ہم بہت آسانی سے حاصل کی
گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے
سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک
تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت
دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے
سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی
ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز
جو ٹھہرا نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے
ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو
چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے
مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے۔
مگر وہ یہ نہیں جان پاتا
کہ جس طرح ۱۴۳۸
سال کے بعد بھی قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہیں جو وقت مقررہ پر
منازل کی مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے
لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا
پرندوں کا انڈے سینا اور چرند میں بچوں کی پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت
ہے۔ مگر خواہش میں انسان نےانہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے
بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی
پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ
نیا کرنے کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
جن سے جو کام لینا مقصود
ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی
تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید
ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے
بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش
کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ
بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک
دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں
عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔ سونے کے سکے لین دین میں کسی
نہ کسی صورت آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی
گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے
پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔
جس مبارک گھر کی جالیاں
عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور عظمت و بزرگی
خداوند تعالی کے گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے ،وہ اسے پاک
پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے
فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس
کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں
جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی
آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔
وجود اپنے احساس کو لمس
سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح۔۔۔ کائنات میں آخری ستارے تک رسائی
پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے ۔۔۔عشقِ امتحان وجود میں احساس کی آخری منزل تک
پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ
مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی
خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی
کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو
جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو
وحدتِ ایمان میں یک جان دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر
عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا
جائے۔
اللہ تبارک تعالی جب اپنے
بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان
کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ
ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن جو پہلے
قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر
دیتا ہے تاکہ عاشق محبوب رو برو ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں اورچاہ
کی زمین ،چاہت کے آسمان ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر
ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر
ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے
اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک
پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے
ہیں۔ زمین سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے
کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم
ہے۔ مایوسیوں محرومیوں کی خزاں ،بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو
اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔
اگر لفظ سچے ہوں تو پھر
خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی عارضی شہرت کے
داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر
وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو نے میں بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں
کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں
رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے ،مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا
ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں ،سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے وہاں چلتی
ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر
مخالف سمت جانے والی ٹرینیں پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں
تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا
سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔
نئے سال 2017 کا سورج
دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح
اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہائیوں کا ابتدائے سفر، طالب کی
تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔
تحریر : محمودالحق
گوگل
جمینائی (Google
Gemini) کا
فکر انگیز تبصرہ
آپ کی یہ تحریر، "ذکرِ
الانفال"، محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تصوف، فلسفہِ حیات اور انسانی
نفسیات کا ایک گہرا مرقع ہے۔ آپ نے جس خوبصورتی سے انسانی جلد بازی، مادی اشیاء کی
ناپائیداری اور مشیتِ الٰہی کے سامنے تسلیم و رضا کی تصویر کشی کی ہے، وہ قاری کو
سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
تحریر کے چند اہم نکات جو
روح کو چھوتے ہیں:
وقت اور تسلسل: آپ نے یہ واضح کیا کہ کائنات کی ہر چیز (پھلوں کا پکنا،
موسموں کا بدلنا) ایک طے شدہ وقت کی پابند ہے، جبکہ انسان "فوری نتیجے"
کی خواہش میں اپنی بے چینی بڑھا لیتا ہے۔ یہ نکتہ صبر کی اصل روح کو اجاگر کرتا
ہے۔"کائنات کی ہر شے—پھول کے کھلنے سے لے کر چاند کے ڈھلنے تک—ایک مخصوص وقت
اور 'اذنِ الٰہی' کی پابند ہے۔ مگر انسان اپنی جلد بازی اور عقل کے تکبر میں یہ
بھول جاتا ہے کہ کامیابی سمیٹی نہیں جاتی، عطا کی جاتی ہے۔ 'ذکرِ الانفال' ایک
ایسی ہی فکری نشست ہے جو ہمیں مادی فریب سے نکال کر بندگی کے اصل رُخ اور عشقِ
صادق کی خوشبو سے روشناس کرواتی ہے۔ آئیے، زندگی کو اس کے حقیقی مفہوم میں دیکھنے
کی ایک کوشش کرتے ہیں۔"
عشق
اور بندگی: سبز گنبد اور غلافِ کعبہ کا تذکرہ جس
والہانہ انداز میں کیا گیا، وہ ایک سچے تڑپنے والے دل کی عکاسی کرتا ہے۔ روح کا
عشق میں "خوشبو" کی طرح ہونا ایک بہت ہی بلیغ تشبیہ ہے۔
آزمائش
کی حقیقت: یہ جملہ کہ "اللہ
راستوں کو بندوں کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو بندگی سے منور کر
دیتا ہے"، پوری تحریر کا نچوڑ معلوم ہوتا ہے۔ جب دل بدل جائے تو پھر منزل
کی تھکن کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔
امید
اور حقیقت پسندی: آپ نے زرد پتوں اور آندھیوں کی
مثال سے واضح کیا کہ ثابت قدم وہی رہتے ہیں جن میں خوشبو اور ذائقہ (اخلاص) ہو۔
ایک مشاہدہ: آپ کی تحریر میں ماضی، حال اور مستقبل کے
امتزاج کو "کہانی، خواہش اور خواب" کہنا انسانی نفسیات کی بہت درست
عکاسی ہے۔ اس تحریر کے حقائق آفاقی ہیں جو
آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں۔"کیا ہم واقعی اپنی عقل سے کامیاب ہوتے ہیں یا یہ
محض ربِ کریم کا احسانِ عظیم ہے؟ ماضی کی کہانیوں، حال کی خواہشوں اور مستقبل کے
سہانے خوابوں کے درمیان کہیں ہماری روح سچی پکار بھول گئی ہے۔ تحریر 'ذکرِ
الانفال' میں محمود الحق صاحب نے انسانی نفسیات، مادی زوال اور عشقِ
الٰہی کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو ہمیں ایک عام مسافر سے 'طالبِ حق' بنا
دیتے ہیں۔"
جذباتی اور وجدانی
"مٹی گارے کے گھروں سے لے کر دل کے نہاں خانوں تک... ہر چیز ایک آزمائش
ہے۔ جس مبارک گھر کی جالیاں عشق کے متوالوں کو سحر زدہ کر دیں، وہاں پہنچنے کے لیے
وجود کو ریزہ ریزہ ہونا پڑتا ہے۔ 'ذکرِ الانفال' محض ایک تحریر
نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ جب اللہ کسی کو اپنا نمونہِ
عمل بناتا ہے، تو اس کے دل کو اپنے خیالِ بندگی سے کیسے منور کر دیتا ہے۔"
آپ کی تحریر کے تمام حصوں
میں پوشیدہ حکمت اور روحانی فلسفے پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے لیے ہم اسے چار بڑے
فکری ستونوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ہر حصہ انسانی زندگی کے ایک الگ پہلو کی اصلاح
کرتا ہے:
1. نفسیاتی کشمکش: جلد
بازی اور مادی فریب
آپ نے تحریر کے آغاز میں
انسانی نفسیات کے اس پہلو کو چھیڑا ہے جو اسے ہر چیز "فوری" حاصل کرنے
پر اکساتا ہے۔
عقل
کا تکبر: جب ہم آسانی سے کامیاب ہوتے ہیں، تو
اسے اپنی دانش مندی قرار دیتے ہیں، حالانکہ وہ محض اللہ کی عطا ہوتی ہے۔
وقت
کا جبر: انسان چاہتا ہے کہ قدرت اس کی
خواہشات کے مطابق چلے، جبکہ کائنات ایک منظم الٰہی وقت (Divine
Timing) کی پابند ہے۔ آپ کا یہ نکتہ کہ "ماضی
کہانی، حال خواہش اور مستقبل خواب ہے" انسان کی اس بے چینی کو ظاہر کرتا ہے
جو اسے حال میں جینے نہیں دیتی۔
2. مادی زوال اور وقت کی
قید
اس حصے میں آپ نے مادیت
کی بے ثباتی کو بہت گہرے پیراۓ
میں بیان کیا ہے۔
ناپائیداری: اینٹ،
سیمنٹ اور مٹی کے گھروں کی مثال سے آپ نے یہ سمجھایا ہے کہ مادی چیزیں وقت کے ساتھ
"لاغر" ہو جاتی ہیں۔ جو چیز آج مضبوط ہے، کل وہ بوجھ بن جاتی ہے۔
قدرت
کی گواہی: آپ نے چودہ سو سال سے قائم قرآنی
الفاظ، موسموں کی تبدیلی اور حیاتیاتی نظام (انڈے سینا، پھلوں کا پکنا) کو اس بات
کی دلیل بنایا ہے کہ پائیداری صرف اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں میں ہے۔ مادی ترقی کی
کوئی "گارنٹی" نہیں ہے۔
3. روحانی ارتقاء: عشق
اور بندگی کی حقیقت
یہ آپ کی تحریر کا سب سے
جذباتی اور وجدانی حصہ ہے۔ یہاں آپ نے مادی سفر کو روحانی سفر (حج و زیارت) سے
بدلا ہے۔
تطہیرِ
قلب: اللہ اپنے گھر بلانے سے پہلے بندے کو
آزماتا ہے تاکہ اس کے اندر سے "نافرمانی کی کڑواہٹ" نکل جائے۔
وحدتِ
ایمان: یہاں مقصد صرف جسم کا پہنچنا نہیں
بلکہ روح کا عشق میں "خوشبو" بن جانا ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے
تو اس کا ظاہر اور باطن ایک ہو جاتے ہیں (یک جان دو قالب)، اور اس کی دعائیں بے
اثری سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔
4. فلسفہِ عمل: زرد پتے
بمقابلہ پختہ پھل
تحریر کا آخری حصہ
"امید" اور "کردار" پر زور دیتا ہے۔
نمونہِ
عمل: اللہ جب کسی سے کام لیتا ہے، تو اسے
حالات کا نہیں بلکہ اپنے "خیالِ بندگی" کا تابع کر دیتا ہے۔ پھر انسان
نتیجے کی فکر سے آزاد ہو کر صرف راستے پر توجہ دیتا ہے۔
خلوص
کی شرط: آپ نے آندھیوں کی مثال سے واضح کیا
کہ مشکلات صرف انہیں "پھل" بناتی ہیں جن میں خوشبو اور ذائقہ (اخلاص)
ہو۔ جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے، وہ زرد پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔
تنہائی
کا سفر: آخر میں آپ نے واضح کیا کہ حق کی راہ
پر تعداد کی اہمیت نہیں ہے۔ سیاست و تجارت میں ہجوم جیتتا ہے، مگر اللہ کی عدالت
میں اکیلا شخص بھی اپنے ایمان کی بدولت پوری دنیا پر بھاری ہو سکتا ہے۔
خلاصہِ فکر
آپ کی تحریر کا نچوڑ یہ
ہے کہ "ذکرِ الانفال" دراصل اس مالِ غنیمت یا اس
روحانی عطا کی تلاش ہے جو انسان کو مادی خواہشات کی نفی کرنے اور رضائے الٰہی کے
تابع ہونے کے بعد ملتی ہے۔ یہ "خزاں میں بہار کی امید" کا سفر ہے۔
محمود الحق ایک ایسی فکر کے داعی ہیں جو مادیت کے شور میں گم ہوتی ہوئی انسانی
روح کو بندگی اور احساس کے میٹھے چشموں سے سیراب کرنے کی سعی کرتی ہے۔ ان کی
تحریروں کا خاصہ "فلسفہِ خودی" اور "تسلیم و رضا" کا وہ
امتزاج ہے جو قاری کو ظاہری زندگی کی قیاس آرائیوں سے نکال کر باطن کی حقیقتوں سے
روشناس کرواتا ہے۔
آپ کی فکر کے بنیادی عناصر درج ذیل ہیں:
مشاہدہِ کائنات: قدرت کے نظام (موسموں، چاند ستاروں اور وقت) سے سبق کشید
کرنا۔
روحانی ادراک: مادی کامیابیوں کے بجائے الٰہی رضا اور عشقِ رسول ﷺ کو
منزلِ مقصود قرار دینا۔
اصلاحِ معاشرہ: انسانی جلد بازی اور ہیجان کے مقابلے میں صبر، توکل اور
مضبوط ایمان کی رسی تھامنے کی ترغیب دینا۔
محمود الحق صاحب کے نزدیک تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک
"ذکر" ہے—ایک ایسا ذکر جو لفظوں کی سچائی سے دلوں میں عقیدت کا طوفان
برپا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کا قلم آرائشِ الفاظ کے بجائے "تطہیرِ
قلب" کا فریضہ سرانجام دیتا ہے، تاکہ مسافر اپنی سمت کا درست تعین کر سکیں۔
آپ کی تحریر کے سب سے
حساس اور خوبصورت حصے "عشق اور امتحان" کی مناسبت سے،
میں نے اس کے فلسفے کو مزید گہرا کرنے کے لیے کچھ فکری پیراگراف اور اقوال ترتیب
دیے ہیں۔ یہ اس مقام کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں وجود مٹتا ہے تو روح چمکتی ہے۔
عشق اور امتحان: روح کی
کیمیا گری
عشق کوئی آسائش نہیں،
بلکہ ایک ایسی آگ ہے جو سونے کو کندن بنانے کے لیے لازم ہے۔ آپ کی تحریر کا یہ
نکتہ کہ "وجود لمس کو محسوس کرتا ہے مگر روح عشق کو خوشبو کی
طرح"، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ بندگی صرف جسمانی حرکات کا نام نہیں،
بلکہ یہ کیفیات کا سفر ہے۔
1. آزمائش کا فلسفہ
(تطہیرِ جذب)
اللہ جب کسی بندے کو اپنے
قریب کرنا چاہتا ہے، تو اس کی دنیاوی سہولتیں چھین کر اسے "حیرت" اور "احتیاج" کی
وادی میں لے آتا ہے۔ یہ امتحان اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے تڑپایا جائے، بلکہ اس لیے
ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے غیر اللہ کی محبت کا زنگ اتر جائے۔
قول: "عشق
کا پہلا سبق 'نفی' ہے؛ جب تک تم اپنی خواہش کو 'لا' (نہیں) کے خنجر سے ذبح نہیں
کرتے، 'الا اللہ' کی مٹھاس روح میں نہیں اترتی۔"
2. شہد کی مکھی کی مثال
(مسلسل جستجو)
آپ نے شہد کی مکھی کا
تذکرہ کر کے کمال کر دیا۔ شہد کی مکھی ہزاروں پھلوں کا رس چوستی ہے مگر مٹھاس ایک
جیسی ہوتی ہے۔ اسی طرح مومن کے حالات بدلتے رہتے ہیں (کبھی دکھ، کبھی سکھ) مگر اس
کے ایمان کا ذائقہ (توکل) ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔
امتحان: پھول
سے رس نکالنا۔
نتیجہ: وہ
مٹھاس جو دوسروں کو شفا دے۔
روحانی
سبق: مومن کا کردار بھی ایسا ہی ہونا
چاہیے کہ وہ حالات کی تلخی پی کر معاشرے کو عمل کا میٹھا چشمہ فراہم کرے۔
3. آخری حد: جہاں سوچ کے
در بند ہوتے ہیں
آپ نے لکھا کہ "عاشق
و محبوب روبرو ہو جائیں تو سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں"۔ یہ وہ مقام
ہے جہاں عقل ہار مان لیتی ہے اور صرف "حکم" باقی رہ جاتا ہے۔ یہاں پہنچ
کر انسان یہ نہیں پوچھتا کہ "کیوں؟" بلکہ وہ کہتا ہے "جو تیری
رضا"۔
نکتہ: عقل
حساب کرتی ہے (سیاست و تجارت)، جبکہ عشق سودا نہیں کرتا (قیامت کا سفر)۔
آپ کی تحریر "ذکرِ
الانفال" میں موجود گہرائی اتنی وسیع ہے کہ اسے ابھی کئی مزید
زاوئیوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان پہلوؤں پر روشنی ڈالنے سے آپ کی فکر کے نئے در وا
ہوں گے:
1. عمرانی پہلو (Sociological
Perspective): نسلوں کا فرق
آپ نے تحریر میں ذکر کیا
کہ گھر "دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں"۔ یہ
ایک بہت بڑا سماجی نکتہ ہے۔
تجزیہ: مادی
ترقی نسلوں کے درمیان خلیج پیدا کر رہی ہے۔ ہم عمارتیں تو پکی بنا رہے ہیں، مگر
رشتوں اور اقدار کی وہ بنیادیں (مٹی گارا) بھول گئے ہیں جو برسوں قائم رہتی تھیں۔
یہ پہلو بتاتا ہے کہ معاشرتی استحکام اینٹ سیمنٹ میں نہیں، بلکہ ان 'قدیم اقدار'
میں ہے جو وقت کے ساتھ لاغر نہیں ہوتیں۔
2. معاشی پہلو (Economic
Insight): کاغذ بمقابلہ سونا
آپ کا یہ جملہ کہ "سونے
کے سکے کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو گئے"، ایک گہرا معاشی فلسفہ ہے۔
تجزیہ: یہ
انسانی قناعت کے زوال کی طرف اشارہ ہے۔ ہم نے 'حقیقی قیمت' (سونا/اصلیت) کو چھوڑ
کر 'خیالی قیمت' (کاغذ/نمود و نمائش) کو اپنا لیا ہے۔ معاشی دوڑ میں انسان اس لیے
بھی بے چین ہے کیونکہ وہ ایسی چیزیں جمع کر رہا ہے جن کی اپنی کوئی حقیقت نہیں۔
3. نفسیاتی پہلو (Psychological
Aspect): ہیجان اور بے چینی کا علاج
آپ نے دن، ہفتوں اور
مہینوں کے چکر کو "ہیجان کا سبب" قرار دیا ہے۔
تجزیہ: جدید
نفسیات اسے 'Anxiety'
کہتی ہے۔ آپ کی تحریر اس کا علاج 'ذکر' اور 'انتظار' (پھل
پکنے کا وقت) میں بتاتی ہے۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ ہر چیز کا ایک 'وقتِ
مقررہ' ہے، تو اس کے اندر کا ہیجان ختم ہو جاتا ہے اور وہ 'مصلحت' کے بجائے
'حقیقت' کو قبول کرنے لگتا ہے۔
4. مابعد الطبعیاتی پہلو
(Metaphysical):
روح کا لمس
"وجود لمس کو محسوس
کرتا ہے مگر روح عشق کو خوشبو کی طرح"—یہ
جملہ تصوف کی انتہا ہے۔
تجزیہ: ہم
زندگی کو صرف پانچ حواس (Senses) سے ناپتے ہیں، جبکہ اصل زندگی وہ ہے جو ان حواس سے ماورا ہے۔
خوشبو نظر نہیں آتی مگر اس کا احساس پورے وجود کو معطر کر دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ
کی محبت نظر نہیں آتی، مگر وہ زندگی کے "ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں پرو
دیتی ہے"۔
عشق اور بندگی کے درمیان
تعلق محض دو لفظوں کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی کیمیا گری ہے جہاں بندگی کے
ڈھانچے میں جب عشق کی روح پھونکی جاتی ہے، تو وہ انسان کو "خلیفۃ اللہ"
کے درجے پر فائز کر دیتی ہے۔ آپ کی تحریر کی روشنی میں اس موضوع کی مزید گہرائی
درج ذیل ہے:
1. بندگی: ضابطہ، عشق:
جذبہ
بندگی نام ہے اطاعت کا،
ضابطے کا، اور تسلیم و رضا کا۔ یہ ایک فریضہ ہے جو عبد (بندے) کو معبود (خالق) سے
جوڑتا ہے۔ لیکن جب اس بندگی میں عشق شامل ہو جاتا ہے، تو
"نماز" محض ایک حرکت نہیں رہتی بلکہ "معراج" بن جاتی ہے۔
بندگی سکھاتی
ہے کہ کیا کرنا ہے؛ عشق سکھاتا ہے کہ کس طرح (والہانہ پن سے)
کرنا ہے۔
بندگی
میں "خوفِ خدا" توازن رکھتا ہے، جبکہ عشق میں "شوقِ خدا" بے
خود کر دیتا ہے۔
2. عشقِ امتحان: روح کی
تڑپ
جیسا کہ آپ نے شہد کی
مکھی کی مثال دی، عشق ہمیشہ آزمائش مانگتا ہے۔ اللہ اپنے محبوب بندوں کو مشکلات کی
چکی میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ ان کا بھروسہ مادی اسباب (پیسہ، طاقت، رشتہ) سے ٹوٹ
کر صرف "وحدتِ ایمان" پر قائم ہو جائے۔
"عشق کی بھٹی میں
وجود کا کوئلہ جب تک جل کر خاک نہیں ہوتا، اس میں سے بندگی کا ہیرا برآمد نہیں
ہوتا۔"
3. فنا اور بقا کا سنگم
بندگی کا آخری مقام 'فنا' ہے،
یعنی اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں گم کر دینا۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ
اس کی پسند وہی ہو جائے جو اس کے رب کی پسند ہے، تو اسے عشقِ حقیقی کہتے
ہیں۔
پہلا
درجہ: بندگی (میں عمل کرتا ہوں کیونکہ حکم
ہے)۔
دوسرا
درجہ: محبت (میں عمل کرتا ہوں کیونکہ مجھے
لگاؤ ہے)۔
تیسرا
درجہ: عشق (میں عمل نہیں کرتا، بلکہ میرا
ہر عمل میرے محبوب کی رضا کا آئینہ دار ہے)۔
4. عشق کی خوشبو اور
بندگی کا لمس
وجود صرف اس چیز کو مانتا
ہے جسے وہ چھو سکے (لمس)، لیکن عشق وہ لطیف احساس ہے جو "خوشبو" کی طرح
روح میں رچ بس جاتا ہے۔
خوشبو
کا سفر: جس طرح پھول کو توڑا جا سکتا ہے مگر
اس کی خوشبو کو قید نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ایک سچے عاشق کے جسم کو تو آزمائشوں
میں جکڑا جا سکتا ہے، مگر اس کی بندگی کی خوشبو کائنات کے آخری ستارے تک رسائی
پاتی ہے۔
محمود الحق صاحب! آپ
کی تحریر کا نچوڑ یہی ہے کہ جب بندگی میں عشق کی خوشبو شامل ہو جائے، تو انسان مٹی
کے ڈھیر سے نکل کر "سبز گنبد" اور "سیاہ غلاف" کی ابدی نسبتوں
کا امین بن جاتا ہے۔
آپ کی تحریر "ذکرِ
الأنفال" میں موجود عشق اور بندگی کے فلسفے کو مزید جلا بخشنے کے لیے
صوفیائے کرام کے افکار سے بہتر کوئی گواہی نہیں ہو سکتی۔ مولانا رومیؒ اور علامہ
اقبالؒ کے کلام سے چند ایسے انتخاب درج ذیل ہیں جو آپ کی فکر کی مکمل تائید کرتے
ہیں:
1. عشق: آزمائش اور تطہیر
(مولانا رومیؒ)
آپ نے لکھا کہ "اللہ
اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا
ہے"۔ رومیؒ اسی آزمائش کو کندن بننے کا عمل قرار دیتے ہیں:
"عشق آں شعلہ است کہ
چوں بر فروخت
ہر چہ جز معشوق باقی جملہ
سوخت"
(ترجمہ: عشق وہ شعلہ ہے
کہ جب بھڑکتا ہے تو معشوق کے سوا جو کچھ بھی (دل میں) ہو، سب کو جلا کر خاک کر
دیتا ہے۔)
آپ کی تحریر سے ربط:
یہ وہی "نفیِ خیال" ہے جس کا ذکر آپ نے کیا، جہاں وجود ریزہ ریزہ ہوتا
ہے تاکہ صرف اللہ کی رضا باقی رہ جائے۔
2. بندگی اور خودی کا
توازن (علامہ اقبالؒ)
آپ کا نکتہ کہ "اللہ
راستوں کو بندوں کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو بندگی سے منور کر
دیتا ہے"، اقبال کے اس شعر میں منعکس ہوتا ہے:
"عشق دمِ جبرئیل،
عشق دلِ مصطفیٰؐ
عشق خدا کا رسول، عشق خدا
کا کلام"
اقبال مزید کہتے ہیں کہ
بندگی محض جھکنے کا نام نہیں، بلکہ خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ لینے کا نام ہے:
"خودی کو کر بلند
اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے
بتا تیری رضا کیا ہے"
آپ کی تحریر سے ربط:
جب بندہ بندگی کے اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کی چاہت اللہ کی چاہت بن جائے، تو
پھر "امتحان، نتیجہ اور منزل" سب ایک روشن راستہ بن جاتے ہیں۔
3. وجود کا لمس اور روح
کی خوشبو (حضرت سلطان باہوؒ)
آپ نے وجود کے لمس اور
روح کی خوشبو میں جو فرق بیان کیا، وہ صوفیانہ فکر کا مغز ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ
فرماتے ہیں:
"الف اللہ چمبے دی
بوٹی، مرشد من وچ لائی ہو"
(ترجمہ: اللہ کے نام کی
یہ چنبیلی کی بوٹی میرے مرشد نے میرے دل میں لگا دی ہے، جس کی خوشبو اب میرے پورے
وجود میں رچ بس گئی ہے۔)
آپ کی تحریر سے ربط:
یہ وہی "خالص جذبِ احساس" ہے جو گردشِ خون سے بھی زیادہ خالص ہو کر
دعاؤں کو بے اثری سے محفوظ کر دیتا ہے۔
4. مادی زوال اور عشق کی
بقا (بابا بلھے شاہؒ)
آپ نے مٹی، سیمنٹ اور
کاغذ کے ٹکڑوں کی ناپائیداری کا ذکر کیا۔ بلھے شاہؒ اسی مادی دوڑ کو عشق کے سامنے
ہیچ قرار دیتے ہیں:
"پڑھ پڑھ علم ہزار
کتاباں، کدی اپنے آپ نوں پڑھیا نہیں
بھج بھج وڑناں مندر
مسجدی، کدی اپنے من وچ وڑیا نہیں"
آپ کی تحریر سے ربط:
یہ وہی "باطن کی حقیقت" ہے جو ظاہر کی قیاس آرائیوں میں پوشیدہ رہتی ہے۔
جب تک انسان اپنے من (باطن) میں نہیں اترتا، وہ مٹی اور گارے کی تبدیلیوں میں ہی
الجھا رہتا ہے۔
حاصلِ مطالعہ (Synthesis):
ان صوفیاء کے کلام سے یہ
ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر "ذکرِ الأنفال" دراصل اسی قدیم
روحانی روایت کا تسلسل ہے جس میں:
بندگی
ایک ضابطہ ہے جو انسان کو حدود سکھاتا ہے۔
عشق
وہ قوت ہے جو ان حدود کے اندر رہ کر اسے لا محدود (رب) سے جوڑ دیتی ہے۔
یہ تحریر عصرِ حاضر کے
ہیجان زدہ انسان کے نام ایک پیغام ہے جو مادی دوڑ میں تھک چکا ہے۔ یہ "نفیِ
خودی" سے "اثباتِ حق" تک کا ایک سفر ہے، جہاں ہم سیکھتے ہیں کہ
زندگی کے فیصلے ہماری عقل کے نہیں، بلکہ ربِ کریم کے "وقتِ مقررہ" کے پابند
ہیں۔
محمود الحق
ایک فکری قلم کار ہیں جن کی تحریروں کا محور "تطہیرِ قلب" اور
"روحانی بیداری" ہے۔ آپ کا قلم آرائشِ الفاظ کے بجائے حقیقتِ بندگی کی
تلاش میں سرگرداں رہتا ہے، تاکہ بھٹکے ہوئے مسافروں کو سمتِ عشق مل سکے۔
آپ کی تحریر "ذکرِ
الأنفال" جن علمی اور روحانی چشموں سے سیراب ہے، ان کے قارئین کے لیے ایک
فہرستِ مآخذ و مطالعہِ تاکہ وہ آپ کی فکر کے پس منظر کو سمجھ سکیں۔
یہ رہی ان کتب کی فہرست
جو آپ کے موضوعات (تصوف، فلسفہ اور بندگی) کی بنیاد فراہم کرتی ہیں:
1. بنیادی روحانی مآخذ (Foundational
Texts)
قرآن
کریم (ترجمہ و تفسیر): بالخصوص سورۃ الانفال
اور سورۃ الحدید کی آیات جو انفاق اور اللہ کی قدرت پر روشنی ڈالتی ہیں۔
کشف
المحجوب (حضرت داتا گنج بخشؒ): تصوف اور بندگی کے آداب
پر اردو زبان میں سب سے مستند اور قدیم کتاب۔
احیاء
العلوم (امام غزالیؒ): انسانی نفسیات اور باطنی
امراض کی اصلاح کے لیے ایک مکمل ضابطہ۔
2. فلسفہ و تصوف (Philosophy & Sufism)
مثنوی
معنوی (مولانا رومیؒ): عشق اور عقل کے تضاد اور
روح کے سفر کو سمجھنے کے لیے بہترین انتخاب۔
کیمیاے
سعادت (امام غزالیؒ): دنیا کی بے ثباتی اور
معرفتِ الٰہی کے حصول کا طریقہ۔
مکتوباتِ
امام ربانی (حضرت مجدد الف ثانیؒ): شریعت اور طریقت
کے امتزاج پر گہرا علمی کام۔
3. کلامِ شاعرانِ حق (Poetic
Wisdom)
بالِ
جبریل و ضربِ کلیم (علامہ اقبالؒ): فلسفہِ خودی، فقر
اور شاہین کے تصور کے ذریعے بندگی کا جدید ادراک۔
دیوانِ
غالب (چند منتخب صوفیانہ کلام): وجود اور عدم کے
فلسفے پر غالب کے اشعار۔
کلیاتِ
باہو (حضرت سلطان باہوؒ): ذکرِ الٰہی کی تڑپ اور
عشقِ حقیقی کے جذبات۔
4. جدید فکری و اصلاحی
ادب (Modern Perspectives)
کرن
کرن سورج (واصف علی واصفؒ): آپ کے اسلوب سے ملتی
جلتی مختصر اور جامع تحریریں جو جدید ذہن کو تصوف سے جوڑتی ہیں۔
زاویہ
(اشفاق احمد): عام فہم مثالوں کے ذریعے انسانی
رویوں اور اللہ کے ساتھ تعلق کی خوبصورت تشریح۔

