Mar 12, 2011

کالج سے شادی کی " تیاری " تک

آج پھر وہ آئینے میں اپنے آپ کو بار بار دیکھ کر خود پہ فریفتہ جا رہا تھا ۔ تو ماں جی کی بلند آواز میں دی جانے والی تنبیہ کہ آج بھی کالج دیر سے پہنچنے کا ارادہ ہے ۔ تو قربان واری جانے کا پروگرام ادھورا رہ گیا ۔ ایک ہاتھ میں کاپی اور ایک کاپی نما کتاب ، دوسرا ہاتھ جیب میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔ پھٹی جیب کا کیا بھروسہ ویگن کے کرایہ کی رقم ہی راہ چلتے کسی بے فکرے کو تھما دیں ۔ تھمانی تو رقم ہمارے ہاتھ ویگن والوں کو چاہئے کہ بکروں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے مگر اُف تک نہیں کہتے ۔بس سٹاپ تک تمام دوست اکھٹے رہتے ۔ پھر بکرے الگ الگ بن کر کلاس روم تک پہنچتے ۔ اب تو ٹیچر بھی یہ کہنا چھوڑ گئے کہ کس سے لڑ جھگڑ کر آئے ہو ۔ کیونکہ آدھی قمیض کا پتلون سے باہر رہنا معمول کا پہناوہ بن چکا ہے۔ سلوٹیں تو اب ڈیزائن بن چکی ہیں ۔ کئی گارمنٹس کمپنیوں نے کپڑے ہی ایسے بنا دئے ہیں کہ سو کر ہاتھ منہ دھوئے بغیر بھی باہر جھانک لیں ۔ تو پوچھ لیا جاتا ہے کہ کہاں جانے کےپروگرام میں اتنی تیاری ہے ۔
اتنی تیاری صرف امتحانی ہال تک پہنچے میں کی جاتی ہے ۔ پرچہ ہمیں ہمارے حال تک پہنچاتا ہے ۔ پھر گھر میں سبھی پہلے دن کالج جانے کی تیاری میں کی جانے والی تیاری تک پہنچاتے ہیں ۔کہ اب دیکھ لو دیر تک آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے کا نتیجہ ۔ نتیجہ والے دن لمبی قطار میں کھڑے خوشیوں کے قہقہوں میں دبی دبی گلے سے نکلتی آواز بیماری کی علامات کی تیاری میں ہوتی ہے ۔ کئی بار ایسی علامات ظاہر ہوئیں مگر بیماری بننے سے پہلے ہی رفو چکر ہو گئیں ۔ اب اگر ہاتھ میں لئے ڈگری کو انتہائی کم نمبروں سے رفو کیا ہو ۔ ملازمت کے لئے جگہ جگہ چکر لگانے سے آخر بھوک میں چکر آ جاتے ہیں ۔ تھک ہار کر گلی کی نکڑ پر شاہیں کا بسیرا رہتا ۔
گلیاں آنے جانے والوں کے لئے راستہ ہوتی ۔ مگر کچھ کے نزدیک وہ صرف چکر لگانے کے کام آتی ہیں ۔ کھلی کھڑکیوں سے کھلی ہوا کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ دیکھنے بار بار ان گلیوں میں چکر لگاتے ہیں ۔ اپنے گھر میں والدین کھانس کھانس کر بے حال ہو جائیں ۔ حالات خراب ہیں کہ کر کھڑکیاں دروازے بند رکھوائے جاتے ہیں ۔ انہی حالات کی کارستانی کی وجہ سے اکثر کالجز کے باہر لڑکوں کا رش رہتا ہے ۔ اپنے کالج سے بھاگنے کو جی چاہتا اور دوسرے کالج میں جھانکنے کو ۔ آنکھیں عقاب کی طرح چوکس رہتی ۔ مست حال شکار پر جھپٹنے کے لئے ۔
نظر کی کمزوری کے شکار بزرگوں کو نیچی نظروں میں گزرتے نوجوان سعادت مندی کی معراج پر نظر آتے ۔ رضا مندی کے لئے سیل فون پرٹیکسٹ میسجنگ کے لئے نظروں کا نیچا رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ نظریں اُ ٹھا کر چلنا اب صرف محاورہ کی طرح رہ گیا ہے ۔ محاورہ اگر نہیں بھی ہو گا تو بن جائے گا ۔
سیل فون پر نظریں ایسی جمتی ہیں جیسی کسی زمانے میں پرس میں رکھی تصویر پر یار لوگوں کی رہتی تھیں ۔سیل فون میں خامیاں کئی مگر ویسے سہولت تو ہے ۔ کہاں ہو ؟ کیا کر رہےہو ؟ گھر سےنکلے کہ نہیں ؟ کب تک پہنچو گے ؟
شادی بیاہ میں تو اپنے گھر والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے ۔ عزیز رشتہ داروں سے پوچھتے کہ خالہ امی تو نہیں دیکھی آپ نے ۔ تتلی ! پری کو دیکھا کیا ۔باجی کو بتاؤ گڑیا کی مہندی لگانے والی آ چکی ہیں ۔ ابا کو ڈھونڈتے پھرتے دیگ پکانے والا سامان مانگ رہا ہے ۔
اب تو اور بھی سہولت ہے ۔گھر والے ڈھونڈنے نہیں پڑتے بلکہ شادی ہال پہنچ کر مہمان فون پر پوچھتے ہیں ۔ کہاں ہو تم دولہے میاں ۔
بیوٹی پارلر سے آدھے گھنٹے میں بس فارغ سمجھو ۔ابھی پہنچے کہ پہنچے چاہے آنے میں گھنٹہ لگے ۔
بھئی اگر تمہارے پہنچے میں دیر ہے تو انتظار کرنے والوں کو تو ایک ایک کھجور ہی تھما دو ۔لیکن رواج کے مطابق نکاح کے بعد ہی ٹوفیاں گولیاں میٹھی سونف اور پرانے خشک چھوہارے حلق سے نیچے اتار پاؤ گے ۔ کھانا کھلنے پر پہلے آئیے پہلے پائیے کا اصول کارفرما ہوتا ہے ۔ چمچ کانٹے سے لیس پلیٹ کھانے کی سستی میں سستانے کی قائل نہیں ہوتی اس لئے ایک بار ہی گولہ بارود" گول بارعب بوٹیوں " سے بھر لیا جائے تو اچھا ہے ۔
کسی نے گھر جہیز سے بھر لیا، جیب نوٹوں سے بھر لی ۔ گھر کے کام کاج میں ایک سپاہی اور بھرتی کر لی ۔
اور تجھے اعتراض صرف مہمانوں کی پلیٹ بھرنے پر واہ تیرے لکھنے پر قربان جائیں !!!!!
میرے لکھنے پر واہ واہ نہ بھی کریں تو کیا ۔ارادہ کر لیں کہ کالج کے لئے آئینہ کے سامنے تیار ہو کر نکلنےسے لے کر بیوٹی پارلر میں تیار ہونے تک کسی ایک اپنی قربانی پر خود ہی قربان ہو جائیں تو واہ واہ ہو جائے ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک