Apr 12, 2012

جب آسمان نے خود ہی چن لیا


جب آسمان نے خود ہی چن لیا تو کوئی کیا کہے
دل نے جب خود ہی سن لیا تو کوئی کیا کہے

لہر بے کس کو طلاطمِ طوفاں میں ساحل ہی سہارا
شاہ زور جوانی نے ڈھل کر بچپن لیا تو کوئی کیا کہے

قطا در قطار یہ پرزے بیکار اُٹھاتے بدن و بار ہیں
روحِ کلام سے طریقت نے جو لہن لیا تو کوئی کیا کہے

انصافِ ترازو کے حدِ تجاوز سے جو جھول گیا
جلتے گلستان میں اپنا چمن لیا تو کوئی کیا کہے

سمجھاتے مجھ کو کہ ہوسِ نصرت کا انساں ہو جاؤں
گل نے مِٹ کر خار سے َامن لیا تو کوئی کیا کہے

تاریک راستوں میں جلتی روشن یہ کیسی بہزاد ہے
آب ہی آب میں سراب نے من لیا تو کوئی کیا کہے

زمین پر کھینچی لکیروں نے دلوں پر نقش و نگار بنا دئے
جیت کر وطن تو ہار کر اَمن لیا تو کوئی کیا کہے

پتھر ہی کیا انسان بھی کاٹ دے فولادِ اوزار سے
لوٹ مار کا بازار ہے بچا صحن لیا تو کوئی کیا کہے

محمود تو خود سے پریشان ہے کیسا یہ جہان ہے
عمل نے ڈھانپ خود چلمن لیا تو کوئی کیا کہے

بر عنبرین / محمودالحق

1 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک