Mar 3, 2010

ادب آداب سے

تحریر : محمودالحق

نام معاشرے میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد پہلا کام نام کا چناؤ ہوتا ہے ۔کہانیاں ہوں یا کتابیں ، ڈرامے ہوں یا فلم موضوع کے اعتبار سے نام رکھے جاتے ہیں ۔ ساتھ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔کہ پڑھنے والے یا دیکھنے والےٹائٹل سے کھنچے چلے آئیں ۔کبھی کبھار عنوان زندگی میں پائی جانے والی حقیقتوں سے اخذ کئے جاتے ہیں ۔ جیسے کبھی خوشی کبھی غم ۔
کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ میں نے کسی جانی پہچانی فلم کا نام لکھ دیا ہے ۔ لیکن یہاں تو بات صرف عنوان سے منسوب ہے ۔ اگر فلم کا ہی نام دینا ہوتا تو جیرا بلیڈ ، جیرا سائیں ، وحشی جٹ یا گجر سے کام چلا سکتا تھا ۔لیکن میں اپنے دئیے عنوان کی خود ہی نفی کر دیتا ۔اور ادب بے ادبی میں بدل جاتا ۔ ادب سے جن کا گہرا تعلق ہوتا ہے وہ ادیب کہلاتے ہیں ، مگر مولا جٹ فلم میں بھی ادیبوں نے اہم کردار دا کیا ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسی گنڈاسہ فلموں سے ادیبوں کا دور نزدیک کا واسطہ نہیں
تو پھر اتنا بڑا الزام کیوں لگا ۔ پریشان نہ ہوں مشکل حل کئے دیتے ہیں۔ ان میں ایک لکھنے والا ادیب تھااور ایک ولن ادیب ۔
اب ان ادیبوں کا ذکر کیا کروں کہ جن کا ادب سے کوئی تعلق ہی نہ ہو ۔لیکن میں بحیثیت انسان بے ادبی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔لوگ مجھے بھی بے ادب کہتے ہوں گے کہ میں نے اصول و ضوابط کی بے اصولی میں ادب کا اظہار نہیں کیا ۔ آج میرا موضوع وہ ادیب ہیں جن کی جمع ادباء ہے ۔جس طرح غریب کی غرباء ، امیر کی امراء ۔غریب غربت کا مارا ۔ امیر امارت کا دلدادہ ۔اور ادیب ادب کا گہوارہ بنے رہنے میں خوش باش رہتا ہے ۔ جس شخص کے پاس بال کٹوانے کے لئے وقت نہ ہو۔اسے شاعر یا ادیب کہنا عام رواج ہے ۔لیکن حقیقت میں اگرمحبوب پرایا ہو تو کیا ۔زلف دراز اپنی کیوں نہ ہو ۔
میرے بار بار ادیب کہنے سے کہیں ادیبائیں ناراض نہ ہوں کہ وہ وقت گزر گیا جب ادیبوں شاعروں میں صرف غالب ، مومن ، حالی ، میر تقی میر ، میر درد ، علامہ اقبال اور نثر میں جن کے نام آپ جانتے ہیں سمجھ لیں ۔طوطی بولتا تھا ۔
اب زمانہ نیا ہے ادب پرانا کیسے نبھا کر پائے گا ۔ اب صرف ادیب نہیں ادباء کہلائیں گے۔کہنے سننے میں یہ آتا ہے کہ اس صف میں اگر آپ شامل ہونا چاہتے ہیں تو ان ادباء کو بار بار پڑھیں ۔لیکن پڑھیں کیسے سب ہی ایک دوسرے سے جدا رنگ میں رنگے ہیں ۔محبوب ایک ہے نظر محبت میں تضاد ہے ۔تو پھر کیوں نہ محبت کی بجائے محبوب کو ہی اپنا بنانے میں سر دھڑ کی بازی لگائی جائے ۔جب محبت ہی نہ ہو تو پھر محبوب کا چاہےآدھا دھڑ مچھلی کا ہو چلے گا ۔ محبوب کے ذکر میں یہ خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ خدوخال اور ادائیں کہیں وجاہت عاشقانہ نہ ہوں ۔ پڑھنے والا کبھی عاشق تو کبھی خود ہی محبوب سمجھ کر شرماتا رہے ۔ اب ظاہر ہے ایسے ادب کی تخلیق کسی اصول و ضابطے کے بغیر تو بغیر دھڑ کے سرکس بچہ جیسی ہوگی ۔
اب اگر کوئی مجھے ادیب و شاعر سمجھ بیٹھے۔ تو پہلا خیال یقینا مولا جٹ سےذہن میں آئے گا ۔کہ ایک بے ادب ادیب کا اضافہ جو قائدے قانون کی خلاف ورزی میں محبوب کے ساتھ ساتھ محبت کے رنگ قوس و قزح کی بھی پینگیں بڑھا رہا ہے ۔بغیر استاد کے ہی تخلیق ادب کی بے ادبی کب تک برداشت ہو گی ۔
با ادب با نصیب ، بے ادب ۔۔نصیب تو سن رکھا ہے ۔اب کہیں یار لوگ نصیب کی جگہ ادیب نہ پڑھنے بیٹھ جائیں ۔پریشانی تو پہلے بھی کم نہیں ہے ۔

شاعری میں ترکیب کلام زبان نے پریشان کر دیا
تو نے لکھنے سے ہی زمانہ حیران کر دیا
سوچنے پر مجبور شاعر سے شعور انسان کر دیا
عمل جانفشانی سے پیراستہ شعور مسلمان کر دیا
صدیوں کے شاہ صدا کو رحم داستان کر دیا
صدیوں کے شاہ گدا کو کرم قرآن کر دیا

اگرمحبوب قلب محبت میں ہے کسی خدوخال کے بغیر ۔تو اس کی تعریف و توصیف میں اصول و ضوابط کی پابندی کیوں اختیار کی جائے ۔جو تصور خیال قلب کی حدود و قیود میں خود نہیں تو کاغذ پہ پھیل کر ساکن و متحرک گردان الفاظ میں کیسے ڈھلے ۔جو محبت متحرک تحریک ہو وہ خیال ساکن حروف میں کیسے سموئے۔ اب ایسے میں علم ریاضی غلطی ہو گئی عروضی کے فارمولے پر کیسے بٹھایا جائے۔
اگر پرندوں اور جنگلی جانوروں کو تفریح طبع کے لئے بچوں کے ہمراہ تماشا دیکھنا ہو تو چڑیا گھر کا رخ کیا جاتا ہے ۔ نہایت نظم وضبط اور قائدے قانون کا احترام کرتے پرندے اور چوپائے۔ کھانے کے آداب سے سلیقہ شعاری میں بسر کرتے زندگی ۔ مگر وہ ان کا اصل حسن نہیں ۔ حسن ان کی آزادی میں ہے ۔جنگلوں پہاڑوں میں ۔ جہاں آبشاریں بہتی ہوں ۔ ندیاں گنگناتی ہوں ۔ درختوں کی سرسراہٹ میں پرندے گاتے ہوں ۔کوس و کوس دھاڑنے کی آوازیں انہیں ترنم تو دوسروں کو خوف میں مبتلا کر دیتی ہوں ۔
مگر ادب آداب والے قید پسند کئے جاتےہیں ۔ کھلے وحشی بے ادب نہیں۔ جو ہمارے طے شدہ قائدےقانون میں ہمارے لئے خطرہ کا سبب ہوں ۔ایسی تفریح جس میں ہمارا نقصان زیادہ فائدہ کم ہو ۔ اسے اپنانے کا کیا فائدہ ۔ایک باریک چھڑی کے اشارے پر جنگل کا بادشاہ سرکس میں میزوں پر چڑھتا ہوا تماشائیوں کو احترام سے بھر پور مجسمہ ادب نظر آتا ہے ۔غرانے کی بے ادبی کو برداشت نہیں کیا جاتا ۔ چند سیکنڈمیں ڈھیر کرنے والے بہادر چار اطراف پھیلے قائدے قانون سے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتے ۔
شاہی سرپرستی میں بڑے ناموں نے غالب جیسے شیر ادب کو بڑھاپا میں بھی کینچے کھیلنے پر مجبور رکھا ۔ بے ادب توحالات کا شکار ہوسکتا ہے ۔مگر ادب نہیں ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک