Aug 4, 2019

قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی

لکھنے کے لئے کاغذقلم ہاتھ میں لئے دہائیاں گزر گئیں۔ قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی ، کاغذ ہاتھوں سے میلے ہوتے رہے۔ہم بڑے ہو گئے قلم کتابیں چھوٹ گئیں اور کاغذ پر چھپی ڈگریاں ہاتھ لگتی رہیں۔ہم خیال کی اونچائی سے حقیقت کی کھائی میں اترنے لگے۔ دوستوں نے تنہائی کے احساس پر ٹائم پاس کا مرہم رکھا۔جو چاہا وہ پاس نہ آیا ، جس سے  دور بھاگے وہ گلے پڑ گیا۔زندگی بعض اوقات انسان سے کھیلتی ہے۔ امتحان سے گزارتی ہے پھر نہ ہی وہ پاس ہوتا ہے اور نہ ہی فیل ، بس ورکشاپ میں ہتھوڑا  ،اوزار پکڑوانے والا چھوٹا یا ایک ہی جماعت میں جونئیر کو خوش آمدید اور اگلی جماعت میں ترقی کرنے والوں کو الوداع کہنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔
ماضی انسان کا پیچھا کرتا ہے ،کبھی خوف بن کر، کبھی پچھتاوا کی صورت، کبھی ندامت تو کبھی سر کشی کا کوڑا بن کر جو بدکے ہوئے گھوڑے پر  چابک برسا کر غصہ کی حالت سے اسے تابعداری کی طرف مائل کرتا ہے۔
بچے اچھے برے کی بجائے قابل اور نالائق کی تقسیم سے جانے اور پہچانے جاتے تھے اور  جاتے ہیں اور جانے جاتے رہیں گے۔ ملازمت پیشہ تنخواہ  سے، کاروباری دولت سے ، طاقتور اختیا ر سے جانے جاتے ہیں اور مانے بھی۔پانچویں پاس امیر اور پڑھا لکھا کلرک لندن امریکہ میں بچوں کی  اعلی تعلیم کا خواب آنکھوں میں سجانے کی بجائے ذہن میں سما لیتا ہے۔نامکمل اور ادھورے خواب سے کچھ دیر کے لئے ماضی سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور حال مطمئن۔
اپنی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت و دولت کا مقام پانے کے بعدانسانیت کی بھلائی میں  انہوں نےان لوگوں سے زیادہ عملی طور پر حصہ لیا جنہیں اپنے بزرگوں سے صرف دولت کے مینار تعمیر کرنے کی تربیت ملی۔انہوں نے اپنے زیر اثر افراد ، معاشرے اور قوم کو بیوقوف بنا کر ایک ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جو دیگیں پکانے والے کسی پکوان خانے کی پک اپ وین میں ایک زندہ گدھا دیکھ کر زیر لب مسکرا کر اسے کھانے والوں کی قسمت پر ہنستے ہیں ۔  
کہیں دولت کا رونا ہے ، کہیں عزت کا، کہیں محبت کا، لیکن شرافت کا ذکر خیر سننے کو کان ترس گئے۔حرام کمائی سے محل کھڑے کرنے والے معتبر  و معزز کہلائے۔ ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک ادھ بوٹی کے لئے کناتوں پراتوں پر ٹڈی دل کے حملہ جیسا نقشہ قوم کی غیرت و حمیت کی بجائے غربت کا مذاق بنایا جاتا ہے حالانکہ گھروں میں تین وقت کا بہترین کھانا سویٹ ڈش کے ساتھ نوش فرمانے والوں کی پلیٹ پر بڑا مینار کھانے والے کی نیت کی بجائے اس کی فنکاری پر داد وصول کرتا پایا جاتا ہے۔تعلیمی ادارے آخر کہاں جائیں ، جہاں گھر بار، تھڑے بازار سیاسی درسگاہیں نوکر شاہی کے طفیل پسند ، نا پسند اپنا اُلو سیدھا رکھنے سے غرض رکھتے ہوں۔جب معاشرہ لوٹ مار اور حرام کی دولت کو برا جاننا چھوڑ دے اورتھانہ کچہری میں وہی باعزت کہلائے جاتے ہوں۔تو معاشرہ کہاں جائے جہاں ہر فرد عزت کا بھوکا ہو۔
زخمیوں اور بیماروں کے لئے ایدھی اور چھیپا ایمبولینس کسی نعمت سے کم نہیں  ایسے معاشرہ میں جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہو۔ جو جتنا متنازعہ ہو گا وہ اتنا ہی مشہور اور قدآور ہو گا۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں وشل میڈیا ہو یا اخبارات، ان کی جیبیں بہت بھاری ہوں گی اور تجزیے پھیکے۔
حالات سمجھنے کے لئے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں چاہیئے ہوتی ، تاریخ ہمیشہ اپنے اُپ کو دہراتی
23 جنوری 2010 کو میری تحریر " سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری" کسی پارٹی یا سیاستدان کی بجائے نظام کے متعلق ہمارےعمومی روئیے کی غماز تھی۔ 26 مئی 2013 کو لکھی میری تحریر" فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا"  میں فلم کچھ عرصہ بعد چلنے کا عندیہ تھا جس کی آج سارے ملک میں دھوم ہے۔اس میں کچھ حقائق کی نشاندہی کی تھی کہ ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو لالی پاپ کے لالچ میں نہ ملک چلتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔  بالآخر وہ تعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ کسی بھی ایماندار شخص کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔
ہمارے سیاستدان احمقوں کی جنت سمجھتے رہے پاکستان کو۔عوام چاہے کتنی ہی بے حس ہو جائے  مگر نظام قدرت کا اپنا دستور ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھے طوطے شائد جوانی کے نشہ میں ابھی بھی سرشار ہیں ( دوسری تیسری شادی  سے ہٹ کر) ۔ یہ 80 اور نوے کی دہائی نہیں ہے جب  ایک کمانے والا دس افراد کے کنبے کا کفیل تھا۔ ہر کمرے میں اے سی  کے لئے بجلی اور موٹر سائیکل، کار کے لئے پٹرول کی ضرورت ہر فرد کو ہے۔ جس کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی چوری سے لوڈ شیڈنگ نے ملک کا جو حال کیا تھا۔ بجلی کی زیادہ قیمت اور چوری رکنے پر لوڈ شیڈنگ پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔  بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب ایک گاؤں کا حال میں جانتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ ڈائریکٹ بجلی چلائی گھر وں میں کئی ای سی دن رات بدن کو گرم ہونے سے بچائے رکھتے تھے۔ پرچوں کے اندراج پر جب تھانوں کا منہ دیکھنا پڑا تو ای سی بند اور میٹر کے زریعے بجلی کی آمدورفت شروع ہو گئی وہاں۔
آج کے  کالم نگار ،مفکریں ٹاک شو کے تجزیے  قوم کو حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے مستقبل کی پیش گوئیوں پر کمر بستہ ہے۔ نیا لیڈر کون بننے جا رہا ہے ، پارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہو گی۔اس نظام سیاست کو ماننے والے اور سہارا دینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے آنے والے وقت میں قیادت کا فیصلہ پڑھی لکھی عوام کرے گی۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے والے جاہل سپوٹر اور ووٹر ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔جو قیادت کی بجائے باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جو انہیں دنیا میں ایک آزاد شہری کی بجائے اپنی رعایا بنا کر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو معاشرہ لچُا سب سے اُچا کی پالیسی پر گامزن ہو۔ وہاں فیصلے زمین پر نہیں ہوتے۔ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک کسی خاندان کی غلامی کے لئے دنیاکے نقشے پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ ووٹر جتنی وفاداری پارٹی رہنما سے رکھتا ہے اگر اُتنی  عزت واحترام ، قدرو منزلت اور قربانی و ایثار اپنے گھر ، عزیز رشتےدار اور ہمسائیوں محلہ داروں سے بھی رکھ لے تو معاشرہ بے حسی کی تصویر نہ بنا پھرے جہاں لا تعلقی اور خود غرضی کی اجارہ داری ہے۔ مفاد پرست چند ایک چوہدریوں نے اپنے محلہ گاؤں کے نوجوانوں میں مخالفت نفرت کا ایسا بیج اپنے مخالفوں کے بارے میں بویا ہے کہ نوجوان نسل اچھے برے کی تمیز بھول گئی ہے۔  چائے بوتل ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل سے بیگانے ہو چکے ہیں۔
دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلتا بلکہ قانون کی حکمرانی میں تمام عوام اور ارباب اختیار قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں فیصلے سنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوں تو کیا ہر ادارے کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بار بار کوٹ پہن کر تحریک چلانی پڑے گی۔
کیا ہم اُس مقام تک آ پہنچے ہیں کہ " اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی"

تحریر : محمودالحق


  

در دستک >>

Jul 23, 2019

خود کے آلاؤ خود کی جھونپڑی


پھولوں کی طرف بڑھنے پر کانٹے آستینوں کی طرف لپکے،زرا سنبھل  کر پلٹے تو پھول مسکرا کر ہوا کے رخ جھوم اٹھے۔ہر بار جانے سے پہلے آنے کا قصد کر تے تو  ارادہ ہوا کی لہر پر آواز بن کر مخبری کر دیتا۔  ایک مہک جاتا ، ایک اُداس لوٹ جاتا۔  گلستان میں پھر کسی نے جھانک کر آنے کی خبر دی  ۔  خوشبو تو ہوا سے لپٹ کر احساس کو معطر کر دے گی مگر  جذب کرب کی سولی پر لٹکا رہے گا۔
جب شہروں کی پابندی راس نہ آئے  تو جنگل کی طرف بھاگتے ہیں۔   جہاں ہوا، پانی اور گھاس پر سینکڑوں ہزاروں لاکھوں  ٹکر سے محفوظ رہنے کے لیے سرخ سبز اشارے کے پابند نہیں ہوتے کیونکہ اُن کے ارادے پکے ہوتے ہیں اور مقصد واضح ۔   نام ان کے کہیں فخر و غرور اور کہیں گالم گلوچ میں  تشبیہ و استعارہ   ہو جاتے ہیں، پھر بھی شکوے ان کے آسمان سے نہیں ہوتے۔
جب اکیلا آنا لکھا ہو اور جانا تنہا،تو پلٹ کر اٹھکھیلیاں کیسی۔زندگی کا سفر سمندر کی لہر نہیں جو ساحل تک چھوڑ جائے ، نہ ہی شہر کی سڑک ہے جہاں جب چاہا پلٹ لیا۔یہ تو جنگل ہے گہرائیوں کا تنہائیوں کاکھائیوں کاپھولوں کا پھلوں کا اندھیرے کا خوف کا ، جہاں دوست بھی ہیں دشمن بھی۔ جینے کے ڈھنگ نرالے  موت کے سنگ  ۔
خود  کے آلاؤ   خود کی جھونپڑی، مسافر کی دوستی  سفر تک۔منزل تو  رہتی بچھڑنے کے آغاز کا نشان  بن کر۔ جو سفر پر نہیں وہ مسافر نہیں۔ جو پڑاؤ پر رک گئے وہ سفر پر نہیں۔ جو کھو چکے اُنہیں پانے کی اُمید کیسی۔جو رُک چکے اُنہیں  ساتھ چلانے کی  ضرورت کیسی۔  جب شام ڈھل جائے تو کھڑکیاں ہی صرف کھلتی ہیں۔ دروازے دستک سے آواز پیدا نہیں کرتے جس سے آنے والوں کی اطلاع پہنچ پائے۔
زندگی ایک گھورکھ دھندہ ہے لفظوں کی بناوٹ کا، پلکوں کی جنبش کا، زبان کی حلاوٹ کا، آنکھوں کے انتظار کا،سوچ کے غبار کا، بھوک و پیاس کے اوقات کا اور سانس سے گردش خون کی روانی کا۔
کسی کے لئے بند آنکھوں  کے بعد  دنیا ختم ہوتی ہے اور کسی کے لئے کھلی آنکھوں میں۔ جہاں چاہت کا دربار ہے وہاں محبت سرکار ہے۔ جو مالک و مختار ہے چاہت اس کی طلبگار ہے  ۔بندہ ہی لاچار ہے ۔
سامان کی طرح اس سفر میں اپنے اعمال کی خود حفاظت کرنا پڑتی ہے۔خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔
جب زبان رک جاتی ہے تب قلب جاری  ہو جاتا ہے۔

محمودالحق

در دستک >>

Jul 6, 2019

روشن سیڑھی


انسانوں سےبھرےمعاشرےسےجب اکتاہٹ ہونےلگےیادل بھرجائےتوقدرت کےحسین نظارےبانہیں کھولےخوش آمدیدکہنےکےلئےبیتاب ہوجاتےہیں۔ لہلاتےدرخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روح تک اپنی تاثیرمسیحائی پہنچاتی ہیں۔بدن کی گرمائش پتوں کی سرسراہٹ سےآلام وآرائش سےاتنی دورچلی جاتی ہےکہ واپس جانےکوجی نہیں چاہتا۔ مگررہناتوبستیوں میں ہی ہوتاہےکیونکہ آبادیوں میں جسم محفوظ ہوتےہیں اور نقصان سےمحفوظ انہیں قانون کی عملداری رکھتی ہے۔ درخت جب روشنی سےفاصلہ کرلیتےہیں توحشرات اورجانوروں کےقوانین کی عملداری شروع ہوجاتی ہے۔ جوننگےبدن پرخوراک کی تلاش میں حملہ آورہوتےہیں۔ چھوٹےپرندےچونچ میں چھوٹےکیڑےدبائےاپنےگھونسلوں کی طرف بچوں کےلئےمحوپروازہوتےہیںلیکن آبادیوں میں انسان ہوس وحرص،لالچ ومفاداورحسدونفرت کی ٹوکریاں بھرکراپنےبچوں کوعمربھرکاراشن مہیاکرنےکےلئےاحساسات وجذبات کی لاشوں کوبےدردی سےروندتےآگےبڑھتے ہیں۔ 
 انسان علم سےقداونچاکرتاہےاوردولت سےمعیار۔ رویےسےدباؤاورمقابلےسےتناؤکاماحول پیداکرتاہے۔ 
حواس خمسہ کاپانچ ہونا،بدن میں دل جگرپھیپھڑےمعدہ اورگردےکاپانچ ہونا،ہاتھ پاؤں کی انگلیاں پانچ ہونا،دوٹانگوں دوبازؤوں اورایک گردن کاپانچ ہوناایمان رکھنےوالوں کےلئےبہت اہمیت اختیارکرلیتےہیں جونمازپنجگانہ اوردین اسلام کےپانچ ارکان کواختیارکرلیتےہیں۔ 
ذہن میں خیالات اترآئےتوتخیل بن جاتاہےاگرخون اپنےراستےسےاترجائےتوزندگی راستہ بھٹک جاتی ہے۔ سجدوں میں دعائیں رہ جاتی ہیں۔ عجب تماشاہےجوچارسوپھیلاہے۔ فرعون کی ممی عجائبات جہاں بن کررہ گئی۔ فرعون سوچ بن کرجہاں میں دندناتےپھررہےہیں۔ 
قرآن نےآسمان سےزمین تک روشن سیڑھی کھڑی کردی اورانسان نےزمین پرپہیہ بناکرلڑھکناشروع کردیا۔ 

تحریر: محمودالحق




در دستک >>

May 12, 2019

ادھورے سفر


بچپن گزر جاتا ہے ، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ماضی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ مگربعض لوگ زندگی میں طوفان کی طرح آتے ہیں اور ایک جھونکے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ نہ تو راہ و رسم رہتی ہے ، نہ ہی تعلق قائم رہتا ہے اور نہ اپنائیت و وابستگی۔ بس یادداشت کے کینوس پر گرد و غبار کی مانند بس اتنی سی جیسے عینک پر پڑی دھول جو آنکھوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا کو بہت کچھ دینے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لینے والوں کی لائن میں لگے ہوتے ہیں ۔غذائی ضرورتیں انسان کی صحت و توانائی کا لیبل سجائے رکھتی ہیں اور بھوک بدن کو زندہ رکھنے کی تڑپ میں مبتلا رکھتی ہے۔ 
ایک بات تو طے ہے راستے جدا جدا ہیں منزلیں الگ الگ۔ الفاظ ترازو نہیں ہو سکتے جن پر انسان تولے جا سکتے ہیں۔ انسانی بستیوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا تنہائیاں ، جنگلی حیات میں ریوڑ ہوتے ہیں یا غول۔ 
عجب لوگ ہیں خالق کائنات کی تخلیق پر غور نہیں کرتے لیکن جب اس کا نام بادلوں، پھلوں میں نظر آئے تو اس کی شان و بڑائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی نے روٹی پر دکھا دیا تو ٹی وی پر چلا دیا۔ عجب زمانہ ہے دولت و طاقت سے عزت و وقار کا بھرم ہے۔ کردارواعتبار ، اخلاق و اطوار تو بس وہ اجزائےترکیبی ہیں جو ہر شے پہ لکھے ہوتے ہیں مگرپڑھتا کوئی نہیں۔ مال و اسباب ترازو پر رکھتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں اور ہنسی کا کسی کے پاس حساب نہیں۔ ایک ہنسی میں کتنے آنسو پڑتے ہیں۔ بس یاد ہے تو صرف مسکرانا یا رونا۔ 
جو لفظوں میں معنی تلاش کرتے ہیں ان کے سفر ادھورے ہیں۔ جو احساس تلاش کرتے ہیں وہ منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ 
محبت انسان اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوسرا اچھا لگتا ہے یا اپنا آپ اچھا لگتا ہے۔ حالانکہ چاہت احساس مانگتی ہے اوراحساس ایثار مانگتا ہے۔ ایثار قربانی مانگتا ہے تو قربانی قبولیت مانگتی ہے۔ قبولیت تعلق مانگتی ہے اور تعلق تقدس مانگتا ہے۔ تقدس وفا مانگتا ہے اور وفا عشق مانگتا ہے۔ 
عشق رضا مانگتا ہے اور رضا خدا مانگتا ہے۔ 


تحریر: محمودالحق


در دستک >>

May 2, 2019

محبوب جاں ہوتا


کاغذ پہ لکھ دیتے تو حال بیاں ہوتا ۔ یوں نہ قلب ،سفر امتحاں ہوتا
زندگی تو یوں بھی گزر گئی ۔ دل ناتواں ہوتا یا ناداں ہوتا
کس سے کہیں شکوہ جان جاناں ۔ موج تنہائی میں الفت بیاباں ہوتا
سینے میں دہکتا انگاروں پہ لوٹتا ۔ دھڑکا نہ ہوتا تو ٹھہرا آسماں ہوتا
آنے میں بیتابی جانے میں شادابی ۔ خیال پرواز ہوتی ،نہ قدم نشاں ہوتا
دولت ترازو میں رہاعشق بے مول ۔ جبر تسلسل نہ ہوتا، کانٹا گلستاں ہوتا
 آنکھ سے نہ چھلکا ہوتا جو قطرہ ۔ رگوں میں لہو بن دوڑتا ارماں ہوتا
 روح احساس کو ستانےوالے ۔ نہ ہوتا تو تو یہ میرا جہاں ہوتا
خلوت میں نہ ہوتی گر دستک ۔ جلوت میں محمود محبوب جاں ہوتا

محمودالحق

در دستک >>

Apr 28, 2019

زندگی

اے زندگی تیرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ عرض کرنے کی حالت نہیں، حکم دینے کی جسارت نہیں۔ پھر بھی امید کا دامن تھامے ساتھ کھڑے ہیں کہ نہ جانے کب معافی کا دروازہ کھلے اور سجدہ ریزی میں بخشش کی عطا سے امید کرن نور جمال ہو جائے۔ 
یہ دنیا تو ایک عطا ہے مگر نہ جانے کیوں کسی کو دکھتی ایک سزا ہے۔ کہیں جفا ہے تو کہیں ادا ہے۔ کہیں مدعا ہے تو کہیں دعا ہے۔ یہ زندگی عجب ندا ہے ، سن لیں تو قضاء ہے۔ سوچنے میں تو بس دغا ہے۔
ایک آنکھ مسکرانے لگتی ہے تو ایک آنکھ رلانے لگتی ہے۔ ایک قدم بڑھتا ہے تو ایک قدم رکتا ہے۔ زندگی تو ایک کفن کی محتاج ہے۔ہزار کفن شائدایک درد کو نہ دفنا پائیں۔ جسے حاصل سمجھتے رہے وہ منزل کے نشان نہ دے پائے اور قدم واپسی کا راستہ بھی کہیں کھو آئے۔ دیواروں کے پار جائیں تو دیواریں چیختی ہیں۔ دیواروں کے حصار میں تنہائی چیختی ہے۔ کس کو دلاسہ دیں کس کی امید بر لائیں۔ انگور کی بیل دیواروں درختوں سے لپٹ کر پھل بچا لیتی ہے۔ نخلستان زندگانی میں کیا اور کتنا بچائیں۔ کس سے کہیں آ چلمن کے پیچھے سرگوشیاں سنیں۔ 
چیونٹیوں سے ستاروں تک اپنا پتہ پوچھتے رہے۔ بس ایک ہوا ہی تھی جو کانوں میں سرگوشی کر کے پاس سے گزر گئی۔ انسان تو زمین کا بوجھ مٹی کے سپرد کرنے کے لیے بیتاب رہتا ہے۔ 

محمودالحق


در دستک >>

Mar 28, 2019

قطرہ قطرہ برس

آرزوں کی خاک جب لالچ کی دھول میں اڑتی ہے تو غرض و مفاد کی کنکریاں سہانے خوابوں کی نیل گیں روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ ہر چہرے پہ ایک ہی عینک سے منظر صاف دکھائی نہیں دیتے جو نظر سے دھندلائے گئے ہوں۔ ایک ہی عینک سے ایک اخبار کو بہت سے لوگ پڑھ لیتے ہیں۔ عقل انسان پہاڑوں سے لڑھکتے پتھروں کی مثل پستیوں میں گر گر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ اور پرندے مجبوری سے پستیوں میں گرتے ہیں یا اترتے ہیں۔ خواہشیں اور آرزوئیں منزل تک پہنچنے کے مقصد نہیں ہوتے۔ بادل بننے کی خواہش دل کے ارمان ہوتے ہیں جو بادل بن کر برسنے سے محروم رہ جائے تو گڑگڑاتے چلاتے ہیں۔ زندگی صرف پانے کا نام نہیں ہے دینا بھی اسی کا جزو ہے۔

محمودالحق
در دستک >>

Mar 24, 2019

اعداد کا کھیل Double math magic

ایک نئے خیال نے بہت دنوں سے ذہن میں کھلبلی مچا رکھی تھی کہ کچھ ایسا نیا ہونا چاہیئے جو اچھوتا ہو ، منفرد ہو اور مکمل بھی ہو۔ پھر وہی ہوا اچانک ایک نیا آئیڈیا دماغ میں عود کر آیا۔ سفید کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں بنانے کے بعد مائیکروسوفٹ ایکسل پر رکھا تو وہ بنتا ہی چلا گیا۔چھ سات ماہ سے جسے پڑھا سیکھا سمجھا اور بنایا یہ اسی کا تسلسل ہےیعنی Math magic ۔ لیکن اس بار معاملہ زرا ہٹ کے ہے کیونکہ یہ ایک انوکھے، منفرد اور اچھوتے خیال کا شاخسانہ ہے۔
یہ   Double math magic  کا آئیڈیا ہے جو بنتا تو ایک ہی  Pattern  سے ہے  لیکن دونوں   Math magic  الگ الگ بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ  Double math magic  میں اعداد کی ترتیب مختلف ہے اور مختلف اعداد کی وہی ترتیب دونوں  Math magic  کو الگ الگ کرنے پر بھی رزلٹ میں فرق نہیں آنے دیتی۔فارمولہ کے مطابق   Vertically, Horizantally  اور  Diaginally  ان سب کا ٹوٹل ایک ہی آتا ہے یعنی   516۔اس میں  نمبرز    کی ٹوٹل تعداد  128  ہے اور  64 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ان کا ٹوٹل  129  آتا ہے۔ جنہیں دو مخالف سمت میں ایک جیسے دو رنگوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کی مختلف  Formations  ہیں جو کہ میں نے پانچ طرح سے تصاویر کے ذریعے دکھائی ہیں۔عام طور پر یہ  Square  میں ہوتے ہیں ، میں نے اسے  Diamond shape  میں تشکیل دیا ہے۔   Even / Even  اور  Even / Odd  میں بنائے جا سکتے ہیں۔زیر نظر تصاویر 8x8 & 8x8  کے  Math magic کی ہیں جس میں مختلف رنگوں سے مزین انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔   ان میں  1  تا  128  نمبرز ایسے استعمال ہوئے ہیں کہ نمبرز دو واضح حصوں کی بجائے ملے جلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 

اس تصویر میں  16 گروپ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں ہر گروپ میں  8اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے۔ جو کہ دونوں  Math magic  کے چار چار نمبرز سے تشکیل پاتے ہیں ۔ ایک ہی رنگ میں 516 کے دو گروپس میں 8 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ہر جوڑے کا ٹوٹل 129 بنتا ہے۔


اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو  258کےچار  اعدادایک ہی رنگ میں مخالف سمت میں موجود258 کے  چاراعداد سے مل کر 516 بنتے ہیں۔







ایک اس کی یہ صورت بھی بنتی ہے کہ  Math magic کے چار عدد مل کر 130 بنتے ہیں اور اسی جگہ پر دوسرے  Math magic  کے چار عدد  386 بنتے ہیں جن کا ٹوٹل 516 ہے۔


 اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو نمبرز کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ جس سے درج بالا  Math magic  تشکیل پاتا ہے۔


ایک اس کی صورت یہ بھی بنتی ہے کہ ہر رنگ میں اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے اور مخالف سمت کے اسی رنگ میں ان کا جوڑا بنتا ہے جن کا ٹوٹل 129 ہے۔


 اس Math magic  کا ایک انداز یہ بھی ہو سکتا ہے ۔






تحقیق و ترتیب : محمودالحق

در دستک >>

Feb 17, 2019

کائنات کے سر بستہ راز اور آیت الکرسی

آج کا موضوع بہت اہم ہے  کیونکہ قرآن کی سورتوں اور آیات کا میری تحقیق سے بہت خاص تعلق مجھے نظر آیا۔خاص طور پر قرآن کی سب سے عظیم آیت الکرسی کی نسبت جنہیں مختلف ویب سائٹس پر لکھا گیا اور یو ٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کی گئیں ۔ اسی پوسٹ میں آیت الکرسی کی وضاحتی تحریر کو شامل کیا  گیاہے اور یو ٹیوب ویڈیو  بھی موجود ہے۔ میری تحریر کا ایک ایک جملہ اس پُرحقیقت منزل تک پہنچنے کے لئے میرے سفر کی روئیداد کا احاطہ کرتا ہے۔
میں نے  Math  اور Algebra کو صرف میٹرک تک پڑھا۔ کائنات کے سربستہ راز کی تلاش نے سوچ کی بلندیوں کو عقل و شعور کی گہرائیوں میں اتار دیا۔ اللہ تبارک تعالی کے احکامات  میری ذات سے اس قدر منسلک ہوئے کہ ایک قانون کی مانند زندگی پر نافذ ہو گئے۔  الزائمر کے مریض اور فالج زدہ  بوڑھےباپ کی 14 سال تک ایسے دیکھ بھال کی جیسے ایک ماں اپنے بچے کو سنبھالتی ہے۔  دس سال ہاتھوں سے نجاست کوصاف اور جسم پر بننے والے زخموں پر مرہم رکھا۔  اللہ نے اتنی دولت عطا کی کہ باپ کی خدمت کے لئےدو ملازم رکھ کر دنیا کی رنگینی میں کھو چکا ہوتا اگر اللہ تبارک تعالی کی رحمت نہ ہوتی۔ ماں نے مجھے گود میں سلایا، محبت کے نوالے  منہ میں ڈالے۔ باپ نے  میری  پیدائش  پر منوں مٹھائی تقسیم کی۔  وہ یہ سوچ کر خوش تھا کہ باون سال کی عمر میں اللہ نے آٹھواں بیٹا عطا کیا مگر اللہ نے تو بوڑھے کے لئے ایک لاٹھی کا انتظام کیاتھا۔ وہی بوڑھے کی لاٹھی جو میری تحاریر اور بلاگ پر موجود ہے۔ جس  باپ نےقدم قدم چلنے پر سنبھالا۔ عزت و احترام اور قربانی و ایثار کا ایسا سبق میری ذات میں اتارا کہ  اپنے باپ کی دیکھ بھال اُٹھانے، بٹھانے،اورنہلانے  کے دوران کمر درد کی شدید شکایت آج بھی کبھی کبھی ہلکا سرور دیتی ہے۔
چھ ماہ قبل Magic square کے بارے میں جاننے کی جستجو میں ایک فارمولہ نے میرے ذہن پر دستک دی ۔ جسے کھوجنے کی کوشش میں کھولتا چلا گیا۔2300سال قبل مسیح چین میں دریا سے باہر نکلتے ایک کچھوے کی پشت پر بنے Dots کی ترتیب ایک ایسا ریاضی کا جادو ہے جو آج بھی موضوع بحث اور ارتباط حیرت و عقل ہے۔جلد ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوگیاکہ جو Math magic square  میں بنا رہا ہوں وہ دراصل اسی کا عکس ہے۔
ہر روز سوچ کے نئے در وا ہوتے چلے گئے، جیسے ہی ایک گرہ کھلتی تو  صدیوں سے ہونے والی تحقیق ایک بار پھر کسی نئے راستہ پر ڈال دیتی جس سے ایک نیا راستہ پھر کھل جاتا۔ بالآخر Math magic square کی اُس انتہا تک جا پہنچا جہاں میں نے اپنے ہاتھ اُٹھا لئے، کیونکہ نتائج نے مجھے ورطہء حیرت میں ڈال دیا ۔ میں نے Magic square بنانے کے لئے جو  اپناطریقہ کار اختیار کیا تو نتائج Infinity کی طرف جا نکلے۔ 
25x25 کے Magic square کی تعداد کا تعین کرنا چاہا تو عقل دنگ رہ گئی۔  بنیادی طور پر یہ ایک  Math magic carpet کا Formula   ہے جس میں Root numbers اور Prime numbers مل کر Magic square  کی تشکیل کرتے ہیں۔جو نمبرز ہمیں سامنے دکھائی دیتے ہیں وہ ان دونوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔  یہ Associative Magic square کہلاتے ہیں کیونکہ ہر جوڑا مرکزی نمبر سے گزر کر ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے۔


کسی بھی ایک Odd order کے Magic square  جس میں کہ Root numbers  ساکن رہتے ہیں اور Prime numbers   کے جوڑوں  میں موجود نمبرزکی  ردو بدل سے مزید  Magic square بننے کی استعداد موجود ہوتی ہے۔ جس کا فارمولہ P(n , r) =? ہے۔
  25x25 کے  Magic square    میں  12 عدد Number pairs میں Math magicبننےکی استعداد Permutation nPr calculator کی رُو سے  479,001,600 ہے اور 51x51 کے Magic square میں 24 عدد Number pairs میں  Magic square بننے کی استعداد 15,511,210,043,330,985,984,000,000ہے۔
یہ رزلٹ کسی مفروضے اور قیاس کی بنیاد پر  اخذ  نہیں کئے گئے۔ یہ ایک فارمولہ ہے جو منطقی ہے  اور یہ خوبی صرف اور صرف کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے پیچھے چھپے فارمولہ کی بدولت ہے جو کہ ایک حقیقت ہے ۔
25x25
51x51

لیکن!
آج حقیقت میں  کچھ اور بتانا مقصود ہے۔ آیت الکرسی اورسورۃ النور کی ایک آیت  کا اس Magic square سے نسبت  دلچسپی سے خالی نہیں۔ آج ہی ایک ویڈیو میری نظر سے گزری جس میں ان دونوں آیات   کا الگ الگ توازن اور تناسب  بہت خوبصورتی اور مثالوں سےجس طرح  بیان کیا گیا۔وہ  Lo Shu magic square  ( کچھوے کی پشت پر موجود)  نمبرز سے ہو بہو مطابقت رکھتا ہے۔قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ  کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔


"آیت الکرسی کا مطلب ہے بادشاہی کی آیت کیونکہ اس میں اللہ کی بادشاہت اور اس کی طاقت  بیان کی گئی ہے۔ آیت الکرسی ایک مکمل آیت ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے بہت طاقتور ہے۔ اس آیت میں اللہ کی تعریف اور اسکی بادشاہت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ایک مکمل اور طاقتور ذات ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کے باعث آیت الکرسی انسان کو خطرات اور دوسری بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لئےموثر ہے۔
آیت الکرسی کی وضاحت
آیت الکرسی کے نو حصے ہیں مگر ان نو حصوں کو اللہ نے بہت ہم آہنگی سے بنایا ہے
اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ اور  وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
یہ دونوں اس آیت کے پہلی اور آخری حصے ہیں جن کے آخر میں اللہ کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو یہ ہیں  الْحَيُّ الْقَيُّومُ اور الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
 لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ  اور وَلاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا 
یہ آیت الکرسی کا حصہ دوئم اور ہشتم ہے. ان حصوں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو دونوں میں اللہ کے بارے میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی تھکاوٹ سے پاک ہے. جب اللہ کسی چیز کی حفاظت کرتا ہے تو اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ اور زمین و آسمان کی نگرانی بھی اللہ کو تھکاتی نہیں ہے 
  لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ  اور وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ وَالأَرْضَ 
یہ اس آیت کا تیسرا اور ہفتم حصہ ہے. ان دونوں کو دیکھنے سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملتے جلتے ہیں. ان حصوں میں اللہ انسان کو  باور کرواتا ہے کہ وہ نا صرف زمیں و آسمان کا مالک ہے بلکہ تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہر شے کا بادشاہ بھی ہے.
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِه   اور  وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ َ
اس چوتھے اور چھٹے حصے میں اللہ انسان کو اس کے کمزور اور اللہ کے محتاج ہونے کی یاددہانی کرواتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ سوائے اس انسان کے جسے اللہ خود طاقت عطاکرے 
  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ  
یہ اس آیت کا درمیانہ اور پانچواں حصہ ہے. اس میں اللہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں اس نے پہلے کیا بیان کیا ہے اور بعد میں کیا بیان کیا ہے "
ویڈیو


قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ  کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔ قرآن میں  متضاد الفاظ   جو ایک ہی تعداد میں آتے ہیں اُن  کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ان میں سے چند یہاں بیان کرتا ہوں۔
(Allah loves - 17 times_Allah loves not - 17 times)
(Love-17 times_Hate-17 times)
(Angels – 88 times _ Devils – 88 times)
(This word – 115 times _ Next world – 115 times)
(Heat – 4 times_ Coolness – 4 times)
(Summer – 1 time _Winter – 1 time)
(Worry – 13 times _Reassurence – 13 times)
 (Close– 10 times_Away – 10 times)
(Belief – 25 times_Disbelief – 25 times)
(Benefit-9 times _ Harm – 9 times)
(East Sunrise – 16 times_ West Sunset – 16 times)
(Your day – 5 times_Their day – 5 times)
(Old man - 4 times _ Old woman - 4 times)
(Child (opposite to old people above) - 4 times)
(Obedience-3 times_Disobedience-3 times)
(Sleep/Dream - 7 times_ Vision - 7 times)
اس کے ساتھ ساتھ ایک جیسے الفاظ کی تعداد اتنی ہے کہ ان سب کا یہاں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔
 (Sun – 33 times _ Light (singular)- 33 times)
(Preach – 25 times_ Tongue/Language – 25 times)
(That day (refering to Judgment day) – 70 times Judgment day – 70 times))
Phrase ”Seven heavens” – 7 times)( The creation of Heavens – 7 times)
(War – 4 times_Prisinors of War – 4 times _ Spoils of War - 4 times_Painful Penalty - 4 times)
(The Kingdom – 20 times_The Throne – 20 times)
(Bees - 1 time_Honey - 1 time)

خالق کائنات  نے اپنی تخلیق کردہ ہر  جاندار اور بے جان حتی کہ اپنے کلام کو بھی   الفاظ کے توازن اور تناسب کا حسن بخشا ہے۔  قرآن پاک کی تلاوت میں جو لہن و چاشنی ہے ، اس کے پیچھے الفاظ اور آیات میں توازن اور تناسب ہے۔ یہی وجہ تھی جب کفار جو قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے ان کو چیلنج دیا گیا کہ" اگر تم شک میں ہو میرے بندے پر نازل شدہ کتاب کے بارے میں تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی لےآؤاور اللہ کے سوا جو کوئی تمہارے مدد گار ہیں انہیں بھی بلا لو"۔ 
Magic squareکی حقیقت کو میں نے کائنات کے سر بستہ راز جان کر دن رات ایک کر دیا، جس نے مجھے تھکا دیا  ۔ صرف اعداد کا جادو میرے لئے کافی نہیں تھا ۔ نمبرز کےٹوٹل اور جوڑے صدیوں سے انسان بناتے اورسمجھاتے آ رہے ہیں  اور میں انہیں قرآن میں تلاش کر رہا تھا۔آج اچانک ہی ایک ویڈیو میری نظروں کے سامنے آئی تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔پچھلے 6 ماہ سے ستاروں میں جو تلاش کر رہا تھا۔ مجھے قرآن سے مل گیا۔آج میرا تجسس ، میری جستجو اور میری تحقیق ختم ہو گئی۔

    محمودالحق

در دستک >>

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک