Mar 11, 2010

کلام اقبال تاریخی ادوار کے آئینہ میں (حصہ اول ) ۔

تحریر : محمودالحق

انسانی زندگی کے ادوار قوس و قزح کے رنگوں کی مانند ترتیب میں ایک کے بعد ایک دوسرا رنگ دکھاتا ہے ۔زندگی کی ترتیب بھی قوس و قزح کے رنگو ں کی طرح بدلتی نہیں ۔ بچپن ، لڑکپن ، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ ہر انسان میں زندگی کے ادوار اسی ترتیب میں ہیں ۔ ہر رنگ کی اپنی جاذبیت اور خوبصورتی رکھتا ۔ بڑھاپا جوانی میں اچھا نہیں لگتا ۔ تو جوانی میں بچپنا بھی اچھا نہیں لگتا ۔ وقت سے پہلے شعور کا ادراک بے باک پن دیتا ہے ۔کھانا دیگوں میں تیار ، پلیٹ میں کھایا تو پانی سے بہایا جاتا ہے ۔دودھ کے دانت ٹوٹ جائیں تو نئے طاقت بھر لاتے ہیں ۔اگر طاقت کے ٹوٹ جائیں تو کمزوری میں چھپاتے ہیں ۔ زندگی میں رنگ رلیاں ہیں مگر رنگ رلیوں میں زندگی کے رنگ نہیں ۔انسان کے ادوار سوچ کی تبدیلی کی صورت میں نمایا ں ہوتے ہیں ۔ جو اس کی زندگی کو الگ زاوئے سے دکھاتے ہیں ۔زندگی میں سوچ میں پیدا ہوتے کیونکر کے سوال رفتہ رفتہ بدلتے جاتے ہیں ۔ جو ں جوں حالات بدلتے ہیں ایک نیا کیونکر پھر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔سالوں ایک سوال کے جواب پانے میں گزر جاتے ہیں ۔
علامہ محمد اقبال کی زندگی کے ادوار ان کی شاعری کے ادوار سے منسلک نظر آتے ہیں

۔سیاسی اور معاشرتی ادوار میں تغیر و تبدل سے ان کے افکار میں بھی یہ رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔

شاعری کا پہلا دور 1905 تک

ان کی شاعری کا پہلا دور 1905 تک بیان کردہ کلام پر مبنی ہے جب کہ ہندوستان میں 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی رنگون نظر بندی کے بعد ہندوستان کی سیاسی فضا قدرے غیر سیاسی رہی ۔محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس مسلمانوں کی تعلیمی تحریک کا شعور بیدار کرنے میں عملی لحاظ سے فعال تھی ۔ یہاں علامہ صاحب کی شاعری کا روائتی انداز بھی کچھ یوں تھا ۔
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں
زيب محفل ہے ، شريک شورش محفل نہيں
يہ فراغت بزم ہستی ميں مجھے حاصل نہيں
عہد طفلی کو بھی اشعار میں قلمبند کر دیا ۔
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے
حرف بے مطلب تھی خود ميری زباں ميرے ليے

علامہ صاحب سے پہلے اردو شاعری کا انداز شاہانہ تھا ۔ شاہی محلوں میں شاعروں کی سرپرستی کی جاتی ۔تعریف و تحسین سے پزیرائی کی جاتی اور واہ واہ سے داد دی جاتی ۔ مگراردو شاعری قوم کی تربیت کے عنصر سے محروم تھی ۔صرف ایک شاعر مرزا اسد اللہ غالب اس زبوں حالی کو اپنے اشعار میں بیان کر گیا ۔ جن کے بارے میں علامہ صاحب نے ایک اچھوتے انداز بیان میں خراج تحسین پیش کیا کہ لطف گویائی میں غالب کی ہمسری ممکن نہیں ۔
فکر انساں پر تری ہستی سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر ترا
زيب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
نطق کو سو ناز ہيں تيرے لب اعجاز پر
محو حيرت ہے ثريا رفعت پرواز پر
لطف گويائی ميں تيری ہمسری ممکن نہيں
ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں

اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکالماتی بیان مثلاً مکڑا اور مکھی ، پہاڑ اور گلہری ، گائے اور بکری کو بھی نہایت خوبصورت پیرائے میں تخیل کا جز بنا دیا ۔کبھی بچے کی دعا کہہ گئے۔جو ہر سکول کے بچے کی زبان پر ہے ۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا ميری
زندگی شمع کی صورت ہو خدايا ميری

کبھی ماں کا خواب بیان کر گئے ۔پرندے کی فریاد تو کبھی شمع اور پروانہ کی کہانی ان کے قلم سے بیان ہوتی رہی ۔انسان اور بزم قدرت کو انہوں نے اپنی تخیل فکر سے شاعری میں ڈھال دیا ۔
صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے
بزم معمورہ ہستی سے يہ پوچھا ميں نے
صبح اک گيت سراپا ہے تری سطوت کا
زير خورشيد نشاں تک بھی نہيں ظلمت کا
ميں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی ميں مگر
جل گيا پھر مری تقدير کا اختر کيونکر؟
نور سے دور ہوں ظلمت ميں گرفتار ہوں ميں
کيوں سيہ روز ، سيہ بخت ، سيہ کار ہوں ميں؟

شاعری کا یہ دور علامہ صاحب کی قدرت سے وابستگی کا نقطہ آغاز تھا ۔رخصت اے بزم جہاں ، چاند ، سرگزشتہ آدم ، نالاں ء فراق اور تصویر درد کا اظہار خوبصورت انداز میں کیا ۔اسی انسانیت کے ناطے ترانہء ہندی لکھا ۔ جو آج بھی ہندوستان کی فضاؤں میں گونجتا ہے ۔
ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا
اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔علامہ صاحب کا یہی دور ہے جب انہوں نے مخصوص روائتی شاعرانہ انداز میں غزلیات لکھیں ۔
مانا کہ تيری ديد کے قابل نہيں ہوں ميں
تو ميرا شوق ديکھ، مرا انتظار ديکھ

اس دور کی یادگار کے طور وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی
لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جستجو تلاش میں سرگرداں تھے ۔اور دل کی اصل کیفیت کی طرف رغبت بار بار جا رہی تھی۔اس لئے تو لکھتے ہیں ۔
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں
وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں
حقيقت اپنی آنکھوں پر نماياں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانہ دل کے مکينوں ميں
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقيروں کی
نہيں ملتا يہ گوہر بادشاہوں کے خزينوں ميں

شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک

ان کی شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک ہے ۔ جو انہوں نے یورپ میں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر گزارا ۔اور مغربی دنیا کو گہری مطالعاتی نظر سے کریدا ۔ اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہےاور دوسری طرف ہندوستان سیاسی و معاشرتی لحاظ سے کن راہوں پر چل رہا تھا کا مطالعہ بھی بہت ضروری ہے ۔ 1905 میں تقسیم بنگال ہوئی ۔ کانگریس اور ہندوؤں کا مخالفانہ رد عمل جس کے نتیجہ میں 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام اور مسلمانوں میں سیاسی تحفظ کے شعور کی بیداری کا دور دیکھنے میں آتا ہے ۔مسلمانوں کی تحریک میں مطالبات حقوق میں شدت اور تقاضا سے اجتناب برتا گیا ۔بلکہ مفاہمتی انداز اپنایا گیا ۔ضد کی بنیا د پر سیاسی تنظیم کی تشکیل نو نہیں کی گئی ۔اور علامہ صاحب کی شاعری کا یہ دور بھی مسلمانوں کے اندر اس تحریک کو پیدا کرنے کے لئے شدت کا اظہار نہیں کرتا ۔ لیکن وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پاتے تھے ۔ ہم کلامی میں علامہ صاحب میں رومانیت کاپہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہی وہ دور ہے جب ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوا اور ان کی شاعری میں پیغامیہ رنگ دیکھنے میں آتا ہے ۔مغربی تہذیب بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔
دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا

مغربی معاشرے پر کچھ ایسے بھی روشنی ڈالی ۔
عروس شب کی زلفيں تھيں ابھی نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکيزگی پائی
حرارت لی نفسہائے مسيح ابن مريم سے

ان کے اظہار خیال کا یہ انداز بھی نرالا ہے ۔
کہيں سامان مسرت، کہيں ساز غم ہے
کہيں گوہر ہے ، کہيں اشک ، کہيں شبنم ہے

لیکن رومانیت کے اظہار میں ان کی عشق بیان کی صفت اسی روش پرتھی جو دل کی کیفیت پر بھاری تھی ۔ پیام عشق میں یوں کلام کرتےہیں ۔
سن اے طلب گار درد پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا
ميں غزنوی سومنات دل کا ، تو سراپا اياز ہو جا
نہيں ہے وابستہ زير گردوں کمال شان سکندری سے
تمام ساماں ہے تيرے سينے ميں ، تو بھی آئينہ ساز ہو جا
غرض ہے پيکار زندگی سے کمال پائے ہلال تيرا
جہاں کا فرض قديم ہے تو ، ادا مثال نماز ہو جا

زمانہ دیکھے گا میں ان کا رنگ جدا نظر آتا ہے ۔دل کی کیفیت میں طوفان ہیں جس کی نشاندہی وہ اپنی خموشی سے کرتے ہیں ۔
زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مری خموشی نہيں ہے ، گويا مزار ہے حرف آرزو کا
کوئی دل ايسا نظر نہ آيا نہ جس ميں خوابيدہ ہو تمنا
الہی تيرا جہان کيا ہے نگار خانہ ہے آرزو کا

مغربی تہذیب کی ناپائیداری کے ادراک کے بعداقبال اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔
اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں
شمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میں
خود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں

1 تبصرے:

محمد ریاض شاہد said...

کچھ دن پہلے ایک بلاگ پڑھتے ہوئے اس قسم کی تحریر کی ضرورت محسوس ہوئی تھی ۔ آپ نے حق ادا کر دیا ۔ خدا جزائے خیر سے نوازے

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک