بھر گیا
میرا قلبِ قلب اَب تو
بھر دے جھولی یا رب اَب تو
- مفہوم: اے میرے پروردگار!
اب میرا دل دنیا کی تنگیوں اور رنج و غم سے بھر چکا ہے، تو اب میری خالی
جھولی اپنی رحمت اور کرم سے بھر دے۔
- تشریح: شاعر اپنے خالق و
مالِک سے مخاطب ہو کر عاجزی کا اظہار کر رہا ہے کہ دل دنیاوی مصائب اور غموں
کو جھیل کر اب تھک چکا ہے۔ دل کی اس گھٹن اور بے چینی کے عالم میں اب صرف
اللہ کی ذات ہی امید کا واحد سہارا ہے، اس لیے التجا کی گئی ہے کہ رحم فرما
کر زندگی کو راحت اور سکون سے مالا مال کر دے۔
آتش عشق
کو جو بھڑکایا اَب تک
سینہ بہ سینہ کر دے سبب اَب تو
- مفہوم: عشقِ الٰہی یا
عشقِ رسول کی جس آگ کو اب تک سینوں میں سلگایا گیا ہے، اے رب! اب اسے سینہ بہ
سینہ منتقل ہونے اور اس کی اصل حقیقت کو آشکار کرنے کا ذریعہ بنا دے۔
- تشریح: یہاں باطنی عشق
اور روحانیت کا ذکر ہے۔ تصوف اور عشقِ حقیقی میں یہ کیفیت بہت اہم مانی جاتی
ہے کہ فیض اور محبتِ الٰہی کا خزانہ سینہ بہ سینہ (مرشد سے مرید یا سینے کی
گہرائیوں میں) منتقل ہوتا ہے۔ شاعر دعاگو ہے کہ یہ روحانی نسبت اور عشق اب
پوری طرح ظاہر ہو جائے اور اس کا فیض عام ہو۔
مانگا
جو میں نے بڑی کوئی بات نہیں
دِکھتے ہیں بہت خیال مراتب اَب تو
- مفہوم: میں نے اپنے رب سے
جو مانگا ہے وہ کوئی بہت بڑی یا ناممکن چیز نہیں ہے، لیکن افسوس کہ اب لوگ
دنیا میں ہر جگہ رتبوں اور مرتبوں کے بہت زیادہ فرق اور تکلفات دیکھنے لگے
ہیں۔
- تشریح: اس شعر میں
انسانوں کے پیدا کردہ سماجی فاصلوں اور غرور پر طنز یا شکوہ ہے۔ شاعر کہتا ہے
کہ اللہ کے حضور عاجزی سے مانگنا کوئی انہونی بات نہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم
ہے، لیکن دنیا کے لوگ چھوٹے بڑے اور مرتبے کے فرق میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ
وہ سچی محبت اور اخلاص کو بھول گئے ہیں۔
نہیں
کوئی شکوہء زندگی اپنے پن سے
نہیں تنہا شوق ذوقِ ارباب اَب تو
- مفہوم: مجھے اپنی زندگی
یا اپنے اپنوں سے اب کوئی شکوہ نہیں رہا، اور نہ ہی اب مجھے صرف باذوق لوگوں
کی صحبت کا کوئی تنہا شوق باقی رہا ہے۔
- تشریح: یہ پختگی اور
تنہائی پسندی کی کیفیت کا شعر ہے۔ انسان جب زندگی کے نشیب و فراز دیکھ لیتا
ہے تو اسے اپنوں کی بے رخی کا دکھ نہیں رہتا۔ اب اس کی دنیا محدود ہو چکی ہے
اور اسے لوگوں کی محفلوں یا ظاہری ذوق کی بھی کوئی خاص پروا نہیں رہی، بلکہ
اس کا تعلق براہِ راست اپنے خالق سے جڑ چکا ہے۔
پھیلتی
انوار روشن سمٹتی سایہ زندگی
روٹھ نہ جائے کہیں نسبتِ نسب اَب تو
- مفہوم: زندگی کبھی روشنی
کے اجالوں کی طرح پھیل جاتی ہے اور کبھی سایہ بن کر سمٹ جاتی ہے، ڈر یہ ہے کہ
کہیں ہماری یہ روحانی نسبت اور خاندانی یا قلبی تعلق روٹھ نہ جائے۔
- تشریح: شاعر زندگی کے اتار چڑھاؤ (خوشی اور غم، عروج و زوال) کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور بدلتی رہتی ہے۔ اس بدلتی ہوئی حالت میں سب سے اہم چیز انسان کی وہ روحانی و باطنی نسبت ہے جو اسے اللہ یا اس کے پیاروں سے ملتی ہے۔ شاعر کو اندیشہ ہے کہ غفلت کی وجہ سے کہیں یہ قیمتی نسبت کمزور نہ پڑ جائے یا ناراض نہ ہو جائے۔
محمودالحق
0 تبصرے:
Post a Comment