Mar 21, 2010

تحریر ختم نہ ہومفہوم ہضم نہ ہو

آج کچھ نیا لکھنے کا ارادہ کیا ہے دعا کریں کہ تحریر مکمل ہو اور مفہوم سادگی میں ایسے لپیٹ دیا جائے جیسا کہ آج کل ہمارا ملک دہشت گردی کی آگ میں لپٹا ہوا ہے ۔علم در دیوار سے جھانک رہا ہے ۔عالم دروازہ تھام رہا ہے ۔مکین چارپائیوں پر پاؤں لٹکائے ایسے بیٹھے ہیں ۔جیسے زمین پر رینگتے سانپوں سے ڈسنے کا خوف ہو ۔جو سیلاب کے پانی سے بہتے گھروں میں داخل ہو چکے ہوں ۔ مشاق نشانہ باز عقاب کی طرح شکار پر نشانہ باندھے بیٹھے ہیں ۔ زمانہ بدل چکا ہے نشانے چوک چکے ہیں ۔خوف اب آنکھوں میں نہیں رہا بلکہ دل سے بھی اتر چکا ہے ۔ روز ہی نت نئے پٹاخے پھٹنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دینے کی عادت ہو چکی ہے۔ ہر وقت کانوں میں بجتے نئی البم کے گانوں کی جھنکار
سے قوت سماعت اب اتنی طاقتور ہو چکی ہے ۔ کہ دل تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں ۔اب دل صرف مسرور ہونا جانتا ہے ۔ وہ دن بیت گئے جب دل کمزور اور جذبات برانگیختہ رہتے ۔
دیسی گھی کھانے والےمحنت مشقت کے عادی بدن کم حوصلگی کے باعث دوسروں کی تکلیف پر اشکبار ہو جاتے ۔اپنی روٹی روزی چھوڑ کر کندھے دوسروں کے آنسوؤں کا سہارابن جاتے۔ تکلیف کا احساس فصل کی بربادی سے لے کر موت کی منادی تک اپنائیت کے اظہار سے بھرپور ہوتی ۔ سادگی سادہ مفہوم کی چاشنی سے لبریز ہوتی ۔ گہری باتیں عقل سالم کو بزم ادب ہوتیں ۔ محنت و مشقت سے جھریاں پڑے شفاف دل کی مانند شفاف چہرے بناوٹ و تصنع سے پاک ہوتے ۔جھوٹ بولنا لمحے میں پکڑا جاتا ۔ آنکھیں اداس تو ہو جاتیں مگر مکاری نہ جھلکتی ۔
کم خرچ بالا نشین تو بہت سن چکے ہیں ۔ اب کم خرچ بالائے طاق کے فارمولہ پر عمل پیراہونے کا دور ہے ۔اگر یقین نہیں تو ہر بڑے شہر میں میکڈونلڈ ، سب وے، پیزا ہٹ،کے ایف سی اور اسی طرح کی بےشمار فرینچائزڈ جگہ جگہ ملیں گی۔جو محنت و مشقت سے تکلیف نہ اٹھانے والے بدن کو توانائی سے بھرپور مکمل ڈائیٹ پروگرام نہایت( ارزاں) قیمت پر دستیاب ہیں ۔اگر زمانہ ترقی پر ہے تو کیوں نہ اپنے منہ کا ذائقہ بھی بدل لیا جائے ۔دال مسور اور پالک آلو کھلا کھلا ماؤں نے بچے معمولی باتوں پر دوسروں کے درد کا احساس نہ جھیلنے والے بنا دیا تھا ۔جو بات بہ بات آنسو ایسے بہاتے جیسے ان کے گھر قیامت برپا ہو ۔ حالانکہ اہل دانش پہلے ہی کہہ چکے کہ تو اپنی دیکھ تجھے دوسروں کی کیا پڑی۔
مگر بیچ میں پڑنے کا ہمیشہ انتظار رہتا ۔اکثر محلے دار آپس میں لڑائی جھگڑے کاتبھی آغاز کرتے جب بیچ بچاؤ کرانے والے پہنچ جاتے ۔آج بیچ میں نہ آنا تو درکنار کانوں سے سنی ان سنی کر دیتے ہیں ۔گھروں میں ٹی وی کی آواز سے اپنے گھر میں آواز نہیں سنائی دیتی۔تو دوسروں کی آوازیں کہاں سے سنائی دیں گی ۔
پہلےسچ بولا بھی جاتا تھا اور سنا بھی ۔اب نہ تو بولا جاتا ہے اور نہ ہی سنا ۔سچ بولنا اب تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ جی وہ سچ جس کو بولنے سے اپنے مفاد کو زد نہ پہنچتی ہو ۔مفادات محفوظ ہوں ۔ بے دھڑک بول دیا جاتا ہے ۔ جہاں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہومصلحت پسندی آڑے آتی ہے ۔اب تو ہر طرف عَلم ہی عَلم ہیں عِلم کے ۔ آڑے ہاتھوں لینے والے کمر کسے تاک لگائے بیٹھے ہیں کہ جہاں نظریں چار ہوئیں نشانہ لگانے سے نہیں چوکتے ۔تعریف و تحسین سے پزیرائی کم ملنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔مگر تنقید سے توانائی چاہے نہ ملے مگر تشنگی باقی نہیں رہتی ۔دل کی بھڑاس نکل بھی جاتی ہے اور نکالنے میں بھی آسانی رہتی ہے ۔حالانکہ آج پروگرام ایسا ہی تشکیل دیا تھا ۔ خوب تنقید کروں گا جی بھر بھڑاس نکالوں گا ۔ اچھے اور تعمیری کاموں کی ترغیبات میں کیڑے نکالوں گا ۔اپنے مشورہ جات سے چاندی ورق لگاؤں ۔مگر کیا کروں نام لے کر نقادوں کی محفلیں کیوں خراب کروں ۔
لیکن ایک راستہ ایسا ہے کہ ٹیپو سلطان سے لیکر عصر حاضر کے سیاسی شاہسواروں تک ایسی تاریخ خراب کروں کہ گھمسان کے رن سے محفلیں خود ہی پانی پت کے میدان کی طرح شکست خوردہ فوجوں کی مانند دھول چاٹتی رہ جائیں ۔اور سب اپنا بھول کر میرے ہاں گھمسان کا رن ڈالنے پہنچ جائیں ۔دھما چوکڑی کتابوں سے نکل کر بلاگزکی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کردے ۔لکھنا مجھے مہنگا بھی پڑ سکتا ہے ۔ مگر آج طے کر لیا ہے کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا ۔
مطلب آم کھانےسے ہے گھٹلیاں گننے سے نہیں ۔ اور اگر محاورہ کچھ یوں ہو جائے تو مزید رونق افروزی رہے گی کہ مطلب دام گننے سے ہے گٹھڑیاں باندھنےسے نہیں ۔ اب دام پورے نہ بھی ہوں گٹھڑیوں کی تعداد گننے سے اگر چہرے پہ رونق آ جائے تو لٹنے والے ضرور کہیں گے کہ مال سے اب حال اچھا ہے ۔مریض اب مال سے ہی اچھا ہو گا ۔حال اچھا ہونے سے ہال تالیوں سے نہیں گونجا کرتے ۔مال سے تالی بجتی ہے ۔ کیونکہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کہاوت پرانی ہو چکی اب تو ہاتھ کو مال سے راہ ہوتی ہے کی کہاوت زبان زد عام ہے ۔ اگر یقین نہیں تو میری تقریر(تحریر) پڑھ کر تالی بجا کر دیکھیں ۔ ہاتھوں کی دھمک کان کے پردے سے دل کے کونے کدرے میں محسوس کریں گے۔
مگر ایک بات تو بھول ہی گیا جیب خالی ہو تو دو ہاتھوں سے تالی بجے گی ۔اور اگر ایک ہاتھ جیب پہ ہوتو ساتھ والے سے کہیں گے کہ دے تالی ۔اور اگر اس کا بھی ایک خالی ہوا تو بجے گی تالی ۔ کبھی غریب کو دو ہاتھوں سے شادی پہ مرغ مسلم کھاتے دیکھا ہے ۔ ہمیشہ ایک ہاتھ پلیٹ سے چپک جاتا ہے ۔اپنےایک ہاتھ ہی سے منہ بھرتا ہے اور کبھی کبھار تو اپنی مونچھ بھی خراب کر لیتا ہے ۔ جو تاؤ دیتے دیتے تنگ آ جاتی ہے ۔ مگر کھانا ملتے ہی ادب سے مصالحے میں بھیگ کر جھک جاتی ہے ۔بہت سی مونچھیں کھانا ملنے پر ادب سے جھکی ہوئی دیکھ چکے ہیں آپ ۔ اب مجھے نہ کہیں کہ دکھاؤ ۔ دیکھ دیکھ کر اس حالت کو پہنچ چکے ہیں ۔کہ اب تو آئینہ میں خود کو دیکھنے کی ہمت نہیں رہی ۔ خدانخواستہ ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ یار لوگ کہیں کہ یہ منہ اور مسور کی دال ۔
یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی پہلے وقتوں میں مسور کی دال شریف گھرانے منہ چھپا کر خریدتے اور منہ چھپا کر گھر لاتے تھے ۔ پھر اس محاورہ میں یہ منہ کسے کہا گیا ہے ۔ اگر آپ جانتے ہوں تو میرے علم میں اضافہ کر کے ثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ یہ دال کئی دوسری دالوں سمیت ہمارے منہ سے اتر کر جہنم واصل ہو چکی ہیں ۔لیکن ہم نے کبھی منہ نہیں چھپایا ۔مگر فخر بھی کبھی نہیں کیا ۔کیونکہ فخر کرنے کے لئے بچا کچھ نہیں ۔ جو ایک زندگی میں نعمت فخر زندہ تھی بھائی لوگوں نے کوٹ کوٹ کر شر سے نشر کرا کر دفن کر دی ۔
اب تو میں ہوں اور میری تنہائیاں جواکثر مجھ سے ہی سوال کرتی ہیں ۔جو جواب مجھے یاد تھے زندگی کے امتحانوں میں سنا دئیے ۔جو نمبر عطا ہوئے وہ اب ایک ایک کر کےجمع کر رہا ہوں ۔ جب مکمل ہو جائیں گے تو شائدسرٹیفیکیٹ بھی مل جائیں ۔کہ فیل ہو ئے یا پاس ۔
پاس ہونے سے پاس آنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔پاس ہونے والے ہاتھوں میں سرٹیفیکیٹ لئے منہ لٹکائے بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔ مگر پاس آنے والے پہلے دو ہاتھوں سے تالی بجاتے تو پھر دونوں ہاتھ سے جیبیں گرماتے ہیں ۔ خود تصویر کھنچواتے پھرتے اورپھر خود ہی اپنے منہ میاں مٹھو بن جاتے ۔اور پاس ہونے والے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ۔ ایک سرد آہ بھر کر ضرور کہتے ہوں گے کہ کاش ہم نے مسور کی دال منہ بسور کرکھائی ہوتی ۔ ترقی کی سیڑھی میں پہلا پائیدان پاس ہونے کی بجائے پاس آنے کو رکھا ہوتا تو آج ہمارے دونوں ہاتھ ہماری بغلوں میں نہ ہوتے ۔اور دوست نما دشمن ڈگریاں ہاتھ میں لیے دیکھ کر بغلیں نہ بجا رہے ہوتے ۔

تحریر : محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک