May 7, 2010

سبب کیا ہے

تحریر : محمودالحق
دیکھنے میں جو ایک رنگ نظر آتے ہیں۔ اپنی الگ الگ فطرت رکھتے ہیں۔ کوئی اگر سرد موسم کا عادی ، تو کسی کو گرم مرطوب ہوا مطلوب ہے۔ کوئی نرم مٹی میں سینچنا پسند کرتا ہے۔ تو کبھی کسی کو سنگلاخ چٹانوں کے سینے میں جم جانا فخر کا باعث ہو تا ہے ۔ہر بڑھتی شاخ میں جو نشہ ہے۔ وہ جڑ کی بدولت ہے۔ جو خاموشی سے سخت زمین ہو یا پتھر انہیں چیر کو رکھ دیتی ہے۔ ٹکر لینے کی اس کی وہی فطرت شاخوں اور ان پر لگے پتوں کو زندگی کی خوشیاں خوشبو سے بھری دیتے ہیں ۔ ہر آنکھ پھول پسند کرتی ہے۔ پنکھڑی کی نازکی پہ
فدا ہو جاتی ہے۔خوشبو سے مسحور ہونا اسے بے خودی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مگر آنکھ وہ نہیں دیکھ پاتی جس وجہ سے یہ سب ہے۔ قہقہے تو نظر آتے ہیں مگر سبب معلوم نہیں ہوتے ۔ آنسو بھی نظر آتے ہیں مگر درد کا احساس محسوس نہیں ہوتا ۔ سونے کی خوبصورتی اسکے ڈھلنے میں ہے ۔ہیرا تراش کے بعد ہی ہیرا بنتا ہے ۔ بادل برسے بنا گزر جائے تو زمین بنجر ہو جاتی ہے ۔ہوا ہی پرندے کو توازن قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ غرض کائنات قدرت میں ہر شے چاہے جاندار ہو یا بے جان ایک راستہ بند ہو تو دوسرے میں کھل جاتے ہیں ۔
مگر ایک جاندار ایسا بھی ہے جو کھلے راستوں سے بند اور اندھیری گلیوں میں داخلے کا خواہش مند رہتا ہے ۔جڑوں کو اپنی آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹ سمجھ کر اس سے جدا ہونے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ جب وہ نئی شاخ کوجنم دیتی ہے تو وہ خود جڑ بن جاتی ہے۔ مکافات عمل کا ایک ایسا لا متناہی سلسلہ جو پہاڑوں کی طرح نہیں ۔کہ ایک پہاڑ کی زمین پہ دوسرے کی چوٹی ہے۔ بلکہ کمزور ایک ہی طرح دکھنے والے ٹیلوں کی لمبی قطاریں۔ جو فاصلے فاصلے پر یاس و نا امیدی کی تصویر بنے۔ وقت کے بے رحم تھپیڑوں سے اپنے آپ کو بچانے کی قدرت نہیں رکھتے ۔اسی درد کے احساس میں گھلنے اور گھسنے کے عمل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
سب جہان بتائی گئی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے ۔فطرت کو صرف دیکھا جاتا ہے اور فتنہ کی آبیاری کرکے پروان چڑھایا جاتا ہے ۔گندم کا دانہ کھانا ہی تو نہیں جنت سے نکلنے کا باعث ہوا ۔بنی آدم میں تجسس فتنہ کا سبب ہو جاتا ہے ۔ عقل کی کسوٹی پر تجسس تو رکھا جا سکتا ہے مگر سبب نہیں ۔زمین اپنے محور میں دن رات کا چکر ۱۶۰۰ میل فی گھنٹہ سے طے کرتی ہے ہر موسم سے گزرنے کے لئے ایک لاکھ دس ہزار میل فی گھنٹہ سے بھاگ رہی ہےایک دائرے میں۔ مہتاب چھپنے چھپانے کی اٹھکیلیوں میں مصروف ہے ۔ مگر سبب معلوم نہیں۔
سورج سے آنکھیں چار اور ستاروں پہ کمند ڈالنے کی باتیں تو ہو سکتی ہیں ۔ لیکن یہ تو سوچ کر ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ کہ اس سے آگے تو جہان اور بھی ہیں ۔ ایسا بھی ایک ستارہ ہے۔ جو کئی ہزار زمینیں اپنے اندر سمونے کی قدرت رکھتا ہے۔ اور ایک دن میں جو جسم سو میل قدموں پہ طے نہ کر سکے ۔اُڑ بھی جائے تو زمین کے گرد گھوم کر واپس پلٹ نہ سکے۔ اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے مگر سبب نہیں جان سکتا ۔
ہر روشن ہالہ ہی مرکزیت کا حامل ہے۔ موسی علیہ اسلام پہ جو کوہِ طور پہ جلوہ گر ہوا وہ چمکتی روشنی بھی نور ہی کی جھلک تھی ۔آنکھ میں بھی نور ہے جو روشن آفتاب کو اور اس کے روشن ستاروں پہ اس کا عکس دیکھتے ہیں ۔
آنکھ کی روشنی سے محروم کاغذ پہ لکیریں کھینچ کر نقش و نگار تو بنا سکتا ہے مگر کسی بھی احساس سے خالی ۔ جیسے کاغذ ی پھول دیکھنے میں تو اصلی دکھائی دیتے ہیں ۔مگر خوشبو سے خالی۔ جیسے دوڑنے اور اُڑنے والے سبھی نہ تو گھوڑے بن سکتے ہیں اور نہ ہی عقاب۔ لیکن پھر بھی ان پر اتنا فخر کہ دم نکلنے سے رہ جائے۔
گھر تک کوئی چھوڑنے چلا آئے تو شکریہ میں زبان نہیں تھکتی۔ مگر جو دے کر احسان نہیں جتاتا اور واپس لے جانےکا بھی عندیہ دیتا ہے اس کے لئے سبب ڈھونڈتے ہیں۔

2 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال said...

جدھر ديکھيں اُدھر نور ہے اللہ کا ۔ جو سمجھيں تو اللہ کی قدرت کے کرشمے ہيں جا بجا

جاویداقبال said...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
ہرکام میں اس یقین کواجاگرکرناچاہیےکہ جوکچھ بھی ہےوہی اللہ تعالی کےحکم سےہی ہے۔جب اللہ تعالی پرانسان کاتوکل ہوجاتاہےتویہ دنیااس کی نظرمیں ایک مچھرکی مانندبلکہ اس سےبھی بدترہوجاتی ہے۔ اللہ تعالی ہم کوصحیح طورپراسلام کی تعلیمات سمجھنےاوراس پرعمل کرنےکی قوت عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین

والسلام
جاویداقبال

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک