Jul 23, 2026

محمود راہ تو اچھی تھی سفر تیرا کچھ مشکل ہوا

یہ کلام گہرے فلسفیانہ، رومانوی اور سماجی حقائق کا عکاس ہے۔ محمودالحق نے انسانی جذبات، حالات کی ستم ظریفی اور دنیا کی بے حسی کو بہت خوبصورت مگر دردناک انداز میں بیان کیا ہے۔

 **غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا**

**تمہیں شاید اچھا ہوا مگر برا تو میرا ہوا**

مفہوم:

جب غم کے آنسو مسلسل بہنے لگیں تو ہرا بھرا باغ بھی ویران ریگستان نظر آنے لگتا ہے۔ (کسی کے بچھڑنے یا بدلنے سے) شاید آپ کا تو فائدہ ہوا یا آپ اچھے حال میں رہے، لیکن میرا تو سب کچھ برباد ہو گیا۔

 تشریح:

اس شعر میں شاعر داخلی کیفیت کا موازنہ خارجی دنیا سے کر رہا ہے۔ جب انسان اندر سے ٹوٹ جائے تو باہر کی خوبصورتی (گلزار) بھی اسے بدصورت اور ویران (صحرا) لگتی ہے۔ محبوب یا وقت کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ حالات کے اس بدلتے رخ سے شاید تمہیں کوئی فرق نہ پڑا ہو، یا تمہاری زندگی سنور گئی ہو، لیکن میری دنیا تو اجڑ کر رہ گئی ہے۔

**کہاں رہ گئیں ساون رت کیا ابرِ برسات ہوئی**

**زندگی کو عزیز جانا مگر اس کو میں برا ہوا**

مفہوم:

خوشی اور ملن کی وہ خوبصورت برسات کی رتیں (ساون) کہاں چلی گئیں؟ میں نے تو زندگی  کو بہت دل و جان سے چاہا اور عزیز رکھا، لیکن بدلے میں، میں ہی اس کی نظر میں برا بن گیا۔

تشریح:

شاعر ماضی کے اچھے دنوں کو یاد کر کے پچھتا رہا ہے کہ وہ خوشیاں اب کہاں کھو گئیں۔ زندگی کا المیہ یہ ہے کہ شاعر نے جس ہستی یا جس زندگی کو سب سے زیادہ ٹوٹ کر چاہا، صلے میں اسے ہی قصور وار اور برا ٹھہرایا گیا۔ یہ مخلص انسان کی محرومی کا نوحہ ہے۔

** دامن کو میں نے پھیلایا سینہ بہ سینہ چھپایا **

**رازِ زباں رہتا کاغذ پہ قلم بیاں ٹھہرا ہوا**

 مفہوم:

جس راز کو میں نے اپنے سینے میں چھپا کر رکھا اور اپنے دامن سے ڈھانپے رکھا، جو بات زبان تک نہیں آئی تھی، اسے قلم نے کاغذ پر لکھ کر سب کے سامنے ظاہر کر دیا۔

 تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنے غم، اپنے عشق اور اپنے رازوں کو دنیا سے چھپانے کی بہت کوشش کی (سینہ بہ سینہ چھپایا)۔ زبان سے بھی کبھی اس کا اظہار نہیں کیا، لیکن جب دلی جذبات سچے ہوں تو وہ شاعری کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ میرے قلم نے کاغذ پر وہ سب کچھ لکھ دیا اور یوں میرا پوشیدہ راز عام ہو گیا۔

**بلبل نغمہ سرا ہوا تو کوئل نے چپ سادھ لی**

 **خوفِ صیاد سے شاہیں کا گنبدِ سلطانی پہ بسیرا ہوا**

مفہوم:

جب بلبل نے گانا شروع کیا تو کوئل خاموش ہو گئی (حاسدین یا حالات کی وجہ سے) اور شکاری (صیاد) کے ڈر سے عقاب (شاہین) نے بھی محل کے گنبد پر پناہ لے لی (یعنی اپنی فطری پرواز چھوڑ دی)۔

تشریح:

یہ شعر علامتی ہے اور  یہاں معاشرے کی افراتفری کا ذکر ہے۔ جب کم رتبہ یا مختلف مزاج کے لوگ حاوی ہو جائیں تو اہل ہنر (کوئل) خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہین جیسا غیور اور اونچی پرواز اڑنے والا پرندہ بھی حالات کی خرابی یا صیاد (شکاری/دشمن) کے خوف سے مجبور ہو کر گنبدِ سلطانی پر بیٹھنے پر مجبور ہو گیا ہے، یعنی حالات نے پگڑی اچھالنے والوں کے خوف سے بڑوں بڑوں کو محتاط کر دیا ہے۔

**ٹھوکر پہ تھا جن کے زمانہ خود سے ستائے ہوئے**

**آغوشِ محبت میں بھی تحفظ ارمان ڈرا ہوا**

مفہوم:

وہ لوگ جن کے رعب و دبدبے کے سامنے کبھی سارا زمانہ جھکتا تھا (یا وہ زمانے کو ٹھوکر پر رکھتے تھے)، آج وہ خود اپنے ہی حالات یا ضمیر کے ستائے ہوئے ہیں۔ اب حالت یہ ہے کہ محبت کی محفوظ آغوش میں بھی ان کی امنگیں اور ارمان خوفزدہ ہیں۔

 تشریح:

وقت کی ستم ظریفی اور انسان کے زوال کی داستان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ کبھی بہت مغرور یا طاقتور تھے، آج وہ خود اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔ اب اگر انہیں محبت اور سکون کا ماحول (آغوشِ محبت) مل بھی جائے، تب بھی ان کا ارمان اور دل سہمے رہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنا پرانا وقت اور اپنوں کا دھوکہ بھول نہیں پائے۔

**آرامِ جہاں میں بے چین زماںِ گنجان میں انجان**

**ماہیِ بے آب کا ہے رقص تماشائیوں نے گھیرا ہوا**

مفہوم:

دنیا کے تمام عیش و آرام کے باوجود دل بے چین ہے اور اس بھری دنیا (گنجان زمان) میں انسان خود کو اکیلا اور انجان محسوس کرتا ہے۔ یہ حالت بالکل ایسی ہے جیسے پانی سے باہر تڑپتی مچھلی (ماہیِ بے آب) تڑپ رہی ہو اور لوگ اس کی تڑپ کو رقص سمجھ کر تماشہ دیکھ رہے ہوں۔

تشریح:

یہ اس غزل کا سب سے خوبصورت اور دردناک شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ رونقوں کے باوجود انسان اندر سے اکیلا ہے۔ دنیا انسان کی تکلیف کو نہیں سمجھتی۔ جیسے پانی سے باہر مچھلی تڑپتی ہے تو نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ناچ رہی ہے، اسی طرح جب ایک سچا انسان حالات کے ہاتھوں تڑپتا ہے تو دنیا کے تماشائی اس کا تماشہ بناتے ہیں اور اس کے درد کو محسوس نہیں کرتے۔

**مدحت سرائی میں جھولاتے جھولا زہر بھرے خنجر آستیں**

**جگاتے کیا غفلتِ شب سے ضمیر تو ہے مرا ہوا**

مفہوم:

لوگ سامنے تو تعریفیں (مدحت سرائی) کرتے ہیں اور محبت کا جھولا جھولاتے ہیں، مگر ان کی آستینوں میں زہر بھرے خنجر چھپے ہوتے ہیں۔ ایسے منافق لوگ کسی کو غفلت کی نیند سے کیا جگائیں گے، جن کا اپنا ضمیر ہی مر چکا ہے۔

تشریح:

یہاں منافقت اور دھوکے باز دوستوں پر گہری چوٹ کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں "آستین کے سانپ" اور "خنجر" چھپائے لوگ گھوم رہے ہیں جو منہ پر تعریفیں کرتے ہیں مگر پیٹھ پیچھے وار کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے اپنے ضمیر مر چکے ہوں، وہ معاشرے کو بیدار یا سیدھی راہ پر نہیں لا سکتے۔

**محمود راہ تو اچھی تھی سفر تیرا کچھ مشکل ہوا**

**منزلِ شب تو اچھی تھی دن کا اب سویرا ہوا**

مفہوم:

اے محمود! جو راستہ تم نے چنا تھا وہ تو بہت اچھا اور سچا تھا، لیکن اس راستے پر تمہارا سفر بہت مشکل گزرا۔ (خیر کوئی بات نہیں) رات کی منزل (تاریکی/غم کا وقت) بھی کٹ گئی اور اب زندگی میں ایک نیا سویرا (امید کی نئی کرن) طلوع ہو چکی ہے۔

تشریح:

شاعر خود کو تسلی دیتے ہوئے کلام کا اختتام کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سچائی اور محبت کی راہ ہمیشہ کٹھن ہوتی ہے، اس لیے تمہارا سفر بھی مشکل رہا۔ لیکن جس طرح ہر تاریک رات کے بعد صبح ہوتی ہے، اسی طرح تمہاری زندگی کے دکھوں کی رات اب ختم ہو رہی ہے اور کامیابی، سکون اور امید کا ایک نیا سویرا تمہارا منتظر ہے۔ یہ شعر مایوسی سے امید کی طرف سفر کی علامت ہے۔

در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter