Mar 19, 2010

ہمدردی کی شال

مجھے اپنے حق سے دستبرداری کا اعلان کرنے کی اگر نوبت آ جائے تو میں کیا کروں گا ۔ یہ وہ سوال ہے جو میں اکثر خود سے کرتا ہوں ۔ غصہ سے بھرا مزاج معافی کے لفظ سے نا اشنا ، آگ کی فطرت تپش سے اگر آسودہ ہو تو انسان اشرفالمخلوقات کے درجہ سے نیچے حیوان آدمیت کے مقام زوال پر تصویر نادان ہو گا ۔لیکن چہرہ پر بناوٹ و تصنع کی ملمع سازی سے عقل مندی کا نشہ کافور ہو جاتا ہے ۔مفاد کی ایسی دبیز تہہ بچھائی جاتی ہے کہ اصل روپ ہی چھپ جاتا ہے ۔ غرض کو ہمدردی کی ایسی شال میں لپیٹا جاتا ہے کہ مجبوری اصل حقیقت سے پردہ اُٹھنے ہی نہیں دیتی۔ تاوقتکہ غرض پوری ہو جائے ۔کھلےدشمن سے لڑنا بہت آسان ہوتا ہے مگر
آستین کے سانپ دکھائی نہیں دیتے ۔ جب تک کہ ڈس نہ لیں ۔خوش نصیب ہیں وہ جنہیں محبتیں منافقتوں سے پاک ملیں ۔ رشتے نبھانے سے ہوتے ہیں ۔ بنانے سے نہیں ۔ماں کہنے سے ماں نہیں کہلاتی کوکھ میں پالتی ہے ۔اپنے خون جگر سے سینچتی ہے ۔ باپ اولاد کی خواہش میں دیوانہ ہوا جاتا ہے ۔خوشیوں کو دینے میں دن رات میں فرق نہیں رکھتا ۔ماں گیلے بستر پر خود لیٹ جاتی مگر اولاد کو اس کے اپنے کئے سے محفوظ رکھتی۔ باپ کھلونے لالا کر جھولے پر سجا کر تفریع طبع کا انتظام کرتا ہے ۔نہ جانے جب وہ جھولے کو چھوڑتا ہے تو گردش زمانہ اسے کیا سبز باغ دیکھاتا ہے کہ وہ محبت کے اٹوٹ رشتوں سے بیزار ی و دل گرفتگی کا شکار ہو جاتا ہے ۔آزادی کے لئے قیدی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتا ہے ۔پرندہ آزادی اپنے سے ملنے کے لئے چاہتا ہے مگر انسان آزادی اپنوں سے بچھڑنے کے لئے ۔اس کی تفریح پروازمیں نہیں زندگی کے انداز میں ہے۔ ایک ہی نسل سے تعلق ایک ہی مقصد پر کاربند رکھنے میں بندش رفتار کا باعث ہوتی ہے۔ خود سے ملنے کا کبھی کسی کو شوق پیدا نہیں ہوتا ۔ مگر ان سے نہایت قربت رہتی ہے جن کی تعریف و توصیف سے خود فریبی کو تسکین ملے۔ بچپن کے لوٹنے کا کوئی امکان نہیں ،جوانی ڈھلتی شام ہے کہ بڑھاپا کی تاریک رات کے بعد کسی صبح کی امید نہیں ۔ نہ ہی ہوا میں سانس ہوگا ۔ بادل میں گرج چمک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔برس جانے کی تو امید رکھناہی عبث ہے ۔ صرف ایک ہی بات ایسی ہے کہ جو دیکھنے میں شائد موجود ہو مگر اثرانگیزی میں مختلف ہو ۔ روشنیاں اس جہاں سے بہت دور جگمگاتی ہیں اپنے اپنے دائرے میں۔ جل جائیں یا چمک جائیں یہ بھی اپنے بس میں نہیں ۔ بس میں تو صرف اتنا ہے کہ خوش رہ پائیں ۔کوئی بھی تو ایسا راستہ نہیں کہ جس پر چل کر روشنیوں تک پہنچا جا سکے ۔ نور ہدایت کی جلوہ افروزی تو مکمل ہے مگر مشعل برداری میں ٹولیاں یکے بعد دیگرے مدھم انداز میں مدح سرا ہیں ۔روکنے سے نہ رک پائیں تو رفتاربڑھنے سے پڑاؤ چھوٹ جاتے اور ٹکراؤ سے نہیں بچ پاتے ۔ ایک دوسرے کو بلاتے بلاتے سانس پھول جائے۔ گلا خشک ہو جائے توزندگی بچانے اور پیاس بجھانے میں آگ کے دریا کافی نہیں ہوتے ۔ ایک گھونٹ آب ہی مزید سانسوں تک کی مہلت دلا دیتا ہے ۔ سچائی کا ایک قطرہ ہی زندگی کی سانسوں کو بڑھانے میں مددگار ہے ۔جھوٹ کا گہرا سمندر بھی پیاس بجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ گہرائی میں اترنے والے زندگی بچانے والے ایک قطرہ سے دریا تک بھی آجائیں ۔تو سانسیں آندھیوں سے نہیں چلتیں بلکہ رفتار سے قابض ہیں ۔ بڑھنے پر سمندر اچھال دیتی ہیں تو وجود ناتواں میں اتنی سکت و برداشت نہیں کہ رفتار میں کمی بیشی سے مقبوض ہو جائے ۔ چھوڑنا ہی تو آسان رہ گیا ۔ پانے میں زندگی کا پل کافی نہیں ۔ پانے کے ایک پل میں زندگی فنا ہو جاتی ہے ۔طوفان اُٹھ جائیں تو سنبھلنے میں لمحوں کا ساتھ رہ جاتا ہے ۔اگرگزرجائیں تو خطرہ پھر بھی موجود رہتا ہے ۔موجیں بڑھ نہ سکیں تو ہوائیں اپنے دم سے مدد کو پہنچ جاتی ہیں ۔ کنارے دور جانا بھی چاہیں تو لہریں محبت میں بغلگیر ہونے پہنچ جاتی ہیں ۔ہاتھ کی انگلیاں جسم کھجاتی تو تکلیف سے نجات دلاتی ہیں صرف مددگار نہیں ہیں مسیحا بھی ہیں ۔سرپاؤں تک رسائی نہیں پاتے ہاتھ بازو کی مدد سے رشتہ باندھ دیتے ہیں ورنہ اجنبیت میں ہی فنا ہو جائیں ۔


تحریر : محمودالحق

5 تبصرے:

عنیقہ ناز said...

آپ بہت ساری چیزوں کو آپس میں اتنا الجھا دیتے ہیں کہ پڑھنے والا الجھ جاتا ہے۔ یہ خود کلامی ہے یا ہم جیسوں کو کوئ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ خود کلامی ہے تو اس پہ غورو خوض کے بعد کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اور اگر یہ ہمارے لئے ہے تو ایک وقت میں ایک کو شکار کریں۔
روانیت ہے مگر------۔

Muhammad Riaz Shahid said...

عنیقہ سے متفق ہوں ۔
کہنا چاہ رہا تھا مگر ادب کے مارے ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔

محمودالحق said...

آپ نے صحیح اندازہ لگایا کہ یہ خود کلامی ہے ۔ زندگی میں رویوں سے بہت تکلیف پہنچی ہے ۔کچھ ایسے بھی اظہار کر چکا ہوں ۔
بکھیرتا قہقہے حالات زمانہ نے سنجیدہ کر دیا
اخلاص قلب کو رویہ انسانی نےرنجیدہ کر دیا
جھکا نہ کبھی کسی کے سامنے سینہ تان لیا
دیکھتا ہوں ستاروں کو تو زروں پر سجدہ کر دیا

دوست said...

آپ کی تحریر ۃضم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آپ گنجل ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے پہلے دو جملوں کے بعد ہی قاری اکتا جاتا ہے۔ معذرت کے ساتھ، لیکن بطور قاری میں نے جب بھی کوشش کی آپ کا تحاریر چند جملوں سے زیادہ میں توجہ نہ حاصل کرسکیں چونکہ بلاگز پر ہم زیادہ روزمرہ کی زبان اور عام فہم انداز بیان استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ امید ہے آپ اسے تعمیری تنقید سمجھیں گے۔ ویسے ادبی لحاظ سے یہ تحاریر واقعی لاجواب ہیں، میرے جسیے عامیوں کے لیے نہیں۔

محمودالحق said...

جناب دوست صاحب میرا خیال ہے کہ آپ نے صرف اس ایک تحریر سے میری تمام تحاریر کا نچوڑ نکال لیا ہے کہ انہیں ہضم کرنا مشکل ہے بائیں طرف نثر پارے میں پوری لسٹ پر اگر توجہ فرماتے تو شائد آپ کو تحاریر سے شکوہ نہ ہوتا ۔ سیاست ،معاشرہ ،مذہب اور طنز ومزاح ہر رنگ میسر ہے ۔۔ صرف تنقید سے قاری کی توجہ پانے کی کوشش نہیں کرتا آپ سب کی رائے سر آنکھوں پر۔

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک