Apr 16, 2012

محبت

زندگی انسان کو ہمیشہ سے ہی پیاری رہی ہے۔موت کے سائے گر پھیل جائیں تو ویرانی ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ ،آنکھوں میں تیرتے قطرہ نم سے خشک زمین پر بارش کی پہلی پھوار کی طرح بھینی بھینی خوشبو کے اُٹھنے تک محدود ہوتی ہے۔
جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔دعاؤں کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں تو بد دعاؤں کے لئے جھولیاں۔توبہ کا دروازہ گناہوں کی آمدورفت کے لئے کھلا رکھا جاتا ہے۔گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں  رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔
جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔چلمن کے پیچھے سے دست سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ آنگن سے جھانکا نہیں جاتا۔
کھلے عام جو محبت کا دم بھرتے ہیں۔کہانی وہ ہی زبان زد عام رہتی ہے۔مرنے جینے کے وعدوں سے ہاتھوں پہ رنگ حنا پھیلاتے ہیں۔اللہ رسولۖ  کے ناموں کے سائبان تلے خواہشوں کے پھولوں سے سجی ردا بچھاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک عاشق نامراد بھنوروں کی طرح گلستانوں میں منڈلاتے ہیں۔جہاں بنے سنورے پھول کانٹوں کے حفاظتی حصار سے آنکھ بچا کر مہمانداری کے انتظام و انصرام میں دل و جان سے ارمان ہتھیلی پر رکھے پھرتے ہیں۔ مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے، جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔
جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔ جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔
جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قلب دھڑک دھڑک مہمانوں کی آمد کا نقارہ ذہن  پر ہتھوڑے کی طرح برس کر بجاتا ہے۔
جو آنی جانی شے کی محبت میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔چوری کھانے والے طوطے باغوں میں چوری کھانے والوں سے باعزت نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ طوطا کہانی نہیں کہ یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے کہ کون کیا ہے۔
سچی محبت ایک نظر میں فریفتہ کر دیتی ہے۔آدم کو فرشتوں کے سجدے سے معتبر کر دیتے ہیں۔حکم عدولی فرشتے سے شیطان کے مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔فضیلت محبت میں جھکنے سے ہے۔ بھلا آدم کو سجدے سے کیا۔ سجدہ کا حکم ماننے کے مقام اور نہ ماننے کے انجام سے خبردار کرنا بھی مقصود تھا۔ جسے بنی نوع آدم نے صرف فضیلت کے درجہ سے مقام محبت کو مقام اعلی ٹھہرا دیا۔
پھل ہوں یا پھول ، ذائقہ ہو یا خوشبو ، رنگ ہوں یا خوبصورتی انتخاب ہمیشہ خوب سے خوب تر ہی کیا جاتا ہے۔ گھر کی سجاوٹ ہو یا کپڑوں کی بناوٹ ہر کمی اور ہر خامی پر نظر رکھی جاتی ہے۔پھر دور کرنے میں بہتر سے بہتر صلاحیت بروئے کار لائی جاتی ہے۔زندگی اچھے برے ، نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہے۔نا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔
محبت کے جذبات سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں۔سچائی حقیقت سے ہے، حقیقت حق سے ہے،حق محبوب سے ہے،محبوب محبت سے ہے،محبت سچائی سے ہے،سچائی سچ سے ہے ، سچ کلام سے ہے،کلام امین سے ہے،امین صادق سے ہے،صادق طلوع سے ہے،طلوع آفتاب سے ہے،آفتاب روشنی سے ہے،روشنی کرن سے ہے، کر ن نور سے ہے،نور جلوہ سے ہے، جلوہ طور سے ہے،طور ظہور سے ہے،ظہور قرآن سے ہے، قرآن محمدۖ سے ہے اور محمدۖ  اللہ سے ہے۔ 

تحریر : محمودالحق

2 تبصرے:

مہ وش جاوید said...

بہت خوبصورت تحریر ہے۔۔

عمران اقبال said...

زبردست۔۔۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک