Showing posts with label ،اردو کلام. Show all posts
Showing posts with label ،اردو کلام. Show all posts

Apr 14, 2014

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

 

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

خوشی گر کم نہیں غم رہتا نہیں سدا
 

موت پہ جن کے منڈلاتے سایہ رزقِ کفن کے

نفس ِ آدمیت سے کٹتے روحِ ایمان سے جدا
 

زمین سے چھپاتے عرش آسماں سے ٹکراتے

جھکتے نہیں جو اُٹھائے جاتے وہ نورالہدیٰ
 

خط تو آ چکا اطلاع کی رات ہے باقی

راستہ خود ہوتا روشن شب نہیں جن کی خوابیدہ
 

تامل ہے بے نام  اوسان پھر کیوں ہیں خطا

بھروسہ پہ جو رکھ دیتے اپنا سر سجدہ، خدا
 

کاغذی پیراہن سود و زیاں ہاتھوں ہاتھ میں

آب ریشم ہیں اوڑھ لیتے جو اپنی باطن ردا
 

کالی رات ہے قلم سیاہی ورق سیاہ پر

شہہ رگ سے جدا خود پہ پھر کیوں فدا
 

محمودالحق
 

۔۔۔٭۔۔۔
 

در دستک >>

Jan 21, 2014

محبت میں جو رنگ آئے تیرا ہی خزینہ ہو


محبت میں جو رنگ آئے تیرا ہی خزینہ ہو
زندگی کا ڈھنگ سکھایا تیرا ہی قرینہ ہو

آنسو تو چھپتے نہیں چلمن پلک سے رواں
قلبِ کثرت سے جو بہتا قلب پسینہ ہو

زندگی باطل تو موت حق سے نہیں رہتی جدا
طلسماتی دنیا ہے اُڑتا بادل تو برستہ مینہ ہو

خوف سے دبکتا کھلی آنکھ کا راز پنہاں
ہاتھ میں آبِ کوثر کا جام خواب دیرینہ ہو

زندگی کا عشق ہی عاشق بناتا دیوانہ ہے
مال و زر کھوجتا سوچتا ایسی ہی حسینہ ہو

آبی گزرگاہوں میں خشکی مسافر بردار ہوں
چمکتا چہرہ امبر تو روتی کیوں سکینہ ہو

ساحل سخت پتھریلا نیلا گہرا سمندر ہے
خوشیوں کو نظر لگتی دل میں جب کینہ ہو

اُڑتا پنچھی ہوا کا دانہ پانی زمیں میں
کوئلہ کان میں رہتا محمود وہی نگینہ ہو

خیال رست   /محمودالحق

۔۔۔٭۔۔۔


در دستک >>

Jan 10, 2014

فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں


فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں
وعدہ ہے اس کا کیوں پریشاں فکرِ تصویر ہیں

روشنیوں کا ہجوم ہے تاریکیوں کی تنہائی میں
خود سے ہیں جو جلتے ستارہء آسماں بے نظیر ہیں

تفریح طبع میں جنہیں قیام جیتے زندگیء ایام
پھول میں نہیں ارمان مہک بنتے اکثیر ہیں

چاہے دیواریں ہی اُٹھا دو یا پردے ہی گرا دو
چھپ نہیں پاتے باندھے نفسِ زنجیر ہیں

لٹتے اپنے ہی ہاتھوں بندگی زیست بیگانی ہے
مقام ان کے محمود ہیں نبھاتے جو حکمِ نذیر ہیں

بھروسہء جزا کے رکھتے جو توکل میں ایمان
مشرق ہو یا مغرب عمل ہی ان کے دستگیر ہیں

لگتے کہیں تو پکتے کہیں توشہء مخبون ہیں
قلب پہ ہیں جو رکھتے کلام لہنِ دلگیر ہیں

خدا سے جو جدا ہے زندگی ہی وہ خطا ہے
لکھا نہیں جاتا بےکار ترجمہ بھی تحریر ہیں

خدا نے جو آنکھیں دیں نظارہ پلکِ تصویر ہیں
قلبِ مکان میں یہ سب جہاں تو راہ گیر ہیں

جہاں وہ جاتے ہیں وہاں سے آتے نہیں
پھر کیوں ہیں رکھتے الگ الگ تدبیر ہیں

مغرب میں ہیں جو جاتے مشرق سے ہیں وہ آتے
پھر کیوں ہی یہ پلٹتے جمِ غفیر ہیں

خیال رست   /محمودالحق


۔۔۔٭۔۔۔
در دستک >>

Jul 22, 2013

جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے



جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے
جس پر زمانہ تجسس کرے وہ علم تمہارا ہی تو ہے

لفظوں سے جو کھلے وہ کتابِ گل تمہارا ہی تو ہے
مجھے صرف یہ خاک سب جہانِ کل تمہارا ہی تو ہے

ہوا کے دوش پہ ہے جو چلتا ابرِ کرم تمہارا ہی تو ہے
نظر ٹھہری جو ایک رخ وہ کعبہ حرم تمہارا ہی تو ہے

کوشش میں رہتے جو تلاش ِرزق تمہارا ہی تو ہے
دھارِ ایمان پہ ہے جو چلتا خلق تمہارا ہی تو ہے

آفتاب کرن سے ہے آبِ لشکارہ تمہارا ہی تو ہے
مہتاب کی چاندنی تو چمکتا تارا تمہارا ہی تو ہے 

۔۔۔٭۔۔۔
برعنبرین /  محمودالحق


در دستک >>

Apr 22, 2012

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں


پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں
رحمتوں کی ہر دم نوازش شکرِ کلمہ پر ہے زباں

گلِ نام میں کیا رکھا ہے خوشبو تو خود نامہ بریں
آندھی کے آم چنتے جاؤ بے پرواہ ہے باغباں

آنکھ سے گر لہو ٹپکے گوہر فشاں بن بھڑکے
نظر کرم ہو اس کی آگ بھی ہو جائے روحِ پاسباں

گھر یہ گر میرا ہے مکیں نظر میں کیوں جچتے نہیں
تن پوشاکِ مالابار قلب کیفیت غریباں

جواب پڑھ کر بھی جو سوال سے ہٹتے نہیں
اندھیروں میں بھٹکتے ڈھونڈتے پھر کیوں نیاباں

آفتاب کو دھکایا کس نے مہتاب کو چمکایا کس نے
زروں سے جو پہاڑ گرا دے وہی تو ہے نگہباں

کچھ پڑھا ہوتا کچھ تم نے بھی سمجھا ہوتا
یہ نہ بھولا ہوتا ہجومِ بھیڑ ہیں حصار غلہ باں

علم کا کال ورقِ علم کالا تحریر ہے کہاں
نقطوں پہ تحریریں لفظوں میں زمانہ علم و ادباں

۔۔۔٭۔۔۔

 بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو


بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

۔۔۔٭۔۔۔

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

Apr 12, 2012

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا
ہوش میں نہ تھا جو کھویا وہ صبر میرا نہ تھا

پروازمیں کوتاہِ نگاہی نے یوں شرمسار کیا
نشانہ پر جو نہ لگا وہ دعائے اثر میرا نہ تھا

یہ ہاتھ خود چھوٹ کر ہاتھ سے جدا ہو گیا
گلستان جلا جس سے وہ شرر میرا نہ تھا

آس نے یاس سے ہٹ کر خود کو پاس کر لیا
بارانِ رحمت میں پھیلتا ہر ابر میرا نہ تھا

مجھے میری تلاش ہے تو اپنے انتظار میں
نسیمِ جاں میں جو رہ گیا وہ ثمر میرا نہ تھا

اتنا بھی کیا کم ملا پھر انتظار میں بیٹھ گیا
یہ فلکِ جہاں اس کا کوئی امبر میرا نہ تھا

جب لوٹنا ہی لکھا تقدیر میں منزل تا حدِ نگاہ
محمود بس تو لکھتا جا وہ نشر میرا نہ تھا

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

جب آسمان نے خود ہی چن لیا


جب آسمان نے خود ہی چن لیا تو کوئی کیا کہے
دل نے جب خود ہی سن لیا تو کوئی کیا کہے

لہر بے کس کو طلاطمِ طوفاں میں ساحل ہی سہارا
شاہ زور جوانی نے ڈھل کر بچپن لیا تو کوئی کیا کہے

قطا در قطار یہ پرزے بیکار اُٹھاتے بدن و بار ہیں
روحِ کلام سے طریقت نے جو لہن لیا تو کوئی کیا کہے

انصافِ ترازو کے حدِ تجاوز سے جو جھول گیا
جلتے گلستان میں اپنا چمن لیا تو کوئی کیا کہے

سمجھاتے مجھ کو کہ ہوسِ نصرت کا انساں ہو جاؤں
گل نے مِٹ کر خار سے َامن لیا تو کوئی کیا کہے

تاریک راستوں میں جلتی روشن یہ کیسی بہزاد ہے
آب ہی آب میں سراب نے من لیا تو کوئی کیا کہے

زمین پر کھینچی لکیروں نے دلوں پر نقش و نگار بنا دئے
جیت کر وطن تو ہار کر اَمن لیا تو کوئی کیا کہے

پتھر ہی کیا انسان بھی کاٹ دے فولادِ اوزار سے
لوٹ مار کا بازار ہے بچا صحن لیا تو کوئی کیا کہے

محمود تو خود سے پریشان ہے کیسا یہ جہان ہے
عمل نے ڈھانپ خود چلمن لیا تو کوئی کیا کہے

بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

Jan 5, 2012

ذرا سا خمیر اُٹھے

متزلزل ایمان ،بچھڑا معبود تو کبھی تحریف کتاب
پالنا گروہی تو اب دکھائی دیتے ہیں استعجاب

کرنوں کی برسات ہے یہ مہتاب و آفتاب
رحمتوں کی سوغات ہے یہ جہانِ آب و تاب

نہیں رکھتا شہباز شوقِ ہما سرخاب
جینے کی جان نکال لیتی ہے اذیتِ خواب

دیتا ہے وہ چھپر پھاڑ کر بے حساب
شعور زمان سے اونچا ہے علم الکتاب

یقین محکم ہو تو ریگستان بھی ہو آب الباب
عقلِ خرد کو تو بہتی برستی دنیا بھی ہے سراب

عشقِ جنوں میں ہے دل بیقرار و بیتاب
ذرا سا خمیر اُٹھے تو ہے مے بھی آب

محمودالحق
در دستک >>

Jan 2, 2012

شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے


شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے بنتے جاتے سائے ہیں
محبوب پر حقِ احسان کہ ہم تو اسکے ہمسائے ہیں

تمازتِ آفتاب بھی رکھتا باری رحمت کا اجمال ہے
ایک شاخِ پتے میں جذب اس کی قوتِ عطائے ہیں

مدفن خزینوں سے مہرباں حسنِ زن و زمین آراستہ
محبت میں ہیں سب مہمان نہیں کوئی بن بلائے ہیں

گرتے پانیوں سے پھیلتی روشنیوں تک کے فاصلے
شمعِ جہاں کے سب پروانے کچھ اپنے کچھ پرائے ہیں

بہت مشکل میں ہے انسان عالمِ جاودانی کے محور میں
بندھے ہوئے یہ سب جہاں روشنیوں کے سدھائے ہیں

کھینچی کاغذ کی لکیروں پر زائچہ بازیچہ، اطفال ہے
قوس و قزح کے رنگوں میں ذرّے سے ذرّے جمائے ہیں

خشکی ہوا پانی پر ہماری اختراعِ ایجاد ہیں
چلنے کے واسطے ایندھن بھی تو اسی کے بنائے ہیں



روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

Jan 8, 2011

غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا

غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا
تمہیں شائد اچھا ہوا مگر برا تو میرا ہوا

کہاں رہ گئیں ساون رُت کیا ابرِ برسات ہوئی
زندگی کو عزیز جانا مگر اس کو میں برا ہوا

دامن کو میں نے پھیلایا سینہ بہ سینہ چھپایا
رازِ زباں رہتا کاغذ پہ قلمِ بیاں ٹھہرا ہوا

بلبل نغمہ سرا ہوا تو کوئل نے چپ سادھ لی
خوفِ صیاد سے شاہیں کا گنبدِ سلطانی پہ بسیرا ہوا


ٹھوکر پہ تھا جن کے زمانہ خود سے ستائے ہوئے
آغوشِ محبت میں بھی تحفظ ارمان ڈرا ہوا

آرامِ جہاں میں بے چین زماںِ گنجان میں انجان
ماہی بے آب کا ہے رقص تماشائیوں نے گھیرا ہوا

مدحت سرائی میں جھولاتے جھولا زہر بھرے ہیں خنجر آستین
جگاتے کیا غفلت شب سے ضمیر تو ہے مرا ہوا

محمود راہ تو اچھی تھی سفر تیرا کچھ مشکل ہوا
منزل شب تو اچھی تھی دن کا اب سویرا ہوا


بر عنبرین / محمودالحق
در دستک >>

بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر

بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر
بے نام و نشان میں سوتی قسمت تو کھوتی تقدیر

روحِ روشن سے ہے جلتے چراغ میں روشنیٔ قلب
وہمِ طوفاں سے بْجھتی ایمان کفِ دستگیر

چاہتا ہوں ہر چراغ سے ایک ہی امیدِ کرنِ صبح
الفاظِ اوراق میں الگ رنگِ تفسیر بشیر و نذیر


محمودالحق
در دستک >>

Jan 2, 2011

درِ دستک سے چند اقتباس

یو ٹیوب پر دیکھیں

در دستک >>

Sep 6, 2010

اشعار تصویری

در دستک >>

Aug 6, 2010

اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں


اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں
شرمندہ ہیں اس لیے کہ ہم خطاکار ہیں

تجھے بھول جانے کے ہم جرم وار ہیں
دنیا کی محبت کے ہم سزا وار ہیں

خطاؤں کے لیے چاہتے تجھے مددگار ہیں
تجھے بھولنے کے بعد ہم تو غم خوار ہیں

دنیا کی چاہتیں اب ہمیں بیزار ہیں
شاہِ زمانہ کو ترستے ہم غمِ روزگار ہیں

تیرا در چھوٹنے سے ہم آہ و فگار ہیں
تیری نعمتوں کی ہو بارش ہم اشکبار ہیں

نہیں بھولیں گے ہم شجرِ آب دار ہیں
واسطہ تجھے محمدۖ کا ہم امت جہاندار ہیں

سورج یہ چاند ستارے تیرے راز دار ہیں
رہیں خش و خاک میں تو ہم بیکار ہیں

تیری چاہتوں سے نہیں ہم انکار ہیں
اپنی خزاںء زندگی کو امیدِ جشن بہار ہیں

اتنا دکھ جب ہوتے ہم بیروزگار ہیں
خوشی میں نہیں سوچتے کہ ہم پر انوار ہیں

عقلیں اَٹی ہماری گرد و غبار ہیں
قلب کھلے تو بھرے نورِ مینار ہیں

نہیں کٹتا نفس صرف روزہ دار ہیں
گر ہو مومن تو صوم کی تلوار ہیں

سُستیء ایمان ڈھونڈتے ایک رات کا دربار ہیں
ارادوں پہ اپنے ہم بے اختیار ہیں

شکوے تجھ سے ہمیں بار بار ہیں
جڑے جانے کو کھڑے قطار در قطار ہیں

عنایات کو بانٹنے کے نہیں روا دار ہیں
دکھوں میں ڈھونڈتے ہم غم گسار ہیں

ہم خطا کاروں کے آپ پروردگار ہیں
دعاؤں میں تیری رحمتیں درکار ہیں

.٭.


روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter