Showing posts with label نثری مضامین. Show all posts
Showing posts with label نثری مضامین. Show all posts

Nov 18, 2017

گرہیں

  آئینہ کے سامنے  مخاطب دوسرے ہوتے ہیں مگر چہرہ اپناہوتا ہے۔ لفظ اپنے لئے ہوتے ہیں مگر سناتے  دوسرے کوہیں۔نصیحت انہیں کرتے ہیں  مگر سمجھاتے خود کو ہیں۔ سوچ کی مہک سے لفظوں کی مالا پہن کر عجز و انکساری میں اتنے جھک جاتے ہیں کہ نشہ میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ پردے اُٹھانے چاہیں تو بدن تھکن سے چور ہو جائے فاصلے سمٹنے کا نام نہ لیں۔آئینہ میں عکس ہو یا زمین پر پرچھائی ،روشنی گل ہوتے ہی اوجھل ہو جاتے ہیں۔روشنیوں کے ان ہمسفروں سے اندھیروں کے خوف اچھے جو بند آنکھوں میں بھی خواب سجائے رکھتے ہیں۔قیدی پنچھی دانہ دانہ چگتے فضاؤں میں  اُڑتےآزاد پنچھیوں کو حسرت سے تکتے ہیں ، پروں کو پھڑ پھڑاتے ہیں ، یہ جانے بنا کہ  اونچی اُڑان کی طاقت پرواز ان جیسی نہیں ۔ 
قید جسم کی ہو یاروح کی ، سوچ کی ہویا رات کے خواب کی ۔ قید تنہائی ہے۔بیش قیمت لباس میں جسم بے چینی میں الجھنے جیسا۔ خود پسندی کی دوا سے  مرض دائم کی شفا جیسا۔ 
خواب یاد رہتے ہیں تعبیر بھول جاتی ہے،منزل یاد رہتی ہے سفر بھول جاتے ہیں، باتیں یاد رہتی ہیں لوگ بھول جاتے ہیں،خوشبو یاد رہتی ہے پھول بھول جاتے ہیں،مشکلیں یاد رہتی ہیں رحمتیں بھول جاتی ہیں،بیماریاں یاد رہتی ہیں  شفائیں بھول جاتی ہیں، نقصان یاد رہتے ہیں انعام و اکرام بھول جاتے ہیں حتی کہ دنیا یاد رہتی ہے آخرت بھول جاتے ہیں۔
رفتار اتنی بڑھا لیتے ہیں کہ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں یا گھبراہٹ کا۔ خوش نصیبی کے محل کے باسی ہاتھی پر سوار جلوہ افروز ہوتے ہیں اور ایک تالی سے تخلیہ پا لیتے ہیں۔ شمع پر جان نچھاور کرنے والے پروانے آگ سے اُلجھتے اُلجھتے جان سے چلے جاتے ہیں مگر اسے پانے کے لئے کوشش میں کمی نہیں آنے دیتے۔طالب کو جو مقصود ہوتا ہے وہی اس کی طلب ہوتی ہے چاہ ہوتی ہے۔ کڑواہٹ بھرےرویوں کی گرہیں اتنی مضبوطی سے لگائی جاتی ہیں کہ اخلاق و اخلاص  کے دانتوں سے بھی کھلنی مشکل ہوتی ہیں۔ خدمت کرنے والے  صداقت سےعبادت تک جا پہنچتے ہیں۔ محنت   کرنےوالے ریاضت سے شہرت تک جا پہنچتے ہیں۔ خودی کے اُس مقام تک پہنچ جائیں تو رضا بندے تک پہنچتی ہے۔ شہرت کی سیڑھی پر پاؤں جما کر نظریں بلندی کی طرف گاڈ لیتے ہیں مگر عبرت کی دلدل میں دھنس کر رہ جانے والوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ جھوٹے فرعونوں کی پیروی و تقلید میں اِتنے آگے بڑھ جاتے ہیں  کہ فرمان کی تابعداری تک بھول جاتے ہیں۔ لفظوں کو سنہری حروف میں لکھتے ہیں لیکن عمل وکردار کے لئے کالے کرتوت کے جلی حروف سے نہیں بچتے۔
دستک دینے والے  سوالیوں کودروازے کھلے ملتے ہیں جہاں انہیں روٹیاں گن کر دی جاتی ہیں دعائیں ان گنت لی جاتی ہیں۔فقیر بند دروازوں اور گلیوں سے صدا دیتے گزر جاتے ہیں۔ مکینوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں چلمن اُٹھے یا نہ اُٹھے۔

تحریر : محمودالحق           
در دستک >>

Oct 17, 2014

آنکھیں جو کھوجتی ہیں

علم و عرفان میں یکتائی ہر کسی کا نصیب نہیں ۔علم وفضل کے قلمدان آبروئے ورق پر آفرینش ہوتے ہیں۔کیاریوں میں پودوں کی آبیاری سے ننھے بیج توانا درخت تک کا سفر باآسانی طے کر لیتے ہیں۔بلند وبالا پہاڑ ،وادیوں میں بہتے چشمے ،انواع واقسام کے میوے اور خوشبو بھرے پھل نظروں میں ساکت فلم کی طرح ٹھہر جاتے ہیں ۔ انہیں محسوس کرنے کے لئے ایک جھلک ہی کافی ہوتی ہے کسی اینیمیٹڈ فلم  کے ایک سیکنڈ میں پچیس فریمز جیسی نہیں۔
آنکھ سے صرف دیکھنے کا کام لیا جاتا ہے حالانکہ یہ نظر کی گرفت میں آنے والے ہر منظر کو فریمز کی صورت دماغ کے حساس سٹور روم میں ارسال کرتی رہتی ہے۔دور و نزدیک  کےمناظر ،ان کی رنگت ، ان کی خوبصورتی  حتی کہ ان فاصلوں کو بھی ماپ لیتی ہے۔ جہاں سے ان کو دیکھا گیا ہو،محسوس کیا گیا ہو حتی کہ ان کےقرب و لمس سے لطف اندوز ہو کر سرشاری میں قربت کا نشہ  روح میں اتار لیا گیا ہو۔
جو فارمولہ نظروں کی طرح ہماری ذات کی شناخت اور پہچان میں آسانی  سے فٹ بیٹھ جائے  سلوموشن کے فی سیکنڈ میں آنے والے فریمز کی بجائےمکمل سین یاد داشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔موضوع جتنا اہم ہے وہاں تک پہنچنے میں ایک سفر طے کرنا پڑے گا۔جیسا کہ ان الفاظ کو پڑھنے تک کا سفر طے کیا گیا۔نہیں اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہو گا کہ اتنے سال اور اتنے ماہ زندگی کے نشسیب و فراز  سے گزر چکے ہیں یا یہ  کہ اتنی بہاریں دیکھ چکے ہیں۔
پیدائش سے لیکر موت تک مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ایک پل کے لئے بھی نہیں رکتے۔پچاس سال پورا ہونے پر انسان مسرور ہوتا ہے ۔ایک ہی گاؤں میں پچاس برس گزارنے والا اور دنیا بھر کا سفر کرنے والا ایک ہی طرح سے بڑھاپے کے آثار خدو خال میں تبدیل ہوتے ہوئے پاتا ہے۔کائنات میں زندگانی کا سفر دونوں اجسام نے اتنا طے کیا ہوتا ہے کہ چند ہزار یا  چند لاکھ میل ان کی ظاہری ہیئت پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتے۔کیونکہ سورج کے گرد دونوں کا سفر 47 ارب کلو میٹر بنتا ہے۔ زمین سورج کے گرد ایک سال میں 94 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ  طے کرتی ہے اور ہم اس کے ہمسفر ہوتے ہیں۔ذہنی معذورانسان چاہے عقل و شعور میں وقت کی قید سے نہ نکل پائیں مگر بڑھاپے کے اثرات ان پر زی شعور انسان کے برابر ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ بہاروں کے ساتھ ساتھ گرمی سردی کے علاوہ خزاں سے بھی بارہا گزرتے ہیں۔  اس سفر میں چاروں اطراف کائنات  کےپل پل بدلتے مناظر کو آنکھ  صرف ایک فریم  کی صورت دماغ کو تصویر ارسال کرتی ہے۔اگر اسے فی سیکنڈ سینکڑوں فریمز کی صورت یادداشت کی ٹیپ پر ریکارڈ کے لئے بھجوایا جائے تو کچھ اور یاد رکھنے کے لئے شائد سپیس نہ بچے۔
انسانی دماغ بالحاظ ساخت و وزن تقریبا ایک جیسے ہوتے ہیں مگر ان کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہوتا ہے۔عالم کے گھر جاہل اور کوتوال کے گھر چور پائے جا سکتے ہیں۔ انسانی آنکھ مختلف اشیاء کو فریمز کی صورت دماغ کے نہاں خانوں میں ارسال کرتی رہتی ہےاور ذہن انہیں جمع و منفی کے فارمولہ سے کانٹ چھانٹ کربرابر کرتا رہتا ہے ۔ اسی لئے تو روز مرہ معمولات زندگی میں ذہن کو تردد نہیں کرنا پڑتا۔جو ان کی تفریق سے رزلٹ  بتا دیتا ہے جو ہم کر گزرتے ہیں۔اسے ایک  عام فہم مثال سے  بہت آسانی سےسمجھا جا سکتا ہے۔

کسی گھر میں رشوت کے پیسے کی ریل پیل ہے وہاں چھوٹوں بڑوں کو انہیں 1- سے 100-کے درمیان  نمبر لگانے کا کہا جائے تو وہ  اس فعل کو 90- نمبر دے کر جسٹیفائی کریں گےاور ایمانداری  کو 20+ سے زیادہ نمبر نہیں دے سکیں گے کہ آج کل کہاں اتنی تنخواہ میں گزارا ہو سکتا ہےتو فیصلہ 70- کے ساتھ رشوت کے حق میں نکلے گا۔اسی طرح ایماندار انسان حق حلال کو 90+ اور بے ایمانی اور رشوت کو 10- سے زیادہ نمبر نہیں دے پائے گااور حلال 80+ کے ساتھ سر فہرست ہو گا۔اسی طرح معاشرے میں پائی جانے والی ہر اچھائی، برائی کو ازخود  جمع اور منفی نمبر لگاتے جائیں۔دماغ کیلکولیٹر کی طرح جواب سامنے رکھ دے گا۔میں جھوٹ کو 1- اور سچ کو 99+نمبر دیتا ہوں تو دماغ اسے 98+=1-99+کے ساتھ لوٹا دیتا ہے۔کوئی نیا اور سخت فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ہم ذہن کو جو جو نمبرز ارسال کرتے ہیں وہ انہیں تفریق سے  ہمارے ہی رویے کےمثبت یا منفی ہونے کی صورت واپس لوٹا دیتا ہے۔جیسے ہم کسی انسان کےدوسروں کے ساتھ برے رویے  کونظر انداز  کر کے  ایسی  کم سطح پر رکھتے ہیں کہ جب وہی رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا جاتا ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔دوسرے لوگوں کی باتوں اور مشوروں سے کبھی رزلٹ ہمارے خلاف نہیں آ سکتے جب تک کہ ہم خود اس بات کا فیصلہ نہ کر لیں کہ اچھے عوامل کو اچھے نمبروں کے ساتھ ذہن کو ارسال کیا جائے تو رزلٹ مثبت ہوں گے اورقلب سکون میں رہے گا۔

محموالحق
در دستک >>

Oct 16, 2014

زندگی کی عجب کہانی ہے

زندگی تیرے انجام سے بے خبر  یونہی چلتے رہےجیسے ننگے پاؤں انگاروں پہ جلتے رہے۔ کبھی چاند کو اپنا سمجھتے رہے کبھی پھول سے محبت کرتے رہے۔رات کے پچھلے پہر ستاروں کی ٹمٹماہٹ سے سلگتے رہے۔چاندنی میں جسم و جاں سے اُلجھتے رہے۔حدت ِآفتاب سے تپتی ریت پر گھسٹتے رہے۔دُعا میں اُٹھے ہاتھوں کووصلِ بیتاب سمجھتے رہے۔اقرارِ زباں کو قرارِ جاں سمجھتے رہے۔ عشق ِامتحاں کو دلِ ناداں سمجھتے رہے۔ جوانی کی مستیاں حسن کی لن ترانیاں رہ گئی گھٹ کر ان میں اذیت کی سرگوشیاں۔زندگی کے میلوں میں کھو گئیں بچپنے کی معصومیت،چاہت کی پاکبازیاں،آنکھوں کا بھول پن ،کانوں کی سرخی اور رخساروں کی لالی۔ 
شجر تو کونپل سے کونپل بڑھتے رہےپھلوں پھولوں سے بھر کر پھیلتے رہے۔ جوانی بپھر کر بھی سمٹتی رہی۔اُنگلی چھونے پہ ہاتھ بھی کٹتے رہے۔ایک نظر پڑنے پر  جوجان ہتھیلی پر لئے پھرتے رہے۔ نظر بدلنے پر جان جہاں سے بھی جانے میں مسکراتے رہے۔
زندگی کی عجب کہانی ہےدل پہ گزرے تو دیوانی ہے، درد میں ڈوبے تو آفتِ نا گہانی ہے۔   
در دستک >>

May 14, 2014

قوتِ کشش


سائنسدانوں نے ایک ایسی مشین ایجاد کر لی ہے کہ جس سے قوت کشش کوجانچا جا سکتا ہے۔زمین اور چاند کے درمیان ،سورج اور زمین کے درمیان  استعمال ہونے والی قوت  کیسے کام کرتی ہے  ۔کہتے ہیں کہ چاند اور زمین کے درمیان کار فرما قوت زیادہ طاقتور ہے سورج اور زمین کے درمیان کی قوت سے۔ پہاڑ چاہے جتنے بھی بڑے کیوں نہ ہوں مگر ایٹم کازرہ کام بہت بڑے کرتا ہے۔فی الحال اتنا ہی کافی ہےہم جیسے انسانوں کو سمجھنے کے لئے گلیکسیوں کے درمیان یہ قوت کیا ہے ابھی  اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔
جنہوں نے اس مشین کے بارے میں جاننا ہے وہ جان لیں کہ نیٹ پر تلاش کا کام شروع نہیں کریں۔ کیونکہ مضمون کے شروع میں میں لکھنابھول گیا کہ یہ ایک خواب کا حال بیان کر رہا ہوں۔
چلیں جان چھوٹی خامخواہ ہی وقت برباد ہوتا تلاش پر۔ اب یہاں  مزید رہنا خطرے سے خالی نہیں ،آگے نا سمجھ آنے والی لفاظی کے نشتر چبھوئے تو تیر چلائے جائیں گے۔
جناب زرا دل تھام کر رکھیں فوجی تو ہیں  نہیں توپ چلانے سے رہے۔ تاریخ پڑھی ہے زوالوجی باٹنی یا میتھ کی گھمن گھیریاں سیدھے کرنے سے رہے۔ جو سیکھا ہے ، جو کام آتا ہے اسی پر اکتفا کریں گے۔اگر طوطا "طوطا چشم" نہ ہوتا تو قسمت کا حال بتاتے۔ کارڈ ریڈنگ میں یکتا ہوتے تو بچوں کو ولائت بھجواتے بزرگوں کو کعبہ۔ شاعر ہوتے تو کنگن گھماتے۔ عاشق ہوتے تو ہیر رانجھا سناتے۔
طاقتور ہوتے تو غریبوں کا سانس سکھاتے۔ حکمران ہوتے تو زبان چلاتے۔صحافی ہوتے تو جادو دکھاتے۔منصف ہوتے تو مظلوم رلاتے۔ لیڈر ہوتے قوم دھرنا بٹھاتے۔
اب جب کہ کچھ بھی نہیں تو جو میری بیچارگی پر ترس کھا ئے ابھی تک ثابت قدم ڈٹے ہیں۔
انہیں میرا سلام
کیونکہ  یہاں تک پہنچ کر میدان میں کھڑے رہنے والے جان جائیں  گےکہ قوت کشش کیا ہے۔ ایک جھلک تو دیکھ چکے کمزور ہی سہی لفظوں کی کشش نے یہاں سے ہلنے نہیں دیا۔ حالانکہ یہاں ابھی تک کوئی منطقی سوچ نہیں۔جسے اوپر بیان کیا اگر خواب نہ کہتا تو سو میں نوے  عینکیں ناک پہ ٹکاتے۔ بچوں کو جھاڑیں پلاتے ماؤں کو بیش قیمت مصروفیت جتاتے۔ کف کے بٹن کھول کالر کا بٹن ہٹا گردن لڑھکاتے ،مجھے سو سو صلواتیں سناتے  کہ وقت برباد کیا۔اس سے تو اچھا تھا صاحب مضمون کا پورا مضمون پڑھ لیتے۔فائدہ نہیں ہٹ کاؤنٹر میں ایک عدد اضافہ سے اپنا قد بڑھاتے۔
چھوٹے بھائی بہنیں تو ادب میں منہ بڑبڑاتےگردن جھٹکاتے نکل کھڑے ہوئے  ڈرامہ دیکھنے کہ چینل ہی تھیٹر بنا ہوا ہے۔وہ پیسے بھی کماتے ہیں عزت بھی تھانوں افسروں کے سامنے کرسیاں بھی۔
معصوم سیدھے بلاگرز جان توڑ محنت سے چند فقرے دیکھنے کو آنکھیں مہینوں گھماتےکہ شائد میرا کام کسی کو اچھا لگے۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ ایک مشہور مثال ہے
مال ِ مفت دلِ بے رحم
ہماری تحریوں کا حال کسی گاؤں کے چودھری کی بیٹی پر بن بلائے گاؤں کے کمیوں کا کھانوں پر ٹوٹ پڑنے جیساہے۔نہ ہی کھانے والے کا پیٹ بھرا اور نہ ہی دیگ بنانے والے کی محنت کا صلہ۔اب تو پڑی کہ پڑیں لیکن جناب گستاخی کہاں کی۔صرف اپنا حال سنایا ہےکہ زمین پر پڑا ادھ کھایا رزق  اچھا نہیں لگا۔
عقلمند ہوتے تو لکشمی چوک لاہور میں مرغی کی کلیجی اور پوٹے بیچنے والوں ہی سے کچھ سیکھ لیتے کہ مرغی کی قیمت کے برابرتو وہ بھی بچا ہی لیتے ہیں۔کان میں سرگوشی بھی اب سننے لگی ہے ۔ غصہ کرتا ہے کام کوئی آتا نہیں۔لکھنا کیسے آ سکتا ہے۔ حالانکہ تختی تو بہت لکھی ہے مگر جمیل نوری نستعلیق نے ہماری محنت پر پانی پھیر دیا۔
کمپیوٹر پر لکھو پرنٹر سے نکالو  ۔ شاہکار تیار۔
ل لمبی کرو  توچ چھوٹی ہو جاتی ہے ۔الف اونچا کرو ن نیچا رہ جاتا ہے۔ک کو کھینچو تو ت تنگ ہو جاتا ہے۔
اب فیصلہ کریں کہ رضیہ کا غنڈوں میں پھنسنے جیسا حال ہےکہ نہیں۔پھر یہ طعنہ سننے کو ملے کتھوں پڑھے او۔تو جناب پھٹیاں تے بیٹھ پڑھیں اں۔صوفے تو سکولوں میں ہوتے نہیں۔کتابیں مفت چھاپیں بورڈ والے ملتی پھر بھی قیمتا ہیں۔بینچوں کے کیلوں سے ہماری تو ہماری بڑے بھائی کی نیکر اور چھوٹے بھائی کی پینٹ بھی چھدوا چکے۔ گالیاں وکھری کھا چکے۔ جوتے۔۔۔ او ہو ۔۔۔۔۔جوتے میرے ہی تھے۔کوئی آئیڈیا نہ نکالنا شروع کر دیں عزت والے ہیں سکول میں ڈنڈے اکثر کھائے ہیں مگر جوتے ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ تو آماں نے دودھ پینے آنے والی بلی کو رسید کیا تھا۔ہمارامنہ بلی کی طرف تھا ۔سو کمر کافی دن دکھتی رہی۔
آپ بھی نہ بال کی کھال اُتارنا شروع ہو جاتے ہیں۔جوتے اُتاریں ۔ آج کپڑوں سمیت ہی ٹوٹی یعنی نلکے کے نیچے سر دے کر "جیسے کسی زمانہ میں نائی بچوں کا سر گھٹنوں میں دے  کرٹنڈ کیا کرتے تھے" ٹھنڈے پانی سے غسل شکر کریں کہ بتی نہ سہی پانی پہاڑوں کی بجائے گھر کے صحن ہی میں 90 فٹ نیچے اُبلنے کو بے چین ہے۔ورنہ یہ بھی آئی ایم ایف کے سر پر مٹکے رکھ کر لایا جاتا۔ پھر اتنی شدید گرمی میں خاک اُٹھا اُٹھا سر پر ڈالتے۔ بین الاقوامی پروازوں کے پائلٹ شہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے آپس میں سر گوشیاں کرتے کہ
ہڑپہ اور موہنجوڈھارو کی ہزاروں سال پرانی بستیوں کے ساتھ انسان بھی دریافت ہوئے ہیں یہاں۔ کمال ہے۔ مشرف نے کسی لیکچر میں ذکر نہیں کیا۔زرداری اکثر آتا ہے مگر زیادہ وقت ہنسنے میں رہتا ہے ۔نواز شریف  گنے کا رس نچوڑنے والی مشینوں میں دلچسپی زیادہ رکھتا ہے۔ خان صاحب پہاڑوں میں چھوٹے جہاز تاکتے رہتے ہیں۔ اسی لئے ہم تو بہت اونچا اُڑاتے ہیں۔
بیچارہ کیپٹن ! بھولے بادشاہ یہ بھی نہیں جانتا میں نے ایک کہانی اپنے آبا سے سنی ،آبا نے دادا سے ، داد نے آبا کے دادا سے، اور انہوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اچھا سمجھ   گیاکہنا چاہ رہے ہیں"کم ٹو دی پوائنٹ"
ایک چرواہا پہاڑ پر بکریاں چرانے جاتا۔ ایک روز اسے  شرارت کا خیال آیا۔
اس نے شور مچایا!
شیر آ گیا! شیر آگیا!
گاؤں والے پاؤں سر پر رکھ کر جو جہاں وہاں سے بھاگا ڈنڈے سوٹے کلہاڑیاں لے کر۔
گاؤں والے جب وہاں پہنچے تو وہ چرواہا آرام سے زمین پر بیٹھا  نیرو کی طرح بانسری بجا رہا تھا۔
گاؤں والوں کے استفسار پر خوش ہو کر بولا ۔
مذاق کیا تھا۔گاؤں والے بڑ بڑ اتے پہاڑ اُتر آئے۔
دوسری بار شیر اچانک سے پہاڑ پر نمودار ہوا ۔
چرواہا چیخا چلایا  !
شیر آ گیا!
شیر آگیا!
گاؤں والے خوشگپیاں کرتے رہے۔
چرواہا شام کو بکریوں کے خون سے بھرے کپڑوں میں لپٹا گاؤں پہنچا ۔ایک جھوٹ کی سزا پا کر۔
یہ نہیں بتاؤں گا میرےاورمیرے آبا کے سر سےکتنے انقلاب  کے نعرے گزرے۔
اب جتنا چاہو مدد کو پکارو چرواہے کی طرح!
کان پک چکے ہیں۔گرمی بڑھ چکی ۔کم از کم آم کے پکنے میں کوئی شک نہیں ۔


تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Apr 23, 2014

حسنِ خیال


تخلیق کائنات کا حسن اُس کی کھوج جستجو اور نا مکمل تحقیق کے باوجود پوری دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ موجزن ہے۔جدید سائنس نیوٹن سے لے کر آئین سٹائن تک تحقیق و مفروضوں کی بنیاد پر اصل حقیقت جاننے سے ابھی اتنے ہی دور ہیں جتنے ایک نظام شمسی دوسری گلیکسی کے نظام شمسی سے فاصلے پر ہے۔ ان دیکھی مخفی طاقتیں نہایت وزنی مادہ وجود کو مخصوص دائرے میں محو گردش رکھتی ہیں۔جانداروں کے افزائش کے مراحل نہایت رازداری سے چھپ کر طے پاتے ہیں۔ جیسے ایک ننھا بیج زیر زمین ایک مخصوص فاصلے پر رہ کر ہی پروان چڑھتا ہے۔جہاں سے اسے حدت و ہوا ، روشنی و پانی موصول ہوتی ہے۔غرض یہ کہ شاخیں ہوں یا اعضائ جڑ کی بدولت ہی حرکت میں رہتے ہیں۔الگ ہوتے ہی سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں اور آخر کار اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔
انسان تخلیق کائنات کا سب سے خوبصورت جزو ہے۔وگرنہ اتنے بڑے نظام کائنات کے ہوتے ہوئے ایک خودسر اور متکبر تخلیق کی کیا حیثیت۔ بچپن سے بلوغت تک پہنچنے کی ایک مقررہ مدت ہے۔ اس سے پہلے افزائش نسل انسانی بھی ممکن نہیں۔
اندھیرا بے سبب ہوتا ہے، روشنی کا منبع ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں ایک روشن آلاؤ دہک رہا ہوتا ہے۔ جو فاصلوں کو مقید رکھتا ہے۔اندھیرے قریب آنے والے ہر وجود کو فنا کر دیتے ہیں۔جیسا بلیک ہول کے قریب جانے والے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔
اللہ تبارک تعالی کے فرمان حدود و قیود میں رہتے ہوئے حقوق و فرائض کی گردش رفتار کا اہتمام کرتے ہیں۔ایک زرہ سے لے کر ایک جہان تک پابندی اوقات و رفتار کی حدود وقیود میں رہتے ہیں۔مگر انسان اپنی سرشت میں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا متمنی رہتا ہے۔لہذا پیغمبروں کے علاوہ مقدس کتابیں بھی رہنمائی کے لئے اُتاری جاتی رہیں۔قرآن کی صورت میں ان سب کو یکجا و مکمل کر دیا گیا۔پھر اس کے بعد کسی نبی خدا کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔کائنات کو جاننے کا عمل دنیا کے قائم رہنے تک جاری رہے گا۔مگر خالق کائنات کی تلاش اور جاننے کی صورت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں رحمت بن کر آنے سے ختم ہو گئی۔ اب صرف خالق کائنات کو اپنا ماننا اور خود کو اس کے حوالے کر دینا باقی ہے۔ تاکہ اس کی رحمتوں کا ایک جہان گردش ثمرات سے ہمیں منور کر دے۔ جاندار اور بے جان نظام حیات و نظام کائنات کی طرح نظام رحمت سے بنی نوع انسان اپنے نظام وجود کی تکمیل کر پائے۔
دنیاوی خواہشات سے لبریز نفس انسانی وجود میں بلیک ہول کی طرح کام کرتا ہے۔ ہدایت روشنی کی حدود وقیود سے آزادی پانے والے نیک خیال نفس کے اس بلیک ہول میں فنا ہوتے جاتے ہیں۔اپنے وجود کے اندر اس بلیک ہول کو پہچاننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور ہدایت کی روشنی ہی اس کا مقدر ہونا چاہیئے۔اپنے اپنے دائرے میں حرکت کرتے ہوئے دوسروں کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے دن رات اور گرم سرد کا وقت معین پر انتظار کرنا ، خواہشوں آرزؤں کی عارضی قبولیت سے اندھیروں میں غرق ہونے سے بہتر ہے کہ ہدایت کی روشنی کے گرد اپنے سفر کو جاری رکھا جائے۔جو ایک وقت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے گی ، نہ کہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو۔
خالق کائنات رب زوالجلال کو ایسے یاد کیا جائے کہ اس کے احکامات کی پاسداری اور تکمیل جزئیات کے ساتھ مکمل بندگی میں پرو دی جائے۔تو ایسی کئی رحمتیں رضا بن کر ہر مشکل گھڑی میں مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔زندگی  ایک تہائی عمر حکم کی بجاآوری کے بعد اس راستے پر گامزن ہو جائے۔جہاں نفس کے بلیک ہول میں غرق ہونے کی بجائے ہدایت کی روشنی روح کو منور کر دے۔ تو سمجھنا کافی ہے کہ اصل راستہ کی پہچان اور آگاہی منزل مقصود کی قربتوں کی ہمراہی ہے۔
تحریر ! محمودالحق

در دستک >>

Apr 20, 2014

سپرد رضا


انتہائی بھوکے پرندے جب کسی دالان ، کھیت کھلیان میں بھوک مٹانے اترتے ہیں تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر نہیں رکھتے بلکہ اپنے کان اور آنکھیں خطرہ بھانپنے کے لئے کھلے رکھتے ہیں۔ہڑبونگ ادھم مچاتے بچے بھی انہیں موت کے فرشتے نظر آتے ہیں۔ جہاں انہیں کھانا کھانے سے زیادہ جان بچانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔دوسری طرف بعض جاندار بھوک مٹانے کے لئے آخری کھانا سمجھ کر مرنے مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ پیدا کرنے والا ہی زندہ رہنے کی گارنٹی دیتا ہے۔پھر بھی جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو جیسا فلمی ڈائیلاگ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت سننے میں آ جاتا ہے۔ شادی بیاہ پر طوفان بد تمیزی برپا کرتے مہمان اتنے اہم نہیں ہو سکتے کہ زور قلم کو حرف نظر کر دیا جائے۔ اس لئے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
پانی کے آٹھ گلاس پینا صحت بخش ہے۔ چائے مضر صحت ہے۔ چاکلیٹ ،سوڈا بچوں سے دور رکھنا اچھا ہے۔انڈے دودھ چاول روٹی کے ساتھ تازہ پھل کا استعمال صحت کی تر و تازگی کا سبب ہیں۔ شوگر کے مریض چینی کا استعمال کم کریں۔ ہائی بلڈ پریشر والے نمک سے پرہیز برتیں۔صبح یوگا تو شام کو سیر کریں۔رات بستر میں جلد گھسیں صبح جلد نکلیں۔بھاگم بھاگ دکان دفتر پہنچیں تھک ہار واپس پلٹیں۔ایک مکمل اور پابند زندگی جہاں شب و روز کوئی نیا تماشا نہیں جہاں بیماری میں پرہیز تو تندرستی میں گریز برتا جاتا ہے۔
اس اُمید پر سوتے ہیں کہ جاگنا ہمارا مقدر ہے۔ اس اُمید پر گھر سے نکلتے ہیں کہ واپس  لوٹنا  ہمارا مقدر ہے۔کوشش نامکمل ہی کیوں نہ ہو نتیجہ سو فیصد چاہتے ہیں۔
اگر سورج  نظام کائنات سے نکلنا چاہے تو نکلنے کی اجازت نہیں۔ بادل بے آب و گیاہ ریگزاروں تک پہنچنے کے پابند ہیں۔ کہیں ہوا کا کم دباؤ ارد گرد ہواؤں کو آندھی کی صورت وہاں پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں مایوسی کی بنجر زمین پر موسلا دھار برستی ہیں۔ جو نم رہتے ہیں وہ پروان چڑھتے ہیں۔جو روٹھے رہتے ہیں وہ سوکھے رہتے ہیں۔
کسی نے کچھ نہ کیا اسے بہت کچھ مل گیا  اور کسی نے بہت کچھ کیا مگر اسے بہت کم ملا۔ موت کفن قبر  بر حق مانتے ہیں۔ رزق عزت مقام پر حق جتاتے ہیں۔ حق کو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔خالق سے محبت کے دعویدار ہیں مگر صرف جھکنے کی حد تک۔سچ تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔ رحمان رحمت کے زینے سے سینے میں دسترس رکھتا ہے۔ غرور و تکبر زمین سے پاؤں کی دھول مثل اُڑتا ہے۔ کیسے کہیں ہم تجھ سے  راضی ہیں تو ہم سے راضی ہو جا۔ راضی بالرضا سے ہو گا۔
خالق سے محبت کا تقاضا ہے کہ سپرد رضا کر دیا جائے اس سے پہلے کہ سپرد خاک کر دیا جائے۔
 
 
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Apr 14, 2014

ہاف فرائی فل بوائل


صبح سب سے پہلے بیٹی نے آ کر ہیپی برتھ ڈے ابو جی کہا تو آنکھیں  چمک اُٹھیں پھر باری باری بیٹوں نے بھی یہی کلمات دھرائے تو شکریہ کہہ کر محبت کا احسان چکا دینے کی ادنی کوشش کی ۔ جیسے کسی افسر کو ترقی کے ساتھ ساتھ علاقہ غیر میں تعیناتی کے احکامات بھی ساتھ موصول ہوئے ہوں۔اب ظاہر ہے پچیس تیس کی سالگرہ پر ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ عمر جان کر کیا کریں گے۔ اگر درخت سے آم توڑ کر کھانے کی نہیں ہے تو آم کھا کر گھٹلیاں گننے کی بھی نہیں۔ اس کا مطلب تو یہی لیا جائے گا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اکبر اعظم کے دور اقتدار سے زیادہ نہیں تو سلطان سلیمان کے عہد حکومت سے کسی طور کم بھی نہیں۔ کچن مصالحہ کی ناک کے نتھنوں سے کھوپڑی کے نیچے تک تیز خوشبو کو چھینکنے سے آرام کا طالب تھا۔ ہوائے راہدار نے مشکل کو کافی حد تک سنبھالے رکھا۔جی ایگزاسٹ کو یہ کریڈٹ دینے کی پابندی سے مستثنی نہیں ہوں۔ یہ سب سالگرہ کی خوشی میں ہانڈی میں بھگایا چولہے پر چڑہایا اگ پہ تپایا نہیں جا رہا تھا بلکہ بچوں کے تایا کی برسی کے اہتمام میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ سب ایسے ہی ان کے ابو جی کے بچپن سے ہی چلا آرہا تھا۔ میں نے کیا پڑھا اتنا پڑھنے کے بعد بھی نہ پڑھائی کا پتہ چلے نہ ہی ڈگری کا۔ تو پھر پڑھنے کا کیا فائدہ۔ شکر ہے یہ وہ زمانہ نہیں جب دشمن شہر کی فصیلوں تک آ پہنچا تھا اور اہل دانش کوا کو حلال و حرام قرار دینے کے لئے پورا زور لگا رہے تھے۔ آج ایسی صورتحال نہیں روزی روٹی کے لئے کی جانے والی کوششیں  بھی حلال حرام سے مستثنی ہیں۔ کیوں نہ ہوں دس سے بیس کرنے والے اور ایک انگوٹھی سونے کی دو بنانے والے شہروں بستیوں میں کرامات سے نسل انسان کو بیوقوف سمجھنے پر حق بجانب ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کیمیا گری کے کئی نسخہ ہائے جات کو آشکار کرنے کا ارادہ تھا مگر سوچ پر پہرے بٹھا دئیے کہ اگر یہ بتا دیا کہ زندگی ایک ہفتہ میں فقیری سے امیری میں کیسے بدل سکتی ہے تو ایک سے دو بنانے والے بنا محنت کے منزل پانےکی جستجو  کرنے والے اور تقدیر سے زیادہ طاقت سے حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے تمنا کے روشن آلاؤ کے گرد حصار بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔
ڈاکٹری انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا نہ ہونے سے پڑھے لکھوں میں شمار بھی نہ ہوے۔ جسے جاننے کا جنون رہا اسے جاننے ہی کی کوشش میں رہے۔ جاننا اتنا کافی بھی نہیں مگر تھوڑا بہت جان ہی گئے۔ وقت سے پہلے وقت کا ادراک۔
گھر میں سب ہی چیونٹیوں کی مٹر گشت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ بیچاریاں انتہائی خاموشی سے کونے کھدروں سے روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہیں۔پھر بھی ان کے قتل عام کا حکم صادر کرنےکا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ سینکروں کی تعداد میں دھواں اُڑاتی ہارن بجاتی شہر شہر گاؤں گاؤں دھول چٹاتی موٹر کاریں گھروں میں نہلا دھلا کر سجائی جاتی ہیں۔ گدھا / بیل گاڑی سے بہت تیز رفتار ہونے کی وجہ سے سینکڑوں منٹ روزانہ ہزاروں منٹ مہینہ اور لاکھوں منٹ سالانہ بچاتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ابن بطوطہ ارسطو افلاطون بنانے سے بھی نہیں بنتے۔ تراشے ہوئے لکڑی کے قلم کی تحاریر کمپیوٹر کمپوزنگ سے کئی گنا سست رفتاری کا شکار تھیں مگر شاہکار بھی تھیں۔ آج جتنے پلاسٹک کے بال پین ہیں کتابیں تعداد میں کسی طور ان سے کم نہیں۔ ایک اخبار روزانہ کی بنیاد پر جمع ہوتے ہوتے کئی سال بعد کئی من ردی کی صورت صرف بکتا ہے۔ جو کسی طور علمی کتاب گھر نہیں کہلا سکتیں۔
علم ایسی کونپل ہے جو  پیوند کاری سے نو خیز پودوں میں اپنی صورت پروان چڑھتا ہے۔ تعلیم دی جاتی ہے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ علم چرایا نہیں جاتا تو بیچا بھی نہیں جا سکتا۔جو بیچی جاتی ہے وہ تعلیم ہے۔مول تول کرنے والا سودا گر ہوا کرتا
ہے۔جو علم صرف پڑھنے سے مل جائے اسے سمجھنے کے لئے صرف پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Mar 29, 2014

چراغِ شب بجھا دو

ایمان کا تقاضا کیا ہے ؟ رضا کا مقام کیا ہے؟ ثواب کی جزا کیا ہے؟ گناہ کی سزا کیا ہے؟ صبر کی انتہا کیا ہے؟ مشکل کی انتہا کیا ہے؟ پریشانی کا حل کیا ہے؟ جستجو کا انجام کیا ہے؟ مدد کی طلب کیا ہے؟ اور حاصل کا وجود کیا ہے؟
ان میں سے کچھ لازم ہیں باقی ملزوم ہیں ۔لیکن شائبہ کی گنجائش نہیں۔شک کا احتمال نہیں۔شکوہ کی اجازت نہیں۔خواہشیں آرزؤئیں لاکھ انگڑائیاں لے لے بستر مرگ پہ سلوٹوں سے تابندگی کی نوید اُمنگ جگاتی رہیں۔مگر زندگی کی ناؤ  تا دم ازل و آخر حیات و ممات کے سمندر میں موجزن ململی لہروں پر رقصاں رہتی ہے۔
نا اُمیدی اتھاہ گہرائیوں کے اندھیرے سناٹے میں چیخنے چلانے کے بے ہنگم ہنگامے پر شادمانی  میں جھومتی رقصاں رہتی ہے۔ یہیں سے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب ضروری ہو جاتا ہے۔ ڈوب جاؤ یا پار لگ جاؤ۔ اُڑتے رہو یا گر جاؤ۔توکل اختیار کرو یا تحمل برد باری چھوڑ دو۔ رضا کو پا لو یا خواہشیں چھوڑ دو۔روشنی کے لئے چراغ میں تیل ڈالتے رہو یا کرنیں بکھیرتی صبح کے انتظار میں چراغ شب بجھا دو۔ مایوسی کا خوفناک عفریت ایسا سراب چاہت بناتا ہے کہ چشم َ عقل اندھے کی لاٹھی کی مثل ٹھک ٹھک راستہ تلاش کرتی ہے۔ منزل جتنی دور ہو گی راستے اتنے آسان ہوں گے۔ منزل جتنی قریب ہو گی راستہ اتنا ہی مشکل۔
شاہی تخت یا تختہ کی ترکیب پر ہوتی ہے۔زندگی میں اور تو کی ترکیب پر۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو سراسر پورے تول کی غمازی کرتی ہے۔ جتنا دیا اس سے کم پر سمجھوتہ نہیں کرنا۔ زندگی پانی ہے تو موت دے دو۔ بھوک مٹانی ہے تو دوسرے سے چھین لو۔طاقتور بننا ہے تو  مد مقابل کو کمزور بنا دو۔
 ناخنوں کی تراش کے دوران ایک ہلکی لائن کے پیچھے زندگی اور اگے موت پاتا ہوں۔ بند آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں کان سوتے میں سننے سے ۔سانس اور دھڑکن  کی حد خاموشی کے اس پار ہے۔ اس کے لئے ایک وقت کا انتظار ہے۔ ایک کمزور بال کھینچنے کی معمولی تکلیف پر پورا وجود یکسوئی سے اس مقام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔زبان بہت گرم اور نہایت ٹھنڈے کے درمیان ہی عافیت سے رہتی ہے۔بدن جاڑے میں لحاف اور  گرمی میں ہوا سے تسکین پاتا ہے۔خوشبو آنکھوں میں نشہ بھر دیتی ہے ۔ بد بو پورے وجود کو کچوکے لگاتا ہے۔
پھر یہ نفس ہی ایمان کا امتحان کیوں ہے۔دراصل دنیا امتحان گاہ ہے جس میں پرچہ ایمان کا ہے حل نفس کو کرنا ہے۔ سوالات کے آؤٹ آف سلیبس جوابات سے صفر ہی حاصل ہو گا۔ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہو گی اصل کیا جعلی کیا۔ مگر نقل محنت سے جیت نہیں سکتی۔پاس کا رتبہ اور ہے فیل کا مقام اور۔ نہ تو دنیا گیلری ہے اور نہ ہی دنیا دار آرٹ کے نمونے۔ جیسے کہ میٹروپولیٹن میوزیم نیو یارک میں رکھے یونانیوں کے عہد قدیم کے ننگ دھڑنگ دیو قامت مجسمے۔
جیتے جاگتے انسان جو ناخنوں سے مردہ حصے باقائدگی سے الگ کرتے ہیں۔ روح کی زندگی یعنی ایمان  کی تراش سے کسی بھی تکلیف کے احساس سے محروم کیسے رہتے ہیں۔لالچ وغرض کے کفن میں لپیٹ کر زندہ درگور کر دیتے ہیں خواہشوں آرزؤں کی مالاؤں  سے یاد کے دئیے روشن رکھتے ہیں۔یہ ایسا قبرستان ہے جہاں ایک کے بعد ایک زندہ حصے دفن کرنے چلا آتا ہے۔مردہ حصے چمکتے دمکتے گھروندوں میں سجانے میں مشغول ہے۔
 
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Feb 14, 2014

مکالمہ


’’          آپ جیسے انسان کو آج کے دور میں کس نام سے پکارا جاتا ہے  ؟َ
:::  جی ! پاگل کہتے ہیں۔
’’       بالکل! پھر آپ عقل کی بات کیوں نہیں کرتے؟ 
:::  عقل والوں کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ تسلیم تو تبھی کیا جائے گا جب اس کی سمجھ آئے گی۔
’’       بھلا یہ بھی کوئی کام ہے ۔ صرف اس بات کو اپنے ذہن میں رکھیں کہ اس دنیا میں کامیابی کے لئے سچے اور کھرے پن سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔
:::  لیکن ایسی ہمت کہاں سے لاؤں جو اپنی کامیابی کے لئے دوسروں کو دھوکہ کی سولی پر قربان کر دیا جائے۔اس کے بدلے میں جو حاصل ہو وہ کاغذ کے چند لاکھ ٹکڑے ہوں گے جن سے سہولتیں ، آسائشیں تو خریدی جا سکتی ہیں۔ مگر کھلی آنکھ کا آرام اور گہری نیند کا سکون  نہیں۔اگرلوگ اس فلسفہ پر زندگی استوار کر لیں تو معاشرتی برتری کے تمام بت چکنا چور ہو جائیں گے۔
’’       باتیں سننے میں اچھی ہیں نصیحت کے لئے کارآمد ہیں طالبعلموں کو کلاس روم میں کتابوں کے ساتھ سنانے میں سویٹ ڈش کے طور پر کام دے سکتی ہیں۔مگر حقیقی زندگی میں ان پر عمل پیرا  رہ کر معاشی اور معاشرتی میدان میں  گولڈ میڈل نہیں جیتا جا سکتا۔
:::  لیکن اس بات کا ہار جیت سے کیا واسطہ؟ اگر موبائل فون کا نیا ماڈل ستر ہزار میں خریدنا درکار نہیں ،لینڈ کروزر میں بیٹھنے کی بے تابی نہیں،بیش قیمت محل دیکھ کر بھی جھونپڑی گرانے کی کوئی جلدی نہیں تو پھر زندگی کے بقایا ایام میں ایمان کی فروخت کا بورڈ آویزاں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حاصل اتنا کم ہے کہ جس کے لئے بیش بہا خزانے لٹانے پڑیں گے۔ایمانداری ، اعتبار کے انمول موتی جنہیں چنتے چنتے زندگی بیت گئی۔سودا بہت مہنگا ہے۔سب سے بڑھ کر جنہیں جسم و جاں  سے مالک و مختار مانتے ہیں۔عہدو پیماں کا جن سے بندھن ہے اسے اچانک کیسے توڑ دیں۔اس کے لئے ایک عمر چاہیے ہو گی ۔  زندگی جینے میں تو بہت آگے ہیں مگر رہنے میں بہت پیچھے ۔
’’         باتیں یہی سب اچھی ہیں۔ حقیقت سے جدا نہیں۔ اگر اختیار فائدہ پہنچا رہا ہو تو فرض کی گنجائش نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ایک  ہجوم سا ہجوم ہے جس میں آگے بڑھنا ہی مجبوری ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنا بھی پاؤں تلے روندنے کا سبب ہو سکتا ہے۔مسئلہ پیچھے رہنے کا نہیں، ساتھ چلنے کا ہے۔ہوا کا رخ دیکھا جاتا ہے۔ بلندئ پرواز نہیں ۔ کون کہاں ہے یہ جاننا بہتر ہے ، نہ کہ وہ وہاں کیسے ہے۔
:::  آج زمانے کی چال مختلف ہے۔دور جدید ہے۔ایک انگلی کی پور سے کمپیوٹر ایک لفظ سے ایک دنیا کھول کر رکھ دیتا ہے۔لیکن سائنس ابھی تک ذہنی استعداد بڑھانے کے لئے ایک خاطر خواہ کام سر انجام نہ دے سکی جو کروڑوں میل کی مسافتیں ایک لحظہ میں آر پار کر سکیں۔ گھمسان کا رن تو بس اسی ایک زمین پر برپا ہے۔اسی کو کھود رہے ہیں اسی کو کھوج رہے ہیں۔دھاتیں ہوں پتھر یا تیل ۔ اسی کے ہونے یا نہ ہونے کے اسباب ہیں۔جو جتنا مال و متاع کا مالک اتنا ہی  لوگوں میں زیادہ پزیرائی کا حقدار ۔انسان  ایک پھول کی  مانندقسمت لے کر پیدا ہوا ہے جو کھلتا ہے خوشبو دیتا ہے پھر دھیرے دھیرے فنا ہو جاتا ہے۔ مگر حالات اسے کانٹا بننے پر اکساتے ہیں جو ایک زندگی تاحیات پانے کی جستجو کرتا ہے۔ بے فائدہ بے مقصد  جستجوء لا حاصل۔
’’          کبھی اپنے ارد گرد نظر تو ڈالو کتنے لوگ ملتے ہیں  جو پھول رہنا پسند کرتے ہیں مگر کانٹوں کے روپ میں۔پانا چاہتے ہیں دینا انہیں بھاری ہے۔حق جتاتے ہیں حق نبھاتے نہیں۔زندہ رہنے  سے انہیں سروکار ہے۔زندگی پانے سے نہیں۔جیسے طالب علم کو پڑھائی سے زیادہ  امتحانات میں حاصل کردہ نمبروںسے۔ملازمت میں کام سے زیادہ اجرت سے۔فائدے کے لئے ہر نقصان کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔پھر کیوں نہیں مان لیتے کہ حاصل وہی ہے جس کی تمنا سب سے زیادہ لوگ کرتے ہیں۔
:::   لوگوں کی بات مجھ سے نہیں کرو ۔ ترقی کی رفتار بڑھنے سے بہت پہلے بھی یہ سچ کو جھٹلاتے رہے ہیں ۔ پیغام انسانیت کو بھلاتے رہے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلاتے رہے ہیں۔حق کو کمزور جان کر باطل سے ہاتھ ملاتے رہے ہیں۔اہرام مصر سے تاج محل تک اپنی طاقت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مگر دنیا میں چھوڑے ان کے پتھر آج بھی سامان عبرت ہیں۔چاہے وہ کوہ نور ہیرا ہی کیوں نہ ہو۔آج حق بات کہنے کی ضرورت شائد زیادہ ہے۔باطل اور جھوٹ  ایسا بے ثمر درخت ہے جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔جڑیں زمین میں ہونے کے باوجود زمین والوں سے بہت دور رہتا ہے۔ گوگل سرچ باطل‘ کے تینتیس لاکھ اسی ہزار رزلٹ دکھاتا ہے۔اور ’حق‘ کے تین کروڑ بیالس لاکھ ۔  حق لفظ ہی باطل پر کئی گناہ بھاری ہے۔ کیسے ثابت کرو گے کہ حق پر رہنے والے کم پڑ رہے ہیں۔ حق لکھنے والے اور کہنے والے آج بھی باطل پر بھاری ہیں۔جو راستہ بھٹک گئے ہیں وہ بھٹکے ہوئے نہیں ہیں ۔ اہرام مصر اور تاج محل نے انہیں محبت سنگ  کی لازوال کہانی سنائی ہے۔ جو ادھوری ہے نا مکمل بھی ہے۔کیونکہ خلق خالق کی محبت بنا ادھورا ہے۔خالق حقیقت بھی ہے اور اختیار بھی۔راہ  بھی وہی ہے چاہ بھی وہی۔

محمودالحق
در دستک >>

Feb 8, 2014

میرا گھر میری جنت


باتیں بنانے کے لئے قصے کہانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔گفتگو کے لئے موضوعات کی۔بحث کے لئے ہٹ دھرمی کی۔جہاں علم صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے جس کے بارے میں بابا بلہے شاہ نے کہا علموں بس کری او یار۔سخت گرمی میں کالی گھٹائیں برس کر لُو بھری ہواؤں کو ٹھنڈی نہ بنائیں تو سورج اور زمین کے درمیان پھر بادلوں کی کالی چادر کا کیا  کام۔زمین اور آسمان کے درمیان علم کی چادر پھیلےتو ایمان کی ٹھنڈک سے کہلائے مسلمان۔رزق رازق کا اختیار ہےخواہش طلب کی مددگار ہے۔صبر قناعت سے شکر عاجزی سےہم رکاب ہے۔چیونٹی کا تو نظام ہی اس کا جہان ہے۔
جو پوشیدہ ہے وہ مکمل بھی ہے چاہے ایٹم کا زرہ ہو یا گردش کائنات۔جو ظاہر روٹھ جائے تو منانے کی  کوشش ہوتی بار بار ہے۔جیت جائے تو شفاء ہار جائے تو قضاء ۔حاصل بے نتیجہ تو ہو سکتاہے مگر مقصد نہیں۔ کوشش رائیگاں  نہیں جاتی وقت گزر جاتا ہے۔محبت کم نہیں ہوتی نظر محبوب سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہے۔چہرے کے تاثرات خوشی اور غم کے علاوہ حیرانگی کے تاثر سے بھرپور ہوتے ہیں۔زبان میٹھے اور نمکین کے علاوہ کھٹے اور کڑوے ذائقے  کے سگنل  دماغ کے خلیوں تک پیغام رسانی کا  کام سرانجام دیتی ہے۔کان  جنہیں سننا پسند کرتے ہیں وہ دماغ کے نہاں خانوں میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔
ہم  میں سے کتنے ہوں گے جو اس حقیقت حال سے واقف ہیں کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔نیکی کا خیال  کریں تو  وسوسہ عود کر آتا ہے۔سچی بات کہنے کا ارادہ ہو تو وہم ڈر کی صورت اندیشوں سے خوفزدہ کرتا ہے۔ماضی بیشتر اوقات افسوس میں مبتلا رکھتا ہے، مستقبل خوف سے نجات پانے نہیں دیتا۔ حال وہم و وسوسہ سے محتاط رہنے کی تلقین میں گزرتا رہتا ہے۔
ایک دروازہ ،ایک کھڑکی اور ایک روشندان کےذکر سے ایک کمرہ کا تصور نظرمیں گھوم جاتا ہے۔ چار دیواری  میں گھرے صحن سے وہی کمرہ گھر  یا مکان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔باسیوں کے قہقہوں کی جھنکار سے مکین محبت  کے نام لیوا  ہو جاتے ہیں۔  وہاں سے گزرتے کانوں میں رس گھلتا ہے۔کہیں شور وغوغا اُٹھنے سے نفرت کے نشان چھوڑجاتے ہیں۔ جہاں سے گزرتے کان پک جاتے ہیں۔ ہر عمل کا ردِ عمل  ضرور ہوتا ہے کہیں زبان سے کہیں بیان سے کہیں خاموشی سے کہیں فراموشی سے کہیں محبت سے کہیں نفرت سےکہیں اقراری سے کہیں بیزاری سے۔ دھوپ ہوتی ہے تو چھاؤں نہیں رہتی، چھاؤں آتی ہے تو دھوپ نہیں رہتی۔شب کی چاندنی ہو یا  دن کی روشنی  ایک وقت میں صرف ایک ہی رہے گا۔
نیکی کرنا  دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔برائی میں بڑائی نہیں۔سچ دنیا میں اکڑ کر رہتا ہے۔جھوٹ کے پاؤں نہیں آج یہاں تو کل وہاں۔ کبھی ایک در پہ تو کبھی در بدر ۔فیصلہ کا وقت آنے سے پہلےخود میں فیصلہ ضروری ہے کہ اس پار یا  ہمیں رہنا اُس پار ہے۔ایک رکھنا ایک چھوڑ دینا ہے۔جس سے دنیا ملے اسے رکھنا مقام قضاء تک رہے۔ جو دنیا سے د ور جاکر ملے اسے اپنانا مقام زمان تک رہے۔گھر میں کیا کیا ڈالیں گھر سے کیا کیا نکالیں۔جو بیکار ہیں رکھنا جو شرمسار کرے ہو سکے تو اسے چلتا کرو۔زندگی کو اپنے صرف یکتا کرو۔مکان ایک ہے تو مکین بھی ایک کرو۔ کام گر نیک ہے تو انجام بھی نیک کرو۔حاصل اگرلطیف ہے تو  کوشش  سے قریب کرو۔ کل تک جو بولا سچ میں جب اسے تولو ،ہو سکے تو آج اس سے جان چھڑا لو ۔کیونکہ گھر تو جنت ہے باغ و بہار میں رہنا وہاں ایک نعمت ہے۔حقیقت سے چشم پوشی  میں بدن سزاوار ہےتودھوکہ کی آگاہی میں باطن دلدار ہے۔ ہر صبح نئے دن کا آغاز  سچے کلام سے کریں۔ سچی بات سننے میں ہو یا نہ ہو مگر کہنے میں ضرور ہو۔خواہشوں  آرزؤں کی آلائشوں سے پاک گھر میں رہنا مکین کا حق ہے۔کیا ہم اُس کا حق اسے ادا کر رہے ہیں۔اگر نہیں تو مکاں کی ضرورتیں محدود کر کے مکیں کو لا محدود وسعتوں سے روشناس کر سکتے ہیں۔

تحریر: محمودالحق
در دستک >>

Feb 2, 2014

درد کی دوا کیا ہے

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کاغذ قلم لے کر بیٹھا تو سوچ کے تمام دروازے ایک ایک کر کے جھٹ پٹ بند ہوتے چلے گئے۔ لیکن مجھے ہمیشہ لڑنے کی عادت نے لکھنے کی ضد پر قائم رکھا۔ علی الصبح سکول جانے والے بچے اور دفتر جانے والے افسر و بابو اپنی مرضی کے مالک نہیں ہوتے جو وقت کی پابندی کو قانون کی پابندی کی طرح توڑنے پر قادر ہوں۔ کہیں نہ کہیں ہم اپنی مجبوری کے ہاتھوں بلیک میل ضرور ہوتے ہیں۔ ایسی مجبوری جو آرزو کے کھیت سے نشونما پا کر پک کر کٹنے سے پہلے آندھیوں کے ہاتھوں دور دور بکھر کر اپنے مالک کا منہ چڑاتی ہیں۔ جو اسے قسمت کا کھیل سمجھ کر ہاتھ ملتا ہے اور پھر ایک نئی ہمت سے ہاتھوں کو نئی فصل سے مصافحہ کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ ہاتھ اُٹھا کر نئی فصل کے لئے پہلی دعا سے ہی کام چلانے پر کمر بستہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ : اللہ مددگار ہے اور وہ بہتر مددگار ہے: اسی سے مانگنے اور اسی کے  سامنے جھکنے سے ہی تمام ارادوں کی تکمیل ممکن ہو پائے گی۔اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ چاہت رکھتا ہے اور بندہ ایک ماں کی خدمت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا۔
اس بار میرا  وطن واپس آنا دو سال بعد ہوا تھا ۔ ایک دو دن بعد مجھے احساس ہوا کہ زیادہ تعداد میں وہ بوڑھے ہو چکے تھے ۔ خوبصورتی اور حسن کے جن کے چرچے تھے وہ ماند پڑ چکے تھے یا وہ جا چکے تھے۔اٹھکھیلیاں کرتے بچے مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ آخر تعداد نہ بڑھنے کے کیا محرکات تھے جو مجھ سے چھپائے جا رہے تھے۔ان سب پر ایک اُچٹکتی نگاہ ڈالتا  اور بے پرواہی سے بھول جاتا کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی رشتہ بھی ہے۔میں شائد اتنے سال ان سے دور رہ کر آئی ڈوناٹ کئیر  کی گردان سنتے سنتے کانوں کی حد تک بہرہ ہو چکا تھا۔ لیکن حقیقت حق تو اپنے سحر سے جدا ہونے نہیں دیتی تھی۔
کرسیاں ایک مخصوص انداز میں روزانہ میرے ارد گرد سجا دی جاتی ۔ایک کرسی پر براجمان ہو جاتا جہاں سے آسمان اور زمین  کا ملن مجھے صاف دکھائی دیتا۔   زندگی کے طویل معمولات میں یہ شامل تھا کہ سورج میرے سر کے بالکل اوپر سے گزر کر سامنے غروب ہوتا تو دن لمبے راتیں چھوٹی اور دھوپ کی شدت ہوتی۔ لیکن جب  سورج میرے سامنے دن بدن  بائیں طرف  جھکتا جھکتا غروب ہوتا تو دن چھوٹے اور راتیں  بڑی ہوتی اور دھوپ سے لذت ملتی۔
اس روز دھوپ شدت کی تھی ایک کے علاوہ تمام کرسیاں خالی تھیں ۔نہ جانے اسے کیا سوجھی میرے ساتھ والی کرسی پر وہ آ بیٹھا۔ وہ کبھی بھی میرے برابر نہیں بیٹھا تھا۔ لیکن آج اسے  کیا ہوا کہ میری بغل والی کرسی پر بیٹھا دائیں پاؤں کو دو تین بار اُٹھا کر نیچے رکھ دیا۔ پھر بڑی بے اعتنائی سے کرسی سے اُتر کر زمین پر جا بیٹھا۔ انہیں میرے سامنے زمین پر بیٹھنے کی عادت تھی۔میری خواہش تھی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھیں مگر وہ مجھ سے خوف کھاتے تھے شائد۔ ان کے خوف کو میں نے دور کرنے کی کوشش کم ہی کی تھی۔
میں نے اپنے خاص آدمی کو آواز دی۔
اختر ! دیکھو اسے جو ابھی میرے پاس سے زمین پر جا بیٹھا ہے ۔ کیا تکلیف ہے اسے جو اپنا  پاؤں مجھے دکھا کر چلتا بنا۔وہ میری بات سمجھ چکا تھا کہ معاملہ سنجیدہ ہے تبھی تو میں نے حقیقت جاننے کے لئے اسے بلایا ہے۔ پاؤں کو غور سے دیکھنے  کے بعد  اس نے کہا کہ پاؤں سوجا ہوا ہے ۔ تکلیف سے زمین پر رکھنا مشکل ہو رہا ہے اسے۔میری اُلجھن دور ہو چکی تھی  کہ ان سب میں سے صرف اسے ہی میرے برابر بیٹھنے کی ہمت کس بات نے دی تھی۔ درد اور تکلیف نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ایسا کام کر جائے جو اس سے پہلے کبھی  اس کے بڑوں نے بھی نہ کیا ہو۔
لیکن مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس جگہ میں ہی اس کا مالک ہوں جو اس کے درد کا مداوا کر سکتا ہوں  تبھی تو اس نے مجھے  اپنا حال بیان کرنے  کے لئے اشارے سے کام لیا۔
میں  نے دوسری بار اختر کو سخت  زبان میں کہا کہ غور سے دیکھ کر بتاؤ اس کے پاؤں میں سوجن کیوں ہے۔کچھ دیر ادھر اُدھر سے دیکھ کر بولا کہ صاحب لگتا ہے کہ اس کے پاؤں میں ایک کالا دھاگہ بری طرح سے لپٹا ہوا ہے۔

میں معاملہ کی اصل تہہ تک پہنچ گیا ۔ دھاگے نے پاؤں کو اس بری طرح سے لپیٹا ہوا تھا کہ 
وہ بے زبان کبوتر مجھے درد کا حال بتانے کرسی پر چڑھ آیا تھا۔میں نے اختر کو ایک سو کبوتروں میں اسے پہچان رکھنے کو کہا کہ جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہو اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ ۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا وہ  اسی لمحے اُڑ کر کمرے کے اندر جا بیٹھا۔ اختر اسے وہاں سے پکڑ کر میرے پاس لے آیا۔ میں نے پہلے اسے پیار سے تھپتھپایا پھر آہستہ آہستہ پاؤں میں لپٹے کالے دھاگے کو الگ کر دیا اور اس کے پاؤں کو ہولے ہولے مساج کیا ۔جب وہ میرے ہاتھ سے اُڑ کر زمین پر بیٹھا تو پاؤں زمین پر رکھنے میں مشکل کا شکار نہیں تھا۔ انسانوں سے  رغبت اور دلگیری کی عادت نے مجھے ایک پرندے کی نظر میں معتبر کر دیا۔ اس نے مجھے اس قابل جانا کہ میں اس کے درد کی دوا  بن گیا۔
در دستک >>

Dec 16, 2013

انشااللہ

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب تک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی چاہ شامل نہ ہو جائے۔ تاریخ شاہد ہے مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔ اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہو اگر ان کا اللہ چاہے تو۔
تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زد عام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی اصل طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہے۔ باطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نئے نئے انداز ترنم آبشار کی لگنِ دھن رکھتے ہیں۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں۔ تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع و تفریق کے فارمولہ کے تحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہر بالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔
انسانی معاشرے میں بے حسی ، بے مروتی، خیر و شر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا ، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھلنے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والےعہد و پیمان کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے، ایثار کرنے والے دوسروں کی نظر میں ہمیشہ سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں  جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ منزل تک جلد پہنچنے کا ارادہ کرنے والے اور کسی مجبوری سے بیچ راستے سے ہی واپس پلٹ کر سفر پر نہ جانے والے اسی جہاز یا گاڑی کے حادثہ کے شکار ہونے کی روح فرسا خبر کو ایک بدقسمتی اور دوسرے خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔
تیز ہواؤں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت۔ یہ ایک خودکار سسٹم ہے جس کے وہ تابع ہیں۔ پانی ،روشی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والے پتے ٹہنیوں و تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتے رہیں گے ۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائیگا۔
روشنی پانی  ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ،  روشنی  پانی  ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جب کہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔ عظیم وہ ہے جو عظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسنِ اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور امانت داری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائے شرافت و دیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کا مینار کوئی کوئی تھا۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذیبی و ترتیبی معاشروں میں حسنِ اخلاق و اخلاص کی کیاریاں پھولوں کو سینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ  اور بے ترتیب ہوتے ہیں جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں ، پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاجِ کثیر سے روح کو تسکین پہنچاتے ہیں۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 29, 2013

السلام علیکم

میڈیکل سٹور کا دروازہ کھولتے ہی کام کرنے والے تمام افراد پر ایک سرسری نظر ڈال کر میں نے بلند آواز سے السلام علیکم کہا اور سیدھا کاؤنٹر پر جا پہنچا۔ جہاں ایک با ریش نوجوان کمپیوٹر پر نگاہیں جمائے کھڑا تھا۔کچھ دیر اس کا چہرہ تکتارہا۔اس نے سر اُٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی اور نہ ہی سلام کا جواب دیا۔میں نے پلٹ کر دوسرے ملازمین سے توجہ طلب نگاہوں سے مدد چاہی تو ایک نے احسان عظیم کیا اور اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔میں آگے بڑھا اور اس غم گسار کے سامنے مایوسی کے گہرے سائے کو روندتے ہوئے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جو انتہائی لاپرواہی سے میرے  منہ سے کسی کڑوی دوائی کا نام سننے کے انتظار میں تھا۔لیکن آج میں ان کا جنرل نالج آزمانے گیا تھا۔تاکہ وہ میرے گھر کے قریب ترین ایسی جگہ  کا پتہ بتا دیں جہاں سے میں اپنی دس سالہ بیٹی کے دائیں ٹانگ پر چڑھائے گئے پلسترکی وجہ سے چلنے پھرنے کے لئے بیساکھی کا انتظام کر پاؤں۔
میرے لئے بیساکھی کا ٹھکانہ معلوم کرنے سے زیادہ یہ جاننا بہت ضروری ہو چکا تھاکہ میڈیکل سٹور میں موجود پانچ ملازمین میں سے کسی نے بھی میرے سلام کا جواب  کیوں نہیں دیا ۔ میں نے انتہائی لا پرواہی اور کسی قدر غصہ میں ان سب سے یہ سوال کیا کہ  جس ملک میں ہم رہتے ہیں کیا اسے  ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی کہا جاتا ہے اور یہاں بسنے والے مسلمان کہلاتے ہیں تو انہوں نے بیک زبان کہا کہ جی بالکل!
میں نے ان سے استفسار کیا کہ پھر انہیں میرے سلام کے جواب میں   وعلیکم السلام کہنے میں کیا عذر تھا۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ حالانکہ وہ السلام علیکم کا مطلب بخوبی جانتے تھے۔انہوں نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا۔ جو ان کے چہروں سے عیاں تھا۔انہوں نے منزل تک پہنچنے کی میری رہنمائی کی۔ ان کا شکریہ ادا کر کے میں نئی منزل کی طرف گامزن تھا۔ مجھے رہ رہ کر امریکہ میں گزارے صبح دوپہر شام اور رات میں کہےجانے والے کلمات یاد آنے لگے۔ گڈ مارننگ کے جواب میں گڈ مارننگ ، گڈ ایوننگ کے جواب میں گڈ ایوننگ، ہیو اے نائس ڈے کے جواب میں یو ٹو،تھینک یو کے جواب میں یو آر ویلکم ضرور کہا جاتا تھا۔اگر کسی سے پوچھیں آپ کیسے ہیں جواب میں اچھا کہہ کر آپ کا احوال ضرور پوچھتا۔مگر مجھے اپنوں سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ وہ سلام کا جواب دینے میں تامل کرتے ہیں۔ حال احوال پوچھنے پر اجنبی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فون کی گھنٹی بجنے پر ہیلو سے جواب دیا جاتا ہے۔ فون کرنے والا بھی ہیلو سے اپنا تعارف کراتا ہے۔ 
ہر واقف و ناواقف مسلمان کو سلام کہنا سنت ہے۔سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن میں ہے سورۃ النساء آیت نمبر 86 میں یوں آیا ہے:
اور جب تمھیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو۔
سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا، عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا، کسی عیب یا آفت سے نجات پانا۔ سلام اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالٰی کے صفاتی ناموں میں سے بھی ہے ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد دو یا دو سے زیادہ مسلمانوں کی آپس میں ملاقات کے وقت کی دعا یعنی السلام علیکم کہنا ہے۔ جواب کے لیے وعلیکم السلام کے الفاظ ہیں۔
ہمارے بزرگ بات کرنے کا سلیقہ اور بڑے بزگوں کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ سکھاتے تھے۔ جسے جدید دنیا کے والدین نے نئے انداز سے بدل دیا ہے۔بچوں کو سبق یاد کروائے جاتے ہیں مگر آداب نہیں سکھلائے جاتے۔ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔اپنے ارد گرد نظر نہیں رکھتا۔معاشرے میں اجنبیت کا رحجان فروغ پا رہا ہے۔اگر یقین نہیں آتا تو  میری طرح اپنے گھر ، علاقہ سے    چھ آٹھ سال کے لئے دور رہ کر واپس لوٹیں گے تو احساس ہو گا کہ کہیں نہ کہیں ہم سے کچھ چھوٹ رہا ہے جیسے بلندی سے گرتے ہوئے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے چھوٹنے کے لئے پھسلتا ہے۔
ہم اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کے نظریات کو غلط ثابت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔آخر کہیں تو کچھ ایسا ہو رہا جو تبدیلی کے مراحل خاموشی سے طے کر رہا ہے۔جس گاڑی کی بریک نہ ہو اس کے لئے انتہائی سپیڈ اور موٹر وے جیسی سڑک بھی بلا ضرورت ہے۔جس انسان میں اپنی خواہشوں کو روکنے کی حد نہ ہو اس کے لئے کامیابی شتر بے مہار کی مانند ہے۔ جیسے ڈھلوان کی بلندی سے  قلابازیاں کھا کر نیچے تک پہنچا جائے۔
دوسروں کی خوشیوں میں ماشااللہ کہہ کر شامل ہوا جاسکتا ہے۔انشااللہ کہہ کر خود آگے بڑھا جاسکتا ہے۔جزاک اللہ کہہ کر دوسروں میں ہمت و حوصلہ بڑھایا جاسکتا ہے۔اچھے وقت کا صبر سے انتظار کیا جاسکتا ہے۔سورۃ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے ۔اے ایمان والو ! تم صبر اور نماز سے مدد مانگو۔بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
کینہ، حسد، لالچ سے بچ گئے تو محبت،قربت،شکر کے پھل سے فیضیاب ہوں گے۔نفرت، حقارت،گھمنڈ،ضد،غرور سے چھٹکارا مل گیا توقرب،اپنائیت،عجز و انکساری سے دامن بھرتے جائیں گے۔
سورج کو مشرق سے طلوع ہوتے روز دیکھتے ہیں۔خود کو مشرق میں غروب ہونے کا منظر آنکھوں میں سجاؤ تو گردش زمین آشکار ہوتی ہے۔جیسےپھل پر چھری چلا کراوپر سے نیچےتہہ تک کاٹتے ہیں ایسے ہی تہہ سے اوپر تک پھل کے مکمل ہونے کو نظروں میں بساؤ توقدرت اپنی طاقت کا لوہا منوانے پر اُتر آئے گی۔
ظاہر کی نفی سے باطن کی آگہی زمین سے تعلق اور قطع تعلق کے درمیانی فاصلوں کو بڑھاتی جائے گی۔قربت کے فاصلے عشق و محبت سے سمٹتے جائیں گے۔
وجود اپنے نہ ہونے اور عدم اپنے ہونے سے قیاس و حقیقت کے رشتے کو بندش و آزادی کے جہان اُلفت میں دیوانگی و جنون سے ایک کو گھٹاتا تو دوسرے کو بڑھاتا جائے گا۔
لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب  دوسرے سے اختلاف سے پہلے خود کے تضاد کو عمل کی کسوٹی پر پرکھ کر یک اتفاقی  میں پرویا جائے  تو نا اتفاقی کی گانٹھیں خود بخود ڈھیلی ہونا شروع ہو جائیں گی۔
 جو اپنی ذات کو منوا لیتے ہیں وہ اپنی بات بھی منوا لیتے ہیں۔جو اپنی بات منوانے میں عمر گنوادیتے ہیں وہ اپنی ذات بھی گنوا لیتے ہیں۔
جو پانے کے لئے مضطرب رہتے ہیں وہ کھونے پہ بےچین ہو جاتے ہیں۔
 جن کا حاصل ان کا مقصود نہ ہو، ان کا مقصد لا حاصل رہتا ہے۔
جو   برترسے حسد کرتا ہے وہ  کم تر سے تکبر کرتاہے۔
جو خالق سے محبت کرتا ہے وہ مخلوق سے نفرت نہیں  کر تا۔
سچ کو ماننے والا سچ کو جاننے والا ہے۔
جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے وہ معاف کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔
جسے اختیار کا یقین ہے اسے بے اختیاری کی پرواہ نہیں۔
جسے ملنے کا یقین نہیں اس میں پانے کی شدتِ خواہش نہیں۔
قرآن سے جس کا لگاؤ نہیں اللہ کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں۔

تحریر!   محمودالحق


در دستک >>

Apr 28, 2013

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

قانون ساز ادارے عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے قانون سازی کے بل پیش کرتے ہیں۔جنہیں باری باری دونوں ایوانوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جہاں بحث و تمحیص کے بعد دو تہائی اکثریت سے منظوری کی آزمائش سے گزرنا ہوتاہے۔ اخبارات الگ سے ان  کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے پر مناظرے کراتے ہیں۔جہاں علم و دانش رکھنے والے اپنی اپنی عقل کے مطابق اس کے حق یا مخالفت میں رائے زنی کرتے ہیں۔۱۹۷۳ کے آئین پاکستان میں کی گئی  ترامیم کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ۔ یہ عوام کی بگڑتی معاشی و اقتصادی اور معاشرتی و سماجی  صورتحال سے عیاں ہے۔قانون ساز ادارے حکومتی اختیارات میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی  سے بغلیں بجاتے رہے۔مگر عوام بچوں کی طرح منہ میں خالی چوسنی لئے دودھ بھرے فیڈر کے انتظار میں کبھی ایک کا منہ دیکھتے تو کبھی دوسرے کا۔آخر میں لالی پوپ ہی سے گزارا کرنے کی عادت نے انہیں صبر و شکر کی بجائے برداشت کرنے کا خوگر بنا دیا۔جس کی زندہ جاوید اور تازہ مثال ماضی قریب کی پارلیمنٹ کے اجلت میں پاس کئے گئے قوانین کی مثال ہیں۔جس میں سرفہرست  سپیکر صاحبہ کا اپنے لئے حاصل کی گئی تاحیات مراعات ہیں جو عوام کے خون پسینہ سے کمائی گئی کمائی سے ہمیشہ ادا کی جاتی رہیں گی۔۷۷ کروڑ کے قرضہ  کی معافی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔اپنے ہاتھوں سے اپنی دولت لٹانے والی ایسی زندہ دل قوم شائد کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں۔ جس نے لوٹنے والوں کو بار بار دعوت یلغار دی ہو۔
کابل کے حکمران ظہیرالدین بابر نے ۱۵۲۶ میں جب ابراہیم لودھی کو شکست دی تو ہندوستان کے خزانے سے کابل کے ہر فرد کو ایک ایک اشرفی  بانٹی گئی تھی۔ مگر آج کا حکمران کتنا خودغرض ہے کہ وہ لوٹے گئے مال سے ایک روپیہ بانٹنا بھی گناہ سمجھتا ہےیا وہ پاکستان کے عوام کو کابل کے عوام سے زیادہ خوددار جانتا ہے کہ وہ ورلڈ بینک سے خیرات تو لے لیں گے مگرلوٹے ہوئے مال کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہیں۔اسی لئے وہ لوٹا ہوا ایک ایک روپیہ بحفاظت اپنے کاروبار اور وارثوں میں بانٹ دیتے ہیں۔جن پر قوم بری نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتی۔
سیاسی ہمدردوں کی دل آزاری میرا مقصود نہیں بلکہ الیکشن کی آمد آمد ہے تو ایک مضمون جو میری نظر سے گزرا  اس کے چند اقتباس سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ 
یہ  ۸ نومبر ۱۸۶۴ کے امریکی انتخابات میں ابرہام لنکن کی کامیابی کا  احوال ہے ۔ جب سیاسی پنڈتوں نے لنکن کی شکست پر مہر ثبت کر دی تھی۔ انتخابات میں حیران کن کامیابی کے بعد صدر لنکن نے ایوان نمائندگان سے 13ویں ترمیم منظور کرانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔امریکہ کی تاریخ کا سنگین ترین بحران مسئلہ غلامی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اب وہ اپنے تمام تر سیاسی تدبر اور تجربے سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ایوان نمائندگان میں ترمیم منظور کرانا بڑا مشکل تھا کیونکہ حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ تھی۔ صدر لنکن نے بڑی عرق ریزی سے اپنی حکمت عملی تیار کی کیونکہ وہ غلامی کے بل کو پالیمنٹ سے منظور کروا کر ملک کو  ریاستوں کی باہمی جنگ اور سول وار کا خاتمہ کر کے ملک ٹوٹنے سے بچا سکتے تھے۔ انہیں قدرت نے موقع فراہم کیا اور اس نے جیت کر امریکہ کی تاریخ کا  تیرویں ترمیم کا بل پاس کروا لیا جس میں غلامی کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔
ملک بچانے کے لئے اور خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے لنکن کے لئے تیرویں ترمیم کا بل پاس کرانا نہایت ضروری تھاجس کے لئے پہلے اسے مطلوبہ تعداد میں ریاستیں چاہیئے تھیں۔ ریاست نیودا کی یونین میں شمولیت سے آئینی طور پر ریاستوں کی وہ تعداد پوری ہوجاتی جو ترمیم کی منظوری کے لیے درکار تھی۔ جس کے تین ارکان سے اس نے رابطہ کیا ۔دو نے انٹرول ریونیو کلکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسرا نیویارک کسٹم ہاؤس میں تقرری چاہتا تھا۔ لنکن نے تینوں کی مانگیں پوری کرکے ان کی حمایت حاصل کرلی۔ جنوری ۱۸۶۵ میں انہیں مزید چودہ ووٹوں کی ضرورت تھی۔چنانچہ لنکن نے غلامی ختم کرنے کی خاطر اپنے ایک مخالف ریاست میسوری کے رکن کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا جو سو غلاموں کا مالک تھا۔ اور غلامی کا مخالف تھا۔ لنکن اس سے ملے اور  بتایا کہ اگر تیرہویں ترمیم منظور نہ ہوئی، تو امریکہ ٹوٹ جائے گا۔ اس نے جذبہ حب الوطنی کے باعث ترمیم کی حمایت کر دی۔ انھیں ترغیب دینے کی خاطر میسوری سے وفاقی جج کی نشست خالی رکھی گئی جو ترمیم کو ووٹ دیتے،انہی کی پسند کا (موزوں) جج تعینات کیا جاتا۔ 13ویں ترمیم منظور کرانے کے لیے صدر لنکن نے سیاسی عنایات و نوازشات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مخالف جماعت ڈیمو کریٹک رکن، موسز اوڈیل نے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا،تو لنکن نے اسے ریاست الینائے میں نیول ایجنٹ (سرکاری افسر) بنا دیا۔ ریاست کنکٹکی کا رکن، جارج یمین غلامی کا زبردست حامی تھا۔  لیکن وہ جب 13ویں ترمیم کا حمایتی بنا، اسے ڈنمارک میں امریکی سفیر بنا دیا گیا۔ یوں لنکن نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تیرویں ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے دو ووٹ زیادہ  حاصل کر کے منظور کروا لیا جو امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ تھا ۔ جس نے ابرہام لنکن  کو  ہیرو بنا دیا۔  اگلے دو ماہ میں امریکی خانہ جنگی  کا خاتمہ ہوا۔
 تفصیل دینے کا مقصد یہ تھا کہ لنکن نے بھی مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوازشات کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ان نواشات کا براہ راست تعلق مفاد عامہ اور ملکی دفاع تھا۔ ذاتی عناد ، مخالفت ، خودغرضی ، اقربا پروری کا شائبہ نہیں پایا جاتا وہاں۔ خلوص نیت سے کئے گئے تمام اقدامات عوامی تحسین و پزیرائی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے انہوں نے ملک بچانے کا ایک بہترین راستہ چنا۔ جس کی بدولت وہ آج بھی یونائیٹڈ ہیں۔ہمارا ملک روزانہ ایسی دھمکیوں سے گزرتا ہے کہ اب گئے کہ گئے۔مگر آزمائے ہوئے تمام  لیڈر ،حکمران تو کئی بار بنے مگر رہنما نہ بن سکے۔ جو ملک و قوم کو اس دلدل سے نکال سکتے۔ ملک ٹوٹنے کی تلوار آئے روز اخبارات کی شہ سرخیوں پر لٹکی رہتی ہے۔
اتنا لکھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ  تمام پارٹیاں اسمبلی میں بیٹھ کر ہر ایرے غیرے قانون کو بلا چوں چراں جو پاس کرتی ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام کی بھلائی سے نہیں ہوتا انہیں ایک نہ ایک دن تو سوجھ بوجھ رکھنے والے محب وطن اکثریتی عوام کے ووٹوں سے  واسطہ پڑے گا جو انہیں  چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے اور انہیں یہ سبق کبھی نہیں بھولنے دیں گے کہ پارلیمنٹ کا کام عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے قانون سازی کرنا ہے نہ کہ سپیکریا ارکان کی گھریلو ملازمین کی تنخواہوں اور گھریلو عیاشیوں کے لئے ہزاروں لٹر پٹرول کی فراہمی  کا بندوبست کرنا۔جہاں کبھی صدر بے اختیار کیا جاتا ہے تو کبھی وزیراعظم۔ اختیارات کبھی ایک محل میں ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے محل میں۔جہاں بلدیاتی نظام کبھی ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۶۲، ۶۳ پہلے آئین میں تھی اب اخباروں میں ہے۔پہلے کام چھ دن تھا بجلی سارا دن ، اب کام پانچ دن ہے تو بجلی آدھا دن سے بھی کم۔حالانکہ  دو اڈھائی دن سے زیادہ کام کی گنجائش نکلتی نہیں۔ ڈاکٹر اصلی ہیں تو دوائیاں جعلی۔اسمبلی اصلی تھی تو ممبر جعلی ڈگری والے۔کوئلوں میں دلالی ہے تو جہازوں آبدوزوں میں کمیشن۔ بھوکےغریب کے لئے لفظ رشوت  سےذلت ، امیر کے لئے تحفہ تحائف سے عزت۔
پاکستان کی سیاست میں جھوٹ چلتا ہے مگر ملک میں رہنما جھوٹا نہیں چل سکتا۔ کیونکہ ملک جھوٹے  وعدوں کی بیساکھی پر  زیادہ دیرنہیں کھڑا ہو سکتا۔
قیام پاکستان سے قبل قائداعظم کی تقریر پر ایک بوڑھا تالیاں بجا رہا تھا ، قریب کھڑے شخص نے اس سے پوچھا بابا جی آپ کو قائداعظم کی انگریزی تقریر کی سمجھ آتی ہے؟بوڑھے نے کہا نہیں! مجھے انگریزی نہیں آتی مگرمجھےیقین ہےکہ یہ شخص سچ بول رہا ہے۔ایسے ہوتے ہیں سچے لیڈر۔
سب سے پہلے ملک کے رہنماؤں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ان کے وعدے  پر صرف اتنا ہی کہوں گا۔
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
در دستک >>

Apr 26, 2013

فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا

گیارہ مئی کے انتظار میں عوام سانسیں روکے بیٹھی ہے۔ حساب کتاب لگائے جارہے ہیں پہلے شخصیت پھر پارٹی کو تولا جا رہا ہے ۔ کون ہو گا وہ خوش قسمت جس کے سر پر جیت کا ہما بیٹھے گا۔ جو اکیلا وزیراعظم ہو گا پارٹی اس کی وزیر مشیر ، خاندان کے لوگ بھی بہتی گنگا میں کشتی ڈالے ساتھ ہوں گے۔ مال مفت دل بے رحم کا نعرہٗ مستانہ ہو گا۔ الیکشن کسی سیاسی جماعت کے لئے امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ مگر کیا کہیئے اس امتحان کے ۔نہ قلم نہ کاغذ ۔ کاروائی صرف وائٹ پیپر۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں 
سکول میں ایک کلاس میں فیل اور کم از کم نمبر لے کر پاس ہونے والے  اگلی جماعت میں ڈاکٹر انجینیئر یا سی ایس پی  افسر بننے کا خواب نہیں دیکھتے۔ مگر سیاست نام ہی خواب دیکھنے کا ہے۔ ایسی پارٹیاں  جن کے کامیاب امیدوار ہر الیکشن میں چنگ چی میں پورے سما جائیں۔ 18 کروڑ عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کےبلند و بانگ دعوے کم از کم میرے جیسے تاریخ کے ایک کمزور طالبعلم کی سوچ سے بہت اونچے رہتے ہیں۔
کیا ایسا ممکن نہیں کہ قوم کا ایک فرد ہونے کے ناطے وطن کے لئے درد دل رکھ کر فیصلہ کریں کہ 65 سال میں جو کھویا اسے آئندہ پانچ سال میں حاصل کر لیں۔ مگر کیسے یہاں جیتنے کے لئے سر دھڑ  کی بازی ہے۔  ایک باری لینے پر بضد ہے تو دوسرا بار بار باری لینے کی دھمکی دیتا ہے۔ عوام 8 گھنٹے پنکھے کی ہوا لیتے ہیں سولہ گھنٹے کوسنے دیتے ہیں۔ جن کے گھروں میں جنریٹرز کھٹ کھٹ چلتے ہیں وہ ابھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے کہ ملک کے عوام کا کوئی جائز مسئلہ بھی ہے یا اس قوم کو خوامخواہ رونے پیٹنے کی وہی پرانی عادت  جو پچھلے 65 سال سے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔
الیکشن کے نتائج کئی لوگوں کے لئے اتنے اہم نہیں ہوں گے کیونکہ ان کےگھروں میں کوئی بھی بھوکا نہیں سوتا۔ کوئی بے روز گار نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے کی کوئی شکائت نہیں البتہ ذہانت کو الزام دیا جا سکتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نا گزیر ہو گیا تو ٹھنڈے ملک  جانے میں کوئی امر مانع نہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی گرم ہواؤں نے ہمیں کبھی جلایا نہیں۔ درجن بھر گلاس پانی جسم کے اندر اور بالٹی بھر پانی جسم کو باہر سے تمام بیماریوں سے پاک کرتا رہا۔ ٹھنڈے مشروبات الگ سے توانائی بحال رکھتے رہے۔
سیاست کی گرمی مئی کے مہینہ میں جوبن پر ہو گی۔ تجزیوں تبصروں سے شدت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر تسلی و تشفی اور راحت نہیں۔ قوم کو فیصلہ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے ملک کا وزیراعظم منتخب کرنا ہے یا ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے یا پھر وہی روائتی مخاصمت ، مخالفت جس کا پاکستان اور اس کے چاہنے والوں کو کبھی بھی فائدہ نہیں ہوا۔
اگر سابقہ حکومت ناکام ریاست کا وجود چھوڑ جائے تو اسے ٹھیک اور بحال کرنے کے لئے اگر امریکہ کے گورے ، سیاہ فام مسلمان کے سیاہ فام بیٹے کو اپنا صدر دوسری بار بھی چن سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں بلند مرتبی کا ٹھیکیداری نظام کیوں۔ جہاں سیاسی وراثتی سپوت اور سپوتری بندر بانٹ کے لئے تماشا کرتے ہیں۔
 ہمیں دوسروں کے نظریات یا پارٹی وابستگی جاننے کی بجائے نوشتہ دیوار پڑھنا چاہیئے کیونکہ  ہر پانچ سال بعد لاکھوں نوجوان بے روزگاری اور غربت کا ایندھن بنیں گے۔ جو جھوٹے وعدوں اور دلاسوں سے بہلائے نہیں جا سکیں گے۔ ایک شہر کی فوٹو دکھا دکھا کر ان پر احسان عظیم جتایا نہیں جا سکتا ۔ شخصیت پرست جماعتیں اور نظریات ہمیشہ غالب نہیں رہتیں۔ اکیسویں صدی کا نوجوان کئی صدیوں پہلے نازل فرمان پر تو آنکھیں بند کر کے چل سکتا ہے مگر 65 سال میں ہر پل بدلتی شخصیتوں پر اعتبار کرنا اس کے لئےمشکل ہوتا جا رہا ہے اور وہ بالآخرتعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ تبدیلی کے لئے کسی بھی سچے ایماندار انسان کو اپنا مرکز بنا لیں گے۔ آج کم تر برا جیتے گا تو اس وقت کم تر اچھا ہارے گا۔ فلم شائد دیر میں چلے مگر قوم اس فلم کا ٹریلر 11 مئی کو دیکھ لے گی۔
در دستک >>

Mar 27, 2013

ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جبتک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی رضا شامل نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہواگر ان کا اللہ چاہے تو۔ تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زدعام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہےاورباطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔ آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتی ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نت نئے انداز ترنم آبشار کی لگن دھن رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں۔ مگر جو قوم تبدیلی کے لئے اُٹھتی ہے وہ گنی نہیں جاتی بلکہ جزبہ و جنوں سے جانی جاتی ہے۔ جہازوں ، گاڑیوں، مکانوں کو گنا جاتا ہے پھر ان میں انسانوں کو گنا جاتا ہے۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع وتفریق کے فارمولہ کےتحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہریالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔ انسانوں میں بے حسی ، بے مروتی، خیر وشر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ  و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھونے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والے عہد وپیماں کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے ، ایثار کرنے والے ہمیشہ دوسروں کی نظر میں سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ حادثہ کا شکار ہونے والے جہاز یا گاڑی میں منزل تک پہنچنے کا ارادہ کرنے والےکسی مجبوری سے سفر نہ کرنے والے حادثہ کی روح فرسا خبر کو  بد قسمتی  اور خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تیز ہواوں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت ۔ یہ ایک خود کار سسٹم کے تابع ہیں۔ پانی روشنی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والےپتے ٹہنیوں اور تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتےرہیں گے۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
روشی پانی ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ روشنی پانی ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جبکہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔عظیم وہ ہے جوعظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسن اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور ایمانداری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائےشرافت ودیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کے مینار کوئی کوئی تھے۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذہبی اور ترتیبی معاشروں میں حسن اخلاق اور اخلاص کی کیاریاں پھولوں کوسینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ و بے ترتیب ہوتے ہیں۔ جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاج کثیر سے روح کو تسکین دیتے ہیں۔
 
تحریر : محمودالحق    
در دستک >>

Apr 15, 2012

ماں تجھے سلام

ماں  ایک رشتہ ، ایک جذبہ ، قربانی کی مثال ، محبتوں کا گہوارہ ، خوشیوں کا پہناوہ ، غموں   کے بادل سے اوپر  صبر کے پہاڑ کی چوٹی ۔
 گود اپنی میں سر  سہلاتی ،پیار سے تھپتھپاتی ، آنکھوں سے جھولا جھولاتی ۔ راتوں  میں تیری دھڑکنوں کا  پہرہ  ،  انگلی ہی تیری   میرا سہارا ،  قدموں کا  راستہ ،سانسوں سے جڑا میرا کنارہ ۔
تیرا ہی وجود تھا تجھ میں سمایا رہا ۔ اپنےقلب محبت کو مجھ سے زیادہ تم نے بھی نہ سنا ہو گا۔ میرے قلب نے پہلی دھڑکن تیرے قلب سے  سیکھی۔وجود سے سینچ کر اپنی محبت کا پہلا گھونٹ تم نے مجھے پلایا۔ لفظ زمانے نے مجھے سکھائے۔
 تیری عظمت کو سلام کروں بھی تو کیا پیش کروں۔ خون جگر بھی دے دوں  تو کیا وہ بھی تو تیرا ہے۔ میری پہلی دھڑکن بھی تو تیری ہی دھڑکن سے جڑی ہے۔ سانسوں کا طوفان تیرے سینے سے لپٹ کر  تھما تھا۔ تیری روح سے جدا ہوا  بھی تو تیرے وجود سے  نہ جدا ہو پایا۔ جدائی تیری فانی وجود مجھے دے گیا ۔ قلب تیرے سے نکلی جو دعائیں سر میرا سجدہ ہی میں جھکاگیا ۔
لحد میں ہاتھوں سے میں نے تمھیں اتارا  ۔ تیرے رخ ماہ کو جو میں نے قبلہ رخ چاہا ۔  تجھے تو چاہت تھی اپنے خدا کی ۔ ایسی خوشی تو تیرے چہرے پہ مجھے دیکھنے سے بھی نہ کبھی آئی ۔
 پھولوں کی طرح  کھلتی چہرے پہ مسکراہٹ۔ تیری بیماریوں کی کہانی دفن ہو گئی ۔
تیری عشق اللہ و رسول کی جوانی ابھر آئی ۔ جنہیں تو رات کے پہروں میں ذکر یاد کے دئیے جلاتی ۔
 دنیا سے لاتعلقی اور بےزاری کا تیرا اظہار مجھے تیری  قربتوں میں جدائی کا غم دے گیا  مگر تیری چاہتوں کے میں قربان کہ اصل راستہ میں پا گیا ۔ تم نے  مجھے ایسا سکھا دیا   ، دنیا اپنی کو سلا دیا ۔
 محبتیں حسرتوں سے لپٹ جائیں ۔ تو زمین سے جڑیں اکھڑ جائیں ۔ کونپلیں شاخوں میں ہی سمٹ سمٹ کر سکڑ جائیں ۔
 شاخ شجر کی محبت اپنی کونپل سے تب تک
 جڑ سے جو آب امر پہنچے اسے جب تک
محبتوں کے یہ بہاؤ  شجر شجر ، شاخ شاخ ،کونپل کونپل ،گلوں کے مہکانے تک , پھلوں کے پکانے تک , دھوپ سے بچانے تک ۔
 کٹ کٹ کر جو شجر خواہشوں کے ایندھن بن گئے  ۔ آب امر کو ترستے جل جل کر خاکستر  کرب و اذیت سے دوچار رہ گئے۔
تجھے میرا سلام جو محبت کا یہ رنگ مجھے سکھا گئی ۔ ماں سے بھی بڑھ کر اللہ کی محبت کا نشہ مجھے لگا گئی۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Apr 8, 2012

سچ کی تلاش

وہ سچ کی تلاش میں تھا۔ اس نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جس کی تمنا دوسرے کئی برس سپنوں کی طرح کھلی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مگرجن میں مایوسی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔معاشرہ سے کٹ کر ضرورت صرف معاش رہ جاتی ہے ۔ پھر انسان بھی انس آن نہیں رہتا ۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی آواز سوکھی لکڑی کے تنے سے الگ ہونے جیسی ہوتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی ۔ اپنے پن سے جدا ہونے کا درد محسوسات سے خالی کبھی نہیں ہوتا ۔
اس کا یہی درد پیشانی پہ پڑی سلوٹوں سے عیاں تھا ۔ہر سوال کے آخر میں کیوں اور پھر ایک نئے سوال کی ابتدا ء ، یوں نہ تو وہ سوال سے اپنے آپ کو روک پایا اور نہ ہی جواب سے تسلی ۔" کیوں "نے اس میں گھبراہٹ کا سایہ پھیلا رکھا تھا ۔ سایہ اتنا گہرا ہو گیا کہ مایوسی کے اندھیرے میں اسے روشنی کی تلاش نے بے چین کر دیا۔ باپ سے سوال کرتا تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے پہلی غلطی کی سزا نظر آتا ۔
اس کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے اس کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئی اور دوسری بیوی اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کی بچی پر بھی اپنا حق جتاتی ۔ ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے ،مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی ۔وہ الجھتا چلا گیا ۔نشہ کی بجائے اس نے دوا کا سہارا لیا ۔ جس سے خیالات کچھ دیر سستا لیتے مگر آنکھ کھولتے ہی اسے بے رحم سوالوں کے تھپیڑے آ لیتے۔وہ سوالوں کی گٹھڑی کندھوں سے اوپر دماغ میں سجائے سوالی بنا پھرتا ۔
آخر اسے کس کی تلاش تھی۔ کہیں رشتوں سے فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے سہارے کی تلاش میں تو نہیں مارا مارا پھر تا رہا ۔
ملاقات دو سری بار سوال پہلے والا ۔
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ پہ سچائی لکھی ہو۔ بندے پہ جس کا اثر تو ہو مگر دسترس و اختیار سے اوپر ہو۔
جن کی نظریں اپنے چاروں اطراف برپا ہنگامہ خیزی سے دوچار ہوں۔ دماغ کے تندور میں خیال کے پیڑے سے اختلاف کی روٹی پکانے کا عمل جاری و ساری ہو۔ وہاں قلب میں میوے انتظار میں ہی سوکھ جاتے ہیں ۔
جو زندگی آنکھوں اور کانوں سے بسر کرتے ہیں زندہ قلب سے نہیں رہتے ۔ جو لفظ پڑھنے یا سننے سے ذہن میں سما جائیں مگرقلب میں نہ اتر پائیں تو برین واش تو ہو جاتا ہے مگر قلب صفائی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
دروازے پہ دستک گھر کے مکین سے تعلق کی غماز ہوتی ہے۔ مکین سے محبت ہو تو دستک ملائمت احساس سے بھری ہو گی۔ دوسری صورت میں ہاتھ کی ضرب آنے والے کے ارادے کا ڈھنڈورا پیٹے گی۔
اللہ سبحان تعالی کے فرمان تک پہنچنے کے لئے ذہن کے دریچے بند کر کے قلب کی سیڑھی سے سچائی کی رسی تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر جینے میں کیوں ، کیا ، کیسے کےحروف اضافی کی تکرار ہو تو سوالوں کی بھرمار کے وزن سے پیشانی پہ سلوٹیں بڑھتی ہی رہتی ہیں ۔
چاندپر پڑتی سورج کی شعائیں اسے گھٹا بڑھا کر تاریخوں میں بدل دیتی ہیں۔ یہی شعائیں زمین پر دن رات کی تمیز کرتی ہیں۔ اس سے آگے کا علم نہیں ۔ کہیں مفروضے تو کہیں کہانیاں ہیں ۔
زمین میں ننھے بیج کے دبانے سے خوشبو اور مہک میں لپٹنے تک پھل اور پھول ایک وقت کی حقیقت کے عکاس ہیں ۔ پل بھر کے چکھنے کی داستان نہیں۔جو ابر کے کرم کے محتاج ہیں۔ جو اتاریں نہ جا سکیں تو خود ہی اتر کر زمین سے لپٹ کر فنا ہو کر پھر نئی زندگی بن جاتے ہیں ۔
رب العالمین کا تصور کرنے کے لئے بند کمرے سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آنا ہو گا۔ نعمتوں کا تصور باغوں و بہاروں سے جدا ہو کر رنگ نہیں دکھا پائے گا۔ مہتاب کو اپنا کہہ دینے سے کسی کی ناراضگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔کیونکہ زمین کے عشق میں وہ خود دیوانہ وار جھومتا ہے۔
ہوائیں زندگی کی محبت میں بسترسے لپٹی سانس تک آمدورفت جاری رکھتی ہے جو زرد پتوں کو گرا دیتی ہیں اور آندھی بن جائیں تو اُڑا دیتی ہیں ۔خیالات کی زمین پر جب شک کی پنیری لگائی جائے گی۔ تو اختلاف کی فصل کو کاٹنا بہ امر مجبوری بن جائے گا۔دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے۔ ترازو میں تولنے والا ایک طرف ہمیشہ اپنے پاس باٹ رکھتا ہے۔ جس کے وزن کا پورا ہونا تول کی گارنٹی ہے۔
نئے ماڈل کی کار ، پوش علاقے میں مہنگے بنگلے خواہشات کے غلاموں کی امارت کی منڈیوں میں نیلام ہونے کی نشانیاں ہیں۔ جسے پانے کے لئے آزادی کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ۔
باتیں تو پرانی تھیں اسے نہ جانے کیوں نئی محسوس ہوئیں۔ شائد اسے دنیا میں جینے کے لئے جینے کا ڈھنگ ہی بتایا جاتا رہا۔ مگر سچ تو قلب میں ایسے اترے جیسے پھل میں رس اترتا ہے۔کلام کا اثر قلب کے پاک ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔ علم تو معلم کا محتاج ہو سکتا ہے۔ عقیدتِ عشق،محبوب کے وصل سے وابستہ نہیں۔ خوشنودی کے لئے رضا بھی درکار ہوتی ہے۔
زیادہ سوالات کبھی گتھیاں سلجھانے کی بجائے خود ہی اُلجھ جاتے ہیں۔ جس سے طالب متعلم ہو جاتے ہیں اور فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو علم کی معراج تو بن جاتے ہیں مگرعمل کی میراث نہیں۔ برسہا برس کی دھول چند لمحوں میں قلب سے دھل جائے تو شکریہ کا ہار الفاظ کے گلے میں نہیں ڈالا جائے گا ۔بلکہ اس قلب کو پہنایا جائے گا جو سچائی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا تھا ۔ لفظوں کو موتیوں کی مالا بنا کر جس نے پرو لیا ۔

تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Mar 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter