Mar 3, 2017

دل دریا سمندروں ڈونگھے


سبز پسند کرنے والے کالے کے قریب نہیں جاتے، نیلا کسی کو بھلا لگے توپیلا کسی کی آنکھیں چندھیا دے۔کوئی سر پر وزن اُٹھاتا ہے تو کسی کی نظریں بارآوری سے جھک جاتی ہیں۔کوئی پاؤں کی حرکت سے چولہا جلاتا ہے تو کوئی قلم کی جنبش سے۔گردشِ خون برقرار رکھنے کے لئے دانتوں سے چبا کر حلق سے اُتارا جاتا ہےاور فاسد بدبو سے جسم چھٹکارا پا لیتا ہے۔کانوں سے دماغ کے نہاں خانوں میں  جو ہوا بن اُترے، زبان سے لفظ کبھی کڑوا تو کبھی میٹھا بن نکلے۔جو اصل  اندررہ جائے غبارِ خیال بن تہہ در تہہ وجودِ ناتواں پر سنگ بار جڑتا رہے۔ جہاں سے جو سیکھا ،اسی دور میں اسے لوٹانا ہوتا ہے۔
پیدا ہوتے ہی احساس کا رشتہ پروان چڑھتا ہے پھر پہچان کا ،پھر تعلق گہرا ہوتا ہے زبان کا۔سماج سے تعلق بندھتا ہے تعلیم و تربیت سے۔ افراد سے قرب ملتا ہے اخلاق و اطوار سے۔سوچ پہاڑوں سے اُبلتے پانی کی مثل  گنگناتی شور مچاتی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ کسی کو علم ورثے میں ملتا ہے کسی کو طاقت۔کوئی سچ سے بہادری پا لیتا ہے کوئی جھوٹ سے بزدلی۔کوئی حق کے حصول کے لئے کوشش سے آگے بڑھتا ہے تو کوئی چھین کر حق جتاتا ہے۔دو صدیاں پہلے اپنی منزل پا کر سب جا چکے، پچھلی صدی میں جنہیں منزل مل گئی وہ جانے کے انتظار میں۔ بندوبست ایسا کہ شاید لوٹ کر پھر باری آئے ،جو نہ آئی اور نہ ہی آئے گی۔ایک بار آئے ہیں تو ایک بار ہی جانا ہے۔
فیلنگ کی دنیا ڈیلنگ سے اتنی ہی دور ہے جتنی جلد کے نیچے شریانوں میں بہتا لہو ہوا سے ،جو جلد کو مَس کرتی گزر جاتی ہے۔نفرت تکبر کو جنم دیتی ہے تو غصہ انتقام کو۔محبت میں احساس غالب رہتا ہے تو رقابت میں حسد پروان چڑھتا ہے۔دل کو کھیل بنانے والادماغ دھیرے دھیرے سوچ کی سنگ باری سے عاجز آنے لگتا ہےاورنفرت حقارت شکوہ شکایت حسد جلن کی بھاری سلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جہاں سے نکلتے نکلتے پاؤں میں لغزش اور ہاتھوں میں رعشہ طاری ہو جاتا ہےاور سر نہ نہ کی تکرار جیسا ہلنے لگتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کیا پا یا اور کیا چھوڑا۔ 
عجب تماشا ہے جو کھلاڑی میدان میں اپنے لئے اُترے اس کی ناقص کارکردگی اجتماعی عزت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔حالانکہ  فائدہ بھی خالص اسی کا نقصان بھی اسی کا مگر قیمتی وقت کے ضیاع کی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں۔وہ نفرت حقارت کے ساتھ ساتھ بدزبانی سے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ ملاوٹ شدہ خوراک ،جعلی ادویات ،بے ہنگم ٹریفک ،بات بات پر جھوٹ، کسی وعدہ کا وفا نہ ہونا،غریب چاہے پسینے میں نہائے یا خون بہائے،نا انصافی کے ستون سے بندھ کر مظلوم رشوت کے کوڑے کھائے، تو ایسا معاشرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی عملی تصویر نظر آتاہے۔
کس سچ کو ماننے والے ہیں ،کس حق کے پیروکار ہیں ،کس کوراضی رکھنا چاہتے ہیں، کیاہے اس خواب کی تعبیر،کسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں،کس سے تعریف و تحسین چاہتے ہیں، کون ہے جو  چند جملوں کے عوض خزانوں کے منہ کھول دے۔آخری ڈگری حصولِ رزق میں مددگار ہوتی ہے  باقی صندوقوں میں پڑی رہتی ہیں۔
اللہ تبارک تعالی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو انعام و اکرام کی خوشخبری دیتا ہے۔جو رزق عطا فرماتا ہے وہ بھی اسی کے فضل سے ہے۔ایسی جنت جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جہاں کھجور اور انگور کے باغات ہیں ۔اس زمانہ میں رائج دستور ِحیات کے مطابق رہنے سے تو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ دنیاوی امارت ،شہرت ،امامت کے لئے فلسفہ ءجہالت پر اتنا زور کہ دم ہی نکلنے سے رہ جائے۔ جو آسائش پالیں وہ خوش نصیب جو رہ جائیں وہ ناکام و نامراد۔ مراد  بر آنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مدد مانگو صبر اور نمازسے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔انسان زندگی کے پہلے دس  سال میں صرف سیکھتا ہے آخری دس سال میں صرف بھولتا ہے۔ درمیانی پچاس ساٹھ سال صرف  دوڑنے میں گزر جاتے ہیں۔چاہے حصے میں جیت آئے یا ہار۔
جنہوں نے آنکھوں سے لفظوں کی پہچان کو بھولتے دیکھا ہو،زبان سے لفظوں کی ادائیگی کو رکتے دیکھا ہو،ہاتھوں اور انگلیوں سے نوالہ بنانے اور پکڑنے کو بھولتے دیکھا ہو،ٹانگوں پر جسم کو بوجھ محسوس کرتے دیکھا ہو، ایک ایک اعضاء کی موت کا منظر سالہا سال دیکھا ہو،ڈگریوں کو صندوق میں اور دولت کو بینک میں کسی کام نہ آتے دیکھا ہو، وہ لاکھوں  میں چند ایک ہوں گے اور ان کے لئے زندگی کا روائتی فلسفہء حیات   درسگاہی  کتب جیسا نہیں ہو سکتا۔علم و عرفان کی آگہی جنہیں نصیب ہو وہ اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں جس میں مدد صرف اللہ سے صبر اور نماز سے مانگی جاتی ہے۔
دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہُو
وچے بیڑے وچے جھیرے وچے ونجھ مہانے ہُو
چوداں طبق دلے دے اندر تنبو وانگوں تانے ہُو
دل دا محرم ہووے باہُو سوئی رب پچھانے ہُو

تحریر : محمودالحق       
در دستک >>

Feb 28, 2017

تعلیم جمہوریت کا جھومر

ادب سے میرا رشتہ سیاستدانوں کے جمہوریت سے تعلق جیسانہیں ،  لیکن لکھنا اتنا ہی عزیز ہے جتنی انہیں سیاست ۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کا داعی تو نہیں مگر خیر خواہی میں کسی طور کم نہیں۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ  ادب دورِ حاضر میں نفع  بخش نہیں بلکہ بےقیمت ہوتا ہے ۔نئے دور میں صرف نئی سوچ  ہی انہیں قبولیت کی سند عطا کرتی ہے۔ادب ،سیاست میں نظریہ کی طرح نہیں بلکہ فکر کی صورت پروان چڑھتا ہے جو تالیوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اخبارات و رسائل چھپنے کے ایک روز بعد ہی پرانے ہو کر پکوڑے کچوریوں سے لپٹ کر تیل آلود ہو جاتے ہیں۔ادب  تحسین و پزیرائی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وقت گزرنے کے انتطار میں ہوتا ہے اولڈ از گولڈ کی مانند چمکتا ہے۔اقبالیات و غالبیات  اشرافیہ سے مراعات کے سند یافتہ نہیں بلکہ ایک سوچ و نظریہ کے غماز ہیں۔
بچوں کو سکول حصول تعلیم سے زیادہ حسن تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہےتاکہ وہ حسن پرستوں کے منظور نظر بن جائیں۔ معاشرے میں فردِ خاص کا مقام حاصل کر کے افرادِ عام پر قابلیت اور برتری کا سکہ جما سکیں۔نظام تعلیم ذہنی آزادی کی بجائے محرومی کے غلام پیدا کر رہا ہے۔ اردو بازار لاہور ایک ایسی "درسگاہ "ہے جہاں رٹے کے لئے پکے پکائے پکوان تیار ملتے ہیں اور گلی محلے کی بک شاپ  پر خلاصہ جات کے ساتھ گیس پیپرز کی تعداد  بھی مضامین  کی کتب سے کسی صورت کم نہیں ۔جن درسگاہوں میں  پانچ سو روپے سے پچاس ہزار تک ماہانہ فیس میں تعلیم بیچی جا رہی ہو ،ان میں قابلیت کے معیار کو جانچنے کے لئے  انگلش لب و لہجہ درجہ بندی میں اول مانا جاتا ہو۔ان حالات میں ردی کے کاغذوں پر اسائنمنٹس مکمل کرنے، مانگ کر کتابیں پڑھنے ، بسوں پر لٹک کر سفر کرنے ، سال سال بھر دوسرے جوتے کے لئے ترسنے  ، ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں چٹائی پر پڑھنے اور  وہیں رات بھرسونے والا نوجوان چاہے جتنا بھی قابل اور اہل کیوں نہ ہو  ۔سفارش کی سیڑھی سے رشوت کی بیل تک بمشکل رسائی پا بھی لےمگر گوگل کا دو ارب سے زیادہ   سالانہ تنخواہ پانے والا چیف ایگزیکٹو نہیں بن سکے گا لیکن ایسا ہندی لہجے میں انگریزی بولنے والے سندر راجن پچائی  نے گوگل کا   سی ای او بن کرثابت کر دکھایا۔ 
ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے میں قائد نے ہماری رہنمائی کی اقبال نے راہ دکھائی۔  سکول میں ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ ایک دن جب استاد نے طالبعلم سے سکول دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو طالبعلم نے کہا کہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بہت تھا دو قدم سکول کی طرف چلتا تو چار قدم پیچھے پھسل جاتا ۔ استاد نے حیران ہو کر پوچھا پھر سکول کیسے پہنچے تو طالبعلم نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔ آج ہمارے نظام تعلیم کا حال بارش میں کیچڑ بھرے راستے جیسا ہے ، ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے ہمیں اپنا منہ اقبال و قائد کی طرف کرنا ہو گا۔ سوچ کے نئے در کھولنے ہوں گے جہاں سچ اور حق کہنے اور ایمانداری کا علم اُٹھانے والوں کو بڑی حیرانی سے نہ دیکھا جا سکے۔پوش علاقوں میں رہنا کسی کے لئے مقامِ فخر نہ ہو۔ بیوروکریٹ اتنا گریٹ نہ ہو کہ عوام کی حیثیت کنکریٹ جیسی ہو۔ جہاں گھریلو خدمتگار کو تنخواہ کے عوض  باندی و غلام  نہ بنا کر رکھا جائے۔
 ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی شدید خواہش مقابلے کی بجائے حدود کو پھلانگنے تک چلی جاتی ہے جس کا سب سے پہلا شکار  رشتے اور تعلق ہوتے ہیں جنہیں غرض و مفاد کے ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے کے جنون میں کامیابی کے زینے چڑھے جاتے ہیں۔کھونے کا خوف اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ پانے کی لذت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ برتری کے نشہ میں سرشاری کا لطف اُٹھانے کے لئے مجبوری و لاچاری پر جملہ کسنا یا ہنسنا فیشن بن جاتا ہے۔
مسٹر بننے والے منسٹر کے خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں جو چیف کی کرسی پر نظریں جما کر رکھتے ہیں اور چیف ،پرائم  کی حیثیت پانے میں سخت تگ و دو سے دوچار رہتے ہیں۔تاریخ شاہد ہےسکندر یونانی عالم شباب میں دنیا کی فتح کا خواب آنکھوں میں لے کر دنیا  سے  ہی چلا گیا۔قطب الدین ایبک سے ابراہیم لودھی اور بابر  سے بہادر شاہ ظفر تک عروج و زوال کی بیشمار داستانیں ہیں۔سکھوں مرہٹوں سے افغانیوں ،پرتگالیوں ،فرانسیسیوں اور انگریزوں تک اس خطے کی قسمت میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی چاپ تھیں پھر ریل گاڑیوں کی چھک چھک ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے پہلے  مغل شاہی ادوار میں تعلیم کےسواصرف باغات،محلات،مقبرے،قلعے ہی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی عظیم نشانیاں ہیں۔آج تک وہی مغلائی اندازِ حکمرانی اختیار کیا گیا ہے ۔ اس قوم کے مزاج میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی ، اسی لئے وہ آج صدیوں بعد بھی سڑکوں پلوں کی تعمیر شاہی پر حکمران چنتے ہیں بلکہ ان کی نا اہل اولادوں کے راستوں میں بھی پلکیں بچھاتے ہیں۔
تعلیم جمہوریت کا جھومر ہے بادشاہت کے لئے زہر ہے۔کون  ایسا عاقبت نا اندیش سیاستدان ہو گا جو اپنے وارثان کے لئے سیاسی غلامان کی بجائے آزاد   سوچ کے حامل بااختیارانسان سیاسی ورثے میں چھوڑےگا۔

تحریر : محمودالحق 
       
در دستک >>

Jan 18, 2017

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے

گرد آلود ہواؤں نے آسمان پر مستقل سکونت اختیار کبھی نہیں کی، ان کا بسیرا بادلوں کے زیرسایہ ہی رہااور بادلوں نے جب چاہا انہیں زمین پر دھکیل دیا۔ ہوائیں جب انہیں اپنی آغوش میں لے کر سیر کو نکلتی ہیں تو ہوائیں ہی بادلوں کو زمین کے ایک حصہ سے دوسرے تک لے کر آسمان کو اُجلا بناتی چلتی ہیں۔ستاروں کی چمک اور چاندنی نکھری زمین کو روشنیوں سے نہلاتی ہے۔زمین کے شانے پر پھیلے درخت جھوم اُٹھتے ہیں، پھول نکھر کر خوشبو پھیلاتے ہیں۔ درختوں سے روشن آلاؤ صدیوں جل کر بھی زمین و آسمان کے تعلق نہ توڑ سکے۔ زندگی بظاہر مشکل تھی میلوں کا سفر دنوں مہینوںمیں طے پاتا۔ آج چٹکیوں میں سماعت و بصارت ہزاروں میل کا سفر طے کر لیتی ہےمگر تہہ زمین لوہا، سونا، گیس اور تیل نے زندگی کی رفتار بڑھا کر قدموں کو جام کر دیا۔عجب ماجرہ ہے زمین کے اندر نے اس کے حسن کو گہنا دیا اور انسان کے باہر نے اسے سلا دیا۔نکھرنا کھلنا اور مہکنا دھوئیں سے داغدار ہو گیا۔ریشم نے جان پر کھیل کر انمول بنا دیا۔ پتوں  پھولوں اوربالوں نےبدن ڈھانپنے کا اور پتھروں نے آرائش کا کام سنبھالا۔
منوں ٹنوں وزنی ایجادات گرام کلو میں انگلیوں کی پوروں پر جانچی جانے لگی۔تن آسانی نے اندر اتنے بھاری کر دئیے کہ بیماریوں کی آماجگاہ بن گئے۔حسن لباس میں رہ گیا ، علم ڈگریوں میں، جوانی کے پل بھاگ دوڑ میں اور بڑھاپا آنکھوں کی پلک میں۔شفاخانے بیماروں کے لئے مرغن غذاؤں کے ریستوران سے بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں۔ 
آبشاروں سے گرتا پانی ندی نالوں سے گزرتا شور مچاتا منزل مقصود پر پہنچ کر دم سادھ لیتا ہے مگر جھیل کے ٹھہرے پانی پر پھینکا گیا ایک معمولی کنکر لہروں کو بے آرامی کی اذیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ جنگلی بھینسہ گھاس پھوس کھا کر شیروں کے شکار کی طاقت حاصل نہیں کر سکتا۔وقت کے فرعون پتھروں میں کنندہ تو ہو سکتے ہیں مگر زمانے پر گرفت سے محروم رہتے ہیں۔ناموری کی طلب شہرت کی خواہش طاقت کی بھوک نے آنکھوں پہ جھوٹ کا کالا موتیا ایسے اتارا ہے کہ اصل منظر دھندلا گیا ہے۔آم کے پودے آنار کی پیوندکاری سے پروان نہیں چڑھ سکتے البتہ کھٹے میٹھے بنائے جا سکتے ہیں۔ جو معاشرے سچ میں جھوٹ کی پیوند کاری سے پروان چڑھیں، جہاں شخصی محبت اجارہ داری اور روا داری میں تمیز کرنا بھول جائے، وہ بے حسی کے تابوت میں آخری کیل  ٹھونکنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔
 ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا، بلا شبہ نام انہی کا دلوں پر دستک دیتا ہے۔نسوانی چھینک پر طشتری بھری دعائیں سینکڑوں  فیس بک کےنوجوانوں کے دل سے نکلیں، ایک ایک شعر پر  داد وآہ واہ کرتے سینکڑوں منچلے، قرآن و حدیث پر عالمانہ  گفتگو کے بعدفتوی دیتے سکالر ہزاروں  کی تعداد میں لاکھوں کے حمایت یافتہ ہوں تو وہ شہد کی مکھی زیادہ باعزت دکھائی دیتی ہے جو پنتالیس دن کی زندگی میں  ہزاروں پھولوں کی کشید کاری سے ایک چوتھائی چمچ شہد بنا کر اپنا کام سر انجام دیتی ہے۔
مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے
میرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نو
فراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہے
ایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو

محمودالحق


                
در دستک >>

Jan 10, 2017

اطاعت و بندگی

زندگی کی چکاچوند روشنیوں سے اندھیرے مٹانے کے لئے مستعار تیل لے کر چراغ بھرتے رہتے ہیں، زندگی کی شام ڈھلتی رہتی ہے ، اندھیرے پھیلتے رہتے ہیں ، نہ سفر تمام ہوتا ہے اور نہ ہی دل کے دئیے روشن ہوتے ہیں۔ بس ایک تماشا ہے جو آنکھوں کی پتلیوں نے دیکھا۔ کبھی کبھار سوچ ایسی جادوئی قوت سے بھرپور وار کرتی ہے کہ عمل تیز دھار تلوار کے سامنے ایک کمزور شاخ کی طرح کٹ کٹ کر گرتے جاتے ہیں۔ وجود شکست خوردہ فوج کی طرح ہتھیار پھینک کر قیدی ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات فتح غافل کر دیتی ہے اور کبھی شکست مضبوط حصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ماضی کی کمزور اور کچی دیواریں آج قدآور بلند ستونوں پر محرابوں سے مزین بلند و بالا عبادت گاہیں عازم مسافران کو خالق حقیقی کے جاہ و جلال، اختیار قدرت اور انجام بے خبری کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔ نئے آنے والے جانے والوں کے قدموں کے نشانات کی کھوج میں رہتے ہیں۔ مگر قدموں کےنشان تو ان کے پھتر بھی محفوظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو ویرانوں میں بیوی اور بچہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالی انہیں مقام ابراھیم بنا کر اپنے گھر کے سامنے محفوظ کر دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں اتر کر بھی نشان راہ بن جاتے ہیں۔ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں پر خطر راہ عشق کے امتحاں اتنے آساں بھی نہیں کہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے رو برو ہو جائیں۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس کے جواب رٹے رٹائے ہیں مگر جو سوال لوح و قلم سے لکھے گئے ہیں ان کے جواب عمل کی سیاہی سے دستور حیات کے کاغذ پہ لکھے جاتے ہیں۔ سائل کتابیں کھول کھول دعاوں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ جہاں ایک نقطہ سے مفہوم بدل جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ خوبصورت منظر کشی کرنے والے رائیٹر ہو سکتے ہیں یا پینٹر۔ آرٹ کے قدیم گراں قدر نمونے ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر وہ گلاب کے پھول کی ایک پنکھڑی سے بھی بیش قیمت نہیں ہو سکتے۔ باغوں بہاروں، پہاڑوں اور نخلستانوں میں بارش کی ہر بوند کا ایک ہی رنگ و ذائقہ ہے مگر جب زمین سے نکالا جائے تو تاثیر بدل جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالی کا فرمان قرآن ایک ہی ہے مگر ہر جگہ کی تاثیر الگ الگ۔ سونا بنانے کا فارمولہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ زندگی بھول جاتے ہیں مگر سونا تو ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے ، پھر بھٹی میں پکا کر ڈھالا جاتا ہے۔ ہیرے جڑے نگینے کی قیمت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ عشق مجازی میں ہر شے قابل خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مگر عشق حقیقی میں دام نہیں ہوتے الفت ہوتی ہے۔ دنیاوی غرض و غایت ایک طرف اور آخروی خواہش خیر دوسری طرف کھڑی ہو تو ایک نظر میں صرف ایک ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ تفریق کرنے والے ہی راہ پانے والے ہیں۔ جو آنکھ اے بی سی کی شناخت سے کھلی ہو وہ الف ب پ کو سمجھنے سے قاصر ہو گی۔ لفظ کتابوں سے نکل کر خوشبو کی طرح ہواوں کو معطر کر دیں تو ان کی قیمت کا تعین کرنا بس میں نہیں ہو سکتا۔ لفظ حق کے داعی ہوتے ہیں۔ جو سچ جاننے والوں کو مانتے ہیں۔ مسجد نبوی کے خوشبو بھرے صحن میں بیٹھا جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرا ذہن زیارات مدینہ کی خوشبو بھری یادوں میں سلتا جا رہا ہے۔ کتنے عظیم لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں۔ جو قرآن کی ابتدائی آیات پر ایمان لے آئے۔ ہمارے پاس تو مکمل قرآن پاک ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی سلامتی دے اور حق پر رہنے اور سچ کہنے کی قوت ایمانی سے سرفراز کرے آمین محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک