Jul 28, 2010

حد ہو گئی

بلا سوچے سمجھے لکھنا فنکاری تو ہے مگر فن تحریر نہیں کہلا سکتا ۔ آج وہی کرنے جا رہا ہوں یعنی فنکاری ۔ ہر حد کو پھلانگنے کی آرزو ہے ۔آم اور امرودتوڑنے کے لئے تو دیواریں پھلانگتے رہے بچپن میں ۔ آج وہ کرنے جا رہے ہیں جسے دیکھ کر اہل علم کہیں گے کہ" حد ہو گئی یار "اگر بلاگ بنا ہی لیا ہے تو پیچھے بچا کیا ہے ۔
کیا اب شاعروں اور ادیبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جو بے چارے حد سے گزرے ہوئے تھے ۔ اہل دانش اگر یہ کہیں وہ حد سے گرے ہوئے تھے ۔ تو پھرکھری کھری سننے سے کیسے بچیں گے ۔سنائیں کیوں نہ ساغر صدیقی مرحوم کو بھرے ہوئے سگریٹ پلا کر شاعری پر ہاتھ صاف کرنے والے مشاعروں میں واہ واہ کے ترانوں سے دم مست قلندر کرتے رہے ۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔ شعر کو تول کر وزن بتا دیتے تھے ۔کہ کس کے ترازو سے نکلا ہے ۔
کہیں یہ تو نہیں سمجھا جا رہا ۔ کسی مشاعرے میں نہ بلانے کے غصے میں غبار نکال رہے ہیں ۔ایسا سوچئے گا بھی نہیں کیوں کہ میں ہفتہ میں ساتوں دن شیو بناتا ہوں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں بہت خوش رہتا ہوں۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ غمگین رہنے والے ہمیشہ برا لکھتے ہیں اور خوش رہنے والے اچھا ۔
اچھا اور برا تو مقدر سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اگر گالی دینے سے تھپڑ کھائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر منہ میں بڑبڑاناہی دوسرے کو ناگوار گزرے۔ تو حد سے گزرنے میں کیا حرج ہے ۔ کوئی شاعر تو اس حد تک جا سکتا ہے کہ " کتنے شیریں ہیں تیرے لب – گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہوئے"۔
مگرہمیں کہاں تک جانا ہو گا ۔ایسا کام ہی نہ کرو کہ چھیڑنے میں مزہ رہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کسی مہربان نے ایسا چھیڑا کہ اپنی صفائی دیتے دیتے منہ خشک اور کڑوا ایسا ہوا ۔ کہ کھانے میں سالن کی بجائے کھیر بھر بھر کر چپاتی کے نوالے بناتا رہا۔ مگر کیا کہنے چھیڑنے والے کے جو دوسروں کو دیکھ دیکھ کر ایک آنکھ بار بار بند کرتے ہوئے مشکڑیاں مار رہے تھے ۔اور اپنا لہو تھا کہ ابل ابل جا رہا تھا ۔چار گلاس پانی پینے سے لہو ٹھنڈا کیا ۔
بات انہوں نے اس جملے سے ختم کی کہ سناؤ آج کل کیا لکھا جارہا ہے ۔جھنجھلا کر جواب دیا کہ اب ایس لکھوں گا ۔قاری پڑھ پڑھ کر بھر بھر دل کا بوجھ ہلکا کرے ۔اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈتا رہے پوری اکیسویں صدی ۔
جی ہاں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے بدلہ لینے کی ۔حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھا ہے ۔خود ہی انصاف کرے گا ۔ کیونکہ اب انصاف عدالتوں میں بھی نہیں تو پنچائت بلا کر بھی نا انصافی کا رونا رہے گا ۔
لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ میں نے چھوڑ دیا ۔ تو بلاگ کی دنیا چھوٹ سکتی ہے مگر " ہت تیری کی " کی نہیں ۔یہ تو اکثر پوچھتے ہیں کہ لکھنے کا خیال کیسے آیا ۔بلاگستان کا ممبر ہونے کا یہ اعزاز تو ملا کہ جناب بچپن سے شوق رکھتے ہیں اور جو بچپن سے جانتے ہیں ۔ ان کے لئے اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ بچپن سے پک رہا تھا ۔ اب جا کر کہیں دم دینے کے قابل ہوا ہے ۔بھلا یہ بھی کوئی بریانی کی دیگ ہے جو اب دم پخت ہوئی ہے ۔
دیرآید درست آید کو سچ ثابت کرنے کے لئے حد پھلانگنے کی کوششٰں میں ہیں ۔اپنا ڈومین پانے کی دوڑ میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ۔ورڈ پریس پہ بلاگ سپاٹ کا سارا مواد منتقل ہو چکا ، تھیم سلیکٹ ہو گیا ۔
بلا عنوان سے ہی سائیٹ بنانے کا عنوان مل گیا ۔لیکن ابھی خوشی کی خبر سے کافی دور ہیں ۔نام تو پہلےہی سوچ رکھا ہے ۔بدنام بعد میں ہو گا ۔
کھانے کی ہوش نہیں رہی ۔ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے پرانے درد نکل نکل کر چئیر سے چپک جاتے ہیں ۔ایک کے بعد ایک مسئلہ مشکڑیاں مار رہا ہے ۔ بلاگ تین چار بار حادثے کا شکار ہونے سے بچا ہے ۔ اب لہو کے ابال کو آٹھ دس گلاس پانی سے ٹھنڈک پہنچائیں گے ۔
کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے واسطے کچھ کھونا بھی ہوتا ہے ۔اپنا ڈومین پانے کے لئے بلاگ کے اثاثہ جات سے ہاتھ دھونا گھاٹے کا سودا رہے گا ۔ کیونکہ قاری کو پرانی تحریریں ایک ایک کر کے پھر سے پڑھنی پڑیں گی ۔
بلاگستان میں ایک ٹرم بہت مقبول ہے کہ ٹریفک بڑھانے کے نسخہ جات کا استعمال کیسے کیا جائے ۔
حالانکہ حکومت عرصہ دراز سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے کبھی کم بچے خوشحال گھرانہ اور کبھی بچے دو ہی اچھے کو زندگی کی بیمہ پالیسی کے اشتہار سے ترغیب دلانے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہے ۔
مگر دعا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھنے سے رک جائے مگر بلاگستان کی ٹریفک بڑھتی جائے ۔

6 تبصرے:

عدنان said...

السلامُ علیکم محمود بھائی !
بہت خوب لکھا ہے آپ نے

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

بہت اچھا لکھا جی۔
لیکن اتنی جلدی میں کیوں لکھا؟
ایک ہی کام میں ترقی کر رہے ہیں ہم پاکستانی اور وہ بھی آپ کی دعا کی قبولیت سے اگر ترقی پر پابندی لگ گئی تو کیا ہو گا جی؟
آبادی کے بڑھنے سے ہمارے اخوت کے جذبے میں اضافہ ہو گا اور ایک چادر میں چار چار گھس کر گذارا کر لیں گے۔فائدہ ہی ھو گا۔کم خرچ دوبالا نشیں۔

عادل بھیا said...

یاسر بھیا کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔۔۔ عموماً جہاں یاسر بھیا کمنٹ کر دیں مجھ سے پہلے وہاں مجھے اپنا کمنٹ نہیں کرنا پڑتا۔۔۔ بہت کم اسکی نوبت آتی ہے۔۔۔ اچھا لکھا

افتخار اجمل بھوپال said...

جناب ابھی تو پڑھنے ميں رواں ہوئے تھے جسے پنجابی ميں کہتے ہيں اَينٹ پخيا سی کہ عبارت ہی ختم ہو گئی ۔
ويسے جب سے حکومت نے بچے کم خوشحال گھرانہ کو عام کيا ہے ملک کی آبادی زيادہ تيزی سے بڑھنی شروع ہو گئی ہے ۔ اب ہفتے ميں دو چھٹياں سونے پر سہاگہ کا کام کريں گی

محمداسد said...

ٹریفک والی بات خوب کہی. البتہ اگر بلاگر سے منتقل ہونے میں تحاریر کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے تو پھر یہ واقعی گھاٹے کا سودہ ہے. لیکن چونکہ دنیا میں کوئی چیز نا ممکن نہیں، تو پھر یہ کام بھی ہو ہی جائے گا.

محمودالحق said...

عدنان...
السلام و علیکم عدنان بھائی
پہلے تو خوش آمدید کہیں گے آپ کو اپنے بلاگ پہ .
بہت شکریہ پزیرائی کا .

یاسر خوامخواہ جاپانی ...
شکریہ جاپانی بھائی . لیکن آپ نے کیسے جانا کہ جلدی میں لکھا ہے .اخوت کے جزبہ کا خوب اظہار کیا . جاپان میں اس جزبہ کے فروغ کے لئے کیا یہی اقدامات کئے جاتے ہیں . یقینا نہیں .


عادل بھائی...
اور ہم آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں . خوب کمٹمنٹ ہے یاسر بھائی کے تبصرہ کے بعد تبصرہ سے اجتناب برتنا ہماری ساتھ زیادتی ہے بھائی . ایک ایک لفظ کی محتاجی ہے .

افتخار اجمل بھوپال ...
بھائی صاحب موشن ٹوٹ گیا آپ کا معزرت چاہتا ہوں . آئندہ خیال رکھنے کی کوشش کروں گا اینٹ پخیا رہے . خیالات کی رو میں بہتے ہوئے لکھتا ہوں . جانے کب یہ لفظوں کی بوندیں تھم جاتی ہیں . ہفتہ میں دو چھٹیاں کیا اسی کام کے لئے ہیں . یورپ امریکہ میں عرصہ دراز سے دو ہی چھٹیاں ہوتی ہیں . مگر آبادی بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہے . ہمارا مسئلہ یقینا کچھ اور ہے . جسے شادی کی شدت اور بچوں کی قلت میں تلاش کیا جاتا ہے .

محمداسد ...
شکریہ تو آپ کا کرنا چاہئے . آپ کے ٹیوٹوریل ہی سے یہ کام انجام پانے کے قریب ہے . ایک مسئلہ اٹکا ہوا ہے . ایکٹیویٹ کرنے کا .

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک