Apr 14, 2014

ہاف فرائی فل بوائل


صبح سب سے پہلے بیٹی نے آ کر ہیپی برتھ ڈے ابو جی کہا تو آنکھیں  چمک اُٹھیں پھر باری باری بیٹوں نے بھی یہی کلمات دھرائے تو شکریہ کہہ کر محبت کا احسان چکا دینے کی ادنی کوشش کی ۔ جیسے کسی افسر کو ترقی کے ساتھ ساتھ علاقہ غیر میں تعیناتی کے احکامات بھی ساتھ موصول ہوئے ہوں۔اب ظاہر ہے پچیس تیس کی سالگرہ پر ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ عمر جان کر کیا کریں گے۔ اگر درخت سے آم توڑ کر کھانے کی نہیں ہے تو آم کھا کر گھٹلیاں گننے کی بھی نہیں۔ اس کا مطلب تو یہی لیا جائے گا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اکبر اعظم کے دور اقتدار سے زیادہ نہیں تو سلطان سلیمان کے عہد حکومت سے کسی طور کم بھی نہیں۔ کچن مصالحہ کی ناک کے نتھنوں سے کھوپڑی کے نیچے تک تیز خوشبو کو چھینکنے سے آرام کا طالب تھا۔ ہوائے راہدار نے مشکل کو کافی حد تک سنبھالے رکھا۔جی ایگزاسٹ کو یہ کریڈٹ دینے کی پابندی سے مستثنی نہیں ہوں۔ یہ سب سالگرہ کی خوشی میں ہانڈی میں بھگایا چولہے پر چڑہایا اگ پہ تپایا نہیں جا رہا تھا بلکہ بچوں کے تایا کی برسی کے اہتمام میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ سب ایسے ہی ان کے ابو جی کے بچپن سے ہی چلا آرہا تھا۔ میں نے کیا پڑھا اتنا پڑھنے کے بعد بھی نہ پڑھائی کا پتہ چلے نہ ہی ڈگری کا۔ تو پھر پڑھنے کا کیا فائدہ۔ شکر ہے یہ وہ زمانہ نہیں جب دشمن شہر کی فصیلوں تک آ پہنچا تھا اور اہل دانش کوا کو حلال و حرام قرار دینے کے لئے پورا زور لگا رہے تھے۔ آج ایسی صورتحال نہیں روزی روٹی کے لئے کی جانے والی کوششیں  بھی حلال حرام سے مستثنی ہیں۔ کیوں نہ ہوں دس سے بیس کرنے والے اور ایک انگوٹھی سونے کی دو بنانے والے شہروں بستیوں میں کرامات سے نسل انسان کو بیوقوف سمجھنے پر حق بجانب ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کیمیا گری کے کئی نسخہ ہائے جات کو آشکار کرنے کا ارادہ تھا مگر سوچ پر پہرے بٹھا دئیے کہ اگر یہ بتا دیا کہ زندگی ایک ہفتہ میں فقیری سے امیری میں کیسے بدل سکتی ہے تو ایک سے دو بنانے والے بنا محنت کے منزل پانےکی جستجو  کرنے والے اور تقدیر سے زیادہ طاقت سے حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے تمنا کے روشن آلاؤ کے گرد حصار بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔
ڈاکٹری انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا نہ ہونے سے پڑھے لکھوں میں شمار بھی نہ ہوے۔ جسے جاننے کا جنون رہا اسے جاننے ہی کی کوشش میں رہے۔ جاننا اتنا کافی بھی نہیں مگر تھوڑا بہت جان ہی گئے۔ وقت سے پہلے وقت کا ادراک۔
گھر میں سب ہی چیونٹیوں کی مٹر گشت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ بیچاریاں انتہائی خاموشی سے کونے کھدروں سے روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہیں۔پھر بھی ان کے قتل عام کا حکم صادر کرنےکا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ سینکروں کی تعداد میں دھواں اُڑاتی ہارن بجاتی شہر شہر گاؤں گاؤں دھول چٹاتی موٹر کاریں گھروں میں نہلا دھلا کر سجائی جاتی ہیں۔ گدھا / بیل گاڑی سے بہت تیز رفتار ہونے کی وجہ سے سینکڑوں منٹ روزانہ ہزاروں منٹ مہینہ اور لاکھوں منٹ سالانہ بچاتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ابن بطوطہ ارسطو افلاطون بنانے سے بھی نہیں بنتے۔ تراشے ہوئے لکڑی کے قلم کی تحاریر کمپیوٹر کمپوزنگ سے کئی گنا سست رفتاری کا شکار تھیں مگر شاہکار بھی تھیں۔ آج جتنے پلاسٹک کے بال پین ہیں کتابیں تعداد میں کسی طور ان سے کم نہیں۔ ایک اخبار روزانہ کی بنیاد پر جمع ہوتے ہوتے کئی سال بعد کئی من ردی کی صورت صرف بکتا ہے۔ جو کسی طور علمی کتاب گھر نہیں کہلا سکتیں۔
علم ایسی کونپل ہے جو  پیوند کاری سے نو خیز پودوں میں اپنی صورت پروان چڑھتا ہے۔ تعلیم دی جاتی ہے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ علم چرایا نہیں جاتا تو بیچا بھی نہیں جا سکتا۔جو بیچی جاتی ہے وہ تعلیم ہے۔مول تول کرنے والا سودا گر ہوا کرتا
ہے۔جو علم صرف پڑھنے سے مل جائے اسے سمجھنے کے لئے صرف پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحریر ! محمودالحق

3 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال said...

قدر پھُلاں دی بُلبُل جانے نغمے گاون والی
قدر گلاباں گِرج کی جانے مُردے کھاون والی

noureen tabassum said...

میں نے ایک بار اپنے بلاگ میں لکھا تھا
علم کتاب میں نہیں زندگی میں ہے۔جو علم کتاب میں قید ہو وہ بک شیلف کی زینت تو
بن سکتا ہےلیکن دل کی الماری کے کواڑ بھی نہیں کھول سکتا،۔

محمودا لحق said...

افتخار اجمل صاحب اور نورین صاحبہ آپ کا شکریہ ایک ہی بات دو مختلف خوبصورت انداز میں بیان کی۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک