May 12, 2019

ادھورے سفر

بچپن گزر جاتا ہے ، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ماضی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ مگربعض لوگ زندگی میں طوفان کی طرح آتے ہیں اور ایک جھونکے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ نہ تو راہ و رسم رہتی ہے ، نہ ہی تعلق قائم رہتا ہے اور نہ اپنائیت و وابستگی۔ بس یادداشت کے کینوس پر گرد و غبار کی مانند بس اتنی سی جیسے عینک پر پڑی دھول جو آنکھوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا کو بہت کچھ دینے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لینے والوں کی لائن میں لگے ہوتے ہیں ۔غذائی ضرورتیں انسان کی صحت و توانائی کا لیبل سجائے رکھتی ہیں اور بھوک بدن کو زندہ رکھنے کی تڑپ میں مبتلا رکھتی ہے۔ 
ایک بات تو طے ہے راستے جدا جدا ہیں منزلیں الگ الگ۔ الفاظ ترازو نہیں ہو سکتے جن پر انسان تولے جا سکتے ہیں۔ انسانی بستیوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا تنہائیاں ، جنگلی حیات میں ریوڑ ہوتے ہیں یا غول۔ 
عجب لوگ ہیں خالق کائنات کی تخلیق پر غور نہیں کرتے لیکن جب اس کا نام بادلوں، پھلوں میں نظر آئے تو اس کی شان و بڑائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی نے روٹی پر دکھا دیا تو ٹی وی پر چلا دیا۔ عجب زمانہ ہے دولت و طاقت سے عزت و وقار کا بھرم ہے۔ کردارواعتبار ، اخلاق و اطوار تو بس وہ اجزائےترکیبی ہیں جو ہر شے پہ لکھے ہوتے ہیں مگرپڑھتا کوئی نہیں۔ مال و اسباب ترازو پر رکھتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں اور ہنسی کا کسی کے پاس حساب نہیں۔ ایک ہنسی میں کتنے آنسو پڑتے ہیں۔ بس یاد ہے تو صرف مسکرانا یا رونا۔ 
جو لفظوں میں معنی تلاش کرتے ہیں ان کے سفر ادھورے ہیں۔ جو احساس تلاش کرتے ہیں وہ منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ 
محبت انسان اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوسرا اچھا لگتا ہے یا اپنا آپ اچھا لگتا ہے۔ حالانکہ چاہت احساس مانگتی ہے اوراحساس ایثار مانگتا ہے۔ ایثار قربانی مانگتا ہے تو قربانی قبولیت مانگتی ہے۔ قبولیت تعلق مانگتی ہے اور تعلق تقدس مانگتا ہے۔ تقدس وفا مانگتا ہے اور وفا عشق مانگتا ہے۔ 
عشق رضا مانگتا ہے اور رضا خدا مانگتا ہے۔ 


تحریر: محمودالحق
در دستک >>

May 2, 2019

محبوب جاں ہوتا

کاغذ پہ لکھ دیتے تو حال بیاں ہوتا ۔ یوں نہ قلب ،سفر امتحاں ہوتا
زندگی تو یوں بھی گزر گئی ۔ دل ناتواں ہوتا یا ناداں ہوتا
کس سے کہیں شکوہ جان جاناں ۔ موج تنہائی میں الفت بیاباں ہوتا
سینے میں دہکتا انگاروں پہ لوٹتا ۔ دھڑکا نہ ہوتا تو ٹھہرا آسماں ہوتا
آنے میں بیتابی جانے میں شادابی ۔ خیال پرواز ہوتی ،نہ قدم نشاں ہوتا
دولت ترازو میں رہاعشق بے مول ۔ جبر تسلسل نہ ہوتا، کانٹا گلستاں ہوتا
 آنکھ سے نہ چھلکا ہوتا جو قطرہ ۔ رگوں میں لہو بن دوڑتا ارماں ہوتا
 روح احساس کو ستانےوالے ۔ نہ ہوتا تو تو یہ میرا جہاں ہوتا
خلوت میں نہ ہوتی گر دستک ۔ جلوت میں محمود محبوب جاں ہوتا


محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک