Jul 30, 2010

کیا ہم شرمندہ ہیں

ہم شرمندہ بالکل نہیں ہیں کہ قائد نے ہمیں آزاد وطن دیا ۔جہاں ہم آئندہ نئی نسلوں کو بھی ایسی سرزمین کا تحفہ دیں جو انہیں عزت ، احترام اور وقار دے سکیں۔دنیا کے نقشے پہ ابھرنے والا یہ ملک پاکستان کی بنیاد نظریاتی اساس پہ رکھی گئی تھی ۔صرف اتنا نہیں کافی کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی، معاشی ، تمدنی آزادی بھی درکار تھی ۔جو صرف اسی صورت ممکن تھی ۔کہ ہم بحیثیت مسلمان قوم کے ایک الگ خطے میں اپنی زندگی کا آغاز کریں ۔ اس قوم کوزندہ رہنے کے لئے صرف اناج پیداکرنے کا نہیں کہا گیا ۔ بلکہ تمام خوبیوں کو پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ جو کہ عوام کی بنیادی ضروریات سے ہم آہنگی رکھتی ہوں ۔
وطن کی آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔غاصبانہ قبضے سےچھٹکارا حاصل کرنا ۔ ہندؤانہ ذہنیت کی حکمرانی سے چھٹکارا پانا یا پھر انگریز راج کے جھنڈے کے نیچے سےنکل کر الگ وطن حاصل کرنا ۔ نہ کہ چند اسلامی شعائر اپنا نےکے سوا ہر بری عادت کو اپنانا ضروری سمجھا جائے ۔آزادی سے مراد کیا زمین کے ایک ٹکڑے پہ اس لائن آف کنٹرول کو آزادی کی نعمت سے منسوب کیا جائے ۔ یقینا آزادی سے مراد سرحدوں کے تحفظ تک نہیں لئے جاتے ۔ بنیادی طور پر فکری اساس اور نظریاتی اقدار کے لئے آزادی درکار ہوتی ہے ۔ فوج سرحدوں پر متعین کر دینے سے آزادی کا ایک ہی جز پورا ہوتا ہے ۔ لیکن مکمل مفہوم اس سے مراد نہیں لیا جا سکتا ۔
دشمن کی توجرآت نہیں کہ وہ ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔مگر پورا معاشرہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے اپنے ہی گھروں میں مقفل ہے ۔ سرحدوں پر توآمدورفت کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے باڑیں لگا دی جاتی ہیں ۔لیکن آج ہمارے اپنے گھر اونچی اونچی دیواروں اور لوہے کے جنگلے میں گھرے نظر آتے ہیں ۔جو ہماری آزادی کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ان تریسٹھ سالوں میں پردے کی ایک باریک تہہ سے ترقی کرتے کرتے ہم بڑے بڑے قلعہ نما لوہا کے دروازوں کے اندر نظر بند ہیں ۔ چند ہزار فوجی سرحدوں کے دروازوں پر اٹھارہ کروڑ عوام کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لئے چاک و چوبند کھڑے ہیں ۔اور دوسری طرف آٹھارہ کروڑ عوام اپنے ہی منتخب چند ہزار نمائندوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔جو انہیں معاشی معاشرتی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہے ۔ جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی احسن طریقہ سے نہ نبھا سکے ۔جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کی بجائے سرپرستی نے قوم کو تنہائیوں کا شکار کر دیا ۔
اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے ارد گرد کا بخوبی جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ جیسا کسی کے گھر میں نقب لگانے کی تیاری ہو ۔قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کی ٹرم اتنی مقبول ہو چکی ہیں ۔ کہ اس کو اختیار کرنے والے نمائندگی کا استحقاق رکھ لیتے ہیں ۔چوری ڈکیتی میں اضافہ ، عورتوں پہ مظالم اور نا انصافی نے پورے معاشرے کو ایسے گھیرا ہوا ہے کہ وہ جونک کی طرح فکر و روح کو کمزور کر رہی ہے ۔
اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا گیا تھا ۔ صرف اتنا باور کرانا کافی نہیں ہو گا ۔ خلفاءراشدین کے بعد دورحکمرانی میں اسلامی ریاستیں مکمل اسلام کا نمونہ پیش نہیں کرتی رہیں ۔ جس معاشرے میں مذہبی فرقہ بندی کے نام پر خون بہایا جاتا رہا ہو ۔وہاں پہلے ضرورت تو ہے اس بات کی کہ اس معاشرے کے افراد میں ہم آہنگی ہو ، یگانگت ہو، بھائی چارہ ہو ، برداشت ہو ۔
اللہ ، محمدﷺ اور قرآن پر کوئی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ جو جسے پسند نہیں اس کا اچھا عمل بھی پسند نہیں رہ جاتا ۔ زوال پزیر ممالک یا زوال پزیر معاشرہ کبھی نہیں سنا ۔ صرف قوموں کو زوال آتا ہے ۔ اقوام اس کا شکار ہوتی ہیں ۔ سلطنت عثمانیہ کو زوال آیا تو کئی نئے آزادممالک بن گئے۔وہ ممالک آج بھی دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں مگر وہ نظریہ و فکر ختم ہو گیا ۔ نظریہ اور فکر سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ مگر سرحدیں بندشوں کی پابند ہوتی ہیں ۔ نظریہ اور فکر کو پنپنے کے لئے کسی اختیار و اقتدار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
دنیا میں آنے والے بیشتر انقلابات کسی کو ویلکم اور کسی کو گڈ بائی کہنے کی بنیاد پہ تھے ۔ منجمد سرحدیں ویلکم اور گڈ بائی کے اثرات سے محفوظ ہوتی ہیں ۔ جس معاشرے میں نظریہ، ضرورت کی بنیاد پرعدل وانصاف کے ایوانوں میں گونجنے لگے۔ تو وہاں اس معاشرے کے نہ تو گھر بار محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی مزار و بازار ۔تیس پاروں پر مشتمل محمد ﷺ پرنازل اللہ کی کتاب قرآن پاک ہمیں روحانی و فکری اساس فراہم کرتا ہے ۔
فکری اساس کے ساتھ ساتھ یتیموں اور بیواؤں کی دست گیری کا بھی حکم واضح ہے ۔جو ہمارے ہی معاشرے میں ناگہانی اور اتفاقی اموات کی بجائے حادثاتی اموات یتیموں اور بیواؤں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنتی جا رہی ہیں ۔ جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ امانت صداقت دیانت شرافت پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ جس پہ ہم کبھی بھی عمل پیرا نہیں ہوئے ۔ آپﷺکا اسوہ ءحسنہ ہمیں ایک ایسا راستہ دیکھاتا ہے ۔ وہ راستہ جو قرآن کی منزل بتاتا ہے ۔
جہاں ہم رہتے ہیں صرف نا پسندیدہ اشیاء ہی کو حرام جانا جاتا ہے ۔ رنجشیں ، عناد ، بغض ، کینہ ، غیبت اور ایسی بے شمار خرافات ہمارے معاشرے میں اکاس بیل کی طرح پھیل چکی ہیں ۔ کہ ختم ہونے میں زندگی کا ایک حصہ درکار ہے ۔ آزادی کی خوشی ٹی وی پر ترانے چلانے ، موٹر سائیکل بھگانے اور جھنڈیاں لگانے سے نہیں حاصل ہو پاتی ۔آزادی کی خوشی تو تب ہو گی جب گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں ۔ اور بے فکر ہو کر سو سکیں ۔ دروازوں پر دستک دینے سے صرف کسی مہمان کا ہی خیال ذہن میں ابھرے ۔ کسی چور ڈاکو کا نہیں ۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور چودہ اگست بھی ۔ پھل کھجوریں دودھ اور ہر وہ شے جو سحر و افطار میں خوشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اتنی سستی ہوں ۔کہ غریب آدمی ماہ صیام میں عبادت میں صرف رحمتیں سمیٹنے کی فکر میں مبتلا ہو ۔نہ کہ مہنگائی کی پریشانی میں ۔
دوسری طرف رمضان کے مزے گراں فروش لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ اور چودہ اگست کا دن ضمیر فروش سرکاری سطح پرمنانے کے بگل بجائیں گے ۔ سبزی پھلوں سے لیکر کپڑے جوتوں تک پورے سال کی کسر ایک ماہ میں منافع سے نکالے جانے کی بھرپور تیاریاں زوروں پر ہوں گی ۔عوام عبادت اور رحمتوں کا ماہ سمیٹنے میں گزاریں گے ۔ اور گراں فروش و ذخیرہ اندوز منافع سمیٹنے میں ۔جشن دوبالا کرنے کے لئے چودہ اگست کو گھروں پر بڑے جھنڈے بھی لگائیں گے اور پورا گھر جھنڈیوں سے سجائیں گے اور ڈیک پر اونچی آواز میں یہ گانا بجائیں گے ۔
یہ وطن ہمارا ہے ۔اسے ہم نے سنوارا ہے
اس کا ہر اک زرہ ہمیں جان سے پیارا ہے
بینک عوام کی جمع شدہ رقوم سے غریبوں ناداروں کی مدد کے واسطے زکواۃ کی کٹوتی کریں گے ۔جسے پہلے کی طرح حکمران اپنی عیاشیوں پر لٹائیں گے ۔ جیسا اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔جہاز بھر بھر عمرہ کی ادائیگی سرکاری سطح پر کی جاتی رہی ۔ اور اب پھر وہی وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔پہلا لوٹا مال ہضم کر چکے ۔ پہلے گناہ بخشوا چکے ۔ حکومت اور حکمران تو ایک طرف زکواۃ کمیٹیاں جو رقم کا حال کرتی ہیں ۔ وہ بھی ایک الگ داستان ہے ۔کمیٹیاں بننے میں عوام خاص کر دیہی علاقوں میں جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے ۔ سیاسی کشیدگی وہاں بھی نظر آتی ہے ۔ کمیٹیاں بنانے کے مراحل سے میں خود گزر چکا ہوں ۔کیسی کیسی سفارشیں اور اثرو رسوخ استعمال کیا جاتا ہے ۔
ایک طرف لاہور کے مضافاتی علاقہ میں زکواۃ کمیٹیوں میں من پسند افراد کے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا عمل ہو رہا ہو ۔ اور دوسری طرف لاہور شہر میں دن دیہاڑے گھر کے باہر امریکہ پلٹ باپ بیٹی پر پستول تانے دو نوجوان زبردستی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے ۔ دلیر لڑکی نےپاسپورٹ سمیت سفری دستاویزات کے ساتھ منی چینجر سے تبدیل کرائی گئی رقم کا بیگ اپنے کندھے سے نہیں اترنے دیا ۔ لوگ گھروں سے باہر نکل کر لڑکی کی بہادری پر عش عش کر رہے تھے ۔ جو سڑک پر گھسٹی رہی مگر بیگ نہ دیا لٹیروں کو ۔ جو آخر کار نامراد بھاگ کھڑے ہوئے ۔مگر جاتے جاتے ہمارے لئے ایک سوال کھڑا کر گئے کہ ایک غیر مسلم ملک میں نوجون لڑکی آدھی رات کو بھی گھر کے راستے میں اندھیری گلیوںمیں غیر محفوظ نہیں ۔ تو اپنے ہی وطن اسلام میں دن دیہاڈے بے شمار لوگوں کے سامنے جس بے دردی سے پستول کی نوک پہ اسے گھسیٹا گیا ہو ۔ اور اس کا مداوا صرف اس بات سے کر نے کی کوشش ہو کہ شکر کریں جان بچ گئی ۔
تو کیا آزادی کا مطلب صرف جان بچنا لیا جائے گا ۔ اگر آج مائیں بچوں کو اللہ کے سپرد کر کے گھروں سے باہر بھیجتی ہیں ۔ تو پھر اس کے کیا مراد لیا جائے گا ۔
عیسائی ریاستیں اپنے ممالک میں مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پہ سال کی سب سے بڑی سیل لگاتی ہیں ۔ تاکہ زیادہ سیل ہو ۔ ہوتا بھی یوں ہے کہ عوام ایک دوسرے کے لئے تحائف کی خریداری کرتے ہیں ۔ اچھی اشیاء انہیں سستے داموں میسر آتی ہیں ۔ اور ایک ہم ہیں مذہبی تہواروں پر ہر شے مہنگی کر دی جاتی ہے ۔
گائے، اونٹ ، بکرے کی خرید ہو ۔ قصائی کا ریٹ ہو ۔ یا بچوں کے نئے کپڑوں کی فرمائش ہو ۔
ان ممالک نے صدیاں پہلے جو آزادی حاصل کی تھی ۔وہ آج بھی اسی مزے میں ہیں ۔صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے گھر قلعوں کی مانند اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے چھپے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ بڑے بڑے جنگلے اور لوہے کے دروازےکسی قید خانے کا منظر پیش نہیں کرتے ۔ گھر کی چار دیواری نام کو نہیں ۔ کمزور اور کانچ کی بنی کھڑکیاں انہیں وہ تحفظ احساس دلاتی ہیں ۔ جو ہمیں کنالوں میں پھیلی محل نما گھروں کے چاروں اطراف اونچی اونچی دیواریں ایک عدد چوکیدار کے باوجود عدم تحفظ کا احساس دلاتی ہیں ۔
سرحدوں کی حفاظت ملک کو غلامی سے بچانے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ سرحدیں قوم کو غلامی سے بچانے کے لئے مضبوط کی جاتی ہیں ۔ملک کبھی غلام نہیں ہوتا ، قومیں غلامی میں جاتی ہیں ۔وطن کی سالمیت کا نام لے لے کر جس آزادی کھونے کے خطرے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے ۔ وہ سرحدوں کی وجہ سے نہیں جائے گی ۔ بلکہ وہ قوم کے باہمی اختلاف ، عناد اور تقسیم پر منتج ہوتی ہے ۔
مجھے تلاش ہے اس کی جس کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے ۔ کیا وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھا یا علامہ اقبال ، مولانا مودودی تھا یا ڈاکٹر اسرار احمد ،مولانا احتشام الحق تھانوی تھا یا ڈاکٹر طاہرالقادری۔ آخر کو کوئی تو ذمہ دار ہے ۔
ہمارا یہی ماننا ہے ۔کیونکہ ہم سبھی ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں ۔
آئیں سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔جس نے آزادی ملنے کے باوجود آزادی ملنے کی خوشی کو زیادہ عرصہ تک خوشی میں نہیں رہنے دیا ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک