Jun 5, 2010

ضیافت سے سیاست تک

ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعائیں دینے والے اب جھولی پھیلا کر کہیں بد دعائیں ہی نہ دینا شروع کر دیں ۔کراچی کے مکین تو دعائیں صرف دل سے مانگ رہے ہیں ۔ اللہ کرے ان کے سروں سے یہ بلا ٹل جائے ۔ تاکہ جن ہاتھوں سے دعائیں مانگنی تھی وہ زندگی کے جینے کےاسباب اکٹھے کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ ملک کا قومی بجٹ بھی پیش کر دیا گیا جس کے لئے وزارت خزانہ کئی مہینوں سے سر گرم عمل تھی ۔ مگر اہم مسئلہ بجٹ پیش کرنے والے سے متعلق زیادہ اہم تھا ۔ جسے چند گھنٹے پہلے ہی اس کام کے لئے چنا گیا ۔ چلیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ اگر ایک سال پہلے چنا جاتا تب بھی یہی کام کرنا تھا ۔یعنی پہلے سے لکھا عینک لگا کر پڑھنا ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ تک تو بجٹ سمجھ میں آگیا ۔ اب تو اکنامکس والے ہی اسے قوم کے لئے اچھا یا برا کا سرٹیفیکٹ جاری کر سکتے ہیں ۔جب سے ہوش سنبھالی ہے بجٹ در بجٹ پیش در پیش آ چکے ہیں ۔ بجٹ کا معاملہ بھی اچانک لگنے والی چوٹ کی مثل ہے ۔
گرم گرم تکلیف
نہیں دیتا ، جوں جوں ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے تکلیف بڑھتی جاتی ہیں ۔

کم از کم میرا تو یہی تجربہ ہے ۔دن بدن بڑھتی مہنگائی عوام کی دگرگوں حالت زار کو مزید زخم سہلائی کرتی ہے ۔بے چارے عوام نعروں سے شروع ہوتے ہیں فاقوں تک پہنچ جاتے ہیں ۔لیکن مستقل مزاجی میں فرق نہیں آتا ۔تم نشتر آزماؤ ہم جگر آزماتے ہیں کے عزم سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ۔
حکومتی ارکان بہت خوش ہیں کہ متوازن بجٹ سے غریب عوام کے دل جیت لئے ۔ مگر اتنی جلدی نتیجہ کیسے نکال لیا گیا ۔ شائد کاغذ وں میں جمع تفریق سے دل جیتا گیا ہے ۔
جیت تو اصل میں وزیراعظم صاحب کی ہوئی ہے کہ ان کے بھائی بھی اب برسر روزگار ہو گئے ہیں ۔جی ہاں آج وہ بھی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو اگر شریف برادران کی طرح چھوٹے بھائی پنجاب کے وزیر اعلی منتخب ہو جائیں ۔نہ بھی ہوں مگر امید تو پیدا ہو گئی ہے ۔اگر پنجاب نے چوں چرا کی تو دو بھائی دو بھائیوں کا ریکارڑ بھی توڑ سکتے ہیں ۔
عوام کے دل جیت لئے گئے ۔ ضیافتوں کا اہتمام ہو گا ۔ جی جو کھانا پہلے عوام نے کھایا وہ دیگوں میں پکایا تو ہاتھوں سے کھایا گیا ۔اب اتنی خوشیاں ایک ساتھ ملنے پر بڑے بھائی بھی مبارکباد دینے میں پیچھے نہیں رہیں گے ۔ملک کے بہترین شیف کھانا بنائیں گے تو بہترین ویٹر خوب انداز شان سے پیش کریں گے ۔قوم کو جو دے دیا گیا اسی پہ اکتفا کریں ۔ اگر نہ بھی کریں تو کیا کر لیں گے ۔ اسی تنخواہ ہی میں کام کرنے کی مجبوری تو رہے گی ۔ یہ ضیافت اور سیاست کا کھیل ہے ۔جہاں کھلانے والےہی کو ملتا ہے ۔ پارٹیاں بدلنے سے کچھ نہیں ملتا پارٹیاں دینے سے سب بدل جاتا ہے ۔چائے کے کپ پہ تو صرف بزنس ہی کیا جا سکتا ہے ۔ سیاست نہیں ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک