Showing posts with label کائنات،تخلیق،خالق. Show all posts
Showing posts with label کائنات،تخلیق،خالق. Show all posts

Jan 6, 2025

2025 _نمبرز کی جادونگری

پیشتر اس کے کہ 2025 کے متعلق کچھ لکھا جائے ہم 1 تا  9 نمبرز کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کریں گے جو کہ چین کے ایک دریا سے باہر نکلنے والے ایک کچھوے کے خول پر ڈاٹس کی صورت میں پائے گئے۔ ٹرٹل میجک سکوائر، جسے لو شو سکوائر بھی کہا جاتا ہے، ایک قدیم چینی جادوئی مربع ہے جو ہان خاندان (206 قبل مسیح - 220 عیسوی) سے 3,000 سال پرانا ہے۔ اسے کچھوے سے منسوب کیا جاتا ہے، جو چینی ثقافت میں اپنی لمبی عمر اور حکمت کی وجہ سے قابل احترام تھا۔ لیجنڈ کے مطابق، ٹرٹل میجک اسکوائر خدا نے انسانوں کو کائنات کی ہم آہنگی اور توازن کو سمجھنے میں مدد کے لیے بنایا تھا۔ مربع 3x3 گرڈ میں ترتیب دیئے گئے نمبر 1تا9 پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ہر قطار، کالم، اور اخترن 15 تک کا خلاصہ ہوتا ہے، جو اسے ایک منفرد اور دلچسپ ریاضیاتی پہیلی بناتا ہے۔

آیت الکرسی میں الفاظ کا جو بہت خوبصورت توازن اور تناسب ہے ، اس کا پس پردہ تعلق اللہ تعالی کی طرف سے دنیا میں دکھائی جانے والی اسی ایک نشانی سے ہے جسے نعمان علی خان نے آیت میں ربط کلام کوخوبصورت انداز میں پیش کیا ہے 

 سورۂ المدثر کی آیت 3 ربک فکبر (اپنے رب کی بڑائی بیان کرو) کا توازن اور تناسب بھی عین کچھوے پر بنے اعداد کے میجک سکوئر سے مطابقت رکھتا ہے۔

2025 نمبرز کے جادو کاایسا رنگ دکھاتا ہے جو نہ اس سے پہلے دیکھا گیا اور نہ ہی شائد ہزاروں صدیوں میں دیکھا جا سکے گا۔ اس کا ٹوٹل 9 بنتا ہے۔
9=5+2+0+2
اگر 1 تا 9 نمبرز کو جمع کیا جائے تو ان کا ٹوٹل 45 بنتا ہے۔
9+8+7+6+5+4+3+2+1= 45
حاصل شدہ نمبر 45 کو جمع کریں تو 9 آتا ہے۔
اب اس حاصل کردہ 45 نمبر سے 2025 کو تقسیم کرتے ہیں تو ایک بار پھر سے حاصل 45 آتا ہے جو کہ 9 ہی بنتا ہے۔
45=45/2025
2025 = 45x45
یہ نمبر 2025 دراصل 45 کا سکوئر روٹ ہے جو کہ 1 تا 9 کی بنیادی اکائیوں کا ٹوٹل ہے اور خود بھی 9 بنتا ہے۔
2025 کو درج ذیل صرف 15 ہندسوں سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1,3,5,9,15,25,27,45,75,81,135,225,405,675,2025
یہ تمام نمبرز طاق ہیں جن سے یہ تقسیم ہو سکتا ہے۔
آسٹرالوجسٹ 9 نمبر کے متعلق کیا روشنی ڈالتے ہے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
نمبر 9 انسان دوستی، انسانیت کی خدمت، الہی حکمت، روحانی روشن خیالی، عالمگیر محبت، سخاوت، اور ایک مثبت مثال قائم کرنے کی علامت ہے۔ یہ تعداد انتہائی روحانی ہے اور عالمگیر روحانی قوانین اور کرما کے روحانی قانون کا نمبر ہے۔
شماریات میں، نمبر 9 کا تعلق اکثر انسان دوستی، ہمدردی اور بے لوثی سے ہوتا ہے۔ یہ مثالیت پسندی اور دوسروں کی خدمت کرنے کی خواہش جیسی خصوصیات کو مجسم کرتا ہے۔ نمبر 9 سے متاثر ہونے والوں کو عام طور پر ہمدرد، فنکارانہ اور روادار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو اکثر انسانی تجربے کی گہری سمجھ سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں، نمبر 9 اختتام اور نتائج کی علامت ہے، زندگی کے تجربات سے حاصل ہونے والی حکمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ذاتی اور روحانی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، افراد کو اپنے آپ سے آگے دیکھنے اور دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ چونکہ 9 نمبر کا روحانیت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تو یقینی طور پر یہ پورا سال روح کو کائنات کی انرجی سے قوت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اپنی ذات کو کھوج اور ٹٹول کر دنیاوی مصروفیات سے روزانہ ایک گھنٹہ نکال کر اپنے وجود کو کائنات میں پھیلی انرجی سے جوڑنے کے لئے وقت نکالنا چاہئیے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کی رحمتیں ہمیں اپنی آغوش میں لینے کے لئے بانہیں کھولے انتظار کر رہی ہے تاکہ ہم اپنے نفس کی صفائی سے شفافیت پا سکیں اور خالق دو جہاں کی بندگی میں عاجز و طالب رہ کر اپنی زندگیوں کو بدل سکیں۔ ظاہری نمود و نمائش کی جس دلدل میں دنیا دھنس رہی ہے آئیں اپنی روح کو ان سے پاک کر کے قلبی اطمینان اور سکون کے لافانی سفر پر گامزن ہو جائیں۔ اپنی روح کو مادیت کی دنیا سے روزانہ ایک گھنٹے کے لیے نکال کر اللہ کے ذکر ، شکراور گہرےسانسوں کے مراقبہ سے آغاز کرنے سے چند روز میں مکڑی کی طرح جالے بنتے خیالات کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی قوت محسوس کریں۔ روحانیت کی دنیا دین اور عبادت سے جدا نہیں۔ اپنے تن من کو آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالنے سے پہلے خود کو خالق کائنات اور مالک ارض و سماں کے سپرد کرنا ہو گا پھر کائنات میں پھیلی انرجی روح و قلب کو ایسے منور کر دے گی کہ انسان لطیف ہوا میں معطر خوشبو کی طرح محو پرواز ہو جائے گا۔
یہ اپنی روح کو کائنات کی قوت سے آلائن کرنے کا ایک بہترین نسخہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نفسانفسی کے اس دور میں بے چینی، ہیجان، خوف، سٹریس، ڈپریشن اور بے سکونی سے نجات کا ایک نہایت موثر اور کارآمد علاج بھی۔ دنیاوی کامیابیوں کے پیچھے اندھادھند بھاگنے کی بجائے شکرگزاری کی بندگی میں سپرد رضا کرنا دونوں جہانوں میں سرخرو کرنے کا سبب و اسباب کا خزینہ ہے۔

رانا محمودالحق

https://mahmoodmathmagic.blogspot.com/?m=0

در دستک >>

Feb 13, 2021

روح کی آبیاری

زندگی جسم اور روح کا مرکب ہے۔ زمین پر ان دونوں کی موجودگی اسباب سے منسلک ہے ۔ جو کہ ہوا پانی روشنی سے وابستہ ہےجس کے لئے صبح اٹھتے ہیں اور رات گئے سوتے ہیں۔ روح جب تک جسم سے تشنگی لیتی ہے تو زمین سے جڑی رہتی ہے۔ جب وہ اسے قید محسوس کرے تو پھر وہ پرواز کرتی ہے۔ اس کی پرواز ہے کیا۔ سوچنے سمجھنے کے لئے وہ علم کے روائتی فلسفہ کی بجائےحقیقت شناسی کے راستے پر گامزن ہو جاتی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ زمین سورج کے گرد 365.25 دنوں میں چکر مکمل کرتی ہے۔ چارموسم ہیں، ہر موسم کا الگ الگ پھل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آم گرمیوں میں صرف تیار نہیں ہوتا بلکہ سورج کے ایک مخصوص حصے میں پہنچنے پر پکتا ہے اور یہی حال دوسرے پھلوں اور چاول گندم کا بھی ہے۔ صرف سوچنے کا انداز تبدیل ہوتا ہےکیونکہ ہم اس جگہ موجود تو نہیں ہوتے ۔ لیکن ہم احساس سے جڑ جاتے ہیں۔ جب روح فطرت سے جڑ نے لگتی ہے تو زمین سےوابستگی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ معجزات اور کرامات اسی وابستگی سے وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ اگر آسان انداز میں زمین پر رہتے ہوئےتجربہ کرنا چاہئیں تو بھی ممکن ہے۔ کسی بھی پھل کی دوکان سے سیب، آم، کیلا،امرود، ناشپاتی، انگور وغیرہ پانچ دس کلو  خرید کرگھر میں چھری کانٹے سے پلیٹ میں کاٹ کر کھائیں۔ پھر ان پھلوں کو باغات میں توڑ کر کھائیں۔ درخت سے توڑ کر کھایا جانے والاایک سیب دوکان سے ٹوکری بھرے سیب سے مختلف کیوں محسوس ہوتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ  باغات میں لٹکے پھل ہمیں فطرت کے قریب لے کر جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ روح کی تشنگی فطرت سے مٹتی ہے۔ اور فطرت ایک سسٹم کا نام ہے۔ اللہ سبحان تعالی فرماتے ہیں کہ تم دیکھتے نہیں کہ بادل کیسے ہوائیں لے کرجاتی ہیں اور مردہ زمین کو زندگی عطاکرتی ہیں۔ وہی بارش کا پانی ایک مخصوص درجہ حرارت پر برف باری میں بدل جاتا ہے۔ لیکن سورج کے ایک مخصوص حصہ میں زمین کے پہنچنے پر ایسا ہونا ممکن ہوتا ہے۔ روح جب دنیاوی بدنی ضرورتوں سے بے پرواہ ہو جائے، نظام حیات سے نظام کائنات سے منسلک ہو جائے تو خالق سے ایک رشتے میں جڑ جاتی ہے۔ اسی ناطے سے اللہ سبحان تعالی فرماتے ہیں کہ اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اورقدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔

دنیا بھر میں ایک ہی دن پیدا ہونے والے ہر رنگ و نسل کے بچوں کو ایک ہی چھت تلے اکٹھا کریں تو ان سب میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ان کے مسکرانے میں چہرے پر معصومیت ایک جیسی ہو گی۔جوں جوں بڑے ہوتے ہیں شعور، تربیت اور راہنمائی سےپروان چڑھتا ہے۔ اس وقت جو ہم سب ایک ہی رنگ و نسل سے موجود ہیں ہمارے مزاج، رویے ، افکار وسوچ ایک جیسے نہیں رہے۔ تو اس میں روح کا کیاعمل دخل ہے ۔ ہماری سوچ میں نظریات اور فلسفہء حیات کا بہت عمل دخل ہوتا ہے کیونکہ معاشرت ہمیں گائیڈ کرتی ہے۔

مذہب ہمیں نفس کے متعلق آگاہی دیتا ہے کہ اس سے جنگ کرو کیونکہ یہ ہمارے سسٹم میں بلٹ ان نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے ہم ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اپنے ارد گرد سے جس کے نتیجے میں ہمارے اندر وائرس بھی داخل ہو جاتے ہیں۔ دین بنیادی طور پر ہمارےوجود میں اینٹی وائرس کا کردار ادا کرتا ہے جو کسی بھی غیر متعلقہ خیال اور فکر  کواندر گھس کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔

روح کو سمجھنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے نظام کو سمجھنا پڑے گا جو ہمیں درست سمت میں سفر کرنے کا پابند بناتا ہے۔چھوٹی سی مثال ہے کہ ہمارے گھروں اور کھیتوں میں سبزی پھل پھول اگائے جاتے ہیں اور کھیت ، کیاریوں میں گھاس پھونس تلف کی جاتی ہے جڑی بوٹیاں ختم کی جاتی ہیں۔ خالص روح پانے کے لئے سب سے پہلے اپنے وجود کو  خیال کی ان جنگلی  جڑی بوٹیوں سے محفوظ کرنا پڑے گا۔خیالات کی پنیری بار بار اگنے کی اہلیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی جڑیں بہت اوپر یعنی سوچ تک محدود ہوتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی جڑ کرتنآور ہو جاتی ہیں۔ 


تحریر: محمودالحق

در دستک >>

Nov 1, 2019

جوہر افشانی عطائے رب العزت (کائنات کے سربستہ راز)

میرا عشق فطرت کا حسن ہے جو مجھے تلاش کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔نظام قدرت آکائی سے اجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے کہ جس میں زرہ برابر بھی فرق نہیں ہے۔ 4300 سال قبل ایک کچھوے کے خول پر بنے ڈاٹس کی ترتیب نے دنیا پر اپنے سحر کا جادو آج تک برقرار رکھا ہے اور اس ترتیب و تشکیل نے مجھے کیا دیکھایا ۔ خالق نے تخلیق سے مجھے کیا سمجھایا ۔ آج اسے ایسی صورت میں سامنے لا رہا ہوں جو دنیا بھر  کے ریاضی دانوں کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے ، ایک ایسے انسان کی طرف سے جو ریاضی، الجبرا اور جیومیٹری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ صرف اتنا ہی جتنا اللہ تبارک تعالی نے اپنی رضا سے اسے عطا کیا ہے۔
1تا 256اعداد کا ایسا کھیل جو آکائی سےاجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کا شاہکار ہے۔اسے سمجھنے کے لئے ریاضی میں ماہر ہونا ضروری نہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نمبرز کا ایسا جادو آج سے پہلے دنیا میں کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔
ریاضی کا نام سنتے ہی بعض لوگ سر کھجانے لگتے ہیں اور بدن میں بے چینی دوڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خشک ہونے کے ساتھ ساتھ بورنگ بھی ہوتا ہے۔ لیکن آج میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میری اس تحریر کو عقل کے ترازو پہ تولنے کی بجائے دل سے پڑھیں گے تو کائنات کے سربستہ راز کے نام سے جس سلسلہ کا آغاز میں نے ایک خیال کے ذہن میں عود کر آنے سے کیا تھا   اس بات کو سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے کہ کیسےقانون فطرت اپنی کھوج میں جستجو کرنے والوں کے لئے راستہ بناتا چلا جاتا ہے۔
پہلی تصویر میں 16.16 خانوں پر مشتمل ایک باکس ہے۔ 16 اعداد کو جس رخ سے بھی جمع کریں ان کا حاصل ایک جیسا 2056 آتا ہے۔ انہیں 16Rows، 16 Columns اور 2Diagonals میں دیکھا جا سکتا ہے۔

انہی 256 نمبرز پر مشتمل باکس کو برابر 4 حصوں 8x8 کے خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ 4 باکس میں 8,8 اعداد کو جس رخ پر بھی جمع کریں ان کا ٹوٹل 1028 ہی آتا ہے۔ 8,8 کے ہر باکس میں Rows  ، Columns  اور  Diagonals میں ایک ہی حاصل 1028 آتا ہے۔
اب ہم مزید تقسیم کرتے ہوئے 4 Boxes کو 16 Boxes میں ڈھال دیں گے۔ اس بات کو ذہن نشین رکھیے گا کہ نمبرز کی ترتیب کسی بھی مرحلے میں تبدیل نہیں ہوتی۔ نمبرز اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے مکمل اور جامع ہونے کا ثبوت فراہم کریں گے۔
وہی 256 نمبرز 16 حصوں میں 4x4 کے خانوں میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ان 16 باکس میں 4,4 نمبرز Rows, Columns اور Diagonals میں 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔
اگر تھکاوٹ محسوس ہو تو  کچھ دیر آرام کر لیں کیونکہ ہندسوں کا جادو ابھی جاری ہے۔عقل دنگ کرنے والے حقائق ابھی باقی ہیں۔
4x4 کے 16 باکس کو مزید 2x2 کے 64 باکس میں ڈھال دیا گیا ہے۔ہر باکس میں 4 نمبرز کا ٹوٹل 514 آتا ہے اور 2,2 کراس نمبرز بالترتیب 249 اور 265 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔یوں 249اور 265 نمبرز ہر باکس میں دیکھے جا سکتے ہیں جو کہ 64، 64 کی تعداد میں اس میں موجود ہیں۔
بات ابھی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 1 تا 256 نمبرز ہر  Row میں ایک اور شکل میں بھی موجود ہیں۔ نیچے دی گئی تصویر میں نمبرز کے جمع اور تفریق سے ایک نئی شکل دیکھائی جائے گی۔
4,4 کے ہر باکس میں پہلے اور چوتھے نمبر کو جمع کرنے سے 257 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح دوسرے اور تیسرے نمبر کو جمع کریں تو وہ بھی 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔اس طرح 16Rows میں  اوپر بتائی گئی ترتیب کے مطابق دو نمبرز مل کر 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔جن کی کل تعداد 128 بنتی ہے۔
ابھی تک تو اس میں جمع کا طریقہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ اب میں آپ کے سامنے نمبرز کو منفی کرنے سے حاصل ٹوٹل دکھاؤں گا۔ جو ایک توازن میں نظر آئیں گے۔
4x4 کے اس باکس میں پہلی Row میں پہلے اور دوسرے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح تیسرے اور چوتھے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر بھی 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔
اگر اسی ترتیب سے ہر دو نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرتے جائیں تو ایک Row میں منفی کے عمل سے 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے ، تو دوسری Row میں 120 کا اور اس طرح 16 Rows میں سے 8 Rows میں منفی کا ٹوٹل 136 اور 8 Rows میں 120 آتا ہے۔
یہاں تک تو نمبرز ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے ایک جیسا ٹوٹل دیتے ہیں۔اب انہی نمبرز کو گرافکس میں مختلف رنگوں کی مدد سے ایک مختلف شکل میں ایک جیسا ٹوٹل رکھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔
نیچے دی گئی تصویر میں 8,8 نمبرز کے 32 گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جو چار رنگوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تمام 32 گروپس کے 8 نمبرز کا ٹوٹل ایک جیسا 1028 ہے۔
نیچے دی گئی تصاویرمیں رنگوں کے امتزاج سے ایک مختلف صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ جس میں 4,4 نمبرز 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں ۔ 8,8 نمبرز 1028 کا ٹوٹل اور 16 نمبرز 2056 کے ٹوٹل کے ساتھ ایک خوبصورت گرافکس میں ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔


محمودالحق
در دستک >>

Apr 9, 2015

حسنِ تخلیق


وقت کی سوئیاں ساکت ہو جائیں تو کیا زندگی رک جائے گی،سانسیں تھم جائیں گی، خواب بکھر جائیں گے،خواہشیں مٹ جائیں گی،آرزوئیں دم توڑ دیں گی یا رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلے گا۔آنکھیں اندھیرا چھا جانے پرکالی چادر اوڑھ لیتی ہیں مگر ہاتھ ٹٹول ٹٹول کر اپنے لئے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ چاہے پاؤں کتنی ہی ٹھوکروں سے سنبھل پائیں۔
زندگی ہاتھ پاؤں کی مانند لگے بندھے اختیار تک محدود نہیں ہوتی۔یہ تو تخیل پرواز رکھتی ہے۔پرندوں کی طرح فضاؤں میں اُڑان بھر کر ایک منزل سے کہیں دور دوسری منزل تک سفر طے کر لیتی ہے۔آسمان پر چمکتے تارے جو صرف گنتی میں رہتے تھے وہ اپنی ساخت ہیت اور گردش مدار کا اتہ پتہ دینے لگے ہیں۔
عقلِ انسان نے آنکھ کو دو انتہاؤں کے وہ مناظر دکھا دئیے کہ عقل پر ماتم کرتے کرتے تخلیق یزداں تک جا پہنچے۔ خوردبین نے انہیں امیبا اور ہبل نے گلیکسیوں کی جگمگاتی دنیا کے در وا کر دیئے۔ قانون قدرت کے طلسماتی کرشماتی کائنات کے بھید کھول دیئے۔ جس کی وسعتوں میں عقل انسان دھنستی چلی جا رہی ہے۔خاص طور پر وہ نشانیاں جو عقل والوں کے لئے ہیں۔انسان عجائبات کی دنیا کا باسی ہے۔ جس میں عجوبے سجا سجا کر رکھے جاتے ہیں۔نباتات کی دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بیج تناور درخت نہیں بنتا۔ وقت کی دھوپ چھاؤں انہیں بانجھ بنا دیتی ہے تو کبھی زمین کو بنجر۔آنکھوں سے پڑھے گئے الفاظ اور کانوں سے سنے گئے فقرےیاد داشت کے الگ الگ فولڈرز میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔مگر بعض اوقات کچھ  کہی ان کہی کہانیاں  خود سے جنم لے لیتی ہیں۔
دعوؤں سے درماندگی دور ہوتی ہے۔خامیوں سے درستگی کی جانب سفر ہوتا ہے۔مگر درحقیقت حقیقت جاننے کی جستجو  میں بعض اوقات سچ دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ملنا اور پانا تب بیکار ہوتا ہے جب اسے سنبھالا نہ جا سکے۔
بچپن معصومیت سے جانا جاتا ہے، جوانی حسن سے تو بڑھاپا لاغرپن سے۔قید و بند کو صعوبت جانا جاتا ہے،آزادی کو نعمت۔اگر زمین چاند سورج آزادی پالیں تو تصویر کا دوسرا رخ کیا ہو گا۔آنکھ ایک بار جس منظر کو ایک بار موہ لے لبھا لے۔ پھر بند آنکھ میں وہی منظر خواب سہانے بن کر واویلا مچاتے ہیں۔
حرکت کرنے والی ہر شے جاندار و بے جان آگے بڑھنے پر ہی رفتار بڑھا پاتی ہے۔پیچھے ہٹنا  ایک حد تک ہی ممکن ہے کہ جس سے صحیح سمت اختیار کی جا سکے۔بہت زیادہ تنہا رہنے والے اور بہت زیادہ بھیڑ میں پھنسے لوگ ہی خود فراموشی کے سوالات کی بوچھاڑ کا شکار رہتے ہیں۔ کبھی کبھار ٹھنڈے میٹھے چشموں سے چند قطرے سیرابی سے تسکین پا لیتے ہیں۔چشموں سے پھوٹتا میٹھا پانی کئی آبادیوں سے گزر کر مینڈکوں کی آفزائش گاہ اور مگر مچھوں کی کمین گاہ بن جاتا ہے۔پانی کے ریلے تو گزر جاتے ہیں مگر مٹھاس پانے والےچشموں تک رسائی کی کوشش کرتے رہتے ہیں کیونکہ بہتے پانی ہر بستی میں اپنا پتہ چھوڑ جاتے ہیں۔
منہ سے نکلے اور قلم سے لکھے الفاظ اس حقیقت کے آئینہ دار ہوتے ہیں جن سے ان کے میٹھے یا کڑوے پن کے آغاز سفر کی روئیداد بیان ہوتی ہے۔فلسفہ حیات میں طےشدہ ترجیحات پر ڈگری عطا ہوتی ہے جو کبھی نمبروں تو کبھی اے بی سی ڈی سے تولی جاتی ہے۔جو تعبیری لحاظ سے خاکی ہے ابدی اور دائمی نہیں۔
پہناوا ہیرے جواہرات سے مزین ہے تو حسن اداؤں سے۔ یہ سب ایسے ہی ہے جیسے کہ بھوک آنکھ بھر کر دیکھنے سے مٹتی ہو۔جلوے اور دکھاوے کا اختیار تو قدرت کا ہے جو اپنی بڑائی اور طاقت کی سند رکھتا ہے۔ہر تخلیق کا اپنا حسن ہے جو اسے اپنی ذات میں ممتاز رکھتا ہے۔ بھاؤ تاؤ تو دوکاندار اور خریدار کا پتہ دیتے ہیں، بڑائی اور طاقت کا نہیں۔مہنگا سودا بیچ کر دوکاندار ممتاز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مہنگی شے پہن کر خریدار۔

محمودالحق
در دستک >>

Apr 23, 2014

حسنِ خیال


تخلیق کائنات کا حسن اُس کی کھوج جستجو اور نا مکمل تحقیق کے باوجود پوری دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ موجزن ہے۔جدید سائنس نیوٹن سے لے کر آئین سٹائن تک تحقیق و مفروضوں کی بنیاد پر اصل حقیقت جاننے سے ابھی اتنے ہی دور ہیں جتنے ایک نظام شمسی دوسری گلیکسی کے نظام شمسی سے فاصلے پر ہے۔ ان دیکھی مخفی طاقتیں نہایت وزنی مادہ وجود کو مخصوص دائرے میں محو گردش رکھتی ہیں۔جانداروں کے افزائش کے مراحل نہایت رازداری سے چھپ کر طے پاتے ہیں۔ جیسے ایک ننھا بیج زیر زمین ایک مخصوص فاصلے پر رہ کر ہی پروان چڑھتا ہے۔جہاں سے اسے حدت و ہوا ، روشنی و پانی موصول ہوتی ہے۔غرض یہ کہ شاخیں ہوں یا اعضائ جڑ کی بدولت ہی حرکت میں رہتے ہیں۔الگ ہوتے ہی سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں اور آخر کار اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔
انسان تخلیق کائنات کا سب سے خوبصورت جزو ہے۔وگرنہ اتنے بڑے نظام کائنات کے ہوتے ہوئے ایک خودسر اور متکبر تخلیق کی کیا حیثیت۔ بچپن سے بلوغت تک پہنچنے کی ایک مقررہ مدت ہے۔ اس سے پہلے افزائش نسل انسانی بھی ممکن نہیں۔
اندھیرا بے سبب ہوتا ہے، روشنی کا منبع ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں ایک روشن آلاؤ دہک رہا ہوتا ہے۔ جو فاصلوں کو مقید رکھتا ہے۔اندھیرے قریب آنے والے ہر وجود کو فنا کر دیتے ہیں۔جیسا بلیک ہول کے قریب جانے والے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔
اللہ تبارک تعالی کے فرمان حدود و قیود میں رہتے ہوئے حقوق و فرائض کی گردش رفتار کا اہتمام کرتے ہیں۔ایک زرہ سے لے کر ایک جہان تک پابندی اوقات و رفتار کی حدود وقیود میں رہتے ہیں۔مگر انسان اپنی سرشت میں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا متمنی رہتا ہے۔لہذا پیغمبروں کے علاوہ مقدس کتابیں بھی رہنمائی کے لئے اُتاری جاتی رہیں۔قرآن کی صورت میں ان سب کو یکجا و مکمل کر دیا گیا۔پھر اس کے بعد کسی نبی خدا کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔کائنات کو جاننے کا عمل دنیا کے قائم رہنے تک جاری رہے گا۔مگر خالق کائنات کی تلاش اور جاننے کی صورت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں رحمت بن کر آنے سے ختم ہو گئی۔ اب صرف خالق کائنات کو اپنا ماننا اور خود کو اس کے حوالے کر دینا باقی ہے۔ تاکہ اس کی رحمتوں کا ایک جہان گردش ثمرات سے ہمیں منور کر دے۔ جاندار اور بے جان نظام حیات و نظام کائنات کی طرح نظام رحمت سے بنی نوع انسان اپنے نظام وجود کی تکمیل کر پائے۔
دنیاوی خواہشات سے لبریز نفس انسانی وجود میں بلیک ہول کی طرح کام کرتا ہے۔ ہدایت روشنی کی حدود وقیود سے آزادی پانے والے نیک خیال نفس کے اس بلیک ہول میں فنا ہوتے جاتے ہیں۔اپنے وجود کے اندر اس بلیک ہول کو پہچاننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور ہدایت کی روشنی ہی اس کا مقدر ہونا چاہیئے۔اپنے اپنے دائرے میں حرکت کرتے ہوئے دوسروں کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے دن رات اور گرم سرد کا وقت معین پر انتظار کرنا ، خواہشوں آرزؤں کی عارضی قبولیت سے اندھیروں میں غرق ہونے سے بہتر ہے کہ ہدایت کی روشنی کے گرد اپنے سفر کو جاری رکھا جائے۔جو ایک وقت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے گی ، نہ کہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو۔
خالق کائنات رب زوالجلال کو ایسے یاد کیا جائے کہ اس کے احکامات کی پاسداری اور تکمیل جزئیات کے ساتھ مکمل بندگی میں پرو دی جائے۔تو ایسی کئی رحمتیں رضا بن کر ہر مشکل گھڑی میں مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔زندگی  ایک تہائی عمر حکم کی بجاآوری کے بعد اس راستے پر گامزن ہو جائے۔جہاں نفس کے بلیک ہول میں غرق ہونے کی بجائے ہدایت کی روشنی روح کو منور کر دے۔ تو سمجھنا کافی ہے کہ اصل راستہ کی پہچان اور آگاہی منزل مقصود کی قربتوں کی ہمراہی ہے۔
تحریر ! محمودالحق

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter