May 14, 2010

زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں

زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں
رک جا تو سمے دردِ پکار کی صدا میں ہوں


مایوسی میں رہتی فنا صبر کی ادا میں ہوں
پھولوں کی فطرت کہتی مہک ردا میں ہوں

امید و بیم کا ٹوٹا ستارہء جدا میں ہوں
آئی عرش سے آواز ٹھہر تیرا خدا میں ہوں




بر عنبرین / محمودالحق

0 تبصرے:

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک