Jun 20, 2010

گر ہوتا کچھ یہاں بھی ایسا

سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں دھوئیں کے بغیر ، تیز چلتی ہوائیں دھول کی آمیزش کے بغیر ، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کسی آواز کے بغیر ، جگہہ جگہہ کھڑے لوگ نہیں کسی قطار کے بغیر حیران کئے جاتے ہیں ۔ آگے بڑھنے کی تگ و دو میں دھکم پیل کے بغیر انسان کم مشین زیادہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ جلد بازی کہیں چھوڑ چکے ہیں ۔ وقت کا استعمال سورج کے طلوع و غروب کی بجائے گھڑی کی سوئیوں سے کرتے ہیں ۔ وقت کی قدر اس لئے نہیں کرتے کہ ٹائم از منی ہے بلکہ اپنی حدود کا تعین رکھتے ہیں ۔ اور دوسروں کے حق کا ۔ وقت پر پہنچنے کی عادت وقت سے پہلےنکلنے پر مجبور رکھتی ہے ۔ پہلے آئیے پہلے پائیے اور پہلے نکلیں پہلے جائیں کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ انسانی سوچ کی رفتار جتنی تیز ہے کام کی رفتار اس سے بھی زیادہ۔

تنخواہ کا تعلق کام سے ہے ۔ بغیر کام کے گزارا بھی مشکل کر دیتا ہے ۔آنکھیں جو دیکھتی ہیں سوچتی وہ نہیں ۔ مہنگی گاڑی عمارت کی نشانی نہیں ہو سکتی ۔ وقت پر واجبات لوٹانے کی قیمت میں اُدھار کی نعمت سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔سیلوں کے مواقع ہاتھ دھو کر پیچھے پڑنے سے بچی کچھی جمع پونجی بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ اچھے کریڈٹ کا ہونا گھر میں بیری کے درخت کی مانند پتھروں کو آنے سے نہیں روک سکتا ۔ترغیبات فائدہ کی کم، خرچ کہاں کریں، کے مشورے زیادہ ہوتے ہیں ۔ راڈو گھڑی ہو یا بی ایم ڈبلیو گاڑی اپنے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے ۔ دوسروں کی نظر میں کم ۔
دل میں چاہے کتنی ہی کدورتیں کیوں نہ ہوں ہونٹ دانتوں کو دیکھائے بنا ہی مسکرا دیتے ہیں ۔اپنا گھر شاہی دستر خوان ہو یا درویشی پکوان ذائقہ خود ہی چکھا جاتا ہے ۔ چولہے کی تو ہوا بھی باہر پھیکی نکلتی ہے ۔ذائقہ بنانے کے لئے خوشبو جلا جلا کر باہر نہیں نکلنے دی جاتی ۔کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے ۔ دوسروں تک پہنچنے سے باتیں گھر گھر پہنچیں گی۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھلی رکھیں یا بند ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تاک جھانک کا خطرہ بالکل نہیں ۔ جھانکنے والا تو صرف چور ہی کہلا سکتا ہے ۔جو بند گھروں میں کھلی کھڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں ۔جو صرف شیشے کے آر پار سے روشنی کی طلبگار ہوتی ہیں ۔سریوں کی شکل میں باڈی گارڈ سے محروم رہتی ہیں ۔
گلی بازاروں سے گزرتے ہوئے لڑکیاں کھلی چلتی ہیں اور لڑکے ہاتھ بندھے ہوئے ۔ جہاں ہاتھ کھلے نہیں تو بندھے نہیں ۔آنکھیں اپنے راستے پر مرکوز رہیں تو ٹھیک ادھر اُدھر ٹکانے سے عقل بھی جلد ٹھکانے آ جاتی ہے ۔دن کا اُجالا ہو یا رات کا اندھیرا سفر غیر محفوظ نہیں ہوتا ۔محافظ کوؤں کی طرح شور مچاتے مدد کو پہنچ جاتے ہیں ۔کمیٹیاں ڈال کر بچے پڑھائے یا ڈولیاں اُٹھائی نہیں جاتی ۔دولت کی ریل پیل سے سونے کا چمچ تو منہ میں رکھا جا سکتا ہے مگر قابلیت اور ہونہاری کے مقام ارجمند پر فائز نہیں ۔ کاروبار کی وراثت تو ہے مگر وراثت میں سیاست نہیں ۔باپ کی فیکٹری میں بیٹا ملازم کے ساتھ ہو سکتا ہے مگر باپ کی کرسی پہ نہیں ۔
جانور پالنے کا شوق پورا کرنے کا پورا حق ہے ۔ مگر اسے سیر کرانے کی سزا بھی خود ہی پوری کرنی ہوتی ہے ۔ ایک ہاتھ میں کتا تو تو دوسرے ہاتھ میں ایک اخبار کا ٹکڑا اور پلاسٹک بیگ ۔صفائی نہ کرنے کی پاداش میں بھاری جرمانہ جیب پر بھاری ہو جاتا ہے ۔
پیدل چلنا صحت کے لئے اچھا خیال تو ہوتا ہے ۔ وہ بھی صرف مشینوں پر چاہے دوڑتے جائیں یا چلتے پھریں ۔سڑک پر چلنا ٹریفک کے لئے مشکل کا باعث بھی ہو جاتا ہے ۔ جب انسان تو انسان بڑی بطخ اپنے بچوں کوایک لائن میں اچھی گھاس کی تلاش میں سڑک پار کرا رہی ہو ۔ تو پہلا حق اس کا جو جتنا سست ہو ۔تیز چلنے والی پھر اپنی رفتار حاصل کر لے گی مگر پیدل وقت سے پیچھے رہ جائے گا ۔وقت کی قدر رفتار سے ہے کار سے نہیں ۔بے کار زیادہ تر گھروں کے اندر رہتے ہیں ۔ باہر نکلنے سے انہیں رفتار بڑھانی پڑے گی جو سست روی میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے ۔
ایمر جنسی نمبرز گھمانے کا انداز بیشتر جگہوں پر ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ بھاگ دوڑ بھی ایک جیسی دیکھنے کو مل ہی جاتی ہے ۔مگر کہیں قانون کی عملداری ہے تو کہیں حاکم کی حکمداری ۔ تماشا دیکھنے والے اپنی راہ لیتے ہیں ۔ کیونکہ تماشا لگانے والے شام کے بعد تماشبین نہیں ہوتے ۔
شناختی کارڈ پر شناختی علامت کا خانہ گاڑی چلانے کی دلالت نہیں ہوتا ۔ پانچ سو کا جرمانہ سو میں نہیں ٹل سکتا ۔ جج کا نوجوان وکیل بیٹا کیس جیتنے میں دوسروں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا ۔ معیار قابلیت ہے رشتہ کی اہلیت نہیں ۔ تھانیدار محلے کا پنچائتی نہیں ہوتا ۔ اعلی افسران کی طاقت بیرون دنیا میں بھی برابر نہیں ہوتی ۔ بلکہ گھر کی مرغی دال برابر تک ہے ۔
ووٹ قوم کی امانت سمجھا جاتا ہے ۔خاندانوں کی جاگیر نہیں ۔ جہاں نہ تو جانشنین ہیں اور نہ ہی گدی نشین ۔

6 تبصرے:

ابن سعید said...

قبلہ کیا لاجواب انداز تحریر ہے. بیان کی روانی ایسی کہ مجھے اپنے اطراف کی منظر کشی "ماورائی فیڈر" میں ہوتی نظر آئی. مثبت انداز فکر والوں کے لئے اس میں سمجھنے اور اپنانے کو کافی کچھ ہے.

محمودالحق said...

اقتباس :ابن سعید
مثبت انداز فکر والوں کے لئے اس میں سمجھنے اور اپنانے کو کافی کچھ ہے
ابن سعید صاحب شکریہ
اس لئے تقابل نہیں کیا صرف ایک رخ پیش کیا ہے دوسرا خود سے دیکھ لیا جائے .

افتخار اجمل بھوپال said...

ميں سکول کالج کے زمانہ ميں پيدل جاتا آتا تھا ۔ بہت سادہ کپڑے پہنتا تھا اور ميرے پاس تين چار جوڑے تھے اس کے باوجود لڑکے مجھے کروڑ پتی کا بيٹا سمجھتے تھے ۔ اس سے آپ کی بات ثابت ہو جاتی ہے

پھپھے کٹنی said...

آپکی يہ تحرير لاجواب ہے

محمودالحق said...

افتخار اجمل بھوپال صاحب
ویسے وہ زمانہ اچھا تھا اب تو مہنگے سے مہنگا بھی پہن لیں بندہ فقیر ہی رہتا ہے

محمودالحق said...

ھپھے کٹنی

آپکی يہ تحرير لاجواب ہے

شکریہ
آپ کی زرہ نوازی ہے

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک