Feb 2, 2014

درد کی دوا کیا ہے

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کاغذ قلم لے کر بیٹھا تو سوچ کے تمام دروازے ایک ایک کر کے جھٹ پٹ بند ہوتے چلے گئے۔ لیکن مجھے ہمیشہ لڑنے کی عادت نے لکھنے کی ضد پر قائم رکھا۔ علی الصبح سکول جانے والے بچے اور دفتر جانے والے افسر و بابو اپنی مرضی کے مالک نہیں ہوتے جو وقت کی پابندی کو قانون کی پابندی کی طرح توڑنے پر قادر ہوں۔ کہیں نہ کہیں ہم اپنی مجبوری کے ہاتھوں بلیک میل ضرور ہوتے ہیں۔ ایسی مجبوری جو آرزو کے کھیت سے نشونما پا کر پک کر کٹنے سے پہلے آندھیوں کے ہاتھوں دور دور بکھر کر اپنے مالک کا منہ چڑاتی ہیں۔ جو اسے قسمت کا کھیل سمجھ کر ہاتھ ملتا ہے اور پھر ایک نئی ہمت سے ہاتھوں کو نئی فصل سے مصافحہ کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ ہاتھ اُٹھا کر نئی فصل کے لئے پہلی دعا سے ہی کام چلانے پر کمر بستہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ : اللہ مددگار ہے اور وہ بہتر مددگار ہے: اسی سے مانگنے اور اسی کے  سامنے جھکنے سے ہی تمام ارادوں کی تکمیل ممکن ہو پائے گی۔اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ چاہت رکھتا ہے اور بندہ ایک ماں کی خدمت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا۔
اس بار میرا  وطن واپس آنا دو سال بعد ہوا تھا ۔ ایک دو دن بعد مجھے احساس ہوا کہ زیادہ تعداد میں وہ بوڑھے ہو چکے تھے ۔ خوبصورتی اور حسن کے جن کے چرچے تھے وہ ماند پڑ چکے تھے یا وہ جا چکے تھے۔اٹھکھیلیاں کرتے بچے مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ آخر تعداد نہ بڑھنے کے کیا محرکات تھے جو مجھ سے چھپائے جا رہے تھے۔ان سب پر ایک اُچٹکتی نگاہ ڈالتا  اور بے پرواہی سے بھول جاتا کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی رشتہ بھی ہے۔میں شائد اتنے سال ان سے دور رہ کر آئی ڈوناٹ کئیر  کی گردان سنتے سنتے کانوں کی حد تک بہرہ ہو چکا تھا۔ لیکن حقیقت حق تو اپنے سحر سے جدا ہونے نہیں دیتی تھی۔
کرسیاں ایک مخصوص انداز میں روزانہ میرے ارد گرد سجا دی جاتی ۔ایک کرسی پر براجمان ہو جاتا جہاں سے آسمان اور زمین  کا ملن مجھے صاف دکھائی دیتا۔   زندگی کے طویل معمولات میں یہ شامل تھا کہ سورج میرے سر کے بالکل اوپر سے گزر کر سامنے غروب ہوتا تو دن لمبے راتیں چھوٹی اور دھوپ کی شدت ہوتی۔ لیکن جب  سورج میرے سامنے دن بدن  بائیں طرف  جھکتا جھکتا غروب ہوتا تو دن چھوٹے اور راتیں  بڑی ہوتی اور دھوپ سے لذت ملتی۔
اس روز دھوپ شدت کی تھی ایک کے علاوہ تمام کرسیاں خالی تھیں ۔نہ جانے اسے کیا سوجھی میرے ساتھ والی کرسی پر وہ آ بیٹھا۔ وہ کبھی بھی میرے برابر نہیں بیٹھا تھا۔ لیکن آج اسے  کیا ہوا کہ میری بغل والی کرسی پر بیٹھا دائیں پاؤں کو دو تین بار اُٹھا کر نیچے رکھ دیا۔ پھر بڑی بے اعتنائی سے کرسی سے اُتر کر زمین پر جا بیٹھا۔ انہیں میرے سامنے زمین پر بیٹھنے کی عادت تھی۔میری خواہش تھی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھیں مگر وہ مجھ سے خوف کھاتے تھے شائد۔ ان کے خوف کو میں نے دور کرنے کی کوشش کم ہی کی تھی۔
میں نے اپنے خاص آدمی کو آواز دی۔
اختر ! دیکھو اسے جو ابھی میرے پاس سے زمین پر جا بیٹھا ہے ۔ کیا تکلیف ہے اسے جو اپنا  پاؤں مجھے دکھا کر چلتا بنا۔وہ میری بات سمجھ چکا تھا کہ معاملہ سنجیدہ ہے تبھی تو میں نے حقیقت جاننے کے لئے اسے بلایا ہے۔ پاؤں کو غور سے دیکھنے  کے بعد  اس نے کہا کہ پاؤں سوجا ہوا ہے ۔ تکلیف سے زمین پر رکھنا مشکل ہو رہا ہے اسے۔میری اُلجھن دور ہو چکی تھی  کہ ان سب میں سے صرف اسے ہی میرے برابر بیٹھنے کی ہمت کس بات نے دی تھی۔ درد اور تکلیف نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ایسا کام کر جائے جو اس سے پہلے کبھی  اس کے بڑوں نے بھی نہ کیا ہو۔
لیکن مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس جگہ میں ہی اس کا مالک ہوں جو اس کے درد کا مداوا کر سکتا ہوں  تبھی تو اس نے مجھے  اپنا حال بیان کرنے  کے لئے اشارے سے کام لیا۔
میں  نے دوسری بار اختر کو سخت  زبان میں کہا کہ غور سے دیکھ کر بتاؤ اس کے پاؤں میں سوجن کیوں ہے۔کچھ دیر ادھر اُدھر سے دیکھ کر بولا کہ صاحب لگتا ہے کہ اس کے پاؤں میں ایک کالا دھاگہ بری طرح سے لپٹا ہوا ہے۔

میں معاملہ کی اصل تہہ تک پہنچ گیا ۔ دھاگے نے پاؤں کو اس بری طرح سے لپیٹا ہوا تھا کہ 
وہ بے زبان کبوتر مجھے درد کا حال بتانے کرسی پر چڑھ آیا تھا۔میں نے اختر کو ایک سو کبوتروں میں اسے پہچان رکھنے کو کہا کہ جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہو اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ ۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا وہ  اسی لمحے اُڑ کر کمرے کے اندر جا بیٹھا۔ اختر اسے وہاں سے پکڑ کر میرے پاس لے آیا۔ میں نے پہلے اسے پیار سے تھپتھپایا پھر آہستہ آہستہ پاؤں میں لپٹے کالے دھاگے کو الگ کر دیا اور اس کے پاؤں کو ہولے ہولے مساج کیا ۔جب وہ میرے ہاتھ سے اُڑ کر زمین پر بیٹھا تو پاؤں زمین پر رکھنے میں مشکل کا شکار نہیں تھا۔ انسانوں سے  رغبت اور دلگیری کی عادت نے مجھے ایک پرندے کی نظر میں معتبر کر دیا۔ اس نے مجھے اس قابل جانا کہ میں اس کے درد کی دوا  بن گیا۔

5 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال said...

میں نے کبھی کبوتر نہیں پالے مگر پرندوں ۔ چوپائیوں اور حشرات الارض کی حرکات کا مطالعہ بچپن سے میرا مشغلہ رہا ہے ۔ مں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ جانور جنہیں ہم بے عقل سمجھتے ہیں آج کے انسان سان سے زیادہ سمجھدار نہیں ؟ ان کی آپس میں محبت اور انسان سے محبت کتنی پُرخلوص ہوتی ہے

محمودالحق said...

خلوص محبت ایثار قربانی کے بنا انسان مکمل کیسے ہو سکتا ہے۔پرندے چوپائے اور حشرات سے اب بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

کوثر بیگ said...

مجهے جانوروں سے بہت ڈر لگتا ہے.اور میاں بچوں کو آئے دن کسے نہ کسے رکهنے کا شوق ہوتا ہے .ہر بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ میرے قریب آجاتے ہیں .میرے آس پاس رہنا چاہتے ہیں جتنی تیزی سے میں ان سے دور جاتی ہوں وہ جانوار اور قریب رہنا چاهتے ہیں.گهر میں سب حیران رہتے ہیں .ان کی غذا کا وقت پر بچوں سے دینے کہنا ان کی صفائی کروانا. باہر کے بچوں سےبچانے میں مدد کرنا شاید انہیں بهی ضرورت کے اتنا احساس اور سمجهنے کی کچه کچه تمیز رہتی ہو گی

Mahmood ul Haq said...

پھلے دنوں کچھ مہمانوں کی تواضح چائے بسکٹ سے کی جا رہی تھی ۔ لالی اور کوے کو قریب بیٹھے دیکھا تو نمکو اور بسکٹ انہیں ڈالنا شروع کر دیا۔ دوسرے روز گھاس پر چہل قدمی کرتے کوا قریب آ کر بیٹھ گیا۔ بسکٹ منگوا کر پھر اس کی مہمان نوازی کی۔تو اچانک سے لالیاں بھی کہیں سے ا پہنچی۔

noureen tabassum said...


ہر درد کی دوا ہے شرط صرف ایک کہ اُس سے نجات کی خواہش بھی ہو۔۔
انسان کے اندر انسانیت بیدار ہو جائے تو بےزبان جانور بھی زندگی کے بہت سے اسباق پڑھا دیتے ہیں۔ اور انسان اپنے شرف کو فراموش کر بیٹھے تو حیوان سے بڑھ کر حیوان بن جاتا ہے

Post a Comment

تازہ تحاریر

تبصرے

سوشل نیٹ ورک