Jul 10, 2010

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

انسان پیدا اپنی خاکی فطرت پہ ہوتا ہے ۔ خاک سے پیدا کی گئی خوراک لقمہ ہضم رکھتی ہے ۔خون میں ڈھلتی ہے تو پھر پانی سے جمتی ہے ۔مٹی کی جذبیت نہیں رکھتی مگر اس کی تاثیر سے ضرور پنپتی ہے ۔ پھل پھول کی طرح زندگی کے مدارج کا آغاز بیج ہونے سے نہیں ہوتا ۔ بلکہ بیج بنانے کے عمل کے آغاز سے ہوتا ہے ۔
دنیا میں آنکھ کھولنا شاید کچھ لمحوں کے توقف کا محتاج ہو مگر نہ جانے پہلا سانس لینا اسے کائنات میں گردش کرتے ستاروں سے کیسے جوڑ دیتا ہے ۔کہ بارہ مہینوں میں گردش ایام بارہ ستاروں سے منسوب کئے جاتے ہیں ۔آج شاید کم لوگ اس بات سے لا علم ہوں کہ ان کا سٹار کیا ہے ۔ سو سال پہلےضرورت پڑنے پر ہی تاریخ پیدائش ڈھونڈھی جاتی تھی۔
آج انٹر نیٹ کی دنیا میں سنڈے میگزین کا انتظار نہیں کہ " آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا " بلکہ روز کا معمول بھی جانا جا سکتا ہے ۔ مجھے کبھی بھی ہفتہ کیسا گزرے گا جاننے کا شوق نہیں رہا ۔ اور شاید اسی لئے پڑھنے کی بھی خاص ضرورت پیش نہیں آئی ۔ضرورت تو اب بھی نہیں ہے ۔
جب حالات میں تبدیلی کے آثار معدوم ہونے شروع ہوتے ہیں ۔تو طبیعت میں تغیر پسندی کچھ نیا کرنے کے لئے پرانے انداز میں ردوبدل کی گنجائش پیدا کر لیتی ہے ۔جس سے کبھی فائدہ تو کبھی نقصان کا بھی احتمال رہتا ہے ۔مگر پچھتاوا کا سبب نہیں ہوتا ۔ پچھتاوا مجبوری سے جڑا ہے ۔ شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوتا ۔
اب ایسی تغیر پسندی پر حال دل جاننے کی کوئی کوشش کرے تو پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی چننے پڑیں گے ۔مگر بات سوچنے والی ہے کہ خاکی بدن میں جو رویہ و مزاج اسے گھر سے بے گھر ، تعریف سے لعن طعن ، محبت سے نفرت ، دوستی سے دشمنی ، اچھائی سے برائی تک کا فاصلہ طے کرواتا ہے ۔ وہ ستاروں کے ایک دوسرے سے کی قربت و دوری سے کیا واسطہ رکھتا ہے ۔
دو اور دو چار کرنے والے کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔سمجھتے بھی وہی ہیں جو پڑھتے ہیں ۔بس کبھی کبھار ایک اور ایک کو دو کی بجائے گیارہ سمجھ لیتے ہیں ۔نو دو گیارہ ہونے میں اگر دقت ہو تو دس نمبری ہونے سے مشکل سے بچتے ہیں ۔یہ ہندسوں میں کیا خوب خاصیت ہے چاہے گنتی کر لیں یا باتیں ۔ خوش نصیبی اگر سات کے عدد سے ملنے کی آس رکھتے ہیں ۔ تو تیرہ کے قریب سے بھی گزرنے سے ڈرتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود آج بھی بہت سے اعداد ایسے ہیں جو بے اثر ہیں ۔
عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی شے کی اہمیت اس کی عددی اکثریت سے ہوتی ہے ۔مگر اعداد اگر عدد میں رہیں تو بڑے ہیں ۔اعداد کا یہ کھیل دلچسپ بھی اور اسراریت بھی رکھتا ہے ۔ستاروں کے جن گھروں سے ایک دوسرے کو جوڑا جاتا ہے ۔وہ ستارے خود میں ہی پر اسرار ہیں ۔اور تو اور بعض کھیل بھی اعداد اور گھروں سے چالیں چلنے میں استعمال ہوتے ہیں ۔جیسا کہ شطرنج کا وزیر چالیں چلنے میں ہر گھر میں داخلہ کا پروانہ ہاتھ میں لئے رکھتا ہے ۔گھوڑے کو ہمیشہ تیز رفتاری کی خوبی سے اچھا جانتے ۔ مگر ڈھائی گھر آڑھا ترچھا چلنے کا انداز تو یہیں پایا جاتا ہے ۔
آج بیٹھے بٹھائے کیا سوجی کہ اعداد کے چکر میں پڑ گئے ۔اب کوئی چکر دینا چاہے تو چکرا تو جائیں گے ہی ۔اور اگر کوئی تاریخ و وقت پیدائش کے ذریعے دو تین صفحات پر مشتمل شخصیت خوبیوں اور خامیوں کے تیہ پانچہ کے ساتھ ستارے کے گھرسے نکال لائے تو بات اچنبھے والی تو ہو گی ۔ کیونکہ اپنی خوبیوں کا کریڈٹ ستاروں کو دینا زرا مشکل کام ہے ۔ آج تک تو یہی سمجھتے رہیں ہیں کہ سونا بھٹی میں ڈھل کرکندن بنتا ہے ۔ایسے موقع پر تو یہی بات یاد رہ جاتی ہے کہ " سو سنار کی تو ایک لوہار کی "۔سچائی پر پردہ ڈال دینے سے "ایک لوہار کی" سے جان چھوٹ جائے مگر " سو سنار کی " میں زندگی کا ایک حصہ گزر جاتا ہے ۔اگر بات صرف ایک رات کی ہوتی تو کہہ دیتے کہ رات گئی بات گئی مگر یہاں معاملہ ایک دور کا ہے ۔ ادوار اس لئے نہیں کہا کہ وہ صرف سیاستدانوں کو میسر ہوتے ہیں ۔عوام تو ایک فرد ایک ووٹ ہوتے ہیں ۔جن کی قسمت کا حال کارڈ پر لکھا طوطا نکالتا ہے ۔بولنے والے طوطے تو بہت دیکھے تھے اب قسمت کا حال منہ زبانی سنانے والے طوطے بھی ایجاد ہو گئے ہیں ۔ جو کارڈ کی بجائے خوش بختی کی خبر فرفر بول کر سناتے ہیں۔ اور مایوس چہرے پہ تھکن کی سلوٹیں ایک امید کی کرن سے ہی خوشی کی چمک میں ڈھانپ دیتے ہیں ۔
بازاروں چوراہوں میں زمین پہ چادر پھیلائے قسمت کا حال بتانے والے طوطے صرف اپنی قسمت میں لکھی گئی چوری کا انتظام رکھتے ہیں ۔ مگر میڈیا پر فرفر بولنے والے طوطے اب کہانی والے نہیں رہ گئے ۔قسمت کا حال بتانے والے جادوئی طاقت کے حامل جادو گر بن گئے ہیں ۔جو جادو کی چھڑی سے کچھ بھی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ جب چاہیں بجلی ، گیس بند اور پٹرول ، آٹا ، چینی غائب کر سکتے ہیں ۔طوطا گری کا یہ فارمولہ اتنا کامیاب ہو چکا ہے ۔ کہ اب انصاف کے لئے بھی کسی دروازے کو کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ۔چار پانچ منٹ کی ایک جھوٹی کہانی کی خبر بھی چھٹی کا دودہ یاد دلانے کے لئے کافی ہے ۔
علامہ اقبال رحمہ کے یہ اشعار شائد آج ہمارے بارے میں ہی لکھے گئے ہیں ۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک