May 20, 2010

بلیک اینڈ وائٹ

بچپن کی یادیں ذہن کےسینما پربلیک اینڈ وائٹ فلم کی طرح چلتی ہیں ۔جو کبھی بہ حالت مجبوری تو کبھی تفریح طبع کے لئے دیکھنے کا سبب ہوتی ہیں ۔ ایک زمانہ تھا ریڈیو پاکستان مقبول عام حصول معلومات کا زریعہ ہوتا تھا ۔ جب بوڑھے ریڈیو پر حکمرانوں کے عوام سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا مژدہ سنتے ۔ اور ان کی طرف سے دئے گئے بیانات کو عوامی بھلائی کے منصوبوں کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ۔
نوجوان گلی محلے میں منڈلی جماتے اور منچلے اونچی آواز
میں ریڈیو پر گانے بجاتے ۔ جہاں نام اور شہر و گاؤں کے اتہ پتہ کے ساتھ گانے کی فرمائش کرنے والوں کا نام نشر کیا جاتا ۔
بچے زیادہ تر گلی محلوں اور پارکوں میں مختلف اقسام کے کھیلوں میں مصروف رہتے ۔مغرب کی آذان کے ساتھ ہی گھروں کو پرندوں کی طرح لوٹ جاتے ۔کبھی کسی خاص موقع پر محلے کے کسی گھر میں ٹی وی پر بلیک اینڈ وائٹ فلم کا شو چلتا ۔ کسی ایک گھر میں ٹی وی کے ہونے کی وجہ سے محلے کے لڑکے قطار میں نہایت ادب سے بیٹھ کر فلم بینی کا شوق پورا کرتے ۔ جب ہمارے گاؤں کی عورتیں اکھٹی بیٹھ کر بیٹی فلم میں معصوم جان پر مظالم کے سین دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں تھیں ۔ اس وقت تک شہر میں ہمارے محلے کی خواتین کے آنسو خشک ہو چکے تھے ۔
غرض سادہ بلیک اینڈ وائٹ زمانہ تھا ۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گہری کالی عینکوں سے اسے رنگین بناتے ۔سوتی کپڑے زیادہ استعمال میں رہتے ۔گھروں میں پٹھان خواتین گٹھڑیوں سے خوبصورت رنگوں کی جاپانی فلیٹ کھول کھول کر رکھتیں تو عورتیں کیا مرد بھی ہلکے رنگ اپنے لئے رکھ لیتے ۔ جو گرمیوں کے موسم میں پہننے سے پسینے کو پاؤں تک بہانے میں مددگار ہوتے ۔
کیا خوب زمانہ تھا نہ لباس میں بناوٹ و تصنع اور نہ ہی مزاج میں ۔پورا گھرانہ عزت و آبرو کی شال میں لپٹا ہوتا ۔ گھروں میں اچانک مہمان آ جانے پر چینی آٹا ہمسائیوں سے بھی مانگ لیا جاتا ۔اور زیادہ مہمانوں کی آمد پر بستر چارپائیوں کو بھی زیر استعمال لایا جاتا تھا ۔اس سے کسی کی خودداری پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ اور نہ گھر گھر اپنی دریا دلی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا ۔بلکہ محبت و اخلاص کی لڑی میں سب ہی پروئے ہوئے ہوتے تھے ۔
حالات اتنی تیزی سے کروٹ بدل رہا ہے کہ ابھی پہلی سلوٹ دور نہیں ہوتی کہ نئی سلوٹیں پڑ جاتی ہیں ۔
بلیک اینڈوائٹ ہر شے کو اتنی تیزی میں رنگین بنایا گیا کہ آنکھیں خود میں ہی رنگین ہو گئیں ۔کسی چشمہ کو پہننے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ایک ہی طرح دکھنے والے چکا چوند روشنیوں میں رنگ برنگ کے نظر آنے لگے ۔جہاں مجبوریوں اور ضرورتوں کو سفید پوشی میں لپیٹ دیا گیا ۔ دریا دلی کے قصے ختم ہو گئے ۔تکبر و غرور کے میناروں پر احسان چڑھا دیئے گئے ۔ زکواۃ و خیرات کی ادائیگی بھی احسان عظیم ہو گیا ۔
کتابوں کے سرورق سے لے کر ٹی وی ڈراموں تک رنگینی کوبڑھایا گیا ۔آنکھیں فطرتی حسن سے نا مانوس ہو گئیں ۔رنگوں کے نت نئے امتزاج سے ہر نیا رنگ پہلے رنگوں کو دھندلاتا چلا گیا ۔قدرتی مناظر کو تصویر کشی سے ایسی جاذبیت سے سجایا جا تا ہے کہ آنکھ سے دیکھنے میں وہ دلکشی نہیں رکھتا ۔ کتاب میں چاہے ادب کی بے ادبی کی گئی ہو ۔ مگر ٹائیٹل کی خوبصورتی سے اسے شاہکار بنا دیا جاتا ہے ۔ جیسے شخصیت کا چھوٹا پن واسکٹ یا کوٹ سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
اچھے اچھے خاندانی لوگ رنگین دور کی بدولت گانا بجانے کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر براجمان ہیں ۔کہیں گلوکار تو کہیں فنکار کہلائے جاتے ہیں ۔بلیک اینڈ وائٹ دور میں یہی کام کرنے والے قومیت کی پہچان کے درجے پر تھے ۔ صرف اپنی برادری میں یا چند ایک قدردانوں میں ہی عزت و تکریم پاتے ۔
بلیک اینڈ وائٹ معاشرے میں برے کردار انگلیوں پر گنے جاتے تھے ۔ اب ہر گھر میں رنگین ٹی وی ریموٹ کنٹرول سے جتنے چینل بدل سکیں جمع کر کے پورے معاشرے میں موجود ٹی وی سے ضرب دینے سے تعداد حاصل کی جا سکتی ہے ۔ جو پہلے صرف اپنے جیسوں میں ہی بسیرا کرتے تھے اب ہر گھر میں نفس ِشیطان کی طرح جھوٹ کا پلندہ پھیلائے پھرتے ہیں ۔
بھلا ہو وزارت بجلی کا 12 سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے قوم اس عذاب سے چھٹکارہ حاصل کر پائی ۔ وگرنہ توبہ توبہ کرتے اکثر لوگ کسی اور نام سے پکارے جاتے ۔ جیسے پڑھے لکھے اہل افراد بے روزگاری کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں اور جعلی ڈگریوں والے ان کی قسمت کے فیصلے کا اختیار لئے اسمبلیوں سے جعلی ڈگری کی وجہ سے نا اہل ہو کر پھر بغیر ڈگری کے اسمبلی میں جہالت کی ڈگڈگی بجانے پہنچ چکے ہیں اور مزید پہنچنے کی آس میں مرے جا رہے ہیں ۔جیتنے والے 55 ، 55 ہزار ووٹوں سے عوامی نمائندگی کا حق پانے پر بغلیں بجا رہے ہیں ۔
قوم ملال میں نہیں غلطیاں سدھارنے کا موقعے پہ موقع دینے پر تلی ہوئی ہے ۔ جب تک کہ لیڈر نہ سدھر جائیں یا خود نہ بگڑ جائیں ۔

2 تبصرے:

themusliman said...

رنگین دور میں بلیک اینڈ وائٹ باتیں دہرانے کا شکریہ

Javed Iqbal said...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
محمودبھائی، بلیک اینڈوائٹ دورمیں جوچیزسب سےاہم تھی وہ تھاایکدوسرےکےساتھ خلوص و محبت کاجذبہ جوکہ اس رنگین دورمیں تقریباناپیدہوگیاہے۔اوراس کوغائب کرنےمیں سب سےزیادہ قصوربھی ہمارےمیڈیاکاہی کیونکہ انہوں نےلوگوں کوجوکچھ دکھایالوگوں نےاسی پرآنکھیں بندکرکےعمل کرلیااوراب تودنیاسکڑکرہاتھ کی ہتھیلی پرآگئی ہے۔
والسلام
جاویداقبال

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک