Apr 28, 2019

زندگی


اے زندگی تیرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ عرض کرنے کی حالت نہیں، حکم دینے کی جسارت نہیں۔ پھر بھی امید کا دامن تھامے ساتھ کھڑے ہیں کہ نہ جانے کب معافی کا دروازہ کھلے اور سجدہ ریزی میں بخشش کی عطا سے امید کرن نور جمال ہو جائے۔ 
یہ دنیا تو ایک عطا ہے مگر نہ جانے کیوں کسی کو دکھتی ایک سزا ہے۔ کہیں جفا ہے تو کہیں ادا ہے۔ کہیں مدعا ہے تو کہیں دعا ہے۔ یہ زندگی عجب ندا ہے ، سن لیں تو قضاء ہے۔ سوچنے میں تو بس دغا ہے۔
ایک آنکھ مسکرانے لگتی ہے تو ایک آنکھ رلانے لگتی ہے۔ ایک قدم بڑھتا ہے تو ایک قدم رکتا ہے۔ زندگی تو ایک کفن کی محتاج ہے۔ہزار کفن شائدایک درد کو نہ دفنا پائیں۔ جسے حاصل سمجھتے رہے وہ منزل کے نشان نہ دے پائے اور قدم واپسی کا راستہ بھی کہیں کھو آئے۔ دیواروں کے پار جائیں تو دیواریں چیختی ہیں۔ دیواروں کے حصار میں تنہائی چیختی ہے۔ کس کو دلاسہ دیں کس کی امید بر لائیں۔ انگور کی بیل دیواروں درختوں سے لپٹ کر پھل بچا لیتی ہے۔ نخلستان زندگانی میں کیا اور کتنا بچائیں۔ کس سے کہیں آ چلمن کے پیچھے سرگوشیاں سنیں۔ 
چیونٹیوں سے ستاروں تک اپنا پتہ پوچھتے رہے۔ بس ایک ہوا ہی تھی جو کانوں میں سرگوشی کر کے پاس سے گزر گئی۔ انسان تو زمین کا بوجھ مٹی کے سپرد کرنے کے لیے بیتاب رہتا ہے۔ 


محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

سوشل نیٹ ورک