Nov 28, 2018

کائنات کے سربستہ راز _3

 پچھلی تحریر  میں  Math Magic Square  کے بارے میں اعداد کی ترتیب اور ان سے بنائے گئے Graphs کو میں نے تصویری شکل میں پیش کیا ، اب ہم اس  Math magic  کی بنیادی جزئیات سے حاصل کئے گئے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
آئیے سب سے پہلے ہم  Math magic   کی ترتیب اور اس کی تشکیل میں اختیار کئے گئے فارمولہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔



زیر نظر تصویر کو بغور دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ 1  تا 9 عددایسے تشکیل پائے ہیں کہ چاروں اطراف میں ان کا حاصل 15 ہے۔  جب کہ تمام اعداد کا ٹوٹل 45 ہے۔ پہلا نکتہ جو غور طلب ہے کہ اس میں 5  کا ہندسہ ایسا ہے جو ہر ٹوٹل میں شامل ہے اور  چار اعداد  6,7,8,9 اس سے بڑے ہیں اور چار ہی اعداد  4,3,2,1 اس سے چھوٹے۔  دوسرے لفظوں میں  5  کا ہندسہ بنیادی طور پر ان تمام اعداد کا Center  ہے۔اس کے اطراف میں جو ہندسے موجود ہیں ان میں مرکز سے بڑے نمبر مرکز سے چھوٹے نمبر سےمل کر   بنتے ہیں۔ اور  5  کے اطراف میں ہر دو اعداد کا اوسط  5  نکلتا ہے۔
9+1=10 _  8+2=10 _7+3=10_ 6+4=10
اس پورے Magic Square  میں ہر  عدد کی  اوسط ویلیو 5  بنتی ہےجوکہ Center کے برابر ہے۔
چونکہ میں نے سب 7x 7 Graphs  کے  Math magic square  میں بنائے ہیں، اس لئے انہی Numbers  کو لے کر ہم آگے بڑھتے ہیں۔اس Magic square میں  1 تا 49  نمبرز ہیں ، جن کا Central نمبر 25 ہے۔اس میں تین Squares  موجود ہیں۔ پہلے Square  میں 8 اعداد ہیں ،دوسرے Square  میں 16  اور تیسرے میں 24۔ 


Central Box  کا پہلا بیرونی سرکل 8 Boxes پر مشتمل ہے، جن میں اعداد کا ٹوٹل 200 ہے۔ 200 کو 8 Boxes  میں تقسیم کیا جائے تو ہر ایک Box  کی ویلیو 25  آتی ہے۔
اسی طرح دوسرے بیرونی Circle کے 16 Boxes کے اعداد  کا ٹوٹل 400 اور تیسرے بیرونی Circle کے 24 Boxes  کے اعداد  کا ٹوٹل 600 ہے۔اگرہر Circle کے ٹوٹل نمبرز کو ان کے Boxes  میں تقسیم کیا جائے توہر Box  کی ویلیو 25  ہو گی۔
ہم اوپر بیان کئے گئے اعداد کو مزید مختصر کریں گے۔  اگر 25  کو ایک 1 تسلیم کر لیا جائے تو تمام Squares  میں ہر Box  کی Average Ratio  بھی 1 ہی ہے۔اس کے لئے ہم مرکزی نمبر 25 کے ساتھ ہر  Box   میں موجود نمبر کو تقسیم کر کے اس کی Ratio  حاصل کریں گے، جو نیچے دی گئی تصویر میں دکھائے گئے نمبرز جیسی ہو گی۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکز سمیت ہر Box کی اوسطا ویلیو 1  ہے۔
اب اس Math magic square  پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ Center  کیvalue  1  ہے اور اس کے اطراف میں دو اعداد کی Value  بھی  1 , 1  ہی ہے جو مختلف Ratio  سے 2  بنتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں چاروں اطراف سے ایک ہی ٹوٹل حاصل ہوتا ہے مگر غور کرنے پر دکھائی دیتا ہے کہ Center  کے گرد  گردش  کا ایک بیلنس موجود ہے۔مرکز سے ایک طرف بڑی value  موجود ہے تو دوسری طرف ایک کم value   مرکز سے منسلک موجود ہے جو کہ دو یکجا ہو کر مرکز سے دوگنی ہے ۔ تمام اعداد مرکز کے گرد Balance force  کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
زیر نظر تصویر  میں جو بلیک دائرے دکھائے گئے ہیں انہیں ان کی Actual value  کے مطابق بنایا گیا ہے تاکہ Motion , Rotation  اور Balance  کے فارمولہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مرکز سے منسلک ہر دو دائرے مل کر دو گنا سائز میں ہیں لیکن انفرادی طور پر  Different Ratio میں مرکز کے سائز کے برابر ہوں گے۔


بنیادی طور پر یہ ایک  Motion, Rotation and Balance کا فارمولہ ہے۔ جس میں توازن برقرار ہے اور مرکز سے جڑے ہیں۔ جہاں مرکز بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی عدد مرکز کو چھوئے بغیر دوسری طرف کے عدد سے مل کر مرکز کے برابر ویلیو  اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر اسی طرح ہم بڑے Magic square  میں زیادہ تعداد میں Circles  بنائیں تو ہر Circle  میں اوسط 1:2 ہی رہے گی۔  اس میں کہیں بھی کسی Circle  میں دو اعداد کی value  انفرادی طور پر مرکز کے برابر ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر عدد مرکز کو چھوتے ہوئے صرف اپنے ہی پارٹنر سے مل کر  2  کی اوسط پوری کر سکتا ہے۔ اعداد کا ایک Pair کسی دوسرے سےMatch   نہیں کر سکتا۔  
عام طور پر حساب کتاب کے لئے اعداد کی جمع تفریق کے لئے خانے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میجک سکوئر میں بھی خانوں کا ہی استعمال کیا گیا۔ لیکن درحقیقت کچھوے کی پشت پر جو Math magic Dots  موجود تھے انہیں square  میں ڈھال کرVertically , Horizantally, Diagonally ایک جیسے ٹوٹل کے نتائج حاصل کئے گئے مگر میری تحقیق کے مطابق دراصل وہ Math magic square  نہیں بلکہ Circle  ہے۔ کیونکہ اس  Math magic  سے حاصل نتائج صرف اعداد کی جمع تفریق نہیں بتاتے بلکہ اس کے اندر Rotation, Motion , Balance کی ایک قوت کارفرما ہے جو اسے اپنے  Orbit میں کنٹرول کرتی دکھائی دیتی ہےاور یہ  صرف نمبرز کے جمع کا فارمولہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر مختلف ایکشن ہیں۔ وہ کیا ہیں اور کیسے Act  کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیل کسی اگلی تحریر میں قلمبند کریں گے۔

تحریر و تحقیق : محمودالحق
در دستک >>

Nov 25, 2018

کائنات کے سربستہ راز - 2

چین کے بادشاہ نے   2300  قبل مسیح دریا سے باہر نکلتے کچھوے کی پشت پر مختلف ڈاٹ کی ایسی ترکیب   دیکھی جو اپنی نوعیت میں بہت خاص تھی۔ چاروں اطراف سے ان ڈاٹس کی تعداد 15 تھی۔ جسے لو شو میتھ میجک کا نام دیا گیا۔

پچھلی کئی صدیوں سے ریاضی دان اس پر بہت کچھ لکھتے آ رہے ہیں۔ لیکن  آج میرا موضوع بہت خاص ہے کیونکہ میری سوچ نے 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر لکھے اعداد کے فارمولہ کو ان فولڈ کیا ہے۔ اس کی حقیقت میری نظروں کے سامنے ایسے کھل کر آئی ہے کہ آج میں حیرانگی میں مبتلا ہوں۔ 
آج سے دس سال پہلے جب میں نے لفظوں کے ملاپ سے در دستک لکھی تو شاعری کے ترازو میں میری شاعری بے وزن ہو گئی۔ جسے میں نے سنبھال کر سٹور میں رکھ دیا۔ کیونکہ میں انسانوں کے بنائے باٹ سے اپنے لفظوں کو برابر نہ کر  سکا۔ نیچے لنک میں ایک ایسی ہی مثال  ہے۔ 
آج میں اپنے مالک کائنات رب العالمین  کی رحمت و فضل پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے وزن اور بیلنس کے اس مقام تک رسائی عطا فرمائی جو کسی انسان کے خودساختہ ہم وزن ردیف قافیے کے ترازو میں تولنے کے لئے نہیں رکھی جا سکتی۔
میں اپنے خیال میں آئےایک فارمولہ کو میتھ میجک جانتے ہوئے اعداد کو ٹٹولنے میں سر کھجانے کی نعمت سے بھی محروم ہو گیا تو رفتہ رفتہ مجھ پر یہ آشکار ہونا شروع ہوا کہ اس کے اندر تو الگ دنیا آباد ہے۔ جہاں اعداد آپس میں گتھم گتھا نہیں ہوتے بلکہ انتہائی رازداری سے اپنے اپنے راستوں پر  نکل جاتے ہیں ۔ 
دیکھنے میں ایسے ،جیسے دو چھوٹی بچیاں ایکدوسرے کے دائیں ہاتھ میں دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں بایاں ہاتھ پکڑے  ہاتھوں کے گرد گھومتی ہیں۔میں نے  انہیں مختلف زاویوں سے بنایا۔ فی الوقت چند ایک تصاویر دکھانے پر اکتفا کروں گا ۔ 
کیونکہ یہ بہت زیادہ تفصیل کی طلبگار ہے۔ جسے میں نے ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔

 7 x 7 Math magic circle


7 x 7 Math magic circle




9 x 9 Math magic circle



9 x 9 Math magic circle




یہاں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ میں نے کیا ریسرچ کیا  اور میتھ میجک سکوئر سے کیا نتیجہ برآمد ہوا بلکہ اہم یہ ہے کہ کہاں جا پہنچا۔ میں انجانےمیں اپنی تحقیق میں  سوچ کے کسی رخ پر چلتا چلتا جب بہت آگے چلا گیا تو فارمولہ کے خیال کے میرے ذہن میں آنے جیسے ایک نئے خیال نے مجھے صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔  جب میں نے اپنے حاصل کئے گئے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے لو شو، کچھوے کی پشت پر بنے میتھ میجک کو اس پر اپلائی کیا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں نے دریافت کی  جوایک بلند عمارت کھڑی کی ، کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ 
جو کچھ میں نے بنایا وہ تو کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کا عکس نکلا۔ جو کچھ میں نے دریافت کیا جو گرافکس بنائے وہ سب لوشو ،کچھوے کے فارمولہ کا عکس نکلے۔ نہ ایک ہندسہ اُدھر اور نہ ہی ایک ہندسہ اِدھر۔ بلکہ جسے میں اپنا کارنامہ سمجھ کر  شئیر کرتا رہا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں دراصل اپنے کسی فارمولہ پر تحقیق نہیں کر رہا تھا بلکہ 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر بنے  میتھ میجک  ڈاٹس اللہ تبارک تعالی کی رضا سے میرے ذہن میں کھل رہے تھے۔
 میں کوئی ریاضی دان تو ہوں نہیں ، بس ایک معمولی سا انسان ہوں جو اپنے  مرحوم بوڑھے والدین کی دعاؤں کی چھاؤں تلے رحمتوں کی آغوش میں ہوں۔
انشاءاللہ میں اپنی اگلی تحریر جو کہ طویل ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت کی متقاضی ہے ، میں خوبصورت گرافک ڈیزائین کی اپنی تحقیق کو قلمبند کروں گا جو کہ صرف کچھوے کی پشت پر بنے خوبصورت ڈاٹس  کے فارمولہ  کا عکس ہے۔
میرا اس میں کوئی کمال نہیں ، یہ صرف اسی کی رضا ہے جو ہم سب کا مالک و مختار ہے، ایک دن اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
آج  ایک بار پھر اپنی ایک حمد دہرانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔


تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو

طلبگار دعا: محمودالحق
در دستک >>

تلاشِ سخن


جس آگ سے بچنے میں بڑے بزرگ بچوں کو  محفوظ رکھتے ہیں ۔ وہی بچہ بڑا ہو کر فکر و ایمان کی بھٹی سے کندن بن جاتا ہے یا پھر گناہوں کی لت کا شکار ہو کر انگاروں سے کھیلنے لگتا ہے۔ بلندیاں چھونے پر نیچے دیکھ کر چلنا  اس کے لئےمحال ہو جاتا ہے۔ 
پتھر کنکر اور شیشے کی کرچیوں سے پاؤں بچائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی  چیونٹیوں کے سر کچلنے کے احساس کا پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا۔ چند دہائیوں کی ایک زندگی کو فلمایا جائے تو تین گھنٹے میں ختم ہو جاتی ہے۔ہر انسان اپنی نیت کا پھل پا لیتا ہے چاہے اچھا یا برا۔ سولہویں صدی نے انسان کو مشین سے روشناس کرایا۔ جو بڑھتے بڑھتے زندگی کے لئے لازم ہو گیا۔ ہاتھ کا استعمال کم ہوتے ہوتے  مشینوں پر ٹھہر گیا۔ جہاں کمانے والے  سےزیادہ کھانے والے ہوں تو  صرف دو ہاتھ کافی نہیں ہوتے۔ محنت کش ہاتھ جھولی بھر کر دانے گھروں کو لاتے تھے۔ آج کل جھولی پھیلانے والے فقیر کہلاتے ہیں۔  لباس میں جتنی جیبیں زیادہ ہوں ، اتنی بھر جاتی ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کندھے یا ہاتھ میں بیگ یا بریف کیس بھی رہتا ہے۔ زندگی تو ایک چیک کی مانند ہے پیسے والوں کے کیش ہو جاتے ہیں اور غریبوں کے باؤنس ہو نے جیسے۔
جب دعوی عمل سے بڑا ہو تو دراز قد والا بھی چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔زندگی کو جاننے والے راز زندگی پا جاتے ہیں۔پھر جینا انہیں اتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسانوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے فطرت سے دل لگا لیتے ہیں۔ کیونکہ انسان کا  چلن کسی فارمولہ کا محتاج نہیں۔ وہ اپنے لئے دودھ شہد کی نہر خود کھودتا ہے۔ دینا نہ بھی چاہے  تو اس کے بس میں ہےمگر دکھانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے کیونکہ چھپانا اس کے بس میں نہیں۔ زندگی گزارنے والے سینکڑوں ملتے ہیں مگر جینے والے بہت کم اور وہ بھی عدم اعتماد رکھنے والے۔
ایک مزدور کو جب دیہاڑی نہیں ملتی تو اس کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا کاروباری طبقہ منافع خوری کے دیہاڑی دار ہو جائیں اور ہاتھ لگے پیسے کو اچھے دن یا دیہاڑی کے نام سے کامیابی کا جشن منائیں تو ایک مزدور کے خون پسینے کے کمائے ہوئے چند سو روپے  ہاتھوں کے پسینے میں شرابور ہو کر سسک کر رہ جاتے ہیں۔
درسگاہوں میں استاد تعلیم وہی دیتے ہیں جنہیں سلیبس میں رکھا جاتا ہے۔ امتحان وہی ہوتا ہے جو پڑھایا جاتا ہے۔محنت کے صلے پاس یا فیل کی صورت میں نکلتے ہیں۔ علم درسگاہوں اور استادوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ تو پہاڑوں پر برسنے والی اس بارش کی مانند ہے جو اپنے راستے خود بناتی ہوئی  آبشاروں، ندیوں ،دریاؤں سے گزرتی سمندر تک جا پہنچتی ہے۔

محمودالحق
در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک