Mar 4, 2011

بوڑھے کی لاٹھی - 2

 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔
حصہ دوم
اسے تو اپنے اباجی کے الفاظ یاد تھے کہ بیٹا میں ہائیکورٹ کا وکیل ہوں۔ چاہے آمدن کم ہے مگر عزت والا پیشہ ہے۔ وہ ہر پیشے کو پیسے سے نہیں عزت کی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
باپ بیٹے میں ایک ایسا رشتہ مضبوطی کے بندھن میں بندھ رہا تھا جو بڑھ کر عقیدت و محبت میں بدل گیا ۔
اس روز تو ابا جی کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ جب اس نےکہاکہ میرا ایم اے کا آخری سال ہے۔ ایک نیا پرائیویٹ لاء کالج کھلا ہے مجھے اس میں داخلہ لینا ہے۔ خوشی خوشی انہوں نے روپوں کا بندوبست کیا اور اس کا لا ء کالج میں داخلہ ہو گیا ۔
اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ گھر میں ماں باپ اس کی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے کرنے جارہے ہیں۔ ایم اے کی ڈگری اسکے ہاتھ میں تھی۔ ایف ای ایل کا امتحان دے چکا تھا۔ اس کے کانوں میں خبر پہنچی اب اس کی شادی کر دی جائے۔
لیکن ماں جی ! میرے پاس ہے کیا۔
وہ پریشانی کے عالم میں بولا ! بےروز گار ہوں ۔ ابا جی کی زرعی زمین کے ٹھیکے سے تو گھر کا خرچہ بمشکل چلتا ہے۔کیسے چلے گا ۔
بس! ماں حکم دینے کے انداز میں بولی۔ میں تھک چکی ہوں بیمار رہتی ہوں ۔ اب اس گھر کو ضرورت ہےایک بہو کی جو اسے سنبھالے۔
مگر ماں جی !
بات ادھوری کی ادھوری رہ گئی اس کی ایک بھی نہ چلی ۔
دور نزدیک کے رشتہ داروں میں اسکا رشتہ طے کر دیا گیا۔ اکتوبر میں منگنی کی رسم ادا ہوئی اور اگلے سال دسمبر میں شادی کا فیصلہ ہوا ۔
اسے تسلی تھی اس وقت تو لاء مکمل ہو چکا ہو گا۔ مگر حالات نے پھر ایک نیا رخ لیا اور شادی کو چار ماہ بعد ہی جنوری میں کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کیونکہ اسی گھر میں بیٹے کی بھی شادی طے تھی جب اس کی تاریخ مقرر کی جانے لگی تو اصرار ہوا کہ بیٹی کی شادی بھی ساتھ ہی ہو اور وہ طے کر دی گئی۔ جلدی میں سارے انتظامات مکمل کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔
اس نے لیکچرار شپ کی آسامی کے لئے اپلائی کر دیا اور انٹرویو کی تیاری میں مشغول ہو گیا۔
دوسری طرف ان کی زرعی زمین جن کے پاس تھی ۔ ٹھیکہ کی بقایا رقم کی ادائیگی کئے بغیر چھوڑ گئے اور صرف یہی نہیں واپڈا کے بقایا جات بھی ان کے سر ڈال گئے۔
ٹیوب ویل کا پانی کم ہو نے کی وجہ سے اب کوئی نیا ٹھیکیدار بھی رسک لینے کے لئے تیار نہیں تھا مجبوری میں نئے ٹیوب ویل کے لئے نئے ٹھیکیدار ہی سے رقم ادھار اٹھائی گئی۔
اب شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے اور اس کے ابا جی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی تھی ۔
ان کے علاوہ اس صورتحال کا کسی کوعلم نہیں تھا۔ تمام لوگ انہیں خوشحال تصور کرتے۔ کئی مربع زمین، دو کنال کا گھر، بڑے بیٹے باہر کے ملکوں میں برسر روزگار ۔مگر اندر کبھی کسی نے جھانکا ہی نہیں۔ اسی پریشانی میں ہائیکورٹ سے واپس آ تے ہوئے کے پائیدان سے چوٹ لگی تو سر سے خون بہنے لگا۔ پوچھنے پر کہنے لگے مجھے نہیں علم کیا ہوا۔ بس چگرا گیا تھا تانگہ سے ٹکرا کر گر گئے۔ بعد میں اس بات کا انکشاف ہو ا ۔انہیں فالج کا معمولی حملہ ہوا تھا ۔
انہوں نے ہمیشہ خودداری سے جینے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ۔ بیٹوں سے بھی کبھی تقاضا نہیں کیا تھا ۔
خودداری کا تو یہ عالم تھا ۔حسین شہید سہروردی جب پاکستان کا وزیراعظم تھا اسی پارٹی عوامی لیگ کے وہ فنانس سیکرٹیری کے عہدے پر فائز تھے ۔
ان کے چھوٹے بھائی نے ایم اے اکنامکس کیا۔ تو بھائی سے کہا کہ وزیراعظم سے کہہ کر کوئی نوکری دلوا دیں ۔وزیراعظم کی قیادت میں پارٹی اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں ہوتے شرکت کرنے جاتے تو چھوٹے بھائی کی درخواست کوٹ میں رکھ لیتے۔ واپسی پر بھائی کے استفسار پر کہہ دیتے مناسب وقت نہیں ملا بات کرنے کا اور بات ٹل جاتی۔
اس کی حکومت ختم ہو گئی ۔مگر انہوں نے درخواست اپنے کوٹ کی جیب ہی میں رکھی۔
انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو یہی تلقین کی ۔کہ اپنے بل بوتے پہ زندگی جیو ۔ سفارش کی سیڑھی سے زندگی کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کرنے والے ہمیشہ سیڑھی کے محتاج رہتے ہیں اور وہ خود اس کی زندہ مثال تھے ۔ایک سپاہی سے صوبیدار میجر تک ترقی پانے والے کا بڑا بیٹا اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کی حکومتی پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہا اوریہ قیام پاکستان کے بعد کا وہ ابتدائی دور تھا جب صرف جاگیر دار اور وڈیرے ہی سیاست کے ستون تھے اور انہوں نے ان میں رہتے ہوئے اپنا مقام بنایا ۔
اپنی اولاد میں بھی ایسا ہی دیکھنے کی ان کی ایک خواہش تھی ۔جو ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو ئی۔
شادی کی تیاری اپنے عروج پر تھی۔ سبھی بہت خوش تھے ایک نئی خوشی کا اضافہ یہ ہوا کہ اسے لیکچرار شپ مل گئی اور اپنی مہندی کے دن اس نےدوسرے شہر کے کالج میں جوائننگ رپورٹ کی۔
اب تو وہ بہت خوش تھا۔ زندگی کے اہم دو موڑ خوشیوں کے ساتھ ایک ساتھ اس کی زندگی میں وارد ہوئے۔
دوست احباب اس کی شادی کو خوش نصیبی سے تعبیر کر رہے تھے۔
مگر!
زندگی انسان کے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے۔ وہ کوئی نہیں جانتا ۔ظاہری خوشی اور کامیابی دیکھ کر ہی مستقبل کے سنہرے خواب آنکھوں میں بسا لئے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ان دیکھا خواب جو فیصلہ اپنے ساتھ لئے انسان کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی ،غم، کامیابی، ناکامی کی شکل میں کبھی سامنے آتا۔ تو کبھی چھپ جاتا اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آدمی کو اپنے لئے راستہ کا تعین کرنا ہوتا ہے ۔
انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔ اچھائی کو اچھائی ہی سے رغبت ہوتی ہے۔
اسکے ابا جی کا کردار بےمثال تھا۔ گھر میں جتنی بھی شادیاں ہوئی ۔لڑکی والوں نے ان کی شخصیت ہی کو سامنے رکھا ۔برادری میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
وہ دن بھی آن پہنچا جب بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور پھوار سے لاپرواہ بارات ایک سو میل کا سفر طے کر کے لڑکی والوں کے گھر پہنچی۔ بڑی دھوم دھام سے بارات کا استقبال کیا گیا۔
اس شہر کے لوگوں نے ایک نرالا ڈھنگ دیکھا۔ اس کے دوستوں کا حلقہ بہت بڑا تھا اور ان میں اسی پہلے دوست نےسہرا باندھنے کا اعزاز حاصل کیا۔خوشی میں بھنگڑا ڈالاگیا سارا شہر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ تو یہ ہیں زندہ دلان لاہور ۔
ساری رسومات احسن طریقے سے انجام پائی خوشی میں ہر فرد مسکرا رہا تھا ۔
مگر !

وہ انسان جو نہ جانے کب سے ذہنی کشمکش کی جنگ لڑ رہا تھا۔ کوئی بھی اس کی کیفیت کو محسوس نہیں کر پایا ۔ اسے بھی حوصلہ چاہیے ہو گا۔ شائدمدد کا طلب گار ہو۔
خوشیوں میں دکھ، پریشانی ایک ہارے ہوئے فوج کی مانندہوتی ہیں ۔جو موقع ملتے ہی دوبارہ حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف سارا گھرانہ اس بات سے لاعلم اپنی بڑھتی خوشیوں کا جشن منا رہا تھا اور دوسری طرف ایک انسان اپنی ہمت اور حوصلہ کی جنگ ہار رہا تھا ۔
اگلے دن ولیمہ میں سب مہمان آ رہے تھے وہ ان کے استقبال میں سب کو خوش دلی سے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اس کے ابا جی بار بار اس کے پاس آتے اور پوچھتے بیٹا کیا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا ۔
ابا جی !آپ فکر نہ کریں انتظام مکمل ہے۔ انشااللہ احسن طریقے سے ہر کام ہو گا۔
مگر وہ پھر وہی سوال دہراتے ۔بیٹا کہیں کمی نہ رہ جائےاور وہ پریشانی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔
سب مہمان واپس جا چکے تھے۔ شامیانے اتر گئے،برتن سمیٹ لئے گئے، گھر کے سبھی افراد خوش گبیوں میں مصروف تھے۔ کہ اس کے ابا جی اپنے کمرے میں جاتے ہی بستر پر گر گئے اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے لاتعلق بے ہوش ہو گئے۔ شادی میں شرکت کے لئے ڈاکٹر بیٹا جو خاص طور سے بیرون ملک سے آیا تھا ۔اس نے چیک اپ کیا تو انکشاف ہوا۔کہ انہیں فالج کا حملہ ہوا ہے۔
یہ الفاظ سنتے ہی جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔
یہ کیسے ہوگیا !
اباجی! اباجی !کی آوازیں دیتا بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔ چند گھنٹے پہلے تک جہاں خوشیوں کے شادیانے تھے۔ وہیں غم کے بھاری بادل چھا گئے۔ نئی نویلی دلہن جائے نماز پہ ان کی زندگی کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی ۔کہ کہیں میرے اس گھر میں داخل ہوئے قدموں کو نحوست سے نہ تعبیر کر لیا جائے۔ مگر اٹیک معمولی تھا چند دنوں میں صحت یاب ہو گئے۔
مگر یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہ سکی اور تین ماہ بعد پھر دائیں طرف ایک شدید فالج کا حملہ ہوا۔ بیماری سے ابھی پوری طرح سے چھٹکارہ نہیں ملا تھا ۔کہ چار ماہ بعد اس کے چچا کا جوان بیٹا ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوا اور ایک ہفتہ کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس کےابا جی کو اپنے چھوٹے بھائی اور اس کی اولاد سے بہت محبت تھی ۔یہ اچانک صدمہ وہ برداشت نہ کر پائے۔ اور اپنے حواس کھو بیٹھے اور زندگی کے وہ واقعات جو پچاس سال پیشتر پیش آئے تھے۔ ابھر کر دماغ کی سکرین پر نمودار ہو گئے۔
حال ختم ہو گیا اور ماضی زندہ ہو گیا ۔
ایک طرف جوان موت جنازہ کی صورت میں چارپائی پر پڑی تھی اور دوسری طرف ایک بوڑھا اپنی جوانی کے واقعات کو اپنے بیٹے کو ایسے سنا رہا تھا۔ جیسے کل ہی کا واقعہ ہو۔ چار گھنٹے کی روئداد سنانے کے بعد ۔پھر وہیں سے شروع کر دیتے جیسے ابھی سنائی نہ ہو ۔
نیند سے بوجھل اس کی آنکھوں میں اب جاگنے کی تاب نہیں تھی۔ پچھلے چالیس گھنٹوں سے جاگ جاگ کر اب اس کی ہمت نہیں تھی جاگنے کی۔
ابا جی مجھے نیند آئی ہے میں سو جاؤں ؟
ابھی میری بات کہاں ختم ہوئی ہے !
ایک ہی کہانی پچھلے کئی گھنٹوں میں وہ کئی بار سن چکا تھا۔ ذہنی امراض کے ڈاکٹر کا کہنا تھا۔ دوائی آہستہ اثر کرے گی ۔دماغ کی رفتار تیز ہو چکی ہے۔ ماضی واپس لوٹ آیا اور حال چند پل سے زیادہ کا نہیں رہ گیا۔
وہ سوچ رہا تھا ۔کہ انسان کا دماغ اپنے اندر ہر واقعہ کو جزئیات سمیت کسی کیسٹ کی طرح ایسے ریکارڈ کر لیتا ہے۔کہ جب حال رک جائے تو ماضی کی فلم نکل کر چل جاتی ہے۔
چند مہینوں میں اس کے ابا جی کافی حد تک سنبھل چکے تھے ۔خاموش زیادہ رہتے اور یہ سب دوائی کے اثرات تھے۔ان کی خاموشی ایک خاموش طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ جس سے وہ لا علم تھا کہ اب اس کی زندگی میں کیا کیا ہونے والا ہے۔یہ کونسی بیماری ہے۔ جسے ڈاکٹر کوئی بھی نام نہیں دے رہے۔ ماسوائے اس کے کہ دماغ کی شریانیں سکڑ گئی ہیں۔ خون کی گردش صحیح طرح سےنہیں ہو پا رہی۔
اسی دوران اسے اللہ تعالی نے پہلی اولاد نرینہ سے نوازا ۔جس پر گھر کا ہر فرد پھر بہت خوش تھا ۔دادی پوتے کی محبت میں سرشار تھی ۔ باپ کے بعد اب اس کا بیٹا اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا ۔جسے پا کر وہ بہت مسرور تھی ۔ بہو لانے کے بعد انہوں نے گھر کے کاموں خاص طور پر کچن سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی ۔ زیادہ وقت اپنی عبادت یا پوتے کو سنبھالنے میں صرف کرتیں ۔
اسی دوران انہیں شدید درد نے آ گھیرا تو انکشاف ہوا ۔کہ ان کے پتے میں پتھری ہے ڈاکٹروں نے تین دن ہاسپٹل رکھنے کے بعد یہ کہہ کر اپریشن سے انکار کر دیا کہ دل بڑھا ہوا ہے۔ ایسے مریض کا رسک نہیں لیا جا سکتا ۔
ایک طرف بوڑھا باپ جو اپنی زندگی بھولتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف بوڑھی ماں جو پتھری کے درد سے نڈھال ہو جاتی مگر اپریشن ممکن نہیں تھا۔ ایک بیٹا اپنے والدین کے لئے ہر ڈاکٹر سے منت کرتا کہ وہ اپنے والدین کی تکلیف نہیں چاہتا ہر ممکن مدد کا طلب گار رہتا ۔
اس کی سگریٹ کی عادت بہت بڑھ چکی تھی جب بھی وہ تنہائی میں ہوتا ۔سگریٹ کے دھواں میں اپنے سوالوں کے خود ہی جواب تلاش کرتا۔جو وہ کئی سال پہلے اپنی ماں کی گردن اور کندھوں پرآئیوڈیکس تو کبھی وکس ملتے ہوئے اکثر مذاق میں کیا کرتا تھا ۔
ماں جی آپ کی اتنی اولاد تھی پھر میری دنیا میں کیا ضرورت تھی؟
ماں اسےڈانٹتے ہوئے کہتی !
تمہیں شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے۔
آتی ہے۔ جب دو سال بڑا بھتیجا مجھے چچا کہتا ہے۔ اس کے جواب پر ماں خاموش ہو جاتی۔
اس کے سب سے بڑے بھائی اور اس میں تیس سال کا فرق تھا۔ دو شادیوں میں بچوں کی عمروں میں اتنا فرق ۔کبھی کبھار ایسا بھی ہو جا تا ہے۔
آج اسے اپنے وہ سوال جو ماں سے مذاق مذاق میں کئے تھے۔ جواب مل گیا تھا کہ
دنیا کا بنانے والا انصاف کرنے والا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ صرف رزق اور موت نہیں مقصد بھی لےکر آتا ہے۔ جو کبھی کبھار سوال بن کر اس کے ذہن میں ابھرتے رہتے تھے۔ ان کا جواب اسے مل چکا تھا اور اپنا مقصد بھی !
کیوں اس کے ذہن میں کبھی بھی ملک سے باہر اچھے مستقبل کی خواہش پیدا نہیں ہوئی۔ دوستوں پر حیران ہوتا تھا کہ انہیں کیا بے چینی ہے۔ جو ہر ملک کی ایمبیسی سے نامراد لوٹتے ہیں۔ ایک بار تو ایک دوست نے امریکہ کی خاتون اول کو بھی خط لکھ دیا۔ ویزہ آفیسر کے خلاف ویزہ نہ دینے کی پاداش میں !
آج ان میں سے کافی ملک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے۔ اور وہ وہیں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہا تھا ۔جو اسے خوش نصیب قرار دیتے کہ تمھارے راستے کھلے ہیں۔
اس کے راستے کھلے بھی منزل کی نشاندہی نہیں کر رہے تھے۔ اور جن کے بند تھے وہ اپنی منزل کی تلاش میں ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگ رہے تھے۔ نہ جانے انسان اپنوں سے جدا ہو کر۔ غیروں کےکن احسانوں کو چکانے کے لئے رشتوں کو پاؤں کی بیڑی سمجھ کر توڑ دیتا ہے ۔اور باپ کی حیثیت سے اولاد کے ساتھ جس رشتے کو وہ نبھانے جارہاہوتا ہے۔ وہ خود ہی اس رشتے کی پامالی کاباعث ہو چکا ہوتا ہے۔ اور رشتوں کی مجبوری کو خودغرضی کا جواز بنا دیتے ہیں ۔
جو بویا ہے وہی کاٹنا ہے ۔پھر شکوہ کا تو کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ مگر ایسے انسان ملنے والی ہر کامیابی اپنے دم اور بل بوتے کے نام کر دیتے ہیں۔ اور ناکامی کا سہرا کبھی دوسرے تو کبھی قسمت پر ڈال دیتے ہیں۔
اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی جب -------------- جاری ہے


تحریر ! محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک