Jul 14, 2010

پنکھ ہوتے تو اُڑ جاتے

ہواؤں کا چلنا ، بادل کا اُڑنا ،بارش کا برسنا ، پہاڑوں پر برف کا جمنا ، پھولوں کے کھلنے کا اپنا وقت ، پھلوں کے پکنے کا اپنا، ایک موسم میں ایک فصل کا ہونا ،پرندوں کا چہچہاتے ہوئے صبح کا آغاز اور چہچہاتے ہوئے ہی دن کا اختتام، کسی بھی بے چینی کے اظہار سے بے نیاز ہوتا ہے ۔جو میرے بچپن میں جیسا تھا آج بھی ویسا ہے ۔لیکن میں ویسا نہیں رہا ۔گزرنے والا ہر لمحہ پہلے سے زیادہ تفکر و پریشانی کا سبب بن جاتا ہے ۔نہ جانے کیوں پروان چڑھتی غلط انداز سوچ میں سامنے والا بیوقوفی یا جھلا پن کی حدوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمدردی جتانے والے چہرہ کے سامنے سے ہٹتے ہی منافقت کی چادر کیوں اوڑھ لی جاتی ہے ۔
تعلق ہو یا کوئی رشتہ غرض و مفاد
کی اوڑھ میں چھپا کر رکھا جاتا ہے ۔کیا یہ ضروری ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس بھی اختیار کیا جائے ۔گھر آنے والے ہر مہمان کو بلا لحاظ کردار مسکراتی آنکھوں سے خوش آمدید کہا جائے ۔جس کے وہ اہل نہ بھی ہوں ۔ سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔جب بار بار کی نیکی کرنے سے بھی نفاق کی گرہیں نہیں کھلتیں ۔ڈرامے اکثر چند قسطوں کے بعد اچھائی کے زیر اثر نظر آتے ہیں ۔مگر زندگی میں اچھا بننا کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتا ۔بلکہ اچھا دکھانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔جیسے اکثر ٹی وی پر آمنے سامنے بیٹھے سیاست کے ستون اس ملک کی حقیقی نمائندگی کے علمبردار نظر آتے ہیں ۔الزامات ، دفاع ، جارحیت اور جھوٹ کا پلندہ اٹھانے کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہیں ۔سچ کی ہمیشہ جیت نہیں ہوتی کبھی سبکی بھی ہوتی ہے ۔
کیا سچائی جاننے کے لئے انسانوں کو پھر سے جنگلوں کا رخ کرنا ہوگا ۔جہاں پل بھر میں بدلتے چہروں جیسے موسم نہیں ہوتے ۔مصنوعی ضابطہ حیات کی قد غن نہیں ہوتیں ۔پرندے اور چوپائے ہزاروں سال سے فطرتی کردار نگاری سے مزین نظر آتے ہیں ۔بادشاہت کا تاج ہمیشہ شیر ہی کے سر رہا ۔لومڑی فطری چالبازیوں سے ویسے ہی دم افروز ہے ۔لیکن جس تہذیب یافتہ معاشرے کے ہم باسی ہیں ۔وہاں کردار نگاری میں حقیقی رنگ مصنوعی طریقہ سے بھرا جاتا ہے ۔
جنگ آزادی کے ہیرو کے پڑ پوتے معاشی ضرورتوں کے لئے آج ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں ۔تو دوسری طرف آزادی کے متوالوں کی مخبری کرنے والوں کے پڑپوتے ملک و قوم کی آزادی اور سالمیت پر آنسو بہاتے ہوئے نہیں تھکتے ۔اتنے بڑے تضاد کے ساتھ حکمران ٹیپو سلطان ہو یا ایسٹ انڈیا کمپنی ، بہادر شاہ ظفر ہو یا ملکہ ۔ بیچاری عوام کبھی میر صادق، میر جعفر تو کبھی ہندو کی سازشوں کے طفیل اصطبل میں بندھے گھوڑوں کی مانند رہ جاتی ہے ۔ جنہیں خالی چنوں پر رکھا جاتا ہے ۔بھگانے کی ضرورت پڑنے پر سیبوں کے مربع سے بھی تواضع کی جا سکتی ہے ۔ لنگڑا ہونے کی صورت میں صرف گولی جن کا مقدر بنتی ہے ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک