ہونا سوچ کی نا ہمواری کی غماز ہے۔ ہر زی روح کے اندر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا ہونا فطری ہے۔ وہ ہمارے وجود کے لئے لازم ہیں۔اس لئے ہم اس سے لاپرواہ رہتے ہیں ۔ لیکن جب ان کا بیلنس بگڑ جائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہی حال ہماری ذات کے اندر ہونے یا نا ہونے کی فطری کشمکش میں جاری و ساری رہتا ہے۔ہم اس کا حل جواز سے تلاش کرتے ہیں جو ہمیں سوال کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔میں کون ہوں ، کیا ہوں، اور کیوں ہوں جیسے سوالات ایسی پنیری ہے جسے کھاد وجود سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور وجود صبح و شام کے معمولات سے تھکن سے چور رہتا ہے۔ بچا کھچا ذہنی دباؤ سے کھچاؤ میں چلا جاتا ہے۔ تناور درخت بننے سے پہلے نو خیز پودوں کی کیاریوں سے گھاس پھونس الگ کی جا تی ہے۔ جنگلی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے تب وہ نو خیز پودا پھل دار یا خوشبو دار درخت بنتا ہے۔ انسان صرف سوچ کے بل بوتے پر تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی نو خیزی میں شفافیت اور اکثیر کی طاقت حاصل کرنے کے لئے باہر سے اثر انداز ہونے والے باغی خیالات کا سدباب ضروری ہوتا ہے۔ زندگی کو کتاب کی طرح پڑھیں گے تو ابواب اور صفحات کی ترتیب ایک سے دو ، دس یا سو تک چلتی ہے۔مگر احسا س ایٹم کے زروں کی طرح وجود میں تباہی پھیلاتے ہیں۔جنہیں باہمی ربط سے ہی شانت رکھا جا سکتا ہے۔جب ضرورت پیش آئے تو استعمال میں لاؤ ورنہ خوداعتمادی کی طاقت بنا کر ذات کے کسی گوشے میں محفوظ رکھوجو بوقت ضرورت بیرونی حملہ آور سے بچاؤ کی تدبیر کرے گی۔ 

تحریر  :محمودالحق    
در دستک >>

Oct 7, 2017

بندگی کا سفر

آنکھیں بدن کا ایسا حصہ ہیں جو فطرت کا عین عکاس وغماز ہیں۔جو کچھ نہیں چھپاتیں دوسروں پر اصل صورت میں عیاں ہوتی ہیں۔خوشی اور غم کے الگ الگ آنسو ہر کوئی پہچان لیتا ہے ۔ غصے اور ہمدردی کے جذبات بھی بھانپ لئے جاتے ہیں۔ مگر آنکھوں کی گہرائی میں چھپی کیفیت  جو سوچ کی غماز ہوتی ہے ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔زبان الفاظ کی ادائیگی سے پیشتر انہیں کانوں سے یادداشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کرتے ہیں پھر چاہے الف ب پ ہو یا اے بی سی، جیسے سنا گیا ہو ویسے ہی لوٹا دئیے جاتے ہیں۔ میٹھے کڑوے،  سچے جھوٹے،زہر آلود نشتر بھرے دوسروں پر اچھال دئیے جاتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس سے دل ٹوٹے یا روح زخمی ہوتی ہو۔ یہ ایک ایسا فن ہے جسے افراد کی اکثریت بروئے کار لانے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جی بھر کر روزانہ جھوٹ بولنے والوں کو سچ ماننے والے بھی اتنی ہی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔جن کے لئے جھوٹ ناقابل برداشت ہو وہ تلملاتے رہتے ہیں۔ سچ ماننے والوں کو برا بھلا کہتے اور کوستے رہتے ہیں۔
آنکھیں اپنا راز صرف انہی پر کھولتی ہیں جو انہیں پڑھ سکتی ہیں۔ علم نجوم، دست شناسی اور علم الاعداد کی حقیقت ماننے والوں سے اتنی ہی دور رہتی ہے جتنی مشرق سے مغرب۔
پہلی نگاہ میں محبت کی کہانیاں ہر معاشرے ہر ثقافت میں عام ہیں۔جس میں نام، چہرے  اور کردار بدلتے رہتے ہیں مگرمرکزی خیال ایک ہی رہتا ہے۔ آنکھوں سے محبت کے پیغام ارسال اور وصول کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ حالانکہ آنکھیں حال دل سنانا چاہتی ہیں  کہ جن کے ساتھ بچپن کھیل کود میں گزرا ،جوانی جن کے سنگ بتائی  ۔کسی کو حالات نے سست کیا کسی کو سخت ۔ کوئی نیک ہوا کوئی بد۔کسی نے سچ کی چادر اوڑھ لی کسی نے جھوٹ کا کفن پہن لیا۔کوئی ایمانداری پر کاربند رہا کسی نے بے ایمانی کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ان کے درمیان  رہ کر اجنبیت کا احساس  بار بار زنجیروں سے چھٹکارا کے لئے زور لگاتا ہے۔ مگر  وہ نہیں جانتے کہ بہت فرق ہے کانوں سے الفاظ کی پہچان سیکھ کر اتار چڑھاؤ سے زبان سے ادائیگی کرنے والے  اور  ان آنکھوں میں جو حسن فطرت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہیں  جو کسی کتاب کسی استاد کی محتاج نہیں ہوتیں، فطرت کے حسن کو کشید کر کے جذب کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں۔
  مگر انہیں پھر بھی یہ احساس رہتا ہے کہ ایک جیسے  دیکھائی دینے والے ایک جیسا کیوں نہیں سوچتے لیکن وہ نہیں جانتے کہ کوئلے کی کانوں میں ہی ان کے اندر بیش قیمت ہیرے موجود ہوتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ  ہیرے کوجوہری کی نگاہ میں قدر پانے سے پہلے کوئلے پتھر میں  رہتے ہوئے الگ پہچان حاصل کرنی پڑتی ہے۔ تب اسے ڈھونڈنے والے ملین ٹریلن ٹن پتھر کوئلے کے نیچے سے نکال لیتے ہیں۔ 
جو اپنے ظاہر اور باطن میں توازن قائم کر لیتے ہیں، دوسرے لفظوں میں اپنے اندر کو   آلائن کر لیتے ہیں ، اتنے طاقت ور ہو جاتے ہیں کہ انہیں ہیرے کی مانند چمکتی ہوئی آنکھیں جو اپنی حیثیت سے بے خبر ارد گرد بسنے والوں کی بے اعتناعی پر غمگسار دیکھائی دیتی ہیں نظر آنے لگتی ہیں۔ بالآخروہ بھی خودشناسی کے سفر پر چل دیتی ہیں جس سے آگے چمکتی آنکھیں کہیں کسی جگہ ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والا  آنکھوں سے قلب  تک محدود تعلق  کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ رنگ و نسل  اورعلاقائی جغرافیائی حدود سے بالا تر مثبت ،شفاف ،عشق و محبت، بندگی  کا سفر۔

 تحریر:محمودالحق     
در دستک >>

Sep 12, 2017

زندگی ایک افسانہ حقیقتِ کھوج میں نہ جا


زندگی کی حقیقتوں کو فراموش کر کے باطن ِ ابدی کو تخیل ظاہری کی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔ کم کھونے کا خوف بہت پانے کی جدوجہد میں بیچ راستے میں تھک کر سستانے لگتا ہے۔ منزل دور نہیں ہوتی ارادے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ خواہشوں کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی جستجو اتنی اونچائی پر لے جاتی ہے کہ زمین دیکھائی دینا بند ہو جاتی ہے۔ جو انسان منزل تک پہنچنے کے لئے وقت کا انتظار کرتا ہے وہ خواہش ہوتی ہے اور وقت جب انسان کا انتظار کرتا ہے تو وہ رضائے الہی ہوتی ہے۔بہت پانے کی آس میں کبھی کبھار بہت کچھ کھو دیا جاتا ہے۔ پہاڑوں میں گونجنے والی آواز جب متوجہ کرتی ہے تو کانوں کی مدد سے آنکھوں کو تلاش پر مامور کر دیا جاتا ہے۔یہ سمجھے بغیر کہ پکارنے والا کسی ایک کی توجہ کا مرکز ہو سکتا ہے۔ چوٹیوں پر لے جانے والے ہلکے بھاری پتھر طاقت اور وقت کی قیمت چکاتے ہیں مگر لڑھکانے پر ایک ہی وقت میں بلندی سے پستی کا سفر طے کر لیتے ہیں۔
انسان جب ڈر اور خوف کے زیر اثر چلا جاتا ہے تو وہ یقین اور ارادے کی پختگی کی بھاری سلوں کے نیچے دب جاتا ہے۔ مشکلات سے گھبرانے لگتا ہے تو لمحہ بہ لمحہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ ہاتھ بڑھا کر ساتھ چلنے پر آمادہ کرنے والوں کو بھی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوف کے سائے اتنا اندھیرا کر دیتے ہیں کہ چکاچوند روشنی انہیں اندھیروں سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہےزندگی رک جاتی ہے۔ جسم مر جائے تو مٹی ہو جاتا ہے۔ روح بہک جائے تو بھٹک جاتی ہے۔
زندگی میں ناکامیوں اور کامیابیوں سے الگ الگ کمزوری اور قوت کی شاخیں نکلتی ہیں۔ جوں جوں خواہشات کے پتے بڑے ہوتے ہیں، یقین کی شاخیں مضبوطی اختیار کر لیتی ہیں تاکہ ان کے وزن کو سہار سکیں۔ نرم سی کونپل جو انگلی کی پور سے مسلی جا سکتی ہے، اتنی قوت کی حامل ہوتی ہے کہ سخت زمین حتی کہ پتھروں تک کو چیر کر اپنی ہمت و قوت کا برملا اظہار کرتی ہیں۔حالات کا مقابلہ دلجمعی سے کرنے والے اعصابی قوت کے حامل بن جاتے ہیں۔جن کے سر پر پریشانیوں کی گھٹڑی اور پاؤں میں مشکلات کی بیڑیاں ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
جتنی کوئی شے چھوٹی سے چھوٹی ہوتی ہے  ان کی تعداد اربوں کھربوں میں چلی جاتی ہے اور بڑی سے بڑی  کی طوالت زندگی کا دارومدار ساخت اور وزن پر ہوتا ہے۔اچھائی اور برائی کے ترازو میں سچ اور جھوٹ کا تناسب بھی لاکھوں اور چند ایک جیسا ہے۔ کسی ایک کا سچ صدیوں بعد بھی زندہ رہتا ہے اور کروڑہا جھوٹ چند سال بعد فراموش کر دئیے جاتے ہیں۔نظام حیات کے برخلاف جھوٹ کی پیوندکاری سے ریا کاری کا پودا اُگایا جا سکتا ہے مگر نظام قدرت کے برخلاف جانے والوں کو انصاف کے بےرحم ہاتھوں کی جکڑ سے بچنے کی امید رکھنی عبث ہے۔ دو میل سے دو ہزار میل تک اختیار و اقتدار کی اس جنگ میں جو جیتا وہی سکندر کا لقب پانے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ جو قومیں اپنی روایت و رواج اور اخلاق و اطوار چھوڑ دیتی ہیں وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔آپس میں دست و گریبان رہتی ہیں۔ وہاں اختیارات کے میٹھے چشمے اقتدار کے بھاری پتھروں سے بند باندھ کر روک لئے جاتے ہیں اور بے کسوں کی بستیاں اُمید کے دیپ جلائے میٹھے پانیوں کے انتظار میں سوکھ جاتی ہیں۔آسمان کی طرف نظریں اُٹھائے وہ مالک سے شکوہ کرتی ہیں کہ جسے تو نے نائب بنایا وہ مالک بن بیٹھے۔ جنہیں تو نے آزاد پیدا کیا وہ نسل در نسل حاکم کے نسل در نسل غلام بنا دئیے گئے۔ 1857 تک سوئی ہوئی قوم کو جاگنے میں 1947 تک 90 سال لگے۔1948 سے   سوئی ہوئی قوم دوبارہ جاگنے پر کب آمادہ ہوتی ہے یہ دیکھنا اب باقی ہے۔   
   
تحریر: محمودالحق
در دستک >>

Mar 3, 2017

دل دریا سمندروں ڈونگھے


سبز پسند کرنے والے کالے کے قریب نہیں جاتے، نیلا کسی کو بھلا لگے توپیلا کسی کی آنکھیں چندھیا دے۔کوئی سر پر وزن اُٹھاتا ہے تو کسی کی نظریں بارآوری سے جھک جاتی ہیں۔کوئی پاؤں کی حرکت سے چولہا جلاتا ہے تو کوئی قلم کی جنبش سے۔گردشِ خون برقرار رکھنے کے لئے دانتوں سے چبا کر حلق سے اُتارا جاتا ہےاور فاسد بدبو سے جسم چھٹکارا پا لیتا ہے۔کانوں سے دماغ کے نہاں خانوں میں  جو ہوا بن اُترے، زبان سے لفظ کبھی کڑوا تو کبھی میٹھا بن نکلے۔جو اصل  اندررہ جائے غبارِ خیال بن تہہ در تہہ وجودِ ناتواں پر سنگ بار جڑتا رہے۔ جہاں سے جو سیکھا ،اسی دور میں اسے لوٹانا ہوتا ہے۔
پیدا ہوتے ہی احساس کا رشتہ پروان چڑھتا ہے پھر پہچان کا ،پھر تعلق گہرا ہوتا ہے زبان کا۔سماج سے تعلق بندھتا ہے تعلیم و تربیت سے۔ افراد سے قرب ملتا ہے اخلاق و اطوار سے۔سوچ پہاڑوں سے اُبلتے پانی کی مثل  گنگناتی شور مچاتی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ کسی کو علم ورثے میں ملتا ہے کسی کو طاقت۔کوئی سچ سے بہادری پا لیتا ہے کوئی جھوٹ سے بزدلی۔کوئی حق کے حصول کے لئے کوشش سے آگے بڑھتا ہے تو کوئی چھین کر حق جتاتا ہے۔دو صدیاں پہلے اپنی منزل پا کر سب جا چکے، پچھلی صدی میں جنہیں منزل مل گئی وہ جانے کے انتظار میں۔ بندوبست ایسا کہ شاید لوٹ کر پھر باری آئے ،جو نہ آئی اور نہ ہی آئے گی۔ایک بار آئے ہیں تو ایک بار ہی جانا ہے۔
فیلنگ کی دنیا ڈیلنگ سے اتنی ہی دور ہے جتنی جلد کے نیچے شریانوں میں بہتا لہو ہوا سے ،جو جلد کو مَس کرتی گزر جاتی ہے۔نفرت تکبر کو جنم دیتی ہے تو غصہ انتقام کو۔محبت میں احساس غالب رہتا ہے تو رقابت میں حسد پروان چڑھتا ہے۔دل کو کھیل بنانے والادماغ دھیرے دھیرے سوچ کی سنگ باری سے عاجز آنے لگتا ہےاورنفرت حقارت شکوہ شکایت حسد جلن کی بھاری سلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جہاں سے نکلتے نکلتے پاؤں میں لغزش اور ہاتھوں میں رعشہ طاری ہو جاتا ہےاور سر نہ نہ کی تکرار جیسا ہلنے لگتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کیا پا یا اور کیا چھوڑا۔ 
عجب تماشا ہے جو کھلاڑی میدان میں اپنے لئے اُترے اس کی ناقص کارکردگی اجتماعی عزت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔حالانکہ  فائدہ بھی خالص اسی کا نقصان بھی اسی کا مگر قیمتی وقت کے ضیاع کی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں۔وہ نفرت حقارت کے ساتھ ساتھ بدزبانی سے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ ملاوٹ شدہ خوراک ،جعلی ادویات ،بے ہنگم ٹریفک ،بات بات پر جھوٹ، کسی وعدہ کا وفا نہ ہونا،غریب چاہے پسینے میں نہائے یا خون بہائے،نا انصافی کے ستون سے بندھ کر مظلوم رشوت کے کوڑے کھائے، تو ایسا معاشرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی عملی تصویر نظر آتاہے۔
کس سچ کو ماننے والے ہیں ،کس حق کے پیروکار ہیں ،کس کوراضی رکھنا چاہتے ہیں، کیاہے اس خواب کی تعبیر،کسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں،کس سے تعریف و تحسین چاہتے ہیں، کون ہے جو  چند جملوں کے عوض خزانوں کے منہ کھول دے۔آخری ڈگری حصولِ رزق میں مددگار ہوتی ہے  باقی صندوقوں میں پڑی رہتی ہیں۔
اللہ تبارک تعالی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو انعام و اکرام کی خوشخبری دیتا ہے۔جو رزق عطا فرماتا ہے وہ بھی اسی کے فضل سے ہے۔ایسی جنت جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جہاں کھجور اور انگور کے باغات ہیں ۔اس زمانہ میں رائج دستور ِحیات کے مطابق رہنے سے تو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ دنیاوی امارت ،شہرت ،امامت کے لئے فلسفہ ءجہالت پر اتنا زور کہ دم ہی نکلنے سے رہ جائے۔ جو آسائش پالیں وہ خوش نصیب جو رہ جائیں وہ ناکام و نامراد۔ مراد  بر آنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مدد مانگو صبر اور نمازسے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔انسان زندگی کے پہلے دس  سال میں صرف سیکھتا ہے آخری دس سال میں صرف بھولتا ہے۔ درمیانی پچاس ساٹھ سال صرف  دوڑنے میں گزر جاتے ہیں۔چاہے حصے میں جیت آئے یا ہار۔
جنہوں نے آنکھوں سے لفظوں کی پہچان کو بھولتے دیکھا ہو،زبان سے لفظوں کی ادائیگی کو رکتے دیکھا ہو،ہاتھوں اور انگلیوں سے نوالہ بنانے اور پکڑنے کو بھولتے دیکھا ہو،ٹانگوں پر جسم کو بوجھ محسوس کرتے دیکھا ہو، ایک ایک اعضاء کی موت کا منظر سالہا سال دیکھا ہو،ڈگریوں کو صندوق میں اور دولت کو بینک میں کسی کام نہ آتے دیکھا ہو، وہ لاکھوں  میں چند ایک ہوں گے اور ان کے لئے زندگی کا روائتی فلسفہء حیات   درسگاہی  کتب جیسا نہیں ہو سکتا۔علم و عرفان کی آگہی جنہیں نصیب ہو وہ اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں جس میں مدد صرف اللہ سے صبر اور نماز سے مانگی جاتی ہے۔
دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہُو
وچے بیڑے وچے جھیرے وچے ونجھ مہانے ہُو
چوداں طبق دلے دے اندر تنبو وانگوں تانے ہُو
دل دا محرم ہووے باہُو سوئی رب پچھانے ہُو

تحریر : محمودالحق       
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک