Mar 28, 2019

قطرہ قطرہ برس

آرزوں کی خاک جب لالچ کی دھول میں اڑتی ہے تو غرض و مفاد کی کنکریاں سہانے خوابوں کی نیل گیں روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ ہر چہرے پہ ایک ہی عینک سے منظر صاف دکھائی نہیں دیتے جو نظر سے دھندلائے گئے ہوں۔ ایک ہی عینک سے ایک اخبار کو بہت سے لوگ پڑھ لیتے ہیں۔ عقل انسان پہاڑوں سے لڑھکتے پتھروں کی مثل پستیوں میں گر گر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ اور پرندے مجبوری سے پستیوں میں گرتے ہیں یا اترتے ہیں۔ خواہشیں اور آرزوئیں منزل تک پہنچنے کے مقصد نہیں ہوتے۔ بادل بننے کی خواہش دل کے ارمان ہوتے ہیں جو بادل بن کر برسنے سے محروم رہ جائے تو گڑگڑاتے چلاتے ہیں۔ زندگی صرف پانے کا نام نہیں ہے دینا بھی اسی کا جزو ہے۔

محمودالحق

3 تبصرے:

Aniqa Riaz said...

Interesting Article
Check this also:
Copy Paste link in the Browser:
https://www.sehersblog1.ga/2019/04/haseen-musam-ghuaab-mere-by-riaz-seher.html

zahra zafar said...

nice sharing amazing one keep sharing its amazing
islamabad

zahra zafar said...

nice sharing amazing one http://www.pakistanjobs.pk/

Post a Comment

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک