Feb 22, 2018

سرِ آئینہ میرا عکس ہے

رات کے سناٹے میں ہو کا عالم ہے،کہیں دور سے کسی گاڑی کے گزرنے کی آواز عالم سکوت میں ارتعاش کا سبب ہو جاتی ہے۔روز ہی ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں ۔ کوئی سکون محسوس کرتا ہے اور کسی کو تنہائی اور خوف کی سراسیمگی طاری ہو جاتی ہے۔یہ 
وقت تو نعمت ہے جو روشنی سے دور جانے پر انسانوں کی بستی کو سلا دیتا ہے۔ جب وہ ہر مشکل، ہر پریشانی،ہر غم اور دنیاوی ہر خواہش سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔انسان کو انسان سے کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں رہتی۔درد سہلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔غمگسار کی طلب نہیں رہتی۔ان لمحوں میں زندگی قہقہوں سے بھی دور چلی جاتی ہے۔
دن کے اُجالے انسانی رویوں کے چابک سے قہر برپا کرتے ہیں۔جنگل کے جانوروں کی شب بسری شہروں سے مختلف نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب انسانوں کے ساتھ ان کا نفس بھی سویا ہوتا ہے۔دن کی روشنی میں پرندے خوراک کی تلاش میں پر پھڑپھڑاتے ہیں اور جانور خوراک و شکار کی تلاش میں کمر بستہ اور انسان دنیاوی خواہشات کے ڈبے نفس کے انجن کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو دن بھر ساز وسامان سے بھرنے کی کوشش میں جتا رہتا ہے اور ادھر ادھر سے کچھ نئے ڈبے نفس کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ رات بستر تک پہنچنے تک نفس اتنا بے حال ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ انسان کو دنیا و مافیا سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
کبھی نہ سونے والی چیونٹیاں اور دن بھر سونے والے جانور ایک ہی فطرت پر زندہ رہتے ہیں مگر انسان اپنے عمل سے کردار سے سوچ سے خواہش سےخوبیوں سے خامیوں سے نیکی سے بدی سے اچھائی سے برائی سے خوشی سے غم سے صبر سے جلد بازی سے پانے سے کھونے سے الگ الگ حصوں میں  زندہ رہتے ہیں۔ جو بھیڑ میں تو ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں مگر کردار و افکار میں جدا جدا۔دولت شہرت  عزت کے متلاشی نفس کے انجن کے پیچھے ان خالی ڈبوں کو جوڑ کر منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔جہاں ساز وسامان سے لدی بوگیاں ان کے پاس سے گزرتی ہیں تو وہ مزید بوگیوں کے  اضافے کےساتھ رفتار بھی بڑھا لیتے ہیں۔
اچھائی اور نیکیوں کے راستے پر چلنے والے دراصل اللہ  کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر چلنے والے ہیں اور دنیاوی خواہشات کے حصول سے شہرت دولت عزت کی سیڑھی چاہنے والے اس شیطان کے پیروکار ہیں جن میں نفس اتنا   بھوکاہوتا ہےکہ کئی نسلوں کے زاد راہ کے انتظام کے بعد بھی لاغر وکمزور  رہتا ہے۔ 
جو خود کو اللہ کی رضا کے سپرد کر دیتے ہیں ، انتظار کی کوفت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔صبر کی چادر اوڑھ کر قلب سکون کی گہری آغوش میں سستالیتے ہیں۔انسانی معاشرہ صرف اپنی قدر نہیں کھو رہا بلکہ انسانیت تن آسانی کی مقابلہ بازی میں مقصد حیات کو بھول چکی ہے۔اللہ تعالی کی صفات  واحکامات کو اپنانے کے عمل سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ سچ کڑوہ معلوم ہوتا ہے۔ جس نے اپنے نفس میں جو پال رکھا ہے وہی اس کا ہمزاد ہے، وہی اسے عزیز ہے، وہی اس کا محبوب ہے، وہی اس کا دلدار ہے، وہی اس کا آغازہے، وہی اس کا انجام ہے۔
انسانی بستیوں میں ہم اپنے اپنے آئینوں کے سامنے رہتے ہیں جہاں دوسرا بھدا  بد شکل دکھائی دیتا ہے۔جسے ہم نے اپنے اندر پال رکھا ہے اسی کے ہم ماننے والے ہیں۔اسی کے پیروکار ہیں، جس کی حمایت کرتےہیں اسی سے وفا چاہتے ہیں۔ کسی کو تنہائی نے مار دیا ، کسی کو دکھ درد نے، کسی کو خواہشیں جینے نہیں دیتیں، کسی کو جینا یاد نہیں رہا۔جس نے زمین کی محبت سے کنارہ کر لیا، عمل اس کا گواہ ، کردار اس کی ضمانت ہو گئی۔
جس نے حقیقت کو پہچان لیا اُس نے خود کو جان لیا۔ جس نے اِس نظام فطرت کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔جتنی انسان پر مشکل پڑتی ہے اُتنی ہی اللہ کی اُس پر توجہ بڑھتی ہے۔ لیکن انسان تو خسارے میں رہنے والا ہے جو صرف اُن پر توجہ مرکوز رکھتا ہے جنہوں نے دولت شہرت عزت کو سمیٹا ہو۔اُن کو نہیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت کے سائے میں رکھا ہو۔
دنیا ایسا گلستان ہے  جہاں خوشبو  بھرے رنگ برنگے پھول دیکھنے والی آنکھ سے دل میں اُتر جاتے ہیں اور کسی کے دل میں صرف کانٹے پیوست ہو جاتے ہیں۔آنکھیں کھولنا اُس وقت مشکل ہوتا ہے جب نیند کا پورا غلبہ ہو۔نیند پوری ہونے پر تو آنکھیں خود بخود کھل جاتی ہیں۔ جو شے جتنی آسانی سے دستیاب ہو اُتنی  عام  بھی ہوتی ہے اور سستی بھی۔ گاڑیوں ، سیل فون ٹی وی کی جدت اور ٹیکنالوجی کی مثال سے سمجھنا چاہیں تو بات جلد سمجھ میں آ جائےگی مگر فطرت سے بڑی مثال کوئی نہیں جو خوبصورتی دلکشی رعنائی کے ساتھ ساتھ حکمت و دانائی میں بیمثال و لاجواب ہے۔دوسروں کی تعمیر و ترقی سے اِستفادہ حاصل کرنے کی خواہش ہر انسان میں شدت سے موجود ہے مگر عمل و کردار سے عاری معاشرے رہنماؤں پر ایک نظر ضرور ڈال لیں وہی ان کے آئینے ہیں جو اُن کی اصل صورت کے عکاس ہیں۔ جو رشتوں کے تقدس و احترام کا مفہوم نہ سمجھتے ہوں وہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔
صبح سچ کے پھول  چن کربیچنے نکلیں تو رک رک کر دیکھنے والے سینکڑوں ملیں گے مگر لینے والے کوئی نہیں کیونکہ اس کے لئے اپنےعمل و کردار میں  پاک ذات کی صفات و احکامات کا عکس دکھائی دینا ضروری ہوتا ہے۔ جو اپنے خیال و راہ اس کے حکم کے تابع کر دیتے ہیں وہ ایک بھی جی لیتے ہیں اور جو نفس کی خواہشات میں دنیاوی شہرت دولت عزت کے طلبگار ہوتے ہیں وہ تسکین جاہ ہوتے ہیں۔ سکون جاں روح کی آزادی سے میسر آتی ہے جو دنیاوی خواہشات کی قید میں نہیں ہوتی۔ علم و عرفان کی یکتائی جنہیں حاصل ہو وہ سجدے میں محبوبیت سے سرشار ہوتے ہیں۔بدن کی ضرورت جب نشہ و سرور کی کیفیت کاشکار ہو جائے تو سمجھو منزل سے دور ہو گئے۔ ہمدردی کی ناؤ میں سفر طے نہیں ہوتے بلکہ یقین اور بھروسے کے چپوؤں سے آگے بڑھا جاتا ہے۔تعریف و تحسین چاہنے والے اور حق و سچ کی چاہ پانے والے دو مخالف سمتوں کے مسافر ہیں جہاں اول الذکر نفس کی قید میں اونچی پرواز کے طالب ہوتے ہیں حالانکہ یہ  زمین دنیا  سمیت تو ایک وقت پاک ذات کے حکم سے لپیٹ دی جائے گی اور انسان یہاں پچاس سو سال میں کفن میں لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔جنہیں یاد رکھنے والے  بھی نہیں رہتے۔ کامیابی اور ناکامی کا تعلق پانے اور محروم رہ جانے سے ہر گز نہیں ہے بلکہ ختم ہو جانے اور رہ جانے والے سے ہے۔ جو ختم ہو گئے ان کا ذکر بیکار ہے جو رہ گیا وہ افادیت سے جانا جاتا ہے، اپنے برے یا اچھا ہونے کی گواہی کے ساتھ۔پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر دوسرے پہاڑ کی چوٹی نظر آتی ہے۔کھائی میں اترنے والے صرف اپنی کھائی تک محدود ہوتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق        
در دستک >>

Feb 9, 2018

تتلیاں

زندگی تتلیوں کے رنگوں کی مانند خوبصورت دیکھائی دیتی ہے،  آغاز سے بے خبر، انجام سے انجان۔ کون جانتا ہے کہ رنگ پانے کے لئے وہ ایک سفر سے گزرتی ہے انڈہ سے شروع ہو کر لاروا سے گزرتا پیوپا کے رینگنے تک چند پتوں سے خوراک پا کر خود کو ایک ایسے خول میں مقید کرنے تک جہاں خود کو تحلیل کر کے پروں میں رنگ بھرنے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جہاں ایک ایک قطرہ نئے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ پھر چار چھ ہفتوں کی یہ زندگی اسے پھول سے پھول اور باغ سے باغ تک مستی میں مشغول دیکھائی دیتی ہے۔بچے بڑے بوڑھے خوبصورت رنگوں کے حسین امتزاج کے گرویدہ اور دلدادہ نظر آتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر بعض اوقات باغ و بہار میں خوبصورت رنگوں سے مزین تتلیاں دیکھ دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں تو کبھی افسردہ۔خوبصورت رنگوں سے پہلے رینگ رینگ کر شاخوں پر لگے پتوں کو کھا کر اتنے بھر لیتے ہیں کہ ایک دو ہفتوں میں اپنا وجود ختم کر کے ایک نئے روپ میں ڈھل جاتے ہیں۔ 
قدرت کے حسین نظارے اپنے اندر بے شمار خزانے رکھتے ہیں ، انہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتے ہیں تو روح پر سکون و پر بہار ہو جاتی ہے۔سونے ہیرے بنے جواہرات اپنے گلے میں واہ کا ترانہ الاپتے ہیں اور دوسروں کے گلے کا ہار بنیں تو آہ کی دلسوزی میں چیختے ہیں۔یہ ہاتھوں سے بنائے بت نہیں ہوتے جن کے سامنے بنانے والے بھی جھک جاتے ہیں۔ پہاڑوں چٹانوں کے زیر بار ایک وقت کے  بعدتحلیل ہو کر نئے وجود میں ڈھلتے ہیں۔ 
کوئی بادلوں سے برستا پانی قدرت کا شاہکار دیکھتا ہے اور کوئی بخارات سے بنتا بادل ایک طویل سفر کی داستان کو کرامت و کرشمہ سمجھتا ہے، جو طاقت کے سرچشمے سے اٹھتا ہے پھر بن کر بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے۔
زمین کی زرخیزی درختوں پودوں سے کھلتے مہکتے خوشبووں سے لبریز قدرت کے حسین مناظر کی تعریف و تحسین کا حق رکھتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کا عمل نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور حالت متغیر سے بے خبر۔آسمان پر اونچی اڑان بھرتی پتنگیں نظروں کو بھلی لگتی ہیں مگر لیکن  دھاگے کا پتنگ کے ساتھ بندھا ایک سرا اور اپنے ہاتھ زمین پر دوسرا سرا کبھی غور کی معرفت حاصل نہیں کر پاتا۔ جیسے زندگی میں صرف کامیابی کی منزل پر پہنچے انسان کی آسائش و آرام کی زندگی ہی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی لطف و کرم کی کہانی زبان زد عام رہ جاتی ہے۔ سفر کی صعوبتیں ، حالات کی کشمکش، ہمت و صبر سے نئے رنگ بھرنے سے پہلے پرانے وجود کو تحلیل کر کے خول سے باہر نکلنے کی زور آزمائی کو سمجھنے کی قوت عطائی سے محرومی اپنے پر نوچنے کی حالت تک پہنچا دیتی ہے۔
آنکھ بچپن سے اپنے ارد گرد پھیلے خوبصورت رنگوں اور حالات کی ستم ظریفی کے شکار اجڑتے باغات کو دیکھتے پروان چڑھتے ہیں۔ 
ان الفاظ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں، پھر کہنا کہ یہ کہنا بھی کوئی مشکل کام نہیں مگر جنم دینے والی سے اُس احساس کو کوئی دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا۔ جسے مامتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ رشتہ چیونٹی کا ہو چڑیا کا یا کسی انسان کا۔ 
اللہ تبار ک تعالی کی تخلیق سے محبت، کل کائنات میں بھری ماں کی محبت سے ستر گناہ سے بھی زیادہ ہے۔اتنا سوچ کر ہی وجود مٹی ہو جاتا ہے اور خالق کی محبت تخلیق کے راستے ان سیلز تک چلی جاتی ہے جو  ڈی این اے سے مامتا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔خالق کائنات کی تسبیح و ذکر سے غور و فکر کے وہ دروازے کھل جاتے ہیں جہاں حسن و جمال کی کہکشائیں قوس وقزح کے بظاہر دکھنے والے رنگ اور ان دیکھے جلوے ظاہر کو فراموش کر دیتے ہیں اور حقیقت کو موجزن۔ 
محبت اظہار کی مرہون منت نہیں ہوتی ، یہ صرف ایک وجود سے دوسرے رنگ میں ڈھلتی ہے۔جب رنگ پانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف "میں" رہ جاتی ہے اور جب اپنا وجود دوسرے رنگ میں ڈھل جاتا ہے تو "تو"  رہ جاتا ہے۔ 
جب زندگی کا ہر رنگ ہر روپ صرف ایک رخ پہ بار بار مڑتا چلا جائے تو وہ ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے جہاں مسافر کوئی معنی نہیں رکھتے بس ایک سفر رہ جاتا ہے۔اپنی منزل کا نشان تو بنایا جا سکتا ہے ، جو اس منزل کا مسافر نہ ہو اس کے لئے سفر تکلیف و اضطراب کا سبب بن جائے گا۔سب اپنی اپنی راہ کے مسافر ہیں ، ہمسفر صرف پڑاو تک ہیں۔کھائی اور اونچائی میں ایک سفر آسان اور ایک مشکل ہوتا ہے۔ایک وقت کے بعد ساتھ دینے کا عمل رک جاتا ہے۔ بعض کے قریب یہ آگے بڑھنے کا سفر ہے مگر یہ خول ٹوٹنے کا عمل ہے۔ جہاں وجود تحلیل ہوتے ہیں ایک نئے روپ میں ڈھلنے کے لئے۔ جب پروں میں رنگ منعکس ہوتے ہیں، شعائیں اور روشنیاں گزرتی رنگوں میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔
رینگتا وجود کب اچانک تحلیل ہو جائے معلوم نہیں ،رنگوں کی دنیا  اچانک کب پر پھیلادے معلوم نہیں۔ 

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Jan 24, 2018

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں


کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا ،کچھ کہنا نہیں چاہتا،خدا کرے آج سوچ کو زبان نہ ملے۔ہم کہتے کہتے سنتے سنتے کہاں آ پہنچے ہیں۔معصومیت کو بھنبھوڑنے کے خیال نے بدن میں کپکپی طاری کر دی ہے۔ظلم برپا ہونے پر خون قہر بن کھول رہا ہے جو نفرت کے جزبات پر آتش فشاں کی طرح پھٹا ہے۔زندگی تسلی تشفی کی راہ گزر سے گزرتے گزرتے تلخی کو عبور کرتی  سلفی پر آن کھڑی ہوئی ہے۔جس کے آگے "میں"  انا کے مضبوط حصار میں قلعہ بند ہے۔جہاں پاس سے گزرنے والے دیکھنے سے عاری ہو چکے ہیں۔آس پاس رہتی  تتلیوں کے پروں سے رنگ نوچنے والوں سے لاعلم بھی ہیں اور لاپرواہ بھی۔آگے بڑھ بڑھ کر تماشا دیکھنے کی عادت  اور پیچھے سسکیوں اور چیخوں کے ویرانے کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں کس سے مسیحائی چاہیں۔
باپ جگر گوشے پر ڈھائے گئے ظلم پہ دکھ درد تکلیف  سےسہما بیٹھا  طاقتور وں کی فتح پر تالیوں کی گونج اور مسکراہٹوں کے نشتر سہتا ایک بت کی تصویر بنا نظر آتا ہے۔ایسے موقع پرمخالفین کو طاقت کے نشہ میں نصیحت کرنا نہیں بھولے۔ مظلوم ظلم سہنے اور اسے برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ فتح کے بگل سننے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔کیچڑ میں لت پت انسانیت دودھ کے دھلوں سےانصاف کی متمنی ہے مگر شائد اعمال کی سزا ابھی باقی ہے۔
ایک سجدہ  جوہزار سجدوں سے  انسان کو نجات دیتا ہےوہ اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ مانگنا بھی مشکل ہو گیا ،یقین کہیں کھو گیا ہے۔جو اپنی بے آواز لاٹھی سے ایسا انصاف کرتا ہے کہ نہ تو چھپنے کے لئے جگہ ملتی ہے اور نہ ہی بخشش کی مٹی نصیب ہوتی ہے۔سورج تو روشنی دیتا ہے اگلے سال بھی دے گا،جن کے لئے زمین تنگ ہو جائے انہیں ماہ و سال کی گنتی بھول جاتی ہے۔جھوٹے دعوے دلاسے عقل میں پروئے جاتے ہیں مگر توکل کے پہاڑ کے نیچے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔لاکھوں پرندے اپنی اجتماعی پرواز میں بے ترتیب نہیں ہوتے ،الجھتے ٹکراتے نہیں۔چیونٹیاں اپنے بل میں گھسنے والے سانپ مار دیتی ہیں۔جن باغات کے پنچھی کھلے میدانوں میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں تو وہاں اُلو  درختوں پر بسیرا کر لیتے ہیں۔جو معاشرہ ہاتھ چھڑانے اور نظریں چرانے کی راہ پر گامزن ہو جائے وہاں راہبر راہزن بن جاتے ہیں۔
کسی غریب کی مدد پر سینہ تان لینا انسانیت تو نہیں کہلائے گا۔ کسی نادار کی  دستگیری پر قہقہہ تو نہیں لگایا جائے گا۔بیوہ اور اس کے یتیم بچوں پر دست شفقت رکھ کر فتح کا نشان تو نہیں بنایا جائے گا۔سلائی مشین اور آٹے کے تھیلے غریب کو دیتے تصویریں بنواتے درد مند غمگسار مسکراہٹ سے فتح کا اعلان کرتے ہیں۔غربت کو سر عام رسواکیا جاتا ہے۔جو معاشرہ مادری و علاقائی زبان بولنے پر کمتری کا شکار ہو جائے، موٹر جوتے سے متاثر ہو جائے،ان کے لئے حاکم آسمانوں سے نہیں اتریں گے۔ کرامات کی توقع رکھنے والے شعبدہ بازی سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ 
الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں مگر قلم نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ کیونکہ سفید کاغذ نے کسی کالے لفظ کو قبول نہیں کرنا۔ وہ سنورناچاہتا  ہےداغ لگوانا نہیں۔ نجومی اس سال الیکشن کی کامیابی کی مراد بر آنے اور ناکامی کی خفت مٹانے والے لوگوں کو تنبیہ و تاکید کے وعظ کرتے نظر آ رہے ہیں۔مگر اصل میچ 2020 ہو گا ۔  بہت سوں کے لئے صرف سنہ ہو گا مگر ملک کی تاریخ کا پہلا اور آخری 2020ہو گا۔ جو ہار جیت پر منتج نہیں ہو گا حق کی فتح اور جھوٹ کی شکست پر فیصلہ صادر کرے گا کیونکہ سچ ہمیشہ رہنے کا حکم رکھتا ہے اور جھوٹ شکست و ریخت کی کچی دیواروں پر بنا محل۔

تحریر : محمودالحق           
در دستک >>

Jan 14, 2018

تسلسل زیاں


زندگی وہ پتنگ ہے جو ہوا تیز ہونے پر بلندیاں چھونے لگتی ہے ، کم ہوا میں جب زمین پر گرنے لگتی ہے تو اسے سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے تا وقتکہ اتنی ہوا موجود ہو کہ وہ اپنا آپ سنبھال پائے۔ بے صبری کا مظاہرہ کریں تو زمین اور دیواروں سے ٹکرا کر پھٹ جانے کی نوبت آ پہنچتی ہے۔ بعض اوقات زندگی میں اپنے ہی کھیلے گئے کھیل بہت بڑا سبق چھوڑ جاتے ہیں۔زندگی بسنت کا ایک ایسا تہوار ہے جہاں پورے شہر کی پتنگیں ایک ساتھ اڑان نہیں بھرتیں۔ بلکہ اپنی چھت پہ صرف اپنے لئے ہی ہوا کا زور چلتا ہے۔گڑیا کی شادی ، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے اور بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتی بہانے سے ایک ایک منزل بڑھتے خوشیوں اور خواہشوں کی سیڑھی پر اوپر اٹھتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنا بہت نیچے دیکھنے جیسا ہو جاتا ہے۔ چوٹی بہت قریب دکھائی دیتی ہےمگر سفر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کمزور جانوروں پر طاقتوروں کے حملے زوروشوق سے دیکھے جاتے ہیں مگر کبھی طاقتور کو کمزور ہو جانے پر کسمپرسی کی موت مرتے نہیں دیکھتے۔حسن اتنی دیر تک یاد رکھا جاتا ہے جتنی دیر تک اسے سنبھالا جاتا ہے۔ پھر وہ بھلا دیا جاتا ہے کیونکہ نئے اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
بہت غور و خوض کے بعد یہ جانا کہ ہم نے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا بلکہ ماضی نے ہمیں آگے دھکیل دیا ہے۔سالگرہ  منائی جاتی ہے آگے بڑھنے کی خوشی میں مگر یہ کیا آنے والا سال تو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ شائد یہی وجہ ہےکہ زندگی کھینچا تانی میں گزر جاتی ہے۔ محنت انسان کو آگے دھکیلتی ہے اور منزل اسے کھینچتی ہے۔ اول و آخر کے درمیان اس کھینچاتانی کا نام زندگی ہے۔  کامیابی و ناکامی کے باٹ سے زندگی کے پلڑے اونچے نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ فطرت سے زیادہ خوبصورت مثالیں موجود نہیں، لیکن انہیں سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے کہ ایسے تغیر و تبدل کی انسانی تاریخ میں یکساں نظام فطرت میں نعم البدل وہ مقام پانے میں ناکام رہتا ہے۔ 
ماضی انسان کے لئے بدن میں کمر کے اس حصے جیسا  ہے جہاں کھجلی کرنا بھی اس کے اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ مستقبل آنکھ کے اس نور کی مانند ہے جو کچھ دیر اندھیرے میں رہنے پر دیکھنے کی قوت پا لیتا ہے۔
ماضی میں کئے گئے عقل و دانش بھرے فیصلے، حال میں درپیش حالات کے مدوجزر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جو آہ رہ جاتے ہیں تو کبھی واہ بن جاتے ہیں۔ جو کانٹے تکلیف نہ دیں وہ پھولوں کے ساتھ گلدستہ کی سجاوٹ میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔انا اور تکبر وہ کانٹے ہیں جو زندگی کے حسن کو گرہن لگا دیتے ہیں۔ 
ہم تعلق مرضی کے چاہتے ہیں اور رشتے تابعداری کے۔کامیابی میں دکھاوا چاہتے ہیں اور ناکامی میں پردہ پوشی۔ طوطے وہ پسند کرتے ییں جو ہماری زبان بول سکیں، جانور وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری زبان  سمجھ سکیں اور انسان وہ پسند کرتے ہیں جو ہماری ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں۔ شاعری کو داد نہ ملے تو دیوان بھی ویران ہے۔ کہانی، ڈرامہ اور افسانہ چھپ کر گھر گھر نہ پہنچے تو بے مول ہے۔ پڑھنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں پڑھانے والے کم اور سمجھانے والےاتنے ہی ہوتے ہیں جتنے سمجھنے والے۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک